Try for Islam

Try for Islam Contact information, map and directions, contact form, opening hours, services, ratings, photos, videos and announcements from Try for Islam, Gujrat.

our content is original and we thinks it's a journey from listening to learning �....I hope you people must be enjoyed by watching our videos .... inshallah it's a way to make our youth good listener and they get rid of listening � songs ....

15/12/2024
04/05/2024

اسے جو چیز ، جگہ یا شحض پسند آ جاتا تھا نہ 😊تو وہ چھت پہ جا کر آسمان کی طرف دیکھ کر مسکراتے ہوئے اللّٰہ کو چھپکے سے بتا آتی تھی☺️۔☺️ اور پتہ ہے کہتی کیا تھی🙂 اللّٰہ مجھے یہ پسند ہے پر میں مانگ نہیں رہی آپ سے۔۔۔😚۔ کیونکہ آپ کی choice میری choice سے کہی گناہ بہتر ہے ☺️😌تو مجھے جو پسند ہے اگر وہ آپ کو بھی پسند ہے میرے لیے تو done کر لیتے ہیں😉 اگر نہیں تو پھر میں تو ہمیشہ انتظار کرتی ہوں نہ آپ کی رضا کا 🤗۔۔۔۔اس بار بھی کر رہی ہو ۔۔۔۔۔اپ جیسا سگنل بھیجیں گے میں ویسے ہی کروں گی😇 ۔۔۔۔۔ ساری دنیا اور اس کی سب expensive چیزیں ایک طرف اور آپ کی رضا ایک طرف ۔۔۔۔۔❤️
ازقلم
#پاکیزہ بٹ

28/11/2023

بلال پاشا کا غربت سے CSS اور پھر داعی اجل کو لبیک کہہ دینے تک کا سفر 💔
تحریر : محمد طاہر

بلال پاشا جنوبی پنجاب کے ایک پسماندہ علاقہ میں پیدا ہوا۔ والد دیہاڑی دار مزدور تھے۔ مالی حالات اچھے نہ ہونے کی وجہ سے مسجد میں ہی قائم مکتب سے پرائمری پاس کی۔ جنوبی پنجاب کی پسماندگی کا عالم سب پر عیاں ہے لہذا بلال پاشا نے بھی چھٹی جماعت سے اے بی سی پڑھنا شروع کی۔ انٹر میڈیٹ ایمرسن کالج ملتان اور بیچلر زرعی یو یونیورسٹی فیصل آباد سے کیا۔ کسی کے وہم و گمان میں بھی نہ تھا کہ مسجد سے پانچ جماعتیں کرنے والا بچہ کل کو مقابلے کا امتحان پاس کرکے سی ایس پی بن جائے گا۔

بلال پاشا نے کیریئر کا آغاز ایک پرائیویٹ نوکری سے کیا۔ لیکن والد کی خواہش پر گورنمنٹ سروس میں آیا اور پولیس میں سب انسپکٹر بھرتی ہوگیا۔ بعد ازاں مختلف سرکاری اداروں میں سولہویں اور سترہویں سکیل کی ملازمت کرتے ہوئے 2018 ء میں سی ایس ایس کا امتحان پاس کرنے میں کامیاب ہوا۔

بلال پاشا نے اپنے بیک گرائونڈ کو چھپانے کی بجائے اپنے سفید داڑھی والے مزدور باپ کے ساتھ کھڑے ہوکر انٹرویو دیا اور پاکستان کے ان نوجوانوں میں امید کی شمع جلائی جو سی ایس ایس پاس کرنے کو صرف ایلیٹ کلاس سے منسوب کرتے تھے۔ سلسلہ چل نکلا اور دیکھتے ہی دیکھتے ہزاروں نوجوان سی ایس ایس کے خواب آنکھوں میں سجائے اس سفر پر گامزن ہونے لگے۔

لیکن عرفان خان نے کیا زبردست جملہ بولا تھا کہ "جب ہم جیسوں کےدن آتے ہیں موت بیچ میں ٹپک پڑتی ہے"۔ بلال پاشا کی زندگی کی شروعات ہوئی تھی اور موت نے آن دبوچ لیا۔ بلال کی موت کی وجہ بس ایک ہی تھی۔۔ سول سروس میں ملنے والا ڈپریشن۔ وہ جس سے بھی بات کرتا یہی کہتا کہ وہ یا تو نوکری چھوڑ دے گا یا خودکشی کرلے گا۔ میں خود گورنمنٹ سروس میں ہوں تو جانتا ہوں کہ کس قدر آپ کو پریشر برداشت کرنا پڑتا ہے۔

بلال کی موت سے دو باتیں عیاں ہیں، ایک، ڈپریشن جان لیوا بیماری ہے۔ یہ ارب پتی باپ طارق جمیل کے ارب پتی بیٹے کو بھی دبوچ لیتی ہے اور یہ ایک مزدور باپ کے افسر بیٹے بلال پاشا کو بھی نہیں چھوڑتی۔ دوسرا۔۔ ہمیں اپنے خوابوں کے پیچھے اتنا بھی نہیں بھاگنا چاہیے کہ وہ ہمارے لئے Pyrrhic Victory ثابت ہو ( فرانس کا نپولین بوناپارٹ روس کو شکست دینے کے لئے اپنی چھ لاکھ فوجوں کے ساتھ آگے بڑھتا گیا۔ وہ جنگ تو جیت گیا لیکن سرد موسم کی وجہ سے صرف دس ہزار فوجیوں کو بچا کر واپس آیا اور تب تک پیرس کا بھی محاصرہ ہوچکا تھا) ۔ بلال سترہویں سکیل کی عام نوکری پہ رہتا تو شاید کبھی اس Pyrrhic Victory کا شکار نہ ہوتا۔

