لبیک یامہدی علیہ السلام

لبیک یامہدی علیہ السلام Contact information, map and directions, contact form, opening hours, services, ratings, photos, videos and announcements from لبیک یامہدی علیہ السلام, Religious organisation, Chakwal.

لبیک یامہدی؏

امام مہدی علیہ السلام کو یاد رکھنااورانکی اطاعت کرناواجب ہے

خادم مَکتبِ مَہدویت

جو چاہتا ہے کہ وہ امامِ قائمؑ کے اصحاب میں شامل ہو، وہ منتظرین میں شامل ہو

09/11/2025

اپنی بیوی کا احترام کرو

📗 قرآن مجید میں خداوند عالم فرماتا ہے

(وَعَاشِرُوهُنَّ بِالْمَعْرُوفِ)[سورہ نساء 19]
اور بیویوں کے ساتھ عمدہ طریقہ سے زندگی گزارو"

رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم فرماتے ہیں:

جبرائیل علیہ السلام نے عورتوں کے حقوق کے متعلق مجھے خبر دی اور عورتوں کے حقوق کے سلسلہ میں اس قدر سفارش کی کہ میں گمان کرنے لگا کہ مردوں کے لئے جائز نہیں ہے کہ وہ اپنی بیوی کو اف تک کہیں، صرف ان سے پھولوں کی طرح نرم کلام کریں۔
اس کے بعد جبرائیل نے کہا: اے رسول اللہ(صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) اپنی بیویوں کے سلسلہ میں اللہ سے ڈرو، بیوی اللہ کی امانت ہے جس کو تم نے اپنی زوجیت میں لیا ہے اور کتاب الہی، شریعت اسلام اور سنت پیغمبر کی وجہ سے وہ تم پر حلال ہوئی ہے۔
وہ تماری گردن پر واجب حقوق رکھتی ہیں، لہذا اس سے نرمی اور مہربانی سے پیش آؤ، اس کو خوشحال کرو، تاکہ وہ تمہارے ساتھ اچھے سے زندگی گزاریں، ان سے زور زبردستی نہ کرو اور انہیں اذیت و آزار نہ دو اور انہیں ناراض نہ کرو۔

📚 بحار الانوار، ج 103، ص 351 من لا یحضره الفقیه، ج 4، ص 370

•┈•┈•⊰✿✿⊱•┈•┈•

احادیث امام علی زین العابدین علیہ السلام(۲)11- قالَ(عليه السلام): مَنْ زارَ أخاهُ فى اللّهِ طَلَباً لاِنْجازِ مَوْعُودِ ...
09/11/2025

احادیث امام علی زین العابدین علیہ السلام(۲)

11- قالَ(عليه السلام): مَنْ زارَ أخاهُ فى اللّهِ طَلَباً لاِنْجازِ مَوْعُودِ اللّهِ، شَيَّعَهُ
سَبْعُونَ ألْفَ مَلَك، وَهَتَفَ بِهِ هاتِفٌ مِنْ خَلْف ألاطِبْتَ وَطابَتْ لَكَ الْجَنَّةُ، فَإذا صافَحَهُ غَمَرَتْهُ الرَّحْمَةُ.
جو صرف خدا کی خوشنودی اور اللہ کے کئے ہوئے وعدے تک پہنچنے کے لئے اپنے برادر مومن کی ملاقات کو جائے تو ستر ہزار فرشتے اس کے ہمراہ چلتے ہیں اور ایک منادی اس کے نیچے سے ندا دیتا جاتا ہے کہ تم خود پاک و پاکیزہ ہوئے تمہیں جنت مبارک ہو اور جب اس برادر مومن سے مصافحہ کرتا ہے تو اس کے اوپر رحمت کا حصار ہوجاتا ہے

12-قالَ(عليه السلام): إنْ شَتَمَكَ رَجُلٌ عَنْ يَمينِكَ، ثُمَّ تَحَوَّلَ إلى يَسارِكَ فَاعْتَذَرَ إلَيْكَ فَاقْبَلْ مِنْهُ.
اگر کوئی تمہارے داہنی طرف رخ کرکے گالیاں دے رہا ہو اور پھر بائیں طرف آکر عذر خواہی کرے تو تم اس کا عذر قبول کرلو اور اسے معاف کردو

