24/04/2026
سلطان عبدالحمید اول کی جانب سے نبی کریم ﷺ کی مدح میں منسوب یہ نعت تاریخی اور روحانی اعتبار سے خاص اہمیت رکھتی ہے۔ روایت کے مطابق اس کے بعض اشعار 1777ء کے لگ بھگ المسجد النبوی اور روضۂ رسول ﷺ کے اطراف میں کندہ کروائے گئے تھے، اگرچہ وقت گزرنے کے ساتھ ان میں سے کئی نقوش باقی نہیں رہے یا تبدیل ہو گئے۔
نعت (اصل عربی اشعار)
يَا سَـيِّدِي يَا رَسُـولَ اللهِ خُذْ بِيَدِي
مَا لِي سِـوَاكَ وَلاَ أَلْوِي إِلَى أَحَدِ
فَأَنْـتَ نُـورُ الْهُدَى فِي كُلِّ كَائِنَةٍ
وَأَنْتَ سِـرُّ النَّدَى يَا خَيْرَ مُعْتَمَدِ
وَأَنْتَ حَقّاً غِيَـاثُ الْخَلْقِ أَجْمَعِهِمْ
وَأَنْتَ هَادِي الْوَرَى ِللهِ ذِي السَّدَدِ
يَـا مَـنْ يَقُومُ مَقَامَ الْحَمْدِ مُنْفَرِداً
لِلْوَاحِـدِ الْفَرْدِ لَـمْ يُولَدْ وَلَمْ يَلِدِ
يَـا مَـنْ تَفَجَّرَتِ اْلأَنْهَـارُ نَـابِعَةً
مِنْ إِصْبَعَيْهِ فَأَرْوَى الْجَيْشَ بِالْمَدَدِ
إِنِّي إِذَا مَسَّـنِي ضَيْمٌ يُـرَوِّعُـنِـي
أَقُولُ: يَـا سَيِّدَ السَّادَاتِ يَا سَنَدِي
كُنْ لِي شَفِيعاً إِلَى الرَّحْمَنِ مِنْ زَلَلِي
وَامْنُنْ عَلَيَّ بِمَا لاَ كَانَ فِي خَلَدِي
اردو ترجمہ
اے میرے آقا ﷺ، اے اللہ کے رسول ﷺ، میرا ہاتھ تھام لیجیے۔
آپ ﷺ کے سوا میرا کوئی نہیں، نہ ہی میں کسی اور کی طرف رجوع کرتا ہوں۔
آپ ﷺ تمام کائنات میں ہدایت کا نور ہیں،
اور آپ ﷺ کرم و بخشش کا راز ہیں، اے بہترین سہارا۔
آپ ﷺ تمام مخلوق کے سچے مددگار ہیں،
اور اللہ کے بندوں کے رہنما اور سیدھے راستے کی طرف بلانے والے ہیں۔
اے وہ ذات ﷺ جو مقامِ حمد پر منفرد کھڑی ہے،
اس ربّ واحد کی بارگاہ میں، جو نہ پیدا ہوا نہ اُس نے کسی کو جنا۔
آپ ﷺ وہ ہیں جن کی انگلیوں سے چشمے جاری ہوئے،
اور آپ ﷺ نے اپنے لشکر کو اس معجزے سے سیراب کیا۔
جب بھی مجھے کوئی مصیبت یا خوف گھیر لیتا ہے،
تو میں پکارتا ہوں: اے آقاؤں کے آقا ﷺ، اے میرے سہارے۔
میری خطاؤں پر اللہ کے حضور میری شفاعت فرمائیے،
اور مجھ پر وہ انعام فرمائیے جو میرے گمان میں بھی نہ ہو۔
حوالہ
عثمانی سلطنت کے دور میں مسجد نبوی ﷺ کی تزئین و آرائش اور خطاطی کا خاص اہتمام کیا جاتا تھا، خصوصاً سلاطین اپنے عشقِ رسول ﷺ کے اظہار کے لیے اشعار اور کلمات کندہ کرواتے تھے۔یہ اشعار Ottoman Imperial Archives میں منسوب روایات کے طور پر ملتے ہیں،