کسی نے کیا خوب کہا ہے " جس کی طلب میں تڑپ رہے ہو، وہ مل بھی بھی گیا تو کیا کرو گے"۔ یا پھر چارلس بکوسکی سے نے کہا تھا " ڈھونڈو اسے جس سے تم محبت کرتے ہو تاکہ وہ تمہیں مارسکے"۔ بلال کو بھی سی ایس ایس کرنے نے مار دیا۔ لہذا سی ایس ایس ایسی چیز نہیں ہے جس کی خاطر جان سے بھی ہاتھ دھویا جائے۔ ہر سال 17 فیصد بیوروکریٹ اپنی نیلی بتی اور سبز نمبر پلیٹ کو اللہ حافظ کہتے ہوئے استعفے دے دیتے ہیں۔ بلال بھی یہی کہتا تھا " یہ لوگ بتی اور سبز نمبر پلیٹ دیکھتے ہیں لیکن میرے اندر نہیں دیکھتے"۔اب قیامت گزر چکی ہے۔

غیر مصدقہ اطلاعات کے مطابق انکو cardiac arrest ہوا جو کہ جان لیوا ثابت ہوا

آج کی رات بلال کے باریش والد کے لئے بہت بھاری ہے۔ آج وہ اپنے ناتواں ہاتھوں سے اپنے لخت جگر کے سونے جیسے جسم کو سپرد خاک کرے گا۔ آج کی رات بہت طویل ہے۔۔ بہت کٹھن۔۔ ہر طرف چیخ و پکار ہوگی۔۔ بلال کی میت کو روکا جائے گا۔۔ لیکن جانے والے کو کوئی روک پایا ہے؟ آج رات تو ہوگی لیکن اس کی سحر نہیں ہوگی۔ جب صبح کا سورج طلوع ہوگا تو اس کا باریش باپ گلیوں گلیوں صدائیں لگاتا ہوا اسی مسجد کے صحن میں جا پہنچے گا جہاں سے بلال نے اپنی زندگی کا آغاز کیا تھا۔ لیکن۔۔۔ اب کی بار وہ میسر نہیں ہوگا۔ اب کی بار مسجد کے درودیوار سے بس آہ و بکا سنائی دے گی۔۔ وحشت نظر آئے گی۔۔ لیکن بلال کہیں نظر نہیں آئے گا۔۔۔ وہ اس نیلی بتی۔۔۔ سبز نمبر پلیٹ ۔۔۔ اور اس سماج کے خودساختہ معیار سے بہت دور جاچکا ہوگا۔ اب کی بار وہ لوٹ کے نہیں آئے گا۔
۔۔۔۔۔۔اللہ حافظ بلال۔۔۔

09/11/2023

Champion academy..... little effort of my students......

25/09/2023

پیدائشی مسلم اور نومسلم۔۔۔۔۔

کچھ عرصہ قبل ایک ویڈیو انٹریو دیکھا تھا۔ ایک غیر مسلم خاتون تین ایسی خواتین کا انٹرویو کر رہی تھیں۔ جنہیں اسلام قبول کئے دس دس سال سے زائد عرصہ ہوچکا تھا۔ دوران انٹرویو اس نے ایک بہت ہی اہم سوال یہ کیا

"ہم نے یہ بات نوٹ کی ہے کہ نو مسلم مساجد کی سطح تک تو پیدائشی مسلمانوں کے ساتھ گھل مل لیتے ہیں لیکن کمیونٹی کی سطح پر ان سے کنی کتراتے ہیں۔ ان کے ساتھ دوستیاں نہیں رکھتے۔ اس کی کیا وجہ ہے ؟"

کسی جگہ تین خواتین بیٹھی ہوں تو یہ ممکن ہی نہیں کہ وہ اپنی اپنی باری پر بولیں۔ خواتین کی نفسیات کچھ ایسی ہے کہ یہ سب ایک دوسرے کو لقمہ دے رہی ہوتی ہیں۔ یوں اختلاف ہو تو کنفیوژن پھیل جاتی ہے۔ اور اتفاق ہو تو ایک مشترکہ موقف سامنے آجاتا ہے۔ ان خواتین نے مل جل کر جو جواب دیا وہ دل دہلا دینے والا تھا۔ اور ہم سب کے لئے لمحہ فکریہ ہے

