15/05/2025
Quran 8, 31-37
بسم اللہ الرحمن الرحیم ۔
*جب ان کو ہماری آیات سنائی جاتی تھیں تو کہتے تھے کہ ہاں سن لیا ہم نے ، ہم چاہیں تو ایسی ہی باتیں ہم بھی بنا سکتے ہیں ، یہ تو وہی پرانی کہانیاں ہیں جو پہلے سے لوگ کہتے چلے آرہے ہیں ۔*
*اور وہ بات بھی یاد ہے جو انہوں نے کہی تھی کہ خدایا اگر یہ واقعی حق ہے اور تیری طرف سے ہے تو ہم پر آسمان سے پتھر برسا دے یا کوئی دردناک عذاب ہم پر لے آ ۔*
*اس وقت تو اللہ ان پر عذاب نازل کرنے والا نہ تھا جبکہ تو ان کے درمیان موجود تھا ۔ اور نہ اللہ کا یہ قاعدہ ہے کہ لوگ استغفار کر رہے ہوں اور وہ ان کو عذاب دیدے ۔*
*لیکن اب کیوں نہ وہ ان پر عذاب نازل کرے جبکہ وہ مسجد حرام کا راستہ روک رہے ہیں ، حالانکہ وہ اس مسجد کے جائز متولّی نہیں ہیں ۔ اس کے جائز متولّی تو صرف اہل تقوٰی ہی ہوسکتے ہیں ، مگر اکثر لوگ اس بات کو نہیں جانتے ۔*
*بیت اللہ کے پاس ان لوگوں کی نماز کیا ہوتی ہے ، بس سیٹیاں بجاتے اور تالیاں پیٹتے ہیں ، پس اب لو ، اس عذاب کا مزہ چکھو اپنے اس انکارِحق کی پاداش میں جو تم کرتے رہے ہو ۔*
*جن لوگوں نے حق کو ماننے سے انکار کیا ہے وہ اپنے مال خدا کے راستے سے روکنے کے لیے صَرف کر رہے ہیں اور ابھی اور خرچ کرتے رہیں گے ۔ مگر آخرِ کار یہی کوششیں ان کے لیے پچھتاوے کا سبب بنیں گی ، پھر وہ مغلوب ہوں گے ، پھر یہ کافر جہنم کی طرف گھیر لائے جائیں گے*
*تاکہ اللہ گندگی کو پاکیزگی سے چھانٹ کر الگ کرے اور ہر قسم کی گندگی کو ملا کر اکٹھا کرے پھر اس پلندے کو جہنم میں جھونک دے ، یہی لوگ اصلی دیوالیے ہیں ۔*
مشکوٰۃ المصابیح
کتاب: ایمان کا بیان
باب: کتاب و سنت کے ساتھ تمسک اختیار کرنے کا بیان
حدیث نمبر: 191
ترجمہ:
_ابن مسعود ؓ سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا:’’ اللہ نے صراط مستقیم کی مثال بیان فرمائی، کہ راستے کے دونوں طرف دو دیواریں ہیں، ان میں دروازے کھلے ہوئے ہیں اور دروازوں پر پردے لٹک رہے ہیں، راستے کے سرے پر ایک داعی ہے، وہ کہہ رہا ہے، سیدھے چلتے جاؤ، ٹیڑھے مت ہونا، اور اس کے اوپر ایک اور داعی ہے، جب کوئی شخص ان دروازوں میں سے کسی چیز کو کھولنے کا ارادہ کرتا ہے تو وہ کہتا ہے: تم پر افسوس ہے، اسے مت کھولو، کیونکہ اگر تم نے اسے کھول دیا تو تم اس میں داخل ہو جاؤ گے۔‘‘ پھر آپ ﷺ نے اس کی وضاحت کرتے ہوئے فرمایا:’’ راستہ اسلام ہے، کھلے ہوئے دروازے، اللہ کی حرام کردہ اشیاء ہیں، لٹکے ہوئے پردے، اللہ کی حدود ہیں، راستے کے سرے پر داعی: قرآن ہے، اور اس کے اوپر جو داعی ہے، وہ ہر مومن کے دل میں اللہ کا واعظ ہے۔‘‘_ لااصل لہ بھذا اللفظ، رواہ رزین (لم اجدہ)۔
*اللھم صل علی محمد ؤ علی آل محمد کما صلیت علی ابراھیم و علی آل ابراھیم انک حمید مجید، اللھم بارک علی محمد ؤ علی آل محمد کما بارکت علی ابراھیم و علی آل ابراھیم انک حمید مجید*
_صالح بندوں میں شمولیت کی دعا_
النمل 19
*رَبِّ اَوْزِعْنِیْۤ اَنْ اَشْكُرَ نِعْمَتَكَ الَّتِیْۤ اَنْعَمْتَ عَلَیَّ وَ عَلٰى وَالِدَیَّ وَ اَنْ اَعْمَلَ صَالِحًا تَرْضٰىهُ وَ اَدْخِلْنِیْ بِرَحْمَتِكَ فِیْ عِبَادِكَ الصّٰلِحِیْنَ*
_اے میرے رب، مجھے قابو میں رکھ کہ میں تیرے اس احسان کا شکر ادا کرتا رہوں جو تو نے مجھ پر اور میرے والدین پر کیا ہے اور ایسا عمل صالح کروں جو تجھے پسند آئے اور اپنی رحمت سے مجھ کو اپنے صالح بندوں میں داخل کر_
*یا اللہ ہم سب کو آسانیاں عطا فرما اور آسانیاں تقسیم کرنے کا شرف عطا فرما*
*آمین یا رب العالمین*
_السلام علیکم ورحمةاللہ و برکاته_
*جزاکم اللہ خیر*