21/10/2025
🌴 سیرت النبی ﷺ اور ہماری ترجیحات 🍁
✍🏻 محمد مدثر علی راؤ
میں نے تقریباً بارہ یا تیرہ سال کی عمر میں پہلی بار سیرت النبی ﷺ کا مطالعہ کیا تھا اور مجھے یہ بھی ٹھیک سے یاد نہیں کہ وہ کتاب کس مصنف کی تھی کیونکہ اس وقت کم عمری میں اتنا شعور نہیں تھا کہ کتاب کا مطالعہ کرنے سے پہلے کون کونسی بات دیکھنی چاہیے بس ایک دوست کے ہاں اس سے ملنے گیا تھا کہ اس کے گھر پر سیرت النبی ﷺ پر کتاب رکھی دیکھی اور اس سے وہ کتاب گھر لے آیا اور دو سے تین ہفتوں میں اسکا مکمل مطالعہ کر لیا۔
سیرت النبی ﷺ کے اختتام پر اس وقت میرے جذبات و احساسات کی کیا حالت تھی وہ مجھے آج بھی یاد ہے کہ دل کرتا تھا کہ کاش یہ کتاب سینکڑوں جلدوں پر مشتمل ہوتی اور میں اسے یونہی پڑھتا چلا جاتا اور یہ سلسلہ یونہی جاری و ساری رہتا۔
عمومی طور پر ہم لوگ ہمارے پیارے نبی ﷺ اور آپکے جانثار صحابہ کرام رضوان اللہ علیہم اجمعین کی سیرت کا مطالعہ بلکل بھی نہیں کرتے۔رسول اللہ ﷺ اور آپ کے صحابہ کرام کے متعلق مشہور واقعات تو ہمیں معلوم ہوتے ہیں وہ بھی اس لیے کہ ہم نے جمعہ اور عیدین کے خطبوں یا دیگر تقریروں میں جو واقعات سن رکھے ہوتے ہیں بس زیادہ سے زیادہ ہمیں وہ یاد ہوتے ہیں۔رسول اللہ ﷺ نے مکہ میں دین کی دعوت کا کام کیسے کیا اور وہاں آپ ﷺ اور آپ کے صحابہ کرام کو کتنے مصائب کا سامنا رہا۔پھر کیسے رسول اللہ ﷺ اور صحابہ کرام نے حبشہ کے بعد مدینہ کی طرف ہجرت کی اور مدینہ میں دعوت کا کام اور وہاں تک رسول اللہ ﷺ کے پہنچنے سے پہلے لوگوں تک اسلام کی دعوت کیسے پہنچی یہ سب تفصیلات ہمیں سیرت و تاریخ کی کتب سے معلوم ہونگی اور اسکا مطالعہ ہم کرتے نہیں ہیں۔اگر آپ مسجد کے کسی عام نمازی سے غزوہ بدر سے متعلق کوئی بات پوچھیں گے تو وہ آپ کو فرشتوں کی نصرت والی بات بتائے گا۔اسی طرح غزوہ احد سے متعلق پوچھیں گے تو وہ رسول اللہ ﷺ کے چچا حضرت حمزہ رضی اللہ عنہ کی شہادت اور بعض صحابہ کرام کا جنگ کو ختم سمجھ کر پہاڑی درہ چھوڑنے اور مال غنیمت سمیٹنے کی وجہ سے جس مصیبت کا سامنا کرنا پڑا یہ سب مشہور واقعات تو آپ کو تقریباً ہر عام آدمی سے سننے کو مل جائیں گے لیکن رسول اللہ ﷺ نے یہ جنگیں کیوں لڑی اور ان میں مسلمانوں اور کفا-ر کو کتنا فائدہ و نقصان اٹھانا پڑا یہ سب شاید ہی کوئی آپکو بتا سکے۔
اسی طرح خیبر کی جنگ سے متعلق اگر پوچھیں گے تو ہمارے لوگوں کو صرف اتنا معلوم ہوگا کہ اس جنگ میں حضرت علی رضی اللہ عنہ نے مرحب کو قت-ل کیا تھا اور خیبر کے قلعے کا دروازہ ایک ہاتھ سے اٹھا لیا تھا لیکن یہ شاید ہی کسی کو معلوم ہو کہ خیبر میں مسلمانوں نے کتنے قلعے فتح کیے اور کونسی جگہ بغیر جنگ کے مسلمانوں کے قبضہ میں آگئی۔باغ فدک کس جگہ کا حصہ تھا اور اسے مسلمانوں کے سپرد کرنے والے کون لوگ تھے ان سب باتوں کی معلومات آپکو مدارس میں پڑھنے والوں سے تو تقریباً مل جائے گی لیکن ہماری عام عوام الناس کو الا ماشاء اللہ ہی یہ سب معلوم ہوگا۔
