23/08/2021
اصل حقائق: چناری 10 محرم کو کیا ہوا؟
اگست 21, 2021
چناری 10 محرم کو کیا ہوا؟
اشتیاق جی۔
طالبان کی طرف سے افغانستان کے اہل تشیع کو جان و مال اور اپنے عقیدے کے مطابق مذہبی سرگرمیاں جاری رکھنے کی یقین دہانی کروائی گئی ہے۔ طالبان کہتے ہیں ہم داعش کے طرح اہل تشیع کی مخالف نہیں۔ گذشتہ دنوں طالبان نمایندوں نے کابل میں اہل تشیع کی مجلس میں شرکت سے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ کہیں اہل تشیع کو تکلیف پہنچی تو امارت اسلامی ایکشن لے گی۔
اتحاد بین المسلمین کا بہترین نمونہ پیش کرتے ہوئے طالبان نے شیعہ برداری کے ساتھ مل کر لنگر بھی کھایا۔ لیکن اذادکشمیر میں داعش سوچ رکھنے والے کالعدم تنظیم سپاہ صحابہ کے کچھ شرپسند عناصر جو اتحاد بین المسلمین کو پارہ پارہ کرنے کے لئے کوشاں پیں۔ مقتدر حلقے ان پر نہ صرف نظر رکھیں بلکہ ان کے خلاف ایکشن لیں۔
سوشل میڈیا پر یکطرفہ طور پر بہت کچھ لکھا جا چکا ہے ، اہل تشیع کے ذمہ دران کے پاس ویڈیوز اور فوٹوز ہونے کے باوجود بھی خاموشی کا مقصد صرف جہلم ویلی کے خطے کے امن کو برقرار رکھنے کی بہترین کوشش ہے
لیکن میں ریاست کا شہری، صحافی اور عینی شاہد ہونے کے ناطے مجھے پولیس کی حکمت عملی اور رویہ پر سخت تشویش ہے۔ تمام حقائق آپ کے سامنے رکھ رہا ہوں اب فیصلہ آپ نے کرنا ہے کہ زیادتی کس کی ہے۔
اپنی سیاسی اور مسلکی وابستگی کو ایک طرف رکھ کر اپنے ضمیر اور خدا کی عدالت میں فیصلہ کریں۔ تاکہ کل کہیں آپ سے کاروبار یا کسی بھی معاملہ میں آپ سے کوئی بھی زیادتی ہو تو خدا بزرگ وبرتر کی ذات آپ کو بھی انصاف سے سربلند فرمائے۔۔
جہلم ویلی والے جانتے ھیں کہ کچھا میں ہر سال جہلم ویلی کے مختلف علاقوں سے لوگ جلوس یا انفرادی طور پر یہاں ۔ ضلع کے مرکزی جلوس میں شریک ہوتے ہیں۔
اس بار جب بانڈی سیداں چکوٹھی سائیڈ سے آنے والا یہ جلوس جب چناری سے گذرا تو ایک گاڑی پیچھے رہ گئی۔
بازار میں سپاہ صحابہ کے کچھ شرپسندوں نے صحابہ کے ترانے لگا کر پلاننگ کے ساتھ راستہ روکا، کافر کافر شیعہ کافر کے نعرے لگائے گاڑی روک کر بندوں کو بھی مارا اور اس گاڑی کا توڑ پھوڑ کر کے کچھ نقصان کیا۔ اگئے جانے والے کچھ لوگ واپس ائے، اس دوران کالعدم تنظیم سپاہ صحابہ ایک شرپسند نے پستول نکال لی۔ جس سے حالات مزید کشیدہ ہوگئے۔ مقامی تھانہ کی پولیس نفری پہنچی ، پستول کا لائسینس طلب کرنے اور شرپسندوں کو روکنے یا گرفتار کرنے کے بجائے پولیس نے شرکاء جلوس کو دھکے دیکر وہاں سے نکلنے پر زور دیا۔ یہ معاملہ وقتی طور پر رفع دفع ہوا۔
میں اس وقت کچھا میں تھا ، وہاں حیدری سکاوٹس اور سول ڈیفنس، بڑے ڈسپلن کے تحت جلوس کو رواں دواں کر رہے تھے ۔ سڑک کے کنارے پر رسی ہاتھوں میں پکڑ کر ٹریفک کا راستہ بحال رکھا۔ اور ٹریفک اپنے معمول پر چلتی رہی۔ لیکن جونہی یہ خبر جلوس میں پہنچی ، جلوس کے شرکاء مشتعل ہوئے،اور سڑک احتجاجی طور پر بند کر دی گئی۔ پولیس انتظامیہ بار بار کہا گیا کہ شیڈول کے تحت جلوس کے اختتامی وقت تک اگر FIR درج نہ کی گئی تو تمام شرکاء جلوس چناری جائیں گے ، اور وہاں FIR درج ہونے تک دھرنا دیں گے۔ اور نتائج کی ذمہ دار انتظامیہ ہوگی۔
انتظامیہ کو متعدد بار یہ باور کروایا گیا کہ آپ کاروائی کریں ، ہم جلوس شیڈول کے مطابق ختم نہیں کریں گے ، بلکہ چناری جائیں گے۔
ایس پی ریاض مغل نے انتظامیہ افسر کے بجائے سیاسی لیڈروں والا اعلان کیا کہ جلوس کی مقررہ حدود سے ایک قدم بھی آگے گئے، تو میری لاش سے گذر کر جانا ہوگا۔ ایس پی صاحب نے یہ بھی فرمایا کہ جہاں میں کھڑا ہو جاوں وہاں زمین کانپتی ہے۔ میں ایس پی صاحب کے قریب کئی بار کھڑا رہا، وہاں زمیں تو نہیں کانپی البتہ ایس پی صاحب کی ہٹ دھرمی اور بے بسی دیکھنے والی تھی۔ کیونکہ دونوں فریق اپنے اپنے موقف پر ڈٹے ہوئے تھے۔ حقیقت میں شرکاء جلوس اور پولیس کا تصادم ، پولیس کی نااہلی غلط انتظامی حکمت عملی اور ایس پی جہلم ویلی کی ہٹ دھرمی اور اناء کی وجہ سے ہوا۔ حالانکہ ایسی صورتحال میں انتظامیہ کی ذمہ داری بڑھ جاتی ہے کہ وہ نہ صرف اپنے اہلکاروں کی جان بلکہ ریاستی باشندوں کی سلامتی کو بھی یقینی بنانے کے
لئے جاندار رول پلے کریں۔
ایس پی ریاض مغل سے متعدد جلوس انتظامیہ کمیٹی سے مذاکرات ہوتے رہے ایس پی کا یہ ہی موقف رہا کہ آپ جلوس کو مقررہ راستے پر واپس لیکر جائیں۔ جلوس کے اختتام پر وہ تھانے جائیں گے اور FIR درج کریں گے، اسی دوران ایس پی نے چکار ، ہٹیاں اور دیگر سٹیشن سے بھی پولیس کی نفری منگوا لی۔ ایک جنگ کا ماحول بنا دیا گیا۔ جلوس کی واپسی ہوئی ، جلوس نہ رکا۔ میں نے اوپر غلط حکمت عملی کا ذکر کیا ہے۔ مجھے پچھلے 20 سال سے روس ہی نہیں بلکہ کئی پورپی ممالک اور امریکہ میں مختلف مظاہرے کوریج
کرنے کا موقع ملا، لیکن جس قدر نان پروفیشنلزم اذادکشمیر پولیس کا دیکھنے کو ملا، ایسا کھبی کہیں نہیں دیکھا۔ مثال کے طور پر جلوس روڈ چھوڑ کر پہاڑی پر چڑھ کر نہیں جائے گا۔ ایس پی صاحب نے اپنے پولیس کے شیر جوان پہاڑیوں پر چڑھا دئے۔ سڑک پر چند اہلکار ہونے کی وجہ سے بآسانی شرکاء جلوس فرنٹ لائن کراس کر گئے ، جب تک پولیس پہاڑوں سے نیچے اتر کر آئی قافلہ چل پڑا ، راستے میں پولیس والوں کی دوڑیں لگی رہیں لیکن وہ کہیں بھی جلوس کو روکنے میں کامیاب نہ ہوسکے۔
دوسری بات یہ کہ آنسو گیس کا استعمال ایسے میں حماقت کا مظاہرہ کیا گیا ۔ پولیس نے ڈیفنس کے لئے 2 دستے لگائے ، ایک بالکل مظاہرین کے سامنے تھا جب کہ دوسرا ان کے پیچھے کچھ فاصلے پر تھا۔انسوگیس کا شعل جب پیچھے والے دستے نے ماتمی جلوس پر پھینکنےکی کوشش کی وہ آنسو گیس کا گولا جلوس کے بجائے پولیس کے پہلے دستے پر آلگا، جسکی وجہ سے خود پولیس میں بھگدڑ مچ گئی اور انھوں نے بچوں بزرگوں اور نوجوانوں کو تشدد کا نشانہ بنایا پولیس نے جب جلوس پر پتھر برسائےوہ پتھر بھی بعض ماتمی جلوس کے شرکاء نے پولیس پر واپس پھینکے۔ اور ماتمی پولیس کے دونوں حصار توڑنے میں کامیاب ہوئے۔
