Islam Explore

Islam Explore Book

25/05/2026
آج ہم منیٰ کی طرف روانہ ہوں گےیہ جملہ پڑھااور دل جیسے ایک عجیب کیفیت میں ڈوبتا اور ابھرتا رہا…آنکھوں کے سامنے ایک منظر ہ...
25/05/2026

آج ہم منیٰ کی طرف روانہ ہوں گے

یہ جملہ پڑھا
اور دل جیسے ایک عجیب کیفیت میں ڈوبتا اور ابھرتا رہا…

آنکھوں کے سامنے ایک منظر ہے…
رب کے مہمان…
اپنے رب کو راضی کرنے کے سفر پر نکلے ہوئے…
وہ سفر جس کے لیے برسوں دعائیں مانگی گئیں،
آنسو بہائے گئے،
اور دلوں نے تڑپ کر انتظار کیا…

منیٰ کی روشن راتیں…
لبیک اللہم لبیک کی صدائیں…
قطار در قطار بسیں…
اپنی باری کے انتظار میں کھڑے سفید لباسوں میں لپٹے حاجی…
ہر چہرہ جیسے اک دعا…
ہر دل جیسے اپنے رب کی طرف پلٹتا ہوا…

یہ حاجی کل
منیٰ میں قیام کے بعد
عرفات کی طرف روانہ ہوں گے…
وہ میدان…
جہاں کبھی روحوں نے اپنے رب سے عہد کیا تھا…

“أَلَسْتُ بِرَبِّكُمْ؟”
کیا میں تمہارا رب نہیں ہوں؟

اور ہم سب نے کہا تھا:
“بَلَىٰ”
کیوں نہیں… آپ ہی ہمارے رب ہیں…

اور عرفات کا دن
اسی عہد کی تجدید کا دن ہے…
تجدیدِ محبت…
تجدیدِ بندگی…
تجدیدِ وفا…

اے ہمارے رب…
ہم وہاں نہیں ہیں…
لیکن ہمارے دل
منیٰ کی وادیوں میں ہیں…
عرفات کیے میدان میں ہیں…
مزدلفہ کی خاموش رات میں ہیں…

ہم بھی آج
اپنے دلوں کو تیرے سامنے جھکاتے ہیں…
اپنے عہد کی تجدید کرتے ہیں…
اپنی محبت کی تجدید کرتے ہیں…
اپنی بندگی کی تجدید کرتے ہیں…

قبول کیجیے اے رب…
ہمیں بھی اپنے مہمانوں میں شامل کر لیجیے…
ہمارے نام بھی معاف ہونے والوں میں لکھ دیجیے…
ہم مختلف ملکوں اور شہروں میں بیٹھے لوگ دل سے کہتے ہیں

لبیک اللہم لبیک…
لبیک لا شریک لک لبیک…
إن الحمد والنعمة لک والملک…
لا شریک لک…
مناجات

اب یہ دیوار حاجیوں کے چمٹنے اور بلک بلک کر اپنے خالق ورازق سے مانگنے کی کا مرجع و ماؤیٰ رہے گی تقریبا چالیس دن یہاں دنیا...
19/04/2026

اب یہ دیوار حاجیوں کے چمٹنے اور بلک بلک کر اپنے خالق ورازق سے مانگنے کی کا مرجع و ماؤیٰ رہے گی تقریبا چالیس دن یہاں دنیا پھر سے لاکھوں لوگ آکر اپنی کھربوں گناہوں کو بخشوائیں گے اور یوں لوٹیں گے کہ گویا اسی دن جنے گئے ہوں۔ اور جنت کا پروانہ ہاتھوں ہاتھ لیے ہوں۔

اللہ تعالیٰ سب کی حاضری قبول فرمائیں اور اس مرتبہ کے حج کو بھی محفوظ و مامون بنائیں۔ اور تمام انتظامات بخوبی منظم فرمائیں۔ بے شک اللہ ہر چیز پر مکمل قادر ہے۔

�🤲🕌🌙✨💫🕊️📿❤️‍🩹🌟🙏🛐 #حج

جب مکہ فتح ہوا تو نبی ﷺ نے قریش کی پرانی کسوہ کو برقرار رکھا، لیکن ایک عورت کعبہ کو بخور سے خوشبو دے رہی تھی، جس سے غلطی...
17/04/2026

