Dargah Mian Yar Muhammad Kalhoro

Dargah Mian Yar Muhammad Kalhoro Mian Nasrullah Khan Kalhoro took alot of efforts to maintain the Dargah Shareef and Jamma Masjid....

18/01/2026

عتبہ بن ربیعہ؛

بنو ہاشم و بنو امیہ دراصل قریش کے ایک ہی بطن بنو عبدمناف سے تھے اسی لئے قریش میں بنو عبد مناف ایک طرف تصور ہوتے تھے اور دیگر خاندان ایک طرف۔

عتبہ بن ربیعہ کا رسول اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے لیے نرم گوشہ بھی اسی وجہ سے تھا
کہ عتبہ بن ربیعہ اور نبی صلی اللہ علیہ وسلم دونوں ایک ہی جد عبد مناف کی اولاد میں سے تھے
اور اسی بات کا طعنہ ابو جہل بارہا عتبہ بن ربیعہ کو دیا کرتا تھا
کہ
"تم محمد کے خلاف کسی انتہائی کارروائی کی مخالفت محض حمیت بنو عبد مناف میں کرتے ہو اور اگر محمد بنو مخزوم سے ہوتے تو میں دیکھتا کہ تم کیسے انکی اتنی طرفداری کرتے"۔

عتبہ بن ربیعہ ابو جہل کی جانب سے بزدلی کی عار دلانے پر ہی غیرت کا شکار ہوکر جنگ بدر میں مبازرت کے لیے اتر پڑا اور ہلاک ہوا۔

عتبہ شاید وہ واحد سردار قریش ہے جس کا لہجہ مخالف پارٹی میں ہونے کے باوجود دعوت اسلامی کے لیے ہمیشہ نرم نظر آتا ہے۔
جب جب قریش نبی صلی اللہ علیہ وسلم کے خلاف انتہائی اقدام کرنے کی کوشش کرتے تو عتبہ درمیان میں پڑ کر اپنے کمال استدلال و خوبی گفتگو سے قریش کو ایسا کرنے سے باز رکھتا۔

"ھند" اسی عتبہ بن ربیعہ کی بیٹی تھی۔
وہ قرابتداری کا لحاظ کرنے کے باوجود اسلام کے لیے کوئی نرم گوشہ نہ رکھتی تھیں اور اکثر اپنے والد سے اس سلسلے میں بحث و تکرار کرجاتیں لیکن عتبہ ہر دفعہ نہایت خوبصورتی سے اس تکرار کو نپٹا کر معاملے کو رفع دفع کردیتے۔

شاید یہ عتبہ کی تربیت اور اس ضمن میں خاندان محمد صلی اللہ علیہ وسلم کے لیے نرمی کا اثر تھا کہ والد عتبہ، بھائی ولید اور چچا شیبہ کے بدر میں مسلمانوں کے ہاتھوں قتل ہوجانے کے باوجود بقول ابن ہشام اور دیگر مورخین اسی ھند بنت عتبہ نے سیدہ زینب بنت رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو ہجرت مدینہ کے لئے زاد راہ کی پیشکش کی۔
اور جب اہل قریش نے آڑے آکر دوران ہجرت سیدہ زینب کو اونٹ سے گرادیا اور وہ زخمی ہو گئیں تو اسی ھند نے نہ صرف ان کے زخم صاف کئے بلکہ قریش کو بزدلی کی عار دلائی کہ
"ایک نہتی عورت جو اپنے باپ سے جاملنا چاہتی ہے اس کا راستہ روک کر تم بڑی بہادری کا مظاہرہ کررہے ہو؟
آخر بدر کے دن تمہاری یہ شجاعت و بہادری کہاں تھی، جس کو آج تم ایک نہتی عورت پر آزما رہے ہو کیا برا ہے جو وہ اپنے باپ سے جاملے"۔

میں کبھی اس منظر کو سوچتا ہوں تو قریش کی غیرت و حمیت اور نجابت پر حیران و ششدر ہوکر رہ جاتا ہوں۔
اخلاقی قدروں اور غیرت کی ایسی منصفانہ تقسیم کہ دشمن اور باپ، بھائی و چچا کے قاتل کی بیٹی بھی قابل تکریم ٹھہرتی ہے۔
ایسا کردار ہونا بڑی بات ہے اور یقینا اس میں عتبہ بن ربیعہ کی تربیت کا اثر تھا۔

عتبہ کا حکمت کی معراج پر فائز وہ مشورہ کون بھول سکتا ہے کہ جس کو اگر قریش مان لیتے تو شاید نہ ہجرت پیش آتی اور نہ قریش کو اپنے لعل اور سردار جنگوں میں کھونے پڑے۔۔۔
عتبہ نے نبی صلی اللہ علیہ وسلم سے قریش کی جانب سے مذاکرات کی غرض سے ملاقات کے بعد دارالندوہ آکر ابو جہل، سہیل بن عمرو، ولید بن مغیرہ اور جمیع قریش کو مشورہ دیا تھا
کہ
"محمد کو چھوڑ دو اور عرب کو اس کے ساتھ نمٹنے دو
اگر وہ (معاذ اللہ) جھوٹا ہے تو دوسرے عرب اسے خود ختم کر دیں گے
اور تم بغیر خون بہائے بچ جاؤ گے۔
اور اگر وہ سچا ہے اور عرب پر غالب آ جاتا ہے
تو اس کی بادشاہت تمہاری ہی بادشاہت ہو گی
اس کی عزت تمہاری عزت ہو گی
اور تم سب عرب میں سب سے زیادہ خوش نصیب ہو جاؤ گے"۔

لیکن
ابو جہل اور سرداران قریش کی پھوٹی قسمت کے اس وقیع مشورے کو درخور اعتناء نہ جانا اور اپنا ہی نقصان کرلیا۔۔۔۔

اسی طرح بدر کے موقع پر عتبہ نے جو مشورہ سرداران مکہ کو دیا تھا وہ بھی اسکی نجابت اور ایجابی طبیعت پر دال تھا۔
جب قریش کا لشکر بدر کے قریب پہنچا اور یہ خبر پھیلی کہ قافلہ ابوسفیان بچ کر نکل گیا ہے، تو عتبہ بن ربیعہ کھڑا ہوا اور قریش سے کہا؛

"اے قریش کے لوگو!
خدا کی قسم! تم محمد ﷺ اور ان کے ساتھیوں سے جنگ کر کے کوئی عزت حاصل نہیں کرو گے۔
اگر تم انہیں قتل کرو گے تو ہر شخص اپنے ہی قبیلے کے آدمی کو قتل کرے گا،
کوئی باپ اپنے بیٹے کو، کوئی بھائی اپنے بھائی کو، کوئی چچا اپنے بھتیجے کو"۔

ابوجہل کے تکرار مسلسل کرنے پر عتبہ نے ایک دفعہ پھر کہا؛
"تم لوگ ایک ایسی جنگ میں کود رہے ہو جس کا انجام تمہارے لیے ندامت کے سوا کچھ نہیں۔
واپس چلو، اور اس معاملے سے کنارہ کش رہو"۔

سیرت کے مطالعہ کے دوران عتبہ کی شخصیت دیکھ کر اندازہ ہوجاتا ہے کہ واقعی ہدایت صرف اللہ کے ہاتھ میں ہے اور وہ جسے چاہے اس سے نواز دے۔۔۔

ورنہ عتبہ جیسا نفیس و بصیرت والا شخص ضرور اسلام لے آتا۔

02/11/2025

خوارج:
آغاز، فکر اور تاریخ اسلام میں ان کا مقام

تعارف؛
خوارج اسلامی تاریخ کا وہ پہلا گروہ تھا جو سیاسی اختلاف سے نکل کر ایک انتہا پسند مذہبی تحریک میں تبدیل ہوا۔
ان کی بنیاد ظاہری دینداری، شدید جذباتیت اور سخت تکفیری فکر پر رکھی گئی۔
لفظ خوارج خروج سے نکلا ہے، یعنی وہ لوگ جو امام المسلمین کے خلاف بغاوت کرتے ہوئے جماعتِ مسلمین سے الگ ہو گئے۔
خود کو وہ اہلِ حق سمجھتے تھے مگر عملی طور پر امت کے اتحاد اور اسلامی نظم کی جڑیں کاٹنے کا سبب بنے۔

ابتدا اور تاریخی پس منظر؛
خوارج کی فکری جڑیں دورِ نبوی کی اس روایت تک پہنچتی ہیں جس میں ذو الخویصرہ تمیمی نامی شخص نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے سامنے گستاخی سے اعتراض کیا۔
آپ نے جواباً فرمایا کہ ایک قوم پیدا ہوگی جو دین سے ایسے نکل جائے گی جیسے تیر شکار کے جسم کو چیرتا ہوا پار نکل جاتا ہے۔

اس نشانی کا ظہور خلافتِ راشدہ کے آخری حصّے میں ہوا، جب صفین کی جنگ کے بعد علی بن ابی طالب رضی اللہ عنہ نے سیاسی تنازع کے حل کے لئے ثالثی قبول کی۔
اسی فیصلے کے خلاف ان کی فوج کے بعض افراد نکل کھڑے ہوئے اور اپنے آپ کو المنکر پر قائم سمجھتے ہوئے بغاوت پر آمادہ ہو گئے۔

اسی خروج کی بنا پر یہ گروہ خوارج کہلایا۔

نہروان اور عملی سرگرمیاں؛
خوارج نے کوفہ کے باہر خیمہ زن ہو کر اپنی الگ جماعت بنائی۔ ان کا نعرہ تھا کہ حکم صرف اللہ کا ہے، اگرچہ اس نعرے کی تعبیر میں وہ افراط کا شکار تھے۔ ان کی سرگرمیوں میں مذہبی شعائر کی شدت، تکفیر میں جلد بازی اور ریاستی نظم کے مقابل مسلح بغاوت شامل تھی۔ نہروان کے مقام پر علی رضی اللہ عنہ نے انہیں سمجھایا مگر انہوں نے جنگ کا راستہ چنا اور نتیجتاً سخت شکست کا سامنا کیا۔ اس کے باوجود خوارج کا فتنہ ختم نہ ہوا اور ایک خارجی نے علی رضی اللہ عنہ کو شہید بھی کیا۔

فکری خصوصیات اور عقائد؛
خوارج کے نزدیک کبیرہ گناہ کرنے والا مسلمان ایمان سے خارج ہو جاتا تھا۔
وہ کہتے تھے کہ گناہ ایمان کے منافی ہے اور گناہ گار کے لیے توبہ کا دروازہ بند سمجھتے تھے۔ عبادت اور زہد میں وہ مشہور تھے، مگر ان کی عبادت میں نرمی، تدبر اور امت کے حق کا احترام نہ تھا۔ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا کہ وہ قرآن پڑھیں گے مگر قرآن ان کے حلق سے نیچے نہ اترے گا۔
یعنی وہ متن پڑھتے تھے مگر اس روح اور فہم سے محروم تھے جو اخلاق، عدل، صبر اور امت کے احترام کا درس دیتا ہے۔

جنگی طریقہ اور معاشرتی اثرات؛
خوارج نے اسلام کی پہلی گوریلا جنگی تحریک کی شکل اختیار کی۔
وہ چھاپہ مار کارروائیاں کرتے، شہروں پر اچانک حملے کرتے اور پھر واپس لوٹ جاتے۔
ان کے افکار نے خوف، بے چینی اور انتشار پیدا کیا۔ خلافتِ علی کے بعد اموی دور میں بھی یہ فتنہ سر اٹھاتا رہا، حتیٰ کہ عباسی دور میں زیادہ تر گروہ شکست کھا گئے۔
تاہم ان کی فکر مکمل طور پر ختم نہ ہوئی۔ بعد کے ادوار میں بھی ایسے لوگ سامنے آتے رہے جو ظاہری مذہبیت کے سہارے امت کے خلاف ہتھیار اٹھاتے رہے۔

احادیث کی روشنی میں خارجی فکر
احادیث میں خوارج کی واضح نشانیاں بیان کی گئیں؛

وہ نوجوان، جذباتی اور سطحی فہم کے حامل ہوں گے۔
وہ دین کی نصوص کو تلوار کے اصولوں میں بدل دیں گے۔
وہ مسلمانوں کے خلاف لڑیں گے اور مشرکین کو چھوڑ دیں گے۔
وہ عبادت میں سخت اور اخلاق میں تنگ دل ہوں گے۔

ان علامات سے واضح ہوتا ہے کہ اصل خرابی ان کی سمجھ اور طرزِ فکر میں تھی۔
وہ نصوص کو خوراک تو دیتے تھے مگر روح کو نہیں۔
عبادت کو سختی اور شریعت کو انتقام بنا دیتے تھے۔

اسلامی فکر میں خوارج کا مقام اور رد؛
اکابر امت نے بذریعہ علم اور طاقت دونوں طریقوں سے خارجی فکر کا رد کیا۔
فقہا، محدثین اور مفسرین نے واضح کیا کہ تکفیر کے اصول شریعت نے طے کیے ہیں اور کسی فرد یا گروہ کو بغیر شرعی حجت کے دائرہ اسلام سے باہر نہیں نکالا جا سکتا۔
مسلمانوں کے خون کو مباح قرار دینا دین نہیں، فتنہ ہے۔ اجتماعی نظم کی خلاف ورزی امت کے شیرازے کو بکھیر دیتی ہے۔

عہد حاضر میں خارجی فکر کے اثرات
تاریخ کی لکیر سیدھی نہیں؛ فتنہ وقت کے ساتھ لباس بدلتا ہے۔ دورِ جدید میں بعض شدت پسند گروہ انہی اصولوں پر کاربند دکھائی دیتے ہیں۔

02/11/2025

یہ ایک عبرت ناک اور دل دہلا دینے والی حقیقی روایت ہے جو امام ابنِ کثیر نے اپنی مشہور کتاب البدایہ والنہایہ میں لکھی ہے

حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ ایک دن رسول اللہ ﷺ ایک جماعت کے پاس سے گزرے تو فرمایا
"تم میں ایک ایسا شخص ہے جس کا ایک دانت جہنم میں احد پہاڑ سے بڑا ہوگا"

یہ سن کر سب کے دل کانپ گئے
وقت گزرتا گیا اس جماعت کے سب لوگ ایمان و سلامتی پر دنیا سے رخصت ہو گئے
صرف دو باقی رہے — حضرت ابوہریرہؓ اور بنو حنیفہ کا ایک شخص الرّجّال بن عنفوہ

یہ رجّال ان لوگوں میں سے تھا جو نبی ﷺ کے پاس آئے، اسلام سیکھا، قرآن یاد کیا، عبادت گزار اور زاہد بنا رہا
حتیٰ کہ لوگ اس کی عبادت اور خشوع کی مثالیں دیتے

مگر نبی ﷺ کی وہ بات ابوہریرہؓ کے ذہن میں رہ گئی
وہ ہر بار رجّال کو دیکھ کر ڈرتے کہ کہیں وہی نہ ہو جس کا ذکر نبی ﷺ نے فرمایا تھا

پھر وقت آیا جب مسَیلمہ کذّاب نے یمامہ میں نبوت کا جھوٹا دعویٰ کیا
خلیفہ اول حضرت ابوبکرؓ نے رجّال بن عنفوہ کو یمامہ بھیجا تاکہ وہ لوگوں کو اسلام پر قائم رکھے

مگر جب رجّال وہاں پہنچا تو مسیلمہ نے اسے عزت، مال اور سونا پیش کیا
اسے کہا کہ "اگر تو میرے ساتھ ہو جائے تو آدھی حکومت تجھے دے دوں گا"

مال و دولت نے اس کے دل کا ایمان چھین لیا
اور وہ شخص جو نبی ﷺ کا ساتھی رہا، قرآن پڑھتا تھا، نماز و روزے کا پابند تھا
وہی جھوٹے نبی کا مددگار بن گیا

رجّال نے اعلان کیا کہ "میں نے محمد ﷺ سے سنا کہ مسیلمہ ان کے ساتھ نبی بنایا گیا ہے"
اس ایک جھوٹ نے ہزاروں کو گمراہ کر دیا
یہ فتنہ مسیلمہ کے فتنہ سے بھی بڑا بن گیا

پھر حضرت ابوبکرؓ نے خالد بن ولیدؓ کی قیادت میں لشکر روانہ کیا
اسی لشکر میں وحشی بن حربؓ بھی تھے — وہی جنہوں نے زمانہ جاہلیت میں حضرت حمزہؓ کو شہید کیا تھا
وحشیؓ نے توبہ کی تھی اور کہا تھا "میں اس جرم کا کفارہ جہاد سے ادا کروں گا"

جب جنگ یمامہ شروع ہوئی، تو سخت ترین لڑائی ہوئی
ابتدا میں مسلمان پسپا ہوئے مگر پھر صحابہ نے نعرہ لگایا، قرآن والے جمع ہوئے، اور اللہ نے مدد فرمائی
وحشیؓ نے موقع پا کر مسیلمہ کذاب کو قتل کر دیا
اور رجّال بن عنفوہ بھی اپنے جھوٹے نبی کے ساتھ مارا گیا — کفر پر، ذلت کے ساتھ

جب ابوہریرہؓ کو اس کی خبر ملی تو وہ سجدے میں گر گئے اور اللہ کا شکر ادا کیا کہ نجات ان کے حصے میں آئی

یہ قصہ ہمیں سکھاتا ہے —
رجّال بن عنفوہ قرآن پڑھتا تھا، عبادت گزار تھا، مگر انجام بد پر ہوا
اور وحشی بن حربؓ نے سب سے بڑا گناہ کیا مگر توبہ کی اور انجام ایمان پر پایا

تو اے انسان
اپنی عبادت پر فخر نہ کر
اپنی نیکیوں پر گھمنڈ نہ کر
دعا کر کہ اللہ تیرا انجام ایمان پر کرے۔

اللہم ثبتنا علی دینک و اختم لنا بخیر
اللهم صل وسلم علی سیدنا محمد ﷺ

28/09/2025

ڈاکٹر غلام ﺟﯿﻼﻧﯽ ﺑﺮﻕ
1901 ﺀ ﻣﯿﮟ بسال س ﺍﭨﮏ ﻣﯿﮟ ﭘﯿﺪﺍ ﮨﻮﺋﮯ۔
ان ﮐﮯ ﺗﮭﯿﺴﺲ ﮐﻮ ﺍٓﮐﺴﻔﻮﺭﮈ ﺍﻭﺭ ﮨﺎﺭﻭﺭڈ ﯾﻮﻧﯿﻮﺭﺳﭩﯽ ﻧﮯ ﻗﺒﻮﻟﯿﺖ ﺑﺨﺸﯽ۔
انھوں نے ﺍﺳﻼﻡ ﭘﺮ ﺭﯾﺴﺮﭺ کی اور ‘1949 ع ﻣﯿﮟ ’’ ﺩﻭ ﺍﺳﻼﻡ ‘‘ ﮐﮯ ﻧﺎﻡ ﺳﮯ ایک ﻣﻌﺮﮐۃ ﺍﻵﺭﺍﺀ ﮐﺘﺎﺏ ﻟﮑﮭﯽ۔ ’’ﺩﻭ ﺍﺳﻼﻡ ‘‘ ﮐﮯ ﺑﻌﺪ ’’دو ﻗﺮﺁﻥ ‘‘ ﺍﻭﺭ ’’ ﻣﻦ ﮐﯽ ﺩﻧﯿﺎ ‘‘ نامی کتب بھی ﻟﮑﮭیں ﺍﻭﺭ ﺍﺳﻼﻣﯽ ﺩﻧﯿﺎ ﮐﮯ ﭘﯿﺎﺳﮯ ﺫﮨﻨﻮﮞ ﮐﻮ ﺳﯿﺮﺍﺏ ﮐﺮ ﺩﯾﺎ۔

ﮈﺍﮐﭩﺮ ﻏﻼﻡ ﺟﯿﻼﻧﯽ ﺑﺮﻕ ﺍﻭﺭ ﺍﻥ ﮐﺎ ﭘﺎﮐﺴﺘﺎﻥ ﮐﺲ ﻗﺪﺭ ﺑﺎﻟﻎ ﺗﮭﺎ ﺁﭖ ﯾﮧ ﺟﺎﻧﻨﮯ ﮐﮯ ﻟﯿﮯ ’’ ﺩﻭ ﺍﺳﻼﻡ ‘‘ ﮐﺎ ﺻﺮﻑ ﺍﺑﺘﺪﺍﺋﯿﮧ ﻣﻼﺣﻈﮧ ﮐﯿﺠﯿﮯ؛

