Ghreeb Nawaz Imam Bargah

Ghreeb Nawaz Imam Bargah Contact information, map and directions, contact form, opening hours, services, ratings, photos, videos and announcements from Ghreeb Nawaz Imam Bargah, Mosque, Mohalla Shehnshah, Guddul.

It is one of the biggest Imam Bargahs in Guddu Town, the main events held there include the Shabiyaan, a kind of funeral commemorating those martyred in Battle of Karbala,

15/09/2019
15/09/2019
" اے مدینہ ! تو وہی مدینہ ہے نہ جس میں میرا حسین ع رہا کرتا تھا " " محلے والو! جناب زینب بنت علی ع سوار ہو رہی ہیں ، کوئ...
15/09/2019

" اے مدینہ ! تو وہی مدینہ ہے نہ جس میں میرا حسین ع رہا کرتا تھا " " محلے والو! جناب زینب بنت علی ع سوار ہو رہی ہیں ، کوئی شخص سواری پر سوار ہو کر نہ گزرنے پاۓ ، کوئی شخص چھت پر نہ چڑھنے پاۓ "

مدینہ سے امام حسین ع کی روانگی بزبان خطیب آل محمد
" محلے والو! جناب زینب بنت علی ع سوار ہو رہی ہیں ، کوئی شخص سواری پر سوار ہو کر نہ گزرنے پاۓ ، کوئی شخص چھت پر نہ چڑھنے پاۓ "

خطیب آل محمد سید اظہر حسن زیدی مرحوم فرماتے تھے
28 رجب تھی اور عصر کا وقت تھا جب آل محمد ع کے گھر کی مستوارات مدینہ سے روانہ ہونے کیلئے ناقہ پر سوار ہونا شروع ہوئیں -
امام حسین ع مسجد نبوی میں تشریف فرما تھے - جب جناب زینب بنت علی ع کے سوار ہونے کا وقت آیا تو امام حسین ع نے فرمایا میں خود کھڑے ہو کر زینب کو سوار کرواؤں گا -

قمر بنی ہاشم ابوالفضل عباس علمدار ع نے آواز دی
محلے والو! جناب زینب بنت علی ع سوار ہو رہی ہیں ، کوئی شخص سواری پر سوار ہو کر نہ گزرنے پاۓ ، کوئی شخص چھت پر نہ چڑھنے پاۓ -

امام حسین ع نے ایک بازو سے اور جناب علی اکبر ع نے دوسرے بازو سے پکڑ کر جناب زینب س کو دروازے تک لاۓ -
جب سوار ہونے کا وقت آیا تو فرمایا
بیٹا زین العابدین ! آؤ اپنی پھوپھی اماں کو سوار کرواؤ -

خطیب آل محمد سید اظہر حسن زیدی مرحوم فرماتے تھے
اے مدینہ ! تو وہی مدینہ ہے نہ جس میں میرا حسین ع رہا کرتا تھا
اے مدینہ کی گلیو ! تم گواہ رہنا تم میں میرا حسین کھیلا کرتا تھا
اے مدینہ کے در و دیوار ! تمہیں یاد ہے نہ کہ یہاں حسین اپنے نانا کے کاندھے پر سوار ہوا کرتا تھا

اے مدینہ کے بیابان گھر ! جب حسین تم میں رہا کرتے تھے تو تم میں کتنی رونق ہوا کرتی تھی آج کتنی ویرانی ہے تم میں
اے مدینہ ! جب تم میں حسین رہا کرتے تھے تو سادات کے گھر آباد تھے ،

آج جب حسین نہ رہے تو سادات کے اُجڑ گئے ۔ اُجڑے تو ایسے اُجڑے کہ پھر آباد نہ ہو سکے ۔ ہر وقت وا حسینا وا حسینا کی صدائیں آتی ہیں ۔

وا محمداه ، وا علیا ، وا سیداه وا حسینا

کربلا کی سرزمین پر چار سر ایسے ہیں جو بدن سے بہت مشکل جدا ہوۓ ہیں ...... قیامت خیز مصائب .. ایک واحد سر امام حسین ؑکا ہے...
15/09/2019

