02/07/2017
جمشید دستی بیوقوف یا باغی ؟
یہ اپریل 2013 ہے۔۔ لاہور ہائیکورٹ نے جمشید دستی کو جعلی ڈگری کیس میں 3 سال قید بامشقت اور 5 ہزار روپے جرمانے کے ساتھ مئی 2013 کے الیکشن کے لیے بھی نااہل کر دیا۔۔۔۔ہائیکورٹ نے قانون اور اخلاق کے ریفرنس سے دستی کا مکو ٹھپ دیا۔۔۔۔لیکن شاید قدرت کو یہ pick & choose کا انصاف پسند نہ آیا اور ملتان بنچ نے مکمل سزا ختم کر دی۔۔۔۔دستی صاحب روائیتی وڈیروں اور نوابوں سے ایک نہیں 2 حلقوں سے جیت گئے۔۔۔
پنجاب بھر میں جنوبی پنجاب کے علاوہ تقریبا وڈیرہ سسٹم ملک اور نوابوں کا زور ٹوٹ چکا ہے۔۔۔لوگ کماتے ہیں کھاتے ہیں اور نوابوں کی حویلیوں میں حاضری چھوڑ دی ہے۔۔یہ کارنامہ بھٹو کے شعور، انڈسٹری اور بیرون ملک ملازمت نے انجام دیا۔۔۔لیکن مظفر گڑھ آج بھی پنجاب میں سندھی وڈیروں یا بلوچ سرداروں کی روایات کا امین ہے۔۔۔ونی اور کاری کی رسمیں قائم ہیں۔مزارعے نوابوں کی چوکھٹوں پر سر پٹخ پٹخ کر آج بھی مرتے ہیں۔۔۔۔
جمشید دستی 2008 میں کھر اور نوابوں کو شکست دیکر شاید سمجھتا تھا میں آزاد ہوں میرے ووٹر میری طاقت ہیں۔۔۔میں معزز MNA ہوں۔۔۔اس نے نہ ہی لوٹا اور نہ ہی نوابوں سے دولت کی ریس لگائی یہ فقیر تھا سیاست کا درویش بن گیا۔۔۔یہ گدھا گاڑی سے سائیکل اور پیدل احتجاج کے لیے نکل پڑتا۔۔۔۔۔۔نوابوں اور ڈوگروں کے ہاں رنجش پختہ سے پختہ تر ہوتی گئی۔۔۔۔۔یہ دستی کو ڈرا تو نہ سکے لیکن کبھی قانون اور کبھی طاقت کے پنجروں میں قید ضرور کر لیتے۔۔۔۔۔دستی ہارتا جیتتا لڑتا رہا۔۔۔
دستی نے 2013 میں ایک نہیں دو نوابوں اور سرداروں کو شکست دی۔۔۔یہی اسکا جرم بن گیا۔۔۔یہ انکی سلطنتوں کے لیے خطرہ بن گیا۔۔۔۔۔دستی کا عوامی انداز سیاست مظفر گڑھ سے نکل کر لاہور کے بٹ سرداروں کو بھی ڈسنے لگا۔
مظفر گڑھ میں آج بھی طاقت سرداروں کے پاس ہے۔۔دستی نے غریبوں کے حق کا پانی لینے کے لیے بغاوت کر دی۔۔نہر کھول دی۔۔۔یہ جرم سرداروں کے نزدیک ناقابل معافی اور حکمرانوں کے لیے پرانی رنجشیں دور کرنے کا موقع ثابت ہوا۔۔۔۔آج حکمران ایک MNA کو ہتھکڑیاں پہنا کر عبرت بنا رہے ہیں۔۔۔مستقبل کے لیڈرز کو سمجھا رہے ہیں۔۔۔طاقتوروں سے بغاوت ووٹوں سے نہیں نوٹوں سے ہوتی ہے۔۔۔اور نوٹ کمانے کے لیے جمشید دستی نہیں نواز شریف اور شہباز شریف کا ویزن ضروری ہے۔۔۔۔یہ پیغام ہے ہر باغی غریب کے لیے جنگل کے دور میں طاقت دماغ سے نہیں شیر کے پنجوں میں ہوتی ہے۔۔۔