Azadari TV

Azadari  TV We uploaded new photos and added videos of majlis and nohay اگر ہم غلط پوسٹ کرتے ہ?

22/03/2025

21 Ramzan Shahadat Mola Ali as
Allama Asif Raza Alvi

19/03/2025

21 Ramzan Shahadat Mola Ali as
Allama Asif Raza Alvi

04/11/2024
Sub se Afzal Ibadat
16/08/2024

Sub se Afzal Ibadat

Hussain alaihissalaam ki AzadariAmr e Imamat ko Zinda kerna hai
22/07/2024

Hussain alaihissalaam ki Azadari
Amr e Imamat ko Zinda kerna hai

Allah kiun Kalaam nahi kerta
22/07/2024

Allah kiun Kalaam nahi kerta

🔷 کربلا اچانک نہیں ہوئی ایک طویل نفرت تھی جو دلوں میں پنپ رہی تھی 🔷آپ نے کبھی سوچا کہ امام حسن علیہ السلام اور امام حسین...
22/07/2024

🔷 کربلا اچانک نہیں ہوئی ایک طویل نفرت تھی جو دلوں میں پنپ رہی تھی 🔷

آپ نے کبھی سوچا کہ امام حسن علیہ السلام اور امام حسین علیہ السلام کی پانچ چھ سال کی عمر تک تو واقعات ملتے ہیں مگر اس کے بعد تاریخ میں ان کا ذکر صرف تب ہوا جب ان کی شہادت ہوئی۔

کئی نامور اصحاب حضرت سلمان فارسی کہ جس کے بارے میں نبی کریم نے فرمایا کہ اگر علم ثریا ستارے پر بھی ہو اہل فارس وہاں پہنچ جائیں۔

حضرت ابوذر کہ جنہیں زمین پر سب سے سچا انسان قرار دیا۔

حضرت مقداد جن کی جنت مشتاق ہے۔

حضرت ایوب انصاری جو نبی کریم کے مدینہ میں میزبان تھے۔

حضرت جابر بن عبداللہ انصاری جو نبی کریم سے لے کر ان کی پانچویں نسل تک حیات رہے۔

حضرت عمار یاسر جن کی شان میں آیات نازل ہوئیں۔

حضرت بلال حبشی جو موذنِ رسول تھے۔

تاریخ ان کے بارے میں مکمل خاموش نظر آتی ہے۔ ایسا لگتا ہے کہ جیسے وفات نبی کریم ص کے بعد وہ اس دنیا سے غائب رہے اور بس شہادت یا وفات کے وقت دنیا میں کچھ دیر کے لئے آئے۔

آخر کہیں تو کچھ غلط ہوا ہے کہ ان شخصیات کا ذکر کرنا عیب سمجھا گیا۔

دوسری طرف جو افراد نبی کریم ص کی وفات سے سال دو سال قبل مسلمان ہوئے, ان کی سوانح عمری سے تاریخ بھری نظر آتی ہے۔

نبی کریم ص کی وفات کے بعد ایسا کیا ہوا کہ ان کی آل اور بہت سے وفادار اصحاب کو تاریخ نے مکمل نظرانداز کر دیا۔

کہاں کچھ غلط ہوا کہ نبی کریم ص کی وفات کے بعد ان کی آل کے کسی بھی فرد کی طبعی وفات نہ ہوئی۔

تمام قتل ہوئے اور قاتل بھی وہ جو ان کے جد کا کلمہ پڑھتے نہیں تھکتے تھے۔

آج چودہ صدیاں بعد بھی ہم جانتے ہیں کہ حسن و حسین علیہم السلام جنت کے سردار ہیں۔

ایسا کیا ہوا کہ جنت کے طلب گاروں نے سرداروں کو انتہائی اذیت کے ساتھ قتل کر دیا۔

مورخ نے آخر ان تمام ہستیوں کو اتنا غیر اہم کیسے سمجھا کہ تاریخِ اسلام میں ان کا حصہ ایک صحابی جتنا بھی نہیں رکھا۔

