Jamia masjid Tooba araian wali masjid

Jamia masjid Tooba araian wali masjid جامع مسجد طوبی آرائیوں والی مسجد فاروقہ /فروکہ تحصیل ساہیوال ضلع سرگودھا کا تعمیری کام شروع ہو چکا ہے تعاون کے لیے
UBL.

IBAN # PK91UNIL0109000283285323
رقم بھجوانے کے بعد اس نمبر پر بذریعہ میسج /کال/یا واٹس ایپ اطلاع ضرور کریں
+92-302-3448246

ان شاءاللہ
26/05/2026

ان شاءاللہ

فروکہ تحصیل ساہیوال ضلع سرگودھا اور مضافات فروکہ کے لیے مستند اوقات سحر و افطار مرتبہ: تنزیل الرحمنمدرس:مدرسہ اشرف المدا...
18/02/2026

فروکہ تحصیل ساہیوال ضلع سرگودھا اور مضافات فروکہ کے لیے مستند اوقات سحر و افطار
مرتبہ: تنزیل الرحمن
مدرس:مدرسہ اشرف المدارس فروکہ سرگودھا
امام و خطیب جامع مسجد طوبیٰ آرائیوں والی مسجد فروکہ

خطبہ جمعہ: 6/2/2026بمقام: جامع مسجد طوبیٰ، فروکہ، سرگودھاخطیب: تنزیل الرحمنعنوان: محبتِ رسول ﷺ کا اولین تقاضا — اتباعِ س...
07/02/2026

خطبہ جمعہ: 6/2/2026
بمقام: جامع مسجد طوبیٰ، فروکہ، سرگودھا
خطیب: تنزیل الرحمن
عنوان: محبتِ رسول ﷺ کا اولین تقاضا — اتباعِ سنت اور قرآن کا چوتھا حق
(خطبہ مسنونہ)
نحمدہ و نصلی علیٰ رسولہ الکریم، اما بعد!
محبتِ رسول ﷺ اور اتباعِ سنت

ہمارا یہ مبارک سلسلہِ بیانات "محبتِ رسول صلی اللہ علیہ وسلم کے تقاضے" کے عنوان سے ایک تسلسل کے ساتھ جاری ہے۔
ان تقاضوں میں سے اولین اور اہم ترین تقاضا "اتباعِ سنتِ رسول ﷺ" ہے۔ چونکہ اسلام ایک جامع نظامِ حیات ہے، اس لیے ہم نے دین کو سمجھنے کے لیے اسے پانچ بڑے شعبوں
(عقائد، عبادات، معاملات، معاشرت اور اخلاقیات)
میں تقسیم کیا تھا تاکہ ہر شعبے میں حضور ﷺ کی سنت کو تلاش کر کے اس پر عمل کر سکیں۔
فی الحال ہماری گفتگو پہلے شعبے یعنی "عقائد" پر چل رہی ہے۔ عقائد کو سمجھنے کے لیے ہم نے "ایمانِ مفصل" (آمَنْتُ بِاللَّهِ وَمَلَائِكَتِهِ وَكُتُبِهِ وَرُسُلِهِ...) کو بنیاد بنایا ہے، جس میں چھ بنیادی عقائد (عقائدِ ستہ) بیان ہوئے ہیں۔ ہم ترتیب وار چلتے ہوئے اس وقت تیسرے عقیدے "وَكُتُبِهِ" (اللہ کی کتابوں پر ایمان) پر موجود ہیں۔
اس ضمن میں ہم یہ سمجھ رہے ہیں کہ قرآنِ کریم پر ایمان لانے کا حق صرف اسے مان لینا نہیں، بلکہ قرآن کے ہم پر کل پانچ حقوق ہیں:
۱. ایمان لانا
۲. تلاوت کرنا
۳. سمجھنا
۴. عمل کرنا
۵. پیغام کو پھیلانا
پہلے تین حقوق (ایمان، تلاوت، فہم) پر ہم گزشتہ نشستوں میں تفصیل سے بات کر چکے ہیں۔
آج ہمارا موضوع قرآن کا چوتھا حق، یعنی "عمل بالقرآن" ہے۔

برکت کے ساتھ حرکت (عمل)
اللہ تعالیٰ نے قرآن کے بارے میں فرمایا:
"وَهَذَا كِتَابٌ أَنْزَلْنَاهُ مُبَارَكٌ فَاتَّبِعُوهُ..." (سورۃ الانعام: 155)
(اور یہ برکت والی کتاب ہے جو ہم نے نازل کی، پس اس کی پیروی کرو)۔
اس آیت سے معلوم ہوا کہ قرآن صرف برکت کے لیے نہیں بلکہ "اتباع" (پیروی) کے لیے بھی ہے۔ برکت کا حصول اپنی جگہ، لیکن اگر "حرکت" یعنی عمل نہ ہوا تو یہ برکت بھی چھین لی جائے گی۔ محض قرآن کو گھر میں سجا لینے یا زبانی یاد کر لینے سے حق ادا نہیں ہوگا جب تک اس کے احکامات پر عمل نہ کیا جائے۔

بے عمل عالم کی مثال
جن قوموں نے کتاب کا علم تو حاصل کیا مگر عمل نہ کیا، قرآن نے ان کی سخت مذمت کی ہے۔ ارشادِ باری تعالیٰ ہے:
"مَثَلُ الَّذِينَ حُمِّلُوا التَّوْرَاةَ ثُمَّ لَمْ يَحْمِلُوهَا كَمَثَلِ الْحِمَارِ يَحْمِلُ أَسْفَارًا" (سورۃ الجمعہ: 5)
(ان لوگوں کی مثال جن پر تورات کا بوجھ ڈالا گیا [علم دیا گیا] پھر انہوں نے اسے نہ اٹھایا [عمل نہ کیا]، اس گدھے کی سی ہے جس پر کتابیں لدی ہوں)۔
یہ انتہائی سخت تنبیہ ہے کہ علم کے باوجود عمل نہ کرنا انسان کو کس درجے پر لے جاتا ہے۔

صحابہ کرام ؓ: عمل بالقرآن کا عملی نمونہ
قرآن کے اولین مخاطب صحابہ کرام ؓ تھے، لہذا عمل کا معیار انہی کی زندگیوں سے ملے گا۔
حضرت ابوبکر صدیق ؓ: آپ ؓ کا وجودِ مبارک اتباعِ نبوی ﷺ میں ایسا ڈھلا ہوا تھا کہ ایک انجان شخص کے لیے نبی ﷺ اور صدیق ؓ میں فرق کرنا مشکل ہو جاتا تھا۔
نبی کریم ﷺ اور صدیق رضی اللہ عنہ کے مابین ہر حوالے سے کمال مشابہت کا عملی مظاہرہ سفرِ ہجرت میں قبا کے مقام پر قیام کے دوران ہوا، جب اہل مدینہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی زیارت و ملاقات کے لیے حاضر ہوئے تو عام آدمی اور پہلی بار دیدار نبوی سے مشرف ہونے والے کے لیے دونوں کے ظاہری حال حلیہ کو دیکھ کر یہ اندازہ لگانا مشکل تھا کہ ان میں سے نبی کون ہے اور امتی کون۔۔۔ آقا کون ہے اور غلام کون۔۔۔ اس لیے کہ صدیق اکبر رضی اللہ عنہ نے خود کو نبوت اور سنت کے رنگ میں ایسا رنگا تھا کہ فرق کرنا مشکل تھا۔
آپ ؓ عملی قرآن تھے۔ جب منکرینِ زکوٰۃ کا فتنہ اٹھا تو آپ ؓ نے تاریخی جملہ فرمایا: "أَيُنْقَصُ الدِّينُ وَأَنَا حَيٌّ؟" (شرح السنۃ / تاریخ الخلفاء)
(کیا دین میں کمی کر دی جائے اور میں زندہ رہوں؟) یہ قرآن کے حکم پر عمل کی استقامت تھی۔
حضرت عمر فاروق ؓ: آپ ؓ نے سورہ بقرہ سیکھنے میں ایک طویل عرصہ (بعض روایات میں آٹھ سال) لگایا۔ وجہ یہ نہیں تھی کہ وہ ذہین نہیں تھے، بلکہ وجہ یہ تھی کہ وہ صرف الفاظ نہیں سیکھتے تھے، بلکہ ایک ایک حکم کو اپنی زندگی میں نافذ کرنے کے بعد آگے بڑھتے تھے۔ (شعب الایمان للبیہقی)

مہجورِ قرآن (قرآن کو چھوڑ دینے والے)
اگر ہم تلاوت بھی کریں، سمجھ بھی لیں لیکن عمل نہ کریں، تو ہم اس شکایت کی زد میں آ سکتے ہیں جو قیامت کے دن رسول اللہ ﷺ بارگاہِ الہی میں کریں گے:
"يَا رَبِّ إِنَّ قَوْمِي اتَّخَذُوا هَذَا الْقُرْآنَ مَهْجُورًا" (سورۃ الفرقان: 30)
(اے میرے رب! میری قوم نے اس قرآن کو چھوڑ دیا تھا)۔
علماء (جیسے امام ابن القیمؒ) نے لکھا ہے کہ قرآن پر عمل ترک کر دینا بھی اسے "چھوڑ دینے" (مہجور) کے مترادف ہے۔

دعوتِ فکر
یہ موضوع انتہائی وسیع اور ہماری اصلاح کے لیے ناگزیر ہے۔ ان شاء اللہ! آئندہ جمعہ ہم اسی سلسلے کو آگے بڑھائیں گے اور یہ جائزہ لیں گے کہ:
آج ہمارے معاشرے میں قرآن پر عمل کرنے میں کون کون سی رکاوٹیں ہیں؟
ہم کن پہلوؤں سے کوتاہی کے مرتکب ہو رہے ہیں؟
اور ان کوتاہیوں کو دور کر کے ہم حقیقی معنوں میں قرآن والے کیسے بن سکتے ہیں؟
آپ تمام احباب سے گزارش ہے کہ سیکھنے اور اپنی اصلاح کی نیت سے آئندہ نشست میں بھی وقت کی پابندی کے ساتھ شرکت فرمائیں۔
وما علينا الا البلاغ المبين

خدا، کائنات اور فلسفے کی گتھیاں: ایک آسان تفہیمتحریر: تنزیل الرحمن مدرس: مدرسہ اشرف المدارس فروکہ (سرگودھا)گزشتہ کچھ دنو...
03/01/2026

خدا، کائنات اور فلسفے کی گتھیاں: ایک آسان تفہیم

تحریر: تنزیل الرحمن
مدرس: مدرسہ اشرف المدارس فروکہ (سرگودھا)

گزشتہ کچھ دنوں سے سوشل میڈیا پر مفتی شمائل صاحب اور جاوید اختر صاحب کے مابین ہونے والا مکالمہ (Debate) زبانِ زدِ عام ہے۔ حیرت انگیز طور پر اس سنجیدہ گفتگو کو بھی لاکھوں لوگوں نے دیکھا جو اس بات کا ثبوت ہے کہ ہماری قوم میں شعور اور علم کی پیاس موجود ہے۔
گفتگو کے دوران مفتی صاحب نے کچھ فلسفیانہ اصطلاحات استعمال کیں جیسے Contingency Argument اور Infinite Regress۔ چونکہ عام فہم اردو میں ان کے متبادل کم ملتے ہیں، اس لیے سوچا کہ آسان ترین الفاظ میں ان مشکل گتھیوں کو سلجھایا جائے تاکہ عام آدمی بھی اس علمی بہاؤ سے فائدہ اٹھا سکے۔
1۔ کنٹنجینسی آرگیومنٹ (Contingency Argument) کیا ہے؟
اسے سمجھنے کے لیے پہلے لفظ "Contingent" کو سمجھیں۔ اس کا سادہ مطلب ہے "محتاج ہونا" یا "کسی دوسرے پر منحصر ہونا"۔ کوئی بھی چیز جو:
* خود سے قائم نہ ہو سکے۔
* اپنی ذات میں مستقل نہ ہو۔
* اور اپنے وجود کے لیے کسی بیرونی سہارے کی محتاج ہو۔
وہ "Contingent" کہلاتی ہے۔

فرض کریں ایک سیب ہے۔ یہ سیب ہوا میں معلق نہیں ہو سکتا، یہ اپنے وجود کے لیے "درخت" کا محتاج ہے۔ درخت خود سے نہیں اگا، وہ "مٹی اور پانی" کا محتاج ہے۔ مٹی اور پانی "سورج اور نظامِ شمسی" کے بغیر بے معنی ہیں۔
یعنی کائنات کی ہر چیز ایک زنجیر کی طرح دوسرے سے جڑی ہوئی اور محتاج ہے۔
اب سوال یہ پیدا ہوتا ہے کہ احتیاج کا یہ سلسلہ رکے گا کہاں؟ کیا یہ زنجیر چلتی ہی رہے گی؟ یہیں پر یہ آرگیومنٹ آتا ہے کہ اس لامتناہی سلسلے کو ختم کرنے کے لیے ایک ایسی ہستی ضروری ہے جو "قائم بالذات" ہو، یعنی وہ اپنے وجود کے لیے کسی کی محتاج نہ ہو۔ بس اسی ہستی کو ہم "خدا" کہتے ہیں۔

2۔ لامحدود تسلسل (Infinite Regress) کیا ہے؟
ناقدین اکثر یہ سوال کرتے ہیں کہ اگر ہر چیز کا کوئی بنانے والا ہے، تو خدا کو کس نے بنایا؟
فلسفے میں اسے "Infinite Regress" یا تسلسل کہتے ہیں، جو کہ عقلی طور پر ناممکن اور ایک منطقی مغالطہ (Logical Fallacy) ہے۔

اسے ایک بہت دلچسپ مثال سے سمجھیے۔ فرض کریں آپ ائیرپورٹ پر امیگریشن کاؤنٹر کی لائن میں کھڑے ہیں۔ آپ کے آگے لوگوں کی ایک قطار ہے جو کبھی ختم نہیں ہوتی (لامتناہی ہے)۔
* سوال: کیا کبھی آپ کی باری آئے گی کہ آپ کا پاسپورٹ چیک ہو سکے؟
* جواب: ہرگز نہیں! کیونکہ لائن ختم ہی نہیں ہو رہی۔
بالکل اسی طرح، اگر ہم کہیں کہ آپ کو ماں باپ نے بنایا، انہیں ان کے ماں باپ نے، یوں چلتے چلتے بات کائنات تک پہنچی، کائنات کو خدا نے بنایا، خدا کو سپر خدا نے، اسے الٹرا خدا نے۔۔۔ اگر یہ پیچھے جانے والا سلسلہ کبھی نہ رکے، تو پھر "آپ" کا وجود میں آنا ناممکن تھا (جیسے ائیرپورٹ پر آپ کی باری آنا ناممکن تھا)۔
لیکن چونکہ "آپ" موجود ہیں، اس کا مطلب ہے کہ یہ سلسلہ پیچھے کہیں نہ کہیں رکا ہے۔ جہاں یہ سلسلہ رکتا ہے، وہی ذات "واجب الوجود" (Necessary Being) ہے۔

عقل کا تقاضا ہے کہ یہ سلسلہ ایک ایسی ذات پر ختم ہو جس میں یہ تین صفات ہوں:
* وہ قائم بالذات ہو (کسی کا محتاج نہ ہو)۔
* اس کا وجود کسی دوسرے پر منحصر نہ ہو۔
* اس کا ہونا لازم ہو، ورنہ باقی کائنات بھی وجود میں نہ آتی۔
اور یہی وہ ذاتِ باری تعالیٰ ہے جسے ہم اللہ کہتے ہیں۔ اللہ ہمیں علمِ نافع اور پختہ ایمان نصیب فرمائے۔
تنزیل الرحمن

19/06/2025

زیر تعمیر جامع مسجد طوبیٰ المعروف ارائیوں والی مسجد فروکہ تحصیل ساہیوال ضلع سرگودھا
تعمیر کے دوسرے مرحلے کا آغاز
احباب سے دعاؤں اور تعاون کی خصوصی درخواست۔

05/09/2024

مسلمانوں میں کسی ایسے طبقے کی تلاش کی جائے جو مقام و منصب کے اعتبار سے زیادہ بلند مقام رکھتا ہو، تو ان میں اول مقام صحابہؓ ٴکرام کا ہے
اس حدیث سے بھی صحابہؓ کے مقام و منصب کا اندازہ کیا جا سکتا ہے کہ عبداللہ بن مسعودؓ سے روایت ہے کہ ایک بار رسولﷺ سے سوال کیا گیا کہ سب سے بہتر لوگ کون ہیں؟ اس کے جواب میں آپﷺ نے فرمایا: خَیْرُ القُرُوْنِ قَرْنِیْ، ثم الَّذِیْنَ یَلُوْنَہُمْ، ثُمَّ الَّذِیْنَ یَلُوْنَہُمْ [صحيح مسلم رقم الحديث: 2535]
”میرے زمانے کے لوگ سب سے بہتر ہیں، پھر وہ لوگ جو ان کے زمانے سے ملے ہوئے ہیں، پھر وہ لوگ جو ان کے زمانے سے متصل ہیں"
یعنی رسول اللہﷺ نے اپنے زمانے کے مسلمانوں کو سب سے بہتر قرار دیا۔ ظاہر ہے کہ رسولﷺ کے دور کے لوگوں سے مراد صحابہؓ ہیں۔ صحابہؓ کے بعد تابعین ہیں اور تابعین کے بعد تبع تابعین ہیں۔
#منقول
تنزیل الرحمن

1953کو جب لاہور میں ختم نبوت کے دیوانوں کو شہید کیا جا رہا تھا آپ وہاں جان نہ دے سکے کہ آپ پیدا نھیں ہوئے تھے 7ستمبر 197...
03/09/2024

1953کو جب لاہور میں ختم نبوت کے دیوانوں کو شہید کیا جا رہا تھا آپ وہاں جان نہ دے سکے کہ آپ پیدا نھیں ہوئے تھے
7ستمبر 1974کو اس معرکہ حق وباطل میں غیر حاضر تھے اس لیے کہ موجود نہ تھے یا خبر نہ تھی۔

تو اب اس یوم الفتح میں حاضری یقینی بنائیں کہ تاریخ رقم ہورہی ہے۔ ایسا نہ ہو کہ اس قافلہ کی رفاقت سے محروم رہ جائیں اور روز محشر اپنی نالائقی کیلئے کوئ وجہ جواز نہ ملے۔

اٹھیے کہ شاید دوبارہ یہ موقع آئے تو ہم دنیا میں نہ ہوں ۔

چلیے کہ آپ کو مسلم قوم کی تعداد بڑھانی ہے، اور جو کسی قوم کی تعداد میں اصافہ کا باعث ہو وہ انہی میں شمار ہوگا۔
اللہ پاک ہمیں بھی یہ سعادت نصیب فرمائیں۔۔آمین۔۔
🏍️🛺🚙🚌🚆🚁✈️
تنزیل الرحمن
امیر: جمعیت علماء اسلام تحصیل ساہیوال ضلع سرگودھا
رابطہ نمبر:
03023448246/ 03024778406 / 03066724470 / 03016758477

15/08/2024

جو بادہ کش تھے پرانے، وہ اٹھتے جاتے ہيں!😭
آہ ! استاذ محترم ؒ
تحریر:تنزیل الرحمن
خادم :مدرسہ اشرف المدارس فروکہ (سرگودھا)
امام و خطیب : جامع مسجد طُوبیٰ ارائیوں والی مسجد فروکہ

کل مؤرخہ 14 اگست 2024 بروز بدھ شام 4 بجے یہ خبر ملی کہ استاذ محترم ، استاذ الحدیث حضرت مولانا شفیق احمد سلیم صاحب ملکانوی اس دنیافانی سے رحلت فرما چکے ہیں ۔ انا للہ و انا الیہ راجعون!

