16/08/2026
اکثر لوگوں کو کہتے سنا ہمارا نماز میں دل نہیں لگتا آخر کیوں۔۔؟
﴿إِنَّ الصَّلَاةَ تَنْهَىٰ عَنِ الْفَحْشَاءِ وَالْمُنكَرِ ۗ وَلَذِكْرُ اللَّهِ أَكْبَرُ ۗ وَاللَّهُ يَعْلَمُ مَا تَصْنَعُونَ﴾
“بے شک نماز بے حیائی اور برے کاموں سے روکتی ہے، اور اللہ کا ذکر سب سے بڑا ہے، اور اللہ جانتا ہے جو تم کرتے ہو۔”
(سورۂ العنکبوت: 45)
میں نے یہ آیت پہلی بار اُس وقت پڑھی…
جب میری زندگی باہر سے تو بالکل ٹھیک لگتی تھی، مگر اندر سے میں خالی تھی۔
میں نماز بھی پڑھتی تھی…
لیکن شاید صرف ایک عادت کے طور پر۔
مجھے لگتا تھا کہ میں ٹھیک چل رہی تھی، میری نماز بھی ٹھیک تھی، اور میرا اللہ سے تعلق بھی۔
پھر ایک دن میں نے دوبارہ قرآن کھولا۔
یہی آیت سامنے آگئی۔
میں نے آیت پڑھی…
اور پہلی بار میرے دل میں ایک سوال اٹھا…
“اگر نماز واقعی برائی سے روکتی ہے… تو پھر مجھے کیوں نہیں روک رہی؟”
میں دیر تک اسی سوال میں گم رہی۔
پھر میری اپنی نمازیں میری آنکھوں کے سامنے آنے لگیں۔
میں جسم سے نماز میں ہوتی تھی…
مگر میرا دل کہیں اور بھٹک رہا ہوتا تھا۔
میرے ہونٹ قرآن کی آیات پڑھ رہے ہوتے تھے…
لیکن میرا دل اُن آیات کو محسوس نہیں کر رہا ہوتا تھا۔
تب مجھے احساس ہوا…
شاید میں نماز پڑھ تو رہی تھی…
مگر نماز میں جی نہیں رہی تھی۔
پھر میری نظر ایک ایسے لفظ پر جا کر ٹھہر گئی…
“تَنْهَىٰ”
“روکتی ہے۔”
اللہ تعالیٰ نے یہ نہیں فرمایا کہ بندہ خود کو برائی سے روکے۔
بلکہ فرمایا:
“نماز روکتی ہے۔”
تب میں نے سوچا…
آخر ایک نماز انسان کو کیسے روک سکتی ہے؟
پھر میرے دل نے جواب دیا…
جب ایک بندہ دن میں پانچ مرتبہ اپنے رب کے سامنے کھڑی ہوتا ہے…
اپنی پیشانی زمین پر رکھا ہے…
اور اپنے رب سے ہم کلام ہوتا ہے…
تو آہستہ آہستہ اس کا دل بدلنے لگتا ہے۔
اور جب دل بدل جائے…
تو زندگی بھی بدلنے لگتی ہے۔
تب مجھے احساس ہوا…
نماز صرف جسم کی عبادت نہیں۔
یہ دل کی اصلاح بھی ہے۔
یہ نفس کی تربیت بھی ہے۔
یہ گناہوں کے راستے میں اللہ کی طرف سے کھڑی کی گئی ایک مضبوط دیوار ہے۔
پھر میری نظر آیت کے اگلے حصے پر گئی۔
﴿وَلَذِكْرُ اللَّهِ أَكْبَرُ﴾
“اور اللہ کا ذکر سب سے بڑا ہے۔”
میں رک گئی…
اللہ نے نماز کے فوراً بعد ذکر کا ذکر کیوں فرمایا؟
شاید اس لیے…
کہ نماز چند لمحوں کی عبادت ہے۔
مگر اللہ کا ذکر پوری زندگی کی عبادت ہے۔
جب دل ہر وقت اللہ کو یاد رکھتا ہے…
تو ہاتھ گناہ کی طرف بڑھنے سے پہلے رک جاتے ہیں۔
زبان بولنے سے پہلے سوچتی ہے۔
نگاہ اٹھنے سے پہلے جھک جاتی ہے۔