کربلا کی سرزمین پر چار سر ایسے ہیں جو بدن سے بہت مشکل جدا ہوۓ ہیں ...... قیامت خیز مصائب .. ایک واحد سر امام حسین ؑکا ہے جو 10 محرم کو بدن سے جدا ہوا ہے وگرنہ ہر سر 11 محرم کو بدن سے جدا ہوۓ ہیں ...
1_ پہلا سر .... امام حسؑن کے یتیم کا ... جس کے بارے میں باروا امام مہدؑی فرماتے ہیں .... میرا سلام ہو کربلا کے اس شہید پہ جس کا سر بدن سے گھوڑے کے سموں نے جدا کیا ہے .... معاف کرنا میں حقیر سیدکو ۔۔ہماری کوشش ہے صرف بی بی کا پرسہ..... 2_ دوسرا سر .... کربلا کے یوسف کا ..... حسین ؑ کے اکبر کا ۔ شمر نے اعلان کیا فوج سے کہ کون ہے آپ میں سے اس کا سر تن سے جدا کرنا ہے جسے دیکھنے کے لیے حسین بار بار بستر سے اٹھ کے دیکھتا تھا ۔... حِٙسین بنامیر لعنتی اٹھا اور شمر سے کہتا ہے شمر مجھے 15 سپاہی دو ۔یہ حسؑین کے اکبرء کے پاس آیا....غور سے علئ اکبرء کا چہرہ دیکھا اور کہا 4 سپاہی آگے او ....جلدی کرو لاش اٹھاوء ... سپاہی پوچھتے ہیں کہاں لے کر جانی ہے یہ بغیرت کہتا ہے جہاں بی بی ء بیٹھی ہے .... سپاہیوں نے لاش اٹھائی اور وہاں لے گے جہاں بی بی ص بیٹھی ہوئی تھی 15 قدم کے فاصلے پہ لاش رکھی .... تلوار نکالی اور بی بی ص کے سامنے ضرب لگا کے سر کو بدن سے جدا کیا تھا ۔۔۔
3_ تیسرا سر .... حسؑین کے علی اصغر ص کا .... عمر ابن سعد نے اعلان کیا سارے سر آ گۓ وہ نہیں آیا جو حسؑین ص کے ہاتھوں پہ آیا تھا.... ایک بغیرت کہتا ہے میں دیکھ رہا تھا حسین ص چھپ کے اسے دفن کر رہا تھا 1500 بدمعاش نیزہ لے کر کربلا کی سر زمین پہ نکل پڑے ۔....ہر بی بی نے دعا کے لیے ہاتھ اٹھائے کہ اللّه کرے اصغر ص نا ملے ۔....1500 نیزہ زمین پے مارا گیا .... خولی کے نیزے کے ساتھ اصغر ص زمین سے باہر آیا .... شمر نے کہا خولی واپس او جتنا انعام مانگو گے دوں ۔..اصغر ص کا سر یہاں جدا نہیں کرنا ....انہوں نے اصغر ص کی لاش وہاں لے کر آئیے جہاں پہ غریب حسین ص کی لاش تھی ۔ انہوں نے اصغر ص کی لاش کو حسین ص کے سینے پے رکھا ....ھائے حسین....ھائے حسین .....ہائے حسین ص...... ہمت نہیں آگے لکھوں .... اسی وقت بی بی مولا سجؑاد کے قدموں میں گر گئی رو کے کہتی ہیں سجاد میرا اصغر ..... خولی نے ضرب لگا کے اصغر ص کا سر حسین ص کے سینے پہ بدن سے جدا کیا ہے ھائے حسین....ھائے حسین.. ھائے حسین.. ..
4_چوتھا سر ...... وفا کے پروردگار غازی عبّاس کا ... شمر کہتا ہے جتنے فوجی ہیں شراب کے جام اٹھاؤ اور مجھے bibi ص کی چادر دو ۔دوسرے ہاتھ میں شمر کے حسین ص کا سر تھا غازی ص کی لاش پہ جا کے غازی ص کے منہ پے چادر رکھ کہ کہتا ہے عبّاس ص پہچان یہ چادر کس کی ہے ..... انہوں نے کہا جلدی کرو غازی ص کی لاش کھڑی کرو ..... بغیر بازوُں کے غازی ص کی لاش کو کھڑا کیا ...... پہلا تماچہ حارث نے مارا دوسرا تماچہ طفیل نے مارا ....جب طفیل نے تماچہ مارا تو سپاہیوں نے لاش چھوڑ دی غازی کی لاش زمین پر منہ کے بل گر گئی ..... شمر نے کہا یہ bibi ص کا ارمان تھا حسین ص کا روپ تھا انہوں نے غازی عبّاس ص کے پائوں میں رسیاں ڈال کر کربلا کی زمین پے گھوڑوں کے پیچھے باند کے پامالی کی ..... اسوقت bibi ص کے بال کھل گۓ ہمت نہیں مولا امام سجاد ہماری یہ مصائب اپنی بارگاہ میں قبول فرمائیں ۔ اللهم صل علی محمد وآل محمد و عجل فرجهم ......
*اللَّهُمَّ لَعَن قَتَلتَ الحسين۴ و اولادالحسين۴ و اصحاب الحسين۴ و انصار الحسين ۴*

15/09/2019

نیزے پہ اب بھی قائم اُس کا وقار ہے

میرا حُسین ؑ صبر کا پروردگار ہے

Azadar e HUSSAIN
15/09/2019

Azadar e HUSSAIN

Address

Mohalla Shehnshah
Guddul
79220

Website

Alerts

Be the first to know and let us send you an email when Ghreeb Nawaz Imam Bargah posts news and promotions. Your email address will not be used for any other purpose, and you can unsubscribe at any time.

Share

Category