جب مکہ فتح ہوا تو نبی ﷺ نے قریش کی پرانی کسوہ کو برقرار رکھا، لیکن ایک عورت کعبہ کو بخور سے خوشبو دے رہی تھی، جس سے غلطی سے کسوہ جل گئی!
اس وقت نبی ﷺ نے کعبہ کو “حبرات” یمن کی بنی ہوئی دھاری دار چادروں سے ڈھانپا، جو سرخ اور سفید رنگ کی ہوتی تھیں۔ اس کے بعد خلفائے راشدین نے اسے مصری “قباطی” کپڑے سے ڈھانپا، جو ہلکا اور سفید رنگ کا ہوتا تھا۔ صدیوں تک کعبہ کی کسوہ سفید، پیلے اور سبز رنگوں میں بدلتی رہی، یہاں تک کہ تقریباً 800 سال پہلے اس کا رنگ سیاہ ہو کر مستقل ہو گیا۔
جو تصاویر ہم دیکھ رہے ہیں وہ اصل کسوہ کی تبدیلی نہیں بلکہ “تحفظ اور مرمت” کا مرحلہ ہے۔
اس وقت، ایک دلکش منظر میں، کعبہ کو عارضی سفید غلاف پہنایا گیا ہے تاکہ اس کی ساخت کی حفاظت کی جا سکے اور معمول کی مرمت کے کام آسان ہوں (اپریل 2026)، تاکہ آئندہ حج کے موسم میں اللہ کے مہمانوں کا بہتر استقبال کیا جا سکے۔
یہ منظر کعبہ کو سفید روپ میں دیکھ کر ہمیں آغاز کی پاکیزگی یاد دلاتا ہے، جہاں تاریخ کی خوشبو اور جدید دور کی ترقی ایک ساتھ ملتی ہے۔

مجھے نہیں معلوم کہ یہ پوسٹ کس کس تک پہنچتی ہے لیکن اس میں آپ سب کے لیے خاص پیغام ہے ، اسے اپنے لیے ہی سمجھیے گا۔قرآن مجی...
18/03/2026

مجھے نہیں معلوم کہ یہ پوسٹ کس کس تک پہنچتی ہے لیکن اس میں آپ سب کے لیے خاص پیغام ہے ، اسے اپنے لیے ہی سمجھیے گا۔

قرآن مجید کی سورہ مبارکہ کا آخری حصہ انتہائی اہمیت کا حامل ہوتا ہے، اللہ تعالیٰ کے کلام کا ہر لفظ حکمت کے بے شمار ہیروں سے مزین ہوتا ہے لیکن جو قرآن کریم کے کچھ حصے ایسے ہیں جو خوبصورت اور بڑے بڑے پھولوں جیسے ہیں جیسے آج کا حصہ سورہ طہ کا آخری حصہ مجھے بہت محبت ہے اس سے۔

i m just in love.

آپ پریشان ہیں؟

کسی بھی شے کو لے کر اداس ہیں؟

دوسروں کے وہ ہیں جو آپ کے پاس نہیں ہے؟

کیا کیا جائے؟ تو پڑھیے۔

رحمت والے رب نے فرمایا ہے کہ

فَاصْبِـرْ عَلٰى مَا يَقُوْلُوْنَ وَسَبِّـحْ بِحَـمْدِ رَبِّكَ قَبْلَ طُلُوْعِ الشَّمْسِ وَقَبْلَ غُرُوْبِـهَا ۖ وَمِنْ اٰنَـآىِٔ اللَّيْلِ فَسَبِّـحْ وَاَطْرَافَ النَّـهَارِ لَعَلَّكَ تَـرْضٰى (130)

پس صبر کر اس پر جو کہتے ہیں اور سورج کے نکلنے اور ڈوبنے سے پہلے اپنے رب کی حمد کے ساتھ تسبیح بیان کر، اور رات کی کچھ گھڑیوں میں اور دن کے اول اور آخر میں تسبیح کر تاکہ تجھے خوشی حاصل ہو۔

