Imambargah Hussaini, Asadabad

Imambargah Hussaini, Asadabad Mutawali, Agha Syed Asad Jan
Est. 1963 by Agha Syed Sardar Ali Jan

سفرِ امام حسین کا روزنامچہذوالحجہ 17-20، 60 ہجریقیس عراق کے راستے پر سفر کر رہے ہیں۔ کبھی کبھی وہ غیر معروف اور کم استعم...
03/06/2026

سفرِ امام حسین کا روزنامچہ
ذوالحجہ 17-20، 60 ہجری

قیس عراق کے راستے پر سفر کر رہے ہیں۔ کبھی کبھی وہ غیر معروف اور کم استعمال ہونے والے راستے اختیار کرتے ہیں تاکہ کسی کی نظر میں نہ آئیں۔ وہ حجاز کے بڑے مقامات سے کامیابی کے ساتھ گزر چکے ہیں، بلکہ جنوبی عراق کے بعض اہم پڑاؤ بھی عبور کر چکے ہیں۔

وہ القادسیہ پہنچتے ہیں۔ یہ آخری حفاظتی چوکی ہے اور عملاً کوفہ کے بیرونی حفاظتی حلقے کے اندر واقع ہے۔ بدقسمتی سے یہاں ان کا سامنا اموی سپاہیوں کے ایک بڑے دستے سے ہو جاتا ہے، جس کی قیادت ابن زیاد کا فوجی کمانڈر حُصَین بن تمیم کر رہا ہے۔ سپاہی انہیں گھیر لیتے ہیں اور ان کی طرف بڑھتے ہیں۔ قیس سمجھ جاتے ہیں کہ اب یا تو انہیں قتل کیا جائے گا یا گرفتار کر لیا جائے گا، اور امام کے خط کی حفاظت سب سے اہم ہے۔ وہ فوراً خط نکالتے ہیں، اس کا مضمون پڑھ لیتے ہیں تاکہ اگر انہیں موقع ملے تو امام کا پیغام لوگوں تک پہنچا سکیں، پھر سپاہیوں کے قریب پہنچنے سے پہلے وہ خط کو ضائع کر دیتے ہیں۔

جب حُصَین بن تمیم قیس کے قریب آتا ہے تو وہ پوچھتا ہے کہ تم کہاں جا رہے ہو؟ قیس جواب دینے سے انکار کر دیتے ہیں۔ پھر جھڑپ شروع ہو جاتی ہے۔ قیس ایک سپاہی کو قتل کر دیتے ہیں، مگر آخرکار ان پر قابو پا لیا جاتا ہے اور انہیں گرفتار کر لیا جاتا ہے۔ یہ ذوالحجہ کی سترہویں تاریخ کی شام کا وقت ہے۔ سپاہی اب تیزی سے کوفہ کی طرف روانہ ہوتے ہیں تاکہ قیس کو ابن زیاد کے پاس لے جائیں۔ فاصلہ زیادہ نہیں، اس لیے رات تک وہ شہر کے دروازے تک پہنچ جاتے ہیں۔
اگلی صبح قیس کو ابن زیاد کے سامنے پیش کیا جاتا ہے۔ ابن زیاد جانتا ہے کہ قیس امام حسین کے آدمی ہیں، اس لیے وہ ان سے پوچھ گچھ کرنے کی کوشش کرتا ہے۔ قیس اس کے کسی سوال کا جواب دینے سے انکار کر دیتے ہیں۔ ابن زیاد جھنجھلاہٹ اور غصے میں قیس سے کہتا ہے: “محل پر چڑھو اور جھوٹے کے بیٹے جھوٹے پر لعنت کرو۔” اس کا خیال ہے کہ شاید قیس اپنی جان بچانے کے لیے امام کی توہین کر دیں گے۔ ابن زیاد کی نیت عوامی رسوائی کی ہے۔ قیس خاموش رہتے ہیں۔ پہرے دار قیس کو سیڑھیوں کے ذریعے محل کی چھت پر لے جاتے ہیں۔

یہ وہ لمحات ہیں جب قیس سوچ رہے ہیں کہ شاید یہ ان کی زندگی کے آخری لمحات ہیں۔ اور یہی واحد موقع ہے کہ وہ امام کا پیغام لوگوں تک پہنچا دیں۔ اگر وہ یہ کام کر گئے تو وہ اپنی مہم میں کامیاب ہیں، چاہے زندہ رہیں یا شہید ہو جائیں۔

جب قیس کو چھت کے کنارے پر لایا جاتا ہے تو اعلان کیا جاتا ہے کہ سب لوگ محل کے سامنے جمع ہوں تاکہ قیس جو کچھ کہیں، اسے سنیں۔ اس وقت تک ابن زیاد اور اس کے پہرے دار یہی سمجھ رہے ہوتے ہیں کہ قیس وہی کہیں گے جو ابن زیاد نے انہیں کہنے کا حکم دیا ہے۔

قیس جسمانی طور پر وہاں موجود ہیں، مگر ان کی ذات امام کی محبت میں فنا ہے۔ یقینی موت کو سامنے دیکھتے ہوئے قیس نہایت جرأت کے ساتھ پیغام دیتے ہیں:

“اے لوگو! یہ حسین بن علی ہیں، اللہ کی مخلوق میں بہترین، فاطمہ کے فرزند، جو رسول اللہ کی بیٹی ہیں۔ میں تمہاری طرف ان کا قاصد ہوں۔ میں انہیں الحاجر میں چھوڑ کر آیا ہوں، پس تم ان کی دعوت کا جواب دو۔”

ایک ہی جملے میں قیس امام حسین کا نسب بیان کرتے ہیں۔ وہ تصدیق کرتے ہیں کہ انہوں نے امام کو الحاجر میں چھوڑا ہے۔ وہ علانیہ اعلان کرتے ہیں کہ وہ امام کے قاصد ہیں۔ وہ کوفیوں کو امام کی دعوت کا جواب دینے کے لیے پکارتے ہیں۔
یہ قیس کا “قیام” ہے؛ ایک علانیہ زبانی اعلان۔

قیس نے امام کی مرضی کا حق ادا کر دیا اور امام کے خط کا مقصد کوفہ کے لوگوں تک درست طور پر پہنچا دیا۔ اب اس کا جواب دینا کوفیوں کے ہاتھ میں ہے۔

پہرے دار حیران رہ جاتے ہیں کہ اب کیا کیا جائے۔ ان میں سے ایک جلدی سے نیچے جاتا ہے تاکہ ابن زیاد کو بتائے کہ قیس نے وہ نہیں کہا جو وہ چاہتا تھا، بلکہ اس کے برعکس بات کہہ دی ہے۔ اسی دوران قیس مزید بولتے ہیں اور ابن زیاد اور اس کے باپ پر لعنت کرتے ہیں۔

ابن زیاد حکم دیتا ہے کہ قیس کو محل کی چھت سے نیچے پھینک دیا جائے۔ پہرے دار قیس کو دھکا دے دیتا ہے۔ وہ نیچے گرتے ہیں اور شہید ہو جاتے ہیں۔

قیس کا مشن ناکام نہیں ہوا۔ انہوں نے امام کا پیغام بھی پہنچا دیا اور اپنی جان دے کر گواہی بھی دے دی۔

ادھر راستے میں امام حسین عراق کی طرف سفر جاری رکھے ہوئے ہیں۔ ذوالحجہ کی انیسویں یا بیسویں تاریخ کے آس پاس، کسی آبی مقام پر امام کی ملاقات عبد اللہ بن مطیع العدوی نامی شخص سے ہوتی ہے۔ عبد اللہ امام سے پوچھتا ہے: “اے رسول اللہ کے فرزند، میرے ماں باپ آپ پر قربان ہوں، آپ کو کس چیز نے باہر نکالا؟”

امام اسے جواب دیتے ہیں کہ معاویہ کے مرنے کے بعد اہلِ عراق نے انہیں خط لکھے ہیں اور انہیں آنے کی دعوت دی ہے۔ مگر عبد اللہ فکر مند ہے اور امام کو کوفہ جانے سے منع کرتا ہے۔ وہ کہتا ہے: “اگر آپ نے بنو امیہ کے ہاتھ میں موجود اقتدار کا قصد کیا تو وہ آپ کو قتل کر دیں گے۔ اور اگر انہوں نے آپ کو قتل کر دیا تو آپ کے بعد وہ کسی سے نہیں ڈریں گے۔ آپ کے بعد اسلام، قریش اور عرب کی حرمت پامال ہو جائے گی۔”

امام اس کی بات سنتے ہیں اور فرماتے ہیں کہ تم نے سچ کہا ہے۔ مگر عبد اللہ نہیں جانتا کہ امام کس عزم کے ساتھ عراق کی طرف بڑھ رہے ہیں۔

یہاں ہم آج کا روزنامچہ ختم کرتے ہیں۔

*صرف دعوت سے قطعی حجت تک۔۔۔*

جب مسلم بن عقیل کوفہ آئے تو وہ امام کے سفیر تھے، اور ان کا مشن سفارتی تھا: کوفیوں کی نیت کو سمجھنا اور اس کی تصدیق کرنا۔ مسلم کا مشن مسلح بغاوت نہیں تھا، بلکہ خود مسلم کے الفاظ میں یہ ایک “تحقیقی” مہم تھی۔ اس مرحلے پر جب کوفہ کے لوگوں نے مسلم کو مکمل طور پر چھوڑ دیا، تو کوئی یہ کہہ سکتا تھا کہ عام لوگوں کے پاس امام کی آمد کی واضح تصدیق نہیں تھی، اور انہیں ایسا محسوس ہوا کہ یہ ابن زیاد کے خلاف مسلم کی ذاتی تحریک ہے۔ لہٰذا اس الجھن کی وجہ سے اہلِ کوفہ مسلم کے ساتھ کھڑے نہ ہوئے اور یہ دیکھنے کے منتظر رہے کہ امام کیا کرتے ہیں۔

مسلم حالات کی نذر ہو گئے۔
لیکن جب قیس کوفہ پہنچے، اور محل کی چھت سے امام کے ارادے اور ان کی قریب الوقوع آمد کا واضح پیغام دے دیا، تو پھر کسی الجھن کی کوئی گنجائش باقی نہ رہی۔ اب تصدیق بھی آ گئی، اور “ہدایتِ الٰہی” بھی، یعنی امام کا پیغام پہنچا دیا گیا کہ کوفہ کو تیاری کرنی چاہیے اور امام کی دعوت کے جواب میں اپنے معاملات کو جمع کرنا چاہیے۔

مسلم کے مشن کو کمزور دل لوگ اب بھی “سیاسی بے یقینی” سمجھ سکتے تھے؛ مگر قیس کا اعلان اس پناہ گاہ کو ختم کر دیتا ہے۔ قیس کے بعد معاملہ اب الجھن کا نہیں رہتا، بلکہ ایک براہِ راست پکار کے جواب کا بن جاتا ہے۔ قیس صرف ایک اور قاصد نہیں ہیں۔ وہ کوفہ کے خلاف ایک علانیہ حجت بن جاتے ہیں۔

اس کے باوجود، کوفہ کے لوگوں نے اتنے براہِ راست اور مصدقہ پیغام کے بعد بھی کچھ نہ کیا۔ یہی وہ لمحہ تھا جب وہ تاریخ کے اوراق میں ہمیشہ کے لیے محکوم قرار پائے، اور انہوں نے اپنی بدقسمت تقدیر پر مہر لگا دی۔ کوفہ دو مرتبہ ناکام ہوا۔

قیس دو جہانوں کے درمیان کھڑے ہیں: ایک طرف وہ پوشیدہ وفاداری جس کا دعویٰ خلوت میں کیا جاتا ہے، اور دوسری طرف وہ علانیہ وفاداری جس کا تقاضا عمل میں ہوتا ہے۔ وہ محبت اور اطاعت، ہمدردی اور قربانی، نجی غم اور عوامی حمایت، امام سے محبت اور امام کی دعوت کا جواب دینے کے درمیان فرق کو بے نقاب کر دیتے ہیں۔

اس لیے ان کی شہادت محض ایک قاصد کی موت نہیں ہے۔ یہ کوفہ کے آخری عذر کی موت ہے۔

جب انہیں محل سے نیچے پھینکا جاتا ہے تو اخلاقی طور پر پورا شہر بھی ان کے ساتھ گرا دیا جاتا ہے۔ ان کا جسم کربلا سے پہلے گرتا ہے، مگر ان کی گواہی کربلا سے تعلق رکھتی ہے۔ وہ میدانِ جنگ سے پہلے شہید ہوتے ہیں، مگر ان کا کردار کربلا جیسا ہے: وہ آخری پکار دیتے ہیں، اکیلے کھڑے ہوتے ہیں، حق پر لعنت کرنے سے انکار کرتے ہیں، اور ظالم اور خاموش عوام کے خلاف مقدمہ مکمل کر دیتے ہیں۔

آخرکار سلطانِ کربلا کا ہُدہُد کوفہ کے دعوے کو پرکھتا ہے۔ قیس کوفہ کی روح کا امتحان لیتے ہیں۔ مسلم دکھاتے ہیں کہ کوفہ نمائندے کو چھوڑ سکتا ہے۔ قیس دکھاتے ہیں کہ کوفہ خود امام کی پکار سن کر بھی مفلوج رہ سکتا ہے۔

محمد آغا۔
Follow the 𝗧𝗵𝗲 𝗔𝘀𝗮𝗱𝗮𝗯𝗮𝗱 - اسد آباد channel on WhatsApp: https://whatsapp.com/channel/0029VaDfu7lFMqrcbHg6P40O

سفرِامام حسین کا روزنامچہذوالحجہ 13 تا 16، 60 ہجریامام حسین کا مکہ سے عراق کی طرف سفر جاری ہے۔ آپ بطن الرُمّہ کے مقام سے...
01/06/2026

سفرِامام حسین کا روزنامچہ
ذوالحجہ 13 تا 16، 60 ہجری

امام حسین کا مکہ سے عراق کی طرف سفر جاری ہے۔ آپ بطن الرُمّہ کے مقام سے گزر چکے ہیں اور اب الحاجر پہنچے ہیں۔ یہاں امام نے کچھ دیر قیام کیا اور عباس بن علی سے کہا کہ بنی ہاشم کے باقی افراد کو جمع کریں تاکہ موجودہ صورتِ حال پر مشورہ کیا جا سکے۔ کچھ دیر گفتگو ہوئی، پھر امام نے فرمایا کہ انہوں نے فیصلہ کیا ہے کہ قیس کو کوفہ بھیجا جائے، ایک خط کے ساتھ، تاکہ اہلِ کوفہ کو اطلاع دی جا سکے کہ امام ان کی طرف آ رہے ہیں۔

قیس بن مسہر الصیداوی امام کے ذاتی اور معتمد قاصد ہیں۔ وہ مکہ سے کوفہ تک مسلم بن عقیل کے ساتھ گئے تھے، پھر کوفہ میں مسلم کا خط لے کر امام کے پاس مکہ واپس آئے تھے۔ اب امام نے فیصلہ کیا کہ قیس کو اپنے قافلے سے آگے کوفہ بھیجا جائے تاکہ وہ لوگوں کو تیاری کی خبر دیں۔ یہ مسلم کے اس خط کا پہلا عملی جواب ہے جس میں مسلم نے امام کو مثبت خبر دی تھی۔ اس مرحلے پر یاد رہے کہ امام کو ابھی مسلم اور ہانی کے قتل کی اطلاع نہیں پہنچی۔ امام کا قافلہ اس نیت کے ساتھ کوفہ کی طرف بڑھ رہا ہے کہ وہاں مسلم سے ملاقات ہو گی۔

امام حسین کے اہلِ کوفہ کے نام خط کا مکمل متن یہ ہے:

“اللہ کے نام سے، جو نہایت مہربان، نہایت رحم کرنے والا ہے۔

حسین بن علی کی طرف سے، مؤمنین اور مسلمین میں سے اپنے بھائیوں کے نام۔

تم پر سلام ہو۔ میں تمہارے سامنے اللہ کی حمد کرتا ہوں، جس کے سوا کوئی معبود نہیں۔ اما بعد: مسلم بن عقیل کا خط مجھے پہنچ چکا ہے، جس میں انہوں نے مجھے تمہاری حسنِ رائے، اور تمہارے سرداروں کے اس اتفاق کی خبر دی ہے کہ وہ ہماری نصرت کریں گے اور ہمارا حق طلب کریں گے۔ میں نے اللہ سے دعا کی ہے کہ وہ ہمارے لیے انجام کو خیر بنائے، اور تمہیں اس پر عظیم ترین اجر عطا فرمائے۔ میں مکہ سے تمہاری طرف روانہ ہو چکا ہوں، منگل کے دن، ذوالحجہ کے آٹھ دن گزرنے کے بعد، یومِ ترویہ کو۔ جب میرا قاصد تمہارے پاس پہنچے تو اپنے معاملے کو منظم کرو اور سنجیدگی اختیار کرو، کیونکہ میں ان آنے والے دنوں میں تمہارے پاس پہنچ رہا ہوں، اگر اللہ نے چاہا۔ تم پر سلام ہو، اور اللہ کی رحمت اور برکتیں ہوں۔”

امام نے اہلِ کوفہ کو یہ کہہ کر واضح تنبیہ اور آخری موقع دیا: “اپنے معاملے کو منظم کرو اور سنجیدگی اختیار کرو۔” یہ صاف اشارہ ہے کہ امام اہلِ کوفہ کی دعوت کا جواب دینے کا ارادہ رکھتے ہیں، تاکہ آ کر ظالم حاکم کے خلاف ان کی قیادت کریں۔ قیس صرف ایک خبر لے کر نہیں جا رہے، بلکہ ایک عملی ہدایت لے کر جا رہے ہیں۔

