Islamic Quotes

Islamic Quotes اس پیج پر آپکو اسلامی اور اصلاحی پوسٹس ملے گی ۔۔ اس پیج پر آپ کو اسلامی ویڈیوز ، اسلامی اور اصلاحی پوسٹس ملے گی ۔۔

19/08/2026
قومِ عاد کا تکبر: وہ طاقتور عمالقہ جنہیں ایک چیختی ہوئی ہوا نے تنکوں کی طرح اڑا دیا! - بلال شوکت آزادکیا آپ تصور کر سکتے...
09/08/2026

قومِ عاد کا تکبر: وہ طاقتور عمالقہ جنہیں ایک چیختی ہوئی ہوا نے تنکوں کی طرح اڑا دیا! - بلال شوکت آزاد

کیا آپ تصور کر سکتے ہیں کہ دنیا کی ایک ایسی سپر پاور، جس کے باشندے اپنے جسمانی قد کاٹھ اور طاقت کے نشے میں اتنے اندھے ہو چکے تھے کہ طوفانوں کے سامنے کھڑے ہو کر کائنات کو چیلنج کرتے تھے... صرف چند دنوں میں ایک غیر مرئی، ٹھنڈی اور چیختی ہوئی ہوا کے ہاتھوں خشک تنکوں کی طرح ریزہ ریزہ کر دی گئی؟

طوفانِ نوحؑ کے بعد جب دنیا کی نئی آبادی پھیلی، تو عمان اور یمن کے درمیان "الاحقاف" کے ریگزاروں میں قومِ عاد ابھری۔

یہ قوم تاریخ کی سب سے طاقتور، جثہ ور اور ممتاز قوم تھی۔

انہوں نے پہاڑوں کو تراش کر بلند و بالا محلات اور ستون تعمیر کیے، جس کی گواہی قرآنِ مجید سورت الفجر (آیات 6-8) میں یوں دیتا ہے:

"أَلَمْ تَرَ كَيْفَ فَعَلَ رَبُّكَ بِعَادٍ ۞ إِرَمَ ذَاتِ الْعِمَادِ ۞ الَّتِي لَمْ يُخْلَقْ مِثْلُهَا فِي الْبِلَادِ"
(کیا آپ نے نہیں دیکھا کہ آپ کے رب نے عاد کے ساتھ کیا کیا؟ ارم، جو اونچے ستونوں والے تھے، جن کی مثل دنیا کے شہروں میں پیدا نہیں کی گئی)۔

لیکن اس بے مثال جسمانی اور معاشی طاقت نے ان کے اندر تکبر کی ایسی آگ بھڑکائی کہ وہ رب کے نبی حضرت ہود علیہ السلام کا استہزاء کرنے لگے اور فخر سے بول اٹھے:

"مَنْ أَشَدُّ مِنَّا قُوَّةً"
(ہم سے زیادہ طاقتور کون ہے؟ - سورت فصلت: 15)۔

[یہاں علمی دیانت اور اسما الررجال کی چھلنی سے حقائق کو پرکھنا لازمی ہے]۔

قدیم تفاسیری روایات اور تاریخ کی کتابوں میں قومِ عاد کے قد کاٹھ کے بارے میں جو یہ دعوے ملتے ہیں کہ ان میں سے ایک ایک شخص سو (100) یا چار سو (400) ہاتھ لمبا تھا، وہ پورا پہاڑ اکھاڑ کر فوج پر پھینک دیتے تھے، یا ارم شہر خالص سونے اور زمرد کی اینٹوں سے بنا ایک خیالی شہر تھا، یہ تمام داستانیں خالصتاً "اسرائیلیات" ہیں!

آئمہِ نقدِ حدیث (مثلاً حافظ ابن کثیرؒ اور امام طبریؒ) نے واضح کیا ہے کہ یہ روایتیں وہب بن منبہ اور کعب الاحبار کی نقل کردہ پرانی اسرائیلی کہانیاں ہیں۔

نصِ قرآن اور صحیح احادیث سے صرف اتنا ثابت ہے کہ وہ اپنے زمانے کی دیگر تمام اقوام کے مقابلے میں غیر معمولی طور پر مضبوط، بلند قامت اور طاقتور انسان تھے، مگر وہ کوئی فرضی دیو یا غیر انسانی مخلوق نہیں تھے۔

جب ان کا ظلم اور شرک حد سے بڑھ گیا، تو رب کا غضب ایک بظاہر معصوم سیاہ بادل کی صورت میں ان کی وادیوں کی طرف بڑھا۔

انہوں نے سمجھا کہ یہ بارش کا بادل ہے، مگر وہ بارش نہیں، بلکہ غضبِ الٰہی کا کوڑا تھا۔

قرآنِ مجید سورت الحاقہ (آیات 6-7) میں اس دردناک عذاب کا نقشہ یوں کھینچتا ہے:

"وَأَمَّا عَادٌ فَأُهْلِكُوا بِرِيحٍ صَرْصَرٍ عَاتِيَةٍ ۞ سَخَّرَهَا عَلَيْهِمْ سَبْعَ لَيَالٍ وَثَمَانِيَةَ أَيَّامٍ حُسُومًا"
(اور رہے عاد، تو وہ ایک چیختی ہوئی، تیز و تند ہوا سے ہلاک کر دیے گئے، جسے اللہ نے ان پر مسلسل سات راتیں اور آٹھ دن مسلط رکھا)۔

وہ ہوا اتنی شدید، یخ بستہ اور ہولناک تھی کہ اس نے ان کے دیوہیکل اجسام کو زمین سے اکھاڑ کر یوں پٹخا جیسے کھجور کے کھوکھلے تنے پڑے ہوں۔

ان کی تمام تر انجینئرنگ اور طاقت کی فرعونیت اس ہوا کے ایک جھونکے کے سامنے بھی نہ ٹھہر سکی۔

قومِ عاد کی یہ بھیانک داستان ہمیں ایک کڑوا سبق دیتی ہے۔

جب قومیں اپنی ٹیکنالوجی، اونچی عمارتوں اور ملٹری پاور کے زعم میں آ کر کمزوروں پر ظلم ڈھاتی ہیں اور خالقِ کائنات کی حدوں کو پامال کرتی ہیں، تو رب کو انہیں مٹانے کے لیے کسی ایٹم بم یا فوج کی ضرورت نہیں ہوتی۔

وہ ہوا کے اسی جھونکے کو، جس سے ہم سانس لیتے ہیں، عذاب کا تازیانہ بنا دیتا ہے۔

آج کے جدید انسان کو بھی الاحقاف کے ان ریت کے ٹیلوں کو دیکھ کر اپنا احتساب کرنا چاہیے کہ عروج پر پہنچی تہذیبوں کا زوال کتنی خاموشی اور ہولناکی سے آتا ہے۔

Address

Mohallah Raja Wali District Chiniot
Chiniot
35400

Website

Alerts

Be the first to know and let us send you an email when Islamic Quotes posts news and promotions. Your email address will not be used for any other purpose, and you can unsubscribe at any time.

Shortcuts

Share