Madani Masjid

Madani Masjid Bagra Karakoram Highway Road - Union Council Bagra

اسلام ایک مکمل ضابطہ حیات ہے جو نہ صرف انسان کی زندگی کے ہرشعبے میں رہنمائی مہیا کرتا ہے بلکہ مہد سے لحد تک ہر پَل کی زن...
15/01/2020

اسلام ایک مکمل ضابطہ حیات ہے جو نہ صرف انسان کی زندگی کے ہرشعبے میں رہنمائی مہیا کرتا ہے بلکہ مہد سے لحد تک ہر پَل کی زندگی کیلئے اس کو اس انداز میں احکام مہیا کرتاہے جن پہ صدقِ دل سے عمل پیرا ہونے سے نہ صرف عالِم برزخ اور عالم ِ محشر کی زندگی آسان ہو جاتی ہے-بلکہ اس کی دنیاوی زندگی بھی قابل ِ رشک بن جاتی ہے-لیکن صد افسوس! کہ ہمارے مغرب زدہ معاشرے نے اپنی تمام تر توجہ مادیت اور دنیاوی مفاد کیلیے وقف کر دی جس کی بناء پہ لوگوں نے جہاں دیگر کئی حقائق سے منہ موڑ لیا، وہاں والدین جیسے مقدس رشتے کا بھی تقدس پامال ہونے لگا اور اس کی نزاکتوں کو سمجھنا لوگوں کی ترجیح نہیں رہی جس کی بناء پہ ہمارے گرد و نواح میں بعض اوقات اولاد کی اپنے والدین کے ساتھ معاندانہ رویے کے بارے میں بڑی عجیب و غریب اور دل خراش خبریں سننے کو ملتی ہیں جس کو بیان کرنا تو دور کی بات ہے کوئی سلیم الفطرت ان کو سننا بھی گوارا نہیں کرتا-ذیل میں قرآن وحدیث کی روشنی میں والدین کے مقام و مرتبہ کو واضح کرنے کی کوشش کی گئی ہے تاکہ اللہ تعالیٰ ہمیں والدین کے مقام و مرتبہ کو سمجھنے کی توفیق مرحمت فرمائے اور ان کی نافرمانی جیسے قبیح فعل کے ارتکاب سے بچائے-آمین ثم آمین!

والدین کامقام ومرتبہ قرآن کی روشنی میں :

’’قُلْ تَعَالَوْا اَتْلُ مَا حَرَّمَ رَبُّکُمْ عَلَیْکُمْ اَلَّا تُشْرِکُوْا بِـہٖ شَیْئًا وَّبِالْوَالِدَیْنِ اِحْسَانًا‘‘[1]

’’(اے محبوب ﷺ)فرما دیجیے: آؤ میں وہ چیزیں پڑھ کر سنا دوں جو تمہارے رب نے تم پر حرام کی ہیں (وہ) یہ کہ تم اس کے ساتھ کسی چیز کو شریک نہ ٹھہراؤ اور ماں باپ کے ساتھ اچھا سلوک کرو‘‘-

’’وَقَضٰی رَبُّکَ اَلَّا تَعْبُدُوْٓا اِلَّآ اِیَّاہُ وَبِالْوَالِدَیْنِ اِحْسَاناًط اِمَّا یَبْلُغَنَّ عِنْدَکَ الْکِبَرَ اَحَدُہُمَآ اَوْ کِلٰہُمَا فَـلَا تَقُلْ لَّہُمَا اُفٍّ وَّلَا تَنْہَرْہُمَا وَقُلْ لَّہُمَا قَوْلًا کَرِیْمًا‘‘[2]

’’اور آپ (ﷺ)کے رب نے حکم فرما دیا ہے کہ تم اﷲ کے سوا کسی کی عبادت مت کرو اور والدین کے ساتھ حسنِ سلوک کیا کرو، اگر تمہارے سامنے دونوں میں سے کوئی ایک یا دونوں بڑھاپے کو پہنچ جائیں تو انہیں ’’اُف‘‘ بھی نہ کہنا اور انہیں جھڑکنا بھی نہیں اور ان دونوں کے ساتھ بڑے ادب سے بات کیا کرو‘‘-

اللہ تعالیٰ نے اپنے پیارے پیغمبر حضرت زکریا (علیہ السلام) کی شان بیان کرتے ہوئے ارشادفرمایا:

’’وَّبَرًّام بِوَالِدَیْہِ وَلَمْ یَکُنْ جَبَّارًا عَصِیًّا‘‘[3]

’’اور اپنے ماں باپ کے ساتھ بڑی نیکی (اور خدمت) سے پیش آنے والے (تھے) اور (عام لڑکوں کی طرح) ہرگز سرکش و نافرمان نہ تھے‘‘-

سیدناعیسیٰ(علیہ السلام)کےبارے فرمان مبارک ہوا:

’’وَّبَرًّام بِوَالِدَاتِیْ وَلَمْ یَجْعَلْنِیْ جَبَّارًا شَقِیًّا‘‘[4]

’’اور(اللہ تعالیٰ نے مجھے ) اپنی والدہ کے ساتھ نیک سلوک کرنے والا (بنایا ہے) اور اس نے مجھے سرکش و بدبخت نہیں بنایا‘‘-

مزیدارشادفرمایا:

’’وَ وَصَّیْنَا الْاِنْسَانَ بِوَالِدَیْہِ حُسْنًا ط وَ اِنْ جَاہَدٰکَ لِتُشْرِکَ بِیْ مَا لَیْسَ لَکَ بِہٖ عِلْمٌ فَلَا تُطِعْہُمَا‘‘[5]

’’اور ہم نے آدمی کو تاکید کی اپنے ماں باپ کے ساتھ بھلائی کی اور اگر وہ تجھ سے کوشش کریں کہ تو میرا شریک ٹھہرائے جس کا تجھے علم نہیں تو ان کا کہا نہ مان‘‘-

امام بغویؒ فرماتے ہیں :