"جی ہاں ایسا ہی ہے۔ اور اس کی بہت گہری وجوہات ہیں۔ پہلی وجہ تو یہ ہے کہ ان کا اسلام باپ سے ملی میراث کی طرح ہے لھذا انہیں اس کی قدر ہی نہیں۔ دوسری وجہ یہ ہے کہ ہم میں سے کوئی عیسائی تھا تو کوئی ملحد۔ نو مسلموں میں سے کسی نے بھی آنکھیں بند کرکے اسلام قبول نہیں کیا۔ کم سے کم بھی دو سال تک اسلام کا مطالعہ کرنے کے بعد یہاں مغرب میں لوگ اسلام قبول کرتے ہیں۔ ان کا پہلا مطالعہ قرآن مجید اور دوسرا رسول اللہ ﷺ کی سیرت کا ہوتا ہے۔ تیسرے مرحلے میں لوگ صحابہ کرام کی زندگی کا مطالعہ کرتے ہیں۔ تاکہ دیکھ سکیں کہ آخر وہ جماعت کیسی تھی جسے رسول اللہ ﷺ کی براہ راست صحبت اور تعلیم میسر آئی۔ چنانچہ اسلام قبول کرنے والا نو مسلم جب یہ دیکھتا ہے کہ جو اسلام ہم نے قرآن مجید ، سیرت اور صحابہ کرام رضوان اللہ علیھم اجمعین کی زندگیوں میں دیکھا ہے وہ تو ان پیدائشی مسلمانوں میں دور دور تک نظر نہیں آتا تو یہ فورا سمجھ جاتے ہیں کہ اسلام پر زوال کیوں آیا ہوا ہے۔

ہم نو مسلموں میں سے کئی ایسے ہیں جنہوں نے ہالیووڈ کی فلم انڈسٹری ، میوزک اور فیشن انڈسٹری کے کیریئر کو اسلام پر قربان کیا ہے۔ کیونکہ ہم اس کے کلچر اور آمدنی دنوں کو حرام سمجھتے ہیں مگر یہ پیدائشی مسلمان تو یہاں مغرب میں نائٹ کلبوں میں ناچ رہے ہیں۔ یہ کیسی مسلمانی ہے ؟ اس سے بھی زیادہ افسوس کی بات یہ ہے کہ آپ کسی بھی نو مسلم کا قرآن مجید سے متعلق انٹریو کر سکتی ہیں۔ وہ آپ کو بتا دے گا کہ قرآن مجید کے کن کن مقامات اور تعلیمات نے دوران مطالعہ سب سے زیادہ متاثر کیا۔ یہاں تک کہ آپ کسی بھی موضوع پر اس سے سوال کریں گی کہ اس بارے میں قرآن مجید کیا کہتا ہے ؟ تو وہ آپ کو بتا دے گا کہ یہ کہتا ہے۔ لیکن یہی انٹریو آپ کسی عام پیدائشی مسلمان کا نہیں کرسکتیں۔ کیونکہ اس نے پوری زندگی میں کبھی قرآن کھول کر اس کا مطالعہ نہیں کیا ہوتا۔

ان کا تو آسان سا شارٹ کٹ ہے کہ کوئی مسئلہ پیش آگیا تو مولوی سے جا کر پوچھ لیا۔ خود دین سیکھنے کی زحمت ہی گوارہ نہیں کرتے۔ پھر مولوی خود ایک مسئلہ ہیں۔ ان میں سے جو عرب علماء ہیں یہ تو ٹھیک ہیں۔ ان سے آپ جب بھی دین کے حوالے سے بات کریں گے تو یہ اللہ اور اس کے رسول ﷺ کے حوالے سے بات شروع کریں گے۔ آپ اس آیت یا حدیث کے حوالے سے کوئی پیچیدہ سوال پوچھیں گے تو تب وہ آپ کو یہ بتائیں گے کہ مفسرین، محدثین اور فقہاء اس کی کیا تشریح کرتے ہیں۔ لیکن بات شروع قرآن و حدیث سے ہی ہوگی۔ اس کے برخلاف ایشین مولویوں کا سارا زور اپنی کچھ شخصیات پر رہتا ہے۔ آپ کوئی بھی سوال کر دیجئے وہ کہیں گے

"ہمارے حضرت فرماتے ہیں۔۔۔۔"

ارے بھئی ہم نے آپ کے حضرت کا کیا کرنا ہے، ہمیں تو یہ بتاؤ کہ اللہ اور اس کا رسول کیا کہتا ہے ؟ سو ہم ان پیدائشی مسلمانوں سے دور ہی رہتے ہیں۔ انہیں دیکھ کر لوگ اسلام سے متنفر ہوتے ہیں۔ اور درست طور پر ہوتے ہیں۔ کیونکہ جو عیاشیاں ہم مغربی نو مسلموں نے اللہ اور اس کے رسول ﷺ کے نام پر قربان کردی ہیں۔ وہ تمام عیاشیاں یہ پیدائشی مسلمان یہاں مغرب میں کر رہے ہیں۔ شراب یہ پیتے ہیں، زنا یہ کرتے ہیں، دھوکے یہ دیتے ہیں، بارز اور نائٹ کلبوں میں یہ نظر آتے ہیں۔ کوئی ایسی چیز نہیں جس سے اللہ اور اس کے رسول ﷺ نے منع کیا ہو اور یہ کرتے نہ ہوں۔ ہمیں ڈر ہے کہ ان سے تعلق رکھیں گے تو یہ ہمیں دین سے دور کردیں گے"

پھر ان میں سے ایک نے کہا

"کیا آپ یقین کریں گی کہ ایک پیدائشی مسلمان کولیگ نے مجھے یہ سمجھانے کے لئے ایڑی چوٹی کا زور لگا لیا کہ اسلام میں چہرہ چھپانا ضروری نہیں لھذا تم نقاب نہ لیا کرو ؟"

انٹرویو کرنے والی نے پوچھا

"کیا چہرہ چھپانا ضروری ہے ؟"

