Jamia Masjid Ahl e Hades Loharan Wali Dijkot

Jamia Masjid Ahl e Hades Loharan Wali Dijkot جامع مسجد اہلحدیث لوہاراں والی ڈجکوٹ

12 ربیع الاول اور جلوسِ میلاد — قرآن و حدیث کی روشنی میںنبی کریم ﷺ سے محبت ہمارے ایمان کا حصہ ہے، لیکن محبت کا صحیح تقاض...
19/08/2026

12 ربیع الاول اور جلوسِ میلاد — قرآن و حدیث کی روشنی میں

نبی کریم ﷺ سے محبت ہمارے ایمان کا حصہ ہے، لیکن محبت کا صحیح تقاضا یہ ہے کہ ہم آپ ﷺ کی سنت کی پیروی کریں۔

صحیح مسلم میں حضرت ابو قتادہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ سے پیر کے روزے کے بارے میں پوچھا گیا تو آپ ﷺ نے فرمایا:

"فِيهِ وُلِدْتُ وَفِيهِ أُنْزِلَ عَلَيَّ"

یعنی: "یہ وہ دن ہے جس میں میری ولادت ہوئی اور اسی دن مجھ پر وحی نازل ہوئی۔"

📖 صحیح مسلم: 1162

لیکن اس صحیح حدیث میں 12 ربیع الاول کو جلوس نکالنے، سالانہ جشن منانے یا اسے عبادت کے طور پر مقرر کرنے کا کوئی حکم موجود نہیں۔

اسی طرح نبی کریم ﷺ نے فرمایا:

"مَنْ أَحْدَثَ فِي أَمْرِنَا هَذَا مَا لَيْسَ فِيهِ فَهُوَ رَدٌّ"

یعنی: "جس نے ہمارے دین میں ایسی چیز ایجاد کی جو اس میں نہیں، وہ مردود ہے۔"

📖 صحیح بخاری: 2697

لہٰذا ہمیں نبی کریم ﷺ سے سچی محبت کے ساتھ آپ ﷺ کی سنت، درود و سلام، آپ ﷺ کی تعلیمات اور آپ ﷺ کے اخلاق کو اپنی زندگی میں اپنانا چاہیے۔

🤲 اللہ تعالیٰ ہمیں قرآن و سنت کے مطابق نبی کریم ﷺ کی سچی محبت نصیب فرمائے۔ آمین۔

اہم نوٹ:
12 ربیع الاول کو نبی کریم ﷺ کی ولادتِ مبارک کی قطعی اور متفق علیہ تاریخ قرار دینا درست نہیں، کیونکہ تاریخِ ولادت کے بارے میں اہلِ علم کے درمیان اختلاف موجود ہے۔ البتہ یہ صحیح حدیث سے ثابت ہے کہ آپ ﷺ کی ولادت پیر کے دن ہوئی تھی۔

ہمیں اختلاف کے بجائے قرآن و سنت کو معیار بنانا چاہیے۔

#میلادالنبیﷺ

نبی کریم حضرت محمد ﷺ کے قرآن و صحیح احادیث سے ثابت معجزاتالحمد للہ، رسول اللہ حضرت محمد ﷺ اللہ تعالیٰ کے آخری نبی ہیں۔ ا...
03/08/2026

نبی کریم حضرت محمد ﷺ کے قرآن و صحیح احادیث سے ثابت معجزات

الحمد للہ، رسول اللہ حضرت محمد ﷺ اللہ تعالیٰ کے آخری نبی ہیں۔ اللہ تعالیٰ نے آپ ﷺ کو بہت سے معجزات عطا فرمائے، جن میں سے درج ذیل قرآن کریم اور صحیح احادیث سے ثابت ہیں:

1۔ قرآن مجید کا نزول (سب سے بڑا معجزہ)
📖 دلیل: سورۃ الإسراء 17:88، سورۃ البقرہ 2:23

2۔ چاند کے دو ٹکڑے ہونا
📖 دلیل: سورۃ القمر 54:1-2
📚 صحیح بخاری: 4864، صحیح مسلم: 2802