’’یہ آیت اور سورہ لقمان:14 اور الاحزاب:72، حضرت سعدبن ابی وقاص (رضی اللہ عنہ) اور ان کی والدہ حمنہ بنت ِ ابی سفیان کے متعلق نازل ہوئی ہیں، جب حضرت سعدبن ابی وقاص (رضی اللہ عنہ) مسلمان ہوگئے تھے حضرت سعد (رضی اللہ عنہ) سابقین اولین میں سے تھے اور اپنی والدہ کے ساتھ بہت نیکی کرتے تھے،ان کی والدہ نے کہا یہ کون سادین ہے جوابھی ظاہرہواہے؟ اوراللہ کی قسم!میں اس وقت تک کچھ کھاؤں گی نہ پیوں گی جب تک کہ تم اپنے سابق دین کی طرف رجوع نہیں کرو گے ورنہ میں مرجاؤں گی،اورتم کوہمیشہ یہ طعنہ دیاجائے گاکہ تم اپنی ماں کے قاتل ہو،پھران کی والدہ نے پورادن کھائے پئے اورآرام کئے بغیر گزار دیا، اسی طرح دوسرا دن بھی اسی طرح بغیر کھائے پئے گزار دیا- پھر حضرت سعد (رضی اللہ عنہ) ان کےپاس گئے اور کہا اے ماں! اگر آپ کےپاس سو زندگیاں ہوتیں اور آپ اسی طرح ایک ایک کرکے ان زندگیوں کوختم کردیتیں پھربھی میں اپنے دین کو ترک نہ کرتا،آپ چاہیں تو کھاناکھائیں اورچاہیں تو کھانا نہ کھائیں جب ان کی ماں حضرت سعد (رضی اللہ عنہ)کے سابق دین کی طرف لوٹنے سے مایوس ہوگئیں تو پھرانہوں نے کھانا پینا شروع کر دیا اس موقع پر یہ آیت مبارکہ نازل ہوئی اور اللہ تعالیٰ نے انہیں یہ حکم فرمایا کہ ماں باپ کے ساتھ نیکی کریں اورحسن سلوک کریں اوراگر وہ اللہ تعالیٰ کا شریک بنانے کا حکم دیں تو اس حکم میں ان کی اطاعت نہ کی جائے ‘‘- [6]

مذکورہ روایت میں جہاں ایک صحابی کا اللہ اور اس کے رسول (ﷺ) کے ساتھ عہدِ وفاء کا ثبوت ملتا ہے وہاں اس بات کابھی پتہ چلتاہے کہ اللہ پاک نے والدین کا کیامقام ومرتبہ قائم فرمایاہے کہ باوجود اپنادشمن ہونے کے اللہ پاک نے ان کے ساتھ حسن سلوک کا حکم ارشاد فرمایا ہے -

مقام والدین احادیث مبارکہ کی روشنی میں :

حضرت ابو اُمامہ (رضی اللہ عنہ) سے روایت ہے کہ ایک شخص نے عرض کیا یا رسول اللہ (ﷺ) والدین کا اولاد پر کیا حق ہے؟ تو آپ (ﷺ) نےارشاد فرمایا کہ:

’’هُمَا جَنَّتُكَ وَنَارُكَ‘‘[7]

’’وہ دونوں تیری جنت و دوزخ ہیں‘‘-

یعنی تم ان کی دل وجان سے خدمت کرکےاللہ تعالیٰ کی رضااور جنت بھی حاصل کرسکتے ہواوران کی بے ادبی اورنافرمانی تمہیں دوزخ کا مستحق بھی ٹھہراسکتی ہے -

’’حضرت ابوہریرہ (رضی اللہ عنہ) سے مروی ہے کہ رسول اللہ (ﷺ) نے ارشاد فرمایا: اس شخص کی ناک خاک آلود ہو، اس شخص کی ناک خاک آلود ہو، اس شخص کی ناک خاک آلود ہو، عرض کی کس کی یارسول اللہ (ﷺ)؟

آپ (ﷺ) نے ارشادفرمایا:

’’مَنْ أَدْرَكَ وَالِدَيْهِ عِنْدَ الْكِبَرِ أَحَدَهُمَا أَوْ كِلَيْهِمَا ثُمَّ لَمْ يَدْخُلِ الْجَنَّةَ‘‘[8]

’’جس نے اپنے والدین میں سے دونوں یا کسی ایک کو بڑھاپے کی حالت میں پایاپھروہ( ان کی خدمت کر کے) جنت میں داخل نہ ہوسکا‘‘-

اسی طرح والدکے رشتہ کے تقدس کو بیان کرتے ہوئے اپنی رضا کو والد کی رضامیں رکھ دیا- جیساکہ روایت میں ہے:

’’حضرت عبداللہ بن عَمرو (رضی اللہ عنہ)سے روایت ہے کہ رسول اللہ (ﷺ) نے ارشادفرمایا:

’’رِضَى الرَّبِّ فِيْ رِضَى الوَالِدِ وَسَخَطُ الرَّبِّ فِي سَخَطِ الْوَالِدِ‘‘[9]

’’اللہ پاک کی رضا، والد کی رضا میں ہے اور اللہ پاک کی ناراضگی والدکی ناراضگی میں ہے ‘‘-

والد وہ مقد س ہستی ہے جس کی زیارت کو اللہ پاک نے عبادت کا درجہ عطا فرمایا ہے،جیسا کہ فرمان مبارک ہے :

حضرت عبداللہ (رضی اللہ عنہ) سے روایت ہے فرماتے ہیں کہ:

’’ النَّظَرُ إِلَى الْوَالِدِ عِبَادَةٌ‘‘[10]

’’والد کی طرف (محبت سے)دیکھنا عبادت ہے‘‘-

صحابہ کرام (رضی اللہ عنھم) نے عرض کی یا رسول اللہ (ﷺ)! اگر وہ ایک دن میں سو مرتبہ دیکھے؟ تو آپ (ﷺ) نے ارشاد فرمایا :

’’نَعَمْ، اَللهُ أَكْبَرُ وَأَطْيَبُ‘‘[11]

’’ہاں!(اگر وہ سو مرتبہ بھی دیکھے)اللہ پاک اس سے بھی بڑی شان والا اور سب سے پاک ہے‘‘-

اسلام نہ صرف والدین بلکہ ان کے ساتھ تعلق رکھنے والوں سے بھی حسن سلوک کا حکم ارشاد فرماتا ہے، جیسا کہ روایت میں ہے کہ حضرت عبداللہ بن عمر(﷠)سے مروی ہے کہ میں نے رسول اللہ (ﷺ) کو یہ فرماتے ہوئے سنا:

’’إِنَّ أَبَرَّ البِرِّ أَنْ يَصِلَ الرَّجُلُ أَهْلَ وُدِّ أَبِيْهِ‘‘[12]

’’بے شک سب سے بڑی نیکی یہ ہے کہ آدمی اپنے والد کے رشتہ دارو ں سے صلہ رحمی کرے‘‘-

صحابہ کرام (﷢) آقا کریم (ﷺ)کے اس فرمان مبارک پہ دل وجان سے عمل کیاکرتے تھے-جیسا کہ روایت میں ہے:

’’حضرت عبد اللہ بن عمر (رضی اللہ عنہ) کو مکہ مکرمہ کے راستے میں ایک دیہاتی ملا آپ(رضی اللہ عنہ) نے اس کو سلام کیا اور جس گدھے پر خود سوار تھے اس دیہاتی کو بھی اس پر سوار کر لیا اور اپنے سر سے عمامہ اتار کر اس کو عطا کردیا-ابن دینار کہتے ہیں کہ ہم نے ان سے کہا اللہ تعالیٰ آپ کو جزائے خیر دے یہ دیہاتی لوگ ہیں یہ معمولی چیز سے بھی راضی ہو جاتے ہیں- آپ (رضی اللہ عنہ) نے کہا کہ اس شخص کا والد حضرت عمر بن خطاب (رضی اللہ عنہ) کا دوست تھا اور میں نے رسول اللہ (ﷺ) کو یہ فرماتے ہوئے سنا کہ:

’’إِنَّ أَبَرَّ الْبِرِّ صِلَةُ الْوَلَدِ أَهْلَ وُدِّ أَبِيْهِ‘‘[13]

’’سب سے بڑی نیکی یہ ہے کہ کوئی بیٹا اپنے والدکے دوستوں سے نیکی کرے‘‘-

یہ ہماری بدقسمتی ہے کہ ہمارے معاشرے میں کچھ ناعاقبت اندیش جن کے پاس مال و دولت بالخصوص جب ان کی شادی وغیرہ ہو جاتی تو والدین کو نظرانداز کرناشروع کر دیتے ہیں- حالانکہ روایت میں ہے:

’’ایک شخص رسول اللہ (ﷺ) کی بارگاہ ِ اقدس میں حاضر ہوا اور اس نے عرض کی یارسول اللہ (ﷺ)! میرے پاس مال بھی ہے اور میری اولاد بھی ہے؛میرے والد کو میرے مال کی ضرورت بھی ہے تو آپ (ﷺ) نے ارشاد فرمایا :

’’أَنْتَ وَمَالُكَ لِوَالِدِكَ‘‘[14]

’’تم خود اورتمہارا مال تمہارے والدکی ملکیت ہے‘‘-

یہ بات ذہن نشین رہے کہ انسان کے والدین کے ساتھ تعلقات یاحسن سلوک صر ف ناسوتی دنیاتک نہیں بلکہ اللہ پاک نے بعد از وفات بھی اس مقدس رشتے کو نبھانے کاحکم ارشاد فرمایا ہے جیسا کہ روایت میں ہے کہ:

’’حضرت ابو اُسید مالک بن ربیعہ ساعدی (رضی اللہ عنہ) سے مروی ہے، آپ (رضی اللہ عنہ) نے فرمایا کہ ہم حضور نبی رحمت (ﷺ) کی بارگاہِ اقد س میں حاضر تھے کہ بنی سلمہ سے ایک شخص حاضرِ خدمت ہوا اور عرض کی:یارسول اللہ (ﷺ)!کیا میرے والدین کے ساتھ ان کے وفات کے بعد بھی کوئی نیکی ہے؟ تو آپ(ﷺ) نے ارشادفرمایا :

’’نَعَمْ الصَّلَاةُ عَلَيْهِمَا، وَالِاسْتِغْفَارُ لَهُمَا، وَإِنْفَاذُ عَهْدِهِمَا مِنْ بَعْدِهِمَا وَصِلَةُ الرَّحِمِ الَّتِي لَا تُوصَلُ إِلَّا بِهِمَا وَإِكْرَامُ صَدِيْقِهِمَا‘‘[15]

’’ہاں!ان کے نمازِ جنازہ میں شریک ہونا اور ان کیلئے دعائے مغفرت کرنا اور ان کے موت کے بعد ان کے (لوگوں سے کیے ہوئے )وعدوں کو پوراکرنااوران کے رشتہ داروں سے حسن سلوک سے پیش آنا اور ان کے دوستوں سے عزت سے پیش آنا‘‘-

یاد رکھیں! انسان چاہے جتنی نیکی کرلے والدین کا حق ادا نہیں ہوسکتاجیساکہ روایت میں ہے :

’’حضرت میمُون بن ابی شبیب (رضی اللہ عنہ) سے مروی ہے کہ حضرت معاذبن جبل (رضی اللہ عنہ) سے عرض کی گئی کہ:والد کا بیٹے پر کیاحق ہے؟تو آپ(ﷺ)نے ارشاد فرمایا کہ:

’’لَوْ خَرَجْتَ مِنْ أَهْلِكَ وَمَالِكَ مَا أَدَّيْتَ حَقَّهُمَا‘‘[16]

’’اگر تو گھر اور مال بھی خرچ کرے تو پھر بھی ان دونوں کا حق ادا نہیں ہو سکتا‘‘-

والدین کی نافرمانی و بے ادبی تو دور کی بات اگر انسان صرف والدین کو نفرت کا اظہارکرتے ہوئے اگر صرف گھور کے ہی دیکھ لے تو رسول اللہ (ﷺ) نے اس پہ بھی وعید بیان فرماتے ہوئے ارشادفرمایا :

’’مَنْ أَحَدَّ النَّظْرَ إِلَيْهِمَا فِىْ حَالِ الْعَقُوْقِ أُوْلٰئِكَ بَرَآءَ مِنِّىْ وَأَنَا مِنْهُمْ بَرِىْءٌ ‘‘[17]

’’ جس نے ماں باپ کی نافرمانی کرتے ہوئے اُن کو گھور کر دیکھا وہ مجھ سے بَری ہیں اور میں ان سے بَری ہوں‘‘ -

بعض لوگ یہ کہتے ہیں کہ ہم تو اپنے والدین کےساتھ نیکی کرتے ہیں لیکن ہمارے والدین کا رویہ ہمارے ساتھ جانب دارانہ ہے،یاد رکھیں اس صورت میں بھی ہمیں والدین کے ادب کا دامن ہاتھ سے نہیں جانے دینا چاہیے جیساکہ روایت میں ہے :

’’حضرت عبداللہ بن عباس (رضی اللہ عنہ) روایت بیان فرماتے ہیں کہ: جو بھی مسلمان جس کے والدین حالت ایمان میں حیات ہوں اور وہ ان کے ساتھ نیکی کی حالت میں صبح کرتا ہے تو اللہ پاک اس کیلیے جنت کےدونوں دروازے کھول دیتا ہے-اگر والدین میں کوئی ایک بھی ناراض ہو تواللہ پاک اس سے راضی نہیں ہوگا جب تک وہ اس سے راضی نہ ہو-عرض کی گئی یارسول اللہ (ﷺ):اگرچہ وہ اس پر ظلم بھی کریں؟توآپ (ﷺ) نےارشادفرمایا :

’’وَإِنْ ظَلَمَاهُ‘‘[18]