آپ کو جو بھی اگر کوئی ایسا کہتا ہے جس سے آپ کا دل غمگیں ہوتا ہے، کچھ بھی ایسا ہے جو اداس کر دینے والا ہے تو نماز پڑھیں اور تسبیح پڑھا کریں کثرت سے، صبح و شام لازمی۔

نماز کی پابندی اور ذکر یہ دونوں دل کی شفاء کے لیے ہے ، روحانی اور تاثیر والا علاج کس سے شفاملنی ہی ملتی ہے۔ دل نے راضی ہو جانا ہے اور اس کے ساتھ کچھ اور بھی کرنے کا کہا گیا ہے جو بہت پریکٹکل ہے۔

ہمارے دین کی ایک بہت خوب صورت بات یہ بھی ہے کہ یہ ہمیں یہ نہیں کہتا کہ ہم اکیلے جا کر غار میں بیٹھ جائیں بلکہ یہ ہمیں اپنی مشکل سچویشن کو ہینڈل کرنا سکھاتا ہے اور اللہ تعالیٰ کے کلام سے تو ایسے دل نشین پیغامات دیے جاتے ہیں کہ ایسے محسوس ہوتا ہے کہ جیسے دل کو اس کی ہی ضرورت ہے۔ یہ پڑھیے۔

وَلَا تَمُدَّنَّ عَيْنَيْكَ اِلٰى مَا مَتَّعْنَا بِهٓ ٖ اَزْوَاجًا مِّنْـهُـمْ زَهْرَةَ الْحَيَاةِ الـدُّنْيَا لِنَفْتِنَـهُـمْ فِيْهِ ۚ وَرِزْقُ رَبِّكَ خَيْـرٌ وَّاَبْقٰى (131)

اور تو اپنی نظر ان چیزوں کی طرف نہ دوڑا جو ہم نے مختلف قسم کے لوگوں کو دنیاوی زندگی کی رونق کے سامان دے رکھے ہیں تاکہ ہم انہیں اس میں آزمائیں، اور تیرے رب کا رزق بہتر اور دیرپا ہے۔

سبحان اللہ ! یعنی دوسروں کی نعمتیں دیکھ کر ، دوسروں کی شادی ہونا دیکھ کر ، اولاد، باہر کے ٹرپ دیکھ کر ، فالورز، دولت ہر وہ چیز جسے دیکھ کر آپ کو ذرا کچھ ایسا محسوس ہوتا ہو جو کہ اداس کر دینے والا ہو تو حکیم رب آپ کو جی ہاں! اس وقت آپ کو فرمارہا ہے کہ ان تمام چیزوں کی طرف مت دیکھیے

یہ جو چیزوں کا ملنا اور نہ ملنا ہے یہ تو آزمائش ہوا کرتی ہے۔

جو رزق اس وقت اللہ تعالیٰ نے جائز اور حلال طریقے سے تمہارے مقدر میں لکھ رکھا ہے اس وقت تمہارے لیے وہی بہترین ہے۔

جو فیصلہ رب کا ہو وہی تمہارے لیے خیر ہے، بہترین ہے ، جو آگے ملنے والا ہے وہی باقی رہنے والا ہے۔

کیا آپ کو کچھ اور بھی سننے کی ضرورت ہے ؟

اور اس کے ساتھ یہ کرو۔

کچھ پریشانیاں انفرادی نہیں اجتماعی ہوتی ہے تو ان کے لیے اوپر والے پیغامات پر عمل کر کے یہ کیجیے کہ فرمایا گیا

وَاْمُرْ اَهْلَكَ بِالصَّلَاةِ وَاصْطَبِـرْ عَلَيْـهَا ۖ

اور اپنے گھر والوں کو نماز کا حکم کر اور خود بھی اس پر قائم رہ۔

خود بھی نماز پڑھیے ، گھر والوں کو بھی نماز کی تلقین کیجیے اور اس پر استقامت اختیار کیجیے۔ سب خیر ہو جائے گی۔

اللہ تعالی کی حکمتیں ہی خوبصورت ہے، سکون دینے والی ہیں۔ ان پر راضی رہیے اور مسکرائیے۔

