Hassan Raza Alvi Official

Hassan Raza Alvi Official Contact information, map and directions, contact form, opening hours, services, ratings, photos, videos and announcements from Hassan Raza Alvi Official, Religious Center, Chiniot.

02/03/2024

*اولیاء اللہ کووسیلہ قراردینا٬ توحید کے مخالف نہیں ہے*

توسل سے مراد یہ نہیں ھے کہ انسان پیامبر اکرم (ص)یا ائمہ علیھم السلام سے مستقل طور پر کوئی چیز طلب کرے بلکہ توسل سے مراد یہ ھے کہ اعمال صالحہ یا پیغمبر اور امام کی اطاعت و پیروی کے ذریعہ یا ان حضرات کی شفاعت یا خداوندعالم کو ان حضرات کے عظیم مرتبہ کی قسم دے کر( جو خود ایک طرح سے ان کی عظمت اور بلندی کا احترام کرنا ھے اور ایک طرح سے خداکی عبادت ھے) خداوندعالم سے کوئی چیز مانگی جائے تو اس میں نہ کسی طرح کا کوئی شرک ھے اور نہ ھی یہ قرآنی آیات کے مخالف ھے۔

اس کے علاوہ قرآنی آیات سے واضح طور پر معلوم ھوتا ھے کہ خداوندعالم کو کسی صالح اور نیک انسان کی عظمت کا واسطہ دے کر اس سے کوئی چیز طلب کرنے میں کوئی قباحت نھیں اور توحید خدا سے بھی منافی نھیں ھے، جیسا کہ سورہ نساء میں ارشاد ھوتا ھے:

[1]

”اور کا ش جب ان لوگوں نے اپنے نفس پر ظلم کیا تھا تو آپ کے پاس آتے اور خود بھی اپنے گناھوں کے لئے استغفار کرتے اور رسول بھی ان کے حق میں استغفار کرتا تو یہ خدا کو بڑا ھی توبہ قبول کرنے والا اور مھربان پاتے“۔

توسل اور اسلامی روایات

توسل کے سلسلہ میں اھل سنت اور شیعہ کتابوں میں بہت سی روایات بیان ھوئی ھیں جن سے مکمل طور پر یہ بات واضح ھوجاتی ھے کہ توسل اور وسیلہ قرار دینے میں کوئی اشکال نھیں پایا جاتا، بلکہ ایک نیک کام ھے، اس سلسلہ میں بہت زیادہ روایات ھیں اور بہت سی کتابوں میںنقل بھی ھوئی ھیں، ھم نمونہ کے طور پراھل سنت کی مشھور و معروف کتابوں سے چند روایات کو نقل کرتے ھیں:

۱۔ مشھور ومعروف سنی عالم دین ”سمھودی“ اپنی کتاب ”وفاء الوفاء“ میں رقمطراز ھیں: پیغمبر اکرم (ص)یا آپ کی عظمت و بزرگی کے واسطہ سے خدا کی بارگاہ میں مدد طلب کرنا، شفاعت چاھنا ، آنحضرت کی خلقت سے پھلے بھی جائز تھا ،آپکی پیدائش کے بعد اور آپکی وفات کے بعد ، عالم برزخ اور روز قیامت میں بھی جائز ھے، اس کے بعد حضرت عمر بن خطاب سے روایت نقل کرتے ھیں کہ حضرت آدم علیہ السلام نے پیغمبر اکرم (ص)سے توسل کیا: جناب آدم علیہ السلام پیغمبر اکرم کی خلقت کے بارے میں علم حاصل کرنے کے بعد خداوندعالم کی بارگاہ میں اس طرح عرض کرتے ھیں:

”یَا ربِّ اٴسئلُکَ بِحَقِّ مُحَمَّدٍ لِمَا غَفرتَ لِی“[2]

”پالنے والے! تجھے محمد( (ص))کا واسطہ، تجھ سے سوال کرتا ھوں کہ مجھے معاف کردے“۔

اس کے بعد اھل سنت کے مشھور و معروف دانشوروں جیسے ”نسائی“ اور ”ترمذی“ سے ایک حدیث نقل کرتے ھیں او ر اس کو توسل کے جواز پر شاھد کے عنوان سے نقل کرتے ھیں، جس حدیث کا خلاصہ یہ ھے:ایک نابینا شخص نے پیغمبر اکرم (ص)سے اپنی بیماری کی شفاء کے لئے درخواست کی تو پیغمبر اکرم (ص)نے حکم دیا کہ اس طرح دعا کرو:

”اَللَّھُمَّ إنِّی اٴسئلُکَ وَاٴتَوجَّہُ إلَیْکَ بِنَیِّکَ مُحَمَّد نَبِیِّ الرَّحمةِ یَا مُحمَّد إنِّی تَوجھتُ بِکَ إلیٰ ربّي فِی حَاجَتِی لِتقضی لِي اٴللَّھُمَّ شَفِّعْہُ فِيّ“[3]

”پالنے والے! تیرے پیغمبر رحمت کے واسطہ سے تجھ سے درخواست کرتا ھوں اور اے محمد! آپ کی طرف متوجہ ھوتا ھوں اور آپ ھی کے واسطہ سے اپنی حاجت روائی کے لئے خدا کی بارگاہ میں متوجہ ھوتا ھوں، پالنے والے! آنحضرت (ص) کو میرا شفیع قرار دے“۔

اس کے بعد پیغمبراکرم (ص)کی وفات کے بعد توسل کے جواز کو ثابت کرنے کے لئے یوں بیان کرتے ھیں: حضرت عثمان کے زمانہ میں ایک حاجت مند پیغمبر اکرم (ص)کی قبر کے نزدیک آیا اور اس نے نماز پڑھی اور اس طرح دعا کرنے لگا:

”اَللَّھُمَّ إنِّی اٴسئلُکَ وَاٴتَوجَّہُ إلَیْکَبِنَبِیِّنَا مُحَمَّد نَبِیِّ الرَّحمةِ یَا مُحمَّد إنِّی اٴتوجہ إلیٰ رَبکَ اَنْ تَقْضي حَاجَتِي“.

”پالنے والے! تیری بارگاہ میں پیغمبر اکرم( (ص))، پیغمبر رحمت کے وسیلہ سے درخواست کرتا ھوں اور تیری طرف متوجہ ھوتا ھوں، اے محمد! آپ کے وسیلہ سے خدا کی بارگاہ میں متوجہ ھوتا ھوں تاکہ میری مشکل آسان ھوجائے“۔

کچھ ھی دیر گزری تھی کہ اس کی مشکل آسان ھوگئی۔[4]

۲۔ ”التوصل الی حقیقة التوسل“ کے موٴلف مختلف منابع و مآخذ سے ۲۶ احادیث نقل کرتے ھیں جن سے توسل کا جائز ھونا سمجھ میں آتا ھے، اگرچہ موصوف نے ان احادیث کی سند میں اشکال کرنا چاھا ھے، لیکن یہ بات واضح ھے کہ جب روایات زیادہ ھوجاتی ھیں اور تواتر[5] کی حد تک پھنچ جاتی ھیں تو پھر سند میں اشکال و اعتراض کی گنجائش نھیں رہتی، اور مخفی نہ رھے کہ توسل کے سلسلہ میں احادیث تواتر کی حد سے بھی زیادہ ھیں، ان کی نقل کی ھوئی روایات میں سے ایک یہ ھے:

”ابن حجر مکی“ اپنی کتاب ”الصواعق المحرقہ“ میں اھل سنت کے مشھور و معروف”امام شافعی“ سے نقل کرتے ھیں کہ انھوں نے اھل بیت پیغمبر سے توسل کیا اور اس طرح کھا:

آل النَبِيّ ذَریعَتِي وَھُمْ إلَیہ وَسیلتي

اٴرْجُوْبِھمْ اٴعطي غَداً ِبیَدِ الیَمِینِ صَحِیفَتِي[6]

”آل پیغمبر میرا وسیلہ ھیں ، اور وھی خدا کی بارگاہ میں میرے لئے باعث تقرب ھیں “

” میں امیدوار ھوں کہ ان کے وسیلہ سے میرا نامہ اعمال میرے داھنے ھاتھ میں دیا جائے“

اسی طرح ”بیہقی“ بھی نقل کرتے ھیں کہ ایک مرتبہ خلیفہ دوم کی خلافت کے زمانہ میں قحط پڑا، جناب بلال چند اصحاب کے ساتھ پیغمبر اکرم (ص)کی قبر مبارک پر آئے اور اس طرح عرض کی:

”یَا رَسُولَ الله استسق لاٴمّتک ۔۔۔ فَإنَّہُم قَد ہَلَکُوا ۔۔۔“ [7]

”یا رسول اللہ! اپنی امت کے لئے باران رحمت طلب فرمائیے ۔۔۔ کیونکہ آپ کی امت ھلاک ھوا چاہتی ھے“۔

یھاں تک کہ ابن حجر اپنی کتاب ”الخیرات الحسان“ میں نقل کرتے ھیں کہ ”امام شافعی“ بغداد میں قیام کے دوران ”ابو حنیفہ“کی زیارت کے لئے جاتے تھے، اور اپنی حاجتوں میں ان کو وسیلہ بناتے تھے اور ان سے متوسل ھوتے تھے۔[8]

نیز ”صحیح دارمی“ میں ”ابی الجوزاء“ سے نقل ھوا ھے کہ ایک سال مدینہ میں بہت سخت قحط پڑگیا، بعض افراد جناب عائشہ کی خدمت میں جاکر شکایت کرنے لگے، اور ان سے درخواست کی کہ قبر پیغمبر کی چھت میں سوراخ کردیا جائے تاکہ قبر پیغمبر کی برکت سے خداوندعالم باران رحمت نازل فرمادے، چنانچہ ایسا ھی کیا گیا اور اس وقت بہت زیادہ بارش ھوئی!