اور قدم غلط راستے پر چلنے سے پہلے ٹھہر جاتے ہیں۔
تب مجھے احساس ہوا…
ہم اکثر کہتے ہیں:
“میرا دل نماز میں نہیں لگتا۔”
حالانکہ اصل سوال یہ ہے…
“کیا میری نماز میرے دل میں اترتی ہے؟”
کیونکہ جو نماز دل میں اتر جائے…
وہ کردار میں بھی نظر آتی ہے۔
وہ زبان میں بھی نظر آتی ہے۔
وہ نگاہوں میں بھی نظر آتی ہے۔
اور وہ زندگی بدل دیتی ہے۔
اگر آج بھی میری گناہوں سے جنگ جاری ہے…
تو شاید مجھے نماز چھوڑنے کی نہیں…
نماز کو سمجھنے کی ضرورت ہے۔
ہر سجدہ اللہ کی طرف ایک نیا قدم ہے۔
ہر رکوع تکبر کو توڑتا ہے۔
اور ہر نماز بندے کو اپنے رب کے اور قریب لے جاتی ہے۔
شاید اسی لیے اللہ تعالیٰ نے فرمایا:
﴿إِنَّ الصَّلَاةَ تَنْهَىٰ عَنِ الْفَحْشَاءِ وَالْمُنكَرِ﴾
کیونکہ جب نماز صرف پڑھی نہ جائے…
بلکہ دل سے ادا کی جائے…
تو پھر وہ واقعی انسان کو برائیوں سے روک دیتی ہے۔
اور شاید…
اسی دن میری سمجھ میں آیا کہ مسئلہ نماز میں نہیں تھا…
مسئلہ میری غفلت میں تھا۔
نماز تو ہمیشہ سے مجھے بچانا چاہتی تھی…
مگر میں ہی اسے صرف ایک عادت سمجھ کر ادا کر رہی تھی۔
نماز کو صرف پڑھنے کی کوشش نہ کیجیے…
نماز کو سمجھ کر پڑھیے۔
اس کے الفاظ کو محسوس کیجیے۔
یہ سوچ کر پڑھیے کہ
آپ اُس ذات کے سامنے کھڑے ہیں جس نے آپ کو پیدا کیا، جو آپ کے دل کے ہر حال کو جانتا ہے، اور جو آپ کی ہر خاموش دعا بھی سنتا ہے۔
جب آپ نماز کو سمجھ کر، شعور کے ساتھ اور دل کی حاضری کے ساتھ ادا کریں گے…
تو آپ نماز کی لذت محسوس کریں گے۔
آپ کو ہر سجدے میں سکون ملے گا۔
ہر رکعت میں دل ہلکا محسوس ہوگا۔
اور ہر سلام کے بعد ایسا لگے گا جیسے دل کا بوجھ اتر گیا ہو۔
لیکن اگر نماز صرف ایک عادت بن جائے…
صرف فرض پورا کرنے کے لیے پڑھی جائے…
تو پھر وہ آہستہ آہستہ بوجھ محسوس ہونے لگتی ہے۔
پھر دل نماز میں نہیں لگتا۔
خیالات اِدھر اُدھر بھٹکتے رہتے ہیں۔
اور انسان سمجھتا ہے کہ شاید نماز میں سکون ہی نہیں۔
حالانکہ سکون نماز میں نہیں…
نماز کو محسوس کرنے میں ہے۔
جب ہم نماز کے ہر لفظ کو سمجھتے ہیں…
رکوع کی عاجزی کو محسوس کرتے ہیں…
سجدے کی قربت کو پہچانتے ہیں…
اور یہ یقین رکھتے ہیں کہ ہم اپنے رب سے ہم کلام ہیں…
تب نماز صرف عبادت نہیں رہتی…
بلکہ دل کا سکون، روح کی غذا اور اللہ سے محبت کا سب سے خوبصورت ذریعہ بن جاتی ہے۔
اللہ تعالیٰ ہمیں ایسی نماز عطا فرمائے جو ہماری آنکھوں کی ٹھنڈک، ہمارے دل کا سکون، ہماری روح کی راحت اور ہمیں ہر برائی سے بچانے کا ذریعہ بن جائے۔
آمین یا رب