انجمن نورِ مدینہ چونڈہ

انجمن نورِ مدینہ چونڈہ اسلامی معلوماتی پوسٹ، احادیث، ترجمہ قرآنی آیات
اور نعت خوانی و دیگر اسلامی تہوار میں عاشقانِ رسول ﷺ کا محبتوں بھرا اجتماع

السلام علیکم!سنتِ ابراہیمی و اسماعیلی کی یاد "عید الاضحٰی" دل کی اتھاہ گہرائیوں سے مبارک ❤
28/06/2023

السلام علیکم!
سنتِ ابراہیمی و اسماعیلی کی یاد "عید الاضحٰی" دل کی اتھاہ گہرائیوں سے مبارک ❤

مدینہ تا کربلا سفر کے ایامامام حسین رضی اللہ تعالیٰ عنہ کا قیام، ـ 26 رجب 60 ھ میں یزید کی بیعت کے انکار سے 10 محرم الحر...
31/07/2022

مدینہ تا کربلا سفر کے ایام
امام حسین رضی اللہ تعالیٰ عنہ کا قیام، ـ 26 رجب 60 ھ میں یزید کی بیعت کے انکار سے 10 محرم الحرام 60 ھ عاشور کے دن آپ کی شہادت تک ـ 162 دن تک جاری رہا:

بیعت سے انکار کے بعد مکہ کی طرف ہجرت تک 7 دن؛
4 مہینے اور 5 دن مکہ میں قیام کیا؛
23 دن کی مدت مکہ سے کربلا تک سفر میں صرف ہوئی؛
2 محرم سے 10 محرم تک کربلا میں قیام کیا۔
اگر سفر اسراء اور قیام شام نیز 20 صفر 61 ھ تک واپس کربلا آمد کے مجموعی کم از کم 40 دن اور واپس مدینہ پہونچنے کے 20 ایام اضافہ کیے جائیں تو قافلہ حسینی کا کل سفر کم از کم 222 دن سے زیادہ کا ہو گا۔

اسلامی تقویم کے پہلے مہینے محرم کے دوران میں حسین رضی اللہ تعالیٰ عنہ اور ان کے بچوں، کنبہ اور ساتھیوں کی سالانہ یاد منائی جاتی ہے۔ جس دن انہیں شہید کیا گیا عاشورہ (محرم کی دسویں تاریخ یومِ عاشور کے نام سے جانا جاتا ہے )۔ حسین علیہ السلام کے اعمالِ کربلا بعد میں شیعہ تحریکوں کے لیے ایندھن بنے حسین رضی اللہ تعالیٰ عنہ کی زندگی اور شہادت کا وقت انتہائی اہم تھا کیونکہ وہ ساتویں صدی کے سب سے مشکل دور میں تھے۔ اس وقت کے دوران میں، یزیدی مظالم زور پکڑ گئے تھے اور حسین رضی اللہ تعالیٰ عنہ اور ان کے حواریوں نے جو موقف اختیار کیا، وہ مظالم اور ناانصافیوں کے خلاف آئندہ کی بغاوت کو متاثر کرنے والی مزاحمت کی علامت بن گیا۔ پوری تاریخ میں، نیلسن منڈیلا اور مہاتما گاندھی جیسی متعدد قابل ذکر شخصیات نے ظلم کے خلاف حسین رضی اللہ تعالیٰ عنہ کے موقف کو مثال کے طور پر پیش کیا ہے کہ وہ ناانصافی کے خلاف اپنی لڑائی لڑتے رہے ہیں۔

حسین رضی اللہ تعالیٰ عنہ حق تھے حق ہیں...

"یا حسین ابنِ علی رضی اللہ تعالیٰ عنہ آپ پر لاکھوں سلام''

نوٹ: اس پوسٹ میں اگر کوئی غلطی کوتاہی ہوئی ہو تو حضرت انسان سمجھ کر تصحیح فرما دیں..

مزید ایسی اسلامی تاریخی معلومات کیلئے ہمارے پیج کو لائک فالو اور شیئر کریں جزاك اللہ خیراً
#انجمن #نور #مدینہ #چونڈہ

انجمن نورِ مدینہ چونڈہ
29/07/2022

انجمن نورِ مدینہ چونڈہ

18/05/2022
صبح ہو مدینے میں شام ہو مدینے میں زندگانی کا سفر تمام ہو مدینے میں #صبح بخیر
22/12/2021

صبح ہو مدینے میں شام ہو مدینے میں
زندگانی کا سفر تمام ہو مدینے میں
#صبح بخیر

چلو دیارِ نبی کی جانب درود لب پر سجا سجا کربہار لوٹیں گے ہم کرم کی دلوں کو دامن بنا بنا کرنہ اُن کے جیسا سخی ہے کوئی نہ ...
21/12/2021

چلو دیارِ نبی کی جانب درود لب پر سجا سجا کر
بہار لوٹیں گے ہم کرم کی دلوں کو دامن بنا بنا کر

نہ اُن کے جیسا سخی ہے کوئی نہ اُن کے جیسا غنی ہے کوئی
وہ بینواؤں کو ہر جگہ سے نوازتے ہیں بلا بلا کر

جو شاہکار انکی یاد کے ہیں امانتاً عشق نے دیے ہیں
چراغِ منزل بنیں گے اک دن رکھو وہ آنسو بچا بچاکر

ہماری ساری ضرورتوں پر کفالتوں کی نظر ہے انکی
وہ جھولیاں بھر رہے ہیں سب کی کرم کے موتی لٹا لٹا کر

وہ راہیں اب تک سجی ہوئی ہیں دلوں کا کعبہ بنی ہوئی ہیں
جہاں جہاں سے حضور گزرے ہیں نقش اپنا جما جما کر

کبھی جو میرے غریب خانے کی آپ آکر جگائیں قسمت
میں خیر مقدم کے گیت گاؤنگا اپنی پلکیں بچھا بچھا کر

تمہاری نسبت کے میں تصدق اساسِ عظمت ہے یہ تعلق
کہ انبیاء سرخرو ہوئے ہیں سرِ اطاعت جھکا جھکا کر

ہے ان کو امت سے پیار کتنا کرم ہے رحمت شعار کتنا
ہمارے جرموں کو دھو رہے ہیں حضورﷺ آنسو بہا بہا کر

میں ایسا عاصی ہوں جس کی جھولی میں کوئی حسنِ عمل نہیں ہے
مگر وہ احسان کر رہے ہیں خطائیں میری چھپا چھپا کر

یہی اساسِ عمل ہے میری اسی سے بگڑی بنی ہے میری
سمیٹتا ہوں کرم خدا کا نبی کی نعتیں سنا سنا کر

وہ آئینہ ہے رُخِ محمدﷺ کہ جس کا جوہر جمالِ رب ہے
میں دیکھ لیتا ہوں سارے جلوے تصور انکا جما جما کر

کبھی تو برسے گا ابرِ رحمت کبھی تو جاگے گی میری قسمت
کچھ اشک تیار کر رہا ہوں میں سوزِ الفت بڑھا بڑھا کر

میں تیرے قربان میرے ساقی رہے نہ ارمان کوئی باقی،
مجھے محبت کا حوصلہ دے نظر سے اپنی پلا پلا کر

مٹانے والے ہی مٹ گئے ہیں کہ تیرے سائے میں پل رہے ہیں
یہ تجربہ کر چکی ہے دنیا ہمیں ابھی تک مٹا مٹا کر

اگر مقدر نے یاوری کی اگر مدینے گیا میں خالد
قدم قدم خاک اس گلی کی میں چوم لوں گا اُٹھا اٹھا کر

صَلَّى ﷲُ علیہ واٰلِہٖ وَبَارِکْ وَسَلِّمْ
انجمن نورِ مدینہ چونڈہ

السلام علیکم!
13/12/2021

السلام علیکم!

10/12/2021

السلام علیکم!

توہین رسالت قانون (معترضین کے دلائل)تعارفپاکستان پینل کوڈ میں شق 295 تا 298 کو "قانون توہینِ مذہب" (Blasphemy Law) کہا ج...
04/12/2021

توہین رسالت قانون (معترضین کے دلائل)

تعارف
پاکستان پینل کوڈ میں شق 295 تا 298 کو "قانون توہینِ مذہب" (Blasphemy Law) کہا جاتا ہے۔ اس کی شق 295-C "توہین رسالت" کے متعلق ہے۔

سن 1987 سے لے کر 2014 تک 1300 سے زائد افراد پر توہین مذہب کے الزامات لگ چکے ہیں اور ان میں اکثریت غیر مسلموں مذہبی اقلیتوں کی ہے۔

اب تک 60 سے زائد گرفتار شدہ افراد کو توہین کے الزام میں مقدمہ ختم ہونے سے قبل ہی ماورائے عدالت قتل کیا جا چکا ہے۔

معترضین حضرات پاکستان پینل کوڈ میں موجود توہین رسالت سے متعلق شق 295-C پر اس حوالے سے تنقید کرتے ہیں کہ:

1۔ چھوٹی سی چھوٹی بات پر بھی اس قانون کے تحت قتل کی سزا ہو جاتی ہے۔

2۔ موجودہ قانون کے تحت عفو و درگزر اور توبہ کی کوئی گنجائش نہیں اور ہر صورت میں قتل کی سزا ہے۔