اب آپ ہمارے ملک کے سٹریم میڈیا پر این این آئی کی ایک خبر جو21 اپریل2021ء کو شائع ہوئی، جسکے مطابق چناری ونواحی علاقو ں میں پبلک ٹرانسپورٹ ،لوکل گاڑیوں پرکالعدم جماعت کی تشہیری سرگرمیاں جاری ،لوکل گاڑیوں پر صحابہ کرام ؓ کے نام کنندہ کیئے جانے لگے ، اختلافی نام فرقہ واریت کی آگ بڑھکانے لگے ، بڑے سانحہ کا خدشہ ، اصلاح واحوال پر مشتعل ہجوم نے پولیس اہلکاروں کو تھپڑ رسید کردئیے ،
کیا گزشتہ سال تھپڑ رسید کرنے والوں پر کوئی مقدمہ بنا؟ اسی طرح این این آئی مزید رپورٹ کرتی ہے کہ مشتعل افراد کی ایماء پر اے ایس آئی چناری قربانی کا بکرا بن گیا ، ایس پی ہٹیاں بالا نے مخصوص مشتعل ہجوم کے دبائو سے راہ فرار اختیار کرتے ہوئے فرض شناس اہلکار اے ایس آئی چوہدری بشیر کو معطل کردیا ، چناری اور گردونواح میں پبلک ٹرانسپورٹ ،لوکل ٹیکسوں پر فرقہ واریت کو ہوا دینے کے لیے کالعدم صحابہ کے جھنڈوں پر کنندہ صحابہ کرام ؓ کے ا ختلافی ناموں کو مٹانے کے لیے پولیس کے حکم کے بعد مشتعل افراد کے احتجاج پر ایس پی جہلم ویلی نے تھانہ چناری میں تعینات اے ایس آئی کو معطل کرتے ہوئے تبدیل کردیا ۔
این این آئی کی تفصیلات کے مطابق 20 اپریل کو تھانہ چناری میں تعینات اے ایس آئی چوہدری بشیر نے پولیس حکام کی ہدایت پر بازار میں ایک کھڑی ٹیکسی کے مالک کو صحابہ کرامؓ کے اختلاف پیدا کرنے والے نام گاڑی سے مٹانے کا کہا جس کے بعد چند لوگوں نے احتجاج شروع کردیا مشتعل افراد نے سرینگر مظفرآباد روڈ اور بازار زبردستی بند کرواتے ہوئے تھانہ چناری کا گھیرائو شروع کردیاحالات کشیدہ ہوتے ہی ایس پی جہلم ویلی ریاض مغل،اسسٹنٹ کمشنر عبدالقادر پولیس کی نفری کے ہمراہ چناری پہنچے جہاں پر انھوں نے مشتعل مظاہرین سے مذاکرات کیے اور تھانہ چناری میں تعینات اے ایس آئی چوہدری بشیر کو قربانی کا بکرا بناتے ہوئے معطل کرکے چناری سے تبدیل کردیا جس کے بعد مشتعل افراد نے احتجاج کو ختم کردیاعوامی حلقوں کا کہنا ہے کہ اے ایس آئی نے کس کے حکم پر یہ کارروائی کی آخر کیوں ان ناموں کو مٹانے کی ضرورت پیدا ہو گئی کوئی بھی پولیس آفیسر یا اہلکار اپنے سینئر کے حکم کے بغیر ایسا نہیں کرسکتا ہے اس معاملہ کی اعلی سطحی تحقیقات ہونی چاہیے تانکہ اصل حقائق عوام کے سامنے آپائیں یاد رہے کہ چناری اور گردونواح میں چلنے والی ٹیکسوں پرصحابہ کرامؓبعض متنازعہ ناموں کے تحریر کیے جانے کے باعث اہل تشیع کو اعتراض رہا اور وہ ہمیشہ فرقہ واریت کا سبب بننے والی تحریروں پر پابندی کا مطالبہ کرتے رہے ہیں شاہد یہی وجہ تھی کہ 20 اپریل 2021 کو انتظامیہ نے گاڑیوں پر متنازعہ تحریروں کو ہٹانے کی ہدایات دیں جس کے بعد کالعدم تنظیم سے تعلق رکھنے والے بعض افراد نے احتجاج شروع کردیا اور انتظامیہ اپنی رٹ بحال رکھنے میں ناکام ہو کر کالعدم تنظیم کے سامنے ڈھیڑ ہو گئی اور انھوں نے الٹا پولیس کے ہی اہلکاروں کے خلاف کارروائی کردی۔
