19/08/2026
12 ربیع الاول اور جلوسِ میلاد — قرآن و حدیث کی روشنی میں
نبی کریم ﷺ سے محبت ہمارے ایمان کا حصہ ہے، لیکن محبت کا صحیح تقاضا یہ ہے کہ ہم آپ ﷺ کی سنت کی پیروی کریں۔
صحیح مسلم میں حضرت ابو قتادہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ سے پیر کے روزے کے بارے میں پوچھا گیا تو آپ ﷺ نے فرمایا:
"فِيهِ وُلِدْتُ وَفِيهِ أُنْزِلَ عَلَيَّ"
یعنی: "یہ وہ دن ہے جس میں میری ولادت ہوئی اور اسی دن مجھ پر وحی نازل ہوئی۔"
📖 صحیح مسلم: 1162
لیکن اس صحیح حدیث میں 12 ربیع الاول کو جلوس نکالنے، سالانہ جشن منانے یا اسے عبادت کے طور پر مقرر کرنے کا کوئی حکم موجود نہیں۔
اسی طرح نبی کریم ﷺ نے فرمایا:
"مَنْ أَحْدَثَ فِي أَمْرِنَا هَذَا مَا لَيْسَ فِيهِ فَهُوَ رَدٌّ"
یعنی: "جس نے ہمارے دین میں ایسی چیز ایجاد کی جو اس میں نہیں، وہ مردود ہے۔"
📖 صحیح بخاری: 2697
لہٰذا ہمیں نبی کریم ﷺ سے سچی محبت کے ساتھ آپ ﷺ کی سنت، درود و سلام، آپ ﷺ کی تعلیمات اور آپ ﷺ کے اخلاق کو اپنی زندگی میں اپنانا چاہیے۔
🤲 اللہ تعالیٰ ہمیں قرآن و سنت کے مطابق نبی کریم ﷺ کی سچی محبت نصیب فرمائے۔ آمین۔
اہم نوٹ:
12 ربیع الاول کو نبی کریم ﷺ کی ولادتِ مبارک کی قطعی اور متفق علیہ تاریخ قرار دینا درست نہیں، کیونکہ تاریخِ ولادت کے بارے میں اہلِ علم کے درمیان اختلاف موجود ہے۔ البتہ یہ صحیح حدیث سے ثابت ہے کہ آپ ﷺ کی ولادت پیر کے دن ہوئی تھی۔
ہمیں اختلاف کے بجائے قرآن و سنت کو معیار بنانا چاہیے۔
#میلادالنبیﷺ