Ao Sab Ali Ali a.s Karen. Syeda Kazmi

Ao Sab Ali Ali a.s Karen. Syeda Kazmi MAN KUNT O MOLA FA HAZA ALI UN MOLA A.S.....

*عالم دین کے سولہ حقوق امیر المؤمنین حضرت علی علیہ السلام کی زبانی*

حضرت امام علی علیہ السلام نے فرمایا:
عالم دین کے تم پر چند حقوق ہیں:
¤ تم اس سے (فضول)سوال مت کرو،
¤ کسی کو جواب دینے میں اس پر پہل مت کرو،
¤ اگر وہ اعراض کرے تو اصرار مت کرو،
¤ جب وہ تھک جائے تو اس کے دامن سے مت لپٹو،
¤ اپنے ہاتھ سے اس کی جانب اشارہ نہ کرو،
¤ اپنی آنکھ سے اس کی طرف اشارہ مت کرو،
¤ اس کی محفل میں سرگوشی مت کر

و،
¤ اس کے عیوب تلاش نہ کرتے پھرو،
¤ اس سے یہ مت کہو کہ فلاں شخص نے تمہاری مخالفت میں یہ کہا ہے،
¤ اس کے راز فاش نہ کرو،
¤ اس کے سامنے کسی کی غیبت مت کرو،
¤ اس کے سامنے اور پیٹھ پیچھے اس کی حفاظت کرو،
¤ سب کو سلام کرو اور بالخصوص عالم کو سلام کرو،
¤ اس کے سامنے بیٹھو.
¤ اگر اسے کوئی ضرورت پیش آئے تو دوسروں سے پہلے تم خدمت کے لئے اقدام کرو.
¤ اس کی طویل گفتگو سے پریشان مت ہو .
چونکہ عالم دین کی مثال کجھور کے درخت جیسی ہے (جو دیر سے پھل دیتا ہے) لہٰذا تمہارے اوپر اس درخت سے کوئی منفعت حاصل کرنے تک کا انتظار کرو،
عالم کی قدر و منزلت ایک روزہ دار نمازی مجاہد کی سی ہے کہ جب عالم کا انتقال ہوتا ہے تو اسلام میں ایک شگاف پڑ جاتا ہے، ایسا شگاف کہ جسے تا قیامت کوئی شئے پُر نہیں کر سکتی، نیز علم کے متلاشی کے جنازہ میں آسمان کے ستر(70) ہزار فرشتے شرکت کرتے ہیں.
*فکرِ کربلا درس گروپ*
*الخصال، شیخ صدوق(رہ)، باب 16، حدیث1۔ صفحہ 261.*

🔺 *سپاہ پاسداران انقلاب اسلامی کی جانب سے سرلشکر حسین سلامی اور دیگر پاسداران کی شہادت پر تعزیتی پیغام*🔹 *بسم اللہ الرحم...
13/06/2025

🔺 *سپاہ پاسداران انقلاب اسلامی کی جانب سے سرلشکر حسین سلامی اور دیگر پاسداران کی شہادت پر تعزیتی پیغام*

🔹 *بسم اللہ الرحمٰن الرحیم*
*"مومنوں میں کچھ لوگ ایسے ہیں جنہوں نے جو وعدہ اللہ سے کیا تھا، اسے سچ کر دکھایا؛ ان میں سے کچھ اپنی جان دے چکے ہیں اور کچھ انتظار میں ہیں، اور انہوں نے ہرگز اپنے عہد میں کوئی تبدیلی نہیں کی۔"*

🔹دل دکھ اور رنج سے بھرے ہوئے ہیں کہ مظلومانہ انداز میں اپنے فرض کی ادائیگی کے دوران، اسلامی انقلاب کے جاں نثار اور انتھک کمانڈر، *سردار سرلشکر حسین سلامی*، سپاہ پاسداران انقلاب اسلامی کے سپہ سالار، آج جمعہ 23 خرداد 1404 کو علی الصبح ایک دہشت گردانہ اور مجرمانہ حملے میں شہید ہو گئے۔
اس حملے میں ان کے چند محافظین اور ساتھی بھی شہید ہوئے۔
ہم اس سانحے پر حضرت ولی عصر (عج)، رہبر معظم انقلاب و سپریم کمانڈر *امام خامنہ‌ای (مدظلہ العالی)*، شہداء کے معزز اور صابر خاندانوں، سپاہ و بسیج کے وفادار ہمرزمان، اور انقلابی و عظیم ملت ایران کی خدمت میں دلی تعزیت و تبریک پیش کرتے ہیں۔

🔹یقیناً سرلشکر سلامی اسلامی انقلاب کے ممتاز ترین کمانڈروں میں سے تھے، جو علمی، ثقافتی، سلامتی اور عسکری میدانوں کے مرد میدان تھے۔ وہ ہر موقع پر مخلصانہ، مدبرانہ اور ولایت‌مدارانہ انداز میں انقلاب اور ملت کے دفاع کی صف اول میں کھڑے رہے۔

🔹ان کی ہمہ جہت شخصیت، حکمت سے بھرپور ذہن، شعلہ بیان فصاحت، اور ولایت فقیہ سے گہری وابستگی نے انہیں انقلاب کے تاریخ ساز کمانڈروں کی صف میں ممتاز مقام عطا کیا۔
اسلامی مزاحمت کی اسٹریٹجک گہرائی میں وسعت، دشمنوں کے مرکب حملوں کا مقابلہ، قومی سلامتی کا استحکام، ملکی دفاعی صلاحیتوں کی ترقی، اور انقلاب کے فکری بیانیے کی ترویج جیسے شعبوں میں ان کی خدمات، ملت ایران کے تاریخی حافظے میں ہمیشہ زندہ رہیں گی۔

🔹اس عظیم کمانڈر کی شہادت، اسلامی جمہوریہ کی مظلومیت اور حقانیت کی ایک اور دلیل ہے، اور اس بات کا ثبوت ہے کہ دشمنوں کی کینہ‌توزی اور سرکاری دہشت گردی، حق کے مجاہدوں کے عزم اور نرم قوت کے آگے عاجز ہے۔

🔹یقیناً سپاہ، بسیج، مسلح افواج اور عوام کے انقلابی بیٹے اس عظیم شہید کے راستے کو دوگنے حوصلے اور قوت کے ساتھ جاری رکھیں گے۔
صہیونی مجرم حکومت، جو یہ جرم امریکہ اور وائٹ ہاؤس کے ناپاک حکمرانوں کی آگاہی میں انجام دے رہی ہے، اس کا سنگین خمیازہ بھگتے گی۔

🔹یہ مومن، شجاع، صاحب بصیرت اور مجاہد کمانڈر، جنہوں نے اپنی پوری با برکت زندگی اسلام، انقلاب اور ملت ایران کے عظیم اہداف کے لیے وقف کر دی، ان کا روشن اور باعزت راستہ پہلے سے کہیں زیادہ طاقت کے ساتھ جاری رہے گا۔
دشمنوں کی یہ سنگین غلطی اور جنایت بے جواب نہیں رہے گی — انہیں ایک *سخت اور پشیمان کن انتقام* کا انتظار کرنا ہو گا۔

🌍 اَلـعَـصـــــراَخبَـــــار 📡
🪀 *https://chat.whatsapp.com/Bfizw7oPG7ZGTgIMcil3zw*

انشااللہ۔۔۔۔۔۔
12/06/2025

انشااللہ۔۔۔۔۔۔

الحمدللہ...... آغا حامد علی موسوی کے فرزندان کا زبردست اقدام ARY کے ڈرامے میں سادات کی توہین کے خلاف رٹ دائر کر دی۔۔۔
12/06/2025

الحمدللہ......
آغا حامد علی موسوی کے فرزندان کا زبردست اقدام ARY کے ڈرامے میں سادات کی توہین کے خلاف رٹ دائر کر دی۔۔۔

12/06/2025

🟠 `برزخ کا سفرنامہ`

≋ *ایک بےدین شخص کی برزخی زندگی، قرآن واہلبیت علیہم السّلام کےفرامین کی نگاہ میں* ≋

🔹 *قسط نمبر:* ⑤②

👈🏻 *دوسرا باب:*
*دخولِ قبر سےوادی برھوت تک*

✍🏻 *قبر کی باتیں*

قارئین محترم!
جب مجھےقبر میں رکھ دیاگیا تو میں نےسنا کہ قبر کہہ رہی تھی:

میں غربت وتنہائی کا مقام ہوں،
میں خوف ووحشت کی جگہ ہوں،
میں خاک کا گھر ہوں،
میں بلاومصیبت کا گھر ہوں،
میں بستر کےبغیر تاریک اقامتگاہ ہوں،
میں تنہائی کا مرکز ہوں،
میں کیڑوں، چیونٹیوں، سانپوں اور بچھوؤں سےپُر جگہ ہوں،
میں پرانا سا اور تباہ حال ٹھکانہ ہوں۔

اسکےبعد قبر نےمجھ سے مخاطب ہوکر کہا:
اےنمک حرام انسان!
اے بےدین کافر!
اےوہ شخص جو دُنیا میں گمراہی کے راستےپر چلتارہا اور اس نےکبھی حق وحقیقت کو جاننےکی کوشش نہ کی!
تم میرےاندر خوشی سےنہیں آئے۔
مجھےاس اللّٰه کی قسم جس نے تجھےاور دیگر تمام مخلوقات کو پیدا کیا!
جب تم میرےاوپر چلتے تھے،
مجھےتم سےنفرت تھی،
مجھے تمہارے گندےکردار سےگھن آتی تھی۔
اب جب تو میرےاندر آگیا ہےتو میری اس نفرت میں مزید اضافہ ہوگیا ہے۔
کچھ ہی دیر بعد تجھے میری اس نفرت کا اندازہ ہو جائےگا۔
میں تمہارے بدن کو اس طرح سے جھنجوڑوں گی کہ تمہاری ہڈیاں سُرمہ بن جائیں گی۔

یہ کہتےہی قبر نے مجھے ایسا جھنجوڑا کہ میری دہنی پسلیاں، باہنی پسلیوں میں پیوست ہو گئیں۔
ایسا محسوس ہورہا تھاکہ ماں کا جو دودھ میں نےپیا تھا وہ میرےناک اور انگلیوں کےپوروں سےباہر آ گیاہے۔

اسکے بعد میرے پاؤں کی جانب دوزخ کا ایک دروازہ کھل گیا۔
میں قبر میں اسکی آگ کی حرارت اور شعلوں کو محسوس کر رہا تھا۔
اس موقع پر مجھے جہنم میں اپنی جگہ بھی نظر آ گئی۔