3۔ عدالت نے بہت سے لوگوں کو 8 تا 10 سال بعد جا کر ان الزامات سے باعزت بری کیا۔ مگر اس دوران میں ان لوگوں کی زندگیاں تباہ ہو چکی تھی۔ چنانچہ ضمانت پر رہائی ممکن ہونی چاہیے۔

4. جھوٹا الزام لگانے والوں کے لیے فقط 6 ماہ کی سزا اور تھوڑا سا جرمانہ ہے۔

جناب ابو ہریرہ کی والدہ کا توہین رسالت کا واقعہ
معترضین حضرات کی طرف سے یہ واقعہ بطور دلیل پیش کیا جاتا ہے کہ جب حضرت ابو ہریرہ کی والدہ نے جب محمد صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کی شان میں گستاخانہ کلمات کہے تو اس پر حضرت ابو ہریرہ نے انہیں قتل نہیں کیا اور نہ ہی محمد صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے اس کا پتا چلنے پر انہیں قتل کرنے کا حکم دیا۔ بلکہ محمد صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے ان کی والدہ کے لیے ہدایت کی اللہ سے دعا فرمائی۔

” صحیح مسلم، کتاب فضائل الصحابہ:
حضرت ابو ہریرہ کہتے ہیں کہ میں اپنی والدہ کو جو مشرکہ تھیں قبول اسلام کی تلقین کیا کرتا تھا ، چنانچہ ایک دن میں نے ان کو ( معمول کے مطابق ) اسلام قبول کرنے کی تلقین کی تو انہوں نے رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی شان اقدس کے متعلق ايك ايسى بات كہی جو مجھے ناگوار گزری بلکہ میں تو اب بھی اس کو نقل کرنے کوگوارا نہیں کرتا۔ میں ( اس بات سے مغموم اور رنجیدہ ہو کر کہ انہوں نے میرے سامنےایسے الفاظ زبان سے نکالے ہیں اور ماں ہونے کی ودہ سے میں ان کی تادیب بھی نہیں کر سکتا ) روتا ہوا رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں حاضرہوا اور عرض کیا کہ یار سول اللہ ! اب تو آپ ہی اللہ سے دعا فرما دیجئے کہ ابو ہریرہ کی ماں کو ہدایت عطا فرمائے ، آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے دعا فرمائی ۔ اے اللہ ! ابو ہریرہ کی ماں کو ہدایت عطا فرما ! میں محمد صلی اللہ علیہ وسلم کی دعاسے بڑی خوش آیند امید لے کر ( بارگاہ نبوت سے ) واپس لوٹا اور جب اپنی والدہ کے گھر کے دروازہ پر پہنچا تو دیکھا کہ دروازہ بند ہے ، لیکن میری والدہ نے میرے قدموں کی آواز سن لی تھی انہوں نے ، ( اندر سے آواز دے کر کہا کہ ابو ہریرہ ! وہیں ٹھہرو ( یعنی ابھی گھر میں نہ آؤ ) پھر میں نے پانی گر نے کی آواز سنی میری والدہ نے غسل کیا ، کپڑا پہنا اور مارے جلدی کے دوپٹہ اوڑھے بغیر دروازہ کھول دیا اور ( مجھے دیکھ کر ) کہا ، میں گواہی دیتی ہوں کہ اللہ کے سوا کوئی معبود نہیں اور گواہی دیتی ہوں کہ محمد صلی اللہ علیہ وسلم اللہ کے بندے اور اس کے رسول ہیں ۔ میں یہ دیکھتے ہی کہ میری پیاری ماں کو ہدایت مل گئی اور انہوں نے اسلام قبول کر لیا ، الٹے پاؤں لوٹا اور خوشی کے آنسو گراتا ہوا رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے خدمت میں حاضر ہوا ، آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے اللہ کی تعریف کی اور میری والدہ کے اسلام پر شکر ادا کیا اور اچھا فرمایا ۔

بوڑھی عورت کے کوڑا پھینکنے کا واقعہ
یہ واقعہ پاکستان کی ہر نصابی کتاب کا حصہ ہے کہ محمد صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے ایک مسلسل گستاخی کرنے والی غیر مسلم بوڑھی عورت کو قتل کرنے کی بجائے اس سے اچھا سلوک رکھا اور ایک دن اسی سلوک سے متاثر ہو کر وہ بوڑھی عورت مسلمان ہو گئی۔ مگر موجودہ قانون کے حامی حضرات کا دعوی ہے کہ یہ روایت کسی معتبر کتاب میں موجود نہیں۔ہے۔ چنانچہ اب ایسے مطالبات سامنے آ رہے ہیں کہ اس واقعہ کو پھر نصابی کتب سے ختم کر دینا چاہیے۔

طائف کا واقعہ
معترضین حضرات کی طرف سے طائف کا واقعہ بھی بطور دلیل پیش کیا جاتا ہے۔ بوڑھی عورت والے واقعہ پر ایک اعتراض یہ ہوتا ہے کہ اُس وقت اسلام مکمل طور پر غالب نہ تھا اس لیے بوڑھی عورت کو قتل نہیں کیا گیا۔ مگر طائف کا یہ واقعہ اس کی تردید کر رہا ہے۔ طائف میں محمد صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم مغلوب نہ تھے بلکہ جبرئیل ان کی مدد کے لیے آ گئے تھے اور آپ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم سے اجازت طلب کرتے تھے کہ ایک دفعہ اجازت دیجئے تو ان اہل طائف پر عذاب الہی نازل فرمایا جائے۔ مگر محمد صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے اہل طائف کا مارا جانا پسند نہ کیا اور مسلسل اللہ سے ان کی ہدایت کی دعا کرتے رہے۔

” صحیح بخاری، کتاب بدء الخلق:
حضرت عائشہ سے روایت ہے کہ انہوں نے ایک (دن ) عرض کیا یا محمد صلی اللہ علیہ وسلم کیا احد کے دن سے بھی زیادہ سخت کوئی دن آپ صلی اللہ علیہ وسلم پرگذرا ہے ؟ آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم نے (حضرت عائشہ کا یہ سوال سن کر)فرمایا :تمہاری ا س قوم کی طرف سے جو صورت حال پیش آئی تھی وہ احد کے دن سے کہیں زیادہ مجھ پر سخت تھی اوریہ عقبہ کے دن کا واقعہ ہے جب میں نے تمہاری اس قوم سے ایسی سخت اذیتیں اٹھائیں جن سے زیادہ سخت اذیتیں ان کی طرف سے عمر بھر مجھے کبھی نہیں پہنچیں ہوا یہ تھا کہ میں اس دن ابن عبد یا لیل ابن کلال کے پاس پہنچا (اور اس کو اسلام قبول کرنے کی تلقین کی ) لیکن اس نے میری (تلقین پر کوئی توجہ نہیں دی اور میں رنجیدہ وغمگین اپنے منہ کی سیدھ میں چل پڑا یہاں تک کہ قرن ثعالب پہنچ کر میرے حواس قابومیں آئے ،میں نے اپنا سر اوپر اٹھایا تو کیا دیکھتا ہوں کہ ایک ابر کا ٹکڑا ہے جو مجھ پر سایہ کئے ہوئے ہے اورپھر اچانک میری نظر اس ابر کے ٹکڑے میں جبرئیل علیہ السلام پر پڑی ۔جبرئیل علیہ السلام نے مجھے مخاطب کیا اورکہا کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے پروردگار نے آپ صلی اللہ علیہ وسلم کی قوم کی بات سن لی اوراس کا وہ جواب بھی سن لیا جو اس نے آپ صلی اللہ علیہ وسلم کو دیا ہے اور اب اس (پروردگار )نے آپ صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں پہا ڑوں کے فرشتہ کو اس لئے بھیجا ہے کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم اپنی قوم کے بارے میں جو چاہیں حکم صادر فرمائیں ۔آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا :اس کے بعد پہاڑوں کے فرشتہ نے مجھ کو (یانبی !یامحمد !کہہ کر )مخاطب کیا اورسلام کرکے کہا کہ اے محمد صلی اللہ علیہ وسلم اللہ تعالیٰ نے آپ صلی اللہ علیہ وسلم کی قوم کی بات سن لی ہے ،میں پہاڑوں کا فرشتہ ہوں ،مجھ کو آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے پروردگار نے آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے پروردگار نے آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس اس لئے بھیجا ہے کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم مجھے اپنے فیصلہ کی تعمیل کاحکم دیں ،اگر آپ صلی اللہ علیہ وسلم فرمائیں تو میں آپ صلی اللہ علیہ وسلم کی قوم کے لوگوں پر ان دونوں پہاڑوں اخشبین کو الٹ دوں رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے (یہ سن کر ) فرمایا (میں ان کی ہلاکت کا خواہاں نہیں ہوسکتا )بلکہ میں تو یہ امیدرکھتا ہوں کہ اللہ تعالیٰ ان کی نسل میں سے ایسے لوگ پیدا فرمادے جو صرف اسی ایک خدا کی عبادت کریں اورکسی بھی چیز کو اس کا شریک قرار نہ دیں۔

