22/08/2026
200 بار سانپوں کے زہر کو اپنے جسم میں اتارنے والا شخص، جس کے خون سے بننے والی دوا دنیا بھر کے لیے امید بن گئی!
امریکی شہری ٹم فریڈے (Tim Friede) نے تقریباً 18 سال تک دنیا کے خطرناک ترین زہریلے سانپوں کے زہر کے خلاف اپنے جسم میں مدافعت پیدا کرنے کی ایک انتہائی غیر معمولی اور خطرناک کوشش جاری رکھی۔
اس دوران وہ 200 سے زیادہ مرتبہ زہریلے سانپوں کا شکار ہوا اور سینکڑوں مرتبہ مختلف سانپوں کا زہر خود کو انجیکشن کے ذریعے دیتا رہا۔ اس تجربے میں بلیک مامبا، کوبرا، ٹائپن، کریٹ اور دیگر انتہائی خطرناک سانپ شامل تھے۔
یہ سفر بالکل بےخطر نہیں تھا۔ 2001ء میں دو کوبرا کے کاٹنے کے بعد فریڈے کی حالت انتہائی نازک ہوگئی اور وہ چار دن تک کومے میں رہا۔ اس کے باوجود اس نے اپنی تحقیق جاری رکھی اور بالآخر اس کے خون میں ایسی اینٹی باڈیز پیدا ہوئیں جنہوں نے سائنس دانوں کی توجہ حاصل کرلی۔
اب سائنس دانوں نے اس کے خون سے حاصل ہونے والی اینٹی باڈیز کی مدد سے ایک تجرباتی وسیع اثر رکھنے والی اینٹی وینم تیار کی ہے۔ 2025ء میں شائع ہونے والی تحقیق میں یہ مرکب 19 خطرناک سانپوں کے زہر کے خلاف چوہوں پر آزمایا گیا اور متعدد انواع کے خلاف مؤثر تحفظ فراہم کیا۔
اگر مزید تحقیق اور انسانی آزمائشوں میں بھی یہ نتائج کامیاب ثابت ہوئے تو مستقبل میں ایک ایسی وسیع اثر رکھنے والی دوا تیار ہونے کی امید ہے جو مختلف خطرناک سانپوں کے کاٹنے کے علاج میں استعمال ہوسکے۔
دنیا میں ہر سال لاکھوں افراد سانپ کے کاٹنے کا شکار ہوتے ہیں، جبکہ ایک بڑی تعداد موت یا مستقل معذوری کا سامنا کرتی ہے۔ اسی لیے فریڈے کے خون سے حاصل ہونے والی اینٹی باڈیز کو سانپ کے زہر کے علاج کی تحقیق میں ایک اہم پیش رفت سمجھا جا رہا ہے۔
ایک انسان کی انتہائی خطرناک خود آزمائی، شاید مستقبل میں لاکھوں انسانوں کی زندگی بچانے والی تحقیق کا راستہ کھول دے!