اس کےبعد ایک انتہائی بدشکل وبدسیرت اور بدبودار شخص میری قبر میں داخل ہوا۔
اسکے ہاتھ میں ایک تھال تھا جس میں جہنم کےپھل، غذا اور جہنم کا ابلتا ہوا، کڑوا اور بدبودار پانی تھا۔
اس نےوہ سب کچھ میرے سامنے رکھا اور کہا:
میں تمہارا بُرا کردار اور تمہارےوہ بُرےاعمال ہوں جنہیں تو نےدُنیا میں انجام دیا ہے۔
میں تمہارا ناپاک عقیدہ وفکر ہوں۔

ابھی اس شخص کےساتھ میری باتیں ختم نہیں ہوئی تھیں کہ میری قبر میں زہریلی اور سیاہ دھویں سے لبریز آتش بار ہوا چلنا شروع ہو گئی اور ننانوےعظیم الجثہ سانپ مجھ پر مسلط ہو گئے۔
انہیں قیامت تک مجھے ڈستے رہنا تھا۔
یہ سانپ دُنیاوی سانپوں سےبہت مختلف تھے جنہیں میں نےدُنیا میں دیکھا تھا۔
میں نےایسے سانپ کبھی نہیں دیکھے تھے۔

اس شخص نےمجھ سےکہا:
کیاتم جانتے ہوکہ یہ کس قسم کے سانپ ہیں؟
اگر ان میں سےایک بھی دُنیا میں ظاہر ہو جائےاور زمین کےمشرق سےمغرب کی جانب پھنکارےتو زمین پر کسی قسم کا درخت یا سبزہ نہیں اُگ سکےگا۔
اس لئےکہ اسکی پھنکار سےزمین جل کر خاکستر ہو جائیگی۔

اسکے بعد اس نےکہا:
ہر قبر ایسی نہیں ہوتی۔
تمہارے لئےاورتم جیسے دیگر افراد کیلئے قبر کی یہ حالت ہوتی ہے جبکہ مؤمن اور دیندار لوگوں کی قبر اس سے مختلف ہوتی ہے۔
انکی قبر بہشت کےباغات میں سےایک باغ ہوتی ہے۔
اس میں سانپ اور بچھوؤں کی بجائے پھلوں سےلدے تھال ہوتے ہیں۔
پانی، شہد اور دودھ کی نہریں جاری ہوتی ہیں اور ان کیلئے جنتی مششروب مہیا کئے جاتےہیں۔

اس نےاپنی باتیں جاری رکھتے ہوئےکہا:
جب کوئی مؤمن قبر میں وارد ہوتاہے،
قبر اسےخوش آمدید ومرحبا کہتی ہے اور بڑے پیار سےاس سےکہتی ہے:
جب تم میرےاوپر چلتے تھےتو مجھے بڑے اچھے لگتے تھے اور اب جبکہ تم میرےشکم میں آگئے ہوتو میری محبت میں مزید اضافہ ہوگیا ہے۔
ابھی کچھ دیر بعد تجھے میری اس محبت کا ثبوت مل جائیگا۔
اسکے بعد مؤمن کےسر کےبالائی جانب سےجنت کا ایک دروازہ کھل جاتاہے جسکی بادِنسیم دل کو باغ باغ کر دیتی ہے۔

انکی قبر میں بدصورت مرد کی بجائےایک انتہائی خوبصورت شخص آ کر انکا دوست بن جائیگا۔
انہوں نےاپنی پوری زندگی میں اس جیسا خوبصورت شخص نہیں دیکھا ہوگا۔
جب وہ اس سےپوچھیں گےکہ تم کون ہو؟
تم سےکتنی اچھی خوشبو آرہی ہے،
تم کتنے نیک سیرت ہو،
تمہارا لباس کتنا صاف اور تمہاری شکل کتنی حسین ہے۔
وہ بولےگا:
میں تمہار ااچھا اور نیک عمل ہوں جسےیہ صورت عطا کی گئی ہے۔
پھر وہ اس مؤمن کو جنت میں لےجا کر اسےاس کے مخصوص مکان میں داخل کریگا۔
یہ لوگ جنت کی لذات اور اسکے محلات سےلطف اندوز ہونگے۔

✍ جاری ہے۔ (ان شاءاللّٰه تعالیٰ)

🪷 *اللَّهُمَّ صَلِّ عَلَى مُحَمَّدٍ وآلِ مُحَمَّدٍ وعَجِّلْ فَرَجَهُمْ*



*ہم حُسینی ہیں سارےجہاں میں پھیلےہوٸے

11/06/2025

🟠 `برزخ کا سفرنامہ`

≋ *ایک بےدین شخص کی برزخی زندگی، قرآن واہلبیت علیہم السّلام کےفرامین کی نگاہ میں* ≋

🔹 *قسط نمبر:* ④②

👈🏻 *دوسرا باب:*
*دخولِ قبر سےوادی برھوت تک*

✍🏻 *تلقین*
_حصّہ دوم آخری_

قارئین محترم!
تلقین پڑھنیوالے نےتلقین کےآخری جملوں کو پڑھتے ہوئےکہا:
اےفلاں ابنِ فلاں!
خداوندتبارک وتعالیٰ بہترین پروردگار ہے،
محمد مصطفیٰ صلی اللّٰہ علیہ وآلہ وسلّم بہترین رسول اور امام علی مرتضیٰ علیہ الصلاۃ والسّلام اور اُنکے معصوم فرزند یعنی بارہ امام علیہم السّلام بہترین امام ہیں اور محمد صلی اللّٰہ علیہ وآلہ وسلّم اللّٰه تعالیٰ کیطرف سےجو دین لائےہیں وہ بہترین دین ہے۔

اےفلاں!
موت،
قبر میں منکرونکیر کا سوال کرنا،
روزِقیامت مُردوں کا دوبارہ زندہ ہونا،
جنت اور دوزخ سب برحق ہیں۔
بلاشبہ قیامت آئےگی اور اللّٰه تعالیٰ قبروں میں سوئے ہوئےتمام انسانوں کو دوبارہ زندہ کریگا۔
کیا تم میری ان باتوں کو سمجھ گئے؟

میں نےجواب میں کہاکہ:
جی ہاں سمجھ گیا ہوں، لیکن اب بہت دیر ہو چکی ہے۔
یہ سب کچھ مجھے زندگی میں سمجھ لینا چاہیے تھا نہ یہاں پر کہ جہاں میرے لئے آگےیا پیچھے جانیکا کوئی راستہ نہیں ہے۔

تلقین خواں نےایک اور مختصر دعا پڑھی اور قبر سےباہر آگیا۔
اس کےبعد وہ گورکن دوبارہ قبر میں داخل ہوا اور قبر کو بند کرنے کیلئے رکھے پتھروں کو بڑی مہارت سے ایک دوسرے کیساتھ جوڑنےلگا یہاں تک کہ میری لاش مکمل طورپر نظروں سےاوجھل ہوگئی۔

اس کےبعد گورکن نےقبر کےاطراف میں کھڑے ہوئے لوگوں سےکہا:
قبر پر مٹی ڈالو۔
چند ہی منٹوں میں میری قبر کو خاک سےپر کردیا گیا۔
میرے رشتہ دار، عزیزواقارب اور بیوی بچوں نےکچھ دیر تک وہاں کھڑے ہوکر سورہ فاتحہ پڑھا اور پھر کچھ دیر بعد قبرستان سےرخصت ہوکر گھر واپس چلے گئے۔

اس موقع پر مجھے جناب مولا امام زین العابدین علیہ السّلام سے منقول دعائے ابوحمزہ ثمالی کے اقتباسات یاد آگئے جنہیں میرے ایک باایمان دوست نے مجھے بیدار کرنے کیلئے عربی سےفارسی میں ترجمہ کرکے سنایا تھا۔

امام زین العابدین علیہ السّلام ارشاد فرماتے ہیں:
پس اگر میں اس حالت میں قبر میں منتقل کیاجاؤں تو مجھ سےزیادہ کون بدبخت ہے؟
کیونکہ میں نےقبر کو اپنے آرام کیلئے خوب تیار نہیں کیا،
میں نے اس میں نیک عمل کا بچھونا نہیں بچھایا۔
میں کیوں نہ گریہ کروں؟
کیونکہ مجھےاس عذاب کا درست اندازہ نہیں جو وہاں مجھ پر ٹوٹنےوالا؟
میں دیکھ رہا ہوں کہ میرےنفس نے مجھے دھوکہ دیا ہےاور میری زندگی نے مجھے فریب میں مبتلا کیا ہے۔
اب تو موت کے سائے نےمجھے ہر جانب سے گھیر لیا ہے۔

بقولِ شاعر:
عورت، اولاد، مال ودولت اور طاقت واقتدار یہ سب چیزیں قبر سے پہلے تک ہی انسان کیساتھ رہتی ہیں۔
یہ دُنیا کا یادگار گھر کتنا پرسکوں تھا، اگر اس میں موت نہ ہوتی۔
اس دل موہ لینے والےمحل کی لذت کس کام کی؟
کیونکہ جب اس میں رہنےکا مزہ آنےلگا تھا تو کوچ کے نقارے بج گئے۔

میں بہت خوش تھا کہ اتنے سارے لوگ مجھے سپردِخاک کرنے آئے ہیں۔
میں سوچ رہا تھا کہ میں انکی موجودگی، فاتحہ، تلاوتِ قرآن اور صلوات وغیرہ پڑھنے سے میں خوب بہرہ مند ہونگا۔

لیکن آہستہ آہستہ لوگ جانا شروع ہوگئے اور میری چند قریبی عزیز وہاں باقی رہ گئے۔
ابھی تھوڑی دیر ہی گزری تھی کہ وہ لوگ بھی چلے گئے۔
یہ موقع میرے لئےانتہائی کربناک تھا۔
اس موقع پر مجھےایک دردِدل رکھنے والےشاعر کہ چند شعر یاد آگئے جن میں وہ کہتا ہے:

ایک صبح کو میرا قبرستان سےگزر ہوا تو مجھے وہاں سےآہ وفغاں کی آواز سنائی دی۔
ایک شخص مٹی سےکہہ رہا تھا کہ:
اس دُنیا کی قدرومنزلت تو رائی برابر بھی نہیں ہے۔

اس موقع پر مجھے جو اذیت وتکلیف ہو رہی تھی شاید آپ کو اسکا درست اندازہ نہ ہو۔
میں سوچ بھی نہیں سکتاتھا کہ میرے بازماندگان اور قریبی دوست اتنے بےرحم ہونگے۔
میں نےتو ان سے پیارومحبت میں کمی کبھی بھی نہیں آنےدی تھی۔
لیکن وہ لوگ کتنی جلدی مجھے اکیلا چھوڑکر چلے گئے۔
میں نےچیخ کر ان سےکہا:
کہاں جارہے ہو؟
میرےپاس رہو،
مجھے اکیلا نہ چھوڑو۔
لیکن انہوں نےمیری کوئی بات نہ سنی اور قبرستان سےواپس چلے گئے۔

اس دوران میں نےایک منادی کی آواز سنی جو لوگوں سے مخاطب ہوتے ہوئے کہہ رہا تھا:

مرنے کیلئے پیدا کرو،
فناوبرباد ہو جانے لئے جمع کرو اور گر کر تباہ ہو جانے کیلئے تعمیر کرو۔

مگر افسوس کہ وہ لوگ کسی اور دنیا میں تھے اور اس بیدار کرنیوالے منادی کی آواز سننے سےمحروم تھے۔
جب مجھے معلوم ہوا کہ لوگ اب قبرستان سے نکلنے والے ہیں تو میں نےچیخ کر فریاد کی:
جاتے ہوتو جاؤ!
لیکن جان لوکہ خواہ تم یقین کرو یا نہ کرو،
خواہ چاہو یا نہ چاہو،
ایک دن تمہیں بھی اسی خاک میں سونا ہے۔
اللّٰه تعالیٰ کی قسم!
تمہیں یہ معلوم ہو جانا چاہیےکہ موت میں کوئی تاخیر نہیں ہوگی۔

✍ جاری ہے۔ (ان شاءاللّٰه تعالیٰ)

🪷 *اللَّهُمَّ صَلِّ عَلَى مُحَمَّدٍ وآلِ مُحَمَّدٍ وعَجِّلْ فَرَجَهُمْ*



*ہم حُسینی ہیں سارےجہاں میں پھیلےہوٸے

10/06/2025

🟠 `برزخ کا سفرنامہ`

≋ *ایک بےدین شخص کی برزخی زندگی، قرآن واہلبیت علیہم السّلام کےفرامین کی نگاہ میں* ≋

🔹 *قسط نمبر:* ③②

👈🏻 *دوسرا باب:*
*دخولِ قبر سےوادی برھوت تک*

✍🏻 *تلقین*
_حصّہ اوّل_

قارئین محترم!
گورکن قبر سےباہر آگیا اور اسکے بعد ایک اور شخص مجھ پر تلقین پڑھنے کیلئے قبر میں داخل ہوا۔
اس موقع پر میں یہ اعتراف کئے بغیر نہ رہ سکاکہ انسان کی زندگی کا سب سےخوفناک، سخت اور غمناک وہ وقت ہوتاہے جب اسکے بےجان جسم کو قبر جیسی تنگ وتاریک جگہ میں رکھ کر اس پر مٹی ڈال دی جاتی ہےاور سب لوگ مرنیوالے کےجسم اور رُوح کو تنہا چھوڑ کر چلے جاتےہیں۔

اس موقع پر میرےکچھ دوست اور عزیزواقارب حیرت میں ڈوبےاس منظر کو دیکھ رہے تھے۔
شاید وہ سوچ رہے تھےکہ انہیں بھی بہت جلد اس خوفناک صورتِ حال کا سامنا کرناہے۔
موت کے خوفناک پنجے عنقریب انکی گردنوں تک پہنچنے والےہیں اور اسطرح سےانکی تمام دنیاوی مسرتوں، غموں، تکلیفوں اور لذتوں کا خاتمہ ہونیوالا ہے۔

یہ بات ملحوظِ خاطر رہےکہ اسلام کا بنیادی مقصد اعلیٰ انسانی خصائل کا احیاء اور دل کو تاریکی سے نجات بخشنا ہے۔
اس لئےاس میں ایسی دعائیں اور اذکار موجود ہیں جن سےانسان کی مذہبی حس بیدار ہوتی ہے۔
اس مقصد کےتحت میت کی تلقین کے طورپر کچھ جملات پڑھے جاتےہیں جو دراصل زندہ لوگوں کیلئے بھی مفید ہیں اور مرنیوالے کیلئے بھی۔

تلقین پڑھنے والے نےقبر میں اترتے ہی اپنا دایاں ہاتھ میرےدائیں شانےپر رکھا اور بائیں ہاتھ سےمیرے بائیں کندھےکو مضبوطی سےتھام کر اپنا منہ میرے بےجان کان کےقریب لےگیا اور میرے شانے ہلاتے ہوئے پڑھنا شروع کیا:

اےفلاں! فلاں کےبیٹے!
سنواور سمجھو!
کیاتم اس وقت اس عقیدےپر قائم ہوجو تمہارا دنیا میں تھا؟
یعنی کیاتم اس بات کا اقرار کرتے ہوکہ خدائے یکتا کےسوا کوئی خدا نہیں، اسکا کوئی شریک نہیں اور جناب پیغمبرِاسلام محمد مصطفیٰ صلی اللّٰہ علیہ وآلہ وسلّم اسکے بندےاور رسول ہیں اور آپ صلی اللّٰہ علیہ وآلہ وسلّم تمام انبیاء کے سیّدوسردار اور اللّٰه تعالیٰ کے آخری نبی ہیں۔

اسکے بعد اس نےکہا:
کیا ابھی تک تمہارا یہی عقیدہ ہےکہ امیرالمؤمنین علی ابن ابی طالب علیہ الصلاۃ والسّلام وہ امام ہیں جنکی اطاعت کو اللّٰه تعالیٰ نے کائنات کےہر شخص پر واجب قرار دیاہے؟

کیا تمہارا یہ عقیدہ ہےکہ حسن علیہ السّلام،
سیدالشہداء حُسین علیہ السّلام،
زین العابدین علیہ السّلام،
محمد باقر علیہ السّلام،
جعفرصادق علیہ السّلام،
موسیٰ کاظم علیہ السّلام،
علی رضا علیہ السّلام،
محمد تقی علیہ السّلام،
علی نقی علیہ السّلام،
حسن عسکری اور مہدی عجل اللّٰه تعالیٰ فرجہ الشریف مؤمنین کے امام اور تمام مخلوق پر اللّٰه تعالیٰ کی حُجت ہیں؟

نیز یہ کہ وہ بزگوار ہستیاں تمہارے ہادی اور رہنما اور تجھے خوش بختی کا راستہ دکھانےوالے ہیں؟

اے فلاں ابنِ فلاں!
اس موقع پر میرےوجود سے آگ کا شعلہ برآمد ہوا اور میں نےچیخ کر کہا:
اےشخص!
یہ تم میرے بےجان جسم سےکیوں باتیں کر رہےہو؟
وہ نہ تو کچھ سن سکتا ہے، نہ سمجھ سکتا ہےاور نہ ہی کسی بات کا کوئی جواب دے سکتاہے۔
تمہیں جو پوچھنا ہے مجھ بےنوا اور بدبخت سےپوچھو۔
مجھ روسیاہ اور سراپا شرمندگی سےپوچھو تو میں تمہیں جواب دوں کہ:
میں نےدُنیا میں کبھی بھی خود کو اللّٰه تعالیٰ کےسپرد نہیں کیا۔
میں نےاس مقدس کتاب قرآن پاک کو کبھی اپنا ہادی ورہنما نہیں بنایا۔
یہ میری نادانی کی انتہا تھی کہ خود کو دانا سمجھتا رہا۔
میری شکل تو انسانوں جیسی تھی لیکن میں اندر سےایک خونخوار درندہ تھا۔
میں اس دُنیا میں درحقیقت مُردہ تھاجو زندہ لوگوں کےدرمیان رہ رہا ہو۔
نہ میں عالمِ قبر کا عقیدہ رکھتا تھا اور نہ دُنیائےبرزخ کا۔
میں نےکبھی بھی برائیوں سے بچنےکی کوشش نہیں کی تھی۔
میں نےاپنی پوری زندگی کو خواہشاتِ نفسانی کی بھینٹ چڑھا دیا۔
جو اچھا لگتا اسے اچھا کہتا اور جو چیز بری لگتی اسےبرا جانتا۔
اسطرح کا گنہگار انسان یہ کیسے دعویٰ کر سکتا ہےکہ امام علی مرتضیٰ علیہ الصلاۃ والسّلام اور آپ علیہ الصلاۃ والسّلام کےپاک وطاہر فرزند اسکے امام اور پیشوا تھے؟

تلقین پڑھنےوالا بدستور اپنا کام جاری رکھے ہوئےتھا۔
قبر کے آس پاس کھڑے ہوئے کسی شخص کو میری حالت کا ادراک نہیں ہورہا تھا۔
تلقین پڑھتے ہوئے وہ ان جملوں پر پہنچا جن میں ارشاد ہے:
اگر تم سے اللّٰه تعالیٰ، رسول اکرم صلی اللّٰہ علیہ وآلہ وسلّم، آئمہ معصومین علیھم السّلام، دین، کتاب اور قبلہ کے بارےمیں سوال کیا جائےتو ڈر اور خوف کا شکار نہ ہونا! بلکہ انکے جواب میں کہناکہ:
اللّٰه جل جلالہ میرا پروردگار ہے،
محمد صلی اللّٰہ علیہ وآلہ وسلّم میرےنبی ہیں،
اسلام میرا دین ہے،
قرآن میری کتاب ہے،
خانہ کعبہ میرا قبلہ ہے،
امیرالمؤمنین علی مرتضیٰ علیہ الصلاۃ والسّلام اور ان کےگیارہ فرزند علیھم السّلام میرے امام وپیشوا ہیں۔
اور چونکہ میں ان سے بےپناہ محبت کرتا ہوں اور انکے دشمنوں سے دُنیاوآخرت میں بیزاری کا اعلان کرتا ہوں اس لئے میرا عقیدہ ہےکہ وہ میری شفاعت فرمائیں گے۔

تلقین پڑھنے والے کےیہ جملے آتشیں تلوار کیطرح میرےوجود میں پیوست ہو رہے تھے۔
میں خون آلود آنکھوں اورغم واندوہ سےلبریز دل کیساتھ پشیمانی، انکساری اور التجا آمیزانداز میں چیخ چیخ کر کہہ رہاتھا:
اےتلقین پڑھنیوالے!
تمہیں اللّٰه کاواسطہ!
مجھے اس سےزیادہ اذیت مت پہنچاؤ۔
یہ سلسلہ اب یہیں پر بند کردو۔
جس زبان سےپوری زندگی میں ایک بار بھی:
یااللّٰه نہیں نکلا، وہ کس طرح سے اللّٰه تعالیٰ کے فرشتے کے سامنے کہےگی کہ:
میرا پوردگار اللّٰه ہے؟
جو شخص اپنی زندگی کےدوران رسول اکرم صلی اللّٰہ علیہ وآلہ وسلّم اور آئمہ معصومین علیہم السّلام کا مذاق اُڑایا کرتا تھا اب کیسےکہہ سکتا ہےکہ:
وہ میرے رسول اور امام وپیشوا ہیں۔

یہا ں پر مجھے ایک آواز سنائی دی ، کوئی کہہ رہاتھا:
اےناداں!
تم نےاب جاکر حقیقت کا ادراک کیا ہےاور اپنی خطاؤں کا اعتراف کیا ہے۔
کاش!
مرنے سےقبل اس حقیقت کا ادراک کرتے تاکہ تجھے اسکا فائدہ ہوتا۔
اب اس ادراک اور اعتراف کا کیا فائدہ؟
اسلام، قرآن اور کعبےکو خرافات سمجھنےوالا شخص یہ دعویٰ کیسے کرسکتا ہےکہ:
اسلام اسکا دین،
قرآن اسکا دستورالعمل اور کعبہ اسکا قبلہ ہے؟

✍ جاری ہے۔ (ان شاءاللّٰه تعالیٰ)

🪷 *اللَّهُمَّ صَلِّ عَلَى مُحَمَّدٍ وآلِ مُحَمَّدٍ وعَجِّلْ فَرَجَهُمْ*



*ہم حُسینی ہیں سارےجہاں میں پھیلےہوٸے

09/06/2025
09/06/2025

🟠 `برزخ کا سفرنامہ`

≋ *ایک بےدین شخص کی برزخی زندگی، قرآن واہلبیت علیہم السّلام کےفرامین کی نگاہ میں* ≋

🔹 *قسط نمبر:* ②②

👈🏻 *دوسرا باب:*
*دخولِ قبر سےوادی برھوت تک*

✍🏻 *لاش سپردِ خاک*

قارئین محترم!
نمازِجنازہ ختم ہوئی تو لوگوں نےسفید کفن میں لپٹی میری لاش کو تابوت سےباہر نکالا اور سر کیطرف سے آہستہ آہستہ قبر میں داخل کیا۔
گورکن نےمیرا سر پکڑ رکھا تھا۔
جب اس نے میرےجسم کو پوری طرح قبر میں رکھ دیا تو سر کی جانب سے میرےکفن کےبند اسطرح سےکھول دیئےکہ میرا چہرہ نمایاں ہوگیا۔
پھر اس نے میرے سر کو پھیر دیا اور میرا دایاں رخسار زمین کیساتھ لگا دیا۔

اسکا مقصد یہ ہوتا ہےکہ:
اےخدا!
میں اس میت کےجسم کا بہترین حصہ جو اسکی عزت وشرف کی علامت تھا کو تیری عظمت وجلالت کے سامنے خاک آلود کرتاہوں۔

میں اس عالم میں اپنےجسم کو دیکھ کر اپنے آپ سےکہہ رہا تھا:
کاش! میں دنیا میں خود یہ عمل انجام دیتا۔
کیونکہ روح کےبغیر صرف جسم کو خاک پر رکھنے کا کیا فائدہ؟

اسکے بعد اس گورکن نے تھوڑی سی مٹی جمع کرکے اسکا سرہانہ بناکر میرے سر کے نیچےرکھا۔
پھر اس نےایک بڑا ڈھیلا میری پشت کی جانب رکھا تاکہ میرا جسم قبلہ رخ رہے۔
میں دیکھ رہا تھاکہ مجھے اس خاکی قید خانےمیں قید کیا جا رہاہے۔
میں نے سوچا کہ میں اپنےجسم کیساتھ قبر میں داخل ہونیکی بجائے کہیں اور چلا جاؤں۔
لیکن اپنے بدن سے گہرےتعلق کیوجہ سے بےاختیاری کےعالم میں اسکے ساتھ قبر میں داخل ہوگیا تاکہ دیکھ سکوں کہ وہاں اس پر کیا گزرتی ہے۔

✍ جاری ہے۔ (ان شاءاللّٰه تعالیٰ)

🪷 *اللَّهُمَّ صَلِّ عَلَى مُحَمَّدٍ وآلِ مُحَمَّدٍ وعَجِّلْ فَرَجَهُمْ*



*ہم حُسینی ہیں سارےجہاں میں پھیلےہوٸے

عنوان: “اولادِ رسول ﷺ کی توہین ناقابلِ برداشت ہے – ہم اس فتنہ انگیز ڈرامے کی شدید مذمت کرتے ہیں!”بسم اللہ الرحمٰن الرحیم...
09/06/2025

عنوان: “اولادِ رسول ﷺ کی توہین ناقابلِ برداشت ہے – ہم اس فتنہ انگیز ڈرامے کی شدید مذمت کرتے ہیں!”

بسم اللہ الرحمٰن الرحیم

الحمد للہ، ہم اُمتِ محمدی ﷺ ہیں، اور ہمارے دلوں میں آقا ﷺ اور آپ کی آلِ اطہار کے لیے بے پناہ عشق و عقیدت ہے۔ پاکستان ایک اسلامی ریاست ہے، اور یہاں کسی بھی قسم کی گستاخیا بے ادبی کی گنجائش نہیں ہونی چاہیے، خاص طور پر آلِ رسول ﷺ کے متعلق۔

حال ہی میں ایک پاکستانی ڈرامے میں ایک انتہائی حساس اور گستاخانہ تصور کو "رومانس" اور "محبت" کے لبادے میں پیش کیا گیا ہے، جس کی ہم بحیثیت مسلمان، بطور عاشقانِ رسول ﷺ، شدید الفاظ میں مذمت کرتے ہیں۔

❌ اس ڈرامے میں کیا دکھایا گیا؟

ایک غیر سید (عام خاندان سے تعلق رکھنے والا مرد) اور ایک سیدہ (اولادِ رسول ﷺ سے) کے درمیان "محبت" اور نکاح کا تعلق دکھایا گیا۔

اس رشتے کو عام اور فطری ظاہر کر کے، اسلامی اصولوں اور آدابِ اہلبیتؑ کو پامال کیا گیا۔

سید اور غیر سید کے فرق کو مٹا کر اہلِ بیتؑ کے مقام و مرتبہ کو کم تر دکھانے کی سازش کی گئی۔

معاشرے میں آلِ رسول ﷺ کی عزت اور توقیر کو مجروح کیا گیا۔

⚠️ یہ صرف ایک ڈرامہ نہیں، بلکہ ایک نظریاتی حملہ ہے!

