قلم و قرطاس کی دنیا

قلم و قرطاس کی دنیا ۔

🌴 سیرت النبی ﷺ اور ہماری ترجیحات 🍁✍🏻 محمد مدثر علی راؤمیں نے تقریباً بارہ یا تیرہ سال کی عمر میں پہلی بار سیرت النبی ﷺ ک...
21/10/2025

🌴 سیرت النبی ﷺ اور ہماری ترجیحات 🍁

✍🏻 محمد مدثر علی راؤ

میں نے تقریباً بارہ یا تیرہ سال کی عمر میں پہلی بار سیرت النبی ﷺ کا مطالعہ کیا تھا اور مجھے یہ بھی ٹھیک سے یاد نہیں کہ وہ کتاب کس مصنف کی تھی کیونکہ اس وقت کم عمری میں اتنا شعور نہیں تھا کہ کتاب کا مطالعہ کرنے سے پہلے کون کونسی بات دیکھنی چاہیے بس ایک دوست کے ہاں اس سے ملنے گیا تھا کہ اس کے گھر پر سیرت النبی ﷺ پر کتاب رکھی دیکھی اور اس سے وہ کتاب گھر لے آیا اور دو سے تین ہفتوں میں اسکا مکمل مطالعہ کر لیا۔

سیرت النبی ﷺ کے اختتام پر اس وقت میرے جذبات و احساسات کی کیا حالت تھی وہ مجھے آج بھی یاد ہے کہ دل کرتا تھا کہ کاش یہ کتاب سینکڑوں جلدوں پر مشتمل ہوتی اور میں اسے یونہی پڑھتا چلا جاتا اور یہ سلسلہ یونہی جاری و ساری رہتا۔

عمومی طور پر ہم لوگ ہمارے پیارے نبی ﷺ اور آپکے جانثار صحابہ کرام رضوان اللہ علیہم اجمعین کی سیرت کا مطالعہ بلکل بھی نہیں کرتے۔رسول اللہ ﷺ اور آپ کے صحابہ کرام کے متعلق مشہور واقعات تو ہمیں معلوم ہوتے ہیں وہ بھی اس لیے کہ ہم نے جمعہ اور عیدین کے خطبوں یا دیگر تقریروں میں جو واقعات سن رکھے ہوتے ہیں بس زیادہ سے زیادہ ہمیں وہ یاد ہوتے ہیں۔رسول اللہ ﷺ نے مکہ میں دین کی دعوت کا کام کیسے کیا اور وہاں آپ ﷺ اور آپ کے صحابہ کرام کو کتنے مصائب کا سامنا رہا۔پھر کیسے رسول اللہ ﷺ اور صحابہ کرام نے حبشہ کے بعد مدینہ کی طرف ہجرت کی اور مدینہ میں دعوت کا کام اور وہاں تک رسول اللہ ﷺ کے پہنچنے سے پہلے لوگوں تک اسلام کی دعوت کیسے پہنچی یہ سب تفصیلات ہمیں سیرت و تاریخ کی کتب سے معلوم ہونگی اور اسکا مطالعہ ہم کرتے نہیں ہیں۔اگر آپ مسجد کے کسی عام نمازی سے غزوہ بدر سے متعلق کوئی بات پوچھیں گے تو وہ آپ کو فرشتوں کی نصرت والی بات بتائے گا۔اسی طرح غزوہ احد سے متعلق پوچھیں گے تو وہ رسول اللہ ﷺ کے چچا حضرت حمزہ رضی اللہ عنہ کی شہادت اور بعض صحابہ کرام کا جنگ کو ختم سمجھ کر پہاڑی درہ چھوڑنے اور مال غنیمت سمیٹنے کی وجہ سے جس مصیبت کا سامنا کرنا پڑا یہ سب مشہور واقعات تو آپ کو تقریباً ہر عام آدمی سے سننے کو مل جائیں گے لیکن رسول اللہ ﷺ نے یہ جنگیں کیوں لڑی اور ان میں مسلمانوں اور کفا-ر کو کتنا فائدہ و نقصان اٹھانا پڑا یہ سب شاید ہی کوئی آپکو بتا سکے۔

اسی طرح خیبر کی جنگ سے متعلق اگر پوچھیں گے تو ہمارے لوگوں کو صرف اتنا معلوم ہوگا کہ اس جنگ میں حضرت علی رضی اللہ عنہ نے مرحب کو قت-ل کیا تھا اور خیبر کے قلعے کا دروازہ ایک ہاتھ سے اٹھا لیا تھا لیکن یہ شاید ہی کسی کو معلوم ہو کہ خیبر میں مسلمانوں نے کتنے قلعے فتح کیے اور کونسی جگہ بغیر جنگ کے مسلمانوں کے قبضہ میں آگئی۔باغ فدک کس جگہ کا حصہ تھا اور اسے مسلمانوں کے سپرد کرنے والے کون لوگ تھے ان سب باتوں کی معلومات آپکو مدارس میں پڑھنے والوں سے تو تقریباً مل جائے گی لیکن ہماری عام عوام الناس کو الا ماشاء اللہ ہی یہ سب معلوم ہوگا۔

آپ ﷺ اور صحابہ کرام نے کتنے غزوات اور کتنے سرایا لڑے اور ان دونوں میں کیا کیا فرق ہوتا ہے یہ بھی عام طور پر لوگوں کو معلوم نہیں ہوتا۔

سیرت کا مطالعہ کریں گے تو آپکو پتا چلے گا کہ ہمارے نبی ﷺ کتنے بہادر اور ذہین انسان تھے۔اسی سے متعلق آپکی دلچسپی کے لیے ایک واقعہ پیش کر رہا ہوں کہ۔۔۔

غزوہ بدر میں جب قریش اپنے لشکر کیساتھ مسلمانوں کی طرف جنگ کے لیے بڑھ رہے تھے تو ایک جگہ قریش کے بعض غلام جو کہ پانی کی تلاش میں نکلے ہوئے تھے وہ صحابہ کرام کے ہاتھ لگ گئے۔صحابہ کرام ان سے سختی سے پیش آنے لگے تاکہ یہ جان سکیں کہ قریشی لشکر کی تعداد کتنی ہے تو نبی ﷺ نے صحابہ کرام کو سختی کرنے سے منع فرمایا دیا اور پھر خود ان غلاموں سے پوچھا کہ

" قریش روزانہ کتنے اونٹ ذبح کرتے ہیں؟ "

اس پر وہ غلام کہنے لگے کہ

" روزانہ کے نو اونٹ ذبح کیے جاتے ہیں "

یہ جاننے کے بعد رسول اللہ ﷺ نے فوراً حساب لگا لیا کہ قریش کی تعداد نو سو سے لے کر ایک ہزار کے درمیان ہے کیونکہ عام طور پر ایک اونٹ قریباً سو لوگوں کے لیے کافی ہوتا ہے اور رسول اللہ ﷺ کا یہ حساب بلکل درست ثابت ہوا کیونکہ قریش کی تعداد نو سو پچاس ( 950 ) تھی۔

یہ ہمارے پیارے نبی صلی اللہ علیہ والہ وسلم کی ذہانت و فراست کا ایک ادنیٰ سا نمونہ تھا جس میں بغیر کسی جدید ذرائع کے رسول اللہ ﷺ نے اپنے دشمنوں کی تعداد معلوم کر لی تھی۔ایسے ہی ذہانت سے بھرے اور بھی کئی واقعات سیرت کی کتب میں بیان ہوئے ہیں جنہیں پڑھ کر آپ خود پر رسول اللہ ﷺ کے امتی ہونے پر فخر کریں گے۔

اس لیے زندگی میں ایک بار وقت نکال کر کسی مستند کتاب سے آپ ﷺ اور صحابہ کرام کی سیرت مبارکہ کا مطالعہ ضرور کریں۔میں پورے دعوے اور وثوق سے کہتا ہوں کہ جب جب آپ سیرت النبی ﷺ کا مطالعہ کریں گے آپ کی طبیعت پر ایک عجیب رقت طاری ہوگی۔

جب آپ مکی دور پڑھیں گے تو آپکے دل پر رنج و غم کی کیفیت کا غلبہ رہے گا کیونکہ یہ وہ وقت تھا کہ جب ایک طرف مکہ کی تپتی ریت پر ایک عظیم حقیقت جنم لے رہی تھی وہ حقیقت جس نے دنیا کے بت توڑنے تھے دلوں کے زنگ مٹانے اور ظلمت کو نور میں بدل دینا تھا جبکہ دوسری طرف سچائی اجنبی تھی ایمان لانا جرم سمجھا جاتا تھا اور ہمارے پیارے نبی ﷺ تن تنہاء پوری دنیا کے مخالف کھڑے تھے جس میں غیروں کیساتھ ساتھ انکے اپنے بھی اس مخالفت میں شامل تھے۔یہ دور دراصل ایمان کے خالص پن کا امتحان تھا کیونکہ یہ وہ وقت تھا جب مسلمانوں کی تعداد مٹھی بھر تھی مگر ان کا یقین پہاڑوں سے بھی بلند اور مضبوط تھا۔انہوں نے ظلم سہا مگر بدلہ نہیں لیا محرومی دیکھی مگر شکر ادا کیا دکھ جھیلا مگر ایمان نہ چھوڑا۔یہ دور ہمیں یاد دلاتا ہے کہ روشنی ہمیشہ اندھیرے کے بعد آتی ہے۔اس مکی دور میں نبی ﷺ اور آپکے جانثار صحابہ کے صبر سے ہمیں یہ سبق ملتا ہے کہ جو دل اللہ کے نام پر ثابت قدم رہے دنیا تو اس کے خلاف ہو سکتی ہے لیکن تقدیر ہمیشہ اس کے حق میں ہی ہوتی ہے۔

پھر جب مدنی دور پر آپ نظر ڈالیں گے تو وہاں آپکے دل کو راحت اور سکون ملے گا چہرہ مسکراہٹ اور خوشی سے کھل اٹھے گا۔آنکھیں کبھی نم ہونگی تو کبھی اشک بار کیونکہ یہ وہ دور تھا جب ہجرت کے زخموں سے نبی ﷺ اور آپکے صحابہ کا دل ابھی تازہ تھا مگر نگاہوں میں ایک نئی صبح کی امید تھی۔جب مکہ کے مظلوم مدینہ کے معمار بنے۔جب اجنبی بھائی بنے اور ایمان و اسلام نے انہیں انسانی جسم کی مانند ایک امت بنا دیا۔مدینہ وہ بستی تھی جس نے رسول اللہ ﷺ کو گلے سے لگا لیا۔اذان کی پہلی صدا کا گونجنا۔پہلی اسلامی ریاست کا قائم ہونا۔عدل محبت بھائی چارہ اور قربانی کا صحیح معنی و مفہوم اور اسکی حقیقت آپکو مدنی دور میں جگہ جگہ دیکھنے کو ملے گی۔جہاں رسول اللہ ﷺ نے سکھایا کہ طاقت تلوار میں نہیں انصاف میں ہے۔ فتح جنگ سے نہیں بلکہ کردار سے حاصل ہوتی ہے۔اس دور سے آپکو یہ بھی معلوم ہو گا کہ جب ایمان کی بنیاد مضبوط ہو تو چھوٹی سی بستی بھی دنیا کے نقشے پر انقلاب برپا کر سکتی ہے۔مگر یہ سب آپ تب ہی جان سکیں گے جب آپ رسول اللہ ﷺ کی سیرت مبارکہ کا مطالعہ کریں گے۔

پھر سیرت کا مطالعہ کرنے کا ایک فائدہ آپکو یہ بھی ہوگا کہ جب کبھی آپ کے سامنے غیر مسلموں یا ملحدین کا رسول اللہ ﷺ اور صحابہ کرام سے متعلق کوئی اعتراض دیکھنے کو ملے گا تو آپکو اسکا پس منظر ضرور معلوم ہوگا جس سے آپ کو اشکال حل کرنے میں بھی آسانی ہوگی۔کیونکہ ہم لوگ جب بھی ملحدین کا کوئی اعتراض دیکھتے ہیں تو ہماری پریشانی کی ایک بڑی وجہ یہ بھی ہوتی ہے کہ ہم نے سیرت مبارکہ کا سنجیدگی سے مطالعہ نہیں کیا ہوتا۔چاہے رسول اللہ ﷺ کا کثرت ازواج کا معاملہ ہو یا دفاعی اور اقدامی جہاد کا مسئلہ ہو ، غرض کہ آپ ﷺ کی گھریلو زندگی سے لے کر معاشرتی زندگی تک کے تمام معاملات اور اس سب میں بہتری کے لیے اللہ اور رسول اللہ ﷺ نے کون کونسی حکمتیں اور مصلحتیں اختیار کیں اور ان سب پر جو جو اعتراضات ہوتے ہیں انکا کیا جواب ہوگا یہ سب آپکو سیرت کا مطالعہ کیے بغیر معلوم نہیں ہوگا۔

ہم نے اسلام کو اپنی زندگی میں صرف مولوی ، مسجد ، مدرسہ ، چندہ اور عبادات تک محدود کر دیا ہے اور اپنی اسلامی تاریخ سے مکمل طور پر کورے ہوئے پڑے ہیں۔افسوس کہ ہم لوگوں کو کرکٹروں ، اداکاروں سے لے کر اپنے آس پڑوس کے لوگوں تک کی زندگیوں اور انکی اولادوں تک کی خبر ہوتی ہے لیکن ہمیں یہ تک ٹھیک سے معلوم نہیں ہوتا کہ ہمارے پیارے نبی ﷺ کے کتنے بیٹے اور بیٹیاں تھیں ، انکے کیا نام تھے اور وہ کس کے بطن سے تھے۔

لہٰذا زندگی میں ایک بار کسی مستند کتاب سے سیرت النبی ﷺ کا مطالعہ ضرور کریں جس کے بعد آپکے اندر ایک روحانی انقلاب برپا ہوگا جو دنیا کی محبت اور لوگوں کی نفرت کی وجہ سے دل پر لگی سیاہی کو ایمان کی روشنی سے مٹادے گا اور نور سے منور کردے گا ان شاءاللہ۔

" کیا حجاب عورت کی حفاظت کے لیے کافی ہے؟ "ایک دوست نے وٹس ایپ پر ایک وڈیو سینڈ کی جس میں ایک باپردہ عورت جو مکمل حجاب کی...
16/06/2025

" کیا حجاب عورت کی حفاظت کے لیے کافی ہے؟ "

ایک دوست نے وٹس ایپ پر ایک وڈیو سینڈ کی جس میں ایک باپردہ عورت جو مکمل حجاب کیے ہوئے ایک گلی میں سے گزر رہی تھی کہ اتنے میں ایک لفنگے نے موقع ملتے ہی دن دہاڑے اس کیساتھ نازیبا حرکت کی اور پھر بھاگ گیا۔اس وڈیو کے حوالے سے یہ اعتراض پیش کیا گیا کہ اس میں وہ عورت مکمل حجاب میں ہے لیکن پھر بھی ایک آوارہ لڑکے نے اس کے ساتھ نازیبا حرکت کی تو اب اس پر آپ کیا کہیں گے؟ کیا یہاں بھی عورت کی ہی غلطی تھی؟ آپ لوگ تو دن رات پردہ پردہ کرتے ہیں لیکن یہاں تو پردے والی بچیاں بھی محفوظ نہیں ہیں!

اب اس حوالے سے ہماری چند گزارشات بھی ملاحظہ فرما لیں۔۔۔

پہلی بات یہ سمجھ لیں کہ اسلام یا مسلمانوں نے کبھی ایسا کوئی دعویٰ نہیں کیا کہ اگر کوئی لڑکی حجاب کر لے گی تو اس کے ساتھ چھیڑ چھاڑ یا ریپ جیسا واقعہ نہیں پیش آئے گا۔اگر کوئی ایسی بات کرتا ہے تو اسے سخت علاج کی ضرورت ہے۔

اسلام میں جہاں عورت کو پردہ کرنے کا حکم ہے وہیں مرد کو بھی اپنی نظروں کی حفاظت کرنے کا حکم ہے۔عورت کے لیے پردے کا حکم اس لیے ہے تاکہ وہ غیر محرم کی بری نظروں سے محفوظ رہ سکے اور کوئی غیر مرد اس کے جسمانی خدوخال کا اندازہ نہ لگا سکے کیونکہ اسی سے فتنہ جنم لینا شروع کرتا ہے۔اسکے علاوہ اس میں اور بھی حکمتیں ہو سکتی ہیں لیکن ہمیں وہ حکمتیں معلوم ہوں یا نہ ہوں اس سے فرق نہیں پڑتا چونکہ ہمارے لیے یہ ایک شرعی حکم ہے اس لیے ہم اس پر زور دیتے ہیں۔

اب رہ جاتا ہے یہ مسئلہ کہ حجاب کے باوجود بھی عورت محفوظ کیوں نہیں ہے تو اسے اس مثال سے سمجھیں۔۔۔

کہ جس طرح پولیس والے گولی سے بچنے کے لیے بلٹ پروف جیکٹ کا استعمال کرتے ہیں تو وہ بلٹ پروف جیکٹ انہیں صرف گولی سے ہی بچا سکتی ہے ناکہ کسی بم سے۔اگر کوئی پولیس والا بلٹ پروف جیکٹ پہنے ہوئے ہو اور اس پر کوئی بم بلاسٹ ہو جائے تو ایسی صورتحال میں وہ بلٹ پروف جیکٹ بھی فیل ہو جائے گی کیونکہ اسکا کام صرف گولی سے بچانا ہے ناکہ بم سے۔اب اگر کوئی شخص یہ کہنا شروع کر دے کہ یہ بلٹ پروف جیکٹ تو ہمیں بم سے بچا ہی نہیں سکتی لہٰذا اسکا کوئی فائدہ نہیں اسے اتار کر پھینک دینا چاہیے تو ایسے شخص کی عقل پر ماتم کرنا چاہیے۔

اسی طرح حجاب کا معاملہ ہے یہ آپ کو غیروں کی بدنظری کے تیر سے تو بچا سکتا ہے لیکن اگر کوئی وحشی درندہ آپ پر حملہ آور ہو جاتا ہے تو اس میں حجاب آپ کے کام نہیں آئے گا کیونکہ حجاب سے آپ کی جتنی حفاظت ہو سکتی تھی وہ ہو چکی اب اس سے آگے آپ مجبور ہیں لیکن اس کا یہ ہرگز مطلب نہیں ہوگا کہ اب آپ کو حجاب کی ضرورت ہی نہیں۔اسکی ضرورت پھر بھی اسی طرح رہے گی جیسے اس بلٹ پروف جیکٹ کی ضرورت ہوگی۔

اب یہاں سوال پیدا ہوتا ہے کہ پھر اس سب میں قصوروار کون ہوا؟ کیونکہ عورت تو پردے کے باوجود محفوظ نہیں اور جو عورت باپردہ ہو اسے ہم قصوروار بھی نہیں ٹہرا سکتے کہ اس کے متعلق یہ الزام لگایا جا سکے کہ اس نے مرد کو اپنی طرف متوجہ کیا۔

اس سوال کے جواب کی طرف جانے سے پہلے یہ سمجھ لیں کہ جیسے ہمارے ملک میں چوری ڈکیتی یا قت-ل و غارت کی واردات کے لیے پولیس کا ادارہ کام کرتا ہے لیکن اگر ملک میں دہشت گرد گھس آئیں اور وہ کسی جگہ کوئی بڑی کاروائی کر ڈالیں اور پولیس کے قابو میں نہ آئیں تو پھر ایسے حالات میں رینجر یا پھر آرمی کی مدد لینا پڑتی ہے اور وہ اس صورتحال کو ہینڈل کرتے ہیں۔اس میں یہ نہیں کہا جا سکتا کہ پولیس کا ادارہ اب ختم کر دینا چاہیے کیونکہ وہ ان دہشتگردوں سے لڑنے میں ناکام رہے ہیں اس لیے۔

لہٰذا اوپر پوچھے گئے سوال کا سادہ سا جواب یہ ہے کہ اس معاملے میں اوّل تو قصوروار وہ گندی ذہنیت والا شخص ہے جو اپنی نظروں کی حفاظت نہیں کرتا اور بدنظری سے نہیں بچتا جسکی وجہ سے ایک باپردہ عورت بھی محفوظ نہیں اور دوسرا قصوروار ہمارا سسٹم ہے۔یہ سب ہمارے ( system failure ) سسٹم کی ناکامی کی وجہ سے ہو رہا ہے۔ہماری ریاست اس حوالے سے خواتین کو تحفظ فراہم کرنے میں مکمل طور پر ناکام ہوچکی ہے یہی وجہ ہے کہ آئے دن خواتین کیساتھ کوئی نہ کوئی واقعہ پیش آتا ہے۔اگر ہمارا قانون صحیح طریقے سے اپنا کام کرے اور مجرموں کو انجام تک پہنچائے تو یقیناً ان جرائم پر قابو پایا جا سکتا ہے۔

اب جو دین بیزار لبرل قسم کے لوگ ایسے واقعات کی آڑ میں مولوی اور پردے کے مسئلہ پر اعتراض کرنا شروع کر دیتے ہیں اور پھر عورت مارچ نکالتے پھرتے ہیں انہیں چاہیے کہ اس سب فضولیات میں پڑنے کے بجائے حکومت وقت کیخلاف اپنا پرامن احتجاج کریں اور ان سے اپنے تحفظ کا جائز مطالبہ کریں لیکن ہمیں معاملہ اس کے برعکس نظر آتا ہے اور وہ یہ ہے کہ یہ لوگ میرا جسم میری مرضی جیسا نعرہ لگانا شروع کر دیتے ہیں جبکہ دیکھا جائے تو اگر کوئی شخص کسی عورت کا ریپ کرے گا تو ایسا ہرگز نہیں ہوگا کہ عورت یہ کہے گی " میرا جسم میری مرضی " اور وہ شخص جس کے سر پر ہوس سوار ہے وہ یہ جملہ سن کر اسے چھوڑ دے گا بلکہ وہ اپنا کام پھر بھی کرے گا اور عورت کو زیادتی کا نشانہ پھر بھی بنائے گا۔اسے اس بات سے کوئی غرض نہیں کہ کس کا جسم ہے اور کس کی مرضی چلے گی کیونکہ اس وقت صرف وہی اپنی مرضی کا مالک ہوگا۔

اسی طرح جب ہم اسلامی نظام اور اسلامی سزاؤں کی بات کرتے ہیں تو یہی وہ لوگ ہوتے ہیں جو سب سے پہلے اسکی مخالفت کرتے نظر آتے ہیں اور اس پر انسانی حقوق کی پامالی کا شور مچانا شروع کر دیتے ہیں۔حالانکہ اسلامی سزاؤں کے نفاذ سے ہمیشہ جرائم میں کمی آتی ہے اور لوگ اس سے عبرت حاصل کرتے ہیں لیکن ہمارے ہاں گنگا الٹی بہتی ہے۔

یہاں ایک اور بات ضمناً پیش کر دیتے ہیں کہ کچھ دن قبل حافظ آباد میں ایک عورت کو اس کے شوہر کے سامنے تین افراد نے اجتماعی زیادتی کا نشانہ بنایا تو اس پر بھی ہمیں یہ اعتراض سننے کو ملا تھا کہ اسلام میں عورت کو اپنے محرم کیساتھ سفر کرنے کا کہا گیا ہے لیکن حافظ آباد والے واقعہ میں تو عورت اپنے شوہر کیساتھ ہی تھی جب اسے زیادتی کا نشانہ بنایا گیا۔

تو اس اعتراض پر بھی ہمارا درج بالا وہی جواب کافی ہوگا جو پردے سے متعلق ہم نے پیش کیا ہے البتہ پھر بھی اس میں مزید اضافہ کر دیتے ہیں کہ ان سب معاملات میں ہمیں عموم اور خصوص کا فرق سمجھنا چاہیے۔اسلام ہمیں جس بات کا حکم دیتا ہے تو اسکا اثر صرف چند افراد تک محدود نہیں ہوتا بلکہ وہ ایک پورے معاشرے پر اپنا اثر رکھتا ہے۔اگر کسی معاملے میں کوئی خاص قسم کا واقعہ پیش آجاتا ہے تو اس کے لیے ہم اسلام کے عمومی احکام کو بدلنا نہیں شروع کردیں گے بلکہ غلطی کہاں ہو رہی ہے یہ دیکھیں گے اور اسے درست کریں گے۔

مثلاً ایک عورت سب سے زیادہ اپنے گھر میں محفوظ رہتی ہے لیکن اگر کوئی دو چار لوگ اس کے گھر میں چوروں کی طرح گھس کر اس عورت کو گھر کے اندر ہی زیادتی کا نشانہ بنا دیں تو کیا ہم اس پر بھی یہ کہیں گے کہ عورتیں اپنے گھروں میں رہنا چھوڑ دیں کیونکہ وہ وہاں پر محفوظ نہیں! یقیناً ایسا کوئی بھی نہیں کہے گا اور نا ہی ایسا ہو سکتا ہے۔

آخری بات ، یہاں یہ بات مدنظر رہے کہ زیادتی کے واقعات کی ریشو پردے دار بچیوں کی نسبت بے پردہ پھرنے والوں کے حوالے سے زیادہ ہے۔پردے میں رہنے والی کے زیادتی کا نشانہ بننے کا چانس پھر بھی کم ہی رہتا ہے کیونکہ ایک مرد فطرتی طور پر بے پردہ لڑکی کی طرف زیادہ مائل ہوتا ہے جبکہ پردے دار خاتون کو زیادہ تر اگنور کر دیا جاتا ہے بشرطیکہ اس نے جو پردہ کیا ہے وہ واقعی میں پردہ ہی ہو ناکہ پردے کے نام پر مذاق ہو۔

✒️ محمد مدثر علی راؤ

📌 اعلان جہا--د پر اعتراضات اور منطقی مغالطوں کا جواب!✒️ محمد مدثر علی راؤ🔵 اس تحریر میں ہم دو چیزیں کلیئر کریں گے🔴 [ پہل...
19/04/2025

📌 اعلان جہا--د پر اعتراضات اور منطقی مغالطوں کا جواب!

✒️ محمد مدثر علی راؤ

🔵 اس تحریر میں ہم دو چیزیں کلیئر کریں گے

🔴 [ پہلی وہ الجھن جو جہلاء کی طرف سے منطقی مغالطوں کی وجہ سے پیدا کی گئی ہے ]

🔴 [ دوسرا ان اعتراضات کے جوابات جن میں علماء کرام کو جنگ نہ لڑنے کا طعنہ دیا جاتا ہے ]

جب سے جید علماء کرام کی طرف سے فلستین کے حق میں جہاد--د کا اعلان کیا گیا تب سے موسمی کیڑوں کی طرح بہت سارے منافقین بھی سامنے آنا شروع ہوگئے ہیں جو اب تک صرف مذہبی ہونے کا دیکھاوا کیے ہوئے تھے لیکن اعلان جہا--د کے بعد جس انداز میں اس منافق طبقہ نے علماء کرام کی ذات پر اعتراضات کا سلسلہ شروع کیا اس سے یہ بلکل واضح ہو گیا کہ یہ لوگ کسی حال میں بھی خوش ہیں اور نا ہی یہ کسی صورت میں مسلمانوں کے خیر خواہ ہو سکتے ہیں۔ہمیں زیادہ افسوس اس بات کا ہے کہ جاہل تو جاہل لیکن ہمارے ہاں خاصے پڑھے لکھے لوگوں نے بھی اس قدر بے ڈھنگے اور بودے اعتراضات پیش کیے کہ جہلاء کو بھی پیچھے چھوڑ دیا۔اس سب میں ان لوگوں نے عام عوام الناس کو جن منطقی مغالطوں کے ذریعہ دھوکہ دیا ہے اسے سمجھنے کی ضرورت ہے۔

ہمارے ہاں لوگوں نے ایک روش اپنا لی ہے کہ اگر کوئی شخص لین دین کے معاملے میں دو نمبری سے کام لے رہا ہوتا ہے تو دوسرے لوگ بھی اسے دلیل بناتے ہوئے خود بھی وہی غلط کام کرنا شروع کر دیتے ہیں اور جب آپ انہیں یہ سمجھاتے ہیں کہ بھائی یہ جو کام آپ کر رہے ہیں اسلام میں اسکی اجازت نہیں ہے تو آگے سے ہمارے لوگوں کا جواب یہ ہوتا ہے کہ " بھائی فلاں شخص بھی تو یہی کام کر رہا ہے " یا پھر اسکا جواب یہ ہوتا ہے کہ " مارکیٹ میں موجود سارے لوگ ہی یہی کام کر رہے ہیں میں کونسا اکیلا کر رہا ہوں۔ "

اب دیکھیں یہاں پر سوال یہ پیدا ہوا ہے کہ کیا کسی غلط کام کو پانچ سو لوگ کریں گے تو وہ ٹھیک ہو جائے گا؟ یقیناً آپکا جواب یہی ہوگا کہ وہ کام تو غلط ہی رہے گا البتہ گناہ گار سب ہی ہونگے۔

کچھ ایسا ہی معاملہ اعلان جہا--د کے بعد دیکھنے کو ملا۔۔۔

اعلان جہا--د کے بعد جو اعتراض سب سے زیادہ دیکھنے کو ملا وہ یہ کہ جن مفتیان کرام نے جہا--د کا اعلان کیا ہے کیا وہ خود یا انکے بچے جہا--د پر جا رہے ہیں؟ اس اعتراض کے جواب کی طرف ہم بعد میں آئیں گے پہلے اس میں دیے گئے مغالطے کو حل کرتے ہیں!