’’اگرچہ وہ اس پر ظلم بھی کریں‘‘-

تمام مذکورہ روایات ہمیں اس چیز پہ غور و فکر کی دعوت دیتی ہیں کہ ہم اپنے تمام رشتہ داروں کے حقوق ادا کریں بالخصوص والدین کے ادب و احترام کو دل وجان سے بجالائیں بلکہ والدین کے دوستوں سے بھی حسن سلوک سے پیش آئیں-اس صورت میں ہمارے معاشرے سے رنجشیں بھی ختم ہوں گی اور باہم اخوت و محبت کی فضا بھی پروان چڑھے گی-

٭٭٭

[1]( الانعام:151)

[2]( بنی اسرائیل:23)

[3]( سورہ مریم :14)

[4]( مریم:32)

[5]( العنکبوت:8)

[6](معالم التنزیل، باختلاف الفاظ: صحیح مسلم)

[7]( سنن ابن ماجہ،کتاب الاداب)

[8](صحیح مُسلم، كتاب الْبِرِّ وَالصِّلَةِ وَالْآدَابِ)

[9](ایضاً)

[10]( شعب الایمان،باب:برالوالدین)

[11]( شعب الایمان،باب:برالوالدین)

[12]( سُنن الترمذي ، أَبْوَابُ البِرِّ وَالصِّلَةِ)

[13](ایضاً)

[14]( سنن ابی داؤد)

[15]( سنن أبي داود ، كِتَاب الْأَدَبِ)

[16]( مُصنف ابن شیبہ ، كِتَابُ الْأَدَبِ)

[17]( کنزالعمال)

[18]( اَلأَدبُ الْمُفرَد ، بَابُ بِرِّ وَالِدَيْهِ وَإِنْ ظَلَمَا)

گناہوں کا سیلاب زوروں پر ہے، لوگ گناہوں کے مقامات کے قریب اور علمِ دین سکھانے والے مقامات اور مساجد سے دُور ہوتے چلے جار...
13/12/2019

گناہوں کا سیلاب زوروں پر ہے، لوگ گناہوں کے مقامات کے قریب اور علمِ دین سکھانے والے مقامات اور مساجد سے دُور ہوتے چلے جارہے ہیں،پہلے مسجد کچی (یعنی مٹی کی دیواروں والی) بھی ہوتی تھی تو بھی نمازی عموماًپکے ہوتے تھے اور اب وہ دور آیا کہ مسجدیں توسیمنٹ،سریا اور ماربل وغیرہ سے پکی بنی ہوتی ہیں لیکن نمازی کچے دکھائی دیتے ہیں،مگر جسے اللہ بچائے۔ فتنوں سے بھرے اس دور میں بہت سارے مسلمان تو ویسے ہی مَساجِد میں نماز کیلئے نہیں آتے اور جو آتے ہیں اُنہیں مَساجِد میں ضَروریات اور سہولیات (Facilities) عُموماً کم یا غیر معیاری ملتی ہیں جس کی وجہ سے نفس و شیطان کو انہیں مسجد سے بھگانا آسان ہوجاتا ہے۔ لہٰذا مَساجِد کی خدمت کی سعادت پانے والے عاشقانِ رسول سے گزارش ہے کہ مولاکریم آپ کی کاوشوں کو قبول فرمائے، نمازیوں کو مزید آسانیاں فراہم کیجئے، اِنْ شَآءَ اللہ نمازی بڑھیں گے اور باجماعت نماز کے پابند بنیں گے، یوں آپ کیلئے ثوابِ جاریہ میں اضافہ ہوجائے گا۔ نمازی بڑھانے کیلئے عاشقانِ رسول کے دارُالافتاء سے شرعی راہنمائی لینے کے بعد ہی ان نسخوں پر عمل کیا جائے۔٭دنیا کا موسم عجیب و غریب کروٹیں لے رہا ہے جسے گلوبل وارمنگ (Global warming) کہا جارہا ہے، جیسی گرمی اب پڑ رہی ہے پہلے نہیں ہوتی تھی، لِہٰذا جن کے یہاں ممکن ہو وہ اپنی مسجد میں ”اے سی“ لگوا لیں ٭ٹھنڈے موسم میں فرش پرایسی موٹی دَری یا قدرے پتلا کارپٹ بچھائیں جس پرسجدے میں پیشانی بآسانی جم سکے ٭وُضو خانے کے نَل وغیرہ کو دُرست رکھیں، ہاتھ دھونے کیلئے صابن وغیرہ کا بھی اہتمام رکھئے ٭وُضو خانے میں کھارے کے بجائے ”میٹھا پانی“ ہو ٭مَساجِد کے اِسْتِنجاخانوں (Toilets) کو بناوٹ اور صفائی کے اعتبار سے بہتر کروا لیا جائے اور جہاں نَمازیوں کی آمد و رَفْت زیادہ ہو وہاں ”استنجاخانوں کی صفائی“ کیلئے خاص طور پر کسی شخص کو مُقَرَّر کیا جائے جو لوگوں کا رش ختم ہوجانے کے بعد صفائی ستھرائی کرتا رہے ٭کئی لوگ ڈبلیوسی کے ذریعے اِسْتِنجا نہیں کرپاتے بلکہ انہیں ”کموڈ“ کی حاجت ہوتی ہے، لِہٰذا ضَرورت کے مطابق ہر مسجد میں کم از کم ایک کشادہ اور بڑے سائز کا کموڈ ہونا چاہئے، اس کا سُوراخ بھی پچھلی سائیڈ پر ہو، اور دروازے کے باہَر اس کی نشانی بھی لگی ہو، تالا لگانے کے بجائے اسے کُھلا رکھئے ٭سُنا ہے کہ باہَرممالک میں ”مَساجِد کے باہَر نَمازیوں کے بیٹھنے کیلئے ایک مخصوص جگہ“ بنی ہوتی اور کُرسیاں (Chairs) رکھی ہوتی ہیں، جہاں عُموماً بڑی عُمْر کے نَمازی حضرات (جن کے لئے بار بار گھر جانا اور آنا مشکل ہوتا ہے، وہ) عَصْر و مَغْرِب کے بعد بیٹھے اگلی نماز کا انتظار کرتے ہیں، بلکہ کہیں تو ”فریج“ کا بھی انتظام ہوتا ہے، اس میں نَمازیوں کیلئے پانی وغیرہ رکھا ہوتا ہے، یہ اچّھا انداز ہے جہاں ممکن ہو کسی عاشقِ رسول مفتی صاحب سے اجازت لےکر اسے بھی اپنایا جائے ٭بِالخصوص سردیوں میں عِشا کی نَماز کے بعد نَمازیوں کیلئے ”چائے“ کا انتظام کیا جاسکتا ہے مگر اس کے لئے الگ سے چندہ کیا جائے ٭بعض مساجد میں شرعی طور پر مَعْذُور نَمازیوں کے لئے کُرسیوں کا اہتمام ہوتا ہے لیکن کئی لوگ ان کُرسیوں پر بیٹھ نہیں پاتے، بعض اوقات کرسی کی سختی بیٹھنے والے کو کافی پریشان کرتی ہے، جس سے بِالخصوص بڑی عُمْر کے نَمازی آزمائش کا شِکار ہوتے ہیں، لِہٰذا سَستی اور غیر معیاری کُرسیوں کے بجائے ”اچّھے گَدّوں والی کُرسیاں“ رکھی جائیں ٭جہاں جہاں دعوتِ اسلامی کے ہفتہ وار سنّتوں بھرے اِجتماعات ہوتے ہیں وہاں کچھ زیادہ تعداد میں ”آرام دہ کُرسیاں“ رکھی جائیں، مگر جو نیچے بیٹھ سکتا ہو اسے نیچے ہی بیٹھنا چاہئے ٭گاؤں دیہاتوں وغیرہ میں جہاں جہاں دعوتِ اسلامی کے قافلے سفر کرتے ہیں اگر وہاں وَاش رُوم یا وُضو خانے کا مناسب بندوبست نہ ہو تو ممکنہ صُورت میں قافلے والے اسلامی بھائی آپس میں رقم ملا کر یہ کام کروا لیں، اس سے وہاں کے نَمازیوں کے ساتھ ساتھ آئندہ قافلے والوں کے لئے بھی آسانی ہوجائے گی (مشورہ:جب بھی وُضو خانہ بنانا ہو تو اسے بہتر انداز میں بنانے کے لئے مکتبۃُ المدینہ کے رِسالے ”وُضو کا طریقہ“ کے بیک ٹائٹل پر اس کا نقشہ دیکھ لیجئے) ٭یاد رکھئے! سہولیات دینے کے ذریعے اگر کوئی نَمازی بنتا ہے تو یہ گھاٹے کا سودا نہیں بلکہ آخِرت میں نفع ہی نفع ہے ٭اسلامی بہنوں کے جہاں جہاں اجتماعات اوررہائشی کورس ہوتے ہیں وہاں بھی حسبِ موقع مشاورتوں (Counselling) کے ساتھ ”مذکورہ سہولیات“ مہیا کی جائیں۔اللہ کرے کہ ہمارا بچّہ بچّہ اللہ پاک کا نام لینے والا بَن جائے، ہماری مسجدیں آباد ہوجائیں، مسلمان نَمازی بَن جائیں اور سنّتوں پر عمل کو اپنا معمول بنالیں۔