اللہ تعالیٰ آپ کے لیے بہت مہربان ہے ، رحمان ہے ، محبت کرنے والے ہے، تو مطمئن رہیے یہ اس کی رحمت ہی ہے کہ اس مالک نے آپ تک اپنے پیغام بھیجے اس وقت جس وقت آپ کو اس کی بہت ضرورت ہے شکر ادا کیجیے اور ایک خوشخبری اور بھی سن لیجیے کہ عید کے بعد اسماء حسنی کا خوبصورت سفر شروع ہونے والا ہے میرے فقہ القلوب کورس میں۔

جزاکم اللہ

02/03/2026

آج دسویں روزے کی تراویح میں سورہ یوسف پڑھائی گئی تو اس دوران پتہ چلا کہ اس میں تو بہت سے روزمرہ کے معمولات کے بہت سے محاورات ہیں جو کہ اللہ تعالٰی نے ہماری رہنمائی کے لیے بھیجے ہیں۔ اس لیے سورۂ یوسف کا محاوراتی تجزیہ پیش کرنے کا سوچا۔

اس سورہ میں تقریبأ 100 کے قریب محاورات ہیں، ان میں سے روزمرہ زندگی کے لیے 10 رہنما قرآنی جملے (محاوراتی انداز میں) یہاں پیش خدمت ہیں۔
قرآنِ مجید کی ایک بڑی خوبی یہ ہے کہ اس کی بات ہر زمانے اور ہر انسان کے لیے قابلِ فہم اور قابلِ عمل ہے۔ سورۂ یوسف میں بہت سے ایسے جملے ہیں جو ہماری روزمرہ گفتگو کے محاورات جیسے لگتے ہیں اور زندگی کی رہنمائی بھی کرتے ہیں۔

1) راز داری اختیار کریں
“کسی کو بتانا مت، اپنی حد تک رکھنا”
لَا تَقْصُصْ رُؤْیَاکَ عَلٰی إِخْوَتِکَ

2) ہر کام میں حکمت یاد رکھیں
“اللہ کا کوئی کام حکمت سے خالی نہیں”
إِنَّ رَبَّکَ عَلِیْمٌ حَکِیْمٌ

3) مشکل وقت میں خوبصورت صبر
“صبر کرو، اللہ مدد کرے گا”
فَصَبْرٌ جَمِیْلٌ وَاللّٰہُ الْمُسْتَعَانُ

4) گناہ سے بچنے کی بہترین ڈھال
“اللہ کی پناہ!”
مَعَاذَ اللّٰہِ

5) کامیابی پر عاجزی اور شکر
“یہ سب اللہ کا کرم ہے”
ذٰلِکُمَا مِمَّا عَلَّمَنِیْ رَبِّیْ

6) رنج و غم کا اصل سہارا
“میں اپنا دکھ اللہ ہی سے کہتا ہوں”
إِنَّمَا أَشْکُوْ بَثِّیْ وَحُزْنِیْ إِلَی اللّٰہِ

7) ناامیدی نہیں، امید ایمان ہے
“مایوسی کفر ہے”
إِنَّہٗ لَا یَیْئَسُ مِنْ رَّوْحِ اللّٰہِ إِلَّا الْقَوْمُ الْکَافِرُوْنَ

8) معاف کرنا عظمت ہے
“آج تم پر کوئی ملامت نہیں”
لَا تَثْرِیْبَ عَلَیْکُمُ الْیَوْمَ

9) نعمتوں پر شکر
“اللہ نے بڑا کرم کیا”
قَدْ مَنَّ اللّٰہُ عَلَیْنَا

10) تدبیر کریں مگر بھروسا اللہ پر
“میں تمہیں اللہ کے فیصلے سے نہیں بچا سکتا”
وَمَا أُغْنِیْ عَنْکُمْ مِّنَ اللّٰہِ مِنْ شَیْئٍ

