18/01/2026
عتبہ بن ربیعہ؛
بنو ہاشم و بنو امیہ دراصل قریش کے ایک ہی بطن بنو عبدمناف سے تھے اسی لئے قریش میں بنو عبد مناف ایک طرف تصور ہوتے تھے اور دیگر خاندان ایک طرف۔
عتبہ بن ربیعہ کا رسول اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے لیے نرم گوشہ بھی اسی وجہ سے تھا
کہ عتبہ بن ربیعہ اور نبی صلی اللہ علیہ وسلم دونوں ایک ہی جد عبد مناف کی اولاد میں سے تھے
اور اسی بات کا طعنہ ابو جہل بارہا عتبہ بن ربیعہ کو دیا کرتا تھا
کہ
"تم محمد کے خلاف کسی انتہائی کارروائی کی مخالفت محض حمیت بنو عبد مناف میں کرتے ہو اور اگر محمد بنو مخزوم سے ہوتے تو میں دیکھتا کہ تم کیسے انکی اتنی طرفداری کرتے"۔
عتبہ بن ربیعہ ابو جہل کی جانب سے بزدلی کی عار دلانے پر ہی غیرت کا شکار ہوکر جنگ بدر میں مبازرت کے لیے اتر پڑا اور ہلاک ہوا۔
عتبہ شاید وہ واحد سردار قریش ہے جس کا لہجہ مخالف پارٹی میں ہونے کے باوجود دعوت اسلامی کے لیے ہمیشہ نرم نظر آتا ہے۔
جب جب قریش نبی صلی اللہ علیہ وسلم کے خلاف انتہائی اقدام کرنے کی کوشش کرتے تو عتبہ درمیان میں پڑ کر اپنے کمال استدلال و خوبی گفتگو سے قریش کو ایسا کرنے سے باز رکھتا۔
"ھند" اسی عتبہ بن ربیعہ کی بیٹی تھی۔
وہ قرابتداری کا لحاظ کرنے کے باوجود اسلام کے لیے کوئی نرم گوشہ نہ رکھتی تھیں اور اکثر اپنے والد سے اس سلسلے میں بحث و تکرار کرجاتیں لیکن عتبہ ہر دفعہ نہایت خوبصورتی سے اس تکرار کو نپٹا کر معاملے کو رفع دفع کردیتے۔
شاید یہ عتبہ کی تربیت اور اس ضمن میں خاندان محمد صلی اللہ علیہ وسلم کے لیے نرمی کا اثر تھا کہ والد عتبہ، بھائی ولید اور چچا شیبہ کے بدر میں مسلمانوں کے ہاتھوں قتل ہوجانے کے باوجود بقول ابن ہشام اور دیگر مورخین اسی ھند بنت عتبہ نے سیدہ زینب بنت رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو ہجرت مدینہ کے لئے زاد راہ کی پیشکش کی۔
اور جب اہل قریش نے آڑے آکر دوران ہجرت سیدہ زینب کو اونٹ سے گرادیا اور وہ زخمی ہو گئیں تو اسی ھند نے نہ صرف ان کے زخم صاف کئے بلکہ قریش کو بزدلی کی عار دلائی کہ
"ایک نہتی عورت جو اپنے باپ سے جاملنا چاہتی ہے اس کا راستہ روک کر تم بڑی بہادری کا مظاہرہ کررہے ہو؟
آخر بدر کے دن تمہاری یہ شجاعت و بہادری کہاں تھی، جس کو آج تم ایک نہتی عورت پر آزما رہے ہو کیا برا ہے جو وہ اپنے باپ سے جاملے"۔
میں کبھی اس منظر کو سوچتا ہوں تو قریش کی غیرت و حمیت اور نجابت پر حیران و ششدر ہوکر رہ جاتا ہوں۔
اخلاقی قدروں اور غیرت کی ایسی منصفانہ تقسیم کہ دشمن اور باپ، بھائی و چچا کے قاتل کی بیٹی بھی قابل تکریم ٹھہرتی ہے۔
ایسا کردار ہونا بڑی بات ہے اور یقینا اس میں عتبہ بن ربیعہ کی تربیت کا اثر تھا۔
عتبہ کا حکمت کی معراج پر فائز وہ مشورہ کون بھول سکتا ہے کہ جس کو اگر قریش مان لیتے تو شاید نہ ہجرت پیش آتی اور نہ قریش کو اپنے لعل اور سردار جنگوں میں کھونے پڑے۔۔۔
عتبہ نے نبی صلی اللہ علیہ وسلم سے قریش کی جانب سے مذاکرات کی غرض سے ملاقات کے بعد دارالندوہ آکر ابو جہل، سہیل بن عمرو، ولید بن مغیرہ اور جمیع قریش کو مشورہ دیا تھا
کہ
"محمد کو چھوڑ دو اور عرب کو اس کے ساتھ نمٹنے دو
اگر وہ (معاذ اللہ) جھوٹا ہے تو دوسرے عرب اسے خود ختم کر دیں گے
اور تم بغیر خون بہائے بچ جاؤ گے۔
اور اگر وہ سچا ہے اور عرب پر غالب آ جاتا ہے
تو اس کی بادشاہت تمہاری ہی بادشاہت ہو گی
اس کی عزت تمہاری عزت ہو گی
اور تم سب عرب میں سب سے زیادہ خوش نصیب ہو جاؤ گے"۔
لیکن
ابو جہل اور سرداران قریش کی پھوٹی قسمت کے اس وقیع مشورے کو درخور اعتناء نہ جانا اور اپنا ہی نقصان کرلیا۔۔۔۔
اسی طرح بدر کے موقع پر عتبہ نے جو مشورہ سرداران مکہ کو دیا تھا وہ بھی اسکی نجابت اور ایجابی طبیعت پر دال تھا۔
جب قریش کا لشکر بدر کے قریب پہنچا اور یہ خبر پھیلی کہ قافلہ ابوسفیان بچ کر نکل گیا ہے، تو عتبہ بن ربیعہ کھڑا ہوا اور قریش سے کہا؛
"اے قریش کے لوگو!
خدا کی قسم! تم محمد ﷺ اور ان کے ساتھیوں سے جنگ کر کے کوئی عزت حاصل نہیں کرو گے۔
اگر تم انہیں قتل کرو گے تو ہر شخص اپنے ہی قبیلے کے آدمی کو قتل کرے گا،
کوئی باپ اپنے بیٹے کو، کوئی بھائی اپنے بھائی کو، کوئی چچا اپنے بھتیجے کو"۔
ابوجہل کے تکرار مسلسل کرنے پر عتبہ نے ایک دفعہ پھر کہا؛
"تم لوگ ایک ایسی جنگ میں کود رہے ہو جس کا انجام تمہارے لیے ندامت کے سوا کچھ نہیں۔
واپس چلو، اور اس معاملے سے کنارہ کش رہو"۔
سیرت کے مطالعہ کے دوران عتبہ کی شخصیت دیکھ کر اندازہ ہوجاتا ہے کہ واقعی ہدایت صرف اللہ کے ہاتھ میں ہے اور وہ جسے چاہے اس سے نواز دے۔۔۔
ورنہ عتبہ جیسا نفیس و بصیرت والا شخص ضرور اسلام لے آتا۔