28/09/2023
🌹السلام عليكم🌹ایمان بخیر زندگی🌹
🔴🍀جو کام گناہ قرار دیئے گئے ہیں ان کو ایک حکمت کے تحت گناہ قرار دیا گیا ہے ان کاموں کے کچھ ظاہری اور کچھ باطنی پہلو ہوتے ہیں کچھ گناہ ایسے ہیں جن کا تعلق سیدھا اللہ تعالی یا اللہ تعالی کے حبیب صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم سے ہے باقی بہت سارے گناہوں کا تعلق انسانوں سے یعنی انسانی حقوق پامال ہونے سے ہے ہم جتنے بھی گناہ کرتے ہیں ان کی بنیاد یعنی جڑ جھوٹ ہے جیسے آپ نے یہ تو عام طور پہ سنا ہو گا کہ جھوٹ گناہوں کی ماں ہے یہ لفظ عام طور پہ محاورہ تن بولا جاتا ہے مگر یہ بلکل سچی بات ہے کہ جھوٹ گناہوں کی ماں ہے کیونکہ جو بندہ جھوٹ بول لیتا ہے وہ سارے گناہ کر سکتا ہے اگر ہم گناہوں سے بچنا چاہتے ہیں تو سب سے پہلے جھوٹ چھوڑنا ہو گا آپ دیکھیں گے کہ آہستہ آہستہ سارے گناہ چھوٹ جائیں گے ہم انسان تو اشرف المخلوقات ہیں جھوٹ کو تو چرندوں اور پرندوں میں بھی برا سمجھا جاتا ہے آئیں آج آپ کے سامنےچیونٹیوں 🐜 کا ایک بہت ہی دلچسپ واقعہ پیش کرتے ہیں خود بھی پڑھیں اور دوسروں تک بھی پہنچائیں🍀🔴
📚🖌ایک دن علامہ ابن قیم ایک درخت کے نیچے بیٹھے ہوئے تھے کہ انہوں نے ایک چیونٹی کو دیکھا جو ایک ٹڈی کے پَر کے پاس آئی اور اس کو اٹھا کر لے جانے کی کوشش کی مگر نہیں لے جا سکی، کئی بار کوشش کرنے کے بعد اپنے کیمپ (بل) کی طرف دوڑی تھوڑی ہی دیر میں وہاں سے چیوٹیوں کی ایک فوج لے کر نمودار ہوئی اور ان کو لے کر اس جگہ آگئی جہاں پَر ملا تھا، گویا وہ ان کو لے کر پر لے جانا چاہتی تھی۔ چیونٹیوں کے اس جگہ پہنچنے سے پہلے ابن قیم نے وہ پر اٹھا لیا تو ان سب نے وہاں اس پر کو تلاش کیا مگر نہ ملنے پر سب واپس چلے گئے۔
مگر ایک چیونٹی وہیں رہی اور ڈھونڈنے لگی جو شاید وہی چیونٹی تھی۔ اس دوران ابن قیم نے وہ پر دوبارہ اسی جگہ رکھ لیا جبکہ اس چیونٹی کو دوبارہ وہی پر مل گیا تو وہ ایک بار پھر دوڑ کر اپنے کیمپ میں چلی گئی اور پہلے کے مقابلے میں کچھ کم چیونٹوں کو لے کر آئی گویا زیادہ تر نے اس کی بات کا یقین نہیں کیا۔
اس بار بھی جب وہ ان کو لے اس جگہ کے قریب پہنچی تو علامہ نے وہ پرپھر اٹھا لیا اور سب نے اس کو دوبارہ کافی دیر تک تلاش کیا مگر نہ ملنے پر سب واپس چلے گئے اور حسب سابق ایک ہی چیونٹی وہاں اس پر کو ڈھونڈتی رہی، اس دوران علامہ نے ایک بار پھر وہی پر اسی جگہ رکھ لیا تو وہی چیونٹی نے اس کو ڈھونڈ لیا اور اپنے کیمپ کی طرف ایک بار پھردوڑ کر گئ مگر اس بار کافی دیر کے بعد صرف سات چیونٹیوں کو لے کر آئی تب ابن قیم نے اس پر کو پھر اٹھا لیا اور چیونٹیوں نےکافی دیر تک پر کو تلاش کیا اور نہ ملنے پر غصے سے اسی چیونٹی پر حملہ آور ہوئے اس کو ٹکڑے ٹکڑے کر کے رکھ دیا گویا وہ جھوٹ بولنے پر اس سے ناراض ہو گئے تھے۔۔۔
تب ابن قیم نے وہ پر ان چیونٹیوں کے درمیان رکھ دیا جونہی ان کو پر ملا سارے پھر اس مردہ چیونٹی کے پاس جمع ہو گئے گویا وہ سب افسرہ اور شرمندہ تھے کہ انہوں اس بے گناہ کو قتل کیا۔
ابن قیم کہتا ہے کہ یہ سب دیکھ کر مجھے بہت افسوس ہوا اور میں نے جاکر یہ واقعہ ابو العباس ابن تیمیہ رحمہ اللہ کو بتایا۔ انہوں نے کہا اللہ تجھے معاف کرے ایسا کیوں کیا دوبارہ کبھی ایسا مت کریں۔
سبحان اللہ جھوٹ سے نفرت فطرت کا حصہ ہے کیڑے مکوڑے بھی جھوٹ سے نفرت کرتے ہیں اور قوم سے جھوٹ بولنے پر سزائے موت دیتے ہیں_!
کیا یہ کیڑے مکوڑے ان حکمرانوں اور خصوصاً ہم سے اچھے نہیں ہیں_؟؟
ہم تو دن رات جھوٹ بولتے ہیں لوگوں کو دھوکہ دیتے ہیں_! کیا ہمارے اندر ان چیونٹیوں کےبرابر غیرت بھی نہیں کہ وہ جھوٹوں کو مسترد کر دیں اور ان کو سزا دیں۔ جو اللہ کی طرف سے نازل کی گئی۔ ایسے حکمران اور ایسے لوگ بن جائیں تاکہ کہ کبھی جھوٹ نہ بولیں۔
*گریبان میں پہلے جھانکنا*
(علامہ ابن قیم رحمہ اللہ نے اپنی کتاب"مفتاح دار السعادۃ" میں اس واقعہ کا ذکر کیا ہے۔)
رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے ارشاد فرمایا:
جھوٹ چہرے کو سیاہ کرتا ہے اور چغلی عذاب قبر کا سبب بنتی ہے۔
(شعب الایمان 208/4 حدیث:4813)🦋
اے ہمارے پروردگار 🤲
ہم تیرے گناہگار بندے اور بندیاں دنیا کے تمہ اور لالچ میں ایسے پھنسے ہیں کہ اپنی آخرت کو ہی بھول بیٹھے ہیں اور رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے جن جن گناہوں کو قبر اور دوزخ کے عذاب کا سبب بتایا ہے ان کو گناہ ہی نہیں سمجھتے اے رب کائنات ہم پہ رحم فرما، ہمیں دین کو سمجھنے سیکھنے اور اس پر عمل کرنے والے بنا دے اور اپنی رحمت کاملہ کے صدقے ہماری تمام خطائیں بخش دے اور ہمارا خاتمہ ایمان پہ فرمانا ہمیں قبر اور دوزخ کے عذاب سے بچانا۔ بیشک تیری رحمت تیرے غضب پہ غالب ہے اور تو سب سے بڑھ کر رحم فرمانے والا مہربان ہے۔ آمین یا رب العالمین