19/06/2021
:
یہ جو ہمارا تصور ہے کہ جھوٹ بولنا تو بہت گناہ ہے پر داڑھی رکھ کر اوپر سے جھوٹ بولنا ؟ توبہ توبہ ..... یہ "اوپر " سے والا تصور غلط ہے - داڑھی والے کو بھی جھوٹ کی اتنی ہی باز پرس ہے جتنی کلین شیو والے کو - میرا ماننا ہے کہ برآی یا گناہ کا تعلق فقط انسان سے ہوتا ہے - جگہ' وقت ، مہینہ یا حلیے سے نہیں ہوتا - جگہ چاہے کتنی ہی بابرکت کیوں نہ ہو' مہینہ رمضان اور محرم کا ہی کیوں نہ ہو' اگر انسان حرمت اور برکت سے عاری ہوجاے تو مےخانے اور مسجد میں کوئی فرق نہیں رہ جاتا - میں نے خانہ کعبہ میں بھی لوگوں کی جیب کٹتے دیکھی ہے - مسجدوں کے باہر جوتے چوری ہوتے دیکھے ہیں - رمضان کی مہینے میں دس سالہ فرشتہ کا ریپ ہوتے دیکھا ہے - داڑھی والے حضرات کو ڈاکے ڈالتے سنا ہے - لیکن المیہ یہ ہے کہ ہمارا موضوع انسان جس نے برائی کی ہو ' اس سے زیادہ اس کا مسکن ' اس کا حلیہ ' اس کی جگہ الغرض وہ سب عوامل ہوتے ہیں جو اس گناہ کا موجب نہیں ہوتے ...اس کا نتیجہ کیا نکلتا ہے ؟ برائی کم نہیں ہوتی ' پر حلیے اور مقام بدل جاتے ہیں - لوگ برائی نہیں چھوڑتے ' داڑھی چھوڑ دیتے ہیں ...زنا نہیں چھوڑتے ...اڈہ بدل لیتے ہیں - اگلی دفعہ سوڈومی کوئی مفتی عزیز ارحمن نہیں کرتا بلکہ خیر پور سندھ کے سکول کا کوئی استاد سرنگ شیر ١٣٢ طلباءکے ساتھ لواطت کرتا پکڑا جاتا ہے -
جی ! مشھور ""تھا ری مرواہ" ریپ سکینڈل جو پچھلے سال سامنے آیا تھا جب سندھ کے ایک قصبے خیر پور میں ایک سرکاری سکول کے ایک ٹیچر کی ویڈیو وائرل ہوئی جس میں وہ اپنے سٹوڈنٹس کو سوڈومی کا شکار بناتا دیکھا گیا - لیکن اس ونقت بھی میں نے معاشرے کو "بدکاری اور بد فعلی" سے زیادہ "سکول بمقابلہ مدرسہ" پر بحث کرتے دیکھا -
آج بھی جب ایک مدرسے کے ایک حضرت کی ایسی ویڈیو سامنے آئ ہے جس میں مبینہ طور پر ایک طالب علم کو بلیک میل کر کہ بد فعلی کا شکار بنایا جارہا ہے تو بحث آج بھی برائی سے زیادہ برائی کے "ایڈریس " ' زپ کوڈ" پر ہورہی ہے جس میں اس مکروہ فعل کے براہ راست کردار سے زیادہ اس کے پیشے اور حلیے کو تنقید کا نشانہ بنایا جارہا ہے - "مولوی بمقابلہ ٹیوٹر" ' مدرسہ ورسز کالج " کی اس بحث کا مقصد محض کسی پرانے غصے کی تسکین اور دوسرے طبقے کی تذلیل ہوتا ہے برائی کی اصلاح نہیں - نتیجہ سامنے ہے : کردار بدلتے رہتے ہیں لیکن برائی نہیں بدلتی -
ہمیں بحثیت مشاعرہ متوازن ہونے کی ضرورت ہے - یہ بائی پولر سوچ معاشرے میں تقسیم پیدا کرتی ہے - سندھ کے سکول کا ایک استاد جو بچوں کے ساتھ سوڈومی کرتا تھا ' وہ پورے ملک کے ٹیچروں کی نمائیندگی نہیں کرتا - اور نہ اس سے یہ نتیجہ اخذ کیا جاسکتا ہے کہ ہر سکول میں ایسا ہوتا ہوگا - اسی طرح کسی مدرسے کا ایک مولوی جو کوئی مکروہ کام کرتا ہوا پکڑا جائے ' اپنے علاوہ کسی دوسرے فرد کی نمائیندگی نہیں کرتا اور نہ اس سے یہ مطلب لیا جاسکتا ہے کہ آپ کے گھر کے قاری صاحب ' آپ کے محلے کے بابا جی ' آپ کی کالونی کے مسجد کے خطیب اور آپ کے سامنے والے مدرسے کے حافظ صاحب سب ایسے کام کرتے ہیں - اگر ایک جنریلآئ زیزیشن کا یہ اصول اتنا ہی یونیورسل ہوتا اور اس کا اطلاق اسی طرح سب پر کیا جاسکتا ہوتا تو اس اصول کے تحت گھریلو تشدد کرنے والا ایک شوہر دنیا کے تمام شوہروں کیلئے گالی اور بزرگ ماں پر ہاتھ اٹھانے والا ایک بیٹا پورے ملک کے بیٹوں کیلیے کالک بن جاتا - ---برائی پر تنقید کریں - کھل کر کریں - مجرم کو قانون کے مطابق سزا دیں - اس کی اور اس جیسے عناصر کی ٹھیک ٹھاک حوصلہ شکنی کریں لیکن برائی کرنے والے اس عزیز الرحمن پر تنقید کریں نہ کہ اس کے نام کے ساتھ لگے لفظ "مفتی " اور اس کے مسکن " مدرسے " پر پر کیوں کہ مفتی اگر عزیز ارحمن تھا تو مفتی تقی عثمانی بھی ہیں - ایسا نہ ہو کہ کل کو کوئی کالج کا طالب علم کسی لڑکی کو حاملہ کرکے اس کا اسقاط حمل کرواتے ہویے جب وہ لڑکی مر جاۓ' اور وہ اس کو کسی ہسپتال کی سیڑھیوں پر پھینک کر جارہا ہو اور کیمرہ جب اس کو پکڑ لے تو آپ کے کالج کو بھی گالی کا سامنا کرنا پڑے - کیوں کہ اس معاشرے میں بہت سے نیک ووہی ہیں جن کے "کیمرے " اب تک "آن " نہیں ہویے -