"یہ 1918 ﺀ ﮐﺎ ﺫﮐﺮ ﮨﮯ ‘ ﻣﯿﮟ ﻭﺍﻟﺪ ﺻﺎﺣب ﮐﮯ ﺳﺎﺗﮫ ﺍﻣﺮﺗﺴﺮ ﮔﯿﺎ ‘ ﻣﯿﮟ ﭼﮭﻮﭨﮯ ﺳﮯ ﮔﺎﻭٔﮞ ﮐﺎ ﺭﮨﻨﮯ ﻭﺍﻻ ، ﺟﮩﺎﮞ ﻧﮧ ﺑﻠﻨﺪ ﻋﻤﺎﺭﺍﺕ، ﻧﮧ ﻣﺼﻔﺎ ﺳﮍﮐﯿﮟ، ﻧﮧ ﮐﺎﺭﯾﮟ، ﻧﮧ ﺑﺠﻠﯽ ﮐﮯ ﻗﻤﻘﻤﮯ ﺍﻭﺭ ﻧﮧ ﺍﺱ ﻭﺿﻊ ﮐﯽ ﺩﮐﺎﻧﯿﮟ ‘ ﺩﯾﮑﮫ ﮐﺮ ﺩﻧﮓ ﺭﮦ ﮔﯿﺎ ‘ ﻻﮐﮭﻮﮞ ﮐﮯ ﺳﺎﻣﺎﻥ ﺳﮯ ﺳﺠﯽ ﺩﮐﺎﻧﯿﮟ ﺍﻭﺭ ﺑﻮﺭﮈ ﭘﺮ ...
ﮐﮩﯿﮟ ﺭﺍﻡ ﺑﮭﯿﺠﺎ ﺳﻨﺖ ﺭﺍﻡ ﻟﮑﮭﺎ ﺗﮭﺎ ‘
ﮐﮩﯿﮟ ﺩْﻧﯽ ﭼﻨﺪ ﺍﮔﺮﻭﺍﻝ ‘
ﮐﮩﯿﮟ ﺳﻨﺖ ﺳﻨﮕﮫ ﺳﺒﻞ ﺍﻭﺭ ﮐﮩﯿﮟ ﺷﺎﺩﯼ ﻻﻝ ﻓﻘﯿﺮ ﭼﻨﺪ۔
ﮨﺎں ﺑﺎﺯﺍﺭ ﮐﮯ ﺍﺱ ﺳﺮﮮ ﺳﮯ ﺍﺱ ﺳﺮﮮ ﺗﮏ ﮐﺴﯽ ﻣﺴﻠﻤﺎﻥ ﮐﯽ ﮐﻮﺋﯽ ﺩﮐﺎﻥ ﻧﻈﺮ ﻧﮩﯿﮟ ﺍٓﺋﯽ ‘
ﮨﺎﮞ ......
ﻣﺴﻠﻤﺎﻥ ﺿﺮﻭﺭ ﻧﻈﺮ ﺍٓﺋﮯ ‘
ﮐﻮﺋﯽ ﺑﻮﺟھ ﺍﭨﮭﺎ ﺭﮨﺎ ﺗﮭﺎ۔
ﮐﻮﺋﯽ ﮔﺪﮬﮯ ﻻﺩ ﺭﮨﺎ ﺗﮭﺎ ‘
ﮐﻮﺋﯽ ﮐﺴﯽ ﭨﺎﻝ ﭘﮧ ﻟﮑﮍﯾﺎﮞ ﭼﯿﺮ ﺭﮨﺎ ﺗﮭﺎ
ﺍﻭﺭ ﮐﻮﺋﯽ ﺑﮭﯿﮏ ﻣﺎﻧﮓ ﺭﮨﺎ ﺗﮭﺎ۔.... ﻏﯿﺮ ﻣﺴﻠﻢ ﮐﺎﺭﻭﮞ ﺍﻭﺭ ﻓﭩﻨﻮﮞ ﭘﺮ ﺟﺎ ﺭﮨﮯ ﺗﮭﮯ ﺍﻭﺭ ﻣﺴﻠﻤﺎﻥ ﺍﮌﮬﺎﺋﯽ ﻣﻦ ﺑﻮﺟھ ﮐﮯ ﻧﯿﭽﮯ ﺩﺑﺎ ﮨﻮﺍ ﻣﺸﮑﻞ ﺳﮯ ﻗﺪﻡ ﺍﭨﮭﺎ ﺭﮨﺎ ﺗﮭﺎ۔
ﮨﻨﺪﻭﻭٔﮞ ﮐﮯ ﭼﮩﺮﮮ ﭘﺮ ﺭﻭﻧﻖ ‘ ﺑﺸﺎﺷﺖ ﺍﻭﺭ ﭼﻤﮏ ﺗﮭﯽ
ﺍﻭﺭ ﻣﺴﻠﻤﺎﻥ ﮐﺎ ﭼﮩﺮﮦ ﻓﺎﻗﮧ ‘ ﻣﺸﻘﺖ ‘ ﻓﮑﺮ ﺍﻭﺭ ﺟﮭﺮﯾﻮﮞ ﮐﯽ ﻭﺟﮧ ﺳﮯ ﺍﻓﺴﺮﺩﮦ ﻭ ﻣﺴﺦ ۔
ﻣﯿﮟ ﻧﮯ ﻭﺍﻟﺪ ﺻﺎﺣﺐ ﺳﮯ ﭘﻮﭼﮭﺎ ,....ﮐﯿﺎ ﻣﺴﻠﻤﺎﻥ ﮨﺮ ﺟﮕﮧ ﺍﺳﯽ ﻃﺮﺡ ﺯﻧﺪﮔﯽ ﺑﺴﺮ ﮐﺮ ﺭﮨﮯ ﮨﯿﮟ؟
ﻭﺍﻟﺪ ﺻﺎﺣﺐ : ﮨﺎﮞ !
ﻣﯿﮟ ﻧﮯ ﻋﺮﺽ ﮐﯿﺎ ‘ ﺍﻟﻠﮧ ﻧﮯ ﻣﺴﻠﻤﺎﻥ ﮐﻮ ﺑﮭﯽ ﮨﻨﺪﻭ ﮐﯽ ﻃﺮﺡ ﺩﻭ ﮨﺎﺗھ، ﺩﻭ ﭘﺎﻭٔﮞ ﺍﻭﺭ ﺍﯾﮏ ﺳﺮ ﻋﻄﺎ ﮐﯿﺎ ﮨﮯ ﺗﻮ ﭘﮭﺮ ﮐﯿﺎ ﻭﺟﮧ ﮨﮯ ﮨﻨﺪﻭ ﺗﻮ ﺯﻧﺪﮔﯽ ﮐﮯ ﻣﺰﮮ ﻟﻮﭦ ﺭﮨﺎ ﮨﮯ ﺍﻭﺭ ﻣﺴﻠﻤﺎﻥ ﮨﺮ ﺟﮕﮧ ﺣﯿﻮﺍﻥ ﺳﮯ ﺑﺪﺗﺮ ﺯﻧﺪﮔﯽ ﺑﺴﺮ ﮐﺮ ﺭﮨﺎ ﮨﮯ۔
ﻭﺍﻟﺪ ﺻﺎﺣﺐ : ﯾﮧ ﺩﻧﯿﺎ ﻣﺮﺩﺍﺭ ﺳﮯ ﺯﯾﺎﺩہ ﻧﺠﺲ ﮨﮯ ﺍﻭﺭ ﺍﺱ ﮐﮯ ﻣﺘﻼﺷﯽ ﮐﺘﻮﮞ ﺳﮯ ﺯﯾﺎﺩﮦ ﻧﺎﭘﺎﮎ ﮨﯿﮟ۔ ﺍﻟﻠﮧ ﻧﮯ ﯾﮧ ﻣﺮﺩﺍﺭ ﮨﻨﺪﻭﻭٔﮞ ﮐﮯ ﺣﻮﺍﻟﮯ ﮐﺮ ﺩﯾﺎ ﮨﮯ ﺍﻭﺭ ﺟﻨﺖ ﮨﻤﯿﮟ ﺩﮮ ﺩﯼ ﮨﮯ ‘
ﮐﮩﻮ ﮐﻮﻥ ﻓﺎﺋﺪﮮ ﻣﯿﮟ ﺭﮨﺎ ؟
ﮨﻢ ﯾﺎ ﻭﮦ؟
ﻣﯿﮟ ﺑﻮﻻ ’’ ﺍﮔﺮ ﺩﻧﯿﺎ ﻭﺍﻗﻌﯽ ﻣﺮﺩﺍﺭ ﮨﮯ ﺗﻮ ﭘﮭﺮ ﺍٓﭖ ﺗﺠﺎﺭﺕ ﮐﯿﻮﮞ ﮐﺮﺗﮯ ﮨﯿﮟ ﺍﻭﺭ ﻣﺎﻝ ﺗﺠﺎﺭﺕ ﺧﺮﯾﺪﻧﮯ ﮐﮯ ﻟﯿﮯ ﺍﻣﺮﺗﺴﺮ ﺗﮏ ﮐﯿﻮﮞ ﺍٓﺋﮯ۔
ﺍﯾﮏ ﻃﺮﻑ ﺩﻧﯿﺎﻭﯼ ﺳﺎﺯ ﻭ ﺳﺎﻣﺎﻥ ﺧﺮﯾﺪ ﮐر ﻣﻨﺎﻓﻊ ﮐﻤﺎﻧﺎ ﺍﻭﺭ ﺩﻭﺳﺮﯼ ﻃﺮﻑ ﺍﺳﮯ ﻣﺮﺩﺍﺭ ﻗﺮﺍﺭ ﺩﯾﻨﺎ ، ﻋﺠﯿﺐ ﻗﺴﻢ ﮐﯽ ﻣﻨﻄﻖ ﮨﮯ۔
ﻭﺍﻟﺪ ﺻﺎﺣﺐ : ﺑﯿﭩﺎ ! ﺑﺰﺭﮔﻮﮞ ﺳﮯ ﺑﺤﺚ ﮐﺮﻧﺎ ﺳﻌﺎﺩﺕ ﻣﻨﺪﯼ ﻧﮩﯿﮟ ‘ ﺟﻮ ﮐﭽھ ﻣﯿﮟ ﻧﮯ ﺗﻤﮩﯿﮟ ﺑﺘﺎﯾﺎ ﮨﮯ ﻭﮦ ﺍﯾﮏ ﺣﺪﯾﺚ ﮐﺎ ﺗﺮﺟﻤﮧ ﮨﮯ۔
ﺣﺪﯾﺚ ﮐﺎ ﻧﺎﻡ ﺳﻦ ﮐﺮ ﻣﯿﮟ ﮈﺭ ﮔﯿﺎ ﺍﻭﺭ ﺑﺤﺚ ﺑﻨﺪ ﮐﺮ ﺩﯼ ‘
ﺳﻔﺮ ﺳﮯ ﻭﺍﭘﺲ ﺍٓ ﮐﺮ ﻣﯿﮟ ﻧﮯ ﮔﺎﻭٔﮞ ﮐﮯ ﻣْﻼ ﺳﮯ ﺍﭘﻨﮯ ﺷﺒﮩﺎﺕ ﮐﺎ ﺍﻇﮩﺎﺭ ﮐﯿﺎ۔
