07/06/2023
القرآن - سورۃ نمبر 2 البقرة
آیت نمبر 259
أَعُوذُ بِاللّٰهِ مِنَ الشَّيْطَانِ الرَّجِيمِ
بِسْمِ اللّٰهِ الرَّحْمٰنِ الرَّحِيْمِ
اَوۡ كَالَّذِىۡ مَرَّ عَلٰى قَرۡيَةٍ وَّ هِىَ خَاوِيَةٌ عَلٰى عُرُوۡشِهَا ۚ قَالَ اَنّٰى يُحۡىٖ هٰذِهِ اللّٰهُ بَعۡدَ مَوۡتِهَا ۚ فَاَمَاتَهُ اللّٰهُ مِائَةَ عَامٍ ثُمَّ بَعَثَهٗ ؕ قَالَ كَمۡ لَبِثۡتَؕ قَالَ لَبِثۡتُ يَوۡمًا اَوۡ بَعۡضَ يَوۡمٍؕ قَالَ بَلۡ لَّبِثۡتَ مِائَةَ عَامٍ فَانۡظُرۡ اِلٰى طَعَامِكَ وَشَرَابِكَ لَمۡ يَتَسَنَّهۡۚ وَانْظُرۡ اِلٰى حِمَارِكَ وَلِنَجۡعَلَكَ اٰيَةً لِّلنَّاسِ وَانْظُرۡ اِلَى الۡعِظَامِ كَيۡفَ نُـنۡشِزُهَا ثُمَّ نَكۡسُوۡهَا لَحۡمًا ؕ فَلَمَّا تَبَيَّنَ لَهٗ ۙ قَالَ اَعۡلَمُ اَنَّ اللّٰهَ عَلٰى كُلِّ شَىۡءٍ قَدِيۡرٌ ۞
ترجمہ:
یا پھر مثال کے طور پر اس شخص کو د یکھو، جس کا گزر ایک ایسی بستی پر ہوا، جو اپنی چھتیوں پر اوندھی گری پڑی تھی۔ اس نے کہا:”یہ آبادی، جو ہلاک ہو چکی ہے، اسےاللہ کس طرح دو بارہ زندگی بخشے گا؟”اس پر اللہ نےاس کی رُوح قبض کر لی اور وہ سو برس تک مردہ پڑا رہا۔ پھر اللہ نے اسے دوبارہ زندگی بخشی اور اس سے پوچھا:”بتاؤ ، کتنی مدّت پڑے رہے ہو؟” اس نے کہا:”ایک دن یا چند گھنٹے رہاہوں گا۔” فرمایا:”تم پر سو برس اسی حالت میں گزر چکے ہیں۔ اب ذرا اپنے کھانے اور پانی کو دیکھو کہ اس میں ذرا تغیّر نہیں آیا ہے۔ دوسری طرف ذرا اپنے گدھے کو بھی دیکھو﴿کہ اسکا پنجر تک بوسیدہ ہورہا ہے ﴾۔ اور یہ ہم نے اس لیے کیا ہے کہ ہم تمہیں لوگوں کےلیے ایک نشانی بنا دینا چاہتے ہیں ۔پھر دیکھو کے ہڈیوں کے اس پنجر کو ہم کس طرح اٹھا کر گوشت پوست اس پر چڑھاتے ہیں۔” اس طرح جب حقیقت اس کے سامنے بالکل نمایا ں ہو گئی ، تو اس نے کہا”میں جانتا ہو ں کہ اللہ ہر چیز پر قدرت رکھتا ہے۔”