۔20 اپریل 2021 کی تفصیلات آپ نے پڑھیں ، اس بار اس سے قبل بھی اس ساری بدامنی کے پیچھے ایک گھر اور ایک علاقے کے چند افراد ہیں۔ چناری گل برادرز کی دکان ان فتنوں کا جڑ ہے۔ آپ سوچ سکتے ہیں کہ 2018 سے ہونے والے تمام واقعات میں یہ مٹھی بھر لوگ ریاستی انتظامیہ کو یرغمال بنا لیتے ہیں انتظامیہ ان کو Protection and Space فراہم کرتی ہے ۔ آج دہشت گردی کے بنائے گے یہ مقدمات ماضی میں کیوں نہ بنائے گئے؟ جب کالعدم تنظیموں نے پولیس اہلکاروں کو تھپڑ اور جوتے مارے؟
ڈپٹی کمشنر، ایس پی جہلم ویلی،اسسٹنٹ کمشنر ،ڈی ایس پی کی قیادت میں پولیس نے انھیں ساون کے قریب روکنے کی کوشش کی ماتمی جلوس کے شرکاءکی جانب سے نہ رکنے پر پولیس نے ہوئی فائرنگ بھی کی اور آنسو گیس،لاٹھی چارج کیا جس کے نتیجہ میں سید مراد حسین،ایک نوجوان سید حسیب، کو پولیس اہلکار نے بندوق کا دستہ دانتوں پر دے مارا، اس نوجوان کے ہونٹ کٹ گئے اور 4 دانت ٹوٹ گئے، خون کا فوارہ بلند ہوا ، چند نوجوان پولیس پر چڑھ دوڑے، سید سرمد شاہ اور سید علی حیدر زخمی ہو گئے شرکاءجلوس پر پولیس کی جانب سے آنے والے پتھر واپس پولیس پر پھینکنے سے اور کسی زنجیر زن کے وار سے ایس ایچ او چکار راجہ یاسر اور ایس پی جہلم ویلی کے گن مین جمیل عباسی زخمی ہو گئے ایس ایچ او چکار راجہ یاسر علی خان کو بی ایچ یو چناری میں ابتدائی طبعی امداد دینے کےمظفرآباد ریفر کردیا گیا،
ایس ایچ او راجہ یاسر ، سمت تمام پولیس اہلکاروں کو تشدد کا نشانہ بنانے قابل افسوس ہے مگر وردی اور اسٹارز کی طاقت کے نشے میں بدمست ایس پی ریاض مغل جن کو جونیئر ہونے کے باوجود بھی سابق حکومت نے ترقیاب کیا اور ایس ایچ او راجہ یاسر سابق وزیر اعظم کے خاص آدمی اور ان کے رشتہ دار ہیں دونوں نے نہ اپنی وردی کا نہ محرم کے جلوس کا احیاء کیا ایسی بازاری زبان اور ننگی گالیوں کا استمال کیا کہ اس سے اگر شرکاءجلوس میں صبر اور علم والے لوگ نہ ہوتے صورتحال مذید بگڑ سکتی تھی۔
ضرورت اس امر کی ہے کہ اذادکشمیر پولیس کو اخلاقی ، قانونی اور معاشرتی دائرے میں رہ کر اپنی خدمات دینے کے کورسز کروائیں جائیں۔ ان کو بتایا جائے یہ وردی عوام کے خادم کی ہے حاکم کی نہیں۔ انہیں آنسو گیس سمیت عوام کو تشدد کے بغیر ہینڈل کرنے کے لئے تیار کیا جائے۔