13- قالَ(عليه السلام): عَجِبْتُ لِمَنْ يَحْتَمى مِنَ الطَّعامِ لِمَضَرَّتِهِ، كَيْفَ لايَحْتَمى مِنَ الذَّنْبِ لِمَعَرَّتِهِ. مجھے تعجب ہے اس شخص کے اوپر جو غذا کو اس کے ضرور نقصان کو پرکھ کر کھاتا ہے کس طرح اپنے اپنے گناہوں کی نسبت سہل انگری سے کام لیتا ہے

14- قالَ(عليه السلام): مَنْ أطْعَمَ مُؤْمِناً مِنْ جُوع أطْعَمَهُ اللّهُ مِنْ ثِمارِ الْجَنَّةِ، وَمَنْ سَقى مُؤْمِناً مِنْ ظَمَأ سَقاهُ اللّهُ مِنَ الرَّحيقِ الْمَخْتُومِ، وَمَنْ كَسا مُؤْمِناً كَساهُ اللّهُ مِنَ الثّيابِ الْخُضْرِ.
خدا کا دین ناقص عقلوں، باطل را¿یوں، فاسد قیاسوں کے ذریعہ نہیں حاصل کیاجاسکتا صرف سر تسلیم خم کرکے ہی حاصل ہوسکتا ہے لہٰذا جو ہمارے سامنے تسلیم ہے اور ہماری ہدایتوں پر عمل کرے وہی ہدایت یافتہ ہے اور جو قیاس اور رائے کا معتقد ہے وہ ہلاک ہوجائے گا

15-قالَ(عليه السلام): إنَّ دينَ اللّهِ لايُصابُ بِالْعُقُولِ النّاقِصَةِ، وَالاْراءِ الْباطِلَةِ، وَالْمَقاييسِ الْفاسِدَةِ، وَلايُصابُ إلاّ بِالتَّسْليمِ، فَمَنْ ـ سَلَّمَ لَنا سَلِمَ، ومَنِ اهْتَدى بِنا هُدِىَ، وَمَنْ دانَ بِالْقِياسِ وَالرَّأْىِ هَلَكَ.

امام علیہ السلام نے فرمایا:
اللہ کا دین ناقص عقلوں، باطل آراء، اور فاسد قیاس کے ذریعے حاصل نہیں کیا جا سکتا۔
یہ دین صرف تسلیم و فرمانبرداری کے ذریعے حاصل ہوتا ہے۔
پس جو ہمارے (اہل بیتؑ) سامنے تسلیم ہو گیا، وہ محفوظ رہا،
جو ہمارے ذریعے ہدایت حاصل کرے، وہ ہدایت یافتہ ہوا،
اور جو قیاس و رائے (ذاتی سوچ و اندازے) پر چلا، وہ ہلاک ہوا۔

16- قالَ(عليه السلام): الدُّنْيا سِنَةٌ، وَالاْخِرَةُ يَقْظَةٌ، وَنَحْنُ بَيْنَهُما أضْغاثُ أحْلامِ.
دنیا اونکھ ہے اور آخرت بیداری ہے اور ہم انسان ان دونوں کے درمیان خواب پریشان ہیں

17- قالَ(عليه السلام): مِنْ سَعادَةِ الْمَرْءِ أنْ يَكُونَ مَتْجَرُهُ فى بِلادِهِ، وَيَكُونَ خُلَطاؤُهُ صالِحينَ، وَتَكُونَ لَهُ أوْلادٌ يَسْتَعينُ بِهِمْ.
سعادتمند ہے وہ انسان جس کا کاروبار اس کے شہر میں ہو دوست صالح ہوں اور اس کی اولاد اس کے کام آتی ہو

18- قالَ(عليه السلام): آياتُ الْقُرْآنِ خَزائِنُ الْعِلْمِ، كُلَّما فُتِحَتْ خَزانَةٌ، فَيَنْبَغى لَكَ أنْ تَنْظُرَ ما فيها.
قرآن کی آیتیں علم کا خزانہ ہیں جب بھی کوئی خزانہ کھلے تو لازم ہے کہ دیکھو اس کے اندر کیا کیا ہے