ﺍﺱ ﻧﮯ ﺑﮭﯽ ﻭﮨﯽ ﺟﻮﺍﺏ ﺩﯾﺎ ‘
ﻣﯿﺮﮮ ﺩﻝ ﻣﯿﮟ ﺍﺱ ﻣﻌﻤﮯ ﮐﻮ ﺣﻞ ﮐﺮﻧﮯ ﮐﯽ ﺗﮍﭖ ﭘﯿﺪﺍ ﮨﻮﺋﯽ ﻟﯿﮑﻦ ﻣﯿﺮﮮ ﻗﻠﺐ ﻭ ﻧﻈﺮ ﭘﮧ ﺗﻘﻠﯿﺪ ﮐﮯ ﭘﮩﺮﮮ ﺑﯿﭩﮭﮯ ﺗﮭﮯ ‘ ﻋﻠﻢ ﮐﻢ ﺗﮭﺎ ﺍﻭﺭ ﻓﮩﻢ ﻣﺤﺪﻭﺩ۔ ﺍﺱ ﻟﯿﮯ ﻣﻌﺎﻣﻠﮧ ﺍﻟﺠﮭﺘﺎ ﮔﯿﺎ ‘ ﻣﯿﮟ ﻣﺴﻠﺴﻞ ﭼﻮﺩﮦ ﺑﺮﺱ ﺗﮏ ﺣﺼﻮﻝ ﻋﻠﻢ ﮐﮯ ﻟﯿﮯ ﻣﺨﺘﻠﻒ ﻋﻠﻤﺎﺀ ﻭ ﺻﻮﻓﯿﺎﺀ ﮐﮯ ﮨﺎﮞ ﺭﮨﺎ ‘ ﺩﺭﺱ ﻧﻈﺎﻣﯽ ﮐﯽ ﺗﮑﻤﯿﻞ ﮐﯽ ‘ ﺳﯿﮑﮍﻭﮞ ﻭﺍﻋﻈﯿﻦ ﮐﮯ ﻭﺍﻋﻆ ﺳﻨﮯ ‘ ﺑﯿﺴﯿﻮﮞ ﺩﯾﻨﯽ ﮐﺘﺎﺑﯿﮟ ﭘﮍﮬﯿﮟ
ﺍﻭﺭ......ﺑﺎﻻٓﺧﺮ ﻣﺠﮭﮯ ﯾﻘﯿﻦ ﮨﻮ ﮔﯿﺎ ﮐﮧ
ﺍﺳﻼﻡ ﺭﺍﺋﺞ ﮐﺎ ﻣﺎ ﺣﺎﺻﻞ ﯾﮧ ﮨﮯ۔
ﺗﻮﺣﯿﺪ ﮐﺎ ﺍﻗﺮﺍﺭ ﺍﻭﺭ ﺻﻠﻮٰۃ ‘
ﺯﮐﻮٰۃ ، ﺻﻮﻡ ﺍﻭﺭ ﺣﺞ ﮐﯽ ﺑﺠﺎ ﺍٓﻭﺭﯼ ‘
ﺍﺫﺍﻥ ﮐﮯ ﺑﻌﺪ ﺍﺩﺏ ﺳﮯ ﮐﻠﻤﮧ ﺷﺮﯾﻒ ﭘﮍﮬﻨﺎ ‘
ﺟﻤﻌﺮﺍﺕ ‘ ﭼﮩﻠﻢ اور ﮔﯿﺎﺭﮨﻮﯾﮟ ﻭﻏﯿﺮﮦ ﮐﻮ ﺑﺎﻗﺎﻋﺪﮔﯽ ﺳﮯ ﺍﺩﺍ ﮐﺮﻧﺎ ‘
ﻗﺮﺍٓﻥ ﮐﯽ ﻋﺒﺎﺭﺕ ﭘﮍﮬﻨﺎ ‘
ﺍﻟﻠﮧ ﮐﮯ ﺫﮐﺮ ﮐﻮ ﺳﺐ ﺳﮯ ﺑﮍﺍ ﻋﻤﻞ ﺳﻤﺠﮭﻨﺎ ‘
ﻗﺮﺍٓﻥ ﺍﻭﺭ ﺩﺭﻭﺩ ﮐﮯ ﺧﺘﻢ ﮐﺮﺍﻧﺎ ‘ ﺣﻖ ﮨﻮ ﮐﮯ ﻭﺭﺩ ﮐﺮﻧﺎ ‘
ﻣﺮﺷﺪ ﮐﯽ ﺑﯿﻌﺖ ﮐﺮﻧﺎ ‘
ﻣﺮﺍﺩﯾﮟ ﻣﺎﻧﮕﻨﺎ ‘
ﻣﺰﺍﺭﻭﮞ ﭘﺮ ﺳﺠﺪﮮ ﮐﺮﻧﺎ ‘
ﺗﻌﻮﯾﺬﻭﮞ ﮐﻮ ﻣﺸﮑﻞ ﮐﺸﺎ ﺳﻤﺠﮭﻨﺎ ﮐﺴﯽ ﺑﯿﻤﺎﺭﯼ ﯾﺎ ،ﻣﺼﯿﺒﺖ ﺳﮯ ﻧﺠﺎﺕ ﮐﮯ ﻟﯿﮯ ﻣﻮﻟﻮﯼ ﺟﯽ ﮐﯽ ﺩﻋﻮﺕ ﮐﺮﻧﺎ ‘
ﮔﻨﺎﮦ ﺑﺨﺸﻮﺍﻧﮯ ﮐﮯ ﻟﯿﮯ ﻗﻮﺍﻟﯽ ﺳﻨﻨﺎ ‘
ﻏﯿﺮ ﻣﺴﻠﻢ ﮐﻮ ﻧﺎﭘﺎﮎ ﻭ ﻧﺠﺲ ﺳﻤﺠﮭﻨﺎ ‘
ﻃﺒﯿﻌﯿﺎﺕ ،ﺭﯾﺎﺿﯿﺎﺕ، ﺍﻗﺘﺼﺎﺩﯾﺎﺕ ، ﺗﻌﻤﯿﺮﺍﺕ ﻭﻏﯿﺮﮦ ﮐﻮ ﮐﻔﺮ ﺧﯿﺎﻝ ﮐﺮﻧﺎ ‘
ﻏﻮﺭ ﻭ ﻓﮑﺮ ﺍﻭﺭ ﺍﺟﺘﮩﺎﺩ ﻭ ﺍﺳﺘﻨﺒﺎﻁ ﮐﻮ ﮔﻨﺎﮦ ﻗﺮﺍﺭ ﺩﯾﻨﺎ
ﺻﺮﻑ ﮐﻠﻤﮧ ﭘﮍﮪ ﮐﺮ ﺑﮩﺸﺖ ﻣﯿﮟ ﭘﮩﻨﭻ ﺟﺎﻧﺎ
ﺍﻭﺭ، ﮨﺮ ﻣﺸﮑﻞ ﮐﺎ ﻋﻼﺝ ﻋﻤﻞ ﺍﻭﺭ ﻣﺤﻨﺖ ﮐﯽ ﺑﺠﺎﺋﮯ ﺩﻋﺎﻭٔﮞ ﺳﮯ ﮐﺮﻧﺎ ۔
ﻣﯿﮟ ﻋﻠﻤﺎﺋﮯ ﮐﺮﺍﻡ ﮐﮯ ﻓﯿﺾ ﺳﮯ ﺟﺐ ﺗﻌﻠﯿﻤﺎﺕ ﺍﺳﻼﻣﯽ ﭘﺮ ﭘﻮﺭﯼ ﻃﺮﺡ ﺣﺎﻭﯼ ﮨﻮ ﮔﯿﺎ ﺗﻮ ﯾﮧ ﺣﻘﯿﻘﺖ ﻭﺍﺿﺢ ﮨﻮﺋﯽ۔۔۔۔
ﺧﺪﺍ ﮨﻤﺎﺭﺍ ‘
ﺭﺳﻮﻝ ﮨﻤﺎﺭﺍ ‘
ﻓﺮﺷﺘﮯ ﮨﻤﺎﺭﮮ ‘
ﺟﻨﺖ ﮨﻤﺎﺭﯼ ‘
ﺣﻮﺭﯾﮟ ﮨﻤﺎﺭﯼ ‘
ﺯﻣﯿﻦ ﮨﻤﺎﺭﯼ ‘
ﺍٓﺳﻤﺎﻥ ﮨﻤﺎﺭﺍ ۔۔۔
ﺍﻟﻐﺮﺽ ﺳﺐ ﮐﭽھ ﮐﮯ ﻣﺎﻟﮏ ﮨﻢ ﮨﯿﮟ ﺍﻭﺭ ﺑﺎﻗﯽ ﻗﻮﻣﯿﮟ ﺍﺱ ﺩﻧﯿﺎ ﻣﯿﮟ ﺟﮭﮏ ﻣﺎﺭﻧﮯ ﺍٓﺋﯽ ﮨﯿﮟ۔
ﺍﻥ ﮐﯽ ﺩﻭﻟﺖ ‘ ، ﻋﯿﺶ ﺍﻭﺭ ﺗﻨﻌﻢ ﻣﺤﺾ ﭼﻨﺪ ﺭﻭﺯﮦ ﮨﮯ۔
ﻭﮦ ﺑﮩﺖ ﺟﻠﺪ ﺟﮩﻨﻢ ﮐﮯ ﭘﺴﺖ ﺗﺮﯾﻦ ﻃﺒﻘﮯ ﻣﯿﮟ ﺍﻭﻧﺪﮬﮯ ﭘﮭﯿﻨﮏ ﺩﯾﮯ ﺟﺎﺋﯿﮟ ﮔﮯ
ﺍﻭﺭ
ﮨﻢ ﮐﻤﺨﻮﺍﺏ ﻭ ﺯﺭﺑﻔﺖ ﮐﮯ ﺳﻮﭦ ﭘﮩﻦ ﮐﺮ ﺳﺮﻣﺪﯼ ﺑﮩﺎﺭﻭﮞ ﻣﯿﮟ ﺣﻮﺭﻭﮞ ﮐﮯ ﺳﺎﺗھ ﻣﺰﮮ ﻟﻮﭨﯿﮟ ﮔﮯ۔
’’ ﺯﻣﺎﻧﮧ ﮔﺰﺭﺗﺎ ﮔﯿﺎ ‘ ﺍﻧﮕﺮﯾﺰﯼ ﭘﮍﮬﻨﮯ ﮐﮯ ﺑﻌﺪ ﻋﻠﻮﻡ ﺟﺪﯾﺪﮦ ﮐﺎ ﻣﻄﺎﻟﻌﮧ ﮐﯿﺎ ‘ ﻗﻠﺐ ﻭ ﻧﻈﺮ ﻣﯿﮟ ﻭﺳﻌﺖ ﭘﯿﺪﺍ ﮨﻮﺋﯽ ‘ ﺍﻗﻮﺍﻡ ﻭ ﻣﻠﻞ ﮐﯽ ﺗﺎﺭﯾﺦ ﭘﮍﮬﯽ ﺗﻮ ﻣﻌﻠﻮﻡ ﮨﻮﺍ۔۔۔۔

*ﻣﺴﻠﻤﺎﻧﻮﮞ ﮐﯽ 128 ﺳﻠﻄﻨﺘﯿﮟ ﻣﭧ ﭼﮑﯽ ﮨﯿﮟ ‘*

ﺣﯿﺮﺕ ﮨﻮﺋﯽ ﮐﮧ ﺟﺐ ﺍﻟﻠﮧ ﮨﻤﺎﺭﺍ ﺍﻭﺭ ﺻﺮﻑ ﮨﻤﺎﺭﺍ ﺗﮭﺎ ﺗﻮ ﺍﺱ ﻧﮯ ﺧﻼﻓﺖ ﻋﺒﺎﺳﯿﮧ ﮐﺎ ﻭﺍﺭﺙ ﮨﻼﮐﻮ ﺟﯿﺴﮯ ﮐﺎﻓﺮ ﮐﻮ ﮐﯿﻮﮞ ﺑﻨﺎﯾﺎ؟

ﮨﺴﭙﺎﻧﯿﮧ ﮐﮯ ﺍﺳﻼﻣﯽ ﺗﺨﺖ ﭘﮧ ﻓﺮﻭﻧﯿﺎﮞ ﮐﻮ ﮐﯿﻮﮞ ﺑﭩﮭﺎﯾﺎ؟

ﻣﻐﻠﯿﮧ ﮐﺎ ﺗﺎﺝ ﺍﻟﺰﺑﺘھ ﮐﮯ ﺳﺮ ﭘﺮ ﮐﯿﻮﮞ ﺭﮐھ ﺩﯾﺎ؟

ﺑﻠﻐﺎﺭﯾﮧ ‘ ﮨﻨﮕﺮﯼ ‘ ﺭﻭﻣﺎﻧﯿﮧ ‘ ﺳﺮﻭﯾﺎ ‘ ﭘﻮﻟﯿﻨﮉ ‘ ﮐﺮﯾﻤﯿﺎ ‘ ﯾﻮﮐﺮﺍﺋﯿﻦ ‘ ﯾﻮﻧﺎﻥ ﺍﻭﺭ ﺑﻠﻐﺮﺍﺩ ﺳﮯ ﮨﻤﺎﺭﮮ ﺍٓﺛﺎﺭ ﮐﯿﻮﮞ ﻣﭩﺎ ﺩﯾﮯ؟

ﮨﻤﯿﮟ ﻓﺮﺍﻧﺲ ﺳﮯ ﺑﯿﮏ ﺑﯿﻨﯽ ﺩﻭ ﮔﻮﺵ ﮐﯿﻮﮞ ﻧﮑﺎﻻ

ﺍﻭﺭ ﺗﯿﻮﻧﺲ، ﻣﺮﺍﮐﻮ ‘ ﺍﻟﺠﺰﺍﺋﺮ ﺍﻭﺭ ﻟﯿﺒﯿﺎ ﺳﮯ ﮨﻤﯿﮟ ﮐﯿﻮﮞ ﺭﺧﺼﺖ ﮐﯿﺎ؟

ﻣﯿﮟ ﺭﻓﻊ ﺣﯿﺮﺕ ﮐﮯ ﻟﯿﮯ ﻣﺨﺘﻠﻒ ﻋﻠﻤﺎﺀ ﮐﮯ ﭘﺎﺱ ﮔﯿﺎ ﻟﯿﮑﻦ ﮐﺎﻣﯿﺎﺑﯽ ﻧﮧ ﮨﻮﺋﯽ۔

ﻣﯿﮟ ﻧﮯ ﺍﺱ ﻣﺴﺌﻠﮯ ﭘﺮ ﭘﺎﻧﭻ ﺳﺎﺕ ﺑﺮﺱ ﺗﮏ ﻏﻮﺭ ﻭ ﻓﮑﺮ ﮐﯿﺎ ﻟﯿﮑﻦ ﮐﺴﯽ ﻧﺘﯿﺠﮯ ﭘﺮ ﻧﮧ ﭘﮩﻨﭻ ﺳﮑﺎ

ﺎﯾﮏ ﺩﻥ میں ﺳﺤﺮ ﮐﻮ ﺑﯿﺪﺍﺭ ﮨﻮﺍ ‘ ﻃﺎﻕ ﻣﯿﮟ ﻗﺮﺍٓﻥ ﺷﺮﯾﻒ ﺭﮐﮭﺎ ﺗﮭﺎ ‘ ﻣﯿﮟ ﻧﮯ ﺍﭨﮭﺎﯾﺎ ، ﮐﮭﻮﻻ ﺍﻭﺭ ﭘﮩﻠﯽ ﺍٓﯾﺖ ﺟﻮ ﺳﺎﻣﻨﮯ ﺍٓﺋﯽ ﻭﮦ ﯾﮧ ﺗﮭﯽ ‘ ۔۔۔۔‏( ﺗﺮﺟﻤﮧ ‏)
*ﮐﯿﺎ ﯾﮧ ﻟﻮﮒ ﻧﮩﯿﮟ ﺩﯾﮑﮭﺘﮯ ﮨﻢ ﺍﻥ ﺳﮯ ﭘﮩﻠﮯ ﮐﺘﻨﯽ ﺍﻗﻮﺍﻡ ﮐﻮ ﺗﺒﺎﮦ ﮐﺮ ﭼﮑﮯ ﮨﯿﮟ ‘ ﮨﻢ ﻧﮯ ﺍﻧﮭﯿﮟ ﻭﮦ ﺷﺎﻥ ﻭ ﺷﻮﮐﺖ ﻋﻄﺎ ﮐﯽ ﺗﮭﯽ ﺟﻮ ﺗﻤﮩﯿﮟ ﻧﺼﯿﺐ ﻧﮩﯿﮟ ﮨﻮﺋﯽ۔ ﮨﻢ ﺍﻥ ﮐﮯ ﮐﮭﯿﺘﻮﮞ ﭘﺮ ﭼﮭﻤﺎ ﭼﮭﻢ ﺑﺎﺭﺷﯿﮟ ﺑﺮﺳﺎﺗﮯ ﺗﮭﮯ ﺍﻭﺭ ﺍﻥ ﮐﮯ ﺑﺎﻏﺎﺕ ﻣﯿﮟ ﺷﻔﺎﻑ ﭘﺎﻧﯽ ﮐﯽ ﻧﮩﺮﯾﮟ ﺑﮩﺘﯽ ﺗﮭﯿﮟ ﻟﯿﮑﻦ ﺟﺐ ﺍﻧﮭﻮﮞ ﻧﮯ ﮨﻤﺎﺭﯼ ﺭﺍﮨﯿﮟ ﭼﮭﻮﮌ ﺩﯾﮟ ﺗﻮ ﮨﻢ ﻧﮯ ﺍﻧﮭﯿﮟ ﺗﺒﺎﮦ ﮐﺮ ﺩﯾﺎ ﺍﻭﺭ ﺍﻥ ﮐﺎ ﻭﺍﺭﺙ ﮐﺴﯽ ﺍﻭﺭ ﻗﻮﻡ ﮐﻮ ﺑﻨﺎ ﺩﯾﺎ ‘‘ ۔*

ﻣﯿﺮﯼ ﺍٓﻧﮑﮭﯿﮟ ﮐﮭﻞ ﮔﺌﯿﮟ ‘ ﺍﻧﺪﮬﯽ ﺗﻘﻠﯿﺪ ﮐﯽ ﻭﮦ ﺗﺎﺭﯾﮏ ﮔﮭﭩﺎﺋﯿﮟ ﺟﻮ ﺩﻣﺎﻏﯽ ﻣﺎﺣﻮﻝ ﭘﺮ ﻣﺤﯿﻂ ﺗﮭﯿﮟ ﯾﮏ ﺑﯿﮏ ﭼﮭﭩﻨﮯ ﻟﮕﯿﮟ ﺍﻭﺭ ﺍﻟﻠﮧ ﮐﯽ ﺳﻨﺖ ﺟﺎﺭﯾﮧ ﮐﮯ ﺗﻤﺎﻡ ﮔﻮﺷﮯ ﺑﮯ ﺣﺠﺎﺏ ﮨﻮﻧﮯ ﻟﮕﮯ۔

ﻣﯿﮟ ﻧﮯ ﻗﺮﺍٓﻥ ﻣﯿﮟ ﺟﺎ ﺑﺠﺎ ﯾﮧ ﻟﮑﮭﺎ ﺩﯾﮑﮭﺎ ۔۔۔۔۔
*’’ﯾﮧ ﺩﻧﯿﺎ ﺩﺍﺭﺍﻟﻌﻤﻞ ﮨﮯ ‘*
*ﯾﮩﺎﮞ ﺻﺮﻑ ﻋﻤﻞ ﺳﮯ ﺑﯿﮍﮮ ﭘﺎﺭ ﮨﻮﺗﮯ ﮨﯿﮟ ‘*
ﮨﺮ ﻋﻤﻞ ﮐﯽ ﺟﺰﺍ ﻭ ﺳﺰﺍ ﻣﻘﺮﺭ ﮨﮯ ﺟﺴﮯ ﻧﮧ ﮐﻮﺋﯽ ﺩﻋﺎ ﭨﺎﻝ ﺳﮑﺘﯽ ﮨﮯ ﺍﻭﺭ ﻧﮧ ﺩﻭﺍ ‘‘
*۔" ﻟﯿﺲ ﻟﻼﻧﺴﺎﻥ ﺍﻻ ﻣﺎﺳﻌﯽ" ۔*
*ﺍﻧﺴﺎﻥ ﮐﮯ ﻟﯿﮯ ﻭﮨﯽ ﮐﭽھ ﮨﮯ ﺟﺲ ﮐﯽ ﻭﮦ ﮐﻮﺷﺶ ﮐﺮﺗﺎ ﮨﮯ*
‏( ﺍﻟﻘﺮﺍٓﻥ ‏) ۔