اب قیس خط لے کر ایک تیز رفتار گھوڑے پر سوار ہوتے ہیں اور امام کے قافلے سے آگے کوفہ کی طرف روانہ ہو جاتے ہیں۔

دوسری طرف، مسلم کے قتل اور کوفہ کی ناکام تحریک کے بعد ابن زیاد نے پورے عراق میں، خاص طور پر مکہ سے کوفہ آنے والے راستوں پر، اپنی نگرانی سخت کر دی ہے۔ اسے معلوم ہے کہ امام حسین کوفہ آنے کا ارادہ کر سکتے ہیں، اس لیے وہ ہر قیمت پر امام کو کوفہ میں داخل ہونے سے روکنا چاہتا ہے۔ حجاز کی بیرونی حدود سے لے کر کوفہ تک کا پورا راستہ ان حفاظتی چوکیوں کی نگرانی میں ہے جو قائم کر دی گئی ہیں۔ قادسیہ، خفان، قطقطانہ اور لعلع کے علاقے، جو عراق کے پورے جنوبی خطے کو گھیرتے ہیں، مکمل نگرانی میں ہیں۔

اگلے دو دن امام کا قافلہ بھی راستے میں رہے گا اور قیس بھی، اگرچہ دونوں کی رفتار مختلف ہو گی۔ قیس امام سے بہت آگے ہوں گے اور کوشش کریں گے کہ بحفاظت کوفہ پہنچ جائیں۔

اگلا روزنامچہ 17 ذوالحجہ کا ہو گا، جب ہم دیکھیں گے کہ تقدیر کیا فیصلہ کرتی ہے۔

محمد آغا۔
Follow the 𝗧𝗵𝗲 𝗔𝘀𝗮𝗱𝗮𝗯𝗮𝗱 - اسد آباد channel on WhatsApp: https://whatsapp.com/channel/0029VaDfu7lFMqrcbHg6P40O

سفرِ امام حسین کا روزنامچہ 10-12 ذوالحج، 60 ہجری امام حسین عراق کے راستے پر ہیں۔ 10 ذوالحجہ کو آپ مکہ کے قریب ایک مقام، ...
29/05/2026

سفرِ امام حسین کا روزنامچہ
10-12 ذوالحج، 60 ہجری

امام حسین عراق کے راستے پر ہیں۔ 10 ذوالحجہ کو آپ مکہ کے قریب ایک مقام، تنعیم، پر پہنچے۔ یہاں امام کا سامنا اونٹوں کے ایک بڑے قافلے سے ہوا، جو کپڑوں اور عصفر کے رنگ سے لدا ہوا تھا۔ اس قافلے کی قیادت چند ساربان کر رہے تھے۔ امام نے ان سے پوچھا کہ وہ کہاں سے آئے ہیں اور کہاں جا رہے ہیں۔ انہوں نے کہا: یہ سامان یزید کے یمن کے گورنر، بحیر بن رَیسان الحِمیری، کی طرف سے بھیجا گیا ہے اور ہماری منزل دمشق ہے۔

امام حسین نے عباس بن علی کو بلایا اور انہیں فرمایا کہ اس قافلے کو اپنے قبضے میں لے لیں۔ پھر امام حسین نے ساربانوں سے فرمایا:

”میں تم پر جبر نہیں کرتا۔ تم میں سے جو ہمارے ساتھ عراق جانا چاہے، ہم اس کی پوری اجرت ادا کریں گے اور اس کے ساتھ اچھا سلوک کریں گے۔ اور جو یہیں سے واپس جانا چاہے، ہم اسے اس فاصلے کے حساب سے اجرت ادا کر دیں گے جو وہ طے کر چکا ہے۔“

امام نے عملی طور پر یہ سامان یزید سے ضبط کر لیا، جو مسلمانوں پر ایک ناجائز حکمران کی حیثیت سے یمن میں یہ مال جمع کر چکا تھا۔ امام نے اس کے بعد ساربانوں کو ان کی مکمل اجرت ادا کرنے کی پیشکش کی۔ اس طرح امام حسین کا قافلہ عراق کی طرف آگے بڑھتا رہا۔

شام تک امام اگلے مقام، الصفاح، پر پہنچے۔ یہاں امام کی ملاقات ایسے لوگوں کے ایک گروہ سے ہوئی جو مخالف سمت، یعنی عراق کی طرف سے آ رہے تھے۔ ان میں بنو اسد کے دو آدمی اور مشہور عرب شاعر الفرزدق بن غالب بھی شامل تھے۔ وہ امام کے قریب آئے اور سلام کیا۔ الفرزدق نے امام سے کہا: ”آپ کو حج سے اس قدر جلدی کس چیز نے روانہ کر دیا؟“ امام نے جواب دیا: ”اگر میں جلدی نہ کرتا تو مجھے گرفتار کر لیا جاتا۔“

پھر امام نے الفرزدق سے پوچھا: ”جو لوگ تمہارے پیچھے ہیں، ان کی خبر ہمیں صاف صاف بتاؤ۔“ امام کا اشارہ خاص طور پر کوفہ کی خبروں کی طرف تھا۔
الفرزدق نے جواب دیا:

”آپ نے ایسے شخص سے پوچھا ہے جو جانتا ہے۔ لوگوں کے دل آپ کے ساتھ ہیں، مگر ان کی تلواریں بنو امیہ کے ساتھ ہیں۔ فیصلہ آسمان سے اترتا ہے، اور اللہ جو چاہتا ہے کرتا ہے۔“

امام حسین نے فرمایا:

”تم نے سچ کہا۔ معاملہ اللہ ہی کے ہاتھ میں ہے، اور اللہ جو چاہتا ہے کرتا ہے۔ ہر روز ہمارا رب ایک شان میں ہے۔“

پھر امام نے مزید وضاحت فرمائی کہ اگر تقدیر ہماری پسند کے مطابق آئے تو ہم اللہ کی نعمتوں پر اس کی حمد کرتے ہیں۔ لیکن اگر فیصلہ امید کے برخلاف آئے، تو جس کی نیت حق ہو اور جس کا باطن تقویٰ پر قائم ہو، وہ حد سے تجاوز کرنے والا نہیں ہوتا۔ یہ امام کا توکل کی کیفیت پر نہایت عمیق بیان تھا۔ پھر قافلے نے اس رات اسی مقام پر قیام کیا۔

اگلی صبح، 11 ذوالحجہ کو، مکہ میں عبداللہ بن جعفر، جو سیدہ زینب کے شوہر ہیں، اپنے دونوں بیٹوں عون اور محمد کو تیار کرتے ہیں، انہیں تیز رفتار گھوڑے دیتے ہیں، اور ان کے ہاتھ امام حسین کے نام ایک خط بھیجتے ہیں۔ وہ اپنے بیٹوں سے کہتے ہیں کہ جلدی کرو، امام تک پہنچو، اور ان سے کہو کہ رک جائیں، میں تمہارے پیچھے آ رہا ہوں۔ عبداللہ کی طرف سے امام کے نام خط کا مضمون یہ تھا:

”میں آپ کو اللہ کا واسطہ دیتا ہوں کہ جب میرا خط پڑھیں تو واپس لوٹ آئیں۔ مجھے آپ کے لیے اس راستے میں خوف ہے جس کی طرف آپ جا رہے ہیں، کہ اس میں آپ کی ہلاکت اور آپ کے اہلِ بیت کے اجڑ جانے کا اندیشہ ہے۔ اگر آج آپ کو نقصان پہنچا تو زمین کا نور بجھ جائے گا، کیونکہ آپ ہدایت یافتگان کا عَلَم اور مؤمنوں کی امید ہیں۔ سفر میں جلدی نہ کیجیے، کیونکہ میں اس خط کے پیچھے آ رہا ہوں۔“

عبداللہ ہمیں امامت کا معنی اور مقام دکھاتے ہیں، کیونکہ وہ امام حسین کو ”زمین کا نور“ اور ”ہدایت یافتگان کا عَلَم“ کہتے ہیں۔ عبداللہ نے یہ بھی ایک اہم پیغام دیا کہ وہ اپنے بیٹوں کے فوراً بعد خود بھی امام کے پیچھے آ رہے ہیں۔ لازماً کوئی اہم کام تھا جو عبداللہ پسِ پردہ انجام دے رہے تھے۔

دونوں کم عمر لڑکے اب تیز رفتاری سے مکہ سے نکل کر عراق کے راستے پر روانہ ہو چکے ہیں۔ اسی شام وہ امام حسین تک پہنچ جائیں گے، جو الصفاح کے مقام سے، جہاں آپ نے رات قیام کیا تھا، روانہ ہو چکے تھے۔ امام ابھی اگلے پڑاؤ تک آدھے راستے میں تھے کہ دونوں بھائی آپ تک پہنچے اور اپنے والد کا خط امام کو پیش کیا۔ امام حسین نے خط پڑھا، اسے تہہ کیا، لڑکوں کو بوسہ دیا، اور فرمایا کہ جا کر اپنی والدہ، سیدہ زینب، سے ملو۔ لیکن امام نے عراق کی طرف اپنا سفر جاری رکھا۔