3۔ واقعۂ اسراء و معراج
📖 دلیل: سورۃ الإسراء 17:1
📚 صحیح بخاری، صحیح مسلم

4۔ انگلیوں سے پانی کا جاری ہونا
📚 صحیح بخاری: 3576، صحیح مسلم: 1856

5۔ کھانے میں برکت، تھوڑا کھانا بہت لوگوں کے لیے کافی ہونا
📚 صحیح بخاری: 4101، صحیح مسلم: 2039

6۔ درخت کا آپ ﷺ کے حکم سے چل کر آنا
📚 صحیح مسلم: 2279

7۔ درخت کے تنے (حنانہ) کا رونا
📚 صحیح بخاری: 3584

8۔ پتھروں کا آپ ﷺ کو سلام کرنا
📚 صحیح مسلم: 2277

9۔ جانوروں کا آپ ﷺ سے کلام یا شکایت کرنا
📚 سنن ابی داؤد: 2549 (صحیح)

10۔ بیماروں کے لیے دعا سے شفا ہونا
📚 صحیح بخاری: 2942، صحیح مسلم: 2406

11۔ حضرت علی رضی اللہ عنہ کی آنکھ کا شفا پانا
📚 صحیح بخاری: 4210، صحیح مسلم: 2406

12۔ مستقبل کی بہت سی خبریں دینا اور ان کا پورا ہونا
📚 صحیح بخاری، صحیح مسلم (متعدد احادیث)

13۔ دعاؤں کا فوراً قبول ہونا
📚 صحیح بخاری، صحیح مسلم (متعدد واقعات)

14۔ تھوڑے پانی سے پورے لشکر کا وضو کرنا
📚 صحیح بخاری: 3572

15۔ آپ ﷺ کا سایہ نہ ہونا یا نورِ محمدی سے متعلق روایات
یہ بات صحیح احادیث سے ثابت نہیں، لہٰذا اسے معجزہ کے طور پر بیان نہیں کیا جائے گا۔

16۔ آپ ﷺ کا ہر وقت حاضر و ناظر ہونا
یہ عقیدہ قرآن و صحیح حدیث سے ثابت نہیں۔

17۔ نور سے پیدا کیے جانے کی روایت
یہ روایت صحیح سند سے ثابت نہیں۔

نتیجہ:
مسلمان کے لیے وہی معجزات بیان کرنا درست ہے جو قرآن کریم یا صحیح احادیث سے ثابت ہوں۔ ضعیف یا من گھڑت روایات بیان کرنے سے بچنا چاہیے۔

اللّٰہ تعالیٰ ہمیں قرآن و سنت پر عمل کرنے کی توفیق عطا فرمائے۔ آمین۔

07/06/2026

حضرت امام حسین رضی اللہ عنہ نواسۂ رسول ﷺ، جنتی نوجوانوں کے سردار اور حق و صداقت کی عظیم علامت ہیں۔ آپ نے دینِ اسلام کی سربلندی اور امت کی اصلاح کے لیے اپنی جان، اپنے اہلِ خانہ اور اپنے ساتھیوں کی قربانی پیش کی۔

واقعۂ کربلا ہمیں صبر، استقامت، حق پر ثابت قدمی اور ظلم کے سامنے نہ جھکنے کا درس دیتا ہے۔

اللہ تعالیٰ حضرت امام حسین رضی اللہ عنہ اور تمام شہدائے کربلا پر اپنی بے شمار رحمتیں نازل فرمائے اور ہمیں ان کی سیرت سے سبق حاصل کرنے کی توفیق عطا فرمائے۔

اللهم ارض عن الحسين بن علي، واجزه عن الإسلام والمسلمين خير الجزاء.




#کربلا




📌 حضرت حسین رضی اللہ عنہ کی شہادت
حضرت حسین رضی اللہ عنہ کی شہادت 61 ہجری (680ء) میں واقع ہوئی، اور یہ واقعہ کربلا (عراق) میں پیش آیا۔
👉 انہیں یزید بن معاویہ کے دورِ خلافت میں عبید اللہ بن زیاد (گورنرِ کوفہ) کی فوج نے شہید کیا۔
📚 کیا صحیح حدیث میں تفصیل موجود ہے؟
⚠️ اہم بات:
صحیح بخاری یا صحیح مسلم میں کربلا کے واقعے کی تفصیلی روایت موجود نہیں
یہ واقعہ زیادہ تر تاریخی کتب میں آیا ہے، جیسے:
تاریخ طبری
البدایہ والنہایہ (ابن کثیر)
دیگر مؤرخین کی روایات
🧭 یزید کا کردار کیا تھا؟
یہاں علماء کے درمیان تفصیل اور اختلاف پایا جاتا ہے:
✔️ 1) مؤرخین کی رائے:
یزید دمشق میں تھا
عملی طور پر قتل کربلا میں ابن زیاد اور اس کی فوج نے کیا
کوفہ و عراق کی انتظامیہ نے حالات کو کنٹرول کیا
⚖️ 2) اہلِ علم کی رائے (اہم خلاصہ):
📌 ایک رائے:
یزید نے براہِ راست حکم نہیں دیا
لیکن اس کے دور میں یہ ظلم ہوا، اس لیے وہ سیاسی طور پر ذمہ دار سمجھا جاتا ہے
📌 دوسری رائے:
بعض علماء کے مطابق اسے مکمل بری الذمہ کہنا بھی درست نہیں، کیونکہ:
اس کی حکومت میں یہ واقعہ ہوا
اس نے بعد میں غم کا اظہار کیا (روایات میں اختلاف ہے)
📖 اہل سنت کا متوازن موقف
اہل سنت کا عمومی اور معتدل عقیدہ یہ ہے:
✔️ حضرت حسین رضی اللہ عنہ مظلوم شہید ہیں
✔️ ان کے قاتل اصل میں کوفہ کے لوگ اور ابن زیاد کی فوج تھے
⚠️ یزید کے بارے میں حتمی فیصلہ (لعنت یا قطعی الزام) میں اختلاف ہے
✔️ اس معاملے کو اللہ کے سپرد کرنا بہتر ہے
📌 خلاصہ
شہادت: کوفہ/کربلا کے لشکر نے کی
عملی کمان: عبید اللہ بن زیاد کے پاس تھی
یزید: اس کے دور میں واقعہ ہوا، اس کے کردار پر علماء میں اختلاف ہے
صحیح حدیث: تفصیل موجود نہیں، زیادہ تر تاریخی روایات ہیں

07/06/2026

📌 عورت کا اعتکاف مسجد میں یا گھر میں؟
بسم اللہ الرحمٰن الرحیم
عورت کے اعتکاف کے بارے میں شریعت کا واضح حکم یہ ہے کہ شرعی اعتکاف صرف مسجد میں ہی درست ہے۔
اللہ تعالیٰ قرآن مجید میں فرماتے ہیں:
﴿وَلَا تُبَاشِرُوهُنَّ وَأَنتُمْ عَاكِفُونَ فِي الْمَسَاجِدِ﴾ (البقرہ 187)
ترجمہ: “اور جب تم مسجدوں میں اعتکاف میں بیٹھے ہو…”
اس آیت سے واضح ہوتا ہے کہ اعتکاف کا مقام مسجد ہے۔
نبی کریم ﷺ بھی ہمیشہ مسجد نبوی میں اعتکاف فرمایا کرتے تھے (صحیح بخاری، صحیح مسلم)۔
📌 جمہور علماء کے مطابق:
عورت ہو یا مرد، شرعی اعتکاف صرف مسجد میں ہی صحیح ہے
گھر میں عبادت، ذکر اور نوافل تو ہو سکتے ہیں، لیکن اسے شرعی اعتکاف نہیں کہا جاتا
⚠️ شرط یہ ہے کہ عورت کے لیے مسجد میں:
محفوظ انتظام ہو
شوہر یا ولی کی اجازت ہو
فتنہ یا اختلاط کا اندیشہ نہ ہو
📍 خلاصہ:
✔️ شرعی اعتکاف = مسجد میں
❌ گھر میں اعتکاف = شرعی نہیں (صرف عبادت)

انشاء اللہ
22/05/2026

انشاء اللہ

Address

Dijkot
79790

Telephone

03000688500

Website

Alerts

Be the first to know and let us send you an email when Jamia Masjid Ahl e Hades Loharan Wali Dijkot posts news and promotions. Your email address will not be used for any other purpose, and you can unsubscribe at any time.

Shortcuts

Share

Category