Molna ishaq islamic youth forum

Molna ishaq islamic youth forum برِ کلمہ گو اہلِ قبلہ شخص مسلمان ہے، کلمہ گو کی تکفیر ناجائز ہے۔
— شیخ الاسلام مولانا اسحاق

اے امیدِ امت، اے حصارِ سلام رب کرے نصیب تیرے حشر تک قیام پاکستان زندہ باد اسلامی جمہوریہ پاکستان کا مطلب کیا لا الہ الا ...
14/08/2026

اے امیدِ امت، اے حصارِ سلام
رب کرے نصیب تیرے حشر تک قیام
پاکستان زندہ باد
اسلامی جمہوریہ پاکستان کا مطلب کیا لا الہ الا الله
اسلامی جمہوریہ پاکستان ہمیشہ زندہ باد
یوم آزادی مبارک ❤

14/08/2026

قیام پاکستان اور آزادی
بیان شیخ السلام مولانا اسحاق صاحب

10/08/2026

بیان شیخ السلام مولانا اسحاق صاحب

إِنَّا لِلّٰهِ وَإِنَّا إِلَيْهِ رَاجِعُونَانتہائی افسوس کے ساتھ اطلاع دی جاتی ہے کہ *مولانا محمد اسحاق صاحب مرحوم* کی ا...
09/08/2026

إِنَّا لِلّٰهِ وَإِنَّا إِلَيْهِ رَاجِعُونَ
انتہائی افسوس کے ساتھ اطلاع دی جاتی ہے کہ *مولانا محمد اسحاق صاحب مرحوم* کی اہلیہ محترمہ وفات پا گئی ہیں۔
اللہ تعالیٰ مرحومہ کی مغفرت فرمائے، درجات بلند فرمائے، جنت میں ہمارے مولانا کے ساتھ اعلیٰ ترین مقام عطا فرمائے اور تمام اہلِ خانہ کو صبرِ جمیل عطا فرمائے، آمین۔
نمازِ جنازہ نو اگست 2026 بروز اتوار بعد از عصر ساڑھے پانچ بجے کیلاش پارک ملٹ ٹاؤن میں ادا کیا جائے گا۔

08/08/2026

شیخ السلام مولانا اسحاق صاحب

08/08/2026

اللہ تعالی میاں طاہر رحمہ اللہ اور مولانا اسحاق رحمہ اللہ کی مغفرت فرمائے اور جنت الفردوس میں اعلی مقام عطا فرمائے آمین
Mian tahir r. A
3 January 2020

کسی شوق یا مقصد کیلئے حیات مستعار کا ایک ایک لمحہ وقف کرنے کا محاورہ کئی بار سنا اور پڑھا لیکن شوق کی عملی مثال اگر ملی ...
07/08/2026

کسی شوق یا مقصد کیلئے حیات مستعار کا ایک ایک لمحہ وقف کرنے کا محاورہ کئی بار سنا اور پڑھا لیکن شوق کی عملی مثال اگر ملی تو وہ مولا نا مفتی محمد اسحاق mکی ذات گرامی تھی، مولانا کی شخصیت علم سیکھنے اور علم با نٹنے سے عبارت تھی مولانا کسی تعارف کے محتاج نہیں، ان کے علم کی وسعت ، تحقیق ، جستجو ، شوق اور وسیع مطالعہ کے جنون کی ایک دنیا معترف ہے، جس قدر مولانا کا مطالعہ وسیع تھا اسی قدر ان کا ظرف وسیع تھا ، وسعت مطالعہ نے مولانا مرحوم کو مسلکی حد بندیوں سے بہت بلندو بالا کر دیا تھا، یہی وسعت ظرفی ان کا عیب بن گئی فرقوں اور مسلکوں میں جکڑے تقریباً ہر مکتب فکر کے نزدیک مولانا راندہ درگاہ ٹھہرے، حتی کہ فکری طور پر جن کے زیادہ قریب تھے انہوں نے کفر کے فتووں سے بھی دریغ نہ کیا ،یہی دنیا ہے اور ازل سے چلتا آیا ہے مولانا مرحوم تمام فرقوں کے علماء کا نام احترام سے لیتے بلکہ mبھی کہتے ۔ کسی مخالف فرقے کے بانی یااہم شخصیت کو m کہہ دینا تنگ نظروں کے نزدیک اتنا بڑاجرم ہے کہ کہنے والے کا اسلام خطرے میں پڑجاتا ہے، لیکن مولانا اسحاق مرحوم کو وسعت مطالعہ نے فرقوں کی تنگ نائیوں سے بلندوبالا کرکے وَحدتِ امّت کا داعی بنا دیا تھا اور حقیقت بھی یہی ہے، مولانا سب کی اچھی باتوں کاذکر کرتے لیکن سب کی غلط باتوں کی گرفت کرتے اور کبھی کبھار گرفت سخت ہو جاتی تو مخالف دشنام طرازیوں پر اتر آتا مولانا عمر بھر لوگوں کو علامہ اقبال کا یہ پیغام سناتے رہے ۔
شجر ہے فرقہ آرائی تعصب ہے ثمر اس کا
یہ وہ پھل ہے کہ جنت سے نکلواتا ہے آدم کو
یہ فرقہ بندیوں ہی کا شاخسانہ ہے کہ وطن عزیز لہولہان ہے اسلام کے نام پر بننے والا ملک اسلامی فرقوں ہی کے ہاتھوں گولہ و بارود کا ڈھیر بنا ہو ا ہے ۔مولانا کی کتاب ’’وَحدتِ امّت‘‘ اتفاق وا تحاد اور سچے اسلام کا بہترین پیغام ہے، بار ہا ملاقات ہوئی لیکن کبھی کسی عالم کا نام مولانا کی زبان سے اس انداز سے نہیں سنا کہ تحقیر کا پہلو نکلتا ہو، ہاں جہاں کسی نے علمی طور پر غلط بات کی یا کسی فرقہ کے بارے میں جھوٹا حوالہ دیا وہاں مولانا مرحوم کوئی رعایت نہ کرتے تھے ہمیشہ فرماتے اِنہی غلط باتوں نے دین کا بیڑا غرق کر دیا ہے ۔
ْْْ’’علم وآگہی ‘‘ باقاعدگی سے دیکھتے اگر کوئی کمزور بات یا ضعیف حدیث ان کی نظر سے گزرتی فوراً پیغام بھیجتے کہ تصدیق کرکے لکھاکرو غلط باتوں سے لو گ اسلام سے دور ہوجاتے ہیں ۔ قدرت نے مولانا مرحوم کا سینہ جس وسعت علم سے بھر ا تھا اس سے بڑا ظرف عطاء فرمایا تھا ۔ مولانا کی زندگی کتاب اور مطالعہ سے عبارت تھی علم ان کے لئے آبِ حیات تھا ۔ بلا مبالغہ کہا جا سکتا ہے کہ جس طرح مچھلی پانی کے بغیر زندہ نہیں رہ سکتی ،اسی طرح مولانا مرحوم بھی کتاب کے بغیر نہیں رہتے تھے ۔ کئی سال قبل کی بات ہے کسی کتاب کی بابت کچھ معلومات درکار تھیں مولانا سے رابطہ کیا فرمانے لگے بعد نماز عشاء ’’مسجد کریمیہ‘‘ جھال خانوانہ میں مل لیں، مسجد پہنچے تو دیکھا کہ مسجد کا دروازہ کھلا ہے اور مولانا کے کمرے کی بتی جل رہی ہے، کمرے کے دروازے پر پہنچ کر دیکھا کہ مولانا ایک بڑے سائز کی عربی کتاب کے مطالعہ میں مستغرق ہیں سلام کا جواب دینے کے بعد پھرنظریں کتاب پر گاڑدیں جب زیر مطالعہ بات پڑھ لی تب کتاب ایک طرف رکھ کر ہماری طرف متوجہ ہوئے باتوں سے زیادہ میرا دھیان بار بار اس طرف جا رہا تھا کہ وہ شخص جس کے درجنوں نہیں سینکڑوں مخالف ہیں اور اختلاف بھی مذہبی نقطۂ نظر سے ہے، جس میں مخالف کا وجود بھی نامنظور ہوتا ہے، ش پر توکل کی اس سے بڑی شان کیا ہوسکتی ہے، مولانا کی بعض باتوں سے اختلاف کے باوجود ان سے ملنے والے جانتے ہیں کہ وہ عاجزی ، انکساری، تقویٰ اور توکل علی اﷲ کے پیکر تھے ،علم کی بلندیوں کو پانے کے باوجود تکبر اور بڑائی کا ان کے ہاں کبھی گزرنہ ہو ا ۔ درجنوں بار کی ملاقاتوں میں کبھی کسی کاروباری یا سیاسی فرد کا ذکر تے نہ سنا صرف اور صرف علم کی بات کرتے کتابوں کا ذکر کرتے ۔ علامہ اقبال، شیخ سعدی، بابا بلھے شاہ ، میاں محمدبخش nاور درجنوں شعراء کے اردو ، عربی، فارسی اور پنجابی کے ہزاروں اشعار ازبر تھے۔ کونسی ایسی کتاب ہے جو اس گنج گراں مایہ کے سینہ پر نقش نہ ہو، تحقیق و جستجو کے پیکر علم سیکھنے اور بانٹنے کی شیدائی یہ عظیم ہستی زندگی کی 85بہاریں دیکھ کر 28اگست 2013ء کو تہجد کے وقت خالق کائنات کی بارگاہ میں جا پہنچی۔مولانا جہاں علم کے مفتی تھے وہاں عمل میں بھی سچے تھے ۔مولانا اپنے نمازیوں کو ہمیشہ تلقین کرتے کہ علم حاصل کرو علم کوشش کرنے سے حاصل ہوتا ہے، علم حاصل کرنے کا بہترین ذریعہ کتابوں کا مطالعہ ہے اور اکثر یہ جملہ دہراتے کہ سارا کچھ مولویوں پر نہ چھوڑدو ۔ لوگوں کو توجہ دلاتے کہ کتابیں خرید اکروتاکہ چھاپنے والوں کی حوصلہ افزائی ہو ۔ مولانا کی عظمتوں اور خوبیوں کا احاطہ ممکن نہیں
حق مغفرت کرے عجب آزاد مرد تھا
ش مولانا کو کروٹ کروٹ جنت الفردوس عطا فرمائے ان کی بشری اور فکری لغزشو ں کو اپنی وسیع رحمت و در گزر سے معاف فرمائے ۔ آمین
مولانا سے مخالفت کا سبب خاکسا رکے نقطہ نظر سے ایک تو وہ ازلی حقیقت ہے، کہ عناد اور حسد جیسی بیماریاں انسان کے خمیر میں رکھی دی گئی ہیں کیوں کہ مشیت ایزدی کو یہ جہان رنگ و بو کی تخلیق ایسے ہی منظور تھی ایک دانشور اکثر یہ مثال دیا کرتا ہے، کہ دیکھو کیسی عجیب بات تھی، کہ پوری روئے زمین پر صرف چار یا پانچ انسان تھے جن میں ایک والد (آدم d) والدہ (اماں حوا g) دو بھائی ہابیل ، قابیل اور غالباً ایک بہن قرآن مجید کے بتائے ہوئے واقعہ کے مطابق شنے ایک کی قربانی قبول فرما کر اسے فضیلت بخشی اور ددسرے نے حسد کی آگ میں جل کر پہلے کو قتل کردیا، حالانکہ وہ چاہتا تو اپنی نالائقی پر غور کرتا یا کسی اور سرزمین کی طرف چلا جاتا ۔لیکن ایسا نہیں ہوا ، انسانی دنیا میں حسد، نفرت کی یہ کہانی ایسے ہی چلی آرہی ہے ۔ مولانا مرحوم بھی انہی جذبوں کا شکار ہوئے کئی سال قبل جب عزیزی جاوید ناصر اورمیاں طاہر (فاصل مدینہ یونیورسٹی) صاحبان نے ’’فتاویٰ آن لائن‘‘ کا آغاز کیا ہمارے ایک انتہائی محسن ، مربی ، عالم فاضل دوست نے بتایا کہ مجھے کچھ دوست علماء نے کہا ہے کہ ’’فتاویٰ آن لائن‘‘ کے لئے کسی اور عالم کا انتخاب کرلیں ،مولانا اسحاق صاحب اختلافی شخصیت ہیں وغیرہ اِن کی ذاتی رائے لی گئی تو کہنے لگے، سچی بات یہ ہے، کہ مولانا کے وسعت علم کامخالفین کے پاس کوئی جوڑ نہیں ہے اور ’’فتاویٰ آن لائن‘‘ اپنی نوعیت کا منفرد پروگرام ہے، جس سے مولانا کا نہ صرف تعارف بڑھ رہا ہے، بلکہ لوگ بہت سے مسائل کو مسلکوں سے ہٹ کر دیکھنا شروع کررہے ہیں ۔
اسی طرح عزیز گرامی میاں طاہر فاضل مدینہ یونیورسٹی) صاحب نے بتایا، کہ میرے پاس ایک صاحب تشریف لائے مولانا کے بارے میں سخت موقف رکھتے تھے اور انتہائی مخالفانہ باتیں کر رہے تھے اور بار بار مولانا کی باتوں ، تقریروں اور فتووں کے حوالہ دے رہے تھے، طاہر صاحب نے بتایا کہ جب میں نے ان صاحب سے پوچھا مولانا سے کبھی ملے ، ان کی کوئی کتاب پڑھی ،ان کی تقریر سنی؟ کہنے لگے’’ نہیں میں نے سنا ہے ‘‘ افسوس صد افسوس کہ ہماری عقیدت اور نفرت سنی سنائی باتو ں پر ہے ۔
مخالفت کی دوسری بڑی وجہ تاریخ کی کتابوں میں خلافت راشدہ اور شہادت حسین h کی تفصیلات ہیں مولانا چونکہ وسیع المطالعہ تھے، اپنے مطالعہ کے بل بوتے پر ایک ذہن بنالیا اور وہی باتیں پورے وثوق کے ساتھ پوچھنے والوں کو بتاتے رہے، نہ صرف بتا تے رہے، بلکہ اپنی باتوں کو مطالعہ کے زور پر دلیلوں سے سجاتے رہے، حالانکہ حقیقت وہی ہے، جو برصغیر کے عظیم سکالر امام الہند ابو الکلام آزادm نے ان الفاظ میں بیان کی ہے : ’’یہ کیسی عجیب بات ہے، کہ تاریخ کا مشہور اور عظیم تاثیر رکھنے والا واقعہ بھی تاریخ سے کہیں زیادہ افسانہ کی صورت اختیار کر چکا ہے ۔ اگر آج ایک شخص جو یائے حقیقت چاہے، کہ صرف تاریخ اور تاریخ کی محتاط شہادتوں کے اندر اس حادثہ کا مطالعہ کرے، تو اکثر صورتوں میں اسے مایوسی سے دوچار ہونا پڑے گا۔‘‘ (انسانیت موت کے دروازے پر )
غور کرنے کی بات یہ ہے، کہ جس طرح احادیث جھوٹی وضع کی گئیں، اُسی طرح اسلام میں صحابہ کرام j اور اسلام کو بدنام کرنے کے لیے غلط باتیں لکھی گئیں، صحابہ کرام j کی شان میں غلط فہمیاں پھیلانے والوں کو معلوم ہے، کہ صحابہ کرام j سے عقیدت و محبت ایمان کا جز ہے، ہمارے پاس تو ش کا پیغام اور نبیa کا اسوہ مبارکہ انہی مقدس ہستیوں کے واسطہ سے پہنچا ہے، نعوذباللہ اگر ان کے مقام و مرتبہ کا تعین آج کا کوئی عالم کرنے بیٹھ جائے تو باقی کیا بچا؟ایک تاریخی، علمی یا اجتہادی غلطی نے مولانا مرحوم کی مخالفت کا جواز پیدا کیا ۔ اس معاملہ میں سب سے اچھا موقف وہی ہے اور وہی باعث نجات ہے، ارشاد خدا وندی ہے : ’’یہ ایک جماعت تھی جو گزر گئی۔ اسی کیلئے ہے جو اس نے کمایا اور تمہارے لئے ہے جو تم نے کمایا اور تم سے ان کے بارے میں سوال نہیں کیا جائے گا جو وہ عمل کرتے تھے۔‘‘
لہٰذا ہم گئے گزرے مسلمانوں کی نجات اسی میں ہے، کہ ہم اپنی زبانیں بندرکھیں ۔ قرآن مجید کے فیصلہ کے مطابق ہمیں دوسروں کے بارے میں نہیں پوچھا جائے گا ۔ وہاں ہمارا اپنا عمل کھوٹا ہوگاتو نجات مشکل ہے۔

Mian tahir

اللہ تعالیٰ مولانا اسحاق رحمہ اللہ کی مغفرت فرمائے اور جنت الفردوس میں اعلی مقام عطا فرمائے آمین
05/08/2026

اللہ تعالیٰ مولانا اسحاق رحمہ اللہ کی مغفرت فرمائے اور جنت الفردوس میں اعلی مقام عطا فرمائے آمین

04/08/2026

Molna ishaq
28 Aug 2013

03/08/2026

Brother kashif Ali student molna ishaq

Address

Satyana Road,Near Fish Farm Chowk, Faisalabad
Faisalabad

Website

Alerts

Be the first to know and let us send you an email when Molna ishaq islamic youth forum posts news and promotions. Your email address will not be used for any other purpose, and you can unsubscribe at any time.

Shortcuts

Share