11) انجام ہمیشہ اللہ کے ہاتھ میں ہے
“فیصلہ آخرکار اللہ ہی کرتا ہے”
إِنِ الْحُكْمُ إِلَّا لِلّٰهِ
12) اکثریت ہمیشہ سچ کی دلیل نہیں
“زیادہ لوگ مان بھی لیں تو ضروری نہیں کہ وہ حق ہو”
وَمَا يُؤْمِنُ أَكْثَرُهُمْ بِاللّٰهِ إِلَّا وَهُمْ مُشْرِكُونَ
13) جلد بازی شیطان کا ہتھیار ہے
“بات پوری سنے بغیر فیصلہ نہ کرو”
بَلْ سَوَّلَتْ لَكُمْ أَنْفُسُكُمْ أَمْرًا
14) سچ آخرکار سامنے آ ہی جاتا ہے
“اب حق واضح ہو چکا”
الْآنَ حَصْحَصَ الْحَقُّ
15) امانت اور کردار اصل سرمایہ ہیں
“یہ شخص امانت دار اور قابل ہے”
إِنَّكَ الْيَوْمَ لَدَيْنَا مَكِينٌ أَمِينٌ
16) علم اور کردار بلندی کا ذریعہ ہیں
“اللہ جسے چاہے علم اور مقام دے”
نَرْفَعُ دَرَجَاتٍ مَّن نَّشَاءُ
17) اللہ کی تدبیر سب سے بالا ہے
“انسان چال چلتا ہے، مگر غالب تدبیر اللہ کی ہوتی ہے”
وَاللّٰهُ غَالِبٌ عَلَى أَمْرِهِ
18) مصیبت میں بھی خیر پوشیدہ ہو سکتی ہے
“ہو سکتا ہے جسے تم برا سمجھو وہ بہتر ہو”
عَسَىٰ أَن تَكْرَهُوا شَيْئًا
19) صبر کا پھل دیر سے مگر میٹھا ملتا ہے
“جو اللہ سے ڈرتا اور صبر کرتا ہے، اس کا اجر ضائع نہیں ہوتا”
إِنَّهُ مَن يَتَّقِ وَيَصْبِرْ فَإِنَّ اللّٰهَ لَا يُضِيعُ أَجْرَ الْمُحْسِنِينَ
20) اقتدار ملے تو انصاف کرو
“زمین کے خزانوں کی نگرانی مجھے سونپ دو، میں حفاظت کرنے والا اور جاننے والا ہوں”
اجْعَلْنِي عَلَىٰ خَزَائِنِ الْأَرْضِ إِنِّي حَفِيظٌ عَلِيمٌ

21) حسد دل کو اندھا کر دیتا ہے
“جب دل میں جلن ہو تو عقل ساتھ چھوڑ دیتی ہے”
لَيُوسُفُ وَأَخُوهُ أَحَبُّ إِلَىٰ أَبِينَا مِنَّا
22) برائی اکثر منصوبہ بندی سے شروع ہوتی ہے
“پہلے مشورہ، پھر سازش”
اقْتُلُوا يُوسُفَ أَوِ اطْرَحُوهُ أَرْضًا
23) اللہ بہترین محافظ ہے
“اصل حفاظت اللہ کے ہاتھ میں ہے”
فَاللّٰهُ خَيْرٌ حَافِظًا
24) دکھ میں آنسو بھی عبادت بن جاتے ہیں
“غم میں آنکھیں سفید ہو گئیں”
وَابْيَضَّتْ عَيْنَاهُ مِنَ الْحُزْنِ
25) ظاہری چمک دھوکہ دے سکتی ہے
“خون لگا کر قمیص دکھا دی”
وَجَاءُوا عَلَىٰ قَمِيصِهِ بِدَمٍ كَذِبٍ
26) آزمائش کردار کو نکھارتی ہے
“جس نے قید میں بھی پاکدامنی نہ چھوڑی”
رَبِّ السِّجْنُ أَحَبُّ إِلَيَّ
27) حق بات کہنے کا وقت آتا ضرور ہے
“سچ دیر سے سہی مگر ظاہر ہو جاتا ہے”
ذَٰلِكَ لِيَعْلَمَ أَنِّي لَمْ أَخُنْهُ بِالْغَيْبِ
28) عزت اللہ دیتا ہے
“جسے چاہے بلندی دے دے”
نُصِيبُ بِرَحْمَتِنَا مَن نَّشَاءُ
29) ماضی کی غلطیوں پر ندامت ہی اصل توبہ ہے
“ہم واقعی خطاکار تھے”
إِنَّا كُنَّا خَاطِئِينَ
30) خواب کبھی کبھی مستقبل کی حقیقت ہوتے ہیں
“جو دیکھا تھا وہ سچ ہو کر سامنے آ گیا”
هَٰذَا تَأْوِيلُ رُؤْيَايَ مِن قَبْلُ
31) والدین کی عزت کامیابی کی معراج ہے
“اپنے والدین کو تخت پر بٹھایا”
وَرَفَعَ أَبَوَيْهِ عَلَى الْعَرْشِ
32) انجام کار کامیابی متقین کے لیے ہے
“آخری بھلائی پرہیزگاروں کے لیے ہے”
إِنَّهُ مَن يَتَّقِ وَيَصْبِرْ

