Zaalnoon

Zaalnoon Asslam o Alikum to all muslims. On this page I will provide you Islamic stories about beautiful life of Holy Prophet Muhammad (PBUH).

*کتنی اذیت میں اڑی ہونگی روحیں آسمان میں**جو کسی کی جان تھے تو کسی کا جہان تھے💔😢🥺** #غزہ*
18/10/2023

*کتنی اذیت میں اڑی ہونگی روحیں آسمان میں*
*جو کسی کی جان تھے تو کسی کا جہان تھے💔😢🥺*

* #غزہ*

21/03/2021
‏رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا:-صدقہ رب کے غصے کو بجھا دیتا ہے اور بری موت سے بچاتا ہے••• (جامع ترمذی،۶۶۴)
07/01/2021

‏رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا:-
صدقہ رب کے غصے کو بجھا دیتا ہے اور بری موت سے بچاتا ہے•••

(جامع ترمذی،۶۶۴)

11/12/2020

ایک بادشاہ نے ایک عظیم الشان محل تعمیر کروایا جس میں ہزاروں آئینے لگائے گئے تھے ایک مرتبہ ایک کتا کسی نہ کسی طرح اس محل میں جا گھسا رات کے وقت محل کا رکھوالا محل کا دروازہ بند کر کےچلا گیا لیکن وہ کتا محل میں ہی رہ گیا کتے نےجب چاروں جانب نگاہ دوڑائی تو اسےچاروں طرف ہزاروں کی تعداد میں کتے نظر آئے اسے ہر آئینے میں ایک کتا دکھائی دے رہا تھا اس کتےنےکبھی بھی اپنے آپ کو اتنےدشمنوں کے درمیان پھنسا ہوا نہیں پایا تھا اگر ایک آدھ کتا ہوتا تو شائد وہ اس سےلڑ کر جیت جاتا لیکن اب کی بار اسےاپنی موت یقینی نظر آ رہی تھی ۔۔ کتا جس طرف آنکھ اٹھاتا اسے کتے ھی کتے نظر آتے تھے اوپر اور نیچےچاروں طرف کتے ہی کتےتھے۔۔ کتے نے بھونک کر ان کتوں کو ڈرانا چاہا دھیان رہے آپ جب بھی کسی کو ڈرانا چاہتے ہیں آپ خود ڈرے ہوئے ہیں ورنہ کسی کو ڈرانےکی ضرورت ہی کیا ہے؟ جب کتے نے بھونک کر ان کتوں کو ڈرانےکی کوشش کی تو وہ لاکھوں کتے بھی بھونکنے لگے اس کی نس نس کانپ اٹھی اور اسے محسوس ہوا کہ اس کے بچنے کا کوئی راستہ نہیں کیونکہ وہ چاروں طرف سےگھر چکا تھا آپ اس کتے کا درد نہیں سمجھ سکتےجب صبح چوکیدار نے دروازہ کھولا تو محل میں کتےکی لاش پڑی تھی اس محل میں کوئی بھی موجود نہ تھا جو اسے مارتا محل خالی تھا لیکن کتے کے پورے جسم میں زخموں کے نشان تھے وہ خون میں لت پت تھا اس کتے کے ساتھ کیا ہوا ؟؟؟؟ خوف کےعالم میں وہ کتا بھونکا جھپٹا دیواروں سے ٹکرایا اور مر گیا ۔۔
آپ نے کبھی غور کیا کہ آپ کےسبھی تعلقات سبھی حوالے آئینوں کی مانند ہیں ان سب میں آپ اپنی ہی تصویر دیکھتے ہیں غور کریں اور دیکھیں ؟ کہ نفرت سے بھرا آدمی یہ دیکھ رہا ہے کہ سب لوگ اس سےنفرت کرتے ہیں لالچی آدمی کو یوں معلوم ہوتا ہے کہ سب اس کو لوٹنےکےمنصوبےبنا رہے ہیں وہ اپنے لالچ کی تصویر دنیا کے آئینہ خانے میں دیکھتا ہے شہوانیت کا مریض سوچتا ہے کہ ساری دنیا اسےجسم پرستی کی دعوت دے رہی ہے فقیر کہتا ہے کہ ساری دنیا ایک ہی اشارہ کر رہی ہے کہ چھوڑ دو سب کچھ بھاگ جاؤ دنیا سے۔۔ آپ جو کچھ بھی ہیں وہی کچھ آپ کو اپنے چاروں طرف دکھائی پڑتا ہے اور سارا جگ آئینہ ہے جس میں آپ کو اپنا آپ ہی دکھائی پڑ رہا ہوتا ہے
دعاؤں میں یاد رکھنا❤
خوش رہیں خوشیاں بانٹیں❤

حضور صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے وصال کے بعد سیدنا بلال رضی اللہ عنہ مدینہ کی گلیوں میں یہ کہتے پھرتے کہ لوگو تم نے کہیں ...
06/12/2020

حضور صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے وصال کے بعد سیدنا بلال رضی اللہ عنہ مدینہ کی گلیوں میں یہ کہتے پھرتے کہ لوگو تم نے کہیں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کو دیکھا ہے تو مجھے بھی دکھا دو، پھر کہنے لگے کہ اب مدینے میں میرا رہنا دشوار ہے، اور شام کے شہر حلب میں چلے گئے۔
تقریباً چھ ماہ بعد آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی خواب میں زیارت نصیب ہوئی تو آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم فرما رہے تھے :

ما هذه الجفوة، يا بلال! ما آن لک أن تزورنا؟

حلبي، السيرة الحلبيه، 2 : 308

’’اے بلال! یہ کیا بے وفائی ہے؟ (تو نے ہمیں ملنا چھوڑ دیا)، کیا ہماری ملاقات کا وقت نہیں آیا؟‘‘

خواب سے بیدار ہوتے ہی اونٹنی پر سوار ہو کر
لبیک! یا سیدی یا رسول ﷲ! کہتے ہوئے مدینہ منورہ کی طرف روانہ ہوگئے۔ جب مدینہ منورہ میں داخل ہوئے تو سب سے پہلے مسجدِ نبوی پہنچ کر حضرت بلال رضی اللہ عنہ کی نگاہوں نے عالمِ وارفتگی میں آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کو ڈھونڈنا شروع کیا۔ کبھی مسجد میں تلاش کرتے اور کبھی حجروں میں، جب کہیں نہ پایا تو آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی قبر انور پر سر رکھ کر رونا شروع کر دیا اور عرض کیا :
یا رسول اللہ! آپ نے فرمایا تھا کہ آکر مل جاؤ، غلام حلب سے بہرِ ملاقات حاضر ہوا ہے۔ یہ کہا اور بے ہوش ہو کر مزارِ پُر انوار کے پاس گر پڑے، کافی دیر بعد ہوش آیا۔ اتنے میں سارے مدینے میں یہ خبر پھیل گئی کہ مؤذنِ رسول حضرت بلال رضی اللہ عنہ آگئے ہیں۔
مدینہ طیبہ کے بوڑھے، جوان، مرد، عورتیں اور بچے اکٹھے ہو کر عرض کرنے لگے کہ بلال! ایک دفعہ وہ اذان سنا دو جو محبوبِ اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے زمانے میں سناتے تھے۔ آپ رضی اللہ عنہ نے فرمایا : میں معذرت خواہ ہوں کیونکہ میں جب اذان پڑھتا تھا تو اشہد ان محمداً رسول ﷲ کہتے وقت آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی زیارت سے مشرف ہوتا اور آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے دیدار سے اپنی آنکھوں کو ٹھنڈک پہنچاتا تھا۔ اب یہ الفاظ ادا کرتے ہوئے کسے دیکھوں گا؟

بعض صحابہ کرام رضی اللہ عنہ نے مشورہ دیا کہ حسنین کریمین رضی ﷲ عنہما سے سفارش کروائی جائے، جب وہ حضرت بلال رضی اللہ عنہ کو اذان کے لیے کہیں گے تو وہ انکار نہ کر سکیں گے۔ چنانچہ امام حسین رضی اللہ عنہ نے حضرت بلال رضی اللہ عنہ کا ہاتھ پکڑ کر فرمایا :

يا بلال! نشتهی نسمع أذانک الذی کنت تؤذن لرسول ﷲ صلی الله عليه وآله وسلم فی المسجد.