ﻣﯿﮟ ﺳﺎﺭﺍ ﻗﺮﺍٓﻥ ﻣﺠﯿﺪ ﭘﮍﮪ ﮔﯿﺎ ﺍﻭﺭ ﮐﮩﯿﮟ ﺑﮭﯽ ﻣﺤﺾ۔۔۔۔

ﺩﻋﺎ ﯾﺎ ﺗﻌﻮﯾﺬ ﮐﺎ ﮐﻮﺋﯽ ﺻﻠﮧ ﻧﮧ ﺩﯾﮑﮭﺎ ‘

ﮐﮩﯿﮟ ﺑﮭﯽ ﺯﺑﺎﻧﯽ ﺧﻮﺷﺎﻣﺪ ﮐﺎ ﺍﺟﺮ ﺯﻣﺮﺩﯾﮟ، ﻣﺤﻼﺕ ‘ ﺣﻮﺭﻭﮞ ﺍﻭﺭ ﺣﺠﻮﮞ ﮐﯽ ﺷﮑﻞ ﻣﯿﮟ ﻧﮧ ﭘﺎﯾﺎ ‘

ﯾﮩﺎﮞ ﻣﯿﺮﮮ ﮐﺎﻧﻮﮞ ﻧﮯ ﺻﺮﻑ ﺗﻠﻮﺍﺭ ﮐﯽ ﺟﮭﻨﮑﺎﺭ ﺳﻨﯽ ﺍﻭﺭ ﻣﯿﺮﯼ ﺍٓﻧﮑﮭﻮﮞ ﻧﮯ ﻏﺎﺯﯾﻮﮞ ﮐﮯ ﻭﮦ ﺟﮭﺮﻣﭧ ﺩﯾﮑﮭﮯ ﺟﻮ ﺷﮩﺎﺩﺕ ﮐﯽ ﻻﺯﻭﺍﻝ ﺩﻭﻟﺖ ﺣﺎﺻﻞ ﮐﺮﻧﮯ ﮐﮯ ﻟﯿﮯ ﺟﻨﮓ ﮐﮯ ﺑﮭﮍﮐﺘﮯ ﺷﻌﻠﻮﮞ ﻣﯿﮟ ﮐﻮﺩ ﺭﮨﮯ ﺗﮭﮯ۔

ﻭﮦ ﺩﯾﻮﺍﻧﮯ ﺩﯾﮑﮭﮯ ﺟﻮ ﻋﺰﻡ ﻭ ﮨﻤﺖ ﮐﺎ ﻋﻠﻢ ﮨﺎﺗھ ﻣﯿﮟ ﻟﯿﮯ ﻣﻌﺎﻧﯽ ﺣﯿﺎﺕ ﮐﯽ ﻃﺮﻑ ﺑﺎﺍﻧﺪﺍﺯ ﻃﻮﻓﺎﻥ ﺑﮍﮪ ﺭﮨﮯ ﺗﮭﮯ ﺍﻭﺭ ﻭﮦ ﭘﺮﻭﺍﻧﮯ ﺩﯾﮑﮭﮯ ﺟﻮ ﮐﺴﯽ ﮐﮯ ﺟﻤﺎﻝِ ﺟﺎﮞ ﺍﻓﺮﻭﺯ ﭘﮧ ﺭﮦ ﺭﮦ ﮐﮯ ﻗﺮﺑﺎﻥ ﮨﻮ ﺭﮨﮯ ﺗﮭﮯ۔

ﻗﺮﺁﻥ ﻣﺠﯿﺪ ﮐﮯ ﻣﻄﺎﻟﻌﮯ ﮐﮯ ﺑﻌﺪ ﻣﺠﮭﮯ ﯾﻘﯿﻦ ﮨﻮ ﮔﯿﺎ ﻣﺴﻠﻤﺎﻥ ﮨﺮ ﺟﮕﮧ ﻣﺤﺾ ﺍﺱ ﻟﯿﮯ ﺫﻟﯿﻞ ﮨﻮ ﺭﮨﺎ ﮨﮯ ﮐﮧ ﺍﺱ ﻧﮯ ﻗﺮﺍٓﻥ ﮐﮯ ﻋﻤﻞ، ﻣﺤﻨﺖ ﺍﻭﺭ ﮨﯿﺒﺖ ﻭﺍﻟﮯ ﺍﺳﻼﻡ ﮐﻮ ﺗﺮﮎ ﮐﺮ ﺭﮐﮭﺎ ﮨﮯ۔

ﻭﮦ ﺍﻭﺭﺍﺩ ﻭ ﺍﻭﻋﯿﮧ ﮐﮯ ﻧﺸﮯ ﻣﯿﮟ ﻣﺴﺖ ﮨﮯ ﺍﻭﺭ ﺍﺱ ﮐﯽ ﺯﻧﺪﮔﯽ ﮐﺎ ﺗﻤﺎﻡ ﺳﺮﻣﺎﯾﮧ ﭼﻨﺪ ﺩﻋﺎﺋﯿﮟ ﺍﻭﺭ ﭼﻨﺪ ﺗﻌﻮﯾﺬ ﮨﯿﮟ ﺍﻭﺭ ﺑﺲ۔ ﺍﻭﺭ ﺳﺎﺗھ ﮨﯽ
ﯾﻘﯿﻦ ﮨﻮ ﮔﯿﺎ ﮐﮧ ﺍﺳﻼﻡ ﺩﻭ ﮨﯿﮟ ‘

ﺍﯾﮏ ﻗﺮﺍٓﻥ ﮐﺎ ﺍﺳﻼﻡ ﺟﺲ ﮐﯽ ﻃﺮﻑ ﺍﻟﻠﮧ ﺑﻼ ﺭﮨﺎ ﮨﮯ*
ﺍﻭﺭ
ﺩﻭﺳﺮﺍ ﻭﮦ ﺍﺳﻼﻡ ﺟﺲ ﮐﯽ ﺗﺒﻠﯿﻎ ﮨﻤﺎﺭﮮ ﺍﺳّﯽ ﻻﮐﮫ ﻣْﻼ ﻗﻠﻢ ﺍﻭﺭ ﭘﮭﯿﭙﮭﮍﻭﮞ کا ﺳﺎﺭا ﺯﻭﺭ ﻟﮕﺎ ﮐﺮ ﮐﺮ ﺭﮨﮯ ﮨﯿﮟ....!

23/09/2025

ختم نبوت
کے تحفظ کیلئے جان دینے والا پہلا
اصحابِ رسول
حضرت حبیب بن زید؛

مسیلمہ کزاب نے نبی مکرم صلی اللہ علیہ وسلم کو خط لکھا؛
" میرے ساتھ ایک معاہدہ کر لیں ، جب تک آپ حیات ظاہری میں ہیں ، آپ نبی ہیں - جب اپکا وصال ہوجاٸے تو میں نبی"
یا یہ معاہدہ کر لیں کہ آدھے عرب کے آپ نبی - - - آدھے عرب کا میں نبی" - - - معاذاللہ

اسکے خط پر نبی ﷺ نے جواب میں لکھا؛
"میں تو اللہ کا رسول ہوں جب کہ تو کذاب ہے - - جھوٹا ہے"-

جب نبی پاک نے خط میں کذاب لکھا تو فرمانے لگے؛
" کون لے کے جاٸے گا یہ خط اس کزاب کے دربار میں" ۔۔

اب اسکے دربار میں جانا ہے حالات بڑے خطرناک ہیں - - - اس کے آگے بھی بندے اور پیچھے بھی بندے ہیں جان کا خطرہ بھی ہے - -
ایک صحابی تھے چابڑی فروش، سر پر ٹوکرا رکھ کے مدینے کی گلیوں میں کجھوریں بیچتے تھے - - - گیارہ بارہ بچوں کے باپ تھے جسمانی طور پر بھی کمزور تھے، کجھور کھا رہے تھے فٹافٹ اٹھے ہاتھ کھڑا کر کے کہ؛

" حضور کسی اور کی ڈیوٹی نا لگائیے گا میں جاونگا" - -
جب یہ الفاظ جلد بازی میں کہے تو ان کے منہ سے کجھور کے ٹکڑے مجلس میں بیٹھے صحابہ کے چہروں پر گرے ، ایک صحابی کہنے لگے؛
" اللہ کے بندے پہلے کھجور تو کھا لے" - - - بڑی جلدی ہے تجھے بولنے کی " - - -

مسکرا کے کہنے لگے؛
"اگر کھاتے کھاتے ڈیوٹی کسی اور کی لگ گٸی تو کیا کرونگا مجھے جلدی ہے" ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔(اللہ اکبر)

حضورﷺ نے اپنا نیزہ دیا, گھوڑا دیا ,اور فرمایا؛
" ذرا ڈٹ کے جانا اس کذاب کے گھر" - -
وہ صحابی عقیدت سے ناظرین جھکا کہنے لگا؛
" محبوب خدا ! آپ فکر ہی نا کریں" - - -

صحابہ کہتے ہے وہ اس طرح نکلا جیسے کوٸی جرنیل نکلتا ہے
اسکا انداز ہی بدل گیا اس کے طور طریقے بدل گٸے
وہ یوں نکلے جیسے کوٸی بڑا دلیر آدمی جاتا ہے - -
وہ صحابی مسیلمہ کذاب کے دربار میں گٸے، وہاں ایک شحض جو بعد میں مسلمان ہوا وہ بتلاتا ہے؛
" وہ صحابی جن کا نام" حضرت حبیب بن زید " تھا جب وہاں دربار میں پہنچے تو اپنا نیزہ زور سے دربار میں گاڑ دیا

مسلمہ ٹھٹک کے کہتا ہے؛
" کون ہو "؟ - - -
آپ نے غراتے ہوئے فرمانے لگے؛
" تجھے چہرہ دیکھ کے پتہ نہیں چلا کہ میں رسول اللہﷺ کا نوکر ہو، ہمارے تو چہرے بتاتے ہے کہ نبیﷺ والے ہے ، تجھے پتہ نہیں چلا میں کون ہوں" ۔

مسلمہ کہنے لگا؛
" کیسے آٸے ہو" ؟ - - -
بے نیازی سے فرمایا :-
" یہ تیرے خط کا جواب لے کے آیا ہوں" ۔

بادشاہوں کا طریقہ یہ تھا کہ وہ خط خود نہیں پڑھتے تھے، ساتھ ایک بندہ کھڑا ہوتا تھا وہ خط پڑھتا تھا تو مسیلمہ نے خط اس کو دیا کہ - -" پڑھو " - - جب اس نے خط پڑھا تو اسمیں یہ بھی لکھا تھا :- " تو کذاب ہے" - - -

یہ جملہ وہاں موجود سب نے سن لیا اکیلے میں ہوتا تو بات اور تھی - - وہ آگ بگولہ ہوگیا انکھیں سرخ ہوگٸیں سامنے حضرت حبیبؓ بن زید تنے کھڑے تھے، غصے سے تلوار لے کے اٹھا اور کہنے لگا:-
" تیرے نبی نےمجھے" کذاب " کہا ہے تیرا کیا خیال ہے" ۔؟؟
حبیب بن زید مسکرا کے فرمانے لگے:-
" خیال والی بات ہی کوٸی نہیں، جسے میرا نبی کذاب کہے وہ ہوتا ہی کذاب ہے - - - تو سات سمندروں کا پانی بھی بہا دے تو بھی تیرا جھوٹ نہیں دھل سکتا" - - -

مسلمہ غصے کی شدت سے کانپتے ہوئے کہنے لگا :-
" تو پیچھے پلٹ کے دیکھ ، سارے میرے سپاہی میرےپہرےدار، تلواریں , نیزے , خنجر , تیر سب تیرے پیچھے کھڑے میرے ماننے والے ہیں" ۔۔

حضرت حبیب بن زید رض فرمانے لگے:-
" میرے بارہ بچے ہیں ان میں سے کچھ ایسے ہے جو دودھ پیتے ہیں کچھ ایسے ہیں جنہوں نے ابھی چلنا نہیں سیکھا - - - میں جب رسول اللہﷺ کا پیغام لے کے نکلا تھا تو میں نے پلٹ کے بچے نہیں دیکھے تو تیرے پہرہ دار کیسے دیکھ لوں ,جو جی میں آتا ہے کر غلام محمدﷺ جان دینے سے نہیں ڈرتے " - -

مسیلمہ نے زور سے تلوار ماری بازو کٹ کے گر گیا کہنے لگا :-
" اب بول اب تیرا کیا خیال ہے"؟؟؟
آپ فرمانے لگے:-
" تو بڑا بیوقوف ہے ہمیں آزماتا ہے، ہمیں تو بدر سے لے کر احد تک سب آزما چکے ہیں ، تو ابھی بھی خیال پوچھتا ہے، میرا خیال وہی ہے جو میرے نبی نے فرمایا" - - -

مسلمہ نےپھر تلوار ماری دوسرا ہاتھ کٹ گیاکہنے لگا:-
" میں تجھے قتل کر دونگا باز آجا
آپ فرمانے لگے:-
" تو بڑا نادان ہے ، ان کو ڈراتا ہےجو فجر کی نماز پڑھ کے پہلی دعا ہی شہادت کی مانگتے ہیں ، جو کرنا ہے کر لے" - -

مسلمہ کزاب نے تلوار گردن پر رکھی کہنے لگا:-
" میں تیری گردن کاٹ دونگا " - -
حبیب بن زید فرمانے لگے:-
" کاٹتا کیوں نہیں" - - -

روایت کرنے والا فرماتا ہے مسیلمہ کے ہاتھ کانپے تھے - تلوار چلاٸی گردن کٹ گٸی ، ادھر مدینے میں حضورﷺ کی انکھوں میں آنسو آٸے ، صحابہ کرام رض نے پوچھا :-
" یا رسول اللہ کیا ہوا " - - -
فرمایا :-
"میرا حبیب شہید ہو گیا ہے - - - اور رب کریم نے اس کے لٸے جنت کے سارے دروازے کھول دٸے ہیں" - - -

(أسد الغابہ ابن الاثیر)

19/09/2025

خلفائے راشدین اور ازواج مطہرات رضی اللہ عنہم - مرجع تقلید آیت اللہ العظمی سید علی الامین لبنانی

مسلمانوں پر سبّ و شتم اور تکفیر کرنا ایک ناقابلِ قبول رویہ ہے۔ تمام علماء کا اجماع ہے کہ اہلِ قبلہ کی تکفیر جائز نہیں، تو پھر کیسے ممکن ہے کہ ہم مسلمانوں کے ائمہ اور خلفائے راشدین( رضی اللہ عنہم اجمعین) کو برا بھلا کہیں؟
فَكَيْفَ يَجُوزُ التَّطَاوُلُ بِالسَّبِّ وَالتَّكْفِيرِ عَلَى أَئِمَّةِ الْمُسْلِمِينَ وَالْخُلَفَاءِ الرَّاشِدِينَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُمْ أَجْمَعِينَ؟

ام المؤمنین حضرت عائشہؓ پر طعن کرنا بہت بڑا گناہ اور صریح بہتان ہے۔ قرآن و سنت نے نبی ﷺ کی ازواج کو عزت دی ہے اور انہیں "امہات المؤمنین" بنایا ہے۔ وہ بھی اہل بیت میں شامل ہیں جن کے بارے میں قرآن کہتا ہے کہ اللہ نے ان سے رجس کو دور کر دیا اور انہیں پاک کر دیا۔
ہم نے نجف کی حوزۂ علمیہ میں کبھی ایسے معتبر مراجع سے نہیں سنا جو ازواجِ مطہرات کی شان میں گستاخی کرتے ہوں۔ ان کی بے حرمتی قرآن و سنت کے خلاف ہے اور یہ امت کی وحدت کو نقصان پہنچاتی ہے، جسے میں شریعت کے مقاصد میں سے سمجھتا ہوں۔

جہاں تک امامت کا تعلق ہے تو یہ ایسا مسئلہ نہیں جو دین کے بنیادی ارکان میں شامل ہو۔ نہ یہ اسلام کے لیے شرط ہے اور نہ ہی دین کی ضروریات میں سے۔ یہی وہ موقف ہے جو اہل بیت کے ائمہ کی سیرت سے ثابت ہے کہ انہوں نے کبھی دوسروں کو امامت کے مسئلے پر سبّ یا کافر قرار نہیں دیا۔

امام علیؑ نے صفین کی جنگ کے موقع پر اپنے کچھ ساتھیوں کو گالی گلوچ سے روکا اور فرمایا:
إِنِّي أَكْرَهُ لَكُمْ أَنْ تَكُونُوا سَبَّابِينَ
"میں نہیں چاہتا کہ تم سبّ کرنے والے بنو۔"

یہی وہ تربیتی طریقہ ہے جو رسول اللہ ﷺ نے ہمیں سکھایا تھا:
لَيْسَ الْمُؤْمِنُ بِالطَّعَّانِ وَلَا اللَّعَّانِ وَلَا الْفَاحِشِ وَلَا الْبَذِيءِ
"مؤمن طعّان، لعّان، فحش گو اور بدزبان نہیں ہوتا۔"

ائمہ اہل بیت کی زندگیاں صحابہ کرام کے ساتھ تعلقات اور مشترکہ اسلامی کاموں سے بھری ہوئی تھیں۔ امام علیؑ نے کئی مواقع پر صحابہ کے بارے میں محبت اور احترام سے بات کی۔

انہوں نے نہج البلاغہ میں فرمایا:
لَقَدْ رَأَيْتُ أَصْحَابَ مُحَمَّد(صلى الله عليه وآله)، فَمَا أَرَى أَحَداً يُشْبِهُهُمْ مِنْكُمْ! لَقَدْ كَانُوا يُصْبِحُونَ شُعْثاً غُبْراً، قَدْ بَاتُوا سُجّداً وَقِيَاماً، يُرَاوِحُونَ بَيْنَ جِبَاهِهِمْ وَخُدُودِهِمْ، وَيَقِفُونَ عَلَى مِثْلِ الْجَمْرِ مِنْ ذِكْرِ مَعَادِهِمْ! كَأَنَّ بَيْنَ أَعْيُنهِمْ رُكَبَ الْمِعْزَى مِنْ طُولِ سُجُودِهِمْ! إِذَا ذُكِرَ اللهُ هَمَلَتْ أَعْيُنُهُمْ حَتَّى تَبُلَّ جُيُوبَهُمْ، وَمَادُوا كَمَا يَمِيدُ الشَّجَرُ يَوْمَ الرِّيحِ الْعَاصِفِ، خَوْفاً مِنَ الْعِقَابِ، وَرَجَاءً لِلثَّوَابِ
"میں نے محمد ﷺ کے صحابہ کو دیکھا ہے لیکن تم میں سے کسی کو ان جیسا نہیں دیکھتا! وہ بکھرے بالوں والے اور غبار آلود ہوتے تھے۔ رات بھر سجدہ اور قیام کرتے رہتے تھے۔ ان کے ماتھے اور رخسار زمین سے مس ہوتے رہتے تھے۔ آخرت کی یاد میں اس طرح کھڑے رہتے جیسے انگاروں پر کھڑے ہوں۔ جب اللہ کا ذکر ہوتا تو ان کی آنکھوں سے آنسو بہتے اور ان کے گریبان بھیگ جاتے، وہ ایسے کانپتے جیسے تیز آندھی میں درخت کانپتے ہیں خوفِ عذاب اور امیدِ ثواب کی وجہ سے۔"

امام علیؑ کا قول ہے جیسا کہ کتاب الغارات میں آیا:
كُلُّ أَصْحَابِ مُحَمَّدٍ أَصْحَابِي
"محمد ﷺ کے تمام صحابہ میرے صحابہ ہیں۔"

اسی کتاب میں امام نے حضرت ابوبکرؓ و عمرؓ کا ذکر کرتے ہوئے اہل مصر کو لکھا:
ثُمَّ إِنَّ الْمُسْلِمِينَ مِنْ بَعْدِهِ اسْتَخْلَفُوا بِهِ امْرَأَيْنِ صَالِحَيْنِ عَمِلَا بِالْكِتَابِ وَأَحْسَنَا السِّيرَةَ وَلَمْ يَتَعَدَّيَا السُّنَّةَ ثُمَّ تَوَفَّاهُمَا اللَّهُ عَزَّ وَجَلَّ فَرَحِمَهُمَا اللَّهُ
"پھر مسلمانوں نے رسول اللہ ﷺ کے بعد دو نیک آدمیوں کو خلیفہ بنایا، انہوں نے کتاب اللہ کے مطابق عمل کیا اور اچھی سیرت اختیار کی اور سنت سے تجاوز نہ کیا۔ پھر اللہ نے ان دونوں کو اپنے پاس بلا لیا، اللہ ان دونوں پر رحم کرے۔"

معاویہ کو لکھے گئے ایک خط میں فرمایا:
وَزَعَمْتَ أَنَّ أَفَاضِلَ أَصْحَابِهِ الْخَلِيفَةَ الصِّدِّيقَ وَخَلِيفَةَ الْخَلِيفَةِ، وَلَعَمْرِي إِنَّ مَكَانَهُمَا مِنَ الْإِسْلَامِ لَعَظِيمٌ، وَإِنَّ الْمُصَابَ بِهِمَا لَشَدِيدٌ.
"تم کہتے ہو کہ محمد ﷺ کے بہترین صحابہ ابوبکر اور عمر تھے۔ قسم ہے کہ ان کا اسلام میں مقام بہت عظیم ہے اور ان کا فوت ہونا بڑا سانحہ ہے۔"