33) آزمائش میں پناہ کی دعا
“اے میرے رب! گناہ سے بچا لے، قید بھی قبول ہے”
رَبِّ السِّجْنُ أَحَبُّ إِلَيَّ مِمَّا يَدْعُونَنِي إِلَيْهِ
یہ وہ دعا ہے جو جوانی کی شدید آزمائش میں نکلی۔ سبق یہ کہ ماحول بگڑ جائے تو بھی دل اللہ سے جڑا رہے۔
34) دل کے ثبات کی دعا
“اگر تو نے ان کی چال مجھ سے نہ ہٹائی تو میں پھسل سکتا ہوں”
وَإِلَّا تَصْرِفْ عَنِّي كَيْدَهُنَّ أَصْبُ إِلَيْهِنَّ
یہ عاجزی کا اظہار ہے۔ انسان اپنی کمزوری مان لے تو اللہ حفاظت فرما دیتا ہے۔
35) علم اور حکمت پر شکر کی دعا
“اے رب! تو نے مجھے اقتدار دیا اور خوابوں کی تعبیر سکھائی”
رَبِّ قَدْ آتَيْتَنِي مِنَ الْمُلْكِ وَعَلَّمْتَنِي مِن تَأْوِيلِ الْأَحَادِيثِ
یہ اقتدار کے بعد شکر کا انداز ہے۔ مقام ملے تو غرور نہیں، شکر ہو۔
36) دنیا و آخرت کی کامیابی کی جامع دعا
“اے آسمان و زمین کے بنانے والے! تو ہی میرا کارساز ہے”
فَاطِرَ السَّمَاوَاتِ وَالْأَرْضِ أَنتَ وَلِيِّي فِي الدُّنْيَا وَالْآخِرَةِ
یہ توکل کی انتہا ہے۔ کامیابی کے عروج پر بھی سہارا صرف اللہ کو مانا۔
37) خاتمہ بالخیر کی دعا
“مجھے اسلام پر وفات دے اور نیکوں میں شامل کر دے”
تَوَفَّنِي مُسْلِمًا وَأَلْحِقْنِي بِالصَّالِحِينَ
یہ وہ دعا ہے جو بتاتی ہے کہ اصل کامیابی اقتدار نہیں، بلکہ ایمان پر خاتمہ ہے۔

سورۂ یوسف ہمیں صرف ایک تاریخی واقعہ نہیں سناتی بلکہ یہ زندگی کا مکمل نصاب پیش کرتی ہے۔ اس میں بھائیوں کی حسد بھری سازش بھی ہے، باپ کا صبر بھی ہے، جوانی کی آزمائش بھی ہے، قید کی تنہائی بھی ہے، اقتدار کی ذمہ داری بھی ہے اور معافی کی عظمت بھی۔

یہ سورت ہمیں سکھاتی ہے کہ:
راز داری ضروری ہے۔
صبر خوبصورت ہونا چاہیے۔
گناہ سے بچنا اصل کامیابی ہے۔
ناامیدی ایمان کے خلاف ہے۔
اقتدار میں انصاف شرط ہے۔
اور آخرکار کامیابی انہی کے لیے ہے جو تقویٰ اور صبر کو تھام لیتے ہیں۔

سورۂ یوسف دراصل امید کی سورت ہے —
کنویں سے محل تک کا سفر،
قید سے اقتدار تک کا سفر،
آزمائش سے کامیابی تک کا سفر۔
اور یہی اس کا سب سے بڑا محاورہ ہے:
اللہ جسے سنوارتا ہے، اسے کوئی بگاڑ نہیں