19- قالَ(عليه السلام): مَنْ خَتَمَ الْقُرْآنَ بِمَكَّة لَمْ يَمُتْ حَتّى يَرى رَسُولَ اللّهِ (صلى الله عليه وآله وسلم)، وَيَرَى مَنْزِلَهُ فى الْجَنَّةِ.
جو شخص مکہ میں قرآن ختم کرے وہ نہیں مرے گا مگر کہ رسول خدا صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی زیارت کرلے اور جنت میں اپنا مقام دیکھ لے

20- قال(عليه السلام): يا مَعْشَرَ مَنْ لَمْ يَحِجَّ اسْتَبْشَرُوا بِالْحاجِّ إذا قَدِمُوا فَصافِحُوهُمْ وَعَظِّمُوهُمْ، فَإنَّ ذلِكَ يَجِبُ عَلَيْكُمْ تُشارِكُوهُمْ فى الاْجْرِ.
اے وہ لوگو! کہ جنھوں نے حج نہیں کیا ہے تمہیں حج سے واپس آنے والے حاجیوں کی بشارت ہو ان سے مصافحہ کرو اور ان کی تعظیم و تکریم کرو یہ تمہارے اوپر لازم ہے اس طرح تم ان کے اجر و ثواب میں شریک ہوجاو


11ـ مشكاة الأنوار: ص 207، س 18.
12ـ مشكاة الأنوار: ص 229، س 10، بحارالأنوار: ج 78، ص 141، ح 3.
13ـ أعيان الشّيعة: ج 1، ص 645، بحارالأنوار: ج 78، ص 158، ح 19.
14ـ مستدرك الوسائل: ج 7، ص 252، ح 8.
15ـ مستدرك الوسائل: ج 17، ص 262، ح 25.
16ـ تنبيه الخواطر، معروف به مجموعة ورّام: ص 343، س 20.
17ـ وسائل الشيعة: ج 17، ص 647، ح 1، ومشكاة الأنوار: ص 262.
18ـ مستدرك الوسائل: ج 4، ص 238، ح 3.
19ـ من لا يحضره الفقيه: ج 2، ص 146، ح 95.
20ـ همان مدرك: ج 2، ص 147، ح97.

وقت قریب آرہاہےاورہم نےخودکوحضرت امام مہدی؏ کےقابل بناناہے۔آئیےآج سےہی تیاری شروع کریں
01/11/2025

وقت قریب آرہاہے
اور
ہم نےخودکوحضرت امام مہدی؏ کےقابل بناناہے۔
آئیےآج سےہی تیاری شروع کریں

اناللہ واناالیہ راجعون
20/10/2025

اناللہ واناالیہ راجعون

"امامِ زمانہ علیہ السلام کا قرب"  ۱۔ معرفتِ امامامام جعفرصادق علیہ السلام نے فرمایا:من مات و لم یعرف امام زمانه مات میتة...
20/10/2025

"امامِ زمانہ علیہ السلام کا قرب"

۱۔ معرفتِ امام
امام جعفرصادق علیہ السلام نے فرمایا:
من مات و لم یعرف امام زمانه مات میتةً جاهلیة."
"جو اپنے زمانے کے امام کو پہچانے بغیر مر گیا، وہ جاہلیت کی موت مرا۔"
(اصولِ کافی، ج۱، ص۳۷۸)

۲۔ عملِ صالح اور پرہیزگاری

امام زمانہؑ خود فرماتے ہیں:
ما یمنعنا عنهم إلا ما یتصل بنا مما نکرهه ولا نؤثره منهم."
"ہم سے شیعوں کو دور کرنے والی چیز وہ اعمال ہیں جو ہمیں ناپسند ہیں۔"
(احتجاج طبرسی)

یعنی گناہوں سے اجتناب اور تقویٰ، امام کی خوشنودی اور قرب کا راستہ ہے۔

۳۔ دعا برائے تعجیلِ ف*ج

امام حسن عسکری علیہ السلام نے فرمایا:
أَكثِرُوا الدُّعاءَ بِتَعجِيلِ الفَرَج، فَإِنَّ ذلِكَ فَرَجُكُم."
"ف*ج کے لیے زیادہ دعا کرو، کیونکہ یہی تمہارا ف*ج ہے۔"
(کمال الدین، ج۲)