اٰمِیْن بِجَاہِ النَّبِیِّ الْاَمِیْن صلَّی اللہ علیہ واٰلہٖ وسلَّم

سات(7)کےعددکےعجائبات مخلوق کی پیدائش سے لے کرجنّتیوں کے جنّت میں اور جہنمیوں کے جہنم میں جانےتک پھیلے ہوئے ہیں۔ کئی احاد...
13/12/2019

سات(7)کےعددکےعجائبات مخلوق کی پیدائش سے لے کرجنّتیوں کے جنّت میں اور جہنمیوں کے جہنم میں جانےتک پھیلے ہوئے ہیں۔ کئی احادیثِ مبارکہ اور فرامینِ بزرگانِ دین میں سات (7) کے عدد کا مختلف لحاظ سے بیان آیاہے۔ آئیے اس حوالے سے اپنی معلومات میں اضافہ کرتے ہیں:

6 فرامینِ مصطفےٰ

کئی احادیث ِمبارکہ میں اللہ کے آخری نبی صلَّی اللہ علیہ واٰلہٖ وسلَّم نے 7 کے عدد کا بیان فرمایا ہے جیسا کہ (1) نبیِّ کریم صلَّی اللہ علیہ واٰلہٖ وسلَّم نے ارشاد فرمایا:مجھے سات ہڈیوں پرسجدہ کرنے کاحکم دیاگیا ہے۔ (مسلم، ص200، حدیث:1095) (2)پیارے آقا صلَّی اللہ علیہ واٰلہٖ وسلَّم نے ارشاد فرمایا: جس نے مجھے دیکھا اور مجھ پر ایمان لایااسے ایک بارخوش خبری ہو، جو بغیر دیکھے مجھ پرایمان لائےاسےسات مرتبہ خوش خبری ہو۔(صحیح ابن حبان،ج9،ص178،حدیث:7188)

حکیمُ الاُمّت مفتی احمد یارخان رحمۃ اللہ علیہ فرماتےہیں:سات (کا لفظ) تحدید و حد بندی کے لیے نہیں بلکہ بیانِ کثرت کے لئے ہے یعنی بے شمار برکتیں خوشخبریاں ان لوگوں کو ہوں جو مجھ پر ایمان لائیں گے مگر مجھے بغیر دیکھے ہوئے صرف اور صرف میرا نام سُن کر مجھ پر فدا ہوں گے۔(مراٰۃ المناجیح،ج 8،ص594)

(3)حُضورِ اکرم صلَّی اللہ علیہ واٰلہٖ وسلَّم نے فرمایا:جو شخص اپنے مسلمان بھائی کی حاجت روائی کے لئے اس کے ساتھ جاتا ہے اور اس کی حاجت پوری کردیتا ہے تو اللہ کریم اس کے اور جہنّم کے درمیان سات خند قیں بنادیتا ہے اور دو خندقوں کا درمیانی فاصلہ زمین و آسمان کے درمیانی فاصلے کے برابر ہوتا ہے۔ (موسوعۃ ابن ابی الدنیا،ج 4،ص167، حدیث:35) (4)حُضورِ اکرم صلَّی اللہ علیہ واٰلہٖ وسلَّم نے فرمایا:جو بندہ سات مرتبہ جہنّم سے پناہ مانگتا ہے تو جہنّم کہتا ہے”اے ربّ! تیرے فُلاں بندے نے مجھ سے پناہ مانگی ہے لہٰذا تُو اسے پنا ہ عطا فرما“ اور جو بندہ سات مرتبہ جنّت کا سوال کرتا ہے تو جنّت کہتی ہے”اےربّ! تیرے فُلاں بندے نے میرا سوال کیاہے لہٰذا اسے جنّت میں داخل فرما۔“(الترغیب والترھیب ،ج4،ص243،حدیث:3) (5)نبیِّ کریم صلَّی اللہ علیہ واٰلہٖ وسلَّم نے ارشاد فرمایا: جس نے کسی ایسے مریض کی عیادت کی ( کہ اس وقت) جس کی موت مُقَدَّرنہ ہو، پھر سات مرتبہ اس کےپاس یہ الفاظ کہے اَسْأَلُ اﷲَ الْعَظِیْمَ رَبَّ الْعَرْشِ الْعَظِیْمِ اَنْ یَّشْفِیْکَ (یعنی میں عظمت والے اﷲ سے سوال کرتاہوں جو بڑے عرش کامالک ہے کہ وہ تجھے شفا عطا فرمائے۔) تواللہ پاک اسےصحت عطافرمائےگا۔(ابو داؤد،ج 3،ص251، حدیث:3160) (6)نبیِّ کریم صلَّی اللہ علیہ واٰلہٖ وسلَّمنے ارشاد فرمایا: جب تم فجر کی نماز ادا کرچکو توگفتگوکرنے سے پہلے یہ کلمات سا ت مرتبہ پڑھو” اَللّٰہُمَّ اَجِرْنِیْ مِنَ النَّار ترجمہ: اے اللہ! مجھے جہنّم سے نجات عطا فرما“پھر اگر تم اس دن میں مَر گئے تو اللہ کریم تمہارے لئے جہنّم سے امان لکھ دے گا اور جب تم مغرب کی نماز اداکر لیا کرو تو بات چیت کرنےسےپہلے یہی کلما ت سات مرتبہ پڑھ لیا کرو، ”اَللّٰہُمَّ اَجِرْنِیْ مِنَ النَّار ترجمہ:اے اللہ! مجھے جہنّم سے نجات عطا فرما“ پھر اگر تم اس رات میں مر گئے تو اللہ پاک تمہارے لئے جہنّم سے امان لکھ دے گا۔(ابو داؤد،ج4،ص415،حدیث:5079)