اس دوران جلوس کے سینکڑوں شرکاءتمام تر رکاوٹیں توڑ کر چناری پہنچ گئے جہاں پر انھوں نے سرینگر مظفرآباد روڈ پر واقع مین پل پر دھرنا دے دیا کئی گھنٹے تک جاری رہنے والے دھرنے کے دوران چناری بازار مکمل طور پر بند رہا انتظامیہ اور شرکاءجلوس کے دوران مذاکرات کامیاب ہونے کے بعد رات گئے دھرنا ختم ہونے کے بعد شرکاءدھرنا گھروں کو روانہ ہو گئے بعد ازاں تھانہ پولیس چناری نے جمعہ کے روز دو مختلف مقدمات درج کیے پہلا مقدمہ بانڈی سیداں سے کچھا جانے والے جلوس کے ساتھ تلخ کلامی کرنے کے الزام پر نثار گل،آفتاب گل اور عدیل کے خلاف زیر دفعات 341,506,160,درج کیا گیا جبکہ دوسرا مقدمہ پولیس پر حملہ کے الزام پر ماتمی جلوس کے شرکاءپر انسداد دہشت گردی ایکٹ 6 اے ٹی اے سمیت 147,148,149,160,353,186,324,اور337 پی سی کی دفعات کے تحت عمران شاہ ،شفاعت شاہ، اور دلدار شاہ سمیت چالیس نامزد اور 300/310 نامعلوم افراد کے خلاف درج کیا گیا ہر دو اطراف سے تاحال کسی کی بھی گرفتاری عمل میں نہیں لائی گئی ۔
وزیراعظم پاکستان، چیف آف آرمی سٹاف اور پاکستان کی تمام انتظامی فورسز ، ،چیف سیکرٹری ،آئی جی آزاد کشمیر اور انٹیلیجنس سروسز کو اذادکشمیر پولیس کا قبلہ درست کرنے کے لئے کردار ادا کرنا ہوگا۔ ایک طرف
مقبوضہ کشمیر میں محرم کے دوران عزاداری کے جلوسوں پر گزشتہ 30سال سے پابندی عائد ہے لیکن اس سال حکومت نے اعلان کیا تھا کہ عاشورہ اور اس سے قبل عزاداروں کو جلوس نکالنے کی اجازت دی جائے گی۔تاہم عاشورہ کے موقع پر کشمیر میں سیکورٹی پابندیاں نافذ کی گئیں اور کئی مقامات پر عزاداروں نے جلوس نکالنے کی کوشش کی تو اُن پر آنسو گیس کے گولے داغے گئے اور لاٹھی چارج کیا گیا۔
اور دوسری طرف اذادکشمیر چناری میں پولیس کا کردار اور ماتمی جلوس کے شرکاءپر انسداد دہشت گردی ایکٹ 6اے ٹی اے پولیس کی بدنیتی اور بددیانتی کا ٹھوس ثبوت ہے۔
ماضی میں بھی کئی بار اہل تشیع مسلک کے بچوں اور نوجوانوں پر فیس بک پر کمنٹس کرنے کے جرم میں مقدمات درج کئے جاتے رہے ، اگست 2018 اور مئی 2020 میں چند تو سلاخوں کے پیچھے بھی رہے ہیں۔ جبکہ مذھبی منافرت اور انتظامیہ کی پروٹیکشن کی انتہا یہ ہے کہ ایک عرصہ سے جہلم ویلی روڈ پر چلنے والی گاڑیوں کے پیچھے ایسے جملے لکھ ہوئے ہیں جو اہل تشیع کے جذبات ابھارتے ہیں انہیں جواب دینے پر مجبور کرتے ہیں۔ پھر ان پر توہین صحابہ کے مقدمات آسانی سے بنا دئے جاتے ہیں۔ کس کو نہیں پتہ کہ امیر معاویہ کے بارے میں شیعہ کیا سوچ رکھتے ہیں، کیوں متنازعہ باتوں پر چاکنگ کرکے ریاست اور معاشرے کا ماحول خراب کیا جاتا ہے؟
شیعہ کی بات چھوڑیں میں نے مودودی صاحب کی کتاب خلافت و ملوکیت پڑھی، وہ تو شیعہ نہیں تھے پھر ان کو گستاخ صحابہ کا فتوی کیوں نہیں دیا جاتا؟
کٹھائی اور دیگر دور دراز علاقوں میں کافر کافر شیعہ کافر کی چاکنگ پر بھی انتظامیہ نے انکھوں پر پٹی باندھ رکھی ہے۔
قابل اجمیری نے شاید جہلم ویلی کے لئے یہ کہا ہو کہ :
وقت کرتا ہے پرورش برسوں
حادثہ ایک دم نہیں ہوتا
کیا آپ ریاست کے ان بچوں پر جو ماتمی جلوس میں انصاف کی سارا دن خاندان اہلیبیت پر ظلم پر آنسو نوحے اور صدائیں بلند کرتے رہے ان کو دہشت گرد سمجھتے ہیں؟
کیا ایس پی ریاض مغل کو نہیں معلوم کہ انسداد دہشت گردی ایکٹ 6اے ٹی اے کی دفعہ کیا ہوتی ہے؟
سب پتہ ہے حقیقت میں یہ سابقہ حکومت کے منظور نظر پولیس اہلکار جہنوں نے5 سال خوب موج مستی کی نہ اساتذہ کو چھوڑا نہ وکلاء کو اور نہ ہی سیاسی اور سوشل حکومتی مخالفین کو یہاں تک کہ رکشے اور ریڑھی والے بھی پولیس گردی سے محفوظ نہیں رہے۔
آذادکشمیر میں حکومت تبدیلی کے بعد انہیں اپنے کئے کا پتہ تھا ڈرے ہوئے اور احتساب کے نام سے کانپنے والے اہلکاروں کا محاسبہ تو ہونا ہی چاہئے تھا لیکن سونے پر سہاگہ یہ ہوا کہ نئی حکومت نے احتساب کے بجائے تبادلوں اور انکوائری پر پابندی لگا کر ان کو پھر ریاستی باشندوں پر ظلم و ستم جاری رکھنے کی کھلی
چھٹی دے دی۔
جہلم ویلی پولیس چند اہلکار اپنی ڈیوٹی پر
اپنی مسلکی اور سیاسی وابستگی کو حاوی کرکے جب اس طرح کا رول ادا کریں گے تو اس سے نہ صرف ریاست کا چہرہ داغدار ہوگا بلکہ سرحد پار کشمیریوں کو بھی اچھا پیغام نہیں ملے گا۔ سوشل میڈیا پر خاموشی کے حوالے سے کل میری ایک ماتمی جلوس میں شامل نوجوان سے بات ہوئی انہوں نے کہا کہ ہم بھرپور کوشش کر رہے ہیں کہ یہ ویڈیوز سوشل میڈیا پر نہ جائیں، تاکہ کسی دشمن ملک کو زہر اگلنے کا موقع نہ مل سکے۔
جہلم ویلی میں اس واقعہ کے بعد سخت کشیدگی پائی جاتی ہے جہلم ویلی میں مذہبی منافرت کی روکنے کے لیے ٹھوس اقدامات کرنے پولیس اہلکاروں کو شامل تفتیش کرتے ہوئے کاروائی کی ضرورت ہے۔
کالعدم سپاہ صحابہ کے چند شرپسندوں اور ان کو شیلٹر فراہم کرنے والے اہلکاروں پر انسداد دہشت گردی ایکٹ 6ATA کی دفعہ لگائی جائے۔ تاکہ دوبارہ کوئی بھی پولیس اہلکار اپنی وردی کا ناجائز فائدہ اٹھا کر ریاست مخالف کسی بھی کاروائی کا نہ حصہ بنے، اور نہ ہی ذات مفادات اور وابستگی کو قومی مفاد پر ترجیح دے۔
اعلی حکام کو اس بات کا بھی نوٹس لینا چاہئے کہ فرد واحد کی زاتی خواہش پر پولیس دو فریقین کے مابین انصاف کے تقاضے پورے کرنے کے بجائے تیسرا فریق کیسے بن گئی؟
ضروت اس امر کی ہے کہ علاقہ کے امن کے لئے تمام مسالک نمایندوں پر مشتمل ایک امن کمیٹی بنائی جائے ، جو اس طرح واقعات کی روک تھام کرنے کے لئے متحرک کردار ادا کرے۔
گذشتہ کئی سالوں سے جہلم ویلی میں ہونے والے واقعات کے محرکات کو سامنے لاتے ہوئے مذہبی منافرت پھیلانے والوں کے خلاف سخت ترین کارروائی عمل میں لائی جائے اگر جہلم ویلی میں مذہبی منافرت پھیلانے والوں کے خلاف سخت ترین کارروائی عمل میں نہ لائی گئی تو کسی بھی وقت کوئی بڑا سانحہ رونما
ہو سکتا ہے