25/05/2026
آج ہم منیٰ کی طرف روانہ ہوں گے
یہ جملہ پڑھا
اور دل جیسے ایک عجیب کیفیت میں ڈوبتا اور ابھرتا رہا…
آنکھوں کے سامنے ایک منظر ہے…
رب کے مہمان…
اپنے رب کو راضی کرنے کے سفر پر نکلے ہوئے…
وہ سفر جس کے لیے برسوں دعائیں مانگی گئیں،
آنسو بہائے گئے،
اور دلوں نے تڑپ کر انتظار کیا…
منیٰ کی روشن راتیں…
لبیک اللہم لبیک کی صدائیں…
قطار در قطار بسیں…
اپنی باری کے انتظار میں کھڑے سفید لباسوں میں لپٹے حاجی…
ہر چہرہ جیسے اک دعا…
ہر دل جیسے اپنے رب کی طرف پلٹتا ہوا…
یہ حاجی کل
منیٰ میں قیام کے بعد
عرفات کی طرف روانہ ہوں گے…
وہ میدان…
جہاں کبھی روحوں نے اپنے رب سے عہد کیا تھا…
“أَلَسْتُ بِرَبِّكُمْ؟”
کیا میں تمہارا رب نہیں ہوں؟
اور ہم سب نے کہا تھا:
“بَلَىٰ”
کیوں نہیں… آپ ہی ہمارے رب ہیں…
اور عرفات کا دن
اسی عہد کی تجدید کا دن ہے…
تجدیدِ محبت…
تجدیدِ بندگی…
تجدیدِ وفا…
اے ہمارے رب…
ہم وہاں نہیں ہیں…
لیکن ہمارے دل
منیٰ کی وادیوں میں ہیں…
عرفات کیے میدان میں ہیں…
مزدلفہ کی خاموش رات میں ہیں…
ہم بھی آج
اپنے دلوں کو تیرے سامنے جھکاتے ہیں…
اپنے عہد کی تجدید کرتے ہیں…
اپنی محبت کی تجدید کرتے ہیں…
اپنی بندگی کی تجدید کرتے ہیں…
قبول کیجیے اے رب…
ہمیں بھی اپنے مہمانوں میں شامل کر لیجیے…
ہمارے نام بھی معاف ہونے والوں میں لکھ دیجیے…
ہم مختلف ملکوں اور شہروں میں بیٹھے لوگ دل سے کہتے ہیں
لبیک اللہم لبیک…
لبیک لا شریک لک لبیک…
إن الحمد والنعمة لک والملک…
لا شریک لک…
مناجات