سبکی، شفاء السقام : 239
هيتمی، الجوهر المنظم : 27

’’اے بلال! ہم آج آپ سے وہی اذان سننا چاہتے ہیں جو آپ (ہمارے ناناجان) اللہ کے رسول صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کو اس مسجد میں سناتے تھے۔‘‘

اب حضرت بلال رضی اللہ عنہ کو انکار کا یارا نہ تھا، لہٰذا اسی مقام پر کھڑے ہوکر اذان دی جہاں حضور صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی ظاہری حیات میں دیا کرتے تھے۔ بعد کی کیفیات کا حال کتبِ سیر میں یوں بیان ہوا ہے :

ذهبي، سير أعلام النبلاء، 1 : 2358
سبکي، شفاء السقام : 340
حلبي، السيرة الحلبيه، 3 : 308

’’جب آپ رضی اللہ عنہ نے (بآوازِ بلند) ﷲ اکبر ﷲ اکبر کہا، مدینہ منورہ گونج اٹھا (آپ جیسے جیسے آگے بڑھتے گئے جذبات میں اضافہ ہوتا چلا گیا)، جب اشھد ان لا الہ الا اﷲ کے کلمات ادا کئے گونج میں مزید اضافہ ہو گیا، جب اشھد ان محمداً رسول اﷲ کے کلمات پر پہنچے تو تمام لوگ حتی کہ پردہ نشین خواتین بھی گھروں سے باہر نکل آئیں (رقت و گریہ زاری کا عجیب منظر تھا) لوگوں نے کہا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم تشریف لے آئے ہیں۔ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے وصال کے بعد مدینہ منورہ میں اس دن سے زیادہ رونے والے مرد و زن نہیں دیکھے گئے۔💞

علامہ اقبال رحمۃ ﷲ علیہ اذانِ بلال رضی اللہ عنہ کو ترانۂ عشق قرار دیتے ہوئے فرماتے ہیں :

اذاں ازل سے ترے عشق کا ترانہ بنی
نماز اُس کے نظارے کا اک بہانہ بنی

ادائے دید سراپا نیاز تھی تیری
کسی کو دیکھتے رہنا نماز تھی تیری

29/11/2020

❤😘♥️

‏اپنا جینا اپنا مرنا اب اسی چوکھٹ پہ ہے  ہم کہاں سرکار جائیں آپ ﷺ کے ہوتے ہوئے
29/11/2020

‏اپنا جینا اپنا مرنا اب اسی چوکھٹ پہ ہے
ہم کہاں سرکار جائیں آپ ﷺ کے ہوتے ہوئے

24/11/2020

دو معاشرتی رُلا دینے والے واقعات

1۔ میرے سامنے ایک عورت ایک عالم کے پاس آئی اور لے کر آنے والا اُس کا ہمسایہ تھا، آنے والے کہیں دور سے آئے تھے، ہمسائے کو میں چہرے سے پہچانتا تھا، وہ عالم صاحب سے بہت محبت کرتا تھا۔ اس عورت کا قصہ یہ تھا کہ وہ چار بچوں کی ماں تھی لیکن اپنے خاوند سے بہت تنگ تھی، کسی اور سے موبائل محبت کرتی تھی اور آپس میں ملتے بھی تھے۔

اُس عالم نے عورت سے کہا کہ تو اُس کو چھوڑ دو اور اپنے خاوند کو سمجھو کہ اُس کو تم سے کیا شکایت ہے، اکثر اوقات دو چار باتوں پر ہی لڑائی ہوتی ہے اور اگر عورت اُس بات کو سمجھ جائے اور اپنی عادت بدل لے تو لڑائی ختم ہو سکتی ہے جیسے گھر کی صفائی، مینجمنٹ، بچوں کا خیال وغیرہ وغیرہ۔ الفاظ عالم صاحب کے بہت اچھے تھے مگر عورت نے کہا کہ میں دوسرے مرد کی محبت میں بہت دور نکل گئی ہوں۔

عالم صاحب نے کہا کہ اگر تم اتنی دور نکل گئی ہوتی تو معاشرے میں بدنام ہو چُکی ہوتی، اسلئے تم اتنی دور نہیں نکلی ہو واپس آ جاؤ، جب مسئلہ بگڑ جاتا ہے تو پھر واپسی ممکن نہیں ہوتی اور یہ زندگی امتحان ہے۔ انہوں نے اُس کو بیٹی اور بہن کہہ کر سمجھایا تو اُس عورت نے کہا کہ میں کوشش کروں گی۔ عالم صاحب نے کہا کہ کوشش بھی کرو اور کبھی خیالات ادھر اُدھر ہوں تو اس بچے کے ساتھ آ جانا اور برین واشنگ کروا لینا۔ اُس عورت نے ہامی بھر لی لیکن دو سال بعد اُس لڑکے نے بتایا کہ اس کے خاوند نے اُسے گولی مار دی ہے کیونکہ وہ بہکنے سے باز نہیں آئی تھی۔ اللہ کریم اُسے معاف کرے۔

