15/04/2024
اسرائیل پر ایران حملے کے بعد اکثریت اس بات پر مذاق اڑا رہی ہے کہ آخر دو سو ڈرون اور میزائل کہاں غائب ہو گئے۔
اس بنیاد پر ایک طبقہ اس حملے کو ٹوپی ڈرامہ قرار دے رہا ہے۔
سب سے پہلی بات تو یہ ہے کہ یہ گلی محلے کی عام لڑائی نہیں ہے کہ میں نے مکا مارا تو میرا دشمن بھی فوراً مکا مارے گا۔
اس کے لئے ایک عام سی مثال دوں گا کہ آپ پاکستان میں بڑے خاندانوں کی دشمنیاں دیکھ لیں۔
اگر ایک گروپ اپنے مخالف کو مارے گا تو مخالف گروپ کتنا ہی طاقتور کیوں نا ہو۔
وہ فوراً حملہ نہیں کرے گا کیوں کہ وہ جانتا ہو گا کہ اس وقت دشمن الرٹ ہے۔
اس کے یار دوست بھی اس کی حفاظت کے لئے پہنچے ہوئے ہوں گے لہذا اس وقت اگر حملہ کیا جائے تو چاہے دشمن سے بدلہ لے لیا جائے گا مگر خود بھی اتنے کمزور ہو جائیں گے کہ مستقبل میں کوئی چھوٹا دشمن بھی مقابل آ کھڑا ہو گا۔
آپ میر بالاج ٹیپو قتل کیس کو ہی دیکھ لیں۔
وہ خاندان اتنا بھی کمزور نہیں ہے کہ بدلہ نہ لے سکے مگر وہ صحیح وقت کا انتظار کرے گا کیونکہ اس وقت دشمن چوکنا ہے۔
وہ بدلہ تب ہی لیں گے جب دشمن بھول چکا ہو گا۔
ویسے بھی امریکہ کی نسبت اسرائیل سے بدلہ لینا زیادہ مشکل ہے کیونکہ امریکہ کے مفادات ملک سے باہر تک پھیلے ہوئے ہیں۔
ایرانی جنرل سلیمانی کے بدلے کے لئے عراق میں امریکی بیس پر میزائل حملے کئے گئے,جس کے بعد امریکہ مجبور ہو گیا کہ عراق سے فوجیں نکال لے۔
اسرائیل کے ایسے مفادات نہیں ہے,اس لئے بدلہ لینے کے لئے اسرائیل کے اندر گھسنا پڑے گا جبکہ اسرائیل کا دفاعی نظام دنیا کا محفوظ ترین نظام ہے۔
ایران نا ہی جذباتی ملک ہے اور نا ہی بیوقوف۔
وہ دہائیاں خرچ کر دیتا ہے,ایک مقصد کو پورا کرنے کے لئے۔
ایک وقت وہ بھی تھا جب صدام حسین نے آل سعود کی آشیرباد کے ساتھ ایران پر حملہ کیا تھا اور پھر وہ وقت بھی آیا جب سعودی عرب کے پڑوس میں حوثی ملیشیا نے سعودی عرب کو ناکوں چنے چبوائے۔
اس دن تک پہنچنے کے پیچھے ایران کی چالیس پچاس سال کی تگ و دو ہے۔
ایک وقت تھا جب خمینی صاحب نے اسرائیل کے خلاف بیان دیا۔
اس وقت بھی شاید بہت سوں نے یوں ہی مذاق اڑایا ہو گا مگر پھر دنیا نے اپنی آنکھوں سے دیکھا کہ لبنان کی ایک تنظیم نے اسرائیل کو جنوبی لبنان سے بھاگنے پر مجبور کیا۔
تقریباً پوری عرب فوج کو اسرائیل نے صرف چھ دن کی جنگ میں نیست و نابود کر دیا۔
آس پاس کے تمام ممالک کے علاقوں پر قبضہ کر لیا۔
