“قبلہ مولانا سید محمد یونس رضوی جارچوی صاحب” (مرحوم)
عزاداری لائسنس ہولڈر ، قبلہ آیتہ اللہُ العظمی سید محسن الحکیم نورہ اللہ مرقدہ الشریف صاحب کے وکیل شرعی برائے لائل پور، 1955 سے "معجزہ" اخبار کے ایڈیٹر اور ضلع فیصل آباد کے سب سے قدیمی سالانہ مرکزی مجلسِ عزا و ماتمی جلوس 25 رجب، بسلسلہِ شہادت امام موسیٰ کاظم ( علیہ السلام ) کے بانی بھی ہیں.
آپ نے 1947 سے پہلے مشرقی ہندوستانی برطانوی فوج میں
بھی خدمات انجام دیں۔ چنانچہ وہاں سے (P-114-B) پیپلز کالونی نمبر 1 سموسہ چوک ڈی گراونڈ، فیصل آباد پاکستان میں ایک پلاٹ بنایا۔ بعد میں آپ عراق کے دارالحکومت بغداد, کاظمین تشریف لے گئے جہاں آپ نے اپنی دینی تعلیم کا آغاز کیا۔
آپ دعاء مشلول اور دعاء سباسب کے عامل تھے اسکی چلہ کشی آپ نے کاظمین الشریفین امام موسیٰ کاظم (علیہ السلام) کے دربار بزرگوار میں کی تھی۔
عراقی صدر عبدالسلام عارف کی حکومت تحلیل ہونے کے بعد آپ لائل پور ، پاکستان واپس تشریف لے آئے۔
آپ نے مرکزی امام بارگاہ ، عزا خانہ شبیر ع دھوبی گھاٹ لائل پور سے مجلس اور اسلامی تعلیم کا آغاز کیا۔
آپ نے اپنے اعلیٰ اخلاق و کردار اور شیریں بیانی کی بدولت اتحاد بین المسلمین کا ایک بہترین پلیٹ فارم مہیا کیا جس کی وجہ سے پیپلز کالونی نمبر 1 سموسہ چوک کے تمام معززین نے مل کر اپنے دستخطوں سے 25 رجب المرجب, یوم شہادت حضرت امام موسیٰ کاظم (علیہ السلام) کی مجلس عزاء اور ماتمی جلوس کے راستوں کی تائید کی اور اس طرح آپ اس تاریخی یادگار مجلس عزاء اور ماتمی جلوس کے بانی اور لائسنس دار بن گے.
الحمداللہ,
اب ہر سال مجلس کا آغاز 25 رجب المرجب کی صبح 9 بجے ہوتا ہے جس میں برآمدگی شبیہِ تابوت پر بے حساب عزادارِ, ماتمی اور سب مسلمان مرحوم کی ہدایت اور تعلیم کے مطابق دورانِ جلوس، بادستور نمازِظہرین کا خاص اہتمام کرتے ہیں اور بارگاہِ عالیہ میں ماتمِ اسیرِبغداد (علیہ السلام) پیش کرتے ہیں. دوران اور بعد از جلوس، لنگرِ حسینی و سبیلِ امام (علیہ السلام) کا خاص اہتمام ہوتا ہے.
قبلہ مرحوم (27 جون ، 1987) کو رضائے الٰہی سے وفات پاگئے. آپ کا مشن عزاداری ماشاءاللہ آپ کے دست مبارک سے لگایا ھوا پودا اب ایک مضبوط و تناور درخت کی شکل اختیار کر گیا ہے اور اس سلسلے کے شروع ہونے کے 57 سال بعد بھی وہی روحانیت بھرا کارواں اب ان کے بیٹے اور پوتے "رضوی صاحبان" لے کے چل رہےہیں اور انشاء اللہ تا ظہور قائم آل محمد ع ان کی آنے والی نسلیں بھی لیے چلتی رہیں گی.
بیٹے:
خادمِ مولا اسیرِ بغداد (علیہ السلام)
جناب سید حیدر علی رضوی جارچوی صاحب
جناب سید نجف علی رضوی جارچوی صاحب