دیکھیں یہاں پر معترض نے جو مغالطہ دینے کی کوشش کی ہے اسے فلاسفی میں Ad Hominem Fallacy کہا جاتا ہے جس میں کسی شخص کی دلیل یا اس کے مؤقف کو نظر انداز کر کے اسکی شخصیت پر حملہ کرنا شروع کر دیا جاتا ہے جس سے اصل بات دب کر رہی جاتی ہے اور بحث کا کوئی نتیجہ نہیں نکل پاتا۔

یہی حرکت اس معاملے میں کی گئی ہے کہ علماء کرام نے جہا--د کی فرضیت کے حوالے سے امت کو آگاہ کیا اور ہمارے ہاں اس منافق اور بزدل طبقے نے اس فتویٰ کو تسلیم کرنے یا دلیل سے اس پر بات کرنے کی بجائے کہیں مفتی تقی عثمانی صاحب کی BMW گاڑی کو نشانہ بنایا اور کہیں ان کے بیٹوں پر تنقید کرنا شروع کردی۔

جب کہ ہونا تو یہ چاہیے تھا کہ اگر آپ کو علماء کرام کے فتوے سے کوئی اختلاف ہے تو آپ اسے قرآن و حدیث کی روشنی میں غلط ثابت کر کے دیکھائیں نا کہ یہ کہیں کہ مفتی صاحب خود کب جہا--د پر جائیں گے یا انکے بیٹے کیوں نہیں جا رہے۔

جو لوگ یہ اعتراض کرتے ہیں کہ مفتی صاحب خود کیوں نہیں اپنے فتوے پر عمل کرتے؟ تو ایسے لوگ بھی اسی Ad Hominem Fallacy کے شکار ہیں۔

اسے مثال سے سمجھیں۔۔۔

ایک شخص آپکو آ کر کہتا ہے کہ بھائی آپ نماز پڑھا کریں ہم پر اللہ نے پانچ وقت کی نماز فرض کی ہے تو آگے سے آپ اس شخص کو یہ کہنا شروع کر دیں کہ جس دن تم نماز پڑھنا شروع کرو گے اس دن تم مجھے نماز پڑھنے کا کہنا یا پھر اس دن میں بھی تمہارے ساتھ نماز پڑھنا شروع کردوں گا۔

اب یہاں پر سمجھنے والی بات یہ ہے کہ کیا اللہ تعالیٰ نے نماز کے لیے کہیں پر یہ شرط عائد کی ہے کہ جب تک کوئی دوسرا شخص نماز نہیں پڑھے گا تب تک تمہاری نماز بھی نہیں ہوگی؟ اور کیا روز محشر اللہ پاک کے ہاں ایسا کوئی عذر قابل قبول ہوگا کہ آپ کہیں یا اللہ چونکہ فلاں شخص نماز نہیں پڑھتا تھا لہٰذا میں نے بھی نماز نہیں پڑھی!

ہر ذی شعور انسان بخوبی سمجھتا ہے کہ ایسے بے نمازی شخص کا یہ عذر قبول نہیں ہوگا۔جو لوگ اس قسم کے اعتراضات کرتے ہیں ان سے سوال ہونا چاہیے کہ کیا تم واقعی میں جہا--د کے حق میں ہو یا نہیں؟ اگر تو وہ جہا--د کے حق میں نا ہوں پھر ان سے اس کے برعکس کوئی شرعی حکم یا پھر مسئلہ کا حل پوچھنا چاہیے اور جو لوگ یہ کہیں کہ ہم لوگ ویسے تو جہا--د کے حق میں ہی ہیں لیکن پہلے مفتی تقی عثمانی صاحب خود جائیں تو ایسے لوگوں سے پوچھنا چاہیے کہ کیا تم لوگ نماز پڑھتے وقت بھی مفتی تقی عثمانی صاحب کا انتظار کرتے ہو؟ کہ جب مفتی صاحب پڑھیں گے تب ہی ہم نماز پڑھیں گے! جبکہ نماز تو تم دونوں پر ہی فرض ہوئی ہے۔

احباب کرام فتویٰ دینا علماء کرام کی ذمہ داریوں میں سے ایک اہم ذمہ داری ہے۔اگر آج وہ یہ کام نہیں کریں گے تو کل ان سے اللہ کے ہاں اس پر سوال ہوگا لہٰذا جس کی جو ذمہ داری ہو اسے وہ پوری کرنی چاہیے۔

اب ہم اعتراضات کی طرف آتے ہیں۔۔۔

اس سب میں ہمیں جو بنیادی اعتراض دیکھنے کو ملتا ہے وہ یہی ہوتا ہے کہ یہ علماء کرام یا مفتی تقی عثمانی صاحب خود کیوں نہیں جاتے جہا--د پر؟ یا اپنے بچوں کو کیوں نہیں بھیجتے انکو دوسروں کے بچے مروانے کا شوق کیوں ہے؟

اعتراض کا جواب دینے سے پہلے ہم یہ عرض کرتے چلیں کہ جو لوگ یہ کہتے ہیں کہ علماء کرام کو دوسروں کے بچے مروانے کا شوق کیوں ہے تو دراصل یہ وہ لوگ ہوتے ہیں جو ڈائریکٹ اسلام کو تو گالی نہیں دے سکتے تو وہ علماء کرام کو گالی دے کر اپنا دل ہلکا کرتے ہیں۔اسی طرح یہ لوگ چونکہ جہا--د جیسے مقدس فریضہ کیخلاف کھل کر تو بات نہیں کر پاتے کیونکہ انہوں نے اسلام کا لبادہ جو اوڑھ رکھا ہے لہٰذا یہ لوگ ایسے اعتراضات کر کے تسکین حاصل کرتے ہیں۔حالآنکہ اگر ہم آپ صلی اللہ علیہ والہ وسلم کی خوبصورت سیرت مبارکہ کو دیکھیں تو جہاں ہمیں غزوات کا تذکرہ ملتا ہے وہیں ہمیں سرایا کا بھی ذکر ملتا ہے کہ جس میں رسول اللہ صلی اللہ علیہ والہ وسلم نے خود بنفس نفیس تو شرکت نہیں کی البتہ کسی امیر کی قیادت میں صحابہ کرام کا لشکر بنا کر بھیجا گیا۔اب کیا یہ منافق قسم کا نام نہاد مذہبی طبقہ اللہ کے رسول صلی اللہ علیہ والہ وسلم پر بھی معاذاللہ اس قسم کے اعتراضات کریں گے؟ کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ والہ وسلم خود کیوں نہیں شامل ہوئے دوسروں کو کیوں بھیجتے رہے؟

اب ہم اعتراض کی طرف آتے ہیں کہ مفتی تقی عثمانی صاحب خود اسرا--ئیل جہاد کرنے کیوں نہیں جاتے ہیں؟

سب سے پہلے جہا--د سے متعلق اس بات کو سمجھیں کہ جہا--د کا فتویٰ دینا ایک الگ مسئلہ ہے اور اس میں شامل ہونا ایک الگ بات ہے۔

جہا--د کا فتویٰ دینا اور جہا--د میں شمولیت اختیار کرنا یہ دونوں ایک دوسرے کو لازم و ملزوم نہیں ہیں اور نا ہی ایسا ہے کہ فتوی صرف وہی مفتی دے گا جو جہا--د میں شامل ہوگا۔

مثلاً اگر مفتی صاحب آپکو رمضان کے روزے کی فرضیت کا بتا رہے ہیں تو اس کا یہ مطلب نہیں کہ آپ آگے سے یہ اعتراض کریں کہ مفتی صاحب آپ خود کیوں نہیں روزہ رکھتے؟ جبکہ ہو سکتا ہے کہ وہ مفتی صاحب کسی ایسی بیماری کے شکار ہوں کہ جس میں ان کے لیے روزہ رکھنا ممکن ہی نہ ہو۔

دوسری بات جو کہ سب سے اہم ہے وہ یہ کہ جہا--د کی کچھ اقسام ہیں جن میں جہا--د بالعلم ، باللسان ، بالمال اور بالقتال بھی شامل ہے۔ہر شخص اپنی استطاعت کے مطابق اس میں حصہ لے سکتا ہے کیونکہ ہر شخص کا عملی طور پر جنگ لڑنا یہ ضروری نہیں ہے اور نا ہی یہ ضروری ہے کہ ایک شخص جسمانی لحاظ سے کمزور ہو اور اس نے زندگی میں ایک مکھی بھی نا ماری ہو اس سے آپ میدان جنگ میں اتر کر بندوق چلانے کا مطالبہ کریں اور ایسا نا کرنے پر اس پر تنقید کرنا شروع کردیں کیونکہ یہی صورتحال ہم مفتی تقی عثمانی صاحب کے متعلق دیکھ رہے ہیں کہ ایک ضعیف العمر شخص سے کہ جس نے ساری زندگی قلمی اور لسانی جہا--د کیا اس سے یہ مطالبہ کرنا کہ وہ جا کر جدید اسلحہ سے لیس اسرا--ئیلی فوجیوں سے جنگ لڑے یہ کس قدر مضحکہ خیز بات ہے آپ خود اندازہ لگا سکتے ہیں۔

مختصراً یہ کہ یہ ضروری نہیں ہے کہ آپ بذات خود جنگ میں شریک ہوں جیسے غزوۂ تبوک کے موقع پر اللہ کے رسول صلی اللہ علیہ والہ وسلم نے حضرت علی رضی اللہ عنہ کو اپنا نائب مقرر کرتے ہوئے مدینہ منورہ میں چھوڑا تھا اور انہیں عملی طور پر اپنے ساتھ شامل نہیں کیا تو کیا اب اس پر بھلا کوئی اعتراض کرنے کی جسارت کر سکتا ہے؟

مفتی تقی عثمانی صاحب کی خدمات سے کون شخص واقف نہیں ہے؟ کہ انہوں نے ساری زندگی اسلام کا دفاع کرنے اور باطل کا رد کرنے پر گزار دی اور ابھی بھی وہ اسرا--ئیل کی بھرپور مذمت کرنے کے ساتھ ساتھ امریکہ کو بھی للکار رہے ہیں اور بائیکاٹ مہم الگ سے چلا رہے ہیں لیکن انکی ذات پر تنقید کرنے والوں کو تو اتنی بھی توفیق نہیں ہوئی کہ وہ کم از کم اتنا ہی کر سکتے لیکن انہیں تنقید کرنے سے فرصت ہی کہاں۔

اس کے بعد ایک اعتراض یہ کیا جاتا ہے کہ اگر علماء کرام پاکستان سے اسرا--ئیل نہیں جا سکتے تو وہ یورپین ممالک سے ہوتے ہوئے اسرا--ئیل پہنچ جائیں اور وہاں جا کر جنگ لڑیں۔

حالآنکہ اس ذہنی مفلوج طبقے کو اتنی عقل نہیں ہے کہ جنگ لڑنا کوئی گڈے گڑیا کی شادی کا کھیل نہیں بلکہ اس کے لیے آپکو جنگی صلاحیت حاصل کرنا پڑتی ہے لوگوں کو ہتھیار کا استعمال کرنا اور مضبوط اعصاب کیساتھ دشمن پر وار کرنا یہ سب سیکھنا پڑتا ہے اور یہ سارے کام ملکی فوج کی ذمہ داری ہے کہ وہ اپنے نوجوانوں کو یہ سب ٹریننگ دے اور انہیں میدان جنگ میں اترنے کا راستہ فراہم کرے۔

خلاصہ کلام یہ ہے کہ۔۔۔

اگر آپ جہا--د بالقتال کی بات کریں گے تو یہ لوگ اس پر بھونڈے قسم کے اعتراضات کرتے ہوئے اسے دہشت گردی سے جوڑ دیں گے۔

اگر آپ جہا--د بالمال کی بات کریں گے تو یہ لوگ آپکو غربت کا رونا رو کر دیکھا دیں گے اور کہیں گے کہ آپ کے پڑوس میں جو غریب کی بیٹی کنواری بیٹھی ہے اسکی شادی پر یہ پیسہ لگاؤ۔

اگر آپ جہا--د بالعلم کی بات کریں گے تو یہ لوگ آپکو عمل نہ کرنے کا طعنہ دیں گے کہ پہلے اس پر تم خودعمل کرو پھر ہمیں یہ قرآن سنت کی تعلیم دینا۔

اگر آپ جہا--د باللسان کی بات کریں گے تو یہ لوگ آپ کو میدان جنگ میں اتر کر لڑنے کا کہیں گے اور طنز کریں گے کہ زبان سے بات کرنے سے کچھ نہیں ہوتا۔

اگر آپ بائیکاٹ کی بات کریں گے تو اس پر بھی آپ پر یہ اعتراض کیا جائے گا کہ موبائل ، سوشل میڈیا وغیرہ یہ سب بھی چلانا چھوڑ دو۔

الغرض کہ آپ جس بھی پہلو سے بات کریں گے یہ لوگ ہمیشہ اعتراضات کر کے اسے رد کر دیں گے کیونکہ یہ منافق طبقہ کسی حال میں خوش نہیں اور اسکا کام ہمیشہ اغیار کے تلوے چاٹنا اور اسکے سامنے گھٹنے ٹیکنا اور اپنے لوگوں کو مایوس کرنا ہے۔

آخر پر یہ ناچیز بغض سے بھرے اس منافق طبقے کو یہ مشورہ دیتا ہے کہ۔۔۔

تمہارے لیے علماء کرام کو اپنی تنقید کا نشانہ بنانا تو بہت آسان ہے جبکہ تم بھی جانتے ہو اور ہم بھی جانتے ہیں کہ ان علماء کرام کی رسائی صرف اعلانات ، تقریرات اور بائیکاٹ جیسی مہم چلانے تک ہی محدود ہے البتہ اگر تم لوگ اتنے ہی حق سچ کی بات کرنے والے اور فلستینیوں کا درد رکھنے والے ہو تو ایسا کرو پھر میدان میں نکلو اور ہمارے ملک کے آرمی چیف کو براہ راست للکارو اور علماء کرام کی طرح آرمی چیف کو اپنی تنقید کا نشانہ بناؤ لیکن تم یہ جرأت نہیں کر سکتے کیونکہ تمہارا سارا زور صرف علماء کرام پر ہی چلتا ہے اور اس سب کی وجہ صرف تمہارا ان سے بغض ہے۔

14/04/2025

" ان کے انگ انگ سے بزدلی ٹپکتی ہے "

ہمیں اسرا--ئیل کو پہلے دن ہی تسلیم کر لینا چاہیے تھا تاکہ یہ مظالم نہ ہوتے [ جاوید غامدی ]

میں نے جب غامدی صاحب کی یہ بات سنی تو پہلی بات جو میرے ذہن میں آئی وہ یہ تھی کہ۔۔۔

اگر یہ بندہ رسول اللہ کے دور میں موجود ہوتا تو کف--ار کے مظالم کو دیکھ کر اس نے وہاں بھی یہی کہنا تھا۔۔۔

کہ ہمیں ابو جہل و ابو لہب کی بات کو پہلے دن سے ہی تسلیم کر لینا چاہیے تھا تاکہ ہم پر یہ مظالم نہ ہوتے۔

✍🏻 محمد مدثر علی راؤ

غامدی منطق : فرعون کو سجدہ کرو ، موسیٰؑ کو مشورہ دو۔آج کچھ "صاحبِ منطق" نرگسیت میں ڈوب کر ہمیں سمجھا رہے ہیں کہ جنگ نہ ک...
14/04/2025

غامدی منطق : فرعون کو سجدہ کرو ، موسیٰؑ کو مشورہ دو۔

آج کچھ "صاحبِ منطق" نرگسیت میں ڈوب کر ہمیں سمجھا رہے ہیں کہ جنگ نہ کرو ، مذمت نہ کرو ، شور نہ مچاؤ ، امریکہ بڑا ہے ، اسرائیل طاقتور ہے ، اور تم کمزور ہو۔
یعنی تم جوتا کھاؤ ، مگر آواز نہ نکالو!
یہ منطق وہی ہے جو کبھی فرعون کے دربار میں لکھی جاتی تھی "طاقتور کے خلاف بولنا حماقت ہے ، عقل یہ ہے کہ گردن جھکا دو!"
ان کا فرمان یہ ہے کہ مذمت سے کچھ نہیں ہوتا ، احتجاج بےکار ہے ، بائیکاٹ بچگانہ عمل ہے ، جنگ حماقت ہے ، اور فتویٰ صرف کاغذ کی سیاہی ہے۔
یہ وہی منطق ہے جو موسیٰؑ سے بھی کہلوائی گئی تھی :"اِذۡہَبۡ أَنتَ وَرَبُّكَ فَقَاتِلَآ إِنَّا هَـٰهُنَا قَـٰعِدُونَ"
(تُو اور تیرا رب جا کر لڑو، ہم تو یہاں بیٹھے ہیں۔)

ایسے میں سوال یہ نہیں کہ امریکہ کتنا طاقتور ہے سوال یہ ہے : تمہارا ضمیر کتنا زندہ ہے؟
یہ وہی منطق ہے جس نے فرعون کے دربار میں کھڑے ہو کر موسیٰ (علیہ السلام) سے کہا تھا :
إِنَّا لَمُدْرَكُونَ"
(ہم تو پکڑے گئے!)
اور موسیٰ نے کہا تھا :
"كَلَّا إِنَّ مَعِيَ رَبِّي سَيَهْدِينِ"
(ہرگز نہیں! میرا رب میرے ساتھ ہے ، وہی راہ دکھائے گا!)

غامدی منطق والے کہتے ہیں : طاقتور سے نہ ٹکراؤ ، ورنہ مارے جاؤ گے۔
مگر قرآن کہتا ہے : "كم من فئةٍ قليلةٍ غلبت فئةً كثيرةً بإذن الله"
(اکثر کمزور جماعتیں اللہ کے حکم سے بڑی طاقتوں پر غالب آ چکی ہیں)

غامدی منطق والے کہتے ہیں : "ہماری پالیسی ناکام ہے"
ہم کہتے ہیں : تمہاری غیرت مر چکی ہے!

غامدی منطق والے کہتے ہیں : "مذمت سے کچھ نہیں ہوتا"
ہم کہتے ہیں: تو کیا خاموشی سے نسل کشی برداشت کرنا انسانیت ہے؟

کہ : جب نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے بدر ، احد ، خندق ، حنین ، تبوک ، خیبر ، فتح مکہ یہ سب غزوات کیے تو تمہارے جیسے لوگ اگر ہوتے تو کہتے : "صلی اللہ علیہ وسلم کی پالیسی ناکام ہے ، جنگ نہ کریں ، صلح کریں ، طاقتوروں سے نہ ٹکرائیں!

مگر اسلام کی تاریخ بتاتی ہے : طاقت سے نہیں ، غیرت ، ایمان ، صبر ، اور استقامت سے جیت آتی ہے۔
غامدی منطق والے تم سے جنگ چھیننا چاہتے ہیں ، تمہاری غیرت کو مفلوج کرنا چاہتے ہیں ، تمہیں اتنا خوف زدہ کر دینا چاہتے ہیں کہ تم بچاؤ کو حکمت سمجھنے لگو اور مقاومت کو انتہا پسندی۔
ہماری جنگ کبھی تلوار سے ، کبھی قلم سے ، کبھی بائیکاٹ سے ، کبھی دعا سے۔
مگر ہے ضرور!

غامدی کہتا ہے :"یہ مذہبی طبقہ جنگ چاہتا ہے"

ہم کہتے ہیں : نہیں ، مذہبی طبقہ صرف یہ کہتا ہے کہ غلامی نہیں چاہیے!
اور اگر غلامی سے نکلنے کی قیمت جنگ ہے ہم قافلۂ شہادت میں سب سے آگے کھڑے ہیں۔

اور رہی بات ، کہ فرشتے کیوں نہیں اتر رہے ؟
قرآن تو آج بھی وہی ہے ، جو بدر کے دن کہہ رہا تھا : "إِذْ تَسْتَغِيثُونَ رَبَّكُمْ فَاسْتَجَابَ لَكُمْ أَنِّي مُمِدُّكُم بِأَلْفٍ مِّنَ الْمَلَائِكَةِ مُرْدِفِينَ"
(جب تم اپنے رب سے مدد مانگ رہے تھے ، تو اُس نے جواب دیا کہ میں تمہاری مدد ایک ہزار فرشتوں سے کروں گا)
لیکن اُس وقت میدان تھا ، قربانی تھی ، ایمان تھا ، عمل تھا ، اخلاص تھا۔
آج کیا ہے؟
بزدلی ، بائیکاٹ کا مذاق ، جہاد کا انکار ، اور ایمان کی جگہ فلسفہ!
آج تم پوچھتے ہو :"فرشتے کیوں نہیں آتے؟"
تو سنو!
کیونکہ تم نے ان کی پرواز کے راستے خود بند کر دیے!
تم نے قرآن کے حکم "قُم فأنذر" کو "انا ھھنا قاعدون" سے بدل دیا ہے۔
اور پھر وہ لوگ جو دن رات کہانی سناتے ہیں "فرشتے کیوں نہیں آئے؟"
اصل میں تمہیں ایمان سے نکالنے کا راستہ تلاش کر رہے ہیں۔
پہلے عمل سے روکا ، پھر زبان بند کی ، پھر نصرت کی تاخیر کو "دلیلِ الحاد" بنا دیا۔
یہ وہی منطق ہے جو شیطان نے آدم سے بغض میں اپنائی تھی۔
آج تمہارے ایمان سے بغض رکھنے والے وہی کر رہے ہیں۔
تمہارے اردگرد دو آوازیں ہیں:
1. ابو جہل کی آواز : لڑائی فضول ہے ، تم کمزور ہو ، کچھ نہیں بدلے گا۔
2. حضرت حبیب نجّار کی آواز: "یَا قَوْمِ اتَّبِعُوا الْمُرْسَلِينَ.." (اے قوم! ان رسولوں کا ساتھ دو)
فیصلہ تمہارا ہے کہ تم اصحابِ بدر بننا چاہتے ہو
یا منافقینِ مدینہ جنہوں نے کہا : "لَوْ نَعْلَمُ قِتَالًا لَّاتَّبَعْنَاكُمْ..."
(اگر ہمیں معلوم ہوتا کہ واقعی جنگ ہے تو ہم ضرور تمہارے ساتھ آتے!
اور سنو۔
نصرتِ الٰہی فضا مانگتی ہے ، واویلا نہیں۔
پہلے اس فضاء کو پیدا کرو ، پھر دیکھنا آسمان کیسے تمہارے قدم چومتا ہے!

اور علامہ اقبال نے محض شعر نہیں کہا تھا ، تاریخِ نصرتِ الٰہی کا راز فاش کیا تھا :
"فضائے بدر پیدا کر کہ فرشتے تیری نصرت کو
اتر سکتے ہیں گردوں سے ، قطار اندر قطار اب بھی"

یعنی نصرتِ الٰہی کا وعدہ آج بھی باقی ہے ، مگر شرط وہی ہے جو بدر کے دن تھی :
ایمان کی صداقت ، عمل کی جرأت ، قربانی کا جذبہ ، اور اللہ پر کامل توکل۔

مدثر فاروقی ✒️

رضی اللّٰہ عنھم و رضوا عنہ❣️📝 قسط - 6📌 سیدنا عمر رضی اللہ عنہ اورسیدنا عمرو بن عاص رضی اللہ عنہ سے تادیبی سزا کے بدلہ کی...
02/01/2025

رضی اللّٰہ عنھم و رضوا عنہ❣️

📝 قسط - 6

📌 سیدنا عمر رضی اللہ عنہ اورسیدنا عمرو بن عاص رضی اللہ عنہ سے تادیبی سزا کے بدلہ کی ضعیف روایات

۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔

🛑 نبی ﷺ نے عمرو بن عاص رضی اللہ عنہ کے ایمان کی گواہی دی ہے
حدثنا ابو كامل ، حدثنا حماد ، اخبرنا محمد بن عمرو ، عن ابي سلمة ، عن ابي هريرة ، قال: قال رسول الله صلى الله عليه وسلم: " ابنا العاص مؤمنان: عمرو، وهشام" .
حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے : کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا عاص بن وائل کے دونوں بیٹے عمرواورہشام (رضی اللہ عنھما) مومن ہیں۔

📚 ( مسند احمد- مسند ابی ھریرۃ۔ مکتبہ رحمانیہ اردو- حدیث نمبر 8029 )

🛑 سیدنا عمرو بن عاص رضی اللہ عنہ نبی علیہ السلام کے وہ عظیم صحابی ہیں جن کو محض اس وجہ سے مطعون کیا جاتا ہے کہ انہوں قصاص عثمان رضی اللہ عنہ کے مطالبہ میں سیدنا معاویہ رضی اللہ عنہ کا ساتھ دیا۔

🛑 جب یہ بات کی جاتی ہے کہ

مولانا مودودی کا روایات کو لینے کا معیار کوئی اصولی چیز نہیں ، کہ روایت باسند ہو ، سند بھی صحیح ہو،اصول محدثین لاگو کئے گئے ہوں،
بلکہ مولانا مودودی ایک خاص فکر کے تحت ذاتی پسند و ناپسند کی بنیاد پر روایات لیتے ہیں اور ایک کہانی ترتیب دیتے ہیں!

مولانا مودودی خلافت و ملوکیت ص95 پر ایک واقعہ بیان کرتے ہوئے سیدنا عمر رضی اللّٰہ عنہ کا تادیبی طور دی گئی سزا کا بدلہ دلوانے روایات لے کر آئے ہیں کہ سیدنا عمر رضی اللّٰہ عنہ نے سیدنا عمرو بن عاص رضی اللّٰہ عنہ سے بدلہ دلواتے ہوئے ایک شخص کو کہا کہ اٹھ اور اپنا بدلہ لے ، پھر آخر کار سیدنا عمرو بن عاص رضی اللّٰہ عنہ کو ہر کوڑے کے بدلے دو اشرفیاں دے کر اپنی پیٹھ بچانی پڑی۔۔

انا للہ وانا الیہ راجعون

🟣 پہلا حوالہ کتاب الخراج لابی یوسف کا ہے ، خلافت و ملوکیت میں اسی کتاب سے دو روایات درج کی گئی ہیں

1️⃣: پہلی روایت ضعیف:

اس 👇 میں بعض المشیخۃ ( بعض مشائخ) مجہول ہیں۔

قَالَ: وَحَدَّثَنِي بَعْضُ الْمَشْيَخَةِ عَنْ عَمْرِو بْنِ مَيْمُونَ قَالَ: خَطَبَ عُمَرُ بْنُ الْخَطَّابِ النَّاسَ فَقَالَ: إِنِّي وَاللَّهِ مَا أَبْعَثُ إِلَيْكُمْ عُمَّالِي لِيَضْرِبُوا أَبْشَارَكُمْ٢ وَلا لِيَأْخُذُوا مِنْ أَمْوَالكُم؛ وَلَكِنِّي أبعثهم إِلَيْكُم ليعملوكم دِينَكُمْ وَسُنَّةَ نَبِيِّكُمْ؛ فَمَنْ فُعِلَ بِهِ سِوَى ذَلِكَ فَلْيَرْفَعْهُ إِلَيَّ؛ فواللذي نَفْسِي بِيَدِهِ لأَقُصَّنَّهُ مِنْهُ؛ فَوَثَبَ عَمْرُو بْنُ الْعَاصِ٣ فَقَالَ: يَا أَمِيرَ الْمُؤْمِنِينَ أَرَأَيْتَ إِنْ كَانَ رَجُلٌ مِنَ الْمُسْلِمِينَ وَالِيًا عَلَى رَعِيَّةٍ فَأَدَّبَ بَعْضَهُمْ إِنَّكَ لَتَقُصَّهُ مِنْهُ؟ فَقَالَ: أَيْ وَالَّذِي نَفْسِي بِيَدِهِ لأَقُصَّنَّهُ مِنْهُ، وَقَدْ رَأَيْت رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَقُصُّ مِنْ نَفْسِهِ؛ أَلا لَا تَضْرِبُوا الْمُسْلِمِينَ فَتُذِلُّوهُمْ، وَلا تَمْنَعُوهُمْ حُقُوقَهُمْ فَتُكَفِّرُوهُمْ، وَلا تَنْزِلُوا بِهِمُ الْغِيَاضَ فَتُضَيِّعُوهُمْ