کربلا اچانک نہیں ہوئی۔
ایک طویل نفرت تھی جو دلوں میں پنپ رہی تھی۔ جوں جوں وقت گزرتا گیا, نفرت بڑھتی رہی اور ہر ہستی کے بعد دوسری ہستی پر پہلے سے زیادہ ظلم ہوتا نظر آیا۔

اتنی نفرت کہ اس مقدس گھرانے کی مطہرات پر ظلم کرنے سے بھی نہ چوکے۔

چھ ماہ کے بچے کا سر کاٹنا بھی ثواب سمجھا گیا حالانکہ بدترین دشمن کے چھ ماہ کے بچے سے بھی کوئی دشمنی کا بدلہ لینے کا نہیں سوچتا۔

امت نے تو آل رسول پر ظلم کیا ہی تھا مگر مورخین نے ان سے کہیں زیادہ ظلم کیا کہ جن کے فضائل تھے, انہیں چھپایا جبکہ ان کے دشمنوں کے فضائل سے کتابیں سیاہ کیں۔

24 ذوالحجہ کو واقعہ مباہلہ کی یاد منائی گٸی۔ اس واقعہ میں بنص قران پانچ ذواتِ مقدسہ میدان میں توحید کے گواہ بن کر پیش ہوئے اور قران مجید نےانہیں صداقت کی سند عطا کی۔
واقعہ مباہلہ کے کچھ مدت بعد ان پانچ ہستیوں میں بزرگ ترین ہیستی کا وصال ہوا جنازے میں کتنے کلمہ گو تھے؟؟

پھر 75 دن بعد اس گھر کا دوسرا جنازہ رات کی تاریکی میں اُٹھا اور چند مخلصین کی موجودگی میں بڑی خاموشی اور مظلومیت سے دفن کردیا گیا اور نشانِ قبر تک مٹا دیا گیا جو آج تک نہ مل سکا۔

پھر اسی گھرانے کا تیسرا جنازہ 40 ہجری میں کوفہ سے آدھی رات کے وقت اٹھا اور پشتِ کوفہ ریت کے ٹیلوں کے درمیان خاموشی سے دفن کر دیا گیا اور مدتوں قبر کا نشان نامعلوم رہا۔

پھراسی جماعت کے چوتھے فرد کا جنازہ 50 ہجری میں شہر مدینہ سےاُٹھا اور نانے کی مزار کی طرف چلا مگر کچھ لوگ تیروں سے مسلحہ راستے میں حاٸل ہوٸے کہ نواسے کو نانے کے پہلو میں دفن نہیں ہونے دیں گے آخر وہ جنازہ بقیع کے عوامی قبرستان میں دفن کر دیا گیا۔

پھر 61 ہجری میں اصحاب مباہلہ کے آخری فرد کا جنازہ اٹھایا بھی نہ جا سکا بلکہ جنازہ گھوڑوں کی ٹاپوں سے پامال کر دیا گیا۔
ایک بات تمام اہل ایمان پر فرض ہے کہ اس پہ غور و فکر کریں کہ آٸمہ اطہار کی جگہ کتنے امام پیدا کیے گٸے اور ہم آل ِ محبوب خدا کہ جگہ ان سے دینی و فکری رہنماٸی کیوں حاصل کرتے ہیں ۔ گویا جن کے سینوں میں رسول کریم کی طرف سے منتقل ہونے والا علم القرآن و حدیث اور علم الدنیا کو پورے منصوبے سے پس ِ پشت ڈال کے ان گنت اماموں کے اقوال اور وضاحت فقہ حاصل کرتے ہیں اور یہ غفلت میں نسل در نسل ہوتی نظر آتی ہے ۔
بحثیت مسلمان کیا ہم یہ حق نہیں رکھتے کہ کم از کم ہم مورخ اسلام سے یہ تو پوچھیں کہ جنکی صداقت کا گواہ خود اللہ ہے اور وہ توحیدِ خدا کے گواہ ہیں امت رسول نے انکے ساتھ یہ سلوک کیوں کیا۔؟
ہمارا یہ سوال امت مسلمہ پر قیامت تک قرض رہے گا اور اگر اس دنیا میں اس کا جواب نہ ملا تو میدان محشر میں عدالت خداوند تعالیٰ میں ہم یہ سوال اٹھائیں گے۔
بقول شاعر
وہ ساری جنگ محمد سے دشمنی کی تھی
جو کربلا میں ہوا اصل میں تو کب کا ہے

یکم محرم الحرام  تا 10 محرم الحرام مجلس کا انتظام ہوگا  اور نیاز امام حسین کا اعلئ انتظام ہوگا۔
17/07/2021

یکم محرم الحرام تا 10 محرم الحرام مجلس کا انتظام ہوگا اور نیاز امام حسین کا اعلئ انتظام ہوگا۔

ولادت سلطان عرب و عجم علی بن موسی رضا علیہما السلام مبارک ہو۔
21/06/2021

ولادت سلطان عرب و عجم علی بن موسی رضا علیہما السلام مبارک ہو۔

حدیث کساءبسند صحیح عن جابر ابن عبد اللہ الانصاریصاحب عوالم نے بسند صحیح جناب جابر بن عبداللہ انصاری سے اور انھوں نے دختر...
09/06/2021

حدیث کساء

بسند صحیح عن جابر ابن عبد اللہ الانصاری

صاحب عوالم نے بسند صحیح جناب جابر بن عبداللہ انصاری سے اور انھوں نے دختر رسول خدا جناب فاطمہ زہرا صلوات اللہ علیہا سے نقل کیا ہے انھوں نے کہا کہ میں نے جناب فاطمہؐ سے سنا انھوں نے کہا کہ میرے والد بزرگوار رسولؐ خدا ایک روز تشریف لائے اور فرمایا کہ تم پر سلام ہو اے فاطمہؐ میں نے کہا میں نے کہاآپ پر بھی سلام پھر فرمایا میں میں اپنے جسم میں کمزوری پا رہا ہوں پس میں نے کہا میں آپ کے لئے خدا کی پناہ چاہتی ہوں اے والد ماجد کمزوری سے، انھوں نے کہا اے فاطمہؐ رداء یمانی لاؤ اور اسے مجھے اڑھا دو پس میں ردا یمانی لے کر آئی اور اے میں نے انھیں اڑھا دیا اور میں ان کی طرف دیکھنے لگی ان کا رخ زیبا اس طرح درخشندہ تھا جیسے چودھویں رات کا چاند۔

ابھی تھوڑی دیر نہ گذری تھی کہ میرا بیٹا حسنؑ آیا اور اس نے کہا کہ مادر گرامی آپ پر سلام ہو میں نے کہا تم پر بھی سلام اے میری آنکھوں کی ٹھنڈک اور میرے میوۂ دل، اسے نے کہا اے اماں میں آپ کے قریب ایسی خوشبو پا رہا ہوں جیسے میرے نانا رسولؐ خدا کی خوشبو۔ میں نے کہا ہاں تمہارے نانا کے چادر کے نیچے آرام فرما رہے ہیں۔حسنؑ چادر کے پاس گئے اور کہا اے نانا اے رسولؐ خدا آپ پر سلام ہو کیا مجھے بھی چادر میں داخل ہونے کی اجازت ہے۔ انھوں نے فرمایا کہ تم پر بھی سلام اے میرے لال اے میرے حوض کے مالک تمہیں اجازت ہے۔ پس وہ چادر میں داخل ہو گئے ابھی تھوڑی دیر نہیں گذری تھی کہ میرا بیٹاحسینؑ آیا اور کہا سلام آپ پر اے مادر گرامی۔

میں نے کہا تم پر بھی سلام ہو اے بیٹے، اے خنکیٔ چشم، اے میوۂ دل، اسے نے کہا اے اماں میں آپ کے نزدیک ویسی خوشبو پا رہاہوں جیسی میرے نانا رسولؐ خدا صلی اللہ علیہ و آلہٖ کی خوشبو ہے۔ میں نے کہا بے شک تمہارے نانا اور بھائی چادر کے نیچے ہیں حسینؑ چادر کے قریب گئے اور کہا سلام آپ پر اے ناناسلام آپ پر اے منتخب پروردگار کیا مجھے بھی اجازت ہے کہ میں آپ دونوں کے ساتھ چادر میں آ جاؤں۔ انھوں نے فرمایا تم پر سلام اے میرے لال اے میری امت کے شفیع میں نے تم کو اجازت دے دی۔ تو وہ بھی ان دونوں حضرات کے ساتھ چادر میں آگئے اتنے میں ابوالحسنؑ علیؑ بن ابی طالبؑ تشریف لائے اور کہا سلام تم پر اے دختر رسولؐ خدا میں نے کہا اور آپ پر بھی سلام اے ابوالحسنؑ اے امیرا لمومنینؑ۔ انھوں نے کہا میں آپ کے پاس ایسی خوشبو محسوس کر رہا ہوں جو میرے بھائی اور میرے چچا کے فرزند رسولؐ خدا کی خوشبو ہے۔ میں نے کہاہاں وہ آپ کے بچوں سمیت چادر کے نیچے آرام فرما رہے ہیں۔پس علیؑ بھی چادر کے پاس آئے اور کہا سلام آپ پر اے اللہ کے رسولؐ کیا مجھے اجازت ہے کہ میں آپ کے ساتھ زیر چادر آجاؤں فرمایا رسولؐ اکرم نے تم پر بھی سلام اے میرے بھائی، وصی، خلیفہ اور میرے پرچم دار تمہیں اجازت ہے۔ پھر حضرت علیؑ بھی زیر چادر داخل ہو گئے پھر میں چادرکے پاس آئی اور کہا سلام آپ پر اے والد بزرگوار اے رسولؐ خدا کیا مجھے بھی اجازت ہے کہ میں آپ کے ہمراہ زیرِ چادر آجاؤں۔

فرمایا تم پر بھی سلام اے پارۂ جگر، اے نور نظر تمہیں بھی اجازت ہے۔ پس میں داخل چادر ہو گئی۔ پھر جب ہم سب کے سب زیر کسا جمع ہو گئے تو رسولؐ خدا نے چادرکے دونوں گوشوں کو پکڑا اور اپنے داہنے ہا تھ سے آسمان کی طرف اشارہ کیا ور کہا خدایا یہ میرے اہل بیتؑ ، میرے خاص، میرے عزیز ہیں، ان کا گوشت میرا گوشت ہے، ان کا خون میرا خون ہے جس نے ان کو اذیت دی اس نے مجھ کو اذیت دی اور جس نے ان کو محزون کیا اس نے مجھ کو محزون کیا۔ میری اس سے جنگ ہے جس نے ان سے جنگ کی اور اس سے صلح ہے جس نے ان سے صلح کی اور ان کا دشمن میرا دشمن ہے، ان کو دوست میرا دوست ہے وہ یہ مجھ سے ہیں اور میں ان سے ہوں۔ خدایا تو قرار دے اپنی صلوات وبرکت اور رحمت و مغفرت اور رضامندی کو میرے اوپر اور ان پر اور ان سے گندگی کو دور رکھ اور ان کو ایسا پاکیزہ رکھ جوحق پاکیزگی ہے۔ پس خدا نے فرمایا اے میرے ملائکہ اے میرےآسمان کے رہنے والوں میں نے بلند شدہ آسمان کو نہیں پیدا کیا اور نہ پھیلی ہوئی زمین کو اور نہ روشن چاند کو اور نہ درخشاں سورج کو اور نہ چلنے والے آسمان کو اور نہ بہنے والے دریا کو اور نہ چلنے والی کشتی کو مگر یہ ان پانچ افراد کی محبت میں جو زیر کساء ہیں۔ جبرئیل امین نے کہا اے پروردگار یہ کون زیر کساء ہے فرمایا خداوند عزوجل نے یہ نبوت کے اہلِ بیتؑ اور معدن رسالتؐ ہیں یہ فاطمؑہ، ان کے پدربزرگوار، ان کے شوہر اور ان کے بچے ہیں۔

پس جبرئیل نے کہا اے میرے پروردگار کیا تو مجھے بھی اجازت دیتا ہے کہ میں زمین پر جاؤں اور ان پانچ افراد کے ساتھ چھٹا ہو جاؤں۔ خدا نے فرمایا ہاں تمہیں اجازت ہے۔ پس جبرئیل امین زمین پر آئے اور کہا سلام تم پر اے رسولؐ خدا بزرگ و برتر خدا تم کو سلام پہنچاتا ہے اور محبت و اکرام سے تمہیں مخصوص کرتا ہے اور فرماتا ہے قسم ہے میری عزت اور میرے جلال کی میں نے بلند آسمان کو نہیں پیدا کیا اور نہ پھیلی ہوئی زمین کو اور نہ روشن چاند کو اور نہ درخشاں سورج کو اور نہ چلنے والے آسمان اور نہ جاری دریا کو اور نہ رواں دواں کشتی کو مگر تمہاری وجہ سے اور تمہاری محبت کی وجہ سے اور اس نے مجھ کو اجازت دی ہے کہ میں آپ کے ساتھ زیر کساء آجاؤں تو اے رسولؐ خدا کیا مجھ کو اجازت ہے۔ فرمایا رسولؐ خدا نے تم پر بھی سلام اے وحی خدا کے امین ہاں تم کو بھی اجازت ہے پس جبرئیل بھی ہمارے ساتھ زیر کساء آگئےاور انھوں نے میرے والد ماجد سے کہا خدا نے آپ کے پاس وحی بھیجی ہے وہ فرماتا ہے بیشک خدا کا ارادہ ہو چکا ہے کہ اے اہلِ بیتؑ تم سے گندگی کو دور رکھے اور تم کو ویسا پاک و پاکیزہ رکھے جو پاکیزگی کو حق ہے۔ علیؑ نے میرے والد سے کہا اے رسولؐ خدا ہم کوبتائیں کہ زیر کساء ہمارے بیٹھنے کا فضل و شرف کیا ہے خدا کے نزدیک، رسولؐ نے فرمایاقسم ہے اس ذات کی جس نے مجھ کو حق کے ساتھ مبعوث کیا نبیؐ بنا کر اور مجھ کو رسالت کے لئے منتخب کیا۔ ہماری اس خبر کو زمین کی مجلسوں میں سے کسی مجلس میں ذکر نہیں کیا جائے گا۔

جہاں میرے شیعوں اور محبوں کی جماعت ہو مگر یہ کہ ان پر رحمت نازل ہو گی اور ملائکہ ان کے اطراف ہوں گے اور ان کے لئے استغفار کریں گے یہاں تک کہ متفرق ہوجائیں تب حضرت علیؑ نے کہا، بخدا ہم کامیاب ہو گئے اور رب کعبہ کی قسم ہمارے شیعہ کامیاب ہو گئے۔ دوبارہ رسولؐ نے فرمایا اے علیؑ قسم ہے اس کی جس نے نبی برحق بنا کر مبعوث کیا اور رسالت کے لئے منتخب کیا۔ زمین کی محفلوں میں سے کسی محفل میں ہماری اس بات کا تذکرہ نہیں کیا جائےگا درانحالیکہ اس میں ہمارے شیعہ اور محب بھی ہوں مگر یہ کہ اس میں کوئی صاحب غم ہو گا تو اس کا غم خدا دور کر دے گا اور کوئی محزون ہو گا تو خدا اس کے حزن کو دور کر دے گااور اگر کوئی طالب حاجت ہو گا تو خدا اس کی حاجت کو پورا کر دے گا تو علیؑ نے کہا کہ بخدا ہم کامیاب و سعید ہو گئے اور اسی طرح ہمارے شیعہ کامیاب اور سعادت مند ہو گئے دنیا اور آخرت میں پروردگار کعبہ کی قسم

دعا گو محمد بخش

Address

Dera Ghazi Khan
32201

Alerts

Be the first to know and let us send you an email when Azadari TV posts news and promotions. Your email address will not be used for any other purpose, and you can unsubscribe at any time.

Contact The Place Of Worship

Send a message to Azadari TV:

Share