وہ بولیں

"دیکھئے اس سوال کا سورس ڈھونڈنا چاہئے۔ آپ جب اس کی تلاش میں نکلیں گی تو چلتے چلتے یا تو آپ لندن پہنچ جائیں گی یا واشنگٹن ۔ مسلم معاشروں میں ایسے سوال مغرب نے انجیکٹ کئے ہیں۔ آپ کو یہ بات بالکل صاف نظر آجائے گی کہ مسلم معاشروں میں اس طرح کے سوالات تب پیدا ہوئے جب کسی مغربی ملک نے ان پر قبضہ کرلیا۔ اس طرح کے سولات سے مسلم معاشروں کو تو کنفیوز کیا جاسکتا ہے مگر ہم مغربی مسلمانوں کو نہیں۔ہم چیزوں کا جائزہ سائنٹفک بنیادوں پر لیتے ہیں"

"آپ کے خیال میں سائنٹفک بنیاد پر نقاب کو کیسے ثابت کیا جاسکتا ہے ؟"

"دیکھئے، ہمیں رسول اللہ ﷺ کے رخ انور کی ایک ایک تفصیل مل جاتی ہے کہ آپ ﷺ دکھتے کیسے تھے۔ خلفائے راشدین اور بڑے صحابہ رضوان اللہ علیھم اجمعین کے چہروں کی تفصیلات بھی مل جاتی ہیں۔ کیا ازواج مطہرات رضوان اللہ علیھم اجمعین کے چہروں کی تفصیلات بھی دستیاب ہیں ؟ رسول اللہ ﷺ کی صاحبزادیوں کی شکل و صورت کیسی تھی ؟ اس کا ڈیٹا کہیں دستیاب ہے ؟۔ نہیں ہے۔ کیوں ؟ کیونکہ وہ چہرے چھپاتی تھیں۔ مرد صحابہ نے دیکھا نہیں، اور خواتین صحابہ نے اس لئے بیان نہیں کیا کہ جس چیز کو نقاب میں چھپانے کا حکم تھا، اسے کتاب میں کیسے ظاہر کیا جا سکتا تھا ؟"

"مگر بہت سی نو مسلم خواتین بھی تو چہرہ نہیں چھپاتیں ؟"

"یہ ان کی اپنی چوائس ہے۔ ہم کسی کی پرسنل لائف میں دخل دینے کا حق نہیں رکھتے"

ہم یہی کہہ سکتے ہیں کہ نو مسلم لوگ ہدایت یافتہ لوگوں کی جماعت ہے۔ یہ صحابہ کرام رضوان اللہ علیھم اجمعین کی طرح حق کی تلاش میں نکلے اور اسلام تک پہنچے سو ان کی کمٹمنٹ بھی پھر کچھ اور ہی لیول کی ہے۔ اور ہم پیدائشی مسلمان تو واقعی باپ کی میراث پر اترا رہے ہیں، اپنی ذاتی "دینی کمائی" کوئی نہیں..
منقول

04/09/2023

اللہ رب العزت کیسے اپنے بندوں کا مقدمہ خود ہی لڑ لیتا ہے ۔ میں نے سوچا بھی نہیں تھا کہ اللہ کی ذات مجھے کیسے سرخرو کر دے گی ۔ آج حقیقت میں علم ہوا ہے کہ انسان کوئی کسی کا کچھ نہیں بگاڑ سکتا ۔ بے شک عزت اور ذلت اللہ کے ہاتھ میں ہے ۔ جب کوئی ہمارے حلاف بات کرے اور ہمیں پتہ چلے کہ اللّٰہ نے ہمیں بغیر کسی justification کے ہی سرحرو کر دیا ہے ۔ تو دل سے اللّٰہ اکبر نکلتا ہے ۔ لیکن میں یہ سوچتی ہوں کہ وہ انسان کیسے مطمئن رہ سکتا ہے جو کسی کی reputation خراب کرنے کے لیے جھوٹ بات کہے ۔ لیکن ایسا کرنے سے وہ انسان اپنی عزت نہ صرف کھو دیتا ہے بلکہ اپنے آپ کو دو نمبر ثابت کر دیتا ہے۔
از قلم
پاکیزہ

28/06/2023

اس بات پہ ایمان ہے کہ اگر تیرے در پہ مانگنے بیٹھ جاؤں تو ممکن ہی نہیں کہ خالی لوٹ آؤں ۔ لیکن میرے پیارے اللّٰہ! پاکیزہ نے اب دعا میں کبھی وہ شخص یا چیز نہیں مانگی جو آپ اس کے لئے پسند نہیں کرتے ۔ کیونکہ تیری محبت کے سامنے باقی سب فانی ہے۔ میرے پیارے اللّٰہ میری ہر تحریر تجھ سے شروع اور تجھ پہ ختم ہوتی ہے ۔ میرے پیارے اللّٰہ مجھے آنکھوں کا خشک ہو جانا بڑا تکلیف دیتا ہے ۔ تہجّد میں سوچتی ہوں کہ بہت کچھ مانگوں گی لیکن جب دعا کی باری آتی ہے تو بس تجھ سے تیری رضا کے علاؤہ میرے پاس کچھ نہیں بچتا ۔ میرے پیارے اللّٰہ! میں چاہتی ہوں کہ میں تیرا نام لکھوں تو دل دھڑکے ۔۔۔۔۔انکھوں سے ندیاں بہیں۔۔۔۔۔۔دعا کے لیے اٹھتے ہاتھ کانپیں۔۔۔۔۔۔ بس بات یہاں تک پہنچ جائے ۔۔۔۔۔۔بس بات یہاں تک پہنچ جائے ۔۔۔۔۔۔
اذقلم
#پاکیزہ زمان

