صوفی شاعر طفیل باقر قلندری

01/08/2026
‎یونس ایمرے اور ان کے اشعار سات سو سال سے بھی زیادہ عرصے سے دلوں میں بسے ہوئے ہیں اور زبانوں سے ادا ہو رہے ہیں۔ میں نے ا...
25/07/2026

‎یونس ایمرے اور ان کے اشعار سات سو سال سے بھی زیادہ عرصے سے دلوں میں بسے ہوئے ہیں اور زبانوں سے ادا ہو رہے ہیں۔ میں نے اناطولیہ کے دور دراز گاؤں میں لوگوں کو اپنے آباؤ اجداد سے سنے اور سیکھے ہوئے یونس ایمرے کے نغمے الاپتے ہوئے سنا ہے۔ آسٹریلیا میں ایک ایسے پاکستانی سے ملا جس نے مجھے یونس کے مذہبی گیت اور اشعار سنائے، حالانکہ وہ ترکی زبان سے ناواقف تھا۔ مجھے یہ بھی معلوم ہوا ہے کہ البانیہ اور دوسرے بلقان ممالک میں یونس کے اشعار زبان زد خاص و عام ہیں۔
‎ترکیہ میں کوئی ایسا شخص ہے جو یونس ایمرے کو پسند نہ کرتا ہو، یا جس کا ان سے لگاؤ نہ ہو؟ یونس ایمرے کا نام جہاں بھی لیا جