10/12/2022
حضرت خواجہ باقی باللہ رحمتہ اللہ علیہ سے کسی نے سوال کیا " حضور، مراقبہ کسے کہتے ہیں؟؛
؛؛آپ نے جواب میں ایک آسان طریقہ فرمایا آپ نے فرمایا" محبوب کی آمد کے وقت، سراپا انتظار میں رہنا ہی مراقبہ ہے؛؛
؛؛پوچھا گیا، کہ آپ کو یہ طریقہ کیسے ملا ؟؛
؛؛ آپ نے فرمایا"میں نے ایک مرتبہ بلّی کو شکار کرتے دیکھا تھا، کہ جب بلّی شکار کے لئے تیار ہو جائے تو پھر وہ اپنے دو پاؤں پر کھڑی ہو جاتی ہے اور دو کو اٹھا لیتی ہے، سانس کو روک لیتی ہے، وزن برابر کر لیتی ہے, نہ سانس کو حرکت دے، نہ مزاج میں جُنبش آئے نگاہ ایک مرکز پر رہتی ہے
جونہی شکار نظر آے، چشم ِ زدن میں جھپٹ کرپکڑ لیتی ہے؛؛
؛؛تو میں نے اپنے آپ سے کہا، کہ یہ دو عالم سے بے نیاز ہو کر اپنے شکار کے لئے اتنی منہمک ہو جاتی ہے کہ سب کچھ بھول جاتی ہے تو مجھے معلوم ہوا کہ دو عالم سے بے نیاز ہو کر اسی کا ہو رہنے کا نام انتظار(مراقبہ) ہے؛؛
؛؛مراقبہ کرنا ہو تو آنکھ بند کرو، کیونکہ یہ ایک ایسا دروازہ ہے کہ ہر شے اس میں سے اندر چلی جاتی ہے، اور جو چیز اندر جائے گی مزاج بدلے گا___
دل کے اس دروازے کو بند ہی کرو کہ کوئی شے اندر ہی نہ آئے__روک لو سانس__اپنا قابو کر لو مزاج؛؛
؛؛ اب یار کی آمد کا وقت ہے دروازے پر نظر رکھو کہ کب کُھلتا ہے کہ وہ اندر آجائے
اور مجھے غافل پا کر واپس چلا جائے؛؛
؛؛صوفیا مراقبہ ایسے ہی وقتوں پر کرتے ہیں کہ کوئی آواز دینے والا بھی نہ ہو, پچھلے پہر سرجھکا کر بیٹھ جاتے ہیں؛؛؛