20/06/2023

جب دل بھر جاتا ہے تو میں اپنے قلم کو وہ درد منتقل کرنے کی کوشش کرتی ہوں ☺️۔ اتنا پائیدار تو نہیں میرا قلم لیکن کچھ خقیقتیں لکھ کر سکون ضرور مل جاتا ہے 😚 ۔ کبھی کبھار تو ایسا لگتا ہے کہ یہ دنیا الگ ہے یا میں کسی اور دنیا سے ہوں 😀۔ بچپن میں بابا سے سنا تھا کہ واپڈا میں کرپشن ہے کیونکہ میرے بابا کا یہ پروفیشن تھا ۔ بڑی ہوئ تو آرمی کا بہت شوق تھا پتہ چلا کہ آرمی میں پہلا سوال سفارش کا ہوتا ہے 🥺۔ میرے استاد کہا کرتے تھے کہ ڈاکٹر بہت لالچی ہیں ان کا دل کرتا ہے کہ مریض بار بار اے۔☺️ میرے ملک کا انجینئر سڑکیں وہ بناتا ہے جس کا material اچھا نہ ہو۔ تا کہ باقی پیسہ اپنی جیب میں ڈال سکے ☺️۔ سب کو ایک طرف کر کے ایک پروفیشن نظر آیا وہ تھا معلم ۔ سوچا کہ آقا دو جہاں محمد مصطفیٰ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کو بھی اللہ ربّ العزّت نے معلم بنا کر بھیجا تھا اور تاریخ گواہ ہے ان کے جیسا عظیم لیڈر اور معلم دنیا میں کوئی نہیں نہ ہو گا ❤️۔ خیر انبیاء کرام کا بھی شعبہ معلم تھا ۔ تو اس شعبے سے بہت الفت ہونے لگی اور ہے بھی ❤️۔ جب میں کلاس میں جاتی ہوں اور امت محمدیہ کے اتنے سارے بچے ہماری نگرانی میں ہوتے ہیں تو پہلے اللّٰہ رب العزت سے دعا ہوتی ہے کہ میری زبان سے وہ لفظ اور جملہ نکلے جو ان کو معمول کے لیکچر کے علاوہ تیری ذاتِ مبارکہ سے جوڑ دے ☺️ ۔ اور یہ میرے ہر لیکچر کا مقصد ہوتا ہے۔ لیکن جب میں وہاں پہ موجود ما فیا دیکھتی ہوں جن کا مقصد محض پیسہ ہے چاہے اس میں کسی کا نقصان ہی کیوں نہ ہو۔ ہم جانتے ہیں کہ سامنے والا ہم سے کس چیز کی توقع کر رہا ہے پھر بھی ہم باتوں کو گول گھما کر اپنا فائیدہ دیکھتے ہیں اور سامنے والے کو بیوقوف بناتے ہیں ۔ اعلیٰ عہدوں پہ موجود لوگوں کی ایک ٹیکنیک یہ بھی ہے کہ وہ اپنے سے نیچے لوگوں کو ایک دوسرے سے بہتر بننے کی دوڈ میں لگا دیتے ہیں ۔ اتنے بہترین qualified لوگوں کو اس سسٹم کا حصہ بنا دیا ہے خیر اس میں ان سب کا بھی قصور نہیں ورنہ سوال ان کی loyality پہ اٹھایا جاتا ہے۔۔۔۔۔اللہ ربّ العزت نے ایسا دل دیا ہے کہ جو بیزار ہو جاتا ہے یہ سب دیکھ کر ایسا لگتا ہے کہ بہت وزن ہے دل 💓 پہ ۔۔۔۔۔ ایسا نہیں کہ ہم بلکل اچھے ہیں یا کبھی ہم سے گناہ نہیں ہوا لیکن کوشش اور دعا ہوتی ہے کہ اللّٰہ رب العزت کبھی وہ غلطی اور گناہ نہ ہو جس سے کسی کی ذات کو دھوکہ ملے ۔۔۔۔۔ اللّٰہ رب العزت ہمیں ان لوگوں میں شامل کرے جن کے ساتھ تو cheat ہو جائے لیکن cheat کرنے والوں میں نہیں ۔۔۔۔۔
اللّٰہ نگہبان
اذقلم
پاکیزہ زمان

02/06/2023

موت ایک حقیقت ہے!

دو منٹ نکال کر غورسے پڑھین موت کیا ہے۔
سب سے پہلے میری موت پر مجھ سے جو چھین لیا جائے گا وہ میرا نام ہوگا! !!
اس لئے جب میں مرجاوں گا تو لوگ کہیں گے کہ" لاش کہاں" ہے؟
اور مجھے میرے نام سے نہیں پکاریں گے ۔۔!
اور جب نماز جنازہ پڑھانا ہو تو کہیں گے "جنازہ لےآؤ "!!!
میرانام نہیں لینگے ۔۔!
اور جب میرے دفنانے کا وقت آجائےگا تو کہیں گے "میت کو قریب کرو" !!! میرانام بھی یاد نہیں کریں گے ۔۔۔!
اس وقت نہ میرا نسب اور نہ ہی قبیلہ میرے کام آئے گا اور نہ ہی میرا منصب اور شہرت۔۔۔
کتنی فانی اور دھوکہ کی ہے یہ دنیا جسکی طرف ہم لپکتے ہیں۔۔
پس اے زندہ انسان ۔۔۔ خوب جان لے کہ تجھ پر غم و افسوس تین طرح کا ہوتا ہے :