یہ 2007 ء کی بات ہے جب اپنے دیہات کے مدرسہ جامعہ نعمانیہ سے درجہ ثالثہ تک کی تعلیم مکمل کرنے کے بعد درجہ رابعہ میں داخلہ کے لیے سرگودھا کی عظیم دینی درسگاہ ' ' جامعہ مفتاح العلوم سرگودھا ' ' میں حاضری ہوئی ،(درجہ رابعہ میں داخلہ کے وقت عمر 15 سال تھی) سو کم سنی اور کم عقلی کی وجہ سے مقصد تعلیم سے بھی ابھی تک ناواقف ہی تھا ، سو ذہن میں عالم بننے کا فقط ایک ہی مقصد تھا کہ بڑا خطیب بن کر ملک کے طول و عرض میں جا کر تقریریں کرنی ہیں اور واہ واہ سمیٹنی ہے ، جامعہ مفتاح العلوم سرگودھا میں تعلیم کا آغاز ہوا تو تعلیم کے اولین ایام میں ہی جس شخصیت اور استاذ محترم نے غیر محسوس انداز میں تربیت فرماتے ہوئےسوچ اور ترجیحات کا رخ بدلا وہ کوئی اور نہیں حضرت الاستاذؒ ہی تھے ،
قصہ کچھ یوں ہوا کہ پہلے ہی دن جب قطبی کے سبق کا وقت شروع ہوا تو استاذ محترم حضرت مولانا شفیق احمد سلیم صاحب مد ظلہ نے سب سے پہلے نئے آنے والے طلبہ کا تعارف لیا اور پھر فرمایا : عبارت کون پڑھے گا ۔؟جن طلبہ نے عبارت پڑھنے کے لیے ہاتھ کھڑے کیے ان میں یہ ناچیز بھی تھا استاد جی نے تمام طلبہ پر نگاہ ڈالی اور فرمایا: آپ پڑھیں!جب میں نے عبارت پڑھی تو خوب حوصلہ افزائی کرتے ہوئے فرمایا : ماشاءاللہ اگر محنت کرو تو اچھے مدرس بن سکتے ہو۔
بس استاذ محترم کے اس جملے نے ترجیحات کا رخ بدل دیا اس سے پہلے خطیب اعظم بننے کا شوق تھا اس دن کے بعد سب شوق ختم اور بس ایک ہی دھن تھی کہ میں نے مدرس بننا ہے ۔
؎رہبر بھی یہ، ہمدم بھی یہ ،غم خوار ہمارے
استاد یہ قوموں کے ہیں معمار ہمارے
درجہ رابعہ میں استاذ محترم ؒکی شاگردی میں آئے اور پھر درجہ خامسہ،درجہ سادسہ ، موقوف علیہ اور دورہ حدیث شریف تک درس نظامی کی مایہ ناز کتب ' 'قطبی، توضیح تلویح، مشکوٰۃ شریف اور پھر ترمذی شریف ' ' پڑھنے کی سعادت و شرف بھی حاصل ہوا ،فن تدریس میں واقعۃً کمال کے درجے پر فائز تھے۔ خاموش مزاج۔ نرم طبیعت اور اچھے اخلاق کے حامل۔ ہمہ وقت فکر میں ڈوبے رہنے والے لیکن اپنے طلبہ پر گہری نظر رکھنے والے۔استاذ محترم کی خاموشی گفتگو ہوا کرتی تھی۔
یوں تو سب کو ایک دن اس دارفانی سے جانا ہے۔ لیکن
؎موت اس کی جس کو زمانہ کرے یاد
کے مصداق استاذ محترم ؒ کے رخصت ہونے سے علم کی ایک دنیا ویران ہوگئی۔ ایک چمن اجڑ گیا۔ کلیجہ منہ کو آتارہا ۔ دل کی کیفیت عجب تھی، جس کا بیان شاید الفاظ وجملوں میں نہیں ہوسکتاہے۔ بس یوں لگ رہاہے کہ
؎ وہ جو بیچتے تھے دوائے دل
وہ دکان اپنی بڑھا گئے۔
دل پریشاں اور ذہن ودماغ قضا وقدر کے فیصلوں میں الجھے ہوئے ہیں اور زبان بے اختیار کہہ رہی ہے کہ
جو بادہ کش تھے پرانے، وہ اٹھتے جاتے ہيں
کہيں سے آب بقائے دوام لے ساقي!
بارگاہ الٰہی میں التجاء ہے کہ استاذ محترم کی حسنات و خدمات دینیہ کو قبول فرماتے ہوئے سیئات و زلات سے درگزر فرمائیں۔آمین ثم آمین یا رب العلمین بحرمۃ سید المرسلین ﷺ
تنزیل الرحمن

17/05/2024

جس خواب میں ہو جاے دیدار نبیﷺحاصل
اے کاش کبھی ہم کو بھی وہ نیند عطا ہو
ﷺﷺﷺﷺﷺﷺﷺ

Address

Farooka
40040

Telephone

+923016767238

Website

Alerts

Be the first to know and let us send you an email when Jamia masjid Tooba araian wali masjid posts news and promotions. Your email address will not be used for any other purpose, and you can unsubscribe at any time.

Share