آپ ﷺ اور صحابہ کرام نے کتنے غزوات اور کتنے سرایا لڑے اور ان دونوں میں کیا کیا فرق ہوتا ہے یہ بھی عام طور پر لوگوں کو معلوم نہیں ہوتا۔
سیرت کا مطالعہ کریں گے تو آپکو پتا چلے گا کہ ہمارے نبی ﷺ کتنے بہادر اور ذہین انسان تھے۔اسی سے متعلق آپکی دلچسپی کے لیے ایک واقعہ پیش کر رہا ہوں کہ۔۔۔
غزوہ بدر میں جب قریش اپنے لشکر کیساتھ مسلمانوں کی طرف جنگ کے لیے بڑھ رہے تھے تو ایک جگہ قریش کے بعض غلام جو کہ پانی کی تلاش میں نکلے ہوئے تھے وہ صحابہ کرام کے ہاتھ لگ گئے۔صحابہ کرام ان سے سختی سے پیش آنے لگے تاکہ یہ جان سکیں کہ قریشی لشکر کی تعداد کتنی ہے تو نبی ﷺ نے صحابہ کرام کو سختی کرنے سے منع فرمایا دیا اور پھر خود ان غلاموں سے پوچھا کہ
" قریش روزانہ کتنے اونٹ ذبح کرتے ہیں؟ "
اس پر وہ غلام کہنے لگے کہ
" روزانہ کے نو اونٹ ذبح کیے جاتے ہیں "
یہ جاننے کے بعد رسول اللہ ﷺ نے فوراً حساب لگا لیا کہ قریش کی تعداد نو سو سے لے کر ایک ہزار کے درمیان ہے کیونکہ عام طور پر ایک اونٹ قریباً سو لوگوں کے لیے کافی ہوتا ہے اور رسول اللہ ﷺ کا یہ حساب بلکل درست ثابت ہوا کیونکہ قریش کی تعداد نو سو پچاس ( 950 ) تھی۔
یہ ہمارے پیارے نبی صلی اللہ علیہ والہ وسلم کی ذہانت و فراست کا ایک ادنیٰ سا نمونہ تھا جس میں بغیر کسی جدید ذرائع کے رسول اللہ ﷺ نے اپنے دشمنوں کی تعداد معلوم کر لی تھی۔ایسے ہی ذہانت سے بھرے اور بھی کئی واقعات سیرت کی کتب میں بیان ہوئے ہیں جنہیں پڑھ کر آپ خود پر رسول اللہ ﷺ کے امتی ہونے پر فخر کریں گے۔
اس لیے زندگی میں ایک بار وقت نکال کر کسی مستند کتاب سے آپ ﷺ اور صحابہ کرام کی سیرت مبارکہ کا مطالعہ ضرور کریں۔میں پورے دعوے اور وثوق سے کہتا ہوں کہ جب جب آپ سیرت النبی ﷺ کا مطالعہ کریں گے آپ کی طبیعت پر ایک عجیب رقت طاری ہوگی۔
جب آپ مکی دور پڑھیں گے تو آپکے دل پر رنج و غم کی کیفیت کا غلبہ رہے گا کیونکہ یہ وہ وقت تھا کہ جب ایک طرف مکہ کی تپتی ریت پر ایک عظیم حقیقت جنم لے رہی تھی وہ حقیقت جس نے دنیا کے بت توڑنے تھے دلوں کے زنگ مٹانے اور ظلمت کو نور میں بدل دینا تھا جبکہ دوسری طرف سچائی اجنبی تھی ایمان لانا جرم سمجھا جاتا تھا اور ہمارے پیارے نبی ﷺ تن تنہاء پوری دنیا کے مخالف کھڑے تھے جس میں غیروں کیساتھ ساتھ انکے اپنے بھی اس مخالفت میں شامل تھے۔یہ دور دراصل ایمان کے خالص پن کا امتحان تھا کیونکہ یہ وہ وقت تھا جب مسلمانوں کی تعداد مٹھی بھر تھی مگر ان کا یقین پہاڑوں سے بھی بلند اور مضبوط تھا۔انہوں نے ظلم سہا مگر بدلہ نہیں لیا محرومی دیکھی مگر شکر ادا کیا دکھ جھیلا مگر ایمان نہ چھوڑا۔یہ دور ہمیں یاد دلاتا ہے کہ روشنی ہمیشہ اندھیرے کے بعد آتی ہے۔اس مکی دور میں نبی ﷺ اور آپکے جانثار صحابہ کے صبر سے ہمیں یہ سبق ملتا ہے کہ جو دل اللہ کے نام پر ثابت قدم رہے دنیا تو اس کے خلاف ہو سکتی ہے لیکن تقدیر ہمیشہ اس کے حق میں ہی ہوتی ہے۔
پھر جب مدنی دور پر آپ نظر ڈالیں گے تو وہاں آپکے دل کو راحت اور سکون ملے گا چہرہ مسکراہٹ اور خوشی سے کھل اٹھے گا۔آنکھیں کبھی نم ہونگی تو کبھی اشک بار کیونکہ یہ وہ دور تھا جب ہجرت کے زخموں سے نبی ﷺ اور آپکے صحابہ کا دل ابھی تازہ تھا مگر نگاہوں میں ایک نئی صبح کی امید تھی۔جب مکہ کے مظلوم مدینہ کے معمار بنے۔جب اجنبی بھائی بنے اور ایمان و اسلام نے انہیں انسانی جسم کی مانند ایک امت بنا دیا۔مدینہ وہ بستی تھی جس نے رسول اللہ ﷺ کو گلے سے لگا لیا۔اذان کی پہلی صدا کا گونجنا۔پہلی اسلامی ریاست کا قائم ہونا۔عدل محبت بھائی چارہ اور قربانی کا صحیح معنی و مفہوم اور اسکی حقیقت آپکو مدنی دور میں جگہ جگہ دیکھنے کو ملے گی۔جہاں رسول اللہ ﷺ نے سکھایا کہ طاقت تلوار میں نہیں انصاف میں ہے۔ فتح جنگ سے نہیں بلکہ کردار سے حاصل ہوتی ہے۔اس دور سے آپکو یہ بھی معلوم ہو گا کہ جب ایمان کی بنیاد مضبوط ہو تو چھوٹی سی بستی بھی دنیا کے نقشے پر انقلاب برپا کر سکتی ہے۔مگر یہ سب آپ تب ہی جان سکیں گے جب آپ رسول اللہ ﷺ کی سیرت مبارکہ کا مطالعہ کریں گے۔
پھر سیرت کا مطالعہ کرنے کا ایک فائدہ آپکو یہ بھی ہوگا کہ جب کبھی آپ کے سامنے غیر مسلموں یا ملحدین کا رسول اللہ ﷺ اور صحابہ کرام سے متعلق کوئی اعتراض دیکھنے کو ملے گا تو آپکو اسکا پس منظر ضرور معلوم ہوگا جس سے آپ کو اشکال حل کرنے میں بھی آسانی ہوگی۔کیونکہ ہم لوگ جب بھی ملحدین کا کوئی اعتراض دیکھتے ہیں تو ہماری پریشانی کی ایک بڑی وجہ یہ بھی ہوتی ہے کہ ہم نے سیرت مبارکہ کا سنجیدگی سے مطالعہ نہیں کیا ہوتا۔چاہے رسول اللہ ﷺ کا کثرت ازواج کا معاملہ ہو یا دفاعی اور اقدامی جہاد کا مسئلہ ہو ، غرض کہ آپ ﷺ کی گھریلو زندگی سے لے کر معاشرتی زندگی تک کے تمام معاملات اور اس سب میں بہتری کے لیے اللہ اور رسول اللہ ﷺ نے کون کونسی حکمتیں اور مصلحتیں اختیار کیں اور ان سب پر جو جو اعتراضات ہوتے ہیں انکا کیا جواب ہوگا یہ سب آپکو سیرت کا مطالعہ کیے بغیر معلوم نہیں ہوگا۔
ہم نے اسلام کو اپنی زندگی میں صرف مولوی ، مسجد ، مدرسہ ، چندہ اور عبادات تک محدود کر دیا ہے اور اپنی اسلامی تاریخ سے مکمل طور پر کورے ہوئے پڑے ہیں۔افسوس کہ ہم لوگوں کو کرکٹروں ، اداکاروں سے لے کر اپنے آس پڑوس کے لوگوں تک کی زندگیوں اور انکی اولادوں تک کی خبر ہوتی ہے لیکن ہمیں یہ تک ٹھیک سے معلوم نہیں ہوتا کہ ہمارے پیارے نبی ﷺ کے کتنے بیٹے اور بیٹیاں تھیں ، انکے کیا نام تھے اور وہ کس کے بطن سے تھے۔
لہٰذا زندگی میں ایک بار کسی مستند کتاب سے سیرت النبی ﷺ کا مطالعہ ضرور کریں جس کے بعد آپکے اندر ایک روحانی انقلاب برپا ہوگا جو دنیا کی محبت اور لوگوں کی نفرت کی وجہ سے دل پر لگی سیاہی کو ایمان کی روشنی سے مٹادے گا اور نور سے منور کردے گا ان شاءاللہ۔