26/10/2023
افسوس تو اس بات کا ہے کہ مسلمان
جن کو مغضوب
اور
ضالین
مانتے ہیں
ان کے خلاف کوئی ایک پلیٹ فارم بھی نہ بناسکے
انہی کی بنائی ایپ پر جب ان کے خلاف بات کی جائے تو چاہے جتنے مرضی ترقی یافتہ ہوں آپ کا اکائونٹ بلاک کردیا جاتا ہے
اس پر ہم سارے اور چیختے چلاتے ہیں لیکن بے سود ہے سب
ہم بکھرے ہوئے جدا جدا
ٹکڑوں میں بٹے
ہمارے
مدارس الگ
جماعتیں الگ
منشور الگ
مفادات الگ
سوائے کفر کے فتوے دینے کے
کوئی تعمیری کام نہیں کرسکے
بصد معذرت ہوسکتا ہے کئی لوگ میری اس بات سے خار کھائیں لیکن حقیقت یہی ہے کہ کوئی تعمیری یا جدید ٹیکنالوجی کے میدان میں مسلمانوں کے کھاتے میں اس وقت کوئی اعزاز نہیں
ماسوا
اس کے
جلسے جلوس محافل
اور ساری مساعی ،ساری جدودجہد فروعی اختلاف میں ایک دوسرے کو نیچا دکھانے میں
آج بھی ہمارے مذہبی ٹھیکیدار
رفع الیدین اور امین بالجھر
اختیار اور علم غیب پر جھگڑے کرتے نظر آئیں گے اور اپنے اپنے متبعین و مقلدین کو بھی انہیں کاموں میں الجھا دیا شخصیت پرستی کے میدان میں اس قدر آگے بڑھے
کہ شخصیات کا عرس تو منانا فرض منصبی سمجھا لیکن ان کے علمی قد کاٹھ کو لوگوں کے سامنے نہ لاسکے ۔
ایک دوسرے کو مارنے کے لیے ہم خود ہی کافی ہیں
ہم خود ایک دوسرے کے لیے جہنمی سے کم کا فتوی نہیں دیتے
اور ستم بالائے ستم یہ کہ جو ہمارے بات سے یا ہمارے نظریے سے یا ہمارے پیر سے یا سیاسی قائد سے اختلاف کرے گا
وہ ہمارا ازلی ابدی دشمن ٹھہرے گا
ایسے میں مسلمان چن چن کر ہی مارے جائیں گے اور مارے جارہے ہیں
ہمیں مارنے والوں نے بڑی لمبی منصوبہ سازی کررکھی ہے اور ہم خواب غفلت میں پڑے آرام سے خراٹے ماررہے ہیں ۔
ہم کہاں کھڑے ہیں کبھی سوچئے گا
کاتب تقدیر نے تو ازل سے کہہ رکھا ہے ۔
جس کا مفہوم کچھ یوں ہے
خدا نے آج اس قوم کی حالت نہیں بدلی
نہ ہو جس کو خیال آپ اپنی حالت کے بدلنے کا
اظہر ضیاء
26اکتوبر 2023