تفسیر ”آلوسی“ میں اس سلسلہ میں بہت سی احادیث نقل ھوئی ھيں اور پھر ان احادیث کا مفصل طریقہ سے تجزیہ و تحلیل کرنے کے بعد اور مذکورہ احادیث میں بہت سخت رویہ اختیار کرنے کے بعد ان کا اعتراف کرتے ھوئے اس طرح کہتے ھیں:

”اس گفتگو کے تمام ھونے کے بعد میرے نزدیک کوئی مانع نھیں ھے کہ خداوندعالم کی بارگاہ میں پیغمبر اکرم (ص)کو وسیلہ قرار دیا جائے، چاھے پیغمبر اکرم کی زندگی میں ھو یا آنحضرت کے انتقال کے بعد “ موصوف اس سلسلہ میں کافی بحث کرنے کے بعد مزید فرماتے ھیں: ”خداوندعالم کی بارگاہ میں پیغمبر کے علاوہ کسی دوسرے سے توسل کرنے میں بھی کوئی ممانعت نھیں ھے، لیکن اس شرط کے ساتھ کہ پیغمبر کے علاوہ جس کو خدا کی بارگاہ میں وسیلہ بنایا جائے اس کا مرتبہ خدا کی نظر میں بلند و بالا ھو۔ [9]

لیکن شیعہ منابع و مآخذ میں وسیلہ اور توسل کا موضوع اس قدر واضح ھے کہ اس کو بیان کرنے کی (بھی) ضرورت نھیں ھے۔

چند ضروری نکات:

(قارئین کرام!) یھاں پر چند نکات کی طرف توجہ کرنا ضروری ھے:

۱۔ توسل اور وسیلہ سے یہ مراد نھیں ھے کہ پیغمبر اکرم (ص)یا ائمہ معصومین علیھم السلام سے کوئی شخص اپنی حاجات طلب کرے ، بلکہ مراد یہ ھے کہ خدا کی بارگاہ میں پیغمبر اکرم (ص)اور ائمہ معصومین علیھم السلام کی عظمت اور بلندی کے ذریعہ متوسل ھو، اور یہ کام درحقیقت خداو ندعالم کی طرف توجہ کرنا ھے، کیونکہ پیغمبر اکرم (ص)کا احترام بھی خداکی وجہ سے ھے کہ آپ خدا کے رسول ھیں، اس کی راہ پر چلے، ان باتوں کے باوجود ان لوگوں پر تعجب ھوتا ھے جو اس طرح کے توسل کو شرک کی ایک قسم کہہ دیتے ھیں جبکہ شرک یہ ھے کہ خدا کی صفات اور اس کے اعمال میں کسی کو شریک مانیں ، جبکہ اس طرح کا توسل شرک سے کوئی شباہت نھیں رکھتا۔

۲۔ بعض لوگوں نے اس بات کی بہت کوشش کی ھے کہ پیغمبر اکرم (ص)اور ائمہ علیھم السلام کی حیات اور وفات میں فرق قراردیں ، حالانکہ مذکورہ روایات جن میں بہت سی روایات وفات کے بارے میں ھیں؛ لہٰذا ان کے پیش نظر مسلمانوں کا عقیدہ یہ ھے کہ انبیاء اور صالحین وفات کے بعد ”برزخی حیات “ رکھتے ھیں جو کہ دنیاوی زندگی سے وسیع تر ھے جیسا کہ شھداء کے بارے میں وضاحت کے ساتھ بیان ھوا ھے کہ ان کو مردہ تصور نہ کرو وہ زندہ ھیں اور خدا کی طرف سے رزق پاتے ھیں۔[10]

۳۔ بعض لوگ اس بات پر اصرار کرتے ھیں کہ پیغمبر اکرم (ص)سے دعا کی درخواست اور خدا کی بارگا ہ میں ان کی عظمت کی قسم دینے میں فرق ھے، لہٰذا دعا کی درخواست کو جائز اور خدا کی بارگاہ میں ان کی عظمت کی قسم دینے کو حرام جانتے ھیں، حالانکہ ان دونوں کے درمیان کسی بھی طرح کا کوئی منطقی فرق دکھائی نھیں دیتا۔

۴۔ بعض علمائے اھل سنت خصوصاً ”وھابی علماء“ اپنی خاص ہٹ دھرمی کی بنا پر کوشش کرتے ھیں کہ وسیلہ اور توسل کے بارے میں بیان ھونے والی تمام احادیث کو ضعیف اور کمزور ثابت کرڈالیں، اس سلسلہ میں بے بنیاد اعتراضات کرتے ھیں جو درحقیقت بہت پرانے ھوچکے ھیں، جن کو مدّ نظر رکھتے ھوئے ایک انصاف پسند انسان یہ محسوس کرتا ھے کہ ان لوگوں نے پھلے اپنا عقیدہ معین کرلیا ھے اور پھر اپنے عقیدہ کو اسلامی روایات پر ”تھوپنا“ چاہتے ھیں، اور ایسا ھی کرتے ھیں اور جو کچھ ان کے عقیدہ کے خلاف ھوتا ھے اس کو چھوڑدیتے ھیں، جبکہ ایک تحقیق کرنے والا محقق انسان اس طرح کی غیر منطقی اور تعصب آمیز بحث کو قبول نھیں کرسکتا۔

۵۔ ھم بیان کرچکے ھیں کہ توسل کے سلسلہ میں بیان شدہ روایات حدّ تواتر تک پھنچی ھوئی ھیں، یعنی اس قدر ھیں کہ ان کی سند میں بحث کی کوئی ضرورت نھیں رہتی، اس کے علاوہ ان کے درمیان بہت زیادہ صحیح روایات بھی ھیں، لہٰذا ان کی اسناد میں اعتراض و اشکال کی گنجائش ھی نھیں رہتی۔

۶۔ ھم نے جو کچھ بیان کیا ھے اس سے واضح ھوجاتا ھے کہ آیہٴ شریفہ کے ذیل میں بیان ھونے والی روایات کا مفھوم یہ ھے کہ پیغمبر اکرم نے اصحاب سے فرمایا: ”خداوندعالم سے میرے لئے ”وسیلہ“ طلب کرو“ یا جیسا کہ اصول کافی میں حضرت علی علیہ السلام سے منقول ھے کہ بھشت میں وسیلہ سب سے بلند و بالا مقام ھے، اور جیسا کہ ھم نے آیت کی تفسیر میں بیان کیا ھے؛ ان کے درمیان کسی طرح کا کوئی فرق نھیں ھے کیونکہ ھم نے بارھا عرض کیا ھے کہ ھر طرح کے تقربِ خدا پر ”وسیلہ“ صادق آتا ھے اور پیغمبر اکرم (ص)کے ذریعے تقرب خداحاصل کرنے کانام وسیلہ ھے جو کہ جنت میں سب سے بلند و بالا مقام ھے۔[11]

[1] سورہ نساء ، آیت ۶۴۔

[2] وفاء الوفاء ، جلد ۳، صفحہ ۱۳۷۱۔ کتاب (التوصل الی حقیقة التوسل میں ، صفحہ ۲۱۵ ،مذکورہ حدیث کو -” دلائل النبوة“ میں بیہقی نے بھی نقل کیا ھے۔

[3] وفاء الوفاء ،صفحہ۱۳۷۲۔

[4] وفاء الوفاء ، صفحہ ۱۳۷۳۔

[5] علم حدیث میں ”حدیث تواتر“ اس حدیث کو کھا جاتا ھے جس کے راویوں کی تعداد اس حد تک ھو کہ ان کی ایک ساتھ جمع ھوکر سازش کا قابل اعتماد احتمال نہ ھو۔ (مترجم)

[6] التوصل الی حقیقة التوسل، صفحہ ۳۲۹۔

[7] التوصل الی حقیقة التوسل، صفحہ ۳۵۳۔

[8] التوصل الی حقیقة التوسل، صفحہ ۳۳۱۔

[9] روح المعانی ، جلد ۴۔۶، صفحہ ۱۱۴۔ ۱۱۵۔

[10] سورہٴ آل عمران ، آیت۱۶۹۔

[11] تفسیر نمونہ ، جلد ۴، صفحہ ۳۶۶۔

27/02/2024

*امام زمانه علیه السلام سے منسوب مقامات*

بعض مقامات امام مہدیؑ سے منسوب ہوئے ہیں اور کہا گیا ہے که شیعہ غیبت کبری کے زمانے میں آپؑ سے راز و نیاز کرنے کے لئے ان مقامات پر حاضر ہوتے ہیں:

*سرداب غیبة*: یه مقام(سامرا میں ہے جو) امام ہادی، امام عسکری اور امام زمانہؑ کی عبادت گاہ رہی ہے۔

*مسجد سہله*: کوفه میں واقع یه مسجد امام زمانہؑ سے منسوب ہے اور اس کے درمیانی حصے میں مقامِ حضرت یونسؑ اور مقامِ حضرت سجادؑ واقع ہے۔ بعض روایات کے مطابق، امام زمانہؑ ظہور کے بعد اسی مسجد میں سکونت پذیر ہوں گے۔
*ذی طُوٰی*: مکه کے ایک علاقے کا نام ہے جو حرم کی حدود میں واقع ہے اور بعض روایات کے مطابق حضرت مہدیؑ اس علاقے میں زندگی بسر کر رہے ہیں اور بعض روایات کے مطابق، آپؑ کا مقام ظہور اور آپؑ کے اصحاب و انصار کے اکٹھے ہونے کا مرکز بھی یہی علاقه ہے۔ ایک روایت میں ہے که امامؑ کے کعبه سے قیام و تحریک شروع کرنے سے قبل، اس علاقے میں اپنے 313 اصحاب کے منتظر ہوں گے۔

*کوہ رضوى*: بعض روایات میں کہا گیا ہے کہ امام زمانہؑ غیبت کے زمانے میں کوہ رضوٰی سکونت پذیر ہیں.مکہ و مدینه کے درمیان ایک پہاڑ ہے۔

*وادی السلام*: جو نجف میں واقع قبرستان کا نام ہے؛ اور اس قبرستان میں ایک مقام "مقام امام زمانہؑ" کے عنوان سے موجود ہے۔ اس مقام پر گنبد و بارگاہ بھی ہے جس کو سندھ کے بادشاہ وقت "سید محمد خان" نے سنه 1310ھ ق میں تعمیر کرایا ہے۔ اس سے قبل والی عمارت تعمیر نو سیدمهدى بحرالعلوم (متوفیٰ سنہ 1212ھ ق) نے کرائی تھی۔ مقام حضرت مہدیؑ کے محراب میں ایک پتھر پایا جاتا ہے جس پر ایک زیارت نامه کندہ کیا گیا ہے۔ اس پتھر پر کندہ کاری کا کام 9 شعبان سنه 1200ھ ق کو مکمل ہوا ہے۔
*جزیرہ خضرا:* یه ایک مقام کا نام ہے جو بعض روایات کے مطابق، امام زمانہؑ کے فرزندوں کا مقام رہائش ہے۔ اس جزیرے کی داستان بعض مآخذ میں مندرج ہے اور اس کے بارے میں دو قسم کی آراء پائی جاتی ہیں؛ بعض نے اس داستان کو قبول کیا ہے اور بعض نے افسانه جانا ہے اور کتب لکھ کر اس پر تنقید کی ہے۔

*طیبه*: یه بھی بعض روایات کی رو سے عصر غیبت میں امام زمانہؑ کے مقام سکونت کے طور پر متعارف کرایا گیا ہے۔ کہا گیا ہے کہ طیبه سے مراد مدینه ہی ہے۔

*مسجد جمکران*: یه مسجد قم کے نواح میں جمکران نامی گاؤں میں واقع ہے اور ایک قول کے مطابق امام زمانہؑ کے حکم پر حسن بن مثله جمکرانی کے ہاتھوں تعمیر ہوئی ہے۔

25/02/2024

*امام زمانہ(ع) کے نام لیتےوقت سر پرہاتھ رکھنے کی علت*

سوال:دیکھنے میں آتا ہے کہ بعض متدین افراد جب ان کے سامنے امام مھدی علیہ السلام کا نام آتا ہے تو احترام مین سر پر ہاتھ رکھ لیتے ہیں، کیا ایسا کسی روایت میں وارد ہوا ہے؟

جواب :شاعر اہل بیت دعبل خزاعی کے مشہور واقعہ میں نقل ہوا ہے کہ جب دعبل نے اپنا مشہور قصیدہ مدارس آیات امام علی رضا علیہ السلام کے سامنے پیش کیا اور امام زمانہ علیہ السلام کی شان میں موجود اس شعر پر پہچے:
خروج امام لا محالہ خارج یقوم علی اسم اللہ والبرکات
تو امام رضا علیہ السلام نے ہاتھ اپنے سر پر رکھا اور امام (ع) کے احترام میں کھڑے ہو گئے اور آپ کے ظہور میں تعجیل کے لیے دعا فرمائی۔

22/02/2024

جب اکبر و عباس کی تصویر بنے گی
معراج کی ایک اور بھی تعبیر بنے گی

اکبر کی ہتھیلی کو خدا خلق کرے گا
اے عرصہ کن پھر تری تقدیر بنے گی

راحل بخاری

19/02/2024

*قرآن میں وقت کی اہمیت کا ذکر*

بےشک انسان کے پاس سب سے نفیس ترین اور سب سے قیمتی چیز وقت ہی ہے ۔ ہم اپنے عمل اور کوشش سے جو بھی حاصل کرنا چاہیں اس کی کامیابی کا راز وقت کے درست استعمال میں ہی پوشیدہ ہے ۔ یہ وقت افراد اور جامعہ دونوں کے لیۓ ایک حقیقی سرمایہ ہے ۔

وقت کی اہمیت کا اندازہ ہم اس سے لگا سکتے ہیں کہ خدا تعالی نے مقدس کتاب قرآن کریم کی ایک سورہ مبارکہ کا نام " العصر " یعنی زمان یا وقت رکھا اور قرآن میں اور بھی جگہوں پر وقت کی قدر کا ذکر ملتا ہے ۔

حدیث نبوی صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم ہے کہ:

" قیامت کے دن انسان کی عمر سے عام طور پر اور اس کی جوانی کے متعلق خاص طور پر پوچھا جاۓ گا کہ یہ کس راستے میں گزاری گئی ۔ "

ایک اور جگہ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم فرماتے ہیں کہ :

" اس سے پہلے کہ مصروف ہو جاؤ فرصت کو غنیمت جانو "

یہ مختصر طور پر بیان کی گئی باتیں وقت کی اہمیت کو ہی تو ظاہر کر رہی ہیں ۔ اس لیۓ یہ ہماری ذمہ داری بنتی ہے کہ خود کو منظم کرتے ہوۓ وقت کا صحیح استعمال کریں ۔

وقت کی خصوصیات

٭ وقت بڑی تیزی کے ساتھ گزر جاتا ہے ۔ وقت ایک تند و تیز ہوا کی مانند ہے جو بادل کی طرح تیزی کے ساتھ گزر جاتا ہے ۔ کبھی یہ خوشی کے ساتھ گزرتا ہے تو کبھی غم کے ساتھ ۔ (نازعات/ یونس)

٭ وقت کبھی لوٹ کر نہیں آتا ہے ۔

٭ انسان کے ہاتھ میں سب سے زیادہ قیمتی چیز وقت کی صورت میں ہی ہے ۔

ہم پر لازم ہے کہ وقت کی ان خصوصیات کو درک کرتے ہوۓ ان کو اپنی زندگی کا کامیابی کے ساتھ حصّہ بنائیں ۔

18/02/2024

*🔴تربیت امام سجاد کی نگاہ میں*

تربیت انسانی حیات کا لازمہ ہے غیر تربیت یافتہ انسان کی معاشرہ میں کوئی قدر و قیمت نہیں ہوتی ، خداوند متعال نے مرسل اعظم حضرت محمد مصطفی صلی اللہ علیہ و الہ وسلم ، دیگر رسولوں اور اماموں کو اخلاق و تربیت کے اعلی ترین درجہ پر فائز کیا ہے ۔

سید الساجدین، زین العابدین، فرزند رسول، امام چھارم حضرت علی ابن الحسین سید سجاد علیہما السلام نے اپنے بیان میں تربیت جو گوشے بیان فرمائے ہیں اس پر عمل سے انسانی معاشرہ گلستان بن سکتا ہے ۔

۱: عَجَباً کُلّ الْعَجَبِ لِمَنْ عَمِلَ لِدارِ الْفَناءِ وَتَرَکَ دارَ الْبقاء ۔ (۱)

مجھے تعجب ہے اُس شخص پر جو دارِ فنا کے لئے تو (خوب) عمل کرتا ہے، مگر دارِ بقا کو چھوڑ دیتا ہے ۔

۲: نَظَرُ الْمُؤْمِنِ فِى وَجْهِ أخِیهِ الْمُؤْمِنِ لِلْمَوَدَّهِ وَالْمَحَبَّهِ لَهُ عِبادَه ۔ (۲)

اپنے برادرِ مومن کے چہرے پر محبت و الفت بھری نگاہ ڈالنا عبادت ہے۔

۳: إنَّ أفْضَلَ الْجِهادِ عِفَّهُ الْبَطْنِ وَالْفَرْج ۔ (۳)

با فضیلت ترین جہاد اپنے شکم اور شرمگاہ کی حفاظت ہے۔

۴: لَوْ یَعْلَمُ النّاسُ ما فِى طَلَبِ الْعِلْمِ لَطَلَبُوهُ وَ لَوْبِسَفْکِ الْمُهَجِ وَ خَوْضِ اللُّجَجِ ۔ (۴)

اگر لوگ طلب علم کی فضیلت سے آگاہ ہو جاتے تو پھر وہ اسکی طلب میں خون بہانے اور گہرے سمندروں میں غوطہ لگانے پر بھی تیار ہو جاتے۔

۵: مَنْ زَوَّجَ لِلّهِ، وَوَصَلَ الرَّحِمَ تَوَّجَهُ اللّهُ بتَاجِ الْمَلَکِ یَوْمَ الْقِیامَهِ ۔ (۵)

جو شخص خوشنودیٔ خدا کے لئے شادی کرے اور اپنے عزیز رشتہ داروں کے ساتھ ناتہ جوڑے رکھے تو خداوند عالم روز قیامت اُسے تاج ملک سے نوازے گا۔

۶: اَلْخَیْرُ کُلُّهُ صِیانَهُ الاْنْسانِ نَفْسَهُ ۔ (۶)

تمام خیر و سعادت اس بات میں ہے کہ انسان اپنے اوپر قابو رکھے۔

۷: سادَةُ النّاسِ فی الدُّنْیا الاَسْخِیاء، وَ سادَةُ الناسِ فی الاخِرَةِ الاَتْقیاء ۔ (۷)

سخی افراد دنیا میں اور تقی (با تقوا) افراد آخرت میں لوگوں کے سید و سردار ہیں۔

۸: کانَ [رسولُ الله] إذا أوَى إلىَ مَنزِلِهِ، جَزَّءَ دُخُولَهُ ثَلاثَةَ أجزَاءٍ: جُزءاً لِلَّهِ، وَجُزءاً لِأهلِهِ، وَجُزءاً لِنَفسِهِ ۔ (۸)

پیغمبر اسلام صلی اللہ علیہ والہ وسلم ارشار فرماتے ہیں : اپنے وقت کو تین حصوں میں تقسیم کرو؛ ایک حصہ اپنے پروردگار کے لئے، ایک حصہ اپنے بال بچوں کے لئے اور ایک حصہ خود اپنے لئے۔

۹: مَا مِن قَطرَةٍ أَحَبُّ إِلَی الله عَزَّوَجَل مِن قَطرَةِ دَمٍ فِی سَبِیلِ الله و قَطرَةِ دَمعَةٍ فِی سَوادِ اللَّیل ۔ (۹)

خداوند عالم دو قطروں کو خوب پسند کرتا ہے: ایک راہ خدا میں بہنے والا خون کا قطرہ اور ایک شب کی تاریکی میں آنکھوں سے بہنے والے آنسو کا قطرہ ۔

(۱۰) مَن عَمِلَ بما افتَرَضَ اللهُ عَلَیهِ فَهُوَ مِن خَیر النَّاس ۔ (۱۰)

جو شخص واجبات خدا پر عمل کرتا ہو، وہ سب سے بہتر و بالاتر شخص ہے۔

(۱۱) الدُّعاءُ یَدفَعُ البَلاءَ النّازِلَ وَما لَم یَنزِلْ ۔ (۱۱)

دعا سے نازل ہو چکی اور نازل ہونے والی، دونوں بلائیں دور ہوتی ہیں۔

(۱۲) الذُّنُوبُ الّتى تُنزِلُ النِّقَمَ عِصیانُ العارِفِ بِالبَغىِ وَ التَطاوُلُ عَلَى النّاسِ وَ الاِستِهزاءُ بهِم وَ السُّخریَّةُ مِنهُم ۔ (۱۲)

تین گناہ ہیں جو نزول عذاب کا باعث بنتے ہیں: شعور و آگاہی کے ساتھ کسی پر ستم کرنا، دوسروں کے حقوق پامال کرنا اور دوسروں کا مذاق اڑانا ۔

(۱۳) آیاتُ الْقُرْآنِ خَزائِنُ الْعِلْمِ، کُلَّما فُتِحَتْ خَزانَةٌ، فَیَنْبَغی لَکَ أنْ تَنْظُرَ ما فیها ۔ (۱۳)

قرآنی آیات علوم کا خزانہ ہیں، جب کبھی کوئی خزینہ کھولا جائے تو اسے خود اچھی طرح ٹٹولا کرو۔

(۱۴) إیّاکَ وَمُصاحَبَةُ الْفاسِقِ، فَإنّهُ بائِعُکَ بِأَکْلَةٍ أوْ أَقَلّ مِنْ ذلِکَ وَإیّاکَ وَمُصاحَبَةُ الْقاطِعِ لِرَحِمِهِ فَإنّى وَجَدْتُهُ مَلْعُونا فى کِتاب ِاللّهِ ۔

فاسق و فاجر شخص کے ساتھ دوستی کرنے سے بچو، کیوں کہ وہ تمہیں چند لقموں حتیٰ ایک لقمے کے عوض فروخت کر دے گا۔اسی طرح عزیز رشتہ داروں سے قطع تعلق کرنے والے کی دوستی سے بھی پرہیز کرو، کیوں کہ میں نے کتابِ خدا میں اُسے ملعون پایا ہے۔

