26/08/2026
رسول اللہ ﷺ نے فرمایا:
“ایک شخص کہیں جا رہا تھا، راستے میں اس نے کانٹوں کی بھری ہوئی ایک ٹہنی دیکھی، پس اسے راستے سے دور کر دیا، اللہ صرف اسی بات پر راضی ہو گیا اور اس کی بخشش کر دی۔”
حوالہ: صحیح البخاری، حدیث نمبر: 652
اس حدیث میں رسول اللہ ﷺ نے ایک معمولی نظر آنے والے نیک عمل کی عظیم فضیلت بیان فرمائی ہے، ایک شخص نے راستے میں کانٹوں سے بھری ہوئی ٹہنی دیکھی جو لوگوں کے لیے تکلیف اور نقصان کا سبب بن سکتی تھی، اس شخص نے اسے راستے سے ہٹا دیا تو اللہ تعالیٰ اس کے اس عمل سے راضی ہو گئے اور اس کی بخشش فرما دی، یہ اللہ تعالیٰ کی بے پایاں رحمت اور اس حقیقت کو ظاہر کرتا ہے کہ کوئی بھی نیکی اللہ تعالیٰ کے ہاں معمولی نہیں ہوتی، اگر کوئی شخص لوگوں کو تکلیف سے بچانے کے لیے راستے سے پتھر، کانٹے یا کوئی نقصان دہ چیز ہٹا دیتا ہے تو بظاہر یہ ایک چھوٹا سا کام ہے لیکن اللہ تعالیٰ کے نزدیک اس کی بڑی قدر ہو سکتی ہے، اس حدیث سے ہمیں یہ سبق ملتا ہے کہ ہمیں نیکی کے کسی بھی موقع کو معمولی سمجھ کر چھوڑنا نہیں چاہیے بلکہ جہاں ممکن ہو دوسروں کے لیے آسانی پیدا کرنی چاہیے، کیونکہ کبھی ایک چھوٹی سی نیکی بھی اللہ تعالیٰ کی رضا، مغفرت اور جنت کے حصول کا ذریعہ بن سکتی ہے۔