Shahbaz Ahmad Madni Official

Shahbaz Ahmad Madni Official religious education

26/05/2026

میدان عرفات کا ، سوال غزہ کا ، حال بے حال اور دعائیں ایسی بے ساختہ ۔۔۔۔۔!
میرے مالک! اب محروم نہ رکھ 😢

26/05/2026

کتنا درد ہے اس ننھی سی خواہش میں ۔۔۔۔۔🥹
یہ ویڈیو اے آئی جنریٹڈ ہے لیکن یقیناً یہ بے شمار دلوں کی صدا ہے۔

26/05/2026

الہی! الہی! ۔۔۔۔۔۔🥹

زمانہ حج کا ہے ۔۔۔۔۔ایامِ حج چل رہے ہیں ، جذبات متلاطم ہیں ، ایک مد و جزر کی کیفیت ہے ۔حاجیوں کے کاروان آج منیٰ کو سِدھا...
25/05/2026

زمانہ حج کا ہے ۔۔۔۔۔
ایامِ حج چل رہے ہیں ، جذبات متلاطم ہیں ، ایک مد و جزر کی کیفیت ہے ۔

حاجیوں کے کاروان آج منیٰ کو سِدھار چکے ہیں ۔ ساڑھے چار کلو میٹر لمبائی کی اس وادی میں آج لاکھوں حاجی یوں لُطف میں ہیں جیسے بچے اپنی ماں کی آغوش میں ہوتے ہیں ۔

آج کی ظہر سے لے کر کل کی فجر تک اس وادی کا حال مت پوچھو!

لبیک کی صداؤں سے گُونجتی یہ وادی دن بھر چہکے گی اور پھر شب میں ، تنہائی میں ، تاریکی میں ، کہیں خلوت میں ، کہیں سُکوت میں ، ٹوٹے دلوں کے ساتھ ، لرزتے ہونٹوں اور لڑکھڑاتے الفاظ کے ساتھ ۔۔۔۔۔
خدا ہی جانتا ہے کہ کتنی آہوں اور سسکیوں کے نورانی قافلے اس کی فضاؤں کے دوش پر سُوئے عرش روانہ ہوں گے ۔

کل ذو الحج کی نو تاریخ ہوگی ، بعدِ فجر ایک ناقابلِ بیان منظر ہوگا ، ہزاروں میلوں کی دوری سے آنے والے عاشقوں کی بے تابیاں قابلِ دید ہوں گی ، ان سب کا مدعا ایک ہی ہوگا : عرفات کی حاضری ۔

عرفات کی حاضری اصلِ حج ہے ، وقتِ مقررہ میں ایک لمحہ بھی عرفات میں حاضر ہونے والا حاجی بن جاتا ہے ۔ بس ایک لمحہ! بہت آسان ہے ناں!!!

ہائے!

اس ایک لمحے کے پیچھے پوری زندگی ہے ۔ موت و حیات کی کشمکش ہے ، دل کی تیز اور مدھم ہوتی دھڑکنیں ہیں ۔ راتوں کے رتجگے ہیں ، سجدوں میں مانگی ہوئی دعائیں ہیں اور آنسؤوں سے لکھی ہوئی التجائیں ہیں ۔

یہ لمحہ بڑے نصیبوں سے ملتا ہے ، یہ بختوروں کا حصہ ہے ، سچ تو یہ ہے کہ یہ ازل میں کیا گیا انتخابِ قدرت ہے ۔

آج اس انتخاب پر شُکر کرنے کا دن ہے ، ذہن و عقل عالمِ تشکر میں اپنے ہوش کھو رہے ہیں ۔ دماغ کہتا ہے جبلِ رحمت کی پتھریلی چٹانوں پر جبیں سائی کرکے شکر ادا کیا جائے لیکن دل کہتا ہے اس وادیِ محبت کی تپتی ریت پر ، رقصِ بسمل کرتے ہوئے ، قسّامِ ازل کے حضور ، اپنی حقیر سی زندگی کا نذرانہ پیش کرکے کچھ سامانِ شکر کیا جائے ۔

آج حُجّاجِ کرام طرح طرح سے اپنے محبوبِ حقیقی کو مناتے ہیں اور وہ بے نیاز سب کچھ جان کر بھی مانتا جاتا ہے حتیٰ کہ میدانِ عرفات میں یومِ عرفہ کا سُورج ڈھلنے کے ساتھ ہی معاصی کا سُورج بھی ڈھلنا شروع ہو جاتا ہے اور حاجی کی زندگی میں وہ روشن صبح طلوع ہوتی ہے جس سے اس کے دنیا و قبر و حشر ضیا بار ہو جاتے ہیں ۔

اب اسی روشنی سے منور ہو کر حاجی مزدلفہ کی شب میں بھی جگمگاتا رہتا ہے بلکہ حقوق العباد کے معاملے میں رحمت کا حصہ پانے کے بعد تو اس کا اجالا فزوں تر ہو جاتا ہے ۔

پھر انہی اجالوں کی روشنی میں چلتا جب وہ سُوئے حرم لوٹ کر طوافِ زیارت کے لیے حاضر ہوتا ہے تو نتھرے ہوئے دل کی یہ آخری خواہش ہوتی ہے کہ آج شمعِ کعبہ پر دیوانہ وار قربان ہوکر ہمیشہ کے لیے امر ہو جائے ۔