18/09/2025

موجودہ مسلمان نسل جانتی ہی نہیں کہ بنی اسرائیل کی سرخ گائے کی قربانی، مسجد الاقصیٰ کا شہید ہونا، تابوتِ سکینہ، ہیکل سلیمانی کی تعمیر اور دجال کے آنے میں کیا تعلق ھے؟
ہیکلِ سلیمانی کو حضرت سلیمان علیہ السلام نے اللہ کے حکم سے جنات سے تعمیر کروائی تھی تاکہ لوگ اس کی طرف منہ کر کے یا اس کے اندر عبادت کریں۔
حضرت سلیمان کی وفات کے بعد اسکے تین حصے کر دیئے گئے!
بیرونی حصے میں عام لوگ عبادت کرتے دوسرے میں علماءجو کہ انبیاء کی اولادوں میں سے ہوتے اور تیسرے حصہ جسے سب سے مقدس سمجھا جاتاتھا وہاں تابوتِ سکینہ کو رکھا گیا جہاں کسی کو جانے کی اجازت نہیں تھی سوائے سب سے بڑے عالم پیش امام کے،
پھر وقت گزرتا رہا، اس دوران بنی اسرائیل میں پیغمبر معبوث ہوتے رہے۔
یہ قوم بد سے بدتر ہوتی رہی، اور یہ کسی بھی طرح اپنے گناہوں سے توبہ تائب ہونے یا ان کو ترک کرنے کے لئے تیار نہیں تھے،
یہ ایک جانب عبادتیں کیا کرتے دوسری جانب اللہ کے احکام کی صریح خلاف ورزی بھی کرتے رہے،
ان کی اس دوغلی روش سے اللہ پاک ناراض ہو گئے۔
ان کے پاس ایک بہت بڑی تعداد میں انبیاء بھی بھیجے گئے لیکن یہ قوم سدھرنے کو تیار نہ تھی۔
ہیکلِ سلیمانی کو دو مرتبہ مختلف بادشاہوں کے ہاتھوں منہدم کیا گیا جسکی اب ایک دیوار بچی ہے جسے "دیوارِ گریہ" کہتے ہیں جہاں یہ یہودی جا کر آہ و زاری (عبادت)کرتے ہیں۔

روایات کے مطابق تابوت سکینہ جس لکڑی سے تیار کیا گیا تھا اسے "شمشاد" کہتے ہیں۔ جسے جنت سے حضرت آدم علیہ السلام کے پاس بھیجا گیا تھا ۔
یہ تابوت نسل در نسل انبیاء سے ہوتا ہوا حضرت موسیٰ علیہ السلام تک پہنچا تھا، اس مقدس صندوق میں حضرت موسیٰ علیہ السلام کا عصا، من و سلویٰ، اور دیگر انبیاء کی یادگاریں تھیں۔ یہودی اس تابوت کی برکت سے ہر مصیبت پریشانی کا حل لیا کرتے تھے۔ مختلف اقوام کے ساتھ جنگوں کے دوران اس صندوق کو لشکر کے آگے رکھا کرتے، اس کی برکت سے دشمن پر فتح پایا کرتے۔
بخت نصر نے ہیکل تباہ کر کے تابوتِ سکینہ کی شدید بے حرمتی کی اور اسی کہیں پھینک دیا۔
کچھ لوگوں کا کہنا ہے کہ اس مقدس صندوق کی مزید توہین سے بچانے کے لئے اسے اللہ پاک کے حکم سے کسی محفوظ مقام پر معجزانہ طور پر چھپا دیا گیا۔ جس کا کسی انسان کو علم نہیں (لیکن اب یہودی اس کی تلاش میں پورے کرۂِ ارض کو کھود ڈالنا چاہتے ہیں)۔
حضرت عیسیٰ علیہ السلام کا ظہور ہوا تو ایک بار پھر یہودیوں نے حسبِ معمول مظالم کے پہاڑ توڑنے شروع کر دیئے۔
حضرت عیسیٰ علیہ السلام کو آسمان پر اٹھا نے کا واقعہ پیش آیا۔ آپ کے آسمان پر اٹھا نے کے ۷٠ سال بعد ایک بار پھر یہودیوں پر اللہ کا عذاب نازل ہوا۔ اس بار اس عذاب کا نام ٹائٹس تھا۔
یہ رومی جرنیل، بابل کے بادشاہ بخت نصر سے بھی زیادہ ظالم ثابت ہوا۔ اس نے ایک دن میں لاکھوں یہودیوں کو تہہ تیغ کر دیا۔ اس نے ہیروڈس کے بنائے ہوئے عظیم الشان ہیکل کی اینٹ سے اینٹ بجا دی۔۔۔
جسکے بعد یہودی پوری دُنیا میں رُسوا و ذلیل ہو کر رہ گئے
لیکن اپنی ازلی فطرت سے باز نہ آنے کی وجہ سے اب یہ مزید گِری ہوئ حرکتوں پر اْتر آئے ہیں جو جانوروں سے بھی بدتر ہیں۔۔۔

اسرائیلیوں کی جانب سے سرخ گائے یا ریڈ ہیفر کی قربانی کی خبریں کافی دنوں سے گردش میں ہیں۔
صدیوں پر محیط سرخ ہیفر کی قربانی یہودی روایت میں ایک اہم رسم ہے۔ یہودی قانون کے مطابق موسیٰ کے زمانے سے لے کر اب تک صرف نو سرخ گائے کی قربانی دی گئی ہے۔ سرخ گائے کی راکھ کو پاک کرنے کی رسم میں استعمال کیا جاتا تھا۔۔
یہ قربانیاں صدیوں پر محیط ہوئیں، ان کے درمیان اہم فرق تھا۔
دسویں سرخ گائے کا یہودی روایت کے مطابق انتظار کیا جاتا ہے اور خیال کیا جاتا ہے کہ یہ یروشلم میں تیسرے ہیکل کی دوبارہ تعمیر سے منسلک پاکیزگی کی رسومات کے لیے ضروری ہے۔
یہ قربانی 2000 سال کے بعد ہو رہی ہے۔ بنیادی طور پر جب یہودی مقدس ہیکل کی تعمیر کرتے ہیں تو وہ تعمیر کے آلات کو پاک کرنے کے لیے سرخ گائے کی راکھ کا استعمال کرتے ہیں۔
یہ کیا سبب بن سکتا ہے؟
یہ مقدس تورات کے مطابق اختتامی اوقات کا آغاز ہے۔
؛سلسلہ ایسے چلتا ہے....
1. سرخ گائے کی قربانی
2. اوزار کو صاف کریں۔
3. الاقصیٰ کو مسمار کرنا
4. تیسرے مندر کی تعمیر
5. جھوٹے مسیحا کی آمد
6. امام مہدی کی آمد
7. عیسیٰ کی آمد
8. قیام۔

سرخ گائے کی قربانی کے بعد اس کی جلد، گوشت، خون اور ہڈی سمیت تمام سامان کو جلا کر پاک پانی میں ملا دیا جائے گا اور پھر وہ پانی جسم کو پاک کر دے گا۔ پادری قربانی کر رہا ہے جس کے بعد اسے تیسرے ہیکل کی بنیاد کے ارد گرد سات بار چھڑکایا جائے گا یہ مسیح کے دور (دجال کے دور) کا استقبال کرے گا۔
یہ قربانی زیتون کے پہاڑ پر کی جانی ہے جو کیدور وادی کے راستے مندر میں شامل ہوتی ہے۔
جیسے ہی یہ ہوگا تو اسکے کچھ وقت کے بعد الاقصیٰ کو شہید کردیا جائے گا اور اس کے نتیجے میں امام مہدی کا ظہور ہوگا۔
دجال مشرق سے اپنے آپ کو ظاہر کریگا، اس کا تعلق یہودی خاندان سے ہو گا، اسے عام طور پر ایک آنکھ کا اندھا بتایا جاتا ہے، اور اس کی پیشانی پر لفظ "کافر" لکھا جائے گا، وہ یروشلم کو فتح کر کے
مکہ اور مدینہ کے علاوہ پوری دنیا میں جائیگا۔
ایک جھوٹے مسیحا کے طور پر، بہت سے لوگ اس کے فریب میں آ کر اس کی صفوں میں شامل ہو جائیں گے۔ اس کی مدد شیاطین کی فوج کرے گی۔
اس کی مرضی کے سب سے زیادہ قابل اعتماد حمایتی یہودی ہوں گے، جن کے لیے وہ خدا کی مانند ہوگا۔ اس کی واپسی پر بہت سے کمزور ایمان والے لوگ اس کی زد میں آئیں گے۔

کی پہلی 10 اور آخری 10 آیات ہمیں دجال کے فتنے سے بچا سکتی ہیں۔ سورہ کہف کی پہلی دس آیات حفظ کرنے کی کوشش کریں۔ اسے روزانہ پڑھنے کی کوشش کریں۔
برائے مہربانی اس حوالے سے آگاہی بڑھانے کی کوشش کریں۔
یہ ہماری امت کا سب سے بڑا، سخت اور مشکل فتنہ ہے اور بہت سے لوگ اس سے ناواقف ہیں،
براہ کرم اس کے بارے میں جانیں اور اپنا ایمان بنانے کی کوشش کریں کیونکہ دجال ہمارے ایمان سے کھیلنے والا ہے۔

10/09/2025

دنیا کی بلند ترین عمارت برج خلیفہ
کی تعمیری لاگت 1.5 بلین ڈالر ہے
جبکہ
مشہور امریکی بمبار
B-2 طیارہ
دو بلین ڈالر سے بھی زیادہ مہنگا ہے۔

امتِ مسلمہ عمارتیں بلند کرتی رہی
اور
وہ قومیں اپنی سوچ بلند کرتی ہیں
اسی لیے
ہم پیچھے رہ گئے اور وہ آگے۔

امریکہ ہر سال 900 بلین ڈالر دفاع پر خرچ کرتا ہے؛
اور ہم ابھی تک فخر سے کہتے رہے
کہ ہمارے پاس تیل ہے۔
تیل سے عقل نہیں خریدی جا سکتی۔

ہم خواب بناتے رہے
وہ منصوبے بناتے ہیں۔

ہم صرف دعائیں کرتے رہے
وہ محنت کرتے ہیں۔

ہم تقریر کرتے ہیں
وہ تحقیق کرتے ہیں۔

کیا یہی ہے فرق ترقی یافتہ اور زوال پذیر قوم میں؟

اگر ایک طیارہ ہماری سب سے بڑی عمارت سے مہنگا ہو سکتا ہے
تو شاید ہمیں اپنی سوچ کا نقشہ بدلنے کی ضرورت ہے۔

ہمیں صرف مسجدیں نہیں
لیبارٹریاں بھی درکار ہیں۔

صرف منبر نہیں
مائیکروسکوپ بھی درکار ہیں۔

صرف عالم نہیں
سائنسدان بھی درکار ہیں۔

خوابِ غفلت سے بیدار نہ ہوئے تو
وقت تاریخ کے کچرے دان میں ڈال دے گا۔

ہم نے بچوں کو ماضی کے قصے سنائے
دشمن نے انہیں مستقبل کا ہنر سکھا دیا؛

نتیجہ
ہم ماضی میں جیتے رہے
وہ مستقبل میں پہنچ گئے۔

Address

Khudabad
Dadu

Telephone

+923152835358

Website

Alerts

Be the first to know and let us send you an email when Dargah Mian Yar Muhammad Kalhoro posts news and promotions. Your email address will not be used for any other purpose, and you can unsubscribe at any time.

Share