کنویں کی تنہائی وقتی ہوتی ہے۔
قید کی دیواریں ہمیشہ نہیں رہتیں۔
حسد کرنے والے خود شرمندہ ہوتے ہیں۔
سچ بولنے والا آخرکار سرخرو ہوتا ہے۔
اور اللہ کی تدبیر خاموشی سے اپنا کام کرتی رہتی ہے۔
یہ سورت ہمیں بتاتی ہے کہ
اگر نیت صاف ہو،
کردار مضبوط ہو،
اور دل اللہ سے جڑا ہو،
تو کنواں بھی راستہ بن جاتا ہے،
قید بھی تربیت گاہ بن جاتی ہے،
اور آزمائش بھی عزت کا سبب بن جاتی ہے۔
سورۂ یوسف دراصل یہ پیغام دیتی ہے:
مشکل باب ختم ہو سکتا ہے،
لیکن اللہ کی رحمت کا باب کبھی بند نہیں ہوتا۔

سورۂ یوسف ہمیں سکھاتی ہے کہ صبر، پاکدامنی، امید، شکر، معافی اور اللہ پر توکل یہی کامیاب زندگی کی بنیاد ہے۔

سورۂ یوسف ہمیں یہ سکھاتی ہیں کہ:
آزمائش آئے تو دعا۔
کمزوری محسوس ہو تو دعا۔
اقتدار ملے تو دعا۔
شکر کے وقت بھی دعا۔
اور زندگی کے اختتام کی فکر ہو تو بھی دعا۔
یہ سورت ہمیں بتاتی ہے کہ
کنویں میں بھی دعا ہے،
قید میں بھی دعا ہے،
محل میں بھی دعا ہے،
اور تخت پر بیٹھ کر بھی دعا ہے۔
یعنی مؤمن کی اصل طاقت اس کا رب سے تعلق ہے۔
سورۂ یوسف کا پیغام یہی ہے:
صبر کرو، پاکدامنی اختیار کرو، امید نہ چھوڑو، معاف کرو، شکر ادا کرو —
اور ہر حال میں دعا کا دامن تھامے رکھو۔

16/01/2026

*کاش یہ بات سمجھ آجائے سب کو....!* 🙏🏻

*جو بات مجھے کئی سال بعد* *سمجھ آئی وہ شروع میں سمجھ* *آجاتی تو بہت اچھا ہو جاتا وہ یہ کہ کسی کو پانی کا* *گلاس بھی پکڑانا ہے یا کسی کا* *کوئی بھی چھوٹا سا ہی کام کرنا ہے تو صرف اور صرف اللہ کی رضا کے لیے مطلب چھوٹی سے چھوٹی* *خدمت بھی صرف اللہ کیلئے کرنی ہے انسانوں سے نہ صلے کی امید رکھنی ہے نہ بدلے میں اچھے سلوک کی۔*
*یہی سوچ کر سب کچھ کرنا ہے کہ اللہ پاک یہ انسان تو خود میرے جیسے کمزور ہیں، محتاج ہیں، یہ مجھے کیا صلہ دے سکتے ہیں۔ یا اللہ پاک میں صرف تجھ سے اس کا* *صلہ چاہتی ہوں، میں تیری مخلوق کی خدمت کر رہی ہوں، تو اس کے بدلے میں میری دنیا و آخرت کی ساری مشکلیں آسان فرمادے۔*

*آپ خود دیکھیں گی کہ صرف یہ سوچ بدلنے سے آپ کی زندگی میں کتنا سکون آجائے گا، کتنے ہی اٹکے ہوئے کام خود بخود حل ہونے لگیں گے*
*ان شاء اللہ اور پھر کسی کے راضی یا ناراض ہونے کی بھی پر واہ نہیں رہتی بس اللہ راضی رہے وہ سب کو خود ہی راضی کر دے گا*

Address

Gujranwala

Website

Alerts

Be the first to know and let us send you an email when Islam Explore posts news and promotions. Your email address will not be used for any other purpose, and you can unsubscribe at any time.

Shortcuts

Share