13/06/2026
اگر پیل زوری و گر شیرچنگ،
به نزدیک من صلح بهتر که جنگ
چو دست از همه حیلتی در گُسست،
حلال است بردن به شمشیر دست
اگر صلح خواهد عدو، سر مپیچ
و گر جنگ جوید، عنان بر مپیچ
که گر وی ببندد درِ کارزار
تو را قدر و هیبت شود یک هزار
ور او پای جنگ آورد در رکاب،
نخواهد به حشر از تو داور حساب
تو هم جنگ را باش چون کینه خواست،
که با کینهور مهربانی خطاست
چو با سفله گویی به لطف و خوشی،
فزون گرددش کبر و گردنکشی
به اسبان تازی و مردانِ مرد،
برآر از نهاد بداندیش گرد!
ترجمہ
"اگرچہ تو ہاتھی جیسی قوت رکھتا ہو یا شیر جیسی طاقت، پھر بھی میرے نزدیک جنگ کے بجائے صلح بہتر ہے۔
لیکن جب تمام تدبیریں اور پرامن راستے ناکام ہو جائیں، تو پھر تلوار اٹھانا جائز اور درست ہے۔
اگر دشمن صلح چاہے تو اس سے منہ نہ موڑ، اور اگر وہ جنگ پر آمادہ ہو تو پیچھے ہٹنے کی کوشش نہ کر۔
کیونکہ اگر وہ جنگ کا دروازہ بند کر دے (یعنی صلح اختیار کرے) تو تیری عزت و ہیبت ہزار گنا بڑھ جائے گی۔
اور اگر وہ جنگ کے لیے کمر باندھ لے، تو پھر قیامت کے دن بھی خدا تجھ سے بازپرس نہیں کرے گا (کیونکہ تو مجبوراً لڑا ہوگا)۔
لہٰذا جب دشمن عناد اور دشمنی پر اتر آئے تو تم بھی جنگ کے لیے تیار ہو جاؤ، کیونکہ کینہ رکھنے والے کے ساتھ نرمی اور مہربانی کرنا غلط ہے۔
کم ظرف اور بداصل آدمی کے ساتھ اگر تم شفقت اور خوش اخلاقی سے پیش آؤ، تو اس کا غرور اور سرکشی اور بڑھ جاتی ہے۔
پس عربی نسل کے تیز رفتار گھوڑوں اور بہادر مردوں کے ذریعے بداندیش دشمنوں کے دلوں سے فساد اور شرارت کا غبار اٹھا دو۔
گلستان
شیخ سعدی شیرازی