1۔ جو لوگ تجھے سرسری طور پر جانتے ہیں وہ مسکین کہکر غم کا اظہار کریں گے ۔
2۔ تیرے دوست چند گھنٹے یا چند روز تیرا غم کریں گے اور پھر اپنی اپنی باتوں اور ہنسی مذاق میں مشغول ہو جائیں گے ۔
3۔ زیادہ سے زیادہ گہرا غم گھر میں ہوگا وہ تیرے اہل وعیال کو ہوگا جو کہ ہفتہ، دو ہفتے یا دو مہینے اور زیادہ سے زیادہ ایک سال تک ہوگا ۔
اور اس کے بعد وہ تجھے یادوں کے پنوں میں رکھ دیں گے! !!

لوگوں کے درمیان تیرا قصہ ختم ہو جاۓ گا
اور تیرا حقیقی قصہ شروع ہو جاۓ گا۔ وہ ہے آخرت کا ۔

تجھ سے چھین گیا تیرا ۔۔۔
1۔ جمال ۔۔۔
2۔ مال۔۔
3۔ صحت۔۔
4۔ اولاد ۔۔
5۔ جدا ہوگئےتجھ سے مکان و محلات۔
6۔ بیوی ۔۔۔
7۔ غرض ساری دنیا ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔

اور کچھ باقی نہ رہا تیرے ساتھ سوائے تیرے اعمال کے۔
اور حقیقی زندگی کا آغاز ہوا ۔

اب سوال یہاں یہ ہیکہ :

تو نے اپنی قبر اور آخرت کے لئے اب سے کیا تیاری کی ہے ؟

اللہ پاک سے ہے کہ اللہ پاک ہم سب کیےجتنے رشتے دار اس دنیا فانی سے کوچ کر گئے ہیں ان کی قبروں کو جنت کے باغوں میں سے ایک باغ بنائے اور ہم سب کو قبر حشر کی تیاری کے لیے نیک صالح اعمال کرنے کی توفیق عطا فرمائے.
آمین ثم آمین یارب العالمین.

02/06/2023

آقا و مولا حضرت سیدنا امام حسن المجتبی علیہ السلام
خلافت کے زمانے میں جب امام حسن علیہ السلام نے مسلمانوں کے درمیان اختلافات کی صلح کروائی تو ایران کے بادشاہوں اور وزیروں نے حضرت امام حسن علیہ السلام کو دعوت پر بلایا ۔ آپ علیہ السلام نے ان کی دعوت قبول کرلی ۔ لہٰذا ایران میں اعلان کردیا گیا نواسہ رسول حضرت امام حسن علیہ السلام تشریف لارہے ہیں ۔ ایران میں حضرت مولا علی علیہ السلام کے عاشق بھی بہت زیادہ تھے جب انہوں نے سنا کہ ہمارے مولا کا بیٹا فرزند امام حسن علیہ السلام تشریف لارہے ہیں تو وہ سب دوڑے کوئی کہتا میں یہ تحفہ پیش کروگا کوئی کہتا میں سب سے زیادہ قیمتی تحائف پیش کروگا ۔

ان سب میں ایک موچی تھا بہت ہی زیادہ غریب تھا موچی آسمان کی طرف دیکھ کر رونے لگا ۔ لوگوں نے پوچھا ارے بھائی سب خوشی منارہے ہیں تم کیوں رورہے ہو ۔ موچی کہنے لگا میں بہت زیادہ غریب ہوں یہ سب امیر ہیں میرے پاس کچھ نہیں جو میں اپنے مولا علی علیہ السلام کے فرزند کو تحفہ پیش کرسکو ۔ موچی سارا دن روتا رہا ادھر سب لوگ جشنِ آمد حسن علیہ السلام منارہے ہیں ۔ جب امام حسن علیہ السلام تشریف لے آئے ۔تو سارے لوگ وہاں چلے گئے جہاں پر آپ علیہ السلام تشریف فرما تھے ۔ موچی شرمندگی کی وجہ سے روتے ہوئے کبھی آسمان کی طرف دیکھتا کبھی اس طرف دیکھتا جہاں امام علیہ السلام تشریف فرما تھے بغیر دیکھے امام علیہ السلام کو گھر آگیا ۔ زور زور سے رونے لگا ۔ اس کی بیوی نے پوچھا کیا ہوا ۔جب موچی نے ساری بات بتائی تو وہ پہلے بہت خوش ہوئی کہ میرے مولا علی کا فرزند آیا ہے اور پھر وہ بھی رونے لگ گئی ۔ لہٰذا بیوی نے اپنے خاوند سے کہا تم ایک موچی ہو ۔ تم امام حسن علیہ السلام کےلیے ایک نعلین مبارک بناو اور وہ تحفہ پیش کرنا ۔ لہذا موچی اسی وقت نعلین مبارک بنانے لگ گیا ساری رات لگا کر نعلین مبارک بنالی ۔
صبح سویرے جب نعلین مبارک بناکر آپ علیہ السلام کو تحفہ دینے کےلیے نکلا تو بیوی نے پیچھے سے آواز دی رکو ۔ موچی رک گیا ۔ بیوی نے موچی سے حضرت امام حسن علیہ السلام کو جو نعلین مبارک تحفے میں دینے تھے موچی سے لےکر پہلے ان کو چوما اور پھر رونے لگی اور نعلین مبارک پکڑ کر مدینہ کی طرف منہ کرکے کہنے لگی یا سیدہ زھرا سلام اللہ علیہا ہم بہت غریب ہیں ہمارے پاس اس کے سوا کچھ نہیں یہ کہہ کر بیوی نے موچی سے کہا ان نعلین مبارک کو ایسے عام پکڑ کے نا لے جانا ۔ موچی کی بیوی نے اپنا ڈوپٹہ اتارا اور نعلین مبارک اس میں لپیٹ کر کہنے لگی موچی سے ان نعلین مبارک کو اپنے سینے سے لگا کر لے جاو.