2️⃣: دوسری روایت ضعیف :اس میں انقطاع ہے

قَالَ: وَحَدَّثَنِي عَبْدُ الْمَلِكِ بْنُ أَبِي سُلَيْمَانَ، عَنْ عَطَاءٍ قَالَ: كَتَبَ عُمَرُ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ إِلَى عُمَّالِهِ أَنْ يُوَافُوهُ باموسم١، فَوَافَوْهُ؛ فَقَامَ فَقَالَ: يَا أَيُّهَا النَّاسُ إِنِّي بَعَثْتُ عُمَّالِي هَؤُلاءِ وُلاةً بِالْحَقِّ عَلَيْكُمْ وَلَمْ أَسْتَعْمِلْهُمْ لِيُصِيبُوا مِنْ أَبْشَارِكُمْ وَلا مِنْ دِمَائِكُمْ وَلا مِنْ أَمْوَالِكُمْ؛ فَمَنْ كَانَتْ لَهُ مَظْلَمَةٌ عِنْدَ أَحَدٍ مِنْهُمْ فَلْيَقُمْ. قَالَ: فَمَا قَامَ مِنَ النَّاسِ يَوْمَئِذٍ إِلا رَجُلٌ وَاحِدٌ فَقَالَ: يَا أَمِيرَ الْمُؤْمِنِينَ، عَامِلُكَ ضَرَبَنِي مِائَةَ سَوْطٍ؛ فَقَالَ عُمَرُ: أَتَضْرِبُهُ مِائَةَ سَوْطٍ؟ قُمْ فَاسْتَقِدْ مِنْهُ؛ فَقَامَ إِلَيْهِ عَمْرُو بْنُ الْعَاصِ فَقَالَ لَهُ: يَا أَمِيرَ الْمُؤْمِنِينَ إِنَّكَ إِنْ تَفْتَحْ هَذَا عَلَى عُمَّالِكَ كَبُرَ عَلَيْهِمْ، وَكَانَتْ سُنَّةً يَأْخُذُ بِهَا مَنْ بَعْدَكَ؛ فَقَالَ عُمَرُ: أَلا أُقِيدُهُ مِنْهُ، وَقَدْ رَأَيْت رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يُقِيدُ مِنْ نَفْسِهِ؟ قُمْ فَاسْتَقِدْ؛ فَقَالَ عَمْرُو: دَعْنَا إِذًا فَلْنُرْضِهِ. قَالَ فَقَالَ: دُونَكُمْ. قَالَ: فَأَرْضَوْهُ بِأَنِ اشْتَرَيْتُ مِنْهُ بِمِائَتَيْ دِينَارٍ، كُلَّ سَوط بدينارين۔

🔹 سیدنا عمر رضی اللہ عنہ پر حملہ ہوا ذوالحجہ 23 ہجری میں

📚 ( تقریب التھذیب-ص453-ط بیت الافکار )

اور عطاء بن ابی رباح پیدا ہوئے 27 ھجری میں

📚 ( تھذیب التھذیب لابن حجرؒ-ج3- ص103-ط مؤسسۃ الرسالۃ )

3️⃣ : حاشیہ میں جو حوالاجات ہیں

🕳️ مسند ابو داود الطیالسی:سند ضعیف ہے

حَدَّثَنَا أَبُو دَاوُدَ، حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ أَبِي سُلَيْمَانَ، حَدَّثَنَا سَعِيدٌ الْجُرَيْرِيُّ، عَنْ أَبِي نَضْرَةَ، عَنْ أَبِي فِرَاسٍ، قَالَ: خَطَبَ عُمَرُ بْنُ الْخَطَّابِ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ فَقَالَ: " أَلَا فَمَنْ ظَلَمَهُ أَمِيرُهُ فَلْيَرْفَعْ ذَلِكَ إِلَيَّ أُقِيدُ مِنْهُ، فَقَامَ عَمْرُو بْنُ الْعَاصِ فَقَالَ: يَا أَمِيرَ الْمُؤْمِنِينَ لَئِنْ أَدَّبَ رَجُلٌ رَجُلًا مِنْ أَهْلِ رَعِيَّتِهِ لَتُقِصُّهُ مِنْهُ؟ قَالَ: كَيْفَ لَا أُقِصُّهُ مِنْهُ وَقَدْ «رَأَيْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يُقِصُّ مِنْ نَفْسِهِ

🕳️ تاریخ ابن الاثیر :تاریخ ابن الاثیر میں تو اس کی سند موجودہی نہیں ہے ۔(نیز اس میں بھی یہ قصہ بیان کرنے والا ابوفراس النھدی مجہول راوی ہے)

وقال أبو فراس: خطب عمر الناس فقال: أيها الناس، إني والله ما أرسل إليكم عمالاً ليضربوا أبشاركم ولا ليأخذوا أموالكم وإنما أرسلهم إليكم ليعلموكم دينكم وسنتكم، فمن فعل به شيء سوى ذلك فليرفعه إلي، فوالذي نفس عمر بيده لأقصنه منه. فوثب عمرو بن العاص فقال: يا أمير المؤمنين، أرأيتك إن كان رجل من أمراء المسلمين على رعية فأدب بعض رعيته إن لتقصه منه؟ قال: إي والذي نفس عمر بيده إذن لأقصنه منه، وكيف لا أقصه منه وقد رأيت النبي، صلى الله عليه وسلم، يقص من نفسه! ألا لا تضربوا المسلمين فتذلوهم، ولا تحمدوهم فتفتنوهم، ولا تمنعوهم حقوقهم فتكفروهم، ولا تنزلوهم الغياض فتضيعوهم.

🕳️ تاریخ طبری:سند ضعیف ہے

وحدثني يعقوب بن إبراهيم قال حدثنا إسماعيل بن إبراهيم قال أخبرنا سعيد الجريري عن أبي نضرة عن أبي فراس قال خطب عمر بن الخطاب فقال يأيها الناس إني والله ما أرسل إليكم عمالا ليضربوا أبشاركم ولا ليأخذوا أموالكم ولكني أرسلهم إليكم ليعلموكم دينكم وسنتكم فمن فعل به شيء سوى ذلك فليرفعه إلي فوالذي نفس عمر بيده لأقصنه منه فوثب عمرو بن العاص فقال يا أمير المؤمنين أرأيتك إن كان رجل من أمراء المسلمين على رعية فأدب بعض رعيته إنك لتقصه منه قال إي والذي نفس عمر بيده إذا لأقصنه منه وكيف لا أقصه منه وقد رأيت رسول الله صلى الله عليه و سلم يقص من نفسه ألا لا تضربوا المسلمين فتذلوهم ولا تجمروهم فتفتنوهم ولا تمنعوهم حقوقهم فتكفروهم ولا تنزلوهم الغياض فتضيعوهم وكان عمر رضي الله عنه فيما ذكر عنه يعس بنفسه ويرتاد منازل المسلمين ويتفقد أحوالهم بيديه ذكر الخبر الوارد عنه بذلك

⏺️ مسند ابوداؤد الطیالسی اور تاریخ طبری کی سند میں ابو فراس النھدی مجہول راوی ہے۔

🔹 علامہ ذہبی ؒ لکھتے ہیں:

ابو فراس النھدی عن عمر رضی اللہ عنہ مجھول۔

ابو فراس النھدی جو عمر رضی اللہ عنہ سے روایت کرتا ہے مجہول ہے

📚 ( دیوان الضعفاء والمتروکین-5000 )

💥 نوٹ: 'پیٹھ بچانی پڑی ' کے الفاظ مولانا مودودی کے ہیں ، یہ الفاظ روایت میں موجود نہیں۔

🤷 یعنی ضعیف روایات کی بنیاد پر مولانا مودودی یہ ثابت کرنا چاہتے ہیں کہ سیدنا عمرو بن عاص رضی اللہ عنہ پہلے لوگوں کو بلاوجہ مارا پیٹا کرتے تھےاور پھر مال دے کر ان کو اپنی پیٹھ بچانی پڑی۔

انا للہ و انا الیہ راجعون، و نعوذ باللہ

🛑 تعزیرا سزا دینا نہ صرف یہ کہ نبی علیہ السلام سے ثابت ہےبلکہ سیدنا عمر رضی اللہ عنہ سے بھی تعزیرا سزا دینا ثابت ہے۔

فقہاءو محدثین نے باقاعدہ عنوان قائم کر کے تعزیرا سزا دینے کو ثابت کیا ہے
🔹 امام بخای ؒ نے صحیح بخاری میں تعزیر کا باب قائم کر کے نبی ؑ کی حدیث نقل کی ہے
بَابُ كَمِ التَّعْزِيرُ وَالأَدَبُ