یعنی نماز ِمغرب پڑھ کر بغیر کسی سے دنیاوی کلام کئے ہوئے سات بار یہ دعا پڑھو،دنیاوی کلام کرلینے سے نماز کا دلی خشوع و خضوع کم ہوجاتا ہے اور زبان پر نماز کی تاثیر کم ہوجاتی ہے، اس لیے بعض دعاؤں میں دنیاوی کلام نہ کرنے کی قید ہوتی ہے حتی کہ تلاوتِ قرآن و دعاؤں کے دوران بھی اور وضو میں بھی دنیاوی کلام نہ کرنا چاہیے۔ سات بار کی قید اس لئے ہے کہ دوزخ کے دروازے سات ہیں، اس عددکی برکت سےاﷲ پاک اس پر وہ ساتوں دروازے بند کردے گا، ہر عدد ایک قُفل(تالے) کا کام دے گا۔اِنْ شَآءَ اللہ۔(مراٰۃ المناجیح،ج4،ص15)

استاذ صاحب سبق پڑھا کر فارغ ہوئے تو طلبہ سے فرمانے لگے: پہلے میں آپ کو ایک تمثیل (فرضی کہانی) سناتا ہوں پھر اس میں موجود...
13/12/2019

استاذ صاحب سبق پڑھا کر فارغ ہوئے تو طلبہ سے فرمانے لگے: پہلے میں آپ کو ایک تمثیل (فرضی کہانی) سناتا ہوں پھر اس میں موجود کرداروں پر بات کرتے ہیں، ایک کسان اپنی بیل گاڑی پر خربوزے لے کر بیٹوں کے ہمراہ گاؤں سے شہر کی طرف آرہا تھا، خربوزوں کی مقدار زیادہ تھی اور راستے کچّے پکّے! جب کہیں چڑھائی آتی تو ایک بیٹا بیل کے ساتھ مل کر زور لگاتا اور گاڑی کو آگے کی طرف کھینچتا، دوسرا پیچھے سے دھکّا لگاتا لیکن تیسرا بیٹا عجیب وغریب حرکت کرتا، وہ بیل گاڑی کے پہیّے کے باہر والے حصّے پر ہاتھ پاؤں جما کر کھڑا ہوجاتا اور گھومتے پہیّے پر خطرناک طریقے سے جُھولے لینا شروع کردیتا جس سے بیل گاڑی کو چلانے میں مشکل ہوتی جبکہ چوتھا بیٹا اس سے بھی چار ہاتھ آگے تھا وہ تھوڑی تھوڑی دیر بعد باپ سے نظر بچا کر ایک خربوزہ اُٹھاتا اور جھاڑیوں میں پھینک دیتا ۔

اس کے بعد استاذ صاحب نے سوالیہ نظروں سے طلبہ کو دیکھا اور پوچھا:ان میں کون مثبَت کردار ادا کررہا تھا اور کون منفی ؟ طلبہ فوراً بولے : کسان اور اس کے دوبیٹے جو بیل گاڑی کو آگے بڑھنے میں مدد دیتے تھے اور بیل، یہ مثبَت کردار تھے جبکہ پہیّے پر جُھولے لینے والافُضول اورمنفی کیونکہ وہ آگے بڑھنے سے روکتا تھا جبکہ خربوزے پھینک کر ضائع کرنے والا تو بہت ہی منفی کردار کا حامل تھا ۔

اب استاذ صاحب طلبہ سے مخاطِب ہوئے :ہم سب کو اپنے اپنے گھر، محلّے، درس گاہ،تجارت اور ملازَمت کی جگہ پر مثبَت کردارادا کرنا چاہئے ۔

مثلاً گھریلو زندگی کی گاڑی اپنی منزل کی طرف جارہی ہے، فرض کیجئے کہ بیل سے مُراد آپ کے والد صاحب کا ذریعۂ روزگار تجارت یا نوکری وغیرہ ہے، خربوزوں سے مُراد آپ کے والد کی کمائی ہے، اگر آپ اس رقم کو بے جا خرچ کریں گے تو گویا یہ کمائی ضائع ہوگئی لیکن اگر آپ گھر میں بجلی، پانی اور گیس کا استعمال احتیاط سے کریں گے، کھانا ضائع کرنے سے بچیں گے، بے جا فرمائشیں نہیں کریں گے، گھر کی چیزوں کو توڑ یں پھوڑیں گے نہیں تو یہ کمائی کو بچانے والے کام ہیں، اس کے علاوہ اگر آپ اپنے بہن بھائیوں اور والدہ کے ساتھ عزّت ومَحبّت کا رَوَیّہ رکھیں گے تو یہ یقیناً ایک مثبَت رویّہ ہے جو آپ کے کردار کو بُلندی عطا کرے گااور اگر رویّہ اس کے برعکس ہوا تو گھر والے ہی آپ سے کترانے لگیں گے۔

اسی طرح محلّے میں بھی کسی کے لئے مسئلہ نہ بنیں، محلّے داروں سے بے وجہ اُلجھنا، بچّوں کو جھاڑنا مارنا، پان کی پیک سے دوسروں کی دیواریں رنگ دینا، آتے جاتے کان پھاڑ ہارن بجانا، یہ سب کچھ آپ کا کیسا امیج بنائے گا، یہ جاننا مشکل نہیں۔