اللھم ارزقنا زیارۃ حرمك و حرم حبیبک الکریم۔ صلی اللہ علیہ وآلہ وصحبہ وسلم ۔

✍️ غبارِ راہِ مدینہ
شہباز احمد مدنی ، گوجرانوالہ ۔
8 ذوالحجۃ الحرام 1447 ھ ۔

حج 2022 ء ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔حاضریِ مکہ کی ناقابلِ فراموش یاد ، تضمین برکلامِ شہنشاہِ سخن مولانا حسن رضا خان حسن ۔زمیں ب...
24/05/2026

حج 2022 ء ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
حاضریِ مکہ کی ناقابلِ فراموش یاد ،
تضمین برکلامِ شہنشاہِ سخن مولانا حسن رضا خان حسن ۔

زمیں بدلی ، فلک بدلا ، جہاں کا رنگ دیگر ہے
شبِ غم ہوگئی رخصت ، طلوعِ صبحِ خوش تَر ہے
نہ پوچھو ہم پہ اب کیا کیا عطائے ربِ اکبر ہے

حضورِ کعبہ حاضر ہیں حرم کی خاک پر سر ہے
بڑی سرکار میں پہنچےمقدر یاوری پر ہے

حقیر و بد لحاظ و بے ہنر سارے زمانے کے
جفا پیشہ ، ذلیل و خوار ، بے در ، بے ٹھکانے کے
ستم گر ، بے وفا ، بھاگے ہوئے اس آستانے کے

نہ ہم آنےکےلائق تھے نہ منہ قابل دکھانےکے
مگر ان کا کرم ۔۔۔۔۔۔ بندہ نواز و بندہ پرور ہے !

حریمِ قُدس کی جانب قدم اٹھتے تھے ڈر ڈر کر
خطا ، عصیاں ، ہواے بد ، گنہ کا بوجھ تھا سر پر
نشانِ آستاں پہ ہم ہوئے حاضر مگر مرکر

جو ہیبت سے رُکے مجرم تو رحمت نےکہا بڑھ کر
چلے آؤ چلے ، آؤ ۔۔۔۔ یہ گھر رحمٰن کا گھر ہے

کُھلے ہیں راستے سارے فلاح و فوز اور بِر کے
پہنچ جاتےہیں دیوانےیہاں اٹھ اٹھ کے گرگر کے
سجا ہے آج بیت اللہ وفورِ حُسن میں گِھر کے

تصدّق ہو رہے ہیں لاکھوں بندے گِردپھرپھر کے
طوافِ خانۂ کعبہ عجب دل چسپ منظر ہے

کوئی کشکول لے آیا ، چلا کاسہ لیے کوئی
بہائے سر پہ ، سینے پہ ، کوئی دیکھے ، پِیے کوئی
شفا پائے ، جِلا پائے ، سُکھی رہ کر جیے کوئی

یہ زمزم اُس لیے ہے جس لیے اِس کو پیے کوئی
اسی زمزم میں جنت ہے اسی زمزم میں کوثر ہے

مِناے پاک میں گاہے ، کبھی موقف میں جا پائی
حقوق العبد سے مزدلفہ میں حق سے وِلا پائی
کہیں کوئی بشارت ، اور کہیں کوئی دعا پائی

حسن حج کرلیا کعبے سے آنکھوں نے ضیا پائی
چلو دیکھیں وہ بستی جس کا رستہ دل کے اندر ہے۔

✍️ غبارِ راہِ مدینہ
شہباز احمد مدنی

سُن لیں اعدا میں بگڑنے کا نہیںوہ ۔۔ ۔۔ ۔۔ سلامت ہیں بنانے والے صلی اللہ علیہ و آلہ و سلم ♥️
23/05/2026

سُن لیں اعدا میں بگڑنے کا نہیں
وہ ۔۔ ۔۔ ۔۔ سلامت ہیں بنانے والے

صلی اللہ علیہ و آلہ و سلم ♥️

وہی دھوم ان کی ہے ماشاءاللہ مٹ گئے آپ ،          مٹانے والےصلی اللہ علیہ وآلہ وسلم ♥️
23/05/2026

وہی دھوم ان کی ہے ماشاءاللہ
مٹ گئے آپ ، مٹانے والے

صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم ♥️

22/05/2026

غم کے مارے سلام کہتے ہیں ۔۔۔

21/05/2026

ننھے بچے ، میں صدقے ان اداؤں کے ۔۔۔۔۔ سبحان اللہ!

20/05/2026

بابا جان ۔۔۔💔
جو میسر ہو ایصالِ ثواب کردیں ۔۔۔

یادِ وطن سِتم کیا دشتِ حرم سے لائی کیوں بیٹھے بِٹھائے بدنصیب سر پہ بلا اُٹھائی کیوںچھوڑ کے اُس حرم کو آپ بَن میں ٹھگوں ک...
19/05/2026

یادِ وطن سِتم کیا دشتِ حرم سے لائی کیوں
بیٹھے بِٹھائے بدنصیب سر پہ بلا اُٹھائی کیوں
چھوڑ کے اُس حرم کو آپ بَن میں ٹھگوں کے آبسو
پھر کہو سر پہ دھر کے ہاتھ لُٹ گئی سب کمائی کیوں

از امامِ عاشقاں۔۔۔

Address

Muhafiz Toun Gujranwala
Gujranwala

Telephone

+923266167406

Website

Alerts

Be the first to know and let us send you an email when Shahbaz Ahmad Madni Official posts news and promotions. Your email address will not be used for any other purpose, and you can unsubscribe at any time.

Contact The Place Of Worship

Send a message to Shahbaz Ahmad Madni Official:

Share