وہی اسرائیل 33 دن تک لبنانی تنظیم کو تباہ کرنے کی کوشش کرتا رہا مگر ناکام رہا بالآخر جنگ بندی کرنا پڑی۔
اس عظیم ہزیمت پر اسرائیلی چیف کو استعفیٰ دینا پڑا۔
جب خمینی صاحب نے اسرائیل کے خلاف بیان دیا تھا۔
تب اسرائیل کی تمام سرحدیں محفوظ تھیں مگر آج فلسطین اور لبنان کی سرحدیں غیر محفوظ ہیں۔
اب ایران کی کوشش ہے وہ شام کی سرحد بھی غیر محفوظ بنا دے اور یہی اسرائیل کو اصل خوف ہے۔
کہا جا رہا ہے کہ یہ حملہ ایران نے اپنے جنرل مارے جانے کا بدلہ لیا ہے۔
یہ کوئی کیوں نہیں بتا رہا کہ اس حملے میں فلسطینی تنظیم تحریک جہاد اسلامی کے جنرل سیکرٹری بھی شہید ہوئے ہیں۔
اس حملے میں لبنان کی مسلح تنظیم کے اہم رہنما بھی شہید ہوئے ہیں یعنی کہ یہ میٹنگ اسرائیل کے حوالے سے ہی تھی کہ جس میں اسرائیل کی تمام دشمن تنظیموں کے نمائندے شریک ہوئے تھے۔
ایران کی شام میں موجودگی کو تقریباً ڈیڑھ دہائی ہونے کو ہے۔
اس دوران اسرائیل نے متعدد بار حملے کئے,جس میں کئی اعلیٰ عہدیدار بھی نشانہ بنے مگر اسرائیل نے تب ہی نشانہ بنایا جب ان کا حدف اسرائیل یا اسرائیلی مفادات تھے ورنہ وہ باقی معاملات میں مداخلت نہیں کرتا۔
ایرانی سفارتخانہ پر حملہ بھی اسی کی ایک کڑی ہے۔
اب سوال یہ ہے کہ ایران کا حملہ کامیاب کیوں نہیں ہوا۔
جیسا کہ میں نے کہا کہ ایران نہایت تحمل مزاج ملک ثابت ہوا ہے۔
وہ وقتی طور پر جواب دینے کے بجائے صحیح وقت پر سخت جواب دینے کا قائل ہے۔
اب یہ حملہ کیوں کیا گیا تو شاید شدید عوامی ردعمل کو کم کرنا مقصود تھا یا شاید دشمن کو باور کروانا تھا کہ تم اتنے بھی محفوظ نہیں ہو جتنا خود کو سمجھتے ہو۔
سوشل میڈیا پر دو سو ڈرون بھیجنے کی خبر تو بہت پھیلائی گئی مگر اس کا اصل مقصد نہیں بتایا گیا۔
یہ عام شخص بھی جانتا تھا کہ یہ ڈرون اسرائیل تک پہنچنے سے پہلے ہی مار گرائے جائیں گے کیونکہ اسرائیل کے تحفظ کے لئے صرف اسرائیل کا دفاعی نظام متحرک نہیں تھا بلکہ امریکہ اور برطانیہ کے علاوہ فرانس اور جرمنی بھی اسرائیل کو بچانے کے لئے پہنچ چکے تھے۔
صرف امریکی اور یورپی ممالک نہیں بلکہ عرب اسلامی ملک اردن نے بھی اس کارخیر میں بڑھ چڑھ کر حصہ لیا۔
ایران جانتا تھا کہ اسرائیل کو بچانے کے لئے ڈھیروں ملک پہنچ جائیں گے تبھی ڈھیر سارے ڈرون روانہ کئے تاکہ ان تمام ممالک کے دفاعی نظام ڈرون مارنے میں مصروف رہے اور ان ڈرون کی آڑ میں تقریباً نو بیلسٹک میزائل لانچ کئے۔
