21/06/2026
صلح امام حسن مجتبیٰ علیہ السّلام سے آیت اللہ سید مجتبیٰ خامنہ ای تک کی حالات کے پیش نظر
*ایران، امریکہ مذاکرات اور تاریخِ عہد شکنی*
✒️ سید احمد رضوی
تاریخِ اسلام اور عالمی سیاست کا ایک نہایت اہم اور قابلِ غور پہلو یہ ہے کہ اہلِ ایمان اور باطل قوتوں کے درمیان جب بھی صلح، مذاکرات یا مفاہمتی معاہدات طے پائے، اکثر یہ دیکھا گیا کہ معاہدے کی درخواست اور مذاکرات کی ضرورت دوسری جانب سے زیادہ محسوس کی گئی۔ لیکن افسوس کہ تاریخ کا دوسرا رخ یہ بھی ہے کہ معاہدے پر دستخط ہونے کے بعد اس کی پاسداری میں سب سے زیادہ کمزوری بھی انہی قوتوں نے دکھائی جنہوں نے مذاکرات کی خواہش ظاہر کی تھی۔
اسلامی تاریخ میں صلحِ امام حسن مجتبیٰ علیہ السلام اس حقیقت کی واضح مثال ہے۔ امام حسنؑ نے امتِ مسلمہ کے وسیع تر مفاد اور خونِ مسلم کی حفاظت کے لیے صلح کو قبول فرمایا، حالانکہ آپؑ حق پر تھے اور آپؑ کا موقف کسی کمزوری کا نتیجہ نہیں تھا۔ لیکن معاہدہ طے پاتے ہی معاویہ کی جانب سے اس کی شرائط کو پسِ پشت ڈالنے کا سلسلہ شروع ہوگیا۔ یوں ثابت ہوا کہ حق و باطل کے درمیان ہونے والے معاہدات میں صرف تحریری دستاویز کافی نہیں ہوتی بلکہ اصل مسئلہ فریقین کی نیت اور کردار کا ہوتا ہے۔
یہی روش بعد کی تاریخ میں بھی بار بار دیکھی گئی۔ استعماری طاقتوں نے مختلف ادوار میں مسلم ممالک کے ساتھ معاہدات کیے، لیکن جب ان کے سیاسی یا معاشی مفادات کو خطرہ محسوس ہوا تو انہوں نے انہی معاہدات کو توڑنے، ان کی نئی تشریحات پیش کرنے یا انہیں بے اثر بنانے کی کوشش کی۔ گویا مذاکرات ان کے لیے ایک مستقل اصول نہیں بلکہ ایک وقتی حکمتِ عملی ہوتے ہیں۔
ایران اور امریکہ کے تعلقات بھی اسی تناظر میں دیکھے جا سکتے ہیں۔ گزشتہ دہائیوں میں دونوں ممالک کے درمیان متعدد مذاکرات ہوئے۔ خاص طور پر جوہری معاہدے کے سلسلے میں دنیا نے دیکھا کہ طویل مذاکرات کے بعد ایک بین الاقوامی معاہدہ وجود میں آیا، لیکن بعد کے حالات نے یہ سوال پھر زندہ کر دیا کہ کیا مغربی طاقتوں پر مکمل اعتماد کیا جا سکتا ہے؟ کیا معاہدے ان کے نزدیک ایک اخلاقی اور قانونی ذمہ داری ہیں یا صرف سیاسی مفاد کا ایک ذریعہ؟
تاریخی تجربات یہی بتاتے ہیں کہ جب تک معاہدہ ان کے مفاد میں ہو، اس کی حمایت کی جاتی ہے، لیکن جیسے ہی حالات بدلتے ہیں، مختلف بہانوں سے اسے کمزور کرنے یا ختم کرنے کی کوشش شروع ہو جاتی ہے۔ بعض اوقات اقتصادی دباؤ، بعض اوقات سیاسی شرائط اور بعض اوقات جنگی ماحول پیدا کرکے معاہدے کو عملی طور پر بے معنی بنا دیا جاتا ہے۔
قرآنِ کریم نے بھی اہلِ ایمان کو اسی حقیقت کی طرف متوجہ کیا ہے کہ دشمن کی سیاسی چالوں اور سابقہ کردار کو نظر انداز نہیں کیا جا سکتا۔ قرآن حکیم بعض معاہدہ شکن گروہوں کے بارے میں فرماتا ہے: «لَا أَيْمَانَ لَهُمْ» یعنی ان کے عہد و پیمان قابلِ اعتماد نہیں ہوتے۔ اس آیت کا مفہوم یہ ہے کہ مؤمن کو سیاسی معاملات میں سادہ لوحی نہیں بلکہ بصیرت اور ہوشیاری سے کام لینا چاہیے۔
یہ بات درست ہے کہ اسلام مذاکرات کا مخالف نہیں۔ اگر صلح اور مذاکرات امت کے مفاد میں ہوں تو اسلام ان کی اجازت دیتا ہے بلکہ بعض مواقع پر انہیں ضروری قرار دیتا ہے۔ لیکن اسلام اندھے اعتماد کی تعلیم بھی نہیں دیتا۔ مذاکرات ہوں، مگر مکمل بیداری کے ساتھ؛ معاہدہ ہو، مگر تمام احتمالات کو سامنے رکھ کر؛ مفاہمت ہو، مگر ماضی کے تجربات کو فراموش کیے بغیر۔
آج جب ایران اور امریکہ کے درمیان ایک بار پھر مذاکرات اور مفاہمت کی باتیں ہو رہی ہیں تو ایرانی مذاکراتی ٹیم کے لیے ضروری ہے کہ وہ ماضی کے تجربات کو ہمیشہ پیشِ نظر رکھے۔ اگر پہلے معاہدات میں بعض نقصانات یا مشکلات کا سامنا کرنا پڑا تو ان سے سبق حاصل کیا جائے اور ایسی ضمانتیں اور حکمتِ عملیاں اختیار کی جائیں کہ دشمن کو عہد شکنی کا موقع نہ ملے۔
تاریخ کا فیصلہ واضح ہے: اہلِ ایمان نے اکثر مواقع پر صبر، حکمت اور استقامت کے ذریعے کامیابی حاصل کی، لیکن دوسری جانب سے معاہدات کی خلاف ورزی اور وعدہ شکنی کی مثالیں بھی کم نہیں ملتیں۔ لہٰذا مذاکرات اگر ناگزیر ہوں تو انہیں قوت، بصیرت اور مکمل احتیاط کے ساتھ آگے بڑھانا چاہیے، کیونکہ تاریخ کا سب سے بڑا سبق یہی ہے کہ معاہدے پر دستخط کرنا آسان ہے، مگر اس پر عمل درآمد کے لیے قابلِ اعتماد فریق کا ہونا ضروری ہے۔