📚حوالہ :
۱: بحارالأنوار: ج 73، ص 127، ح 128

۲: تحف العقول، ص 204، /بحارالأنوار، ج 78، ص 140، ح 3

۳: مشکاۃ الأنوار، ص 157، س 20

۴: اصول کافى، ج 1، ص 35، /بحارالأنوار، ج 1، ص 185، ح 109

۵: مشکاه الأنوار، ص 166

۶: تحف العقول، ص201، /بحارالأنوار، ج 75، ص 136، ح 3

۷: مشکاة الا نوار، ص 232، س 20، /بحارالا نوار، ج 78، ص 50، ح 77

۸: مکارم الأخلاق، ج 1، ص 44

۹: : خصائل الصدوق، ص 50

۱۰:: جهاد النفس ح 237

۱۱: الکافی، ج 2 ، ص 469 ح 5،/میزان الحکمة، ج 2 ، ص 870

۱۲: معانى الاخبار ، ص 270

۱۳: مستدرک الوسائل، ج 4، ص 238، ح 3

۱۴: تحف العقول ص 202، /بحارالا نوارف ج 74، ص 196، ح 26

16/02/2024

*امام علی ابن الحسین علیہ السلام کے القاب*

آپؑ کے القاب اچھا ئیوں کی حکایت کرتے ہیں،آپؑ اچھے صفات ،مکارم اخلاق ،عظیم طاعت اور اللہ کی عبادت جیسے اچھے اوصاف سے متصف تھے، آپؑ کے بعض القاب یہ ہیں :
١۔ *زین العابدین* علیہ السلام
یہ لقب آپؑ کو آپؑ کے جد رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے دیا تھا(جیسا کہ پہلے بھی بیان ہو چکا ہے ) کثرت عبادت کی وجہ سے آپؑ کو اس لقب سے نوازا گیا ۔
(تہذیب التہذیب ،ج ٧،ص ٣٠٦۔شذرات الذہب، ج ١،ص ١٠٤، اور اس میں بیان ہواہے :آپؑ کوزیادہ عبادت کرنے کی وجہ سے یہ لقب دیا گیا)
آپؑ اس لقب سے معروف ہوئے اور اتنے مشہور ہوئے کہ یہ آپؑ کا اسم مبارک ہو گیا ،آپؑ کے علاوہ یہ لقب کسی اور کا نہیں تھا اور حق بات یہ ہے کہ آپؑ ہر عابد کے لئے زینت اور ہر اللہ تعالیٰ کے مطیع کے لئے مایہ فخر تھے ۔
٢. *سیدالعا بدین*
آپؑ کے مشہور و معروف القاب میں سے ایک ”سید العا بدین ” ہے ،چونکہ آپؑ انقیاد اور اطاعت کے مظہر تھے ، آپؑ کے جدامیر المومنین علیہ السلام کے علاوہ کسی نے بھی آپؑ کے مثل عبادت نہیں کی ہے ۔
٣۔ *ذو الثفنات*
آپؑ کو یہ لقب اس لئے دیا گیا کہ آپؑ کے اعضاء سجدہ پراونٹ کے گھٹوں کی طرح گھٹےپڑجاتے تھے ۔
(صبح الاعشی ج ١،ص ٤٥٢،بحرالانساب ورقہ ٥٢،تحفة الراغب ،ص ١٣،اضداد فی کلام العرب ،ج ١،ص ١٢٩،ثمار القلوب، ص ٢٩١)
اور اس میں بیان ہوا ہے :علی بن الحسین علیھما السلام اور علی بن عبد اللہ بن عباس کے لئے کہا جاتا ہے کہ :
زیادہ نمازیں پڑھنے کی وجہ سے ان کے اعضاء سجدہ پر سجدوں کی وجہ سے اونٹ کے گھٹوں کی طرح گھٹے تھے ۔
ابو جعفر امام محمد باقر علیہ السلام فرماتے ہیں :
”میرے پدر بزرگوار کے اعضاء سجدہ پر ابھرے ہوئے نشانات تھے ،جو ایک سال میں دو مرتبہ کا ٹے جاتے تھے اور ہر مرتبہ میں پانچ گھٹّے کاٹے جاتے تھے ، اسی لئے آپ کو ذواالثفنات کے لقب سے یاد کیا گیا ”۔
(علل الشرائع ،ص ٨٨،بحارالانوار، ج ٤٦،ص ٦،وسائل الشیعہ، ج ٤،ص ٩٧٧)
ایک روایت میں آیا ہے کہ آپؑ نے تمام گھٹوں کو ایک تھیلی میں جمع کر رکھا تھا اور آپؑ نے اُن کو اپنے ساتھ دفن کرنے کی وصیت فرما ئی تھی ۔
٤۔سجاد علیہ السلام
آپؑ کے القاب شریفہ میں سے ایک مشہور لقب ”سجاد علیہ السلام ” ہے ۔
(علل الشرائع، ص ٨٨)
یہ لقب آپؑ کو بہت زیادہ سجدہ کرنے کی وجہ سے دیا گیا ،آپؑ لوگوں میں سب سے زیادہ سجدے اور اللہ کی اطاعت کرنے والے تھے حضرت امام محمد باقر علیہ السلام نے اپنے والد بزرگوار کے بہت زیادہ سجدوں کو یوں بیان فرمایاہے :
”بیشک علی بن الحسین علیھما السلام جب بھی خودپرخدا کی کسی نعمت کا تذکرہ فرماتے تو سجدہ کرتے تھے،آپؑ قرآن کریم کی ہرسجدہ والی آیت کی تلاوت کر نے کے بعد سجدہ کرتے ،جب بھی خداوند عالم آپؑ سے کسی ایسی برائی کو دور کرتا تھا جس سے آپؑ خوفزدہ ہوتے تھے توسجدہ کرتے ،آپؑ ہر واجب نماز سے فارغ ہونے کے بعد سجدہ کرتے اور آپؑ کے تمام اعضاء سجود پر سجدوں کے نشانات مو جود تھے لہٰذا آپؑ کو اس لقب سے یاد کیا گیا ”۔
(وسائل الشیعہ، ج ٤، ص ٩٧٧۔علل الشرائع ،ص ٨٨)
ابن حماد نے امام علیہ السلام کے کثرت سجود اور آپؑ کی عبادت کو ان رقیق اشعار میں یوں نظم کیا ہے :
وراهب اهل البيت کان ولم يزل
يلقب بالسجاد علیہ السلام حهن تَعَبُّدِہِ

يقضی بطول الصوم طول نهاره
منيباً ويقض ليله بتهجده

فاين به من علمه ووفائه
واين به من نسکه وتعبده
(المناقب ،ج ٤، ص ١٦٤)
”امام سجاد علیہ السلام پہلے بھی اہل بیت میں عبادت گذار تھے اور اب بھی ہیں عبادت ہی کی بنا پر آپ کو سجاد کے لقب سے یاد کیا جا تا ہے ۔
آپؑ روزہ رکھ کر دن گذار تے ہیں، آپ توبہ کرتے رہتے ہیں اور رات نماز و تہجد میں بسر کرتے ہیں ۔
تو بھلا علم و وفا داری اور عبادات میں آپ کا مقابلہ کو ن کر سکتا ہے ؟”۔
٥۔زکی
آپؑ کو زکی کے لقب سے اس لئے یاد کیا گیا کیونکہ آپؑ کو خداوند عالم نے ہر رجس سے پاک و پاکیزہ قرار دیا ہے جس طرح آپؑ کے آباء و اجداد جن کواللہ نے ہر طرح کے رجس کو دور رکھا اور ایساپاک و پاکیزہ رکھاجو پاک و پاکیزہ رکھنے کا حق ہے ۔
٦۔امین
آپ کے القاب میں سے ایک معروف لقب ”امین ”ہے۔
(فصول مہمہ، مؤلف ابن صبّاغ، ص ١٨٧،بحر الانساب ،ورقہ ص ٥٢،نورالابصار ،ص ١٣٧)
اس کریم صفت کے ذریعہ آپؑ مثل الاعلیٰ ہیں اور خود آپ کا فرمان ہے :
”اگر میرے باپ کا قاتل اپنی وہ تلوار جس سے اس نے میرے والد بزرگوار کو قتل کیا میرے پاس امانت کے طور پر رکھتاتو بھی میں وہ تلوار اس کو واپس کر دیتا ”۔
٧ ۔ابن الخیرتین
آپؑ کے مشہور القاب میں سے ایک لقب ”الخیرتین ” ہے، آپ کی اس لقب کے ذریعہ عزت کی جا تی تھی آپ فرماتے ہیں :’’انا ابن الخيرتين ”،اس جملہ کے ذریعہ آپؑ اپنے جد رسول اسلام صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے اس قول کی طرف اشارہ فرماتے :
”للّٰہ تعالیٰ من عبادہ خیرتان،فخیرتہ من العربھاشم،ومن العجم فارس ”۔
(کامل مبرد ،ج ١،ص ٢٢٢،وفیات الاعیان ،ج ٢،ص ٤٢٩)
شبراوی نے آپؑ کو مندرجہ ذیل ابیات کے ذریعہ اس لقب سے یوں یاد کیا ہے :
‘‘خيرة اللّٰه من الخلق اب
بعد جد وانا ابن الخيرتين

فضة صيغت بماء الذهبين
فانا الفضة وابن الذهبين

من له جدّ کجد فی الوریٰ
اوکأ ب وانا ابن القمرين

فاطمة الزهراء ام واب
قاصم الکفر ببدرٍ و حنين

وله ف يوم احدٍوقعة
شفة الغلّ ببعض العسکرين”
(الاتحاف بحبّ الاشراف، ص ٤٩)
”امام سجاد علیہ السلام علیہ السلام فرماتے ہیں :میرے جد کے بعد میرے والد بزرگوار بہترین مخلوق ہیں جس کی بنا پر میں بہترین افرادکا فرزند ہوں ۔
میں وہ چا ندی ہوں جس کو دو سونے کے پانی سے ڈھالا گیا ہے جس کی بنا پر میں چا ندی ہوں اور دو سونے کا فرزند ہوں ۔
دنیا میں میرے جدکی طرح کس کے جد ہیں یا میرے بابا کی طرح کس کے بابا ہیںاور میں دو چاند کا فرزند ہوں ۔
جناب فاطمہ سلام اللہ علیھا میری والدہ ہیں اور میرے پدر بزرگوار نے بدر و حنین میں کفر کو نابود کیا ۔
جنگ اُحد میں میرے دادا نے بے مثال جنگ کی جس کی بنا پر لشکریانِ کفر کے دلوں میں آپ کا کینہ بیٹھ گیا ”۔
زیادہ احتمال یہ ہے کہ یہ اشعار امام زین العابدین علیہ السلام علیہ السلام کے سلسلہ میں نہیں ہیں کیونکہ یہ آپؑ کی ذات بابرکت میں پائے جانے والے بلندصفات و کمالات کو بیان کرنے سے قاصرہیں۔
(اقتباس از:’’ائمہ اہل بیت (علیھم السلام) کی سیرت سے خوشبوئے حیات‘‘)

15/02/2024

*حضرت ابو الفضل العباس علیہ السلام کا ایک معجزہ*

علامہ جلیل شیخ عبدُالرحیم تستری -رحمۃ اللہ علیہ کہتے ھیں :”میں نے کربلامیں امام حسین علیہ السلام کی زیارت کی، زیارت کے بعدحرم حضرت عباس علیہ السلام میں پہنچاوھاں میں نے دیکھا کہ ایک بدّواپنے بیمار لڑکے کولیکر آیاجس کے پیروں کوفالج کااثرتھا،ضریح حضرت سے اس کوباندھ دیااورروروکردعائیں کرنے لگاتھوڑی دیر گزری تھی کہ بچہ صحیح وسالم ھوکر حرم میں با آوازبلند کہنے لگا:”عباس علمدار نے مجھ کوشفابخشی “لوگوں نے اس کوگھیر لیااور تبرک کے طور پراس کے کپڑے پھاڑ ڈالے،میں نے جس وقت یہ منظردیکھا ضریح کے قریب گیااورحضرت علیہ السلام سے درخواست کی ،کہ آپ نا آشنائے ادب کی دعاؤں کوسن لیتے ھیں اورھماری دعاؤں کوجبکہ ھمیں آپ کی معرفت بھی ھے مستجاب نھیں فرماتے،ٹھیک ھے اب میں آئندہ آپ کی زیارت کے لئے نھیں آؤنگا،بعدمیں مجھے یہ خیال ھواکہ میں نے گستاخی کی ھےخداسے اپنی غلطی کی معافی مانگتارھا،جب میں نجف پہنچا تو استاد بزرگوارشیخ مرتضیٰ انصاری رحمۃ اللہ علیہ میرے پاس تشریف لائے اورپیسوں کی دوتھیلیاں دیتے ھوئے فرمایا: ”لویہ تمھارے پیسے ھیں جوتم نے حضرت عباس علیہ السلام سے طلب کئے تھے ،ایک سے اپنا مکان بنوالواورایک سے حج کرلو“میں نے بھی حضرت سے یھی دوسوال کئے تھے۔
(صحیفہ وفا)

لہٰذااس مقام مقدس پراپنے لئے اورخصوصاََ ھرمومن کے لئے ،زائر کوجناب سکینہ علیھا السلام کا واسطہ دے کردعائیں مانگنی چاہئے۔

آسماں والوں سے پوچھو مرتبہ عباس کا

نام لیتے ھیں ادب سے انبیاء عباس کا

پوری ھوجاتی ھے ھاتھ اٹھنے سے پہلے ھر مراد

مانگ لو دے کر خدا کوواسطہ عباس کا

12/02/2024

*حضرت زینبؑ اور تحفظ اسلام*
اس اللہ کے لیے حمد وثناء ہے جو مخلوقات میں اپنا دامن فضل پھیلائے ہوئے اور اپنا دست کرم بڑھائےہوئے ہے اور ہم تمام امور میں اس سے مدد مانگتے ہیں۔ خدا نے شریعت اسلام کی ترویج کے لیے اپنے پیغمبر ﷺکا انتخاب کیا اور اس کے لئے اسلام کو آخری دین کے طور پر منتخب کیا اور اس کی حفاظت کا ذمہ خود لیا۔ پاک پیغمبرؐ کے بعد اس دین کی حفاظت کی ذمہ داری آئمہؑ کو سونپی،لیکن اگر تاریخ کا مشاہدہ کیا جائے تو ایک اہم چیز جو دیکھنے کو ملتی ہے وہ یہ ہے کہ اسلام کچھ خواتین کا احسان مند نظر آتا ہے۔ان میں سے ایک ہستی جناب زینب سلام اللہ علیہا ہیں آپ سلام اللہ علیہا حضرت زہرا سلام اللہ علیہا کے بعد وہ دوسری ہستی ہیں جن کا نام ہر شخص کی زبان پر آتا ہے۔ آپؑ کی شہامت ،شجاعت فداکاری صبر،اور ظالموں کے سامنے سر تسلیم خم نہ ہونا ذہن میں آتا ہے۔تمام مورخین اس نقظہ پر پہنچے ہیں کہ اگر حضرت زینب سلام اللہ علیہا کربلا میں نہ ہوتیں اور آپ کے خطبے کوفہ اور شام میں نہ ہوتے تو کربلا اس طرح روشن نا ہوتی ،اگر امام حسین علیہ السلام نے اسلام کی حفاظت کے لئے اپنا خون بہایا تو آپ سلام اللہ علیہا نے کربلا کے پیغام اور اسلام کی بقاء اور خونِ حسین علیہ السلام کو قیامت تک کےلیےواضع کر دیا اگر آپ سلام اللہ علیہا کو بطلہ کربلا (کربلا کی شیر دل خاتون) کا لقب دیا گیا تو یہ بے جا نہیں ہے۔ آپؑ زندگی میں بھی مظلومہ تھیں اور رحلت کے بعد بھی مظلومہ ہیں کیونکہ آپ سلام اللہ علیہا کے بارے میں تاریخ میں لکھا اور بتایا گیا ہے لیکن پھر بھی ہم نے اس کو نظر انداز کردیا ہے۔آپؑ نے اسلام کے تحفظ کے لیے اپنا سب کچھ قربان کر دیا اور اسلام کو پھر سے زندہ کر دیا ۔
حضرت زینبؑ اور تحفط اسلام
حضرت زینب سلام اللہ وہ عظیم ہستی ہیں جنہوں نے اسلام کے تحفظ کے لیے سب کچھ قربان کر دیا۔ آپؑ نے اسلام کے خاطر بہت سی مشکلات کا سامنا کیا اور بہت سےمظالم برداشت کیے اپنے عزیز و اقارب کی قربانی دی۔کربلا میں بی بی کی قربانیاں لازوال ہیں۔اس میں سے چند کی طرف اشارہ کیا جارہا ہے:
حضرت زینبؑ تحفط اسلام کی ضامن
عصر عاشور کے بعد حضرت زینبؑ کے لئے مشکل ترین اور مہم ترین کام عاشورا کا پیغام اور حسینی اہداف کوپہنچانا تھاتاکہ شہداء کا خون ضائع نہ جائے۔ بنت الشاطی کا کہنا ہے: حضرت زینبؑ نے واقعہ کربلا کے اثرات کو ابدیت بخشی۔[ بنت الشاطی،حضرت زینب بانوی قہرمان کربلا، ص ۱۲۱]
*حضرت زینبؑ کے خطبے تحفظ اسلام کا ذریعہ*
حضرت زینبؑ کے شعلہ ور خطبوں کو طبرسی، علی ابن طاووس، علامہ مجلسی، عبد اللہ بحرانی، سید محسن امین عاملی اور احمد علی شبلی اور دیگر کافی دانشمندوں نے اپنی کتابوں میں نقل کیاہے۔[ طبرسی،الاحتجاج،ج۲،ص:۲۹؛ طاؤوس،اللھوف، ص۱۷۶، مجلسی بحار الانوار،ج۴۵،ص:۱۰۹و ۱۶۵]

*۱۔خطبہ کوفہ*
حذیم بن بشیر کہتا ہے:” جب قافلہ کوفہ پہنچا مردوں، عورتوں نے گریہ کیا اور گریبان چاک کئے۔”امام زین العابدینؑ ابھی بیماری سے صحت یاب نہیں ہوئے تھے آپؑ نے آہستہ سے فرمایا: انّ هولاء یبکون فمن قتلنا غیرهم یہ ہم پر رورہے ہیں حالانکہ انکے سوا کسی نے ہمیں نہیں مارا ہے۔ [طبرسی ،الاحتجاج،ج۲،ص۲۹؛ بحار الانوار،ج۲، ص۱۶۲]حضرت زینبؑ نے اپنے ہاتھ کا اشارہ کرتے ہوئے فرمایا:خاموش ہوجاؤ! راوی کہتا ہے: خدا کی قسم میں نے اس دن تک کسی خاتون کو اس عفت و حیاء کے ساتھ خطاب کرتے ہوئے نہیں دیکھا تھا ایسے خطبہ دیا جیسے امیرالمومنینؑ خطاب فرمارہے ہوں۔ حضرت زینبؑ نے اپنے سخن کے آغاز میں اپنے ہاتھ سے مردوں کی طرف اشارہ کیا حضرت زینبؑ کے اشارے سے انسان حتی اونٹوں کے گلے میں لٹکی ہوئی گھنٹیوں کی آوازیں بھی آنا بند ہوگئیں۔
"سب تعریفیں خدا وند ذوالجلال اکرم کے لئے ہیں اور درود و سلام ہو میرے نانا محمدؐ پر اور ان کی طیب و طاہر اور نیک و پاک اولاد پر۔ اما بعد! اے اہلِ کوفہ!اے اہل فریب و مکر !کیا اب تم روتے ہو؟ (خدا کرے) تمہارے آنسو کبھی خشک نہ ہوں اور تمہاری آہ و فغاں کبھی بند نہ ہو ۔۔۔ افسوس ہے اے اہل کوفہ تم پر، کچھ جانتے بھی ہو کہ تم نے رسولؐ کے کس جگر کو پارہ پارہ کر دیا؟ اور ان کا کون سا خون بہایا؟ اور ان کی کس حد تک حرمت کی؟ اور ان کی کن مستورات کو بے پردہ کیا؟ تم نے ایسے اعمال شنیعہ کا ارتکاب کیا ہے کہ آسمان گر پڑیں، زمین شگافتہ ہو جائے اور پہاڑ ریزہ ریزہ ہو جائیں۔ تم نے قتلِ امامؑ کا جرم شنیع کیا ہے جو پہنائی و وسعت میں آسمان و زمین کے برابر ہے۔اگر اس قدر بڑے پر آسمان سے خون برسا ہے تو تم تعجب کیوں کرتے ہو ؟ یقیناً آخرت کا عذاب اس سے زیادہ سخت اور رسوا کن ہوگا۔”
پھر بی بیِؑ عالم نے منہ دوسری طرف پھیر لیا۔ راوی کہتا ہے کہ میں نے دیکھا کہ لوگ حیران و سرگرداں ہیں اور تعجب سے انگلیاں منہ میں ڈالے ہوئے ہیں۔کوفہ میں بی بی زینبؑ کے علاوہ امام سجادؑ اور بی بی ام کلثومؑ نے بھی خطبہ دیا ۔

*۲۔شام میں خطبہ*

کوفہ کے بعد اسیران اہل بیتؑ کا لٹا ہوا قافلہ دربارِ یزید کی طرف روانہ ہوا۔ ادھر یزید نے تمام لوگوں کو حاضری کا اذن عام دے رکھا تھا۔ اس لئے دربار، درباریوں اور تماش بینوں سے کھچا کھچ بھرا ہوا تھا۔ سب سے پہلے شہداء کے سر دربار میں پہنچائے گئے اور اس کے بعد اسیران کربو بلا کو دربار میں پیش کیا گیا۔ یہ زینب سلام اللہ علیہا ہی تھیں کہ جنہوں نے آراستہ دربار میں سینکڑوں کے مجمع میں اثبات حق کے لئے اپنے لبوں کو جنبش دی اور فرمایا :شکر ہے عالمین کے رب کا، درود و سلام ہو آل رسولؐ پر، خدائے پاک نے صحیح فرمایا ہے کہ "عم کان عاقبة الذین اباؤ االسوء ان کنبو ابأیات اللّٰه و کانو ايها یستهزئون"برے کام کرنے والوں کا انجام برا ہے کہ ان لوگوں نے آیات خدا کی تکذیب کی اور اس کا مذاق اڑایا۔اے یزید! کیا تو یہ گمان کرتا ہے کہ تو نے ہمارے لئے زمین و آسمان کے دروازوں کو بند کر دیا ہے اور ہم کو غلاموں کی طرح پھرایا ہے تو ہم خدا کے نزدیک ذلیل ہو گئے اور تو ذی وقار ؟ اور اس طرح سے ہم پر تیرا غلبہ ہو گیا، لہٰذا خدا کے نزدیک تیری عزّت اور سر بلندی کے مترادف ہے؟ پس تو نے تکبر کیا اور یہ سمجھ بیٹھا کہ فاتح عالم ہے تھوڑا قدم بڑھا، کیا قول خدا کو بھلا بیٹھا ہے:
ولا یحسبنّ الذین کفروا انّما نملی لهم لیزدادوا انسمأ و لهم عذاب الیهم کافروں کو یہ گمان نہیں کرنا چاہئے کہ ہم نے انہیں مہلت دی اس لئے کہ ہم ان کا بھلا چاہتے ہیں، نہ ! ایسا نہیں ہے، بلکہ ہم نے انہیں مہلت دی تاکہ وہ گناہ زیادہ کریں اور ان کے لئے دردناک عذاب ہے۔
پڑھ کے نہج البلاغہ دنیا میں لوگ اچھے ادیب ہوتے ہیں
تیرے خطبوں کا فیض ہے زینبؑ آج ہم میں خطیب ہوتے ہیں
حضرت زینبؑ نے موقع سے فائدہ اٹھایا آپؑ جانتی تھیں کہ عزاداری کے ذریعے عوام کے جذبات کو برانگیختہ کیا جاسکتا ہے او رشہداء عاشور کا پیغام پہنچایا جا سکتا ہے اور آگاہ کرکے غافلوں کو بیدار کیا جاسکتا ہے اسی وجہ سے آپؑ نے شام میں سات دن تک عزاداری کی شام کی عورتوں نے ان مجلسوں میں شرکت کی ان مجلسوں کے حقائق کے بیان کرنے کا اس قدر اثر ہوا کہ نزدیک تھا کہ لوگ یزید کے محل پر حملہ کرکے اسے قتل کردیں۔ مروان جو اس وقت شام میں تھا وہ خطرے کو بھانپ گیا اس نے یزید سے کہا اھل بیتؑ کو شام میں رکھنا مصلحت کے خلاف ہے جتنا جلدی ہوسکے انہیں مدینہ بھیج دیں یزید نے یہ تجویز قبول کرلی۔[ معالی السبطین، ج۲، ص ۱۷۳ تا ۱۷۵]

*امامؑ وقت کی حفاظت تحفط اسلام کی بنیاد*

جب حضرت زینب ؑنے باقی ماندگان کی سرپرستی کی تو سب سے پہلے امام سجادؑ کی محافظت اور نگہداشت کی اور خورشید امامؑ کی حفاظت کی اس وقت جب امام حسینؑ کا استغاثہ بلند ہواتو عورتوں کی آوازیں بلند ہوئیں اس وقت حضرت علی ابن الحسینؑ مریض تھے بیماری کی شدت سے طاقت نہ تھی کہ تلوار کو اٹھاسکیں لیکن آپؑ اپنے والد بزرگوار کی مدد کے لئے باہر آئے۔[ مجلسی،بحار الانوار، ج ۴۵، ص ۴۶/ کریمی ،جھرمی ،تکرار حماسہ علی در خطبہ حضرت زینب،ص۱۵]جب یزید کی فوج نے امام حسینؑ کے خیام کا رخ کیا تو بچے اور عورتیں بکھرگئیں حضرت زینبؑ نے اپنی توجہ امام سجادؑ سے نہ ہٹائی اور آپؑ مسلسل ان کی حفاظت کرتی رہیں۔
حمید ابن مسلم کہتا ہے: میں نے علی ابن الحسینؑ کو دیکھا آپؑ بستر بیماری پر تھے اور اچانک شمر ایک سنگدل اور آوارہ لوگوں کا گروہ لے کر آگیا اس نے کہا اس بیمار کو قتل نہیں کیا اس لعین نے آپؑ کو قتل کرنےکے لئے آمادگی ظاہر کی اور شمر نے اپنی تلوار باہر نکالی اس وقت حضرت زینبؑ نے خود کو آپؑ پر گرادیا اور فرمایا خدا کی قسم تم اس کو قتل نہیں کرسکتے جب تک مجھے قتل نہ کرو گے۔[ بحرانی،العوالم،ص۳۰۶]
امام سجادؑ نے فرمایا: میری آنکھیں ان پاک جسموں کی وجہ سے جو زمین پر پڑے ہیں ان کے لئے گریان ہیں یعنی رورہی ہیں یہ منظر میرے لئے گران اور بہت سخت تھا۔ میں بہت زیادہ ناراحت تھا اس طرح کہ میں ان کے نزدیک جاتا تو میری جان نکل جاتی میری پھوپھی میری طرف متوجہ ہوئی اور مجھ سے فرمایا:اے میرے جد و بابا اور میرے بھائی کے باقی ماندہ کیوں اپنی جان کی بازی لگاتے ہو۔
میں نے کہا کس طرح میں بے تاب نہ ہوں درحالی کہ میرےاپنے بھائی، چچا،چچازادے اورہمارے رشتہ دار خاک پرخون میں غلطاں ہیں ان کے لباس لوٹ لئے گئے ہیں کوئی نہیں آرہاہے کہ ان کو دفن کریں جیسے یہ لوگ کافر ہیں حضرت زینبؑ نے فرمایا:” آپؑ پریشان نہ ہوں یہ عہدہ رسولؐ خدا اور میرے بابا کی طرف سے آپ کے لئے ہے خداوند نے ایک گروہ کو مقرر کیا ہے کہ جو آئیں گے اور ان پاک اجسام کی تجہیز و تدفین کریں گے اور یہ چاہنے والوں کے لئے جو دورو نزدیک سے ہوں گے ان کے جمع ہونے کی جگہ بن جائے گا۔[ جعفر بن قولویہ قمی،کامل الزیارات، ص۴۴۵ ؛ مجلسی،بحارالانوار،ج۴۵،ص ۱۷۹]
*اہل بیتؑ کا ابن زیاد کے دربار میں وارد ہونا*
پس اہل بیتؑ ابن زیاد کے دربار میں وارد ہوئے تو اس نے امامؑ کو مخاطب کرکے کہا: آپ کون ہیں حضرتؑ نے فرمایا: علی ابن حسینؑ ہوں۔ ابن زیاد نے کہا مگر خداوند نے علی ابن حسینؑ کو کربلا میں قتل نہیں کیا؟حضرتؑ نے فرمایا میرا بھائی تھا جس کا نام علیؑ تھا اس کو لوگوں نے شہید کیا ابن زیاد نے کہا بلکہ خدا نے اسے قتل کیا۔ حضرتؑ نے فرمایا :” اللّٰه یتوفی الانفس حین موتہا"[سورہ زمر ،آیت ۴۲]
خدا کسی کو اس کی موت کے وقت مارتا ہے ابن زیاد غضب ناک ہوا اور کہا آپ ابھی بھی جواب دینے کی جرات رکھتے ہیں جلاد سے کہا لے جاؤ اور اس کی گردن کو کاٹ دو۔اچانک حضرت زینبؑ آئی اور علی ابن الحسینؑ کو پکڑا اور فرمایا: واللّٰه ما افارقه فان قتلته فاقتلنی معه خداکی قسم میں ان سے جدا نہیں ہوں گی اگر ان کو قتل کرنا چاہتے ہو تو مجھے بھی ان کے ساتھ ہی قتل کردو۔[ سلیمان ،قندوزی حنفی، ینابیع المودہ، ج۳، ص ۸۷]ابن زیاد نے ایک نظر حضرت زینبؑ اور امام زین العابدینؑ کی طرف کی اور کہا کہ میں حیران ہوا ” کتناتعجب ہے رشتہ داری کی محبت نے زینبؑ کے ساتھ کیاکیا ہے؟ جو اس جوان کی محبت میں جان نچھاور کرنے پر بھی تیار ہے۔ میرا دل چاہتا کہ ان دونوں کو قتل کروں!لیکن اس کے مرنے کے لئے اس کی بیماری ہی کافی ہے۔ [شیخ مفید، الارشاد، ص ۱۱۶]حضرت زینبؑ نے اس اقدام سے دشمنوں کے آسیب سے امام زین العابدینؑ کی حفاظت کی۔
*حضرت زینبؑ کا حقیقی وظیفہ واقعہ کربلا*
ڈاکٹر بنت الشاطی کہتی ہیں: میری نظر میں حضرت زینبؑ کا حقیقی وظیفہ واقعہ کربلا کے بعد شروع ہوا وار آپؑ موظف بنی کہ بنی ہاشم کے وہ مرد جو اس دنیا سے چلے گئے ہیں ان کی اولاد کی سرپرستی کی اور ان کی حمایت و نگہداری کی آپؑ نے جوان امام زین العابدینؑ کہ جو مریض تھے ان کا بھی دفاع کیا اور ایسا دفاع کیا کہ اگر حضرت زینبؑ نہ ہوتیں تو آپؑ کا سرتن سے جدا کردیتے اور آپؑ کے قتل ہونے سے کوئی امام حسینؑ کی نسل سے باقی نہ رہتا اور دوسرا وظیفہ یہ تھا کہ خون شہداء کی حفاظت کریں تاکہ ان کا یہ قیام ضائع نہ ہوجائے اگر کہے کہ حضرت زینبؑ کی ماموریت کربلا کے بعد شروع ہوئی اور وہ تھا بھی کہ اس واقعہ کےاثرات کو ابدیت بخشی اورگمان نہ کریں کہ مبالغہ ہوا ہے یا فضول کوئی بات ہے۔[ بنت الشاطی، قہرمان کربلا، ص۸]
دشمنوں سے مقابلہ ، قیام کودوام بخشنا اور دین کی بقاء
حضرت امام حسین علیہ السلام کے قیام اور تحریک کے کچھ مقاصد و اہداف تھے کہ جو کربلا کے بعد زندہ رہنے والوں کی ذمہ داری تھی کہ ان اہداف کو زندہ رکھیں۔ یہ واضح ہے کہ اہم ترین ہدف اس واقعہ کے حالات کو لوگوں تک پہنچانا ہے تاکہ لوگ اس عظیم واقعہ کربلا اور حضرت امام حسین علیہ السلام کی شہادت سے وہ مطالب حاصل کریں جو مقصد امام حسین علیہ السلام ہے تاکہ حضرتؑ کی تحریک اور قیام زندہ رہ سکے اور آپؑ کی شہادت کو اس واقعہ کی انتہا فرض نہ کی جائے بلکہ اس کو ایک کامیابی کی نگاہ سے دیکھا جائے اور اس شعار ” شمشیر پر خون کامیاب ہے” کو اپنے قیام کا ادامہ دینے کا سرمشق قرار دیا جائے۔
عقیلہ بنی ہاشمؑ ان افراد میں سے تھیں کہ جنہوں نے اس عظیم ذمہ داری اور رسالت کو اپنے کاندھوں پر اٹھایا ، ان کے بھائی حضرت امام حسین علیہ السلام کی شہادت نے نہ صرف یہ کہ آپؑ کی ہمت اور حوصلہ کو کمزور نہیں کیا بلکہ اس کے برعکس، حضرت امام حسین علیہ السلام کا خون حضرت زینبؑ کی رگوں میں جوش مارنے لگا اور تشنہ لب و مظلوم کے بدن مبارک کے زخم ایک شعلہ ور آگ کی مانند بھڑک اٹھے کہ جس سے قیام و تحریک کے مقاصد کو حرارت اور حیات نصیب ہوئی۔آپؑ نے اس عظیم ذمہ داری کو وہاں سے شروع کیا کہ جب مقتل میں اپنے بھائی کے لاشے کے ٹکڑے ٹکڑے دیکھے اور ان کو اپنی آغوش میں لیا اور فرمایا:«اللّٰهمَّ تقبَّل مِنَّا هذا القُربانَ »؛ پروردگارا! ہماری اس قربانی کو قبول فرما۔[ شاکری، حسین. العقیله و الفواطم ص۶۱]
اس دلسوز منظر کے دیکھنے کے بعد تمام عالم میں ہرزمان و ہرمکان میں حضرت زینبؑ کا یہ نغمہ گونج اٹھا اور حضرت امام حسین علیہ السلام کی راہ کو دوام بخشنے، حیات ابدی دینے اور ظالم و ستمگاروں سے مقابلہ کرنے کا راستہ ہمیشہ ہمیشہ کے لیے ہموار ہو گیا اس طرح اسلام کا تحفط ممکن ہوا۔

*نتیجہ*
عقیلہ بنی ہاشم حضرت زینب سلام اللہ علیہانے اہل بیت علیہم السلام کی آغوش میں اس طرح سے تربیت پائی تھی کہ جس کی وجہ سے واقعہ کربلا کے مظالم نے آپؑ کے عزم و ارادے سست اور حوصلے کمزور نہیں ہوئے۔آپؑ نےایک صاحب اقتدار سفیر کی طرح ایک عظیم کردار کو نبھایا اور عاشورا کے ابدی پیغام کو آئندہ کی نسل تک پہنچایا۔شاعر کیا خوب کہتا ہے: "اسلام زندہ ہوتا ہے ہر کربلا کے بعد”
تبلیغات و پروپیگنڈہ ، دشمن کے نقشوں کو ملیامیٹ کرنا اور اہداف کی محافظت جیسے عظیم کارنامے تھے کہ جو حضرت زینب سلام اللہ علیہا نے بہت ہی حسن و خوبی کے ساتھ انجام دیے۔ آپؑ نے اپنے سیاسی کردار سے دنیا والوں کو یہ بتادیا کہ اسلام کی نظر میں، جہاد اور سیاسی فعالیت و کارکردگی صرف مردوں سے مخصوص نہیں ہے، بلکہ خواتین بھی اس میدان میں مردوں کے دوش بدوش حصہ لے سکتی ہیں اور اپنی حیثیت کے مطابق کردار ادا کرسکتی ہیں۔آپؑ نے دم توڑتے دین کو پھر سے زندگی دی اور اسلام کے تحفط میں اپنا ایک اہم کردار ادا کیاآپؑ نے اسلام کو تا قیامت تک آنے والوں کے لیے زندہ کردیا۔ یہ واقہ کربلا کا ہی اثر تھا کہ اسلام ایک دفعہ پھر زندہ ہوا۔

Address

Chiniot

Telephone

+923213222536

Website

Alerts

Be the first to know and let us send you an email when Hassan Raza Alvi Official posts news and promotions. Your email address will not be used for any other purpose, and you can unsubscribe at any time.

Share