ڈرون شاید ہی ایسا ہو جو دفاعی نظام سے بچ سکا ہو مگر میزائل شاید ہی کوئی ایسا ہو جو دفاعی نظام کا شکار ہوا ہو۔
ان میزائلوں کا نشانہ دو ہوائی اڈے تھے اور انھی میں سے ایک اڈہ وہ تھا جہاں سے ایرانی سفارت خانے پر حملہ ہوا۔
یہاں ایران نے بہت سے پیغام دیئے کہ ہم اتنی دور بیٹھ کر بھی بہت نزدیک ہیں اور تم خود کو جتنا بھی محفوظ کر لو مگر ہمارے میزائل وہاں تک پہنچ سکتے ہیں۔
اب اگر یہ تعداد دس گنا بڑھا دی جائے تو حالات کیا ہوں گے۔
آپ نے اکثر میڈیا پر سنا ہو گا کہ ایک ڈرون اسرائیل کی سرحد سے کئی میل اندر داخل ہو گیا جسے بعد میں مار گرایا گیا۔
یہ وہ تجربات ہوتے ہیں,جس کی بنیاد پر ایران اسرائیل کے دفاع کا جائزہ لیتا رہتا ہے اور اسی بنیاد پر ڈرون اور میزائل میں تبدیلی لاتا ہے۔
پاکستان میں سوشل میڈیا پر بیٹھے تھرڈ کلاس تجزیہ کاروں کو یہ حملہ ناکام نظر آ رہا ہے۔
ایک منٹ کے لئے ذرا عالمی دفاعی تجزیہ کاروں کے تبصرے سن لیں,جن کے نزدیک ایران کا یہ حملہ اسرائیل اور اس کے اتحادیوں کے لئے لمحہ فکریہ ہے کہ دنیا کے تمام طاقتور ممالک اسرائیل کے دفاع کے لئے موجود تھے مگر اس کے باوجود بیلسٹک میزائل اپنے حدف تک پہنچنے میں کامیاب ہو گئے۔
نقصان کتنا ہوا,یہ اہم نہیں ہے مگر سینکڑوں میل دور سے بھیجے گئے میزائل ان ہوائی اڈوں تک پہنچنے میں کامیاب ہو گئے جہاں سے جہاز اڑے تھے,یہ بات زیادہ اہم ہے۔
آپ فلسطینی صحافیوں کے ٹویٹ پڑھ لیں جو یہ کہہ رہے ہیں کہ ان چھ ماہ میں پہلی بار ہم جہازوں کی آواز کے بغیر سکون سے سوئے ہیں۔
میرا ماننا ہے کہ فی الحال ایران کا اسرائیل سے کوئی مقابلہ نہیں ہے کیونکہ اسرائیل کہیں زیادہ طاقتور ہے مگر میں سمجھتا ہوں کہ جس طرح ایران نے سعودی جنگ اپنے پڑوس سے نکال کر سعودی عرب کے پڑوس تک لے گیا تھا۔
ویسے ہی ایک دن اسرائیل سے جنگ اسرائیل کے اندر لڑے گا۔
اس کے لئے ایران کو دس سال لگیں یا دس دہائیاں مگر ایران اس کے لئے مسلسل کوشاں ہے۔
ایران آج بھی ان عرب ممالک سے بہت بہتر ہے جو اسرائیل سے عبرت ناک شکست کھا کر دم دبائے بیٹھے ہیں یا اردن جیسا ملک جو اسرائیل سے اپنا مقبوضہ علاقہ آزاد کروانے کے بجائے اسرائیل کی خوشنودی حاصل کرنے کے لئے ایرانی میزائل گراتا نظر آیا۔
اس حملے میں ایک اندازے کے مطابق ایران کے اخراجات ایک ایف سولہ کی قیمت کے برابر آئے ہیں مگر اسرائیل کو دفاع کی مد میں اربوں ڈالر کا نقصان ہوا ہے۔
تحریر: ساجد اقبال خان