جب سے امام نے مکہ چھوڑا تھا، عبداللہ بن جعفر امویوں کے ارادوں کے بارے میں امام کے لیے شدید فکر مند تھے۔ عبداللہ ہندوستان اور فارس سے عرب علاقوں میں ضروری سامان کی بڑی تجارت کرتے تھے، اور معلومات جمع کرنے کا ان کا نیٹ ورک کافی وسیع تھا۔ تاجروں کو حکام پر خاصا اثر حاصل ہوتا تھا، بنیادی طور پر اس وجہ سے کہ ان کی تجارت ہی شہروں کی زندگی کو رواں رکھتی تھی۔ اسی بنا پر عبداللہ پسِ پردہ امام کی حفاظت، خاص طور پر مکہ اور عراق کے درمیان سفر کے دوران، یقینی بنانے کے لیے کوشش کر رہے تھے۔

اسی صبح جب عبداللہ نے اپنے بیٹوں کو امام کی طرف روانہ کیا، تو وہ فوراً مکہ کے گورنر عمرو بن سعید بن العاص کے پاس گئے اور اس پر دباؤ ڈالا کہ وہ امام کے لیے مکہ اور مدینہ میں سرکاری امان کا خط لکھے۔ گورنر ابتدا میں متردد تھا، لیکن جب عبداللہ نے اپنا سیاسی اثر استعمال کیا اور تجارتی بندش کی دھمکی دی، تو عمرو دب گیا اور کہنے لگا: ”جو چاہو لکھو اور میرے پاس لے آؤ تاکہ میں اس پر مہر لگا دوں۔“

عبداللہ نے عمرو سے یہ بھی کہا کہ وہ یہ خط خود امام تک لے جائیں گے، لیکن انہوں نے عمرو سے مطالبہ کیا کہ وہ اپنے بھائی یحییٰ کو بھی ساتھ بھیجے تاکہ خط زیادہ معتبر ہو جائے۔ عبداللہ نے عمرو سے کہا:

”اسے اپنے بھائی یحییٰ بن سعید کے ساتھ بھیجو، کیونکہ یہ بات امام کو زیادہ اطمینان دے گی اور انہیں معلوم ہو گا کہ تم اس معاملے میں سنجیدہ ہو۔“

عمرو نے اتفاق کیا۔

پھر خط عبداللہ نے خود املاء کروایا، جس کا مضمون یہ تھا:

”بسم اللہ الرحمن الرحیم
عمرو بن سعید کی طرف سے حسین بن علی کے نام۔
اما بعد: میں اللہ سے دعا کرتا ہوں کہ وہ آپ کو اس چیز سے پھیر دے جو آپ کو ہلاکت میں ڈالے، اور آپ کو اس چیز کی طرف ہدایت دے جو آپ کے لیے درست ہو۔ مجھے اطلاع ملی ہے کہ آپ عراق کی طرف روانہ ہو گئے ہیں۔ میں آپ کے لیے اللہ کی پناہ چاہتا ہوں تفرقے سے، کیونکہ مجھے اس میں آپ کے لیے ہلاکت کا خوف ہے۔ میں نے آپ کی طرف عبداللہ بن جعفر اور یحییٰ بن سعید کو بھیجا ہے، پس آپ ان دونوں کے ساتھ میرے پاس واپس آ جائیں۔ آپ کو میرے پاس امان، نصرت، حسنِ سلوک، اور اچھی حفاظت حاصل ہے۔ اللہ میرے اوپر اس معاملے میں گواہ، ضامن، نگہبان، اور وکیل ہے۔
والسلام۔“

عبداللہ نے گورنر کو خاص طور پر یہ الفاظ استعمال کرنے پر مجبور کیا کہ وہ امام کو امان، نصرت، حسنِ سلوک، اور اچھی حفاظت فراہم کریں گے۔

اب شام ہو چکی تھی، لیکن عبداللہ جلدی میں تھے۔ انہوں نے تیز رفتار گھوڑوں کی تیاری کی، اور عبداللہ اور گورنر کے بھائی یحییٰ دونوں رات ہی کو مکہ سے روانہ ہو گئے۔ اب وہ پوری رات مسلسل تیز رفتاری سے سفر کریں گے۔

اگلی صبح، 12 ذوالحجہ کو، آخرکار امام کے ذاتِ عرق کے اگلے مقام تک پہنچنے سے ذرا پہلے، عبداللہ اور یحییٰ امام تک پہنچ گئے۔ عبداللہ نے امام حسین کو سلام کیا اور بتایا کہ عمرو کے بھائی یحییٰ، گورنر کی طرف سے امان کی ضمانت کا خط لے کر آئے ہیں۔ پھر عبداللہ نے وہ خط امام کو پیش کیا۔ امام نے خط پڑھا اور پھر اسے تہہ کر دیا۔ اس کے بعد آپ نے عبداللہ اور یحییٰ کی طرف دیکھا اور فرمایا:

”جو شخص اللہ کی طرف بلاتا ہے، نیک عمل کرتا ہے، اور کہتا ہے کہ میں مسلمانوں میں سے ہوں، اس نے اللہ اور اس کے رسول کی مخالفت نہیں کی۔ بہترین امان اللہ کی امان ہے۔ اللہ قیامت کے دن اس شخص کو امان نہیں دے گا جو اس دنیا میں اس سے نہیں ڈرتا تھا۔“

جب عبداللہ اور یحییٰ نے امام پر واپس لوٹنے کے لیے اصرار کیا، تو امام نے فرمایا:

”میں نے ایک خواب دیکھا جس میں رسول اللہ میرے سامنے تشریف لائے، اور اس میں مجھے ایک امر کا حکم دیا گیا، جسے میں انجام دے رہا ہوں، چاہے وہ میرے حق میں ہو یا میرے خلاف۔“

یہ امام کی طرف سے اپنے سفر کے مقصد اور اس آخری عہد کی طرف براہِ راست اشارہ تھا۔

انہوں نے پوچھا کہ وہ خواب کیا تھا۔ امام نے فرمایا:
”میں نے یہ خواب کسی کو نہیں بتایا، اور نہ کسی کو بتاؤں گا، یہاں تک کہ اپنے رب سے جا ملوں۔“

امام کا انکار حتمی تھا۔ چنانچہ امام حسین تیزی سے آگے بڑھتے رہے، کسی چیز کی طرف مائل ہوئے بغیر، یہاں تک کہ آپ ذاتِ عرق پہنچ گئے۔

عبداللہ بن جعفر اور یحییٰ واپس مکہ لوٹ گئے، لیکن عبداللہ نے امام حسین سے کہا کہ وہ اپنے دونوں بیٹوں، عون اور محمد، کو اس سفر میں امام کے ساتھ چھوڑ رہے ہیں۔ یوں یہ دونوں کم عمر لڑکے امام کے قافلے میں شامل ہو گئے۔

محمد آغا۔
Follow the 𝗧𝗵𝗲 𝗔𝘀𝗮𝗱𝗮𝗯𝗮𝗱 - اسد آباد channel on WhatsApp: https://whatsapp.com/channel/0029VaDfu7lFMqrcbHg6P40O

28/05/2026

از دیوان حضرت آغا سید لعل بادشاہ۔

بکوفہ ھدھد سلطان کربل
بخلد پیشرو لشگر عزا مسلم

شکستہ بال چو مرغان پر شکستہ بدام
غریب و بیکس سامان بینوا مسلم

بکوفہ بیکس و بی یار و آشنا جدا ز مجمع یاران و دوستان وطن مسلم

عھد و وفای اھل عراق
شمشیر اشقیا بخون طپیده مسلم

ندیده غسل و کفن بی حنوط رفتہ بخاک
ز قرب تربت خیر الوراء جدا مسلم

ترجمہ:

کوفہ میں ہدہدِ سلطانِ کربلا مسلم
خلد میں پیشروِ لشکرِ عزا مسلم

ٹوٹے پروں کے پرندوں کی طرح دام میں گرفتار
غریب و بے کس، بے سامان و بے نوا مسلم

کوفہ میں بے کس، بے یار، بے آشنا
یاروں، دوستوں اور وطن سے جدا مسلم

یہ تھا عہد و وفا اہلِ عراق کا
اشقیا کی تیغ سے خوں میں تڑپتا مسلم

نہ غسل دیکھا، نہ کفن، نہ حنوط نصیب ہوا
خاک میں جا سویا، خیرالوریٰ کی تربت سے جدا مسلم

Translation:
In Kufa, the hoopoe of Karbala’s king;
In Paradise, the vanguard of grief’s army — Muslim.

Broken-winged, like birds with shattered wings caught in a snare;
A stranger, helpless, provisionless, destitute — Muslim.

In Kufa, alone — with no friend, no kin, no familiar face;
Cut off from comrades, companions, and homeland — Muslim.