” صحیح بخاری، کتاب بدء الخلق:
حضرت عائشہ سے روایت ہے کہ انہوں نے ایک (دن ) عرض کیا یا محمد صلی اللہ علیہ وسلم کیا احد کے دن سے بھی زیادہ سخت کوئی دن آپ صلی اللہ علیہ وسلم پرگذرا ہے ؟ آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم نے (حضرت عائشہ کا یہ سوال سن کر)فرمایا :تمہاری ا س قوم کی طرف سے جو صورت حال پیش آئی تھی وہ احد کے دن سے کہیں زیادہ مجھ پر سخت تھی اوریہ عقبہ کے دن کا واقعہ ہے جب میں نے تمہاری اس قوم سے ایسی سخت اذیتیں اٹھائیں جن سے زیادہ سخت اذیتیں ان کی طرف سے عمر بھر مجھے کبھی نہیں پہنچیں ہوا یہ تھا کہ میں اس دن ابن عبد یا لیل ابن کلال کے پاس پہنچا (اور اس کو اسلام قبول کرنے کی تلقین کی ) لیکن اس نے میری (تلقین پر کوئی توجہ نہیں دی اور میں رنجیدہ وغمگین اپنے منہ کی سیدھ میں چل پڑا یہاں تک کہ قرن ثعالب پہنچ کر میرے حواس قابومیں آئے ،میں نے اپنا سر اوپر اٹھایا تو کیا دیکھتا ہوں کہ ایک ابر کا ٹکڑا ہے جو مجھ پر سایہ کئے ہوئے ہے اورپھر اچانک میری نظر اس ابر کے ٹکڑے میں جبرئیل علیہ السلام پر پڑی ۔جبرئیل علیہ السلام نے مجھے مخاطب کیا اورکہا کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے پروردگار نے آپ صلی اللہ علیہ وسلم کی قوم کی بات سن لی اوراس کا وہ جواب بھی سن لیا جو اس نے آپ صلی اللہ علیہ وسلم کو دیا ہے اور اب اس (پروردگار )نے آپ صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں پہا ڑوں کے فرشتہ کو اس لئے بھیجا ہے کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم اپنی قوم کے بارے میں جو چاہیں حکم صادر فرمائیں ۔آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا :اس کے بعد پہاڑوں کے فرشتہ نے مجھ کو (یانبی !یامحمد !کہہ کر )مخاطب کیا اورسلام کرکے کہا کہ اے محمد صلی اللہ علیہ وسلم اللہ تعالیٰ نے آپ صلی اللہ علیہ وسلم کی قوم کی بات سن لی ہے ،میں پہاڑوں کا فرشتہ ہوں ،مجھ کو آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے پروردگار نے آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے پروردگار نے آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس اس لئے بھیجا ہے کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم مجھے اپنے فیصلہ کی تعمیل کاحکم دیں ،اگر آپ صلی اللہ علیہ وسلم فرمائیں تو میں آپ صلی اللہ علیہ وسلم کی قوم کے لوگوں پر ان دونوں پہاڑوں اخشبین کو الٹ دوں رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے (یہ سن کر ) فرمایا (میں ان کی ہلاکت کا خواہاں نہیں ہوسکتا )بلکہ میں تو یہ امیدرکھتا ہوں کہ اللہ تعالیٰ ان کی نسل میں سے ایسے لوگ پیدا فرمادے جو صرف اسی ایک خدا کی عبادت کریں اورکسی بھی چیز کو اس کا شریک قرار نہ دیں۔"

چنانچہ معترضین حضرات کی دلیل یہ ہے کہ جسمانی اذیت زبانی ہجو سے زیادہ سنگین جرم ہے مگراسکے باوجود محمد صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم گستاخی کرنے والے اہل طائف کے لیے موت کی بددعا نہیں کر رہے ہیں کیونکہ آپ (ص) کو اللہ کی ذات سے امید ہے کہ اللہ تعالیٰ ان کی اولاد میں سے ایسے لوگ ضرور پیدا کر دے گا جو کفر وشرک کی راہ چھوڑ کر ایمان واسلام کی آغوش میں آجائیں گے۔

حکم بن العاص کو شدید ترین توہین رسالت پر بھی قتل کی سزا نہیں دی گئی
معترضین حضرات کی اگلی دلیل یہ ہے کہ آپ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے حکم بن ابی العاص جیسے شریر و گستاخِ رسول شخص کو بھی بستر مرگ پر معاف کر دیا تھا۔ حکم کا شمار اُن لوگوں میں ہوتا ہے جو فتح مکہ کے بعد اسلام لائے اور انہیں طلقاء کہا جاتا ہے۔ جب محمد صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم اپنی کسی صحابی سے رازداری سے کوئی بات کرتے تھے تو یہ شخص انہیں چھپ کر سن لیتا تھا اور پھر آگے جا کر پھیلا دیتا تھا جس سے منافقین کو پہلے سے بہت سی باتوں کا علم ہو جاتا تھا۔ حکم بن ابی العاص محمد صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کے پیچھے چلتے ہوئے ان کی چال ڈھال کی اور چہرہ مبارک کی نقلیں اتارا کرتا تھا۔ اور نماز کے دوران بھی ہاتھ اور انگلیوں سے بُرے بُرے انداز بناتا تھا۔ یہ اتنی بڑی گستاخی تھی کہ جب محمد صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے اس کو یہ حرکتیں ہوئے پکڑا تو آپ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے فرمایا کہ ایسے ہی رہو۔ اس لعنت کے نتیجے میں وہ اُسی حالت میں ویسا کا ویسا ہی رہ گیا اور تامرگ ایسا ہی رہا کہ اس کا منہ، چہرہ اور ہاتھ ہر وقت اس بری حالت میں ہلتے ہی رہتے تھے۔ بہرحال، حکم بن ابی العاص اس لعنت کے باوجود اپنی حرکتوں سے باز نہیں آیا۔ ایک دن محمد صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم اپنی ایک زوجہ کے گھر میں تھے کہ یہ خاموشی سے آ کر دروازے کے سوراخ سے جھانکنے لگا۔ محمد صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے اس کو پہچان لیا ۔ آپ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم باہر تشریف لائے اور فرمایا کہ کون ہے جو مجھے اس گندے شخص سے بچائے گا؟ پھر آپ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے مزید فرمایا کہ یہ شخص اور اس کی آل اولاد ہرگز اس شہر میں نہیں رہ سکتی جس میں میں موجود ہوں اور اس کے بعد آپ نے اس کو مع اس کے بیٹے مروان بن الحکم کے طائف کی طرف شہر بدر کر دیا اہم بات یہ ہے کہ اتنا کچھ ہونے کے باوجود بھی محمد صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے اس شخص کو قتل نہیں کروایا بلکہ صرف شہر بدر کیا۔ اور صرف یہ ہی نہیں بلکہ جب محمد صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم بستر مرگ پر تھے، تو حضرت عثمان نے اس کی سفارش کی تو آپ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے اسے معاف بھی کر دیا ۔ جب حضرت عثمان خلیفہ مقرر ہوئے تو انہوں نے حکم بن ابی العاص اور اس کے بیٹے مروان بن حکم کو واپس مدینہ بلا لیا۔

عبد اللہ ابن ابی کا شان رسالت میں گستاخی کرنا اور اس پر کسی سزا کا نفاذ نہ ہونا
معترضین حضرات کی اگلی دلیل یہ ہے کہ عبد اللہ ابن ابی نے محمد صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کی شان میں انتہائی گستاخی کی۔ اس گستاخی پر نہ محمد صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے اس کے قتل کا حُکم دیا اور نہ ہی وہاں پر موجود مسلمانوں نے اسے قتل کیا۔ اور اللہ نے بھی اس کے قتل کا حُکم نہیں دیا اور آیت تو نازل ہوئی مگر وہ اسے قتل کرنے کی نہیں تھی بلکہ یہ تھی کہ اگر مسلمانوں کے دو گروہ آپس میں لڑ پڑیں تو ان میں صلح کروا دو۔

” صحیح بخاری، کتاب الصلح:
ہم سے مسدد نے بیان کیا کہا ہم سے معتمر بن سلیمان نے بیان کیا کہا میں نے اپنے باپ سے سنا کہ انسؓ نے کہا لوگوں نے نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کو رائے دی اگر آپ عبداللہ بن ابی کے پاس تشریف لے چلیں تو بہتر ہے یہ سن کر آپؐ ایک گدھے پر سوار ہو کر اس کے پاس گئے مسلمان آپؐ کے ساتھ چلے وہاں کی زمین کھاری تھی جب آپ اس (عبداللہ ابن ابی) کے پاس پہنچے تو وہ محمد صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کو کہنے لگا کہ چلو پرے ہٹو تمہارے گدھے کی بد بو نے میرا دماغ پریشان کر دیا ہے۔ یہ سن کر ایک انصاری (عبداللہ بن رواحہ) بولے خدا کی قسم محمد صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کا گدھا تجھ سے زیادہ خوشبودار ہے اس پر عبداللہ کی قوم کا ایک شخص (صحابی) غصے ہوا۔ دونوں میں گالی گلوچ ہوئی اور دونوں طرف کے لوگوں کو غصہ آیا اور وہ چھڑیوں، ہاتھوں اور جوتوں سے آپس میں لڑ پڑے۔ انسؓ نے کہا ہم کو یہ بات پہنچی کہ (سورت حجرات کی آیت وَ اِن طَائِفَتَانِ ِمنَ المُؤمِنِینَ اقتَتَلُوا فَاصلحُوا بَینھمَا) اسی بات میں اتری۔ (یعنی مسلمانوں کے دو گروہ لڑ پڑیں تو ان میں صلح کروا دو)۔"