2۔ اسی طرح لڑکا اور لڑکی کزن تھے، آپس میں محبت کرتے، غریب خاندان تھا، وہ محبت کونسی تھی یہ علم نہیں، البتہ اُس لڑکی کا نکاح ہونے لگا تو یہ لڑکا ناراض ہو گیا، اُس لڑکی کا نکاح بھی غریب مزدور لڑکے سے ہوا۔ چند سالوں بعد دوبارہ محبت کرنے والے لڑکا اور لڑکی فیملی کی کسی شادی میں ملے، شکوے شکایتیں ہوئی، محبتیں دوبارہ جاگ گئیں، لڑکا اور لڑکی آپس میں ملنے لگے۔ اُس عورت کے چھ بچے ہو گئے اور محبت کرنے والے نے بتایا کہ اس میں تین میرے اور تین اُس مزدور کے ہیں جو اُس کا حقیقی خاوند ہے۔

محبت کرنے والے لڑکے نے کہا کہ میں نے تو اُس لڑکی کے خاوند کو کہا ہے کہ اس کو طلاق دے دو، میں چھ بچوں سمیت اسکو قبول کر لوں گا، چھ بچے میں ہی پالوں گا لیکن خاوند کا جواب یہ تھا کہ پھر میں کس کے ساتھ گذارہ کروں گا، غریب آدمی ہوں، ایک نکاح کے بعد رنڈوا ہو جانے پر کوئی لڑکی نہیں دیتا، اسلئے میں نے اسے طلاق نہیں دینی۔ اب کب تک یہ کام چلتا رہا معلوم نہیں کیونکہ اُس محبت کرنے والے لڑکے نے چند دن نیک صحبت میں رہ کر آنا چھوڑ دیا تھا۔

نتیجہ: یہ معاشرتی مسائل ہیں، یہاں شریعت سکھانا کتنا مشکل ہو گا جب جذبات، خواہشات اور ارادے فلمیں ڈرامے دیکھ کر اس حد تک پہنچ گئے ہوں، تو قصور کس کس کا ہو گا، معلوم نہیں، کیونکہ یہی بات اس حد تک جا سکتی ہے کہ ماں اور بیٹا آپس میں پیار بھی کر سکتے ہیں مگر ان کو شرم محسوس نہیں ہو گی کیونکہ یہی ڈراموں میں دکھایا جا رہا ہے۔

سچائی: سچائی کو تسلیم کر کے اپنی اولادوں کو چھوٹا نہ سمجھیں بلکہ ان کو آخرت میں رب کے دیدار کا شوق ڈالیں تاکہ ان کی نظر میں برائی برائی لگے۔ علماء کرام کو چاہئے کہ کنجری نے کتے کو پانی پلایا بخشی گئی، سو قتل کرنے کے بعد بندہ بخشا گیا والے قصے کم کر کے معاشرتی مسائل (نکاح، بیوہ یا رنڈوا سے نکاح، سادگی سے نکاح، طلاق، عدت، شوہر کی ذمہ داری، حکم مصاہرت وغیرہ) زیادہ بیان کریں۔

حقیقت: یہ تب ہو گا جب تمام بریلوی علماء متفقہ طور پر فتاوی رضویہ میں لکھے عقائد پر متفق ہو کر خلافت عثمانیہ، چار مصلے، اجماع امت، متفقہ عقائد عوام کو سکھائیں اور دیوبندی علماء کی چار کفریہ عبارتوں پر ان کو پیار سے توبہ کرنے کے لئے کہیں، مستحب اعمال کسطرح مستحب ہیں عوام کو سمجھائیں اور جو مستحب کو فرض سمجھ رہے ہیں ان کو بدعتی ڈکلئیر کریں۔ سعودی عرب کے وہابی علماء کی غلطی سمجھائیں ورنہ ساری توانائیاں ایک دوسرے کو غلط کہنے پر لگی رہیں گی اور دین پر لگنے والوں کا سرمایہ ضائع ہو گا۔

Address

Changa Manga

Website

Alerts

Be the first to know and let us send you an email when Zaalnoon posts news and promotions. Your email address will not be used for any other purpose, and you can unsubscribe at any time.

Share