یہ ڈرامہ ہماری دینی اقدار، اسلامی ثقافت اور عقیدتِ اہلِ بیتؑ پر حملہ ہے۔ ہمیں سمجھنا ہوگا کہ:

> امت، امت ہے اور آلِ رسول ﷺ، سردار ہیں۔
امت کبھی اہلِ بیتؑ کے برابر نہیں ہو سکتی۔

یہ بات صرف عقیدت کی نہیں، بلکہ اسلامی تاریخ، فقہ، اور عقیدے کا حصہ ہے۔ اولادِ رسول ﷺ کو ایک خاص مقام حاصل ہے، جنہیں حضور ﷺ نے خود اپنی چادر کے نیچے جگہ دی، جنہیں قرآن میں تطہیر کی سند دی گئی، جن کے بارے میں فرمایا:
"فاطمہ میری جان کا ٹکڑا ہے..."
"حسن و حسین جوانانِ جنت کے سردار ہیں..."

پھر کس طرح ہم اُن کی نسل کو ایک عام کردار کے ساتھ مساوی دکھا سکتے ہیں؟

📢 ہمارا مطالبہ:

1. ڈرامے کے رائٹر، ڈائریکٹر اور پروڈیوسر اس گستاخی پر قوم سے فی الفور معافی مانگیں۔

2. PEMRA اس ڈرامے پر پابندی عائد کرے اور آئندہ ایسے تمام مواد کی سخت جانچ کرے۔

3. تمام اداکار جو اس پروجیکٹ کا حصہ بنے، سادات اور عاشقانِ اہلِ بیتؑ سے علانیہ معذرت کریں۔

4. علماء، مشائخ، اور مذہبی ادارے اس سازش کے خلاف آواز بلند کریں۔

🛑 ہم خاموش نہیں بیٹھیں گے!

اگر آج ہم نے زبان بند رکھی، تو کل نہ جانے کتنی اور "کہانیوں" میں آلِ رسول ﷺ کا وقار پامال کیا جائے گا۔
ہم یہ پیغام دینا چاہتے ہیں کہ:
> سادات کی عزت ہماری عزت ہے
آلِ رسول ﷺ کا مقام کسی قلمکار کی مرضی سے نہیں گھٹ سکتا۔

✊ ہم سب کا مؤقف ایک ہے:

📌 "محبت اپنی جگہ، مگر شریعت کی حدود اپنی جگہ!"
📌 "فن کی آزادی، عقیدتِ اہلِ بیتؑ کی بے حرمتی کی اجازت نہیں دیتی!"
📌 "عزتِ سادات پر کوئی سمجھوتا نہیں!"

پیدل چلنا اور حرکت میں رہنا دل کی صحت کے لئے کتنا مفید ہے یہ تحریر پڑھیں۔👇میڈیکل سائنس میں پنڈلیوں کے عضلات، خاص طور پر ...
09/06/2025

پیدل چلنا اور حرکت میں رہنا دل کی صحت کے لئے کتنا مفید ہے یہ تحریر پڑھیں۔👇
میڈیکل سائنس میں پنڈلیوں کے عضلات، خاص طور پر کیلف مسلز (Calf Muscles) کو اکثر "Peripheral Heart" یا "Second Heart" کہا جاتا ہے، کیونکہ؛
یہ پٹھے خون کو نیچے سے اوپر، یعنی دل کی طرف واپس دھکیلنے میں مدد دیتے ہیں۔

جب ہم چلتے ہیں یا حرکت کرتے ہیں تو یہ پٹھے سکڑتے اور پھیلتے ہیں، جو رگوں پر دباؤ ڈال کر venous return کو بہتر بناتے ہیں
اس طرح خون کی گردش کو فروغ دیتی ہے۔رگوں میں خون کے جم جانے (venous stasis) کو روکتی ہے، جو خطرناک clots (جیسے DVT – Deep Vein Thrombosis) سے بچاؤ میں مددگار ہے۔
خاص طور پر لمبے وقت تک بیٹھنے والے افراد کو حرکت میں رہنے کا مشورہ اسی لیے دیا جاتا ہے۔

روزمرہ کی معتدل جسمانی سرگرمی جیسے واکنگ، سیڑھیاں چڑھنا، ہلکی ورزش دل کی صحت بہتر بناتی ہے۔بلڈ پریشر اور کولیسٹرول کو کنٹرول میں رکھتی ہے۔
دل کے دورے اور اسٹروک کے خطرے کو کم کرتی ہے۔

Address

Private
Chakwal
PAK

Opening Hours

Monday 09:00 - 17:00
21:00 - 23:00
Tuesday 09:00 - 17:00
Wednesday 09:00 - 17:00
Thursday 09:00 - 17:00
Friday 09:00 - 17:00
Saturday 09:00 - 17:00
Sunday 09:00 - 17:00

Website

Alerts

Be the first to know and let us send you an email when Ao Sab Ali Ali a.s Karen. Syeda Kazmi posts news and promotions. Your email address will not be used for any other purpose, and you can unsubscribe at any time.

Contact The Place Of Worship

Send a message to Ao Sab Ali Ali a.s Karen. Syeda Kazmi:

Share