روزانہ دعائے “اللّٰھم عجل لولیک الف*ج” پڑھنا، امام سے قلبی رابطہ قائم رکھتا ہے۔

۴۔ انتظارِ حقیقی (عملی انتظار)

امام جعفرصادقؑ نے فرمایا:
أفضل الأعمال انتظار الف*ج."
"سب سے افضل عمل انتظارِ ف*ج ہے۔"
(کمال الدین، ج۲)
یعنی ایسا انتظار جو انسان کو اصلاحِ نفس، خدمتِ دین، عدل و صداقت کی راہ پر ڈال دے۔

۵۔ امام سے قلبی تعلق و یاد

امام کو یاد کرنا، اُن کے لیے صدقہ دینا، اُن کے سلام کے کلمات کہنا — یہ دل کو اُن کے قرب میں لے آتے ہیں۔
مثلاً:
السلام علیک یا بقیة الله فی أرضه.

۶۔ مظلوموں کی مدد اور مومنین کی دلجوئی
رسولِ خدا ﷺ نے فرمایا:
جو مومن کی دنیاوی پریشانی دور کرے، اللہ قیامت میں اُس کی پریشانی دور کرے گا۔"
(وسائل الشیعہ، ج۱۶)

امامؑ کے چاہنے والے مخلوقِ خدا کے لیے رحمت ہوتے ہیں۔ ایسے بندے امام کے قریب تر ہوتے ہیں۔

۷۔ نمازِ شب اور خلوصِ عبادت

رات کی تنہائی میں، امام زمانہؑ کے لیے دعا اور گریہ انسان کے دل کو نورانی اور امام کے قرب کے لائق بناتا ہے۔۔۔
اپنامال پاک کیجئیے
گناہوں کی معافی طلب کیجئے
واجبات اداکیجئے
تاکہ اعمال کی قبولیت میں رکاوٹ نہ رہے۔۔
*اورامامِ وقت کاقرب نصیب ہو*

کوئی اس اردوکاترجمہ کردے
27/09/2025

کوئی اس اردوکاترجمہ کردے

27/09/2025

*عرش کی دائیں جانب کون*

عَنْ عِيسَى بْنِ أَبِي مَنْصُورٍ قَالَ: كُنْتُ عِنْدَ أَبِي عَبْدِ اَللَّهِ عَلَيْهِ السَّلاَمُ أَنَا وَ عَبْدُ اَللَّهِ بْنُ أَبِي يَعْفُورٍ وَ عَبْدُ اَللَّهِ بْنُ طَلْحَةَ فَقَالَ عَلَيْهِ السَّلاَمُ اِبْتِدَاءً يَا اِبْنَ أَبِي يَعْفُورٍ قَالَ رَسُولُ اَللَّهِ صَلَّى اَللَّهُ عَلَيْهِ وَ آلِهِ سِتُّ خِصَالٍ مَنْ كُنَّ فِيهِ كَانَ بَيْنَ يَدَيِ اَللَّهِ عَزَّ وَ جَلَّ وَ عَنْ يَمِينِ اَللَّهِ عَزَّ وَ جَلَّ قَالَ اِبْنُ أَبِي يَعْفُورٍ وَ مَا هِيَ جُعِلْتُ فِدَاكَ قَالَ يُحِبُّ اَلْمَرْءُ اَلْمُسْلِمُ لِأَخِيهِ مَا يُحِبُّ لِأَعَزِّ أَهْلِهِ وَ يَكْرَهُ اَلْمَرْءُ اَلْمُسْلِمُ لِأَخِيهِ مَا يَكْرَهُ لِأَعَزِّ أَهْلِهِ وَ يُنَاصِحُهُ اَلْوَلاَيَةَ فَبَكَى اِبْنُ أَبِي يَعْفُورٍ وَ قَالَ كَيْفَ يُنَاصِحُهُ اَلْوَلاَيَةَ قَالَ يَا اِبْنَ أَبِي يَعْفُورٍ إِذَا كَانَ مِنْهُ بِتِلْكَ اَلْمَنْزِلَةِ بَثَّهُ هَمَّهُ يَهُمُّ لِهَمِّهِ وَ فَرِحَ لِفَرَحِهِ إِنْ هُوَ فَرِحَ وَ حَزِنَ لِحُزْنِهِ إِنْ هُوَ حَزِنَ فَإِنْ كَانَ عِنْدَهُ مَا يُفَرِّجُ عَنْهُ فَرَّجَ عَنْهُ وَ إِلاَّ دَعَا اَللَّهَ لَهُ قَالَ ثُمَّ قَالَ أَبُو عَبْدِ اَللَّهِ عَلَيْهِ السَّلاَمُ ثَلاَثٌ لَكُمْ وَ ثَلاَثٌ لَنَا أَنْ تَعْرِفُوا فَضْلَنَا وَ أَنْ تَطَئُوا أَعْقَابَنَا وَ تَنْظُرُوا عَاقِبَتَنَا فَمَنْ كَانَ هَكَذَا كَانَ بَيْنَ يَدَيِ اَللَّهِ فَيَسْتَضِيئُ بِنُورِهِمُ مَنْ هُوَ أَسْفَلُ مِنْهُمْ فَأَمَّا اَلَّذِينَ عَنْ يَمِينِ اَللَّهِ فَلَوْ أَنَّهُمْ يَرَاهُمْ مَنْ دُونَهُمْ لَمْ يَهْنِئْهُمُ اَلْعَيْشُ مِمَّا يَرَوْنَ مِنْ فَضْلِهِمْ فَقَالَ اِبْنُ أَبِي يَعْفُورٍ مَا لَهُمْ فَمَا يَرَوْنَهُمْ وَ هُمْ عَنْ يَمِينِ اَللَّهِ قَالَ يَا اِبْنَ أَبِي يَعْفُورٍ إِنَّهُمْ مَحْجُوبُونَ بِنُورِ اَللَّهِ أَ مَا بَلَغَكَ حَدِيثُ أَنَّ رَسُولَ اَللَّهِ صَلَّى اَللَّهُ عَلَيْهِ وَ آلِهِ كَانَ يَقُولُ إِنَّ اَلْمُؤْمِنِينَ عَنْ يَمِينِ اَللَّهِ وَ بَيْنَ يَدَيِ اَللَّهِ وُجُوهُهُمْ أَبْيَضُ مِنَ اَلثَّلْجِ وَ أَضْوَأُ مِنَ اَلشَّمْسِ اَلضَّاحِيَةِ فَيَسْأَلُ اَلسَّائِلُ مَنْ هَؤُلاَءِ فَيُقَالُ هَؤُلاَءِ اَلَّذِينَ تَحَابُّوا فِي جَلاَلِ اَللَّهِ۔

جناب عیسیٰ بن ابی منصور نے بیان کیا ہے که حضرت امام جعفرصادق علیہ السلام کی خدمت اقدس میں موجود تھا اور میرے ساتھ ابن ابی یعفور اور عبدالله بن طلحه بھی موجود تھے امامؑ نے خود کلام کا آغاز کرتے ہوئے فرمایا:اے ابن ابی یعفور !حضرت رسول خدا صلی الله علیه وآله وسلم نے فرمایا:چھ(6)خصال (اوصاف)ایسے ہیں جس بندے میں ہونگے وہ خداکے سامنے اس کے عرش کے دائیں جانب ہوگا۔
ابن ابی یعفور نے عرض کیا میں آپؑ پر قربان ہوجاؤں وہ کون سے اوصاف ہیں؟
آپؑ نے فرمایا:اپنے مسلمان بھائی کے لئے وہی پسند کرے جو وہ اپنے لئے پسند کرتا ہے جو وہ اپنے لئے پسند نہیں کرتا وہ مسلمان بھائی کے لئے بھی پسند نه کرےاور نہ ہی اس کے خاندان کے لئے پسند کرے اور اس کے ساتھ خالص اور پختہ دوستی رکھتا ہو۔
ابن ابی یعفور نے رونا شروع کردیا اور عرض کیا مولا خالص اور پختہ دوستی کیسے ہوتی ہے آپؑ نے فرمایا:اے ابن ابی یعفور تیری دوستی اس کے ساتھ منزلت و مقام پر ہو که وہ تیرے سامنے اپنا درد دل بیان کرسکے اگر وہ خوش ہو تو تو بھی خوش ہو،اور وہ غمزدہ ہے تو تو بھی غمگین ہو،اور اگر تو اس کی مدد کرسکے تو مدد کرو ورنه اس کے لئے دعا کرو ،
اس کے بعد امام صادق علیه السلام نے فرمایا:تین چیزیں تمہارے لئے ہیں اور تین چیزیں ہمارے لئے ہیں وہ تین چیزیں جو تمہارے لئے ہیں یعنی تمہاری طرف سے ہیں :1۔ہمارے فضل وفضیلت کی معرفت حاصل کرو ،2۔ہماری اطاعت کرو،3۔ہماری حکومت و ظہور مہدیؑ کا انتظار کرو ۔
پس جو اس طرح ہوگا وہ خدا کی بارگاہ میں یوں ہوگا که جو که کم درجه پر ہونگے وہ ان کے نور سے روشنی حاصل کریں گے اور وہ جو رحمت خدا کے دائیں جانب ہونگے پس وہ جو ان سے کم درجه پر ہیں وہ اگر ان فضل وعظمت کو دیکھیں گے تو ان کے لئے زندگی کی خوشی ناگوار وتلخ ہوجائےگی۔
ابن ابی یعفور نے عرض کیا :کیا وجه ہے که وہ کم درجه والے ان کو دیکھ نہیں پائیں گے حالانکه وہ رحمت خدا کے دائیں جانب ہونگے؟ آپؑ نے فرمایا:اے ابن ابی یعفور !وہ الله کے نور کے پردوں میں ہونگے کیا رسول خداصلی الله علیه وآله وسلم کی حدیث آپؑ تک نہیں آئی که جس سے آپؐ نے فرمایا:الله تعالیٰ کی ایک مخلوق ہے جو اس کے عرش کے دائیں جانب اس کے سامنے اور بائیں جانب ہوگی اور انکے چہرے و رخسار برف سے بھی زیادہ سفید ہونگے اور سورج سے زیادہ چمک دار ہونگے سوال کرنے والا ان کے بارے میں سوال کرےگا که یه کون ہیں؟
تو اس کو جواب دیا جائےگا یه وہ لوگ ہیں جو ایک دوسرے سےخدا کی عظمت ،جلالت کی وجه سے دوستی و محبت رکھتے تھے۔

الرواية معتبرة الإسناد.موسوعة أحاديث أهل البيتؑ-الشيخ هادي النجفي- ج ٨-الصفحة ٣٧١
حدیث کی سند صحیح ہے۔مراۃ العقول:علامہ مجلسی:ج9:ص42
الكافي ج 2 ص 172، المؤمن ص 41, الوافي ج 5 ص 562, وسائل الشيعة ج 8 ص 542، بحار الأنوار ج 71 ص 251، مستدرك الوسائل ج 9 ص 44

25/09/2025

*حضرت صاحب العصر و الزمان عجل اللہ تعالیٰ ف*جہ الشریف نےفرمایا*

عمل کی اہمیت

> فَلْيَعْمَلْ كُلُّ ٱمْرِئٍ مِنْكُمْ بِمَا يُقَرِّبُ بِهِ مِنْ مَحَبَّتِنَا، وَيَتَجَنَّبْ مَا يُدْنِيهِ مِنْ كَرَاهَتِنَا وَسَخَطِنَا

ترجمہ:
تم میں سے ہر شخص وہ عمل کرے جو ہماری محبت کے قریب کرے اور ان کاموں سے بچے جو ہماری ناراضگی اور غضب کے قریب کرتے ہیں۔
📚 [الاحتجاج، ج٢، ص٣٢٤]

Address

Chakwal
48800

Alerts

Be the first to know and let us send you an email when لبیک یامہدی علیہ السلام posts news and promotions. Your email address will not be used for any other purpose, and you can unsubscribe at any time.

Contact The Place Of Worship

Send a message to لبیک یامہدی علیہ السلام:

Share