معترضین حضرات کی دلیل یہ ہے کہ عبد اللہ ابن ابی نے محمد صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کی شانِ اقدس میں براہ راست یہ گستاخی کی، مگر اس پر آپ (ص) نے اس کے باوجود اس کے قتل کا حکم نہیں دیا۔اور اگرچہ کہ دو مسلمان گروہوں میں ابتدائی طور پر جھگڑا ہوا، مگر محمد صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کی اس صبر و تحمل کی وجہ سے یہ جھگڑا ختم ہو گیا۔

قرآن کی گواہی کہ یہودی محمدصلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کی توہین کیا کرتے تھے
معترضین حضرات کی طرف سے اگلی دلیل یہ پیش کی جاتی ہے کہ سورہ نساء (٤)کی آیت ٤٦ میں اللہ تعالیٰ نے مدینہ کے یہود کی اس گستاخانہ روش کا ذکر کیا ہے کہ وہ محمد صلی اللہ علیہ وسلم کو مخاطب کرتے وقت 'راعنا' (ہماری رعایت فرمایے) کے لفظ کو اس طرح بگاڑ کر ادا کرتے کہ وہ سب وشتم کا ایک کلمہ بن جاتا [رَاعِنَا کے معنی ہیں، ہمارا لحاظ اور خیال کیجئے۔ بات سمجھ میں نہ آئے تو سامع اس لفظ کا استعمال کر کے متکلم کو اپنی طرف متوجہ کرتا تھا، لیکن یہودی اپنے بغض و عناد کی وجہ سے اس لفظ کو تھوڑا سا بگاڑ کر استعمال کرتے تھے جس سے اس کے معنی میں تبدیلی اور ان کے جذبہ عناد کی تسلی ہو جاتی، مثلا وہ کہتے رَعِینَا (اَحمْق) وغیرہ ۔ اسی طرح وہ السلامُ علیکم کی بجائے السامُ علیکم (تم پر موت آئے) کہا کرتے تھے۔]۔ اسی طرح وہ آپ کو مخاطب کرکے 'اِسْمَعْ غَيْرَ مُسْمَعٍ' (سنو، تمھیں سنائی نہ دے) کے بددعائیہ کلمات بھی کہتے۔ قرآن مجید نے یہاں ان کی اس روش پر کوئی قانونی سزا تجویز نہیں کی اور عہد رسالت، عہد صحابہ اور اسلامی تاریخ میں بھی اس نوعیت کے واقعات پر صرف نظر اور تحمل و برداشت کا حکیمانہ رویہ اختیار کرنے کا ثبوت ملتا ہے۔ امام بخاری نے صحیح بخاری میں ایک باب اس مخصوص عنوان سے تحریر کیا ہے کہ” نبی نہ گالیاں دیتے تھے اور نہ ہی آپ بد خلق تھے “ (لم یکن النبی فاحشاً ولا متفحشاً) اس باب میں آپ نے پیغمبر کے حسن اخلاق سے مربوط متعدد حدیثیں نقل کی ہیں، ان میں سے ایک حدیث اس طرح ہے:

” صحیح بخاری، کتاب كتاب استتابة المرتدين والمعاندين وقتالهم، حدیث 6929 :
ہم سے ابو نعیم نے بیان کیا انہوں نے سفیان بن عیینہ سے انہوں نے زہری سے انہوں نے عروہ سے انہوں نے حضرت عائشہؓ سے انہوں نے کہا یہود میں سے چند لوگوں نے نبی ﷺ کے پاس آنے کی اجازت چاہی (جب آئے تو) کہنے لگے السام علیک میں نے جواب میں یوں کہا علیکم السام واللعنۃ آپ ﷺ نے فرمایا اے عائشہ اللہ تعالیٰ نرمی کرتا ہے اور ہر کام میں نرمی کو پسند کرتا ہے میں نے کہا یا رسول اللہ ﷺ کیا آپ نے ان کا کہنا نہیں سنا آپ نے فرمایا میں نے بھی تو جواب دے دیا وعلیکم۔"

چنانچہ معترضین حضرات کی دلیل یہ ہے کہ اسوۃ محمد صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم بہت واضح ہے اور توہین رسالت پر محمد (ص) نے جو اللہ کی سنت بیان فرمائی ہے کہ "اللہ تعالیٰ نرمی کرتا ہے اور ہر کام میں نرمی پسند کرتا ہے"۔۔۔ تو اللہ کی یہ سنت محمد صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کی وفات کے بعد منسوخ نہیں ہو گئی ہے بلکہ اللہ کی یہ سنت تا قیامت یوں ہی قائم رہے گی۔

قرآن کی ہدایت کہ مسلمان اہل کتاب ومشرکین کی بدگوئی پر صبر و ضبط کا مظاہرہ کریں
معترضین حضرات کی اگلی دلیل یہ ہے کہ یہود و مشرکین اسلام اور محمد صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کے متعلق ایسی بدگوئیاں کرتے تھے جن سے مسلمانوں کو بہت ایذا پہنچتی تھی۔ مگر اس پر اللہ تعالی کی طرف سے مسلمانوں کو حکم جاری ہو رہا ہے کہ وہ صبر اختیار کریں۔

” [جوناگڑھی، سورۃ آل عمران 3:186] ۔۔۔ اور یہ بھی یقین ہے کہ تمہیں ان لوگوں کی جو تم سے پہلے کتاب دیے گئے اور مشرکوں کی بہت سی دکھ دینے والی باتیں سننا پڑیں گی۔ اور اگر تم صبر کر لو اور پرہیزگاری اختیار کرو تو یقینا یہ بہت بڑی ہمت کا کام ہے۔ “
اس آیت کی تفسیر میں صلاح الدین صاحب (قرآن مع ترجمہ و تفسیر، شاہ فہد پرنٹنگ پریس )لکھتے ہیں:

” اہل کتاب سے مراد یہود و نصاریٰ ہیں۔ یہ نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم ، اسلام اور مسلمانوں کے خلاف مختلف انداز سے طعن و تشنیع کرتے رہتے تھے۔ اسی طرح مشرکین عرب کا حال تھا۔ علاوہ ازیں مدینہ میں آنے کے بعد منافقین بالخصوص ان کا رئیس عبداللہ بن ابی بھی آپ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کی شان میں استخفاف کرتا رہتا تھا۔ آپ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کے مدینہ آنے سے قبل اہل مدینہ اسے اپنا سردار بنانے لگے تھے اور اس کے سر پر تاج سیادت رکھنے کی تیاری مکمل ہو چکی تھی کہ آپ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کے آنے سے اس کا یہ سارا خواب بکھر کر رہ گیا جس کا اسے شدید صدمہ تھا۔ چنانچہ انتقام کے طور پر بھی یہ شخص آپ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کے خلاف سب و شتم کا کوئی موقعہ ہاتھ سے نہیں جانے دیتا تھا ۔ ان حالات میں مسلمانوں کو عفو و درگذر اور صبر اور تقویٰ اختیار کرنے کی تلقین کی جارہی ہے۔ جس سے معلوم ہوا کہ داعیان حق کا اذیتوں اور مشکلات سے دوچار ہنا اس راہ حق کے ناگزیر مرحلوں میں سے ہے اور اس کا علاج صبر فی اللہ، استعانت باللہ اور رجوع الی اللہ کے سوا کچھ نہیں۔ “

عرفہ بن حارث اور عمرو بن العاص نے توہین رسالت کرنے والے کو قتل نہیں کیا
” بیہقی، السنن الکبریٰ 18490 اور طبرانی، المعجم الکبیر 18/261:
عرفہ بن حارث کندی کے سامنے ایک نصرانی نے محمد (ص) کی شان میں گستاخی کر دی تو عرفہ نے زور سے مکہ مار کر اسکی ناک توڑ دی۔ معاملہ عمرو بن العاص کے سامنے پیش ہوا تو انہوں نے عرفہ کو تنبیہ کرتے ہوئے کہا کہ ہم نے تو انکے ساتھ معاہدہ کیا ہوا ہے۔ عرفہ نے کہا کہ اس بات سے اللہ کی پناہ کہ ہم نے انکے ساتھ محمد صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کی شان میں کھلم کھلا گستاخی کی اجازت دینے پر معاہدہ کیا ہو۔


اس روایت سے معترضعین حضرات یہ دلیل پیش کرتے ہیں کہ اگر گستاخی رسول کی سزا فی الفور قتل ہوتی تو یہ دونوں صحابی اس سزا سے آگاہ ہوتے اور اس نصرانی کو ہر صورت میں قتل کرتے۔

حضرت ابو بکر نے توہین اللہ اور توہین رسالت کرنے والے کو قتل نہیں کیا
معترضین حضرات کی اگلی دلیل یہ ہے کہ ابن کثیر الدمشقی نے اپنی تفسیر میں سورۃ آل عمران کی آیت 181 کی تفسیر میں یہ واقعہ نقل کیا ہے:

” حضرت ابن عباس فرماتے ہیں کہ جب یہ آیت اتری کہ کون ہے جو اللہ کو قرض حسنہ دے اور وہ اسے زیادہ در زیادہ کر کے دے تو یہود کہنے لگے کہ اے نبی تمہارا رب فقیر ہو گیا ہے اور اپنے بندوں سے قرض مانگ رہا ہے اس پر یہ آیت (لقد سمع اللہ) الخ، نازل ہوئی۔ ابن ابی حاتم میں ہے کہ حضرت ابوبکر صدیق رضی اللہ تعالٰی عنہ یہودیوں کے مدرسے میں گئے یہاں کا بڑا معلم فخاص تھا اور اس کے ماتحت ایک بہت بڑا عالم اشیع تھا لوگوں کا مجمع تھا اور وہ ان سے مذہبی باتیں سن رہے تھے آپ نے فرمایا فخاص اللہ سے ڈر اور مسلمان ہو جا اللہ کی قسم تجھے خوب معلوم ہے کہ آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم اللہ تعالٰی کے سچے رسول ہیں وہ اس کے پاس سے حق لے کر آئے ہیں ان کی صفتیں توراۃ و انجیل میں تمہارے ہاتھوں میں موجود ہیں تو فخاص نے جواب میں کہا ابوبکر سن اللہ کی قسم اللہ ہمارا محتاج ہے ہم اس کے محتاج نہیں اس کی طرف اس طرح نہیں گڑگڑاتے جیسے وہ ہماری جانب عاجزی کرتا ہے بلکہ ہم تو اس سے بے پرواہ ہیں٠ ہم غنی اور تونگر ہیں اگر وہ غنی ہوتا تو ہم سے قرض طلب نہ کرتا جیسے کہ تمہارا پیغمبر صلی اللہ علیہ وسلم کہہ رہا ہے ہمیں تو سود سے روکتا ہے اور خود سود دیتا ہے اگر غنی ہوتا تو ہمیں سود کیوں دیتا، اس پر حضرت صدیق اکبر کو سخت غصہ آیا اور فخاص کے منہ پر زور سے مارا اور فرمایا اللہ کی قسم جس کے ہاتھ میں میری جان ہے اگر تم یہود سے معاہدہ نہ ہوتا تو میں تجھ اللہ کے دشمن کا سر کاٹ دیتا “

اس واقعہ سے معترضین یہ دلیل دیتے ہیں کہ اگر توہین اللہ اور توہین رسالت کی سزا موت ہوتی تو جناب ابو بکر اس پر معاہدہ کا ذکر کرنے کی بجائے اسے قتل کر دیتے۔

گستاخی کرنے والے مسلمان پر نہ مرتد کا فتویٰ اور نہ قتل
” صحیح بخاری، کتاب التفسیر، حدیث 2363:
حضرت عروہ بن زبیر رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ ایک انصاری نے حضرت زبیرر ضی اللہ عنہ سے حرہ کی ندی کے بارے میں جس سے کھجوروں کے باغ سیراب ہوا کرتے تھے ، جھگڑا کیا ۔ محمدﷺنے فرمایا: اے زبیر ! تم سیراب کرلو پھر اپنے پڑوسی بھائی کےلیے جلد پانی چھوڑ دینا ۔ اس پر انصاری رضی اللہ عنہ نے کہا: جی ہاں ! یہ آپ کی پھوپھی کے بیٹے ہیں۔ اس پر محمد (ص) کے چہرے کا رنگ بدل گیا ۔آپ ﷺ نے فرمایا: اے زبیر ! تم سیراب کرو، یہاں تک کہ پانی کھیت کی مینڈوں تک پہنچ جائے ۔ اس طرح آپ نے زبیر رضی اللہ عنہ کو ان کا پورا حق دلوادیا۔ حضرت زبیر رضی اللہ عنہ کہتے تھے کہ قسم اللہ کی ! یہ آیت اسی بارے میں نازل ہوئی تھی" ہرگز نہیں ، تیرے رب کی قسم ! اس وقت تک یہ ایمان والے نہیں ہوں گے ۔ جب تک اپنے جملہ اختلافات میں آپ کو تسلیم نہ کریں ۔ "ابن شہاب نے کہا: انصار اور تمام لوگوں نے اس کے بعد نبی ﷺ کے اس ارشاد کی بناء پر کہ " سیراب کرو اور پھر اس وقت تک رک جاؤ جب تک پانی منڈیروں تک نہ پہنچ جائے" ایک اندازہ لگالیا ، یعنی پانی ٹخنوں تک بھرجائے۔


معترضین حضرات کی دلیل یہ ہے کہ جب اس صحابی نے کہا:"جی ہاں! یہ آپکی پھوپھی کے بیٹے ہیں"، تو یہ صریح بے انصافی اور اقرباپروری کا اتہام اور انتہائی گستاخی کی بات تھی۔ چنانچہ آپ کے چہرے کا رنگ بدل گیا، مگر آپ نے اِس پر اس صحابی کو قتل نہیں کیا۔ ۔۔۔(اور نہ ہی اس چھوٹی بات پر اس کو مرتد قرار دیا)۔

قانون توہین رسالت (پاکستان) اور فقہ حنفی
پاکستان میں فقہ حنفی کے پیروکاروں کی اکثریت ہے۔ مگرقانون توہین رسالت (پاکستان) اہل حدیث فقہ کے مطابق بنایا گیا ہے۔

دیگر معلومات فقہ حنفی, قانون توہین رسالت (پاکستان) ...
موجودہ قانون پر سپریم کورٹ کے شریعت بینچ میں بحث کا موقع نہیں ملا
جامعہ اسلامیہ امدادیہ فیصل آباد کے شیخ الحدیث جناب مفتی محمد زاہد صاحب لکھتے ہیں:

” سن 1990ء میں اس مسئلے پر وفاقی شرعی عدالت کے معروف فیصلے، جس کی روشنی ہی میں پارلیمنٹ نے اس جرم پر عمر قید کی سزا کو حذف کر کے صرف سزائے موت کو برقرار رکھا تھا، اس میں بھی اس بات کی صراحت ہے کہ عدالت میں پیش ہونے والے متعدد اہل علم نے بھی یہی مؤقف اختیار کیا تھا اس قانون میں توبہ کا موقع ملنا چاہیے۔ ان علماء میں دیوبندی مکتبِ فکر سے دارالعلوم کراچی کے شیخ الحدیث مولانا سبحان محمود، بریلوی مکتب فکر کے معروف عالم مفتی سرور قادری اور معروف اہلحدیث عالم حافظ صلاح الدین یوسف قابلِ ذکر ہیں۔ لیکن حیرت کی بات یہ ہے کہ شرعی عدالت کے فیصلے میں جو بحث کی گئی ہے، اس بحث کی پوری جھلک کورٹ آرڈر اور اس کی روشنی میں ہونے والی قانون سازی میں نظر نہیں آتی۔ بہتر ہوتا کہ اس وقت یہ مسئلہ اپیل کے لیے سپریم کورٹ کے شریعت بینچ میں چلا جاتا جہاں اس وقت مفتی محمد تقی عثمانی اور پیر کرم شاہ جیسے جید علماء موجود تھے۔ اس وقت وفاقی حکومت کی طرف سے اپیل بھی کی گئی تھی، لیکن اس وقت کے وزیر اعظم نواز شریف نے یہ اپیل واپس لینے کا حکم دیا اور یہ کہا کہ اس جرم کی سزا اگر موت سے بڑھ کر کوئی ہوتی تو وہ تجویز کی جاتی۔۔۔ اسماعیل قریشی ایڈووکیٹ صاحب نے ایک کتابچے میں لکھا ہے کہ انہوں نے اس وقت کے وزیر اعظم نواز شریف کو پیغام بھیجا تھا کہ یہ اپیل واپس لی جائے وگرنہ مسلمانوں کے جذبات انکی حکومت کے خلاف بھی مشتعل ہو جائیں گے۔۔۔ یہ بات سمجھ میں نہیں آ رہی کہ کسی شرعی مسئلے کو ماہرین شریعت پر مشتمل آئینی فورم پر اس لیے پیش کیا جاتا ہے کہ قرآن و حدیث کی روشنی میں مزید غور کر لیا جائے، تو اس میں جذبات مشتعل ہونے والی کون سی بات تھی؟ اس سے اندازہ لگایا جا سکتا ہے کہ اس مسئلے میں شروع ہی سے صرف ایک نقطہ نظر کو جو کہ یہاں کی اکثریتی فقہ سے بھی مطابقت نہیں رکھتا، ایمان اور عقیدے کا درجہ دے دیا گیا تھا۔ یاد رہے کہ مذکورہ فیصلہ صادر کرنے والے وفاقی شرعی عدالت کے بنچ میں کوئی باقاعدہ عالم دین شامل نہیں تھے، جبکہ سپریم کورٹ کے شریعت بنچ میں مذکورہ دو جید عالم موجود تھے۔ “

معترضین حضرات کا مؤقف یہ ہے کہ وزیر اعظم نواز شریف صاحب کی مداخلت کی وجہ سے وجہ سے سپریم کورٹ کے شریعت بنچ میں اس قانون پر بحث نہیں ہو سکی اور اتمام حجت مکمل کیے بغیر اس کو قانون کا درجہ دے کر اس کا نفاذ کر دیا گیا۔ چنانچہ اس قانون پر شپریم کورٹ کے شریعت بنچ میں کھل کر بحث ہونی چاہیے اور اس کی روشنی میں اس قانون میں تبدیلیاں ہونی چاہیے ہیں۔