موچی نے نعلین مبارک اٹھا کر سینے سے لگائے ہوئے مجمع میں پہنچ گیا ۔ سب لوگ امام حسن علیہ السلام کو دیکھ رہے تھے ایران کے بادشاہ نے 5 ہزار سکے آپ علیہ السلام کو تحفہ میں دیئے ۔ آپ علیہ السلام کے سامنے بیشمار تحفہ پڑے تھے ۔ موچی بھی اس مجمع میں شام ہوکر تحفے دینے کےلیے بڑھا مگر لوگوں نے موچی کی غریبی والی حالت دیکھ کر پیچھے جہاں جوتے پڑے تھے دھیکیل دیا ۔ موچی وہاں بیٹھ گیا جہاں جوتے پڑے تھے آگے مجمع میں امیر ترین لوگ تھے ۔ موچی نعلین مبارک کو چومنے لگا کبھی رو کر آسمان کی طرف دیکھتا تو کبھی امام علیہ السلام کے چہرے انور کؤ دیکھتا ۔ ادھر غم زدوں کے حال جاننے والوں کو خبر ہوگئی ۔ امام حسن علیہ السلام نے اچانک مجمع میں دیکھنے لگ گئے ۔ آپ نے اٹھ کر فرمایا اے فلاں شخص ادھر آو ۔ موچی نے سنا دوڑتا ہوا امام حسن علیہ السلام کے قدموں میں گر پڑا عرض کرنے لگا حضور میں بہت غریب ہوں یہ سب امیر لوگ ہیں میرے پاس اس نعلین مبارک کے سوا آپ کےلیے کچھ نہیں امام حسن علیہ السلام رونے لگے اور فرمایا ہمارے آل بیت المقدس میں سیرت نہیں بلکہ نیت دیکھی جاتی ہے موچی نے دیکھا کہ آپ علیہ السلام کی نعلین مبارک سے اس کی بنائی ہوئی نعلین مبارک بہت چھوٹی ہے موچی رو کر عرض کرنے لگا اے نواسہ رسول ﷺ میری بنائی ہوئی نعلین مبارک بہت چھوٹی ہے اور آپ نے جو پہن رکھی ہے وہ بہت بڑی ہے اگر آپ میری نعلین مبارک استعمال کرے گئے تو آپ کے پاوں پر زخم ہوجائے گئے ۔امام حسن علیہ السلام نے فرمایا تمہارا دل دیکھوں یا اپنے زخم دیکھو ۔۔سبحان اللہ آپ علیہ السلام کی لجپالی پر میں صدقے جاو ۔ جب موچی نعلین مبارک دے کر جانے لگا تو امام حسن علیہ السلام نے آواز دے کر فرمایا رک جاو یہ پانچ ہزار سکے لے جاو ۔ موچی کہنے لگا حضور میری ساری زندگی کےلیے 2 سکے ہی کافی ہیں یہ تو پانچ ہزار ہیں لہذا امام کے دوبارہ کہنے پر موچی نے پانچ ہزار سکے اٹھائے اور خوشی سے چلنے لگا ۔ پھر امام حسن علیہ السلام نے فرمایا اے شخص رک جاو موچی پھر واپس پلٹا امام حسن علیہ السلام نے فرمایا وہ سکے مجھے بادشاہ نے تحفے میں دیئے تھے اور میں نے تجھے دے دیئے میں نے ابھی تک تمہیں کچھ نہیں دیا ۔ امام حسن علیہ السلام نے فرمایا جاو تمہیں جنت کی بشارت دیتا ہوں. موچی خوشی سے اور زیادہ جھومنے لگا سارا مجمع حیران ہوگیا ۔ موچی جب واپس جانے لگا تو امام حسن علیہ السلام نے تیسری بار پھر فرمایا اے بزرگ روک جاؤ موچی واپس پلٹا تو امام حسن علیہ السلام نے فرمایا ہمارے اہلِ بیت کی چاہنے والی بیوی کو بھی بتا دینا وہ بھی جنتی ہے ۔۔ اب تو موچی کی خوشی کی انتہا نا رہی ۔پھر جب گھر کے لئے واپس چلنے لگا چوتھی بار پھر امام نے فرمایا ادھر آو اور سارے مجمع کے سامنے امام حسن علیہ السلام نے اپنے عاشق موچی کو سینے سے لگایا ۔ ادھر سارے مجمع والے جو پہلے اس موچی کو پیچھے دھکیل رہے تھے موچی اس قسمت پر عش عش کرنے لگے ۔۔۔۔۔۔
اللہ اللہ ❤️❤️😭😭😭😭