یونہی اپنی درس گاہ، تعلیمی ادارے میں بھی وقت پر پہنچنا، کلاس وغیرہ کے ڈسپلن کا خیال رکھنا، اپنے کلاس فیلوز سے حُسنِ سلوک کرنا، وقت پڑنے پر ان کی مدد کرنا، باہمی احترام کی فضا قائم کرنے میں اپنا رول ادا کرنا ،اساتذہ کی عزّت کرنا،ان کی توقّعات پر پُورا اُترنا ، فضول بیٹھکوں سے بچ کر اپنی پڑھائی پر فوکس کرنا، اس طرح کی دیگر مثبَت خصوصیات آپ کو اچھّا اسٹوڈنٹ بننے میں کامیابی دیں گی۔

اگر کسی ادارے میں جاب کرنے کا موقَع ملے تو اپنے کام پر توجّہ رکھنا،کارکردگی کے معیار کو صرف کاغذوں میں نہیں بلکہ حقیقت میں بھی اُونچا کرنا، خود کو اچّھا ثابت کرنے کے لئے دوسروں کو ڈی گریڈ نہ کرنا، بڑوں کی عزّت چھوٹوں پر شفقت کرنا ہمیں اس ادارے کی ضرورت بنادے گا ۔

اسی طرح آپ غور کرتے چلے جائیں گے تو ہمارا مثبَت کردار ہمیں ہرجگہ کامیابی سے ہمکنار کرے گا،آزما کر دیکھ لیجئے !

06/08/2019

گناہ کرنے سے بڑا گناہ

مَعْصِیَت کی اجازت معصیت سے بڑھ کر معصیت ہے (یعنی گناہ کرنے کی اجازت دینا گناہ کرنے سے بڑا گناہ ہے )۔(فتاویٰ رضویہ،ج 24،ص174)

06/08/2019

ماں باپ انسان کی جنّت اور دوزخ ہیں

آدَمی ماں باپ کو راضی کرے تو وہ اِس کے جنّت ہیں اور ناراض کرے تو وہی اس کے دوزخ ہیں (یعنی والدین کو راضی کرنا جنّت جبکہ انہیں ناراض کرنا دوزخ میں جانے کا سبب بن سکتا ہے)۔(فتاویٰ رضویہ،ج24،ص384)

06/08/2019

کھانا کھلانے کی فضیلت

شِیرِینی (مٹھائی) یا کھانا فُقراء (غریبوں) کو کھلائیں تو صَدَقہ ہے اور اَقارِب (رشتے داروں) کو (کھلائیں) تو صِلَۂ رِحْم (رشتے داروں کے ساتھ بھلائی) اور اَحباب (دوستوں) کو (کھلائیں) تو ضِیافت (دعوت)، اور یہ تینوں باتیں مُوجِبِ نُزُولِ رَحمت و دَفْعِ بلا و مصیبت (یعنی رحمت نازل ہونے اور مصیبت و پریشانی کے دور ہونے کا سبب) ہیں۔(فتاویٰ رضویہ،ج24،ص185)

06/08/2019

طالبِ علم کو کیسا ہونا چاہئے؟

طالب علم کے لئے وقار، دلی سکون، خوفِ خدا اور اپنے بُزُرگوں کی پیروی ضروری ہے۔

(ارشادِ حضرت سیِّدُنامالک بن انسرحمۃ اللہ علیہ) (حلیۃ الاولیاء،ج6،ص354،رقم: 8901)

06/08/2019

بلند مرتبے والوں پر آزمائشوں کی کثرت

اللہ پاک کے یہاں بندے کو جب کوئی مقام و مرتبہ حاصل ہوتا ہے تو اس پر آزمائشیں بڑھتی جاتی ہیں۔(ارشادِ حضرت سَیِّدُنا کعب اَحبار رحمۃ اللہ علیہ) (حلیۃ الاولیاء،ج5،ص401،رقم:7513)

06/08/2019

حلال کمانے اور نیک کام میں خرچ کرنے کی جزا

دُنیا میٹھی اور سَرسَبز ہے،جس نے اس میں سے حَلال طَریقے سے کمایا اور اُسے ثواب کے کام میں خرچ کیا اللہ پاک اُسے ثواب عطا فرمائے گا اور اپنی جَنّت میں داخل فرمائے گا۔ (ارشادِ حضرت سَیِّدُنا عُمَر بن خَطَّاب رضی اللہ عنہ) (شعبُ الایمان،ج4،ص396،رقم:5527)

آسان حج(Aasan Hajj)
15/07/2019

آسان حج
(Aasan Hajj)

جو پابندِ شریعت نہیں وہ ولی نہیںولی کسے کہتے ہیں؟ جواب: اللہ پاک کے وہ محبوب و مقبول بندے جو اللہ و رسول صَلَّی اللہُ عَ...
28/06/2019

جو پابندِ شریعت نہیں وہ ولی نہیں

ولی کسے کہتے ہیں؟ جواب: اللہ پاک کے وہ محبوب و مقبول بندے جو اللہ و رسول صَلَّی اللہُ عَلَیْہِ وَاٰلِہِ وَسَلَّمَ کی محبت میں اپنی خواہشوں کو فنا کر دیتے ہیں اورہر وقت خدااوررسول صَلَّی اللہُ عَلَیْہِ وَاٰلِہِ وَسَلَّمَ کی اطاعت وفرمانبرداری میں مصروف رہتے ہیں، اولیاء اللہ کہلاتے ہیں۔ اس تعریف کو پڑھ کرآپ یہ سوچ رہےہوں گے کہ ولایت ملتی کیسے ہے؟ تو اس کا آسان سا جواب یہ ہے: ولایت محض اللہ تعالٰی کاتحفہ ہے رب کریم اپنے نیک بندوں کو اپنے خاص فضل سے عطا کرتا ہے۔ ہاں عبادت گزاری کبھی کبھار اس کا ذریعہ بن جاتی ہے اور بعض تو ماں کے پیٹ سے ہی ولی پیدا ہوتے ہیں۔

محترم قارئین!ولی کے لئے علم ضروری ہے،خواہ وہ ظاہری طور پر حاصل کرے یاولایت کے مرتبہ پر پہنچنے سےپہلے اللہ پاک اسے اپنے پاس سے خاص علم و فضل عطا کردے، کیونکہ علم کے بغیر آدمی ولی نہیں ہوسکتا۔ جہاں تک شریعت کی پابندی کی بات ہے تو یہ بات ہمیشہ ذہن میں رہے کہ کوئی ولی کتنا ہی بڑا کیوں نہ ہو کبھی بھی شریعت کے احکامات کی پابندی سے آزاد نہیں ہوسکتا، بلکہ ولی تو ہوتا ہی وہ ہے جو احکام شرعیہ کی مکمل پاسداری کرتا ہے، جو خود کو شریعت سے آزاد سمجھ کر دعوی ولایت کرے تو یقیناً وہ شخص گمراہ بددین تو ہے مگر ولی کسی صورت نہیں، ولی کی پہچان اس حدیث قدسی سے ہوتی ہے۔ چنانچہ:

نبی کریم صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہِ وَسَلَّمَ نے ارشاد فرمایا:

پیارے آقا صَلَّی اللہُ عَلَیْہِ وَاٰلِہِ وَسَلَّمَ فرماتے ہیں کہ اللہ پاک نے ارشاد فرمایا:کوئی بندہ میرے فرائض کی ادائیگی سے بڑھ کر کسی اور چیز سے میرا قرب حاصل نہیں کرسکتا۔(فرائض کے بعد) نوافل سے مزید میرا قرب حاصل کرتا جاتا ہے یہاں تک کہ میں اسے محبوب بنا لیتا ہوں تو میں اس کے کان بن جاتا ہوں جن سے وہ سنتا ہے اور اس کی آنکھ بن جا تا ہوں جن سے وہ دیکھتا ہے اور اس کے ہا تھ بن جا تا ہوں جن سے وہ پکڑتا ہے اور اس کے پاؤں بن جا تا ہوں جن سے وہ چلتا ہے اور اگر وہ مجھ سے سوال کرے تو میں اسے ضرور عطا کرتا ہوں۔ (بخاری، کتاب الرقاق، ۴/۲۴۸،حدیث ۶۵۰۲)

سُبْحٰنَ اللہ!مذکورہ حدیث پاک سے چند باتیں آسانی سے سمجھ آتی ہیں۔

·فرائض و واجبات کی پابندی اللہ کریم کا قرب پانے کا ذریعہ ہے۔

·حدیث پاک میں جہاں کان،آنکھ،ہاتھ اور پاؤں بننے کا ذکر ہے اس سے مراد یہ ہے کہ اللہ کریم ان بندوں کو خاص قوتیں اور اختیارات عطافرماتا ہےجن کی بدولت یہ وہ دیکھتے ہیں جو عام انسان نہیں دیکھ پاتے یہ وہ سن لیتے ہیں جو عام انسان نہیں سن پاتے ان کے ہاتھوں سے ایسی ایسی باتیں صادر ہوتی ہیں جو ایک عام انسان سے نہیں ہو سکتیں اور یہ مہینوں کے سفر پل بھر میں طے کر لیتے ہیں جو کہ عام انسان سے ممکن ہی نہیں اس طرح کے اور بہت سے ایسے اعمال ان سے صادر ہوتے ہیں جو عام لوگوں کی عقل میں نہیں آتے،عرف عام میں اسی کو کرامت بهی کہتے ہیں۔

· اللہ پاک ان کی دعائیں قبول کرتا ہے۔

·یہ اللہ والے شکر کی ایسی کیفیت کو جانتے ہیں جو نعمتوں کو دوام بخشتی ہے۔ زندگی کے کسی بھی لمحے خود کو اللہ پاک کی اطاعت اور خوشنودی کے راستے سے نہیں ہٹنے دیتے، اللہ پاک کی نعمتوں پر شکر اور آزمائشوں پر صبر کرتے ہیں۔

ہمیں حدیث پاک سے کیا سبق ملا؟

محترم قارئین کرام! جیساکہ مذکورہ حدیث پاک سے ہمیں معلوم ہوا کہ اللہ کریم اپنا قرب اسے عطافرماتا ہے جو نیک، متقی اور فرمانبردار ہو، اب ہم اس حدیث پاک کے تناظر میں دور حاضر میں ان لوگوں کا جائزہ لیں جو خود کو اللہ کا ولی تو کہتے ہیں مگر ہمیں ان میں وہ صفات اور نشانیاں نظر نہیں آتیں جو ایک اللہ کےولی میں ہونی چاہییں جیساکہ نماز، روزہ نیکی کی دعوت دینا برائی سے منع کرنا اور شریعت کے تمام احکامات پر ہمیشہ کار بند رہنا، ہر قسم کے غیر شرعی کاموں سے خود کو بچائے رکھنا، غیر محرم خواتین سے میل جول نہ رکھنا، رقص و سرور کی محافل سے اجتناب کرنا اور اپنی زندگی کو اطاعت خداوندی اور خدمت خلق میں گزارانا وغیرہ اورتمام قسم کے شیطانی کاموں سے دور رہنا، اللہ کے بندوں کی مدد کرنا وغیرہ۔

دور حاضر کے نام نہاد ولی:

مگر دور حاضر میں ولایت کا دعویٰ کرنے والے نام نہاد لوگ نہ تو نماز پڑھتے ہیں نہ پڑھنا آتی ہے، نہ شریعت پر عمل کرتے ہیں نہ یہ معلوم ہے کہ شریعت ہے کیا؟ ان جیسوں نے اسلام کو بدنام کر رکھا ہے،پیری مریدی کے نام پر غیر محرم خواتین کو قریب کر کے اپنی شیطانی خواہشات کو پورا کرتے ہیں،لوگوں کو اپنے فریب کے جال میں پھنسا کر نذرانے کے نام پر بھاری رقوم ہتھیاتے ہیں، اپنے غلیظ مقاصد کی خاطر اپنے گمراہی کے اڈوں کو آستانوں کے نام سے منسوب کرتے ہیں۔ یاد رکھئے! ایسے لوگ خود تو برباد ہوتے ہی ہیں دوسروں کو بھی برباد کردیتے ہیں اور یہی نہیں بلکہ ان کی وجہ سے دین اسلام کی بھی بدنامی ہوتی ہے اور ا س میں کسی نہ کسی طرح ہمارا بھی قصور ہے کہ ہمیں معلوم ہوتا ہے کہ یہ شخص نماز تک نہیں پڑھتا اس کے باوجود ہم اپنی مرادوں کے لئے ایسوں کےپا س جاتے اور لوگوں کو بھی ترغیب دلاتے ہیں اور یہ نام نہاد پیر اور ان کے پاس جانے والے لوگ اسلام کو ناقابل تلافی نقصان پہنچاتے ہیں۔ لہٰذا ایسے لوگوں سے اپنا دین وایمان، مال و متاع اور عزت وآبرو محفوظ رکھیں اورآنے والی نسلوں کو بھی ان جیسے لوگوں کی نشاندہی کروائیں تاکہ وہ جعلی پیروں فقیروں کے غلیظ مقاصد کا نشانہ نہ بنیں۔

Address

Bagra/Karakoram Highway Road
Haripur
22620

Website

Alerts

Be the first to know and let us send you an email when Madani Masjid posts news and promotions. Your email address will not be used for any other purpose, and you can unsubscribe at any time.

Share

Category