26/04/2025
احبابِ گرامی!
آج کل گرمیوں کی شدت اپنی انتہا پر ہے۔
دھوپ، پسینہ، تھکن، غربت عروج پہ ھے ...
ایسے میں اگر کوئی مزدور، مسافر یا راہ چلتا شخص مسجد کے کسی کونے میں تھوڑا سا لیٹ جائے، تھکن اتار لے، تو کیا مسجد کی بے حرمتی ہو جاتی ہے؟
نہیں صاحب!
یہ بے حرمتی نہیں — یہی تو مسجد کا اصل حسن ہے،مسجد تو سوشل ویلفٸیر سنٹر ہوتی ہے!
مسجد اگر اللہ کا گھر ہے،
تو پھر اللہ کے بندے کو وہاں سے روکنے والے ہم کون ہوتے ہیں؟
رب کی رحمت صرف نمازی پر نہیں،
بلکہ اس تھکے ہارے، بھوکے پیاسے، سفر کی صعوبتوں سے گزرے ہوئے مسافر پر بھی نازل ہوتی ہے
جو بس چند لمحے خدا کے گھر میں آرام کے لیے بیٹھ جائے۔
یاد رکھیے!
اسلام میں مسجد صرف سجدے کی جگہ نہیں تھی —
بلکہ ایک جامع مرکز تھی، جہاں:
- تعلیم ہوتی تھی
- مشورے اور فیصلے ہوتے تھے
- مہمان ٹھہرتے تھے
- مسافر قیام کرتے تھے
- بھوکے کھانا پاتے تھے
- زخمی و بیمار پناہ لیتے تھے
یعنی مسجد نبی ﷺ کے دور میں سوشل ویلفیئر کا مکمل ادارہ تھی۔
آج اگر کوئی تھکا ہارا مزدور، مسافر، یا غریب مسجد میں چند لمحے آرام کر لے، تو ہمیں اعتراض کیوں؟
کیا مسجد اب صرف قالین، کولر اور اے سی کی زینت بن گئی ہے؟
کیا مسجد کے دروازے غریبوں اور مسافروں کے لیے بند ہو گئے ہیں؟
نہیں دوستو!
مسجد اللہ کا گھر ہے، اور اللہ کے گھر سے کسی بندے کو روکنا، اللہ سے جنگ کے مترادف ہے۔
چنانچہ!
مسجد کو صرف عبادت گاہ نہ سمجھیں
اسے دوبارہ "سوشل سنٹر" بناٸیں۔
یہی سنت ہے،
یہی اصل اسلام ہے۔
"مسجد سب کے لیے ہے!"
👈کرنے کا کام:
تمام مساجد، بالخصوص جو ہسپتالوں، بازاروں، سڑکوں یا عوامی مقامات کے قریب ہیں،
وہاں کچھ جگہ مخصوص کر دی جائے، جہاں مسافر یا تھکے ماندے لوگ
ظہر سے عصر کے درمیان #اعتکاف کی نیت سے کچھ دیر آرام کر سکیں۔