حدثنا عبد الله بن يوسف، حدثنا الليث، حدثني يزيد بن ابي حبيب، عن بكير بن عبد الله، عن سليمان بن يسار، عن عبد الرحمن بن جابر بن عبد الله، عن ابي بردة رضي الله عنه، قال: كان النبي صلى الله عليه وسلم، يقول:" لا يجلد فوق عشر جلدات، إلا في حد من حدود الله"

ابوہریرہ رضی اللہ عنہ نے بیان کیا کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا :حدود اللہ میں کسی مقررہ حد کے سوا کسی اور سزا میں دس کوڑے سے زیادہ بطور تعزیر و سزا نہ مارے جائیں۔

📚 ( صحیح البخاری-کتاب الحدود-رقم الحدیث6848 )

🔹علامہ ابن حجرؒ ترجمۃ الباب کی تشریح کرتے ہوئے لکھتے ہیں:

ومنه عزره القاضي أي أدبه لئلا يعود إلى القبيح۔۔۔

اور اسی میں سے قاضی کا تعزیر دینا ہے یعنی اسے ادب سکھانا ہے کہ وہ (جسے تعزیرا سزا ملی ہے) دوبارہ قبیح(برے کام) کی طرف نہ لوٹے-

📚 ( فتح الباری لابن حجر-ج12- ص183 )

🔷▪️الزامی سوال:

اگر ایسے ہی روایات ماننی ہیں تو یہ بھی مان لیں
حدثنا أبو بكر قال حدثنا سفيان بن عيينة عن حميد الأعرج عن يحيى بن عبد الله بن صيفي أن عمر كتب إلى أبي موسى ألا تبلغ في تعزير أكثر من ثلاثين

یحی بن عبد اللہ بن صیفی کہتے ہیں:

کہ عمر رضی اللہ عنہ نے ابو موسی اشعری رضی اللہ عنہ کو لکھاکہ تعزیر میں 30 کوڑوں سے زیادہ نہ لگائے جائیں۔

📚 ( مصنف ابن ابی شیبہ- ج14- ص560- بتحقیق محمد عوامۃ-29473 )

🛑 سیدنا عمر رضی اللہ عنہ سے تعزیر کا ثبوت:

أخبرنا أبو سعيد بن أبي عمرو أنبأ أبو محمد المزني أنبأ علي بن محمد بن عيسى ثنا أبو اليمان أخبرني شعيب عن الزهري أخبرني سالم أن عبد الله بن عمر قال : شرب أخي عبد الرحمن بن عمر وشرب معه أبو سروعة عقبة بن الحارث ونحن بمصر في خلافة عمر بن الخطاب رضي الله عنه فسكرا فلما صحا انطلقا إلى عمرو بن العاص وهو أمير مصر فقالا طهرنا فأنا قد سكرنا من شراب شربناه قال عبد الله بن عمر فلم أشعر أنهما أتيا عمرو بن العاص قال فذكر لي أخي أنه قد سكر فقلت له ادخل الدار أطهرك قال إنه قد حدث الأمير قال عبد الله فقلت والله لا تحلق اليوم على رؤوس الناس أدخل أحلقك وكانوا إذ ذاك يحلقون مع الحد فدخل معي الدار قال عبد الله فحلقت أخي بيدي ثم جلدهما عمرو بن العاص فسمع عمر بن الخطاب رضي الله عنه بذلك فكتب إلي عمرو أن أبعث إلى عبد الرحمن بن عمر على قتب ففعل ذلك عمرو فلما قدم عبد الرحمن على عمر رضي الله عنه جلده وعاقبه من أجل مكانه منه ثم أرسله فلبث أشهرا صحيحا ثم أصابه قدره فيحسب عامة الناس أنه مات من جلد عمر ولم يمت من جلده
▪️ ترجمۃ

بن عمر رضی اللہ عنہما فرماتے ہیں کہ خلافتِ عمر میں مصر میں میرے بھائی عبدالرحمن اور ابو سروعہ عقبہ بن حارث نے (ایک رات نبیذ) پی لیا جس سے ان کو نشہ آگیا ‘ جب صبح ہوئی تو وہ دونوں عمرو بن عاص کے پاس گئے اور وہ امیر مصر تھے۔ اور ان سے کہا کہ ہمیں پاک کرو کیونکہ ہم نے (نبیذ) پیا ہے۔

جس سے ہمیں نشہ آگیا ہے۔ ابن عمرؓ کہتے ہیں کہ میرے بھائی نے مجھ سے بیان کیا کے مجھے نشہ آگیا تھا۔ میں نے ان سے کہا کہ گھر چلو ‘ میں تمہیں پاک کردوں‘ اور مجھے یہ خبر نہ تھی کہ وہ دونوں عمرو بن العاصؓ کے پاس جاچکے ہیں۔ انہوں نے مجھ سے بتایا کہ وہ اس واقعہ کی خبر امیر کو دے چکے ہیں‘ میں نے کہا کہ آج سب لوگوں کے سامنے تمہارا سر نہیں مونڈا جائے گا۔گھر چلو‘ میں تمہارا سر مونڈدوں‘ اور اس وقت کوڑے کے ساتھ ساتھ سر کے بال بھی مونڈا کرتے تھے۔ وہ گھر میں آئے، میں نے اپنے ہاتھ سے ان کا سر مونڈا ،اس کے بعد عمرو نے ان کو کوڑے لگائے۔اس واقعہ کے بارے میں جب عمر ؓ نے سنا تو انہوں نے امیر کو لکھا کہ عبدالرحمن کو میرے پاس (مدینہ) بھیجو۔ انہوں نے انہیں بھیج دیا، عبد الرحمن جب عمرؓ کے پاس مدینہ آئے تو انہوں نے ان کواپنے یہاں عزیز ہونے کی بنا پر کوڑے لگائے اور ساتھ سزا بھی دی،اس کے بعد ایک ماہ تک وہ صحیح و تندرست رہے پھر تقدیر الہی سے فوت ہو گئے ۔ عامۃ الناس تو یہ تصور کرتے ہیں کہ ان کی موت کا سبب عمر کے کوڑے تھا حالانکہ کوڑے ان کی موت کا سبب نہ تھا۔

امام بیہقی ؒ سیدنا عمر رضی اللہ عنہ کے دوبارہ سزا دینے کی وجہ بیان کرتے ہوئے لکھتے ہيں:

والذي يشبه أنه جلده جلد تعزیر، فإن الحد لا یعاد واللہ أعلم

سیدنا عمر رضی اللہ عنہ کے عمل کی وجہ یہ معلوم ہوتی ہے کہ انہوں تعزیرا دوبارہ کوڑے لگائے، کیونکہ حد دوبارہ نہیں لگائی جاتی، واللہ اعلم

📚 ( سنن الکبری للبیہقی-ج8- ص543- دارلکتب العلمیۃ-17498 )

🔷 یہ روایت مصنف عبد الرزاق میں بھی موجود ہے، علامہ ابن حجر ؒ اس کی سند کے بارے میں لکھتے ہیں:

وأخرجه عبد الرزاق بسند صحیح عن ابن عمر مطولاً۔۔۔

اور عبد الرزاق نے اسے ابن عمر رضی اللہ عنھما سے اسے طویل ذکر کیا ہے صحیح سند کے ساتھ۔۔

📚 ( فتح الباری لابن حجر- ج12- ص66 )

🤷 اب آپ اندازہ لگائیں جس سزا کا بدلہ دلوانا ثابت کیا جارہا ہے وہ سزا دینا نہ صرف یہ کہ نبی علیہ السلام سے ثابت ہے بلکہ سیدنا عمر رضی اللہ عنہ سے بھی ثابت ہے۔
آئمہ محدثین باقاعدہ عنوان قائم کر کے اس سزا کے جواز کو لکھا ہے ،

💁 لیکن مولانا مودودی اس سزا کا بدلہ دلوانا ثابت کرنے کی ناکام کوشش کرتے ہوئے لکھ رہے ہیں عمرو بن عاص رضی اللہ عنہ کو اشرفیاں دے کر اپنی پیٹھ بچانی پڑی۔۔
انا للہ و انا الیہ راجعون

💁اور پھر دافعین مولانا مودودی یہ ماننے کو بھی تیار نہیں کہ مولانا مودودی نے ایک خاص فکر کے تحت روایات لکھی ہیں اور صحابہ پر طعن کیا ہے۔

🛑▪️ نوٹ :

"پیٹھ بچانی پڑی" کے الفاظ کسی روایت میں لکھے ہوئے عربی متن کے الفاظ کا ترجمہ نہیں بلکہ مولانا مودودی کے ہیں۔لیکن پھر بھی دافعین کا دعوی یہ ہے کہ مولانا مودودی نے خود سے کچھ نہیں لکھا۔۔۔فیا للعجب

🧔 احباب جماعت اسلامی سے اہم سوال!

کیا احباب جماعت اسلامی تعزیرا سزا دینے کو ناجائز سمجھتے ہیں؟؟

▪️اگر جواب ہاں میں ہے تو ان محدثین ، فقہاء پر کیا حکم لگے گا جنہوں نے تعزیرا سزا دینے کو ثابت کیا ہے؟؟

▪️اور اگر جواب نہ میں ہے توبتائیے صحابی رسول سیدنا عمرو بن عاص رضی اللہ عنہ کے خلاف ضعیف روایت کی بنیاد پر "پیٹھ بچانی پڑی" کا جھوٹا الزام کیوں لگایا گیا؟؟

✍🏻 تحریر: مظفر اختر

Address

Faisalabad

Alerts

Be the first to know and let us send you an email when قلم و قرطاس کی دنیا posts news and promotions. Your email address will not be used for any other purpose, and you can unsubscribe at any time.

Contact The Place Of Worship

Send a message to قلم و قرطاس کی دنیا:

Share