ثبوت: گستاخیِ رسول کا حکم "ارتداد" کے ضمن میں آئے گا
فقہ حنفی گستاخی رسول کا حکم ارتداد کے ضمن میں رکھتی ہے۔ جبکہ موجودہ توہین رسالت قانون اہل حدیث فقہ پر مبنی ہے جو اسے ارتداد کے ضمن میں نہیں رکھتے بلکہ گستاخی رسول پر علاحدہ سے حد کا حکم لگا کر قتل کی سزا تجویز کرتے ہیں۔

اس ضمن میں فقہ حنفی کی دلیل ذیل کی روایت ہے جس کو امام تقی الدین سبکی نے پیش کیا ہے:

” صحیح بخاری، کتاب الدیات:
ہم سے عمر بن حفص بن غیاث نے بیان کیا کہا ہم سے والد نے کہا ہم سے اعمش نے انہوں نے عبد اللہ بن مرہ سے انہوں نے مسروق بن اجدع سے انہوں نے عبد اللہ بن مسعودؓ سے انہوں نے کہا محمد صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا جو مسلمان آدمی اس بات کی گواہی دیتا ہو کہ اللہ کے سوا کوئی سچا خدا نہیں ہے اور محمد اللہ کے رسول ہیں تو اس کا خون کرنا بغیر تین صورتوں کے درست نہیں ایک یہ کہ کسی کو ناحق قتل کرے اس کے قصاص میں ،دوسرے یہ کہ محصن ہو کر زنا کرے ،تیسرے یہ کہ اسلام سے پھر جائے مسلمانوں کی جماعت سے الگ ہو جائے۔"

یہی روایت بخاری اور دیگر کتب میں صحیح اسناد کے ساتھ جناب عائشہ، جناب عثمان اور عبد اللہ ابن عمر سے مروی ہے۔ یہ سارے صحابہ محمد صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کی پوری مدنی زندگی میں آپ (ص) کے ساتھ تھے۔ یہ سب کے سب صحابہ ساتھ میں بڑے پائے کے فقیہ بھی ہیں۔ اگر محمد (ص) کی زندگی میں ایسا کوئی واقعہ ہوا ہوتا جس میں گستاخی رسول پر کسی کو قتل کیا گیا ہوتا تو وہ واقعہ یقینا ان کی نظر میں ہوتا اور وہ اس کا ذکر لازمی طور پر کرتے۔ بہت مشکل ہے کہ یہ سب کے سب صحابہ اس مسئلے میں اکھٹی غلطی کریں۔

چنانچہ فقہ حنفی کی دلیل یہ ہے کہ جب گستاخی رسول پر آج مسلمان پر مرتد کی سزا کا اطلاق کریں گے تو خودبخود دوسرا مسئلہ پیدا ہوتا ہے اور وہ یہ ہے کہ مرتد کے لیے توبہ کا دروازہ کھلا ہے اور اس پر قتل کی سزا ساقط ہے۔ حتیٰ کہ بذاتِ خود اہل حدیث فقہ کے مطابق بھی مرتد کو توبہ کا موقع دیا جائے گا اور اگر وہ توبہ کر لے تو اس کو قتل نہیں کیا جائے گا۔

اعتراض: کچھ حنفی علما نے گستاخِ رسول کی توبہ قبول ہونے کا انکار کیا ہے
اس اعتراض کا جواب پروفیسر محمد مشتاق صاحب نے یوں دیا ہے: نویں صدی ہجری کے ایک حنفی عالم البزازی نے سب سے پہلے یہ لکھا کہ گستاخ رسول کی توبہ قبول نہ ہو گی اور اسے ہر صورت میں قتل کر دیا جائے گا۔ بزازی کے بعد میں آنے والوں کچھ لوگوں نے یہ بات اسی طرح نقل کر دی۔ لیکن علامہ شامی نے البزازی کی اس بات کو تفصیل سے دلائل اور ثبوتوں کے ساتھ مکمل طور پر رد کیا ہےاور یہ ثابت کیاکہ بزازی سے پہلے فقہ حنفی کا نقطہ نظر، خواہ وہ کسی حنفی عالم نے بیان کیا ہو یا غیر حنفی نے، سب نے یہی کہا ہے کہ فقہ حنفی کے مطابق شاتم رسول کی توبہ قابل قبول ہے۔ نیز فقہ شافعیہ کا نقطہ نظر بھی فقہ حنفی کے قریب قریب ہے اور وہ بھی توبہ کے قائل ہیں۔ حتیٰ کہ فقہ مالکی اور فقہ حنبلی میں بھی ایک ایک قول توبہ کے قبول ہو جانے کا ملتا ہے۔

ضعیف روایات سے استدلال
معترضین حضرات اس بات کی طرف بھی نشان دہی کرتے ہیں کہ اصول یہ ہے کہ اسلامی شریعت کے "قوانین" بناتے وقت "ضعیف" روایات کا استعمال نہیں ہو سکتا، خاص طور پر جب کہ موت و قتل جیسے قوانین بنائے جا رہے ہوں۔ مگر اس کے باوجود توہین رسالت قانون کو سہارا دینے کے لیے کچھ ضعیف روایات کا استعمال کیا جا رہا ہے۔ اس کی مثال وہ عصماء بنتِ مروان کے واقعہ سے دیتے ہیں:

” عصما بنت مروان رسول ا کو ایذاء اور تکلیف دیا کرتی تھی ۔ اسلام میں عیب نکالتی اور نبی اکے خلاف لوگوں کو اکساتی تھی۔ عمیر بن عدی الخطمی ، جو کہ نابینا (اندھے) تھے، ان کو جب اس عورت کی باتوں اور اشتعال انگیزی کا علم ہوا تو کہنے لگے کہ اے اللہ! میں تیری بارگاہ میں نذر مانتا ہوں اگر تو نے رسول ا کو بخیر و عافیت مدینہ منورہ لوٹا دیا تو میں اسے ضرور قتل کردوں گا۔ رسول ا اس وقت بدر میں تھے۔ جب آپ ا غزوہ بدر سے تشریف لائے تو عمیر بن عدی آدھی رات کے وقت اس عورت کے گھر میں داخل ہوئے تو اس کے اردگرد اس کے بچے سوئے ہوئے تھے۔ ایک بچہ اس کے سینے پر تھا جسے وہ دودھ پلا رہی تھی۔ عمیرنے اپنے ہاتھ سے اس عورت کو ٹٹولا تو معلوم ہوا کہ یہ عورت اپنے بچے کو دودھ پلا رہی ہے۔ عمیر نے بچے کو اس سے الگ کر دیا پھر اپنی تلوار کو اس کے سینے پر رکھ کر اس زور سے دبایا کہ وہ تلوار اس کی پشت سے پار ہوگئی۔پھر نماز فجر محمدصلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کے ساتھ ادا کی جب نبی اکرم صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نماز سے فارغ ہوئے تو عمیر کی طرف دیکھ کر فرمایا کیا تم نے بنت مروان کو قتل کیا ہے ؟ کہنے لگے ۔ جی ہاں ۔ میرے ماں باپ آپصلی اللہ علیہ و آلہ وسلم پر قربان ہوں۔ “
معترضین حضرات کی تنقید یہ ہے کہ یہ صحابی نابینا تھے، مگر اس کے باوجود اس عورت کے گھر تک پھر اکیلے کیسے پہنچ گئے؟ پھر اکیلے اندھیرے میں اس انجان گھر میں اس عورت کو اندھیرے میں چیزوں کو ٹٹولتے ہوئے ڈھونڈتے پھرتے ہیں اور اس پورے وقت میں کسی گھر والے کی آنکھ نہیں کھلتی۔ پھر ایک عورت ملتی ہے اور ٹٹولنے پر پتا چلتا ہے کہ وہ بچے کو دودھ پلا رہی ہے۔ پھر اس دودھ پیتے بچے کو زبردستی الگ کیا جاتا ہے مگر پھر بھی ماں جاگتی ہے اور نہ کوئی اور گھر والا (اگر کسی دودھ پیتے بچے کو الگ کیا جائے تو وہ فورا رونا شروع کر دیتا ہے)۔اور پھر یہ صحابی تقریبا ًاندھے تھے اور ساتھ ہی ساتھ آدھی رات کا گھپ اندھیرا بھی تھا۔ تو پھر انہیں کیسے یقین ہوا جس عورت کو وہ قتل کرنے جا رہے ہیں وہ کوئی اور نہیں بلکہ عصماء بنت مروان ہی ہے؟

درایت کے علاوہ سند کے حساب سے بھی یہ ضعیف روایت ہے۔ الشیخ ناصر الدین الالبانی صاحب اس روایت کو اپنی کتاب "سلسلۃ الاحادیث الضعیفہ و الموضوعۃ ، روایت نمبر 6013” کے ذیل میں نقل کیا ہے۔اور ابن عدی، علامہ ابن جوزی اور ابن معین نے کہا ہے کہ اس روایت کا ایک راوی "محمد بن الحاج" ہے جو جھوٹی حدیث گھڑا کرتا تھا اور کذاب اور خبیث تھا، چنانچہ یہ روایت موضوع (گھڑی ہوئی) ہے۔

معترضین حضرات کے مطابق ایسے ہی ضعیف واقعات میں ابو عفک یہودی اور انس بن زنیم کا واقعہ بھی شامل ہے۔

” محمد صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے فرمایا:
«من سب نبیا قتل ومن سب أصحابی جلد» (الصارم المسلول:۹۲)

ترجمہ: جس شخص نے کسی نبی کو گالی دی وہ قتل کیا جائے اور جو شخص اس نبی کے صحابہ کو گالی دے اسے کوڑے لگائے جائیں۔


یہ روایت ضعیف ہے اور اس کے راوی مجہول الحال اور کذاب ہیں

اسی طرح ابن خطل کی 2 لونڈیوں کے قتل کا ذکر بھی صرف سیرت کی کتابوں موجود ہے۔ صحیح بخاری میں جہاں ابن خطل کے قتل کی روایت موجود ہے، وہاں ان 2 لونڈیوں کے قتل کا کوئی ذکر نہیں۔

وہ واقعات جن میں قتل کی وجہ صرف گستاخی رسول نہ تھی بلکہ دیگر وجوہات بھی شامل تھیں
قانون توہین رسالت کے حامی حضرات سے کعب بن اشرف، ابو رافع جیسے چند واقعات بطور دلیل پیش کیے جاتے ہیں۔ مگر معترضین اس کا جواب یہ دیتے ہیں کہ :

ان کفار کے قتل کی بنیادی وجہ ایک آدھ مرتبہ کی جانے والی گستاخی نہ تھی۔
بلکہ وہ اس سے زبانی کلامی "ہجو" سے بڑھ کر "عملی" طور پر مسلمانوں کے لیے خطرناک سازشیں کر رہے تھے اور دیگر کفار اور قبائل کو مسلمانوں کے خلاف اکساتے تھے۔
معترضین حضرات کی دلیل یہ ہے کہ مکہ اور طائف اور خیبر وغیرہ میں ہزاروں نہیں تب بھی سینکڑوں ایسے کفار تھے جنھوں نے محمد صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کی معاذ اللہ ہجو کی اور جواب میں شاعر رسول حسان بن ثابت بھی اشعار کے ذریعے ان لوگوں کو جواب دیتے تھے۔ مگر جب خیبر و مکہ و طائف وغیرہ فتح ہوئے تو محمد صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے ایسے تمام کے تمام لوگوں کے قتل عام کا حکم نہیں دیا کہ جنھوں نے ان کی ہجو کی تھی، بلکہ چُن کر کُل پانچ افراد کو قتل کیا گیا۔ فقہ حنفیہ کے مفتی مولانا محمد زاہد صاحب ان واقعات کے متعلق تحریر فرماتے ہیں:

” اس (توہین رسالت کے) مسئلے میں عہد رسالت کے جن واقعات کا حوالہ دیا جاتا ہے، ان میں کچھ لوگ تو ایسے تھے جن کا اسلامی ریاست کا شہری ہونا ہی ثابت نہیں ہے۔ بعض تو محارب (برسرِ پیکار) تھے۔ بعض کے اس جرم کے علاوہ اور بھی کئی جرائم تھے اور یہ بات تو اکثر و بیشتر واقعات میں ہے کہ ان سے یہ جرم ایک آدھ مرتبہ صادر نہیں ہوا تھا، بلکہ بار بار اور عادت کے طور پر انہوں نے یہ وطیرہ اپنایا ہوا تھا۔ اس جرم پر سیاسۃً یا تعزیراً سرائے موت کے سلسلے میں متعدد فقہاء حنفیہ نے اسی صورتِ حال یعنی عادت اور تکرار کا ذکر کیا ہے۔ “
کعب بن اشرف یہودی کا واقعہ
اس کا واقعہ صحیح بخاری، کتاب المغازی، حدیث 4039 میں موجود ہے۔ کعب بن اشرف ایک سرمایا دار متعصب یہودی تھا اسے اسلام سے سخت عداوت اور نفرت تھی جب مدینہ منورہ میں بدر کی فتح کی خوش خبری پہنچی ۔ تو کعب کو یہ سن کر بہت صدمہ اور دکھ ہوا ۔ اور کہنے لگا ۔ اگر یہ خبر درست ہے کہ مکہ کے سارے سردار اور اشراف مارے جا چکے ہیں تو پھر زندہ رہنے سے مر جانا بہتر ہے ۔ جب اس خبر کی تصدیق ہو گی تو کعب بن اشرف مقتولین کی تعزیت کے لیے مکہ روانہ ہوا مقتولین پر مرثے لکھے ۔ جن کو پڑھ کر وہ خود بھی روتا اور دوسروں کو بھی رلاتا اور محمد صلی اللہ علیہ وسلم کے خلاف قتال کے لیے لوگوں کو جوش دلاتا رہا ۔ مدینہ واپس آکر اس نے مسلمان عورتوں کے خلاف عشقیہ اشعار کہنے شروع کر دیے اور محمد صلی اللہ علیہ وسلم کی ہجو میں بھی اشعار کہے ۔ کعب مسلمانوں کو مختلف طرح کی ایذائیں دیتا ۔ اہل مکہ نے کعب سے پوچھا کہ ہمارا دین بہتر ہے یا محمد صلی اللہ علیہ وسلم کا دین ۔ تو اس نے جواب دیا کہ تمہارا دین محمد صلی اللہ علیہ وسلم کے دین سے بہتر ہے ۔ اس کا سب سے بڑا فتنہ یہ تھا کہ یہ قریش کے کفار کو مسلمانوں کے جنگ کرنے کے لیے ابھارتا تھا اور اگر وہ اپنی سازشوں میں کامیاب ہو جاتا تو اس سے مسلمانوں کا بہت جانی نقصان ہوتا۔ اس لیے اس کی شرارتوں کا خاتمہ کرنے کے لیے مجبوراً ماہ ربیع الاول سنہ3 ہجری میں یہ قدم اٹھایا گیا۔چنانچہ محمد صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کے حُکم پر سعد بن معاذ نے لوگوں کو جمع کیا اور پھر محمد بن مسلمہ اور چند مجاہدین کو اس کے پاس روانہ کیا گیا۔ انہوں نے اس کے پاس جا کر پہلے محمد صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کی (معاذ اللہ) برائیاں شروع کر دیں تاکہ اسے بھلا پھسلا کر اس کے گھر اور قوم سے دور لے جائیں اور پھر موقع ملتے ہی اسے قتل کر دیا۔

معترضین حضرات کے مطابق مدینہ اور خیبر اور آپس پاس کے علاقوں میں ایسے کئی کفار و یہودی تھے جو محمد صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کی شان میں گستاخی کیا کرتے تھے، مگر صرف کعب بن اشرف یہودی کواس لیے نشانہ بنایا گیا کیونکہ کعب بن اشرف کے بارے میں مؤرخین نے لکھا ہے کہ غزوہ بدر کے بعد اُس نے مکہ جا کر قریش کے مقتولین کے مرثیے کہے جن میں انتقام کی ترغیب تھی ، مسلمان عورتوں کا نام لے کر تشبیب لکھی اور مسلمانوں کو اذیت پہنچائی، رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی حکومت میں رہتے ہوئے آپ کے خلاف لوگوں کو بر انگیختہ کرنے کی کوشش کی، یہاں تک کہ بعض روایتوں کے مطابق آپ کو دھوکے سے قتل کر دینا چاہا۔ ۔ مزید براں کعب بن اشرف نے جب پہلی مرتبہ گستاخی رسول کی تو اس پہلی مرتبہ پر ہی اس کو قتل کرنے کے لیے مجاہدین کو روانہ نہیں کیا گیا، بلکہ کعب بن اشرف نے محمد صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کو بُرا بھلا کہنا اپنی "عادت" اور "معمول" بنائی ہوئی تھی۔

ابو رافع یہودی کا واقعہ
معترضین حضرات کے نزدیک ابو رافع کا جرم بھی صرف یہ نہیں تھا کہ اس نے محمد صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کی ہجو کی تھی، بلکہ اس کا جرم اس سے بڑھ کر تھا اور یہ مسلمانوں کے خلاف عملی سازشوں میں ملوث تھا جس سے عملا مسلمانوں کو جانی نقصان پہنچنے کا خطرہ تھا۔ابو رافع اُن لوگوں میں سے تھا جو غزوئہ خندق میں قبائل کو مدینہ پر چڑھا لانے کے مجرم تھے۔ ابن اسحاق کے الفاظ میں ،'فیمن حزب الاحزاب علی رسول اللّٰه صلی اللّٰه علیه وسلم'۔۔ صحیح بخاری، کتاب المغازی، حدیث 4041 میں اس کا ذکر یوں ہے:۔

” ہم سے یوسف بن موسیٰ نے بیان کیا ، کہا ہم سے عبید اللہ بن موسیٰ نے بیان کیا ، ان سے اسرائیل نے ، ان سے ابو اسحاق نے اور ان سے براء بن عازب رضی اللہ عنہ نے بیان کیا کہ محمد صلی اللہ علیہ وسلم نے ابو رافع یہودی ( کے قتل ) کے لیے چند انصاری صحابہ کو بھیجا اور عبداللہ بن عتیک رضی اللہ عنہ کو ان کا امیر بنایا ۔ یہ ابو رافع حضورصلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کو ایذا دیا کرتا تھا اور آپ کے دشمنوں کی مدد کیا کرتا تھا ۔حجاز میں اس کا ایک قلعہ تھا اور وہیں وہ رہا کرتا تھا ۔ “
ابن خطل کا واقعہ
معترضین اس واقعہ کا جواب یہ دیتے ہیں کہ عبد اللہ بن خطل کو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے زکوٰۃ کی تحصیل کے لیے بھیجا۔ اُس کے ساتھ ایک انصاری اور ایک مسلمان خادم بھی تھا۔ راستے میں حکم عدولی پر اُس نے خادم کو قتل کر دیا اور مرتد ہو کر مکہ بھاگ گیا۔ چنانچہ ابن خطل کے قتل کی بنیادی وجہ اس کا مرتد ہونا اور اس کا ایک مسلمان کو قتل کر دینا تھا ۔ پھر ابن خطل نے اپنی "عادت " اور "معمول" بنا رکھا تھا کہ وہ اسلام اور محمد صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کے شان میں بیہودہ باتیں کرتا تھااور لوگوں کو مسلمانوں سے لڑنے کے لیے اکساتا تھا۔ فتح مکہ کے وقت وہاں ایسے بے تحاشہ لوگ موجود تھے جنھوں نے محمد ص کی شان میں گستاخیاں کی تھیں، مگر ابن خطل کے لیے خاص طور پر احکامات اس لیے جاری ہوئے کیونکہ وہ مرتد ہو گیا تھا اور اس نے ایک مسلمان کو قتل کر دیا تھا اور لوگوں کو مسلمانوں کے خلاف اکساتا تھا۔

ابن خطل کے قتل کے حوالے سے یہ روایت بھی اہم ہے اور اس کی وجوہات پر روشنی ڈالتی ہے ۔

زکریا بن یحیی، اسحاق بن ابراہیم، علی بن حسین بن واقد، وہ اپنے والد سے، یزید نحوی، عکرمة، ابن عباس سے روایت ہے کہ خداوند قدوس نے اس فرمان مبارک میں کہ (إِنَّمَا جَزَائُ الَّذِينَ يُحَارِبُونَ اللَّهَ وَرَسُولَهُ) آخر تک یہ آیت مشرکین کے سلسلہ میں نازل ہوئی ہے جو ان لوگوں میں سے توبہ کرے گرفتار کیے جانے سے قبل تو اس کو سزا نہیں ہوگی اور یہ آیت مسلمان کے واسطے نہیں ہے اگر مسلمان قتل کرے یا ملک میں فساد برپا کرے اور خدا اور اس کے رسول صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم سے جنگ کرے پھر وہ کفار کے ساتھ شامل ہو جائے تو اس کے ذمہ وہ حد ساقط نہیں ہوگی (اور جس وقت وہ شخص اہل اسلام کے ہاتھ آئے گا تو اس کو سزا ملے گی)۔

فتح مکہ پر 5 افراد کے قتل سے احتجاج
موجودہ قانون کے حامی حضرات دلیل لاتے ہیں کہ فتح مکہ کے وقت 5 افراد کو قتل کیا گیا جو گستاخیِ رسول کرتے تھے۔اس قانون کے معترضین جواب دیتے ہیں کہ فتح مکہ پر 5 افراد کا قتل بھی ایک آدھ مرتبہ کی گئی توہینِ رسالت کا مسئلہ نہیں تھا بلکہ اللہ اور اس کے رسول صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم سے محاربہ، فساد فی الارض اور بدعہدی کا تھا۔ اہل مکہ کے معاملہ میں بنیادی مسئلہ یہ تھا کہ اگر کوئی قبیلہ یا شہر والے اپنا معاہدہ توڑ دیتے اور مخالفین کی مدد کرتے تھے، تو پھر ان کی شرارت کے بعد جب وہ مفتوح ہوتے تھے تو اس بدعہدی اور شرارت کے نتیجے میں حق بن جاتا تھا کہ ان سے بدلہ لیا جائے اور انہیں سزا دی جائے۔ مثلاً بنو قینقاع نے ایک مسلمان کو قتل کر دیا تھا اور معاہدہ شکنی کی۔ جواب میں ان پر حملہ کیا گیا اور ان کی ابتدائی سزا قتل پائی، مگر ان کے چونکہ انصار کے قبیلے خزرج سے بہترین تعلقات تھے لہذا حالات کے تحت انہیں ان کے علاقے سے علاقہ بدر کر دیا گیا۔اسی طرح بنو قریظۃ نے پہلے محمد صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کے ساتھ معاہدہ کیا۔ مگر جب جنگ خندق جاری تھی تو انہوں نے کفار مکہ سے بات چیت شروع کر دی اور یوں معاہدہ شکنی کی۔ جواب میں جنگ خندق کے بعد انکو عہد شکنی کی سزا دینے کے لیے محمد صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے فوج کشی کی اور انہوں نے محاصرے کے بعد ہتھیار ڈال دیے۔ ان کی سزا قتل پائی۔

اسی طرح اہل مکہ سے صلح حدیبیہ ہوئی تھی۔ مگر انہوں نے بدعہدی کی۔ ابن کثیر الدمشقی سورۃ توبہ کی آیت 7 کی تفسیر میں لکھتے ہیں:

"صلح حدیبیہ دس سال کے لیے ہوئی تھی۔ ماہ ذی القعدہ سنہ ٦ ہجری سے حضور صلی اللہ علیہ وسلم نے اس معاہدہ کو نبھایا یہاں تک کے قریشیوں کی طرف سے معاہدہ توڑا گیاان کے حلیف بنو بکر نے محمد صلی للہ علیہ وسلم کے حلیف خزاعہ پر چڑھائی کی بلکہ حرم میں بھی انہیں قتل کیا"

معترضین حضرات کی دلیل یہ ہے کہ اس اصول کے تحت مکہ کو فتح کرنے کے بعد وہاں صرف ان 5 افراد ہی نہیں بلکہ پوری آبادی کا قتل جائز ہو چکا تھا کیونکہ یہ قصاص تھا خزاعہ کے بہائے جانے والے خون کا۔ اگر توہین رسالت کے جرم میں ہی قتل کرنا ہوتا تو مکہ، طائف و خیبر وغیرہ میں ان 5 افراد سے کہیں زیادہ لوگ توہینِ رسالت کرتے تھے اور آپ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کو ایذا دیتے رہے تھے اور آپ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کو خون تک میں لہولہان کر چکے تھے۔ پورے اہل قریش کا طرز عمل یہ تھا:

” صحیح بخاری،کتاب المناقب، حدیث 3535:
اورحضرت ابوہریرہ کہتے ہیں کہ رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے (ایک دن صحابہ سے ) فرمایا کہ تمہیں اس پر حیرت نہیں ہے کہ اللہ تعالیٰ نے مجھ کو قریش مکہ کی گالیوں اورلعنتوں سے کس طرح محفوظ رکھا ہے ؟وہ مذمم کو گالیاں دیتے ہیں اور مذمم پر لعنت کرتے ہیں جب کہ میں محمد ہوں ۔


مزید براں جن 5 افراد کو قتل کیا گیا انہوں نے کوئی ایک آدھ مرتبہ ہی توہین رسالت کا جرم نہیں کیا تھا بلکہ ان کے جرائم میں بدعہدی، مرتد ہونا، لوگوں کو اکسانا، سازشیں کرنے وغیرہ کے علاوہ یہ بھی تھا کہ وہ عادتاً اور معمولاً محمد صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم پر سب و شتم کیا کرتے تھے۔

وہ واقعات جو صرف توہین رسالت سے مخصوص ہیں
اس ضمن میں موجودہ توہین رسالت کے حامی حضرات کی طرف سے 3 روایات پیش کی جاتی ہیں۔

پہلا: نابینا صحابی کی باندی کا واقعہ
اس قانون کے حامی حضرات سنن ابو داود، حديث نمبر ( 4361 ) کو بطور دلیل پیش کرتے ہیں:

” ايك اندھے كى ام ولد ( لونڈى ) تھى جو نبى كريم صلى اللہ عليہ وسلم پر سب و شتم اور توہين كرتى تھى، اس نے اسے ايسا كرنے سے منع كيا ليكن وہ نہ ركى، اور وہ اسے ڈانٹتا ليكن وہ باز نہ آئى.راوى كہتے ہيں: ايك رات جب وہ نبى كريم صلى اللہ عليہ وسلم كى توہين كرنے لگى اور سب و شتم كيا تو اس اندھے نے خنجر لے كر اس كے پيٹ پر ركھا اور اس پر وزن ڈال كر اسے قتل كر ديا، اس كى ٹانگوں كے پاس بچہ گرگيا، اور وہاں پر بستر خون سے لت پت ہو گيا، جب صبح ہوئى تو اس كا ذكر رسول ك

Address

Chawinda
51420

Telephone

+923215751321

Website

Alerts

Be the first to know and let us send you an email when انجمن نورِ مدینہ چونڈہ posts news and promotions. Your email address will not be used for any other purpose, and you can unsubscribe at any time.

Contact The Place Of Worship

Send a message to انجمن نورِ مدینہ چونڈہ:

Share