اللہ کی قسم کائنات میں مولا حسن علیہ السلام جتنا سخی کوئی نہیں ہے ❤️🙏

19/05/2023

عمر بن عبدالعزیز نے اپنے ایک قاصد کو شاہ روم کے پاس کسی کام سے بھیجا قاصد پیغام پہنچانے کے بعد محل سے نکلا اور ٹہلنے لگا ٹہلتے ٹہلتے اسکو ایک جگہ سے تلاوت کلام پاک سنائی دی آواز کی جانب گیا تو کیا منظر دیکھا کہ ایک نابینا شخص چکی پیس رہا ہے اور ساتھ میں تلاوت بھی کر رہا ہے آگے بڑھ کے سلام کیا جواب نہیں ملا دوبارہ سلام کیا جواب نہیں ملا تیسری بار سلام کیا نابینا شخص نے سر اٹھا کر کہا شاہ روم کے دربار میں سلام کیسے قاصد نے کہا پہلے یہ بتا کہ شاہ روم کے دربار میں خدا کا کلام کیسے،اس نے بتایا کہ کہ وہ یہاں کا مسلمان ہے بادشاہ نے مجبور کیا کہ اسلام چھوڑ دے انکار پے سزا کے طور پے دونوں آنکھیں نکال دی گئ اور چکی پیسنے پے لگا دیا
معاملات طے کرنے کے بعد قاصد واپس آیا تو عمر بن عبد العزیز کے سامنے اس قیدی کی بات بھی رکھ دی ،
"کیا لوگ تھے وہ بھی "عمر بن عبد العزیز نے کوئی مذمتی بیان جاری نہیں کیا ،پانچ یا دس منٹ کی خاموشی اختیار کرنے کا حکم نہیں دیا اجلاس نہیں بلایا،،بلکہ کاغذ قلم لیا اور یہ تحریر شاہ روم کولکھ بھیجی،، *اے شاہ روم میں نے سنا ہےکہ تیرے پاس ایک مسلمان قید ہے اور تو اس پے ظلم روا رکھتا ہے میری یہ تحریر تیرے پاس پہنچنے کے بعد تو نے اس قیدی کی رہائی کا پروانہ جاری نہیں کیا تو پھر ایسے لشکر جرار کا سامنا کرنا جسکا پہلا فرد تیرے محل میں ہوگا اور آخری میرے دربار میں*،،،،،سوال یہ ہےکہ ایک اسلامی مملکت کے سربراہ نےاتنا بڑا قدم کیوں اٹھایا ایک شخص کے لئے جو اسکےملک کا باشندہ بھی نہیں اپنی سالمیت خطرے میں ڈال دی پتہ ہے کیوں؟ کیونکہ انہیں معلوم تھا کہ اگر ایک مسلمان کی حرمت خانہ کعبہ سے بڑھ کر ہےتو جغرافائی حدود سے بھی بڑھکر ہے کیونکہ انہیں معلوم تھا کہ نبی علیہ الصلاۃ والسلام نے صرف ایک صحابی حضرت عثمان بن عفان رضی اللہ تعالیٰ عنہ کے لئے پندرہ سو صحابہ کرام سے موت پہ بیعت لی تھی،،انہیں معلوم تھا کہ ہادی عالم یہ فرما گئے ہے کہ تمام مسلمان ایک جسم کی مانند ہے،ایک حصے پے تکلیف ہوتی ہے تو تمام جسم تڑپتا ہے انہیں معلوم تھا کہ نحن الامہ ہم ایک امت ہے ،،اور جب سے یہ نظریہ ہم سے اٹھا ہے ذلیل و رسواء ہورہے ہے،آج باوجود اسکے کی دنیا میں ڈیڑھ ارب مسلمان موجود ہے لیکن شامی بچی آخری ہچکیاں لیتی ہوئی کہتی ہے میں رب کو جا کر سب کچھ بتاؤنگی،عراق جنگ میں ایک لڑکی جان بچانے کے لئے بھاگتے ہوئے صحافی سے فریاد کرتی ہے کہ انکل میری تصویر نہیں لینا میں بے حجاب ہوں،ایک فلسطینی بچہ بھوک کی شدت سے نڈھال فریاد کر رہا ہے کہ اے اللہ مجھے جنت بیھج دے مجھے بہت بھوک لگی ہے صرف چند لاکھ آبادی کا حامل ایک ملعون ملک آپ صلی اللہ علیہ وسلم کی شان میں گستاخی کرتا ہے یہ سب کیوں ہورہا ہے کیونکہ انہیں معلوم ہے ہم میں سے کوئی ہاکستانی ہے کوئی ہندوستانی کوئی سعودی اماراتی اور کوئی ملائیشن ،،،مسلمان ہوتے تو ایک دوسرے کے لئے تڑپ ہوتی ،،،
اور مقابلے میں کفر نیٹوں کی صورت متحد ہے
اور حد تو یہ ہے کہ اسلامی مملکت کے سر براہان کہتے ہے کہ ہم نیٹو کے فرنٹ لائن اتحادی ہیں صرف عشق کی نہیں ذلت کی بھی انتہاء نہیں ہوتی،،،،
#فلسطين #غزه

Address

Gujrat

Alerts

Be the first to know and let us send you an email when Try for Islam posts news and promotions. Your email address will not be used for any other purpose, and you can unsubscribe at any time.

Share