Such was the covenant, such the loyalty of Iraq’s people:
By the swords of the wicked, blood-soaked and trembling — Muslim.

Without washing, without shroud, without camphor, he was laid in earth;
Far from the nearness of the Prophet’s sacred dust — Muslim.

27/05/2026

قربانی کس پر واجب ہے؟

گزشتہ چند دنوں سے قربانی کے بارے میں سوالات کیے جا رہے ہیں، اسی لیے آپ کی سمجھ کے لیے یہ مختصر نوٹ پیش کر رہا ہوں۔

قربانی کس پر واجب ہے، اور اسے کب ادا کیا جانا چاہیے؟

سورۂ بقرہ میں ارشاد ہے:
البقرہ، آیت 196:
“اور اپنے سروں کو نہ منڈاؤ یہاں تک کہ قربانی اپنی جگہ تک پہنچ جائے۔”

اس کا مطلب یہ ہے کہ جو لوگ حج ادا کر رہے ہیں، انہیں تمام مناسک مکمل کرنے اور قربانی پیش کرنے کے بعد ہی اپنے سر منڈوانے چاہییں۔ یہ آیت خاص طور پر صرف ان لوگوں کے بارے میں ہے جو حج پر ہیں، نہ کہ ان لوگوں کے بارے میں جو اپنے گھروں میں موجود ہیں۔ ایک دوسری آیت اس بات کی مزید نشاندہی کرتی ہے کہ واجب قربانی کہاں ادا کی جانی ہے۔

الحج، آیت 33:
“پھر ان کی قربانی کی جگہ بیتِ عتیق کے پاس ہے۔”

اس سے ظاہر ہوتا ہے کہ قربانی پیش کرنے کی جگہ کعبہ، یعنی بیتِ عتیق کے قریب ہے۔ یہ عمل صرف وہی لوگ انجام دے سکتے ہیں جو حج کے لیے وہاں موجود ہوں۔ اس سے واضح ہو جاتا ہے کہ قربانی کا وجوب حجاج کے لیے ثابت ہے۔ البتہ جو لوگ گھروں میں ہیں، ان پر قربانی واجب نہیں ہے۔

مسلم معاشرے میں گھر پر قربانی دینا ایک ثقافتی روایت بن چکی ہے۔ مسلمان اپنی مرضی اور مالی استطاعت کے مطابق اس عمل میں حصہ لیتے ہیں۔ جو لوگ حج ادا کر رہے ہیں، ان پر قربانی ہر فرد کے لیے واجب ہے۔ لیکن جو لوگ گھروں میں ہیں، ان پر یہ واجب نہیں؛ اسی لیے ایک گھر کی طرف سے ایک قربانی کافی سمجھی جاتی ہے، ہر فرد کی طرف سے الگ قربانی لازم نہیں۔

اب سوال یہ ہے کہ کس قسم کا جانور قربان کیا جائے؟ بکرا، دنبہ، گائے وغیرہ؟

اللہ نے اس بارے میں کوئی سخت حکم مقرر نہیں فرمایا کہ لازماً فلاں جانور ہی قربان کیا جائے؛ کوئی بھی مناسب جانور پیش کیا جا سکتا ہے۔ البتہ یہ بات صاف طور پر بیان کی گئی ہے:

الحج، آیت 37:
“نہ ان کا گوشت اللہ تک پہنچتا ہے اور نہ ان کا خون، بلکہ اس تک تمہارا تقویٰ پہنچتا ہے۔”

اس کا مطلب یہ ہے کہ اللہ کا قرب حاصل کرنے میں جانور کی قسم یا تعداد اصل اہمیت نہیں رکھتی۔ اصل اہمیت انسان کے اخلاص، نیت اور ایمان کی ہے۔

محمد آغا۔

سفرِ امام حسین کے سفر کا روزنامچہ۹ ذوالحجہ، ۶۰ ہجریاب ۹ ذوالحجہ کی صبح ہے۔ مسلم اور ان کے بیٹوں نے رات طوعہ کے گھر میں گ...
26/05/2026

سفرِ امام حسین کے سفر کا روزنامچہ
۹ ذوالحجہ، ۶۰ ہجری

اب ۹ ذوالحجہ کی صبح ہے۔ مسلم اور ان کے بیٹوں نے رات طوعہ کے گھر میں گزاری ہے۔ مسلم کو شاید ہی نیند آئی ہو، مگر گھر کے دوسری طرف طوعہ کا بیٹا بلال بھی بے چینی کے ساتھ رات گزارتا رہا۔ اس نے مسلم سے غداری کا فیصلہ کر لیا ہے، کوفہ کی روایت کو برقرار رکھتے ہوئے۔ وہ صبح سویرے اٹھتا ہے اور جلدی سے گھر سے نکل جاتا ہے۔ بلال، عبد الرحمٰن بن محمد بن اشعث کا دوست ہے، جو ابن زیاد کے قریبی آدمیوں میں سے ایک کا بیٹا ہے۔ بلال اسے بتاتا ہے کہ مسلم نے رات اس کے گھر میں گزاری ہے۔ عبد الرحمٰن اپنے باپ کے پیچھے دوڑتا ہے اور اسے دار الامارہ کے بڑے ہال میں ابن زیاد کے ساتھ بیٹھا ہوا پاتا ہے۔ وہ اپنے باپ محمد بن اشعث کے قریب جاتا ہے اور اس کے کان میں سرگوشی کرتا ہے۔ ابن زیاد ابن اشعث کی طرف دیکھتا ہے اور کہتا ہے:

“تمہارے بیٹے نے تم سے کیا کہا؟”

ابن اشعث جواب دیتا ہے:

“وہ کہتا ہے کہ مسلم ان کے گھروں میں سے ایک گھر میں ہیں۔”

ابن زیاد حیران ہوتا ہے، پھر اپنی چھڑی سے محمد بن اشعث کو ٹہوکا دیتا ہے اور کہتا ہے:

“اٹھو، اور اسے فوراً میرے پاس لے آؤ۔”

محمد بن اشعث محل سے نکلتا ہے اور تقریباً ستر آدمی جمع کرتا ہے۔ ابن زیاد اسے کہتا ہے کہ مسلم کے اپنے قبیلہ کے لوگوں کو نہ بھیجنا، کیونکہ قبائل اپنے سے وابستہ آدمی سے لڑنے یا اسے گرفتار کرنے کو ناپسند کرتے ہیں۔ اس لیے قیس قبیلہ کے لوگوں کو منتخب کیا جاتا ہے۔ قیس وہ قبیلہ ہے جو اموی حکومت کی مکمل حمایت کر رہا ہے۔

جب یہ لوگ طوعہ کے گھر کے قریب پہنچتے ہیں تو گھر کے باہر گلی سپاہیوں سے بھر جاتی ہے اور گھر کو گھیر لیا جاتا ہے۔ مسلم گھوڑوں کی ٹاپیں، مردوں کی آوازیں، اور گھر کے گرد حرکت محسوس کرتے ہیں۔ اس لمحے مسلم سمجھ جاتے ہیں کہ لڑائی ناگزیر ہو چکی ہے، اور اب امام کے لیے جان دینے کی گھڑی قریب ہے۔ وہ بھاری دل کے ساتھ اپنے بیٹوں کو الوداع کہتے ہیں، یہ جانے بغیر کہ ان کے بعد ان بچوں پر کیا گزرے گی، اور انہیں خدا کی مشیت کے سپرد کر دیتے ہیں۔

جب وہ صحن میں آتے ہیں تو طوعہ کو دیکھتے ہیں اور اس سے کہتے ہیں کہ وہ باہر جا کر ان لوگوں سے لڑیں گے، کیونکہ وہ نہیں چاہتے کہ مرد اس کے گھر میں گھس آئیں۔ مگر ابھی وہ صحن ہی میں تھے کہ سپاہی گھر میں داخل ہو گئے۔ مسلم اپنی تلوار میان سے نکالتے ہیں اور ان پر حملہ کر دیتے ہیں، دو آدمیوں کو قتل کرتے ہیں اور باقیوں پر وار کرتے ہیں یہاں تک کہ انہیں گھر سے باہر دھکیل دیتے ہیں۔ سپاہی پھر پیچھے ہٹ کر اپنی جگہوں پر چلے جاتے ہیں۔ مسلم طوعہ کا شکریہ ادا کرتے ہیں کہ اس نے انہیں اور ان کے بیٹوں کو رات گزارنے کے لیے پناہ دی، پھر وہ گھر سے باہر نکل آتے ہیں۔

اب مسلم گلی کے بیچ کھڑے ہیں، اور دونوں طرف ابن زیاد کے سپاہیوں نے راستہ بند کر رکھا ہے۔ مسلم تکبیر کہتے ہیں اور اپنا جنگی رجز بلند کرتے ہیں:

“میں نے قسم کھائی ہے کہ میں آزاد مرد کی طرح ہی قتل ہوں گا، اگرچہ میں موت کو سخت اور ناگوار دیکھتا ہوں۔ ہر آدمی ایک دن برائی سے ملنے والا ہے، اور ٹھنڈک تلخ گرمی کے ساتھ مل جاتی ہے۔”

محمد بن اشعث، بکر بن حمران الاحمری کو مسلم کے مقابلے کے لیے بھیجتا ہے۔ بکر مسلم کے قریب آتا ہے اور پہلا وار کرتا ہے۔ وار مسلم کے سر سے قریب سے گزرتا ہے، مگر ان کے اوپر کے ہونٹ کو کاٹ دیتا ہے اور نیچے والے ہونٹ کو بھی زخمی کر دیتا ہے، جس سے خون بہنے لگتا ہے۔ جواب میں مسلم اس کے سر پر ایک شدید ضرب لگاتے ہیں، پھر کندھے کی رگ پر دوسرا وار کرتے ہیں جو تقریباً اس کے اندر تک پہنچ جاتا ہے۔ بکر سخت زخمی ہو جاتا ہے اور چند سپاہی دوڑ کر اسے پیچھے کھینچ لیتے ہیں۔

اب مسلم اکیلے کھڑے ہیں، اور پھر وہ تمام لوگوں پر حملہ آور ہوتے ہیں۔ سپاہی دونوں طرف سے ان کی طرف بڑھ رہے ہیں، مگر وہ بہادری سے لڑتے ہیں اور کئی آدمیوں کو قتل کر دیتے ہیں۔ جب محمد بن اشعث دیکھتا ہے کہ اس کے بہت سے آدمی مارے جا رہے ہیں تو وہ پیچھے ہٹنے کا حکم دیتا ہے۔ اب مسلم تھک چکے ہیں اور پیاسے بھی ہیں۔ جب انہیں اندازہ ہو جاتا ہے کہ مسلم سے براہِ راست لڑنا مشکل ہے تو محمد بن اشعث اپنا طریقہ بدلتا ہے۔ وہ سب کو حکم دیتا ہے کہ گھروں کی چھتوں پر چڑھ جائیں اور اوپر سے مسلم پر حملہ کریں۔ اب پچاس سے زیادہ آدمی پتھر پھینک رہے ہیں، سرکنڈوں اور بانس کے گٹھے آگ لگا کر مسلم پر گرائے جا رہے ہیں۔

کچھ دیر بعد جب ابن زیاد کے آدمی بھی گلیوں میں دوڑتے دوڑتے اور گھروں کی چھتوں پر چڑھتے اترتے تھک جاتے ہیں تو لڑائی میں وقفہ آتا ہے۔ اس وقت محمد بن اشعث مسلم کے قریب آتا ہے اور کہتا ہے:

“تمہیں امان ہے۔ اپنے آپ کو قتل نہ کرو۔”

لیکن مسلم اس کے کچھ آدمیوں پر حملہ جاری رکھتے ہیں۔ مسلم اب پتھروں، زخموں، پیاس اور لڑائی سے نڈھال ہو چکے ہیں۔ ابن اشعث دوبارہ مسلم کے قریب آتا ہے اور کہتا ہے:

“تمہیں امان ہے۔”

مسلم تصدیق کے لیے اس کی طرف دیکھتے ہیں اور جواب دیتے ہیں: “کیا مجھے امان ہے؟”

محمد بن اشعث کہتا ہے: “ہاں۔”

اور وہ باقی سپاہیوں کو بھی اس امان کی پابندی کا حکم دیتا ہے۔ سب لوگ ہاں کہتے ہیں، سوائے عمرو بن عبیداللہ بن عباس السلمی کے، جو مسلم کو کسی بھی قسم کی امان دینے میں شامل ہونے سے انکار کرتا ہے اور الگ ہو جاتا ہے۔

مسلم ابن اشعث سے کہتے ہیں:

“اگر تم نے مجھے امان نہ دی ہوتی تو میں اپنا ہاتھ تمہارے ہاتھ میں نہ دیتا۔”

جیسے ہی مسلم اپنی تلوار میان میں رکھتے ہیں، اچانک سپاہی ان کی طرف لپکتے ہیں، انہیں غیر مسلح کرتے ہیں، ان کے ہاتھ باندھ دیتے ہیں، اور انہیں ایک خچر پر بٹھا دیتے ہیں۔ اسی لمحے مسلم اپنی تقدیر کو سمجھ جاتے ہیں۔ وہ کہتے ہیں:

“یہ غداری کا پہلا عمل ہے۔”

ابن اشعث انہیں کہتا ہے: “مجھے امید ہے کہ تمہیں کوئی نقصان نہیں پہنچے گا۔”

مسلم جواب دیتے ہیں: “کیا اب صرف امید ہی باقی رہ گئی ہے؟ تمہاری امان کہاں گئی؟”

پھر مسلم پڑھتے ہیں:
“ہم اللہ ہی کے ہیں، اور ہمیں اسی کی طرف لوٹ کر جانا ہے۔”

جب وہ مسلم کو دار الامارہ کی طرف لے جا رہے ہوتے ہیں تو ایک مقام پر مسلم اچانک رونے لگتے ہیں۔ کسی نے مسلم سے کہا کہ جو شخص وہ مقصد چاہتا تھا جو تم چاہتے تھے، اسے ایسا وقت آنے پر رونا نہیں چاہیے۔ مسلم جواب دیتے ہیں:

“خدا کی قسم، میں اپنے لیے نہیں رو رہا، نہ موت کی وجہ سے اس پر غم کر رہا ہوں، اگرچہ میں پلک جھپکنے بھر بھی اس کی ہلاکت کو پسند نہ کرتا۔ بلکہ میں اپنے اہل و عیال کے لیے رو رہا ہوں جو آ رہے ہیں۔ میں حسین اور آلِ حسین کے لیے رو رہا ہوں۔”

پھر مسلم محمد بن اشعث کو بلاتے ہیں اور اس سے کہتے ہیں:

“تم اپنی امان پوری نہیں کر سکو گے، مگر میری طرف سے امام حسین کے پاس کسی کو بھیجو۔ امام شاید اپنے اہل و عیال کے ساتھ روانہ ہو چکے ہوں؛ انہیں کہو کہ واپس لوٹ جائیں۔”

محمد بن اشعث ایک قاصد کو بلاتا ہے جس کا نام ایاس بن العثل الطائی ہے۔ وہ اسے کہتا ہے کہ مسلم جو کہنا چاہتے ہیں اسے غور سے سنو، پھر اسے زادِ راہ اور ایک گھوڑا دیتا ہے تاکہ وہ مکہ کی طرف امام حسین کے پاس جائے۔ اس طرح قاصد اب روانہ ہو چکا ہے۔

یہ وہ پیغام تھا جو مسلم نے امام کے لیے قاصد کو دیا۔ انہوں نے قاصد سے کہا کہ جب وہ امام کے پاس پہنچے تو کہے:

“ابن عقیل نے مجھے آپ کی طرف بھیجا ہے جبکہ وہ لوگوں کے ہاتھوں قیدی ہیں، اور دیکھ رہے ہیں کہ قتل ہونے سے پہلے زیادہ دیر زندہ نہیں رہیں گے۔ وہ کہتے ہیں: اپنے اہل و عیال کے ساتھ واپس لوٹ جائیں۔ اہلِ کوفہ کے دھوکے میں نہ آئیں، کیونکہ یہی آپ کے والد کے ساتھی ہیں، جن سے آپ کے والد موت یا قتل کے ذریعے جدا ہونا چاہتے تھے۔ اہلِ کوفہ نے آپ سے بھی جھوٹ بولا اور مجھ سے بھی جھوٹ بولا، اور جس سے جھوٹ بولا جائے، اس کی رائے درست نہیں رہتی۔”

محمد بن اشعث اب دار الامارہ کے دروازے کے قریب پہنچتا ہے۔ مسلم پیاسے ہیں اور محافظ کے پاس پانی کا ایک برتن دیکھتے ہیں۔ وہ پانی مانگتے ہیں، مگر محافظ، جس کا نام مسلم بن عمرو الباہلی ہے، سختی سے انکار کرتا ہے اور کہتا ہے:

“خدا کی قسم، تم اس کا ایک قطرہ بھی نہیں چکھو گے، یہاں تک کہ جہنم کا کھولتا ہوا پانی چکھو۔”

اس پر مسلم جواب دیتے ہیں:
“تیری ماں تجھے روئے۔ تو کتنا سخت، ظالم، سنگ دل اور درشت ہے! اے ابنِ باہلہ، کھولتے ہوئے پانی اور جہنم میں ہمیشہ رہنے کا تو مجھ سے زیادہ حق دار ہے۔”

وہاں عمرو بن حریث کھڑا تھا، جو قبائل کے سرداروں میں سے ایک تھا۔ وہ اپنے غلام سلیمان کو کہتا ہے کہ جاؤ اور مسلم کو پانی دو۔ مسلم پینے کی کوشش کرتے ہیں، مگر ان کے اوپر والے ہونٹ سے خون بہنے کی وجہ سے پیالہ خون سے بھر جاتا ہے۔ پیالہ خالی کیا جاتا ہے اور دوبارہ بھرا جاتا ہے۔ مسلم پھر پینے کی کوشش کرتے ہیں، مگر پیالہ پھر خون سے بھر جاتا ہے۔ تیسری بار کوشش پر مسلم کا ایک ٹوٹا ہوا دانت پانی میں گر جاتا ہے۔ یہاں مسلم پینے کی کوشش ترک کر دیتے ہیں، پیالہ واپس کر دیتے ہیں اور کہتے ہیں:

“الحمدللہ۔ اگر یہ میرے مقدر کے رزق میں شامل ہوتا تو میں اسے پی لیتا۔”

اب مسلم کو بندھے ہوئے ہاتھوں کے ساتھ ابن زیاد کے سامنے لایا جاتا ہے۔ محمد بن اشعث جلدی سے ابن زیاد کے پاس جاتا ہے اور اسے بتاتا ہے کہ ایک طویل لڑائی کے بعد، جس میں ہم اسے قابو نہ کر سکے، میں نے اسے امان کی ضمانت دی کہ اگر وہ لڑائی چھوڑ دے تو اسے تحفظ دیا جائے گا۔ اس نے یہ بات مان لی، اور اسی وجہ سے میں اسے آپ کے پاس لا سکا۔ ابن زیاد اسے رد کر دیتا ہے اور کہتا ہے:

“تمہیں امان سے کیا واسطہ؟ کیا ہم نے تمہیں امان دینے کے لیے بھیجا تھا؟ ہم نے تمہیں صرف اس لیے بھیجا تھا کہ اسے ہمارے پاس لاؤ۔”

اب مسلم ابن زیاد کے سامنے کھڑے ہیں۔ سب لوگ گورنر کو سلام کرتے ہیں، سوائے مسلم کے۔ ایک محافظ کہتا ہے: “امیر کو سلام کرو۔”

اس پر مسلم کہتے ہیں:
“اگر وہ مجھے قتل کرنے کا ارادہ رکھتا ہے تو میرے سلام کا اسے کیا فائدہ؟ اور اگر وہ مجھے قتل کرنے کا ارادہ نہیں رکھتا تو میری جان کی قسم، میرا سلام اسے پہنچ جائے گا۔”

اس پر ابن زیاد جواب دیتا ہے:
“میری جان کی قسم، تم ضرور قتل کیے جاؤ گے۔”

پھر مسلم کہتے ہیں کہ وہ اپنے لوگوں میں سے کسی کو وصیت کرنا چاہتے ہیں۔ ابن زیاد اجازت دیتا ہے اور مسلم عمر بن سعد کو منتخب کرتے ہیں، کیونکہ اس سے ان کی دور کی قرابت تھی۔ مسلم اس سے کہتے ہیں:

“کوفہ میں مجھ پر ۷۰۰ درہم کا قرض ہے۔ میری تلوار، زرہ اور دوسری چیزیں بیچ کر اسے ادا کر دینا۔ ابن زیاد سے میرا جسم مانگنا اور اسے دفن کرنا۔ آخر میں، یہ یقینی بنانا کہ امام حسین کی طرف کسی کو بھیجا جائے تاکہ انہیں واپس موڑ دے۔”

ابن زیاد عمر بن سعد کو بلاتا ہے اور پوچھتا ہے کہ مسلم نے کیا کہا؟ عمر بن سعد فوراً وصیت کا مضمون بتا دیتا ہے۔ اس پر ابن زیاد اچانک کہتا ہے:

“امانت دار تم سے خیانت نہیں کرتا، مگر خائن کے پاس امانت رکھی جا سکتی ہے۔”

پھر ابن زیاد کہتا ہے کہ مسلم کے مال اور قرض کے معاملے میں عمر جو چاہے کرے۔ اگر حسین اس کی طرف نہ آئیں تو وہ ان کے پیچھے نہیں جائے گا؛ اور اگر وہ آئیں گے تو وہ انہیں نہیں چھوڑے گا۔ جہاں تک جسم کے مطالبے کا تعلق ہے، ابن زیاد اسے رد کر دیتا ہے۔

ابن زیاد مسلم کے قتل میں کچھ قانونی جواز دکھانا چاہتا تھا، کیونکہ قصر میں کئی قبائلی سردار اور کوفہ کا قاضی موجود تھے۔ اس لیے وہ مسلم سے کہتا ہے:
“تم ایسے لوگوں کے پاس آئے جن کا معاملہ متحد تھا، اور تم نے انہیں منتشر کر دیا۔”

مسلم اس دعوے کو رد کرتے ہیں اور کہتے ہیں کہ اہلِ کوفہ کا کہنا تھا کہ ابن زیاد کے باپ نے ان کے بہترین لوگوں کو قتل کیا اور ان کا خون بہایا۔ وہ عدل کا حکم دینے اور کتابِ خدا کی طرف بلانے آئے تھے۔

مسلم اپنی تحریک کو عدل اور قرآنی حکمرانی کے طور پر پیش کرتے ہیں، بغاوت کے طور پر نہیں۔

مسلم کا ایسا بے خوف جواب دیکھ کر ابن زیاد مشتعل ہو جاتا ہے اور مسلم کو گالیاں دینا شروع کر دیتا ہے، یہاں تک کہ وہ ان پر مدینہ میں شراب پینے کا الزام لگاتا ہے۔ مسلم سختی سے اس کی تردید کرتے ہیں اور جواب دیتے ہیں کہ:

“شراب پینے کا زیادہ حق دار وہ ہے جو مسلمانوں کے خون میں لتھڑا ہوا ہے، ناحق قتل کرتا ہے، اور کھیل تماشے میں مشغول رہتا ہے۔”

مسلم ابن زیاد کے جھوٹ پر ایک اہم اخلاقی الٹ پھیر کر دیتے ہیں۔ اب ابن زیاد واضح طور پر غصے اور جھنجھلاہٹ میں ہے۔ وہ حکم دیتا ہے:

“اسے دار الامارہ کی چھت پر لے جاؤ، اس کی گردن مارو، پھر اس کے سر کے بعد اس کا جسم بھی نیچے پھینک دو۔”

جلاد کے طور پر بکر بن حمران الاحمری کو مقرر کیا جاتا ہے، وہی شخص جسے مسلم نے گلیوں میں بری طرح زخمی کیا تھا۔ وہ بدلہ لینے کے لیے مسلم کو قتل کرنا چاہتا تھا۔

جب مسلم کو دارالامارہ کی چھت پر لے جایا جا رہا تھا تو انہوں نے کہا:

“اے اللہ، ہمارے اور اس قوم کے درمیان فیصلہ فرما جس نے ہمیں دھوکا دیا، ہم سے جھوٹ بولا، اور ہمیں رسوا کیا۔”

اب مسلم چھت کے کنارے پر ہیں، کوفہ کے مرکزی بازار کی طرف دیکھتے ہوئے۔ بکر مسلم پر ایک وار کرتا ہے، مگر انہیں قتل نہیں کر پاتا۔ مسلم کچھ اس طرح کہتے ہیں:
“کیا وہ زخم جو تم نے مجھے لگایا تھا، تمہارے خون کا بدلہ چکانے کے لیے کافی نہیں تھا؟”

بکیر دوبارہ وار کرتا ہے اور مسلم کو قتل کر دیتا ہے۔ پھر ان کا جسم نیچے پھینک دیا جاتا ہے۔

اس کے فوراً بعد ابن زیاد محمد بن اشعث سے کہتا ہے کہ ہانی کو لاؤ۔ مگر ابن اشعث ابن زیاد کو قائل کرنے کی کوشش کرتا ہے کہ ہانی کوفہ کے ایک معزز سردار ہیں، اور ان کا قبیلہ جانتا ہے کہ میں ہانی کو دار الامارہ میں لایا تھا، اس لیے اسے مذحج قبیلہ کی دشمنی کا خوف ہے، جو طاقتور اور کثیر تعداد میں ہے۔ ابن زیاد کچھ لمحوں کے لیے گویا راضی ہوتا دکھائی دیتا ہے، مگر پھر چند لمحوں بعد انکار کر دیتا ہے، اور حکم دیتا ہے کہ ہانی کو شہر کے مرکزی بازار میں لے جا کر قتل کیا جائے۔

ہانی کو باندھ کر بازار کی طرف لے جایا جاتا ہے۔ جب وہ شہر کے چوک تک پہنچتے ہیں تو ہانی بلند آواز سے پکارتے ہیں:

“اے مذحج! مگر آج میرے لیے کوئی مذحج نہیں! اے مذحج! مذحج مجھ سے کہاں ہے؟”

پھر وہ ایک ہاتھ بندش سے آزاد کر لیتے ہیں، اور کہتے ہیں کہ کوئی انہیں کوئی چیز دے جس سے وہ اپنا دفاع کر سکیں۔ وہ اپنے اردگرد لوگوں سے پوچھتے ہیں:

“کیا کوئی لاٹھی، یا چھری، یا پتھر، یا ہڈی نہیں جس سے ایک آدمی اپنا دفاع کر سکے؟”

مگر جلد ہی محافظ انہیں قابو کر لیتے ہیں۔ جلاد ہانی سے کہتا ہے کہ اپنی گردن آگے کرو، مگر ہانی کہتے ہیں:
“میں اسے سخاوت سے نہیں دوں گا، اور میں اپنے خلاف تمہاری مدد نہیں کروں گا۔”

ہانی کا جلاد رشید تھا، ابن زیاد کا ایک ترک غلام۔ پہلا وار ہانی کو قتل نہیں کرتا۔ ہانی کہتے ہیں:

“بازگشت اللہ ہی کی طرف ہے۔ اے اللہ، تیری رحمت اور تیری رضا کی طرف۔”

پھر رشید دوبارہ وار کرتا ہے اور ہانی کو قتل کر دیتا ہے۔

اب مسلم اور ہانی دونوں کی لاشیں بازار میں سرِعام گھسیٹے جاتے ہیں۔ ایک مرثیہ نما شعر ان کے جسموں کی اس بازاری رسوائی کو عوامی حافظے میں محفوظ کر دیتا ہے۔ لوگوں کو کہتے سنا گیا:

“اگر تم نہیں جانتے کہ موت کیا ہے، تو بازار میں ہانی اور ابن عقیل کو دیکھو۔”

مسلم کے دو اور حامی بھی اسی دن گرفتار کیے گئے۔ عبد الاعلیٰ الکلبی کو کثیر بن شہاب نے گرفتار کیا، پھر انہیں شہر کے ایک اور حصے جبانہ السبیع لے جا کر سر قلم کر دیا گیا۔

عمارہ بن صلخب الازدی کو محمد بن اشعث نے گرفتار کیا۔ ابن زیاد نے حکم دیا کہ اسے اس کے اپنے قبیلہ ازد کے محلے میں لے جا کر اس کے لوگوں کے درمیان قتل کیا جائے۔

اسی شام ابن زیاد مسلم اور ہانی کے سر یزید کی طرف بھیجتا ہے۔ دو قاصد مقرر کیے گئے: ہانی بن ابی حیّہ الوادعی الہمدانی اور الزبیر بن الارواح التمیمی۔ ان کے ساتھ یزید کے نام ایک خط بھی تھا جس میں ابن زیاد نے واقعہ کی تفصیل لکھی۔

مختار ابھی خَطَرنیہ میں ہیں۔ اس دن دوپہر کے وقت انہیں مسلم کی گرفتاری کی خبر ملتی ہے۔ مختار چند آدمیوں کے ساتھ جلدی سے کوفہ کی طرف واپس آتے ہیں۔ شام تک وہ باب الفیل، یعنی شہر کے مرکزی دروازے، پر پہنچتے ہیں، غروبِ آفتاب کے فوراً بعد۔ اس وقت تک مسلم قتل کیے جا چکے تھے، اور ابن زیاد نے پہلے ہی حفاظتی انتظامات سخت کر دیے تھے اور لوگوں کو عمرو بن حریث کے جھنڈے کے نیچے امان کے لیے جمع کر رکھا تھا۔ دروازے پر عمرو انہیں کہتا ہے کہ شہر میں نہ جائیں، مسلم قتل کیے جا چکے ہیں، اس لیے خود کو خطرے میں ڈالنے کا کوئی فائدہ نہیں۔ وہ انہیں رات کے لیے امان دیتا ہے، چنانچہ مختار اس رات شہر کے باہر عمرو بن حریث کے جھنڈے کے نیچے قیام کرتے ہیں۔

مگر اگلے دن ابن زیاد مختار کو قصر میں بلاتا ہے اور اس سے پوچھتا ہے:

“کیا تم وہی ہو جو ابن عقیل کی مدد کے لیے گروہوں کے ساتھ آئے تھے؟”

مختار انکار کرتے ہیں اور کہتے ہیں کہ وہ عمرو بن حریث کے جھنڈے کے نیچے تھے۔ عمرو ان کی بات کی تصدیق کرتا ہے۔ پھر ابن زیاد مختار کے چہرے پر چھڑی مارتا ہے، انہیں زخمی کرتا ہے، اور کہتا ہے کہ اگر عمرو کی گواہی نہ ہوتی تو وہ ان کا سر قلم کر دیتا۔ پھر وہ مختار کو قید کرنے کا حکم دیتا ہے۔

دوسری طرف امام حسین راستے میں ہیں، اب مکہ کی بیرونی حدود تک پہنچ چکے ہیں اور کوفہ کی طرف سفر کر رہے ہیں۔ کیسا شدید تضاد ہے: مسلمان عرفات میں کھڑے ہیں، اور امام حسین کو راستے پر نکلنے پر مجبور کیا جا رہا ہے کیونکہ حرم ان کے لیے محفوظ نہیں رہا۔ امام کا قافلہ مسلم کی پکار کی طرف بڑھ رہا ہے، اس سے بے خبر کہ مسلم قتل کیے جا چکے ہیں۔

یہیں آج کے روزنامچہ کی تحریر ختم ہوتی ہے۔

مسلم کا قتل صرف امام کی خاطر شہادت کا ایک واقعہ نہیں ہے۔ یہ کربلا کا معیار قائم کرتا ہے۔ مسلم کربلا کی داستان کے پہلے شہید تھے، مگر کربلا میں قتل نہیں ہوئے۔ مسلم کو پورے شہر نے تنہا چھوڑ دیا، مگر امام حسین کے ساتھ بہتر وفادار ساتھی موجود تھے۔ مسلم اکیلے لڑے، مگر امام حسین کے ساتھ عباس تھے۔ مسلم کے بیٹے ایک اجنبی شہر میں تنہا چھوڑ دیے گئے اور گلیوں میں اکیلے بھٹکتے رہے، مگر امام کے مستورات اور بچوں کے ساتھ زین العابدین تھے۔ مسلم کا جسم کوفہ میں گھسیٹا گیا، مگر امام کا جسم محفوظ رہا اور بنی اسد قبیلہ نے اسے دفن کیا۔ مسلم نے انسانیت کا بدترین چہرہ دیکھا: میدان میں بے شرمی کے ساتھ ان سے غداری کی گئی۔ مگر امام کے ساتھ ان کے ساتھی آخر تک وفادار رہے۔

مسلم بن عقیل کا المیہ کربلا کا تنہا مقدمہ ہے۔ وہ کربلا کے میدان میں شہید نہیں ہوتے، مگر وہ وہ روحانی دروازہ کھولتے ہیں جس کے ذریعے کربلا کو سمجھا جاتا ہے۔ کوفہ نے صرف ایک آدمی کو نہیں چھوڑا؛ اس نے اپنے ہی عہد کو چھوڑا، اپنے ہی خطوط کو چھوڑا، اپنی ہی آواز کو چھوڑا، اور اپنی ہی وفاداری کے دعوے کو چھوڑا۔

اس لیے مسلم کی شہادت صرف غم کا واقعہ نہیں۔ یہ ایک آئینہ ہے۔ اس آئینے میں انسانیت اپنی سب سے پست ممکنہ صورت دیکھتی ہے: وعدے بغیر ہمت کے، ہمدردی بغیر قربانی کے، ایمان بغیر وفاداری کے، اور ہجوم بغیر غیرت کے۔ مسلم اکیلے کھڑے ہوتے ہیں تاکہ کربلا میں وفاداری کا معنی زیادہ واضح ہو جائے۔ ان کی تنہائی آنکھ کو اس عظمت کو پہچاننے کے لیے تیار کرتی ہے جو بعد میں ان لوگوں میں ظاہر ہوئی جنہوں نے امام حسین کے ساتھ آخری سانس تک قیام کیا۔

اسی لیے مسلم کی شہادت کو کربلا کا پہلا روحانی مقام سمجھنا چاہیے۔ یہ خدمت کا مقام ہے بغیر اجر کے، وفاداری کا مقام ہے بغیر گواہوں کے، شجاعت کا مقام ہے بغیر کمک کے، اور پہچان سے پہلے قربانی کا مقام ہے۔ مسلم کو کربلا دیکھنے کی تسلی نصیب نہیں ہوتی، مگر کربلا ان کے خون کا بوجھ اپنے ساتھ لے لیتی ہے۔

محمد آغا۔
Follow the 𝕋𝕙𝕖 𝔸𝕤𝕒𝕕𝕒𝕓𝕒𝕕 channel on WhatsApp: https://whatsapp.com/channel/0029VaDfu7lFMqrcbHg6P40O

Address

Sheikhupur, Mangla Road
Dina

Alerts

Be the first to know and let us send you an email when Imambargah Hussaini, Asadabad posts news and promotions. Your email address will not be used for any other purpose, and you can unsubscribe at any time.

Contact The Place Of Worship

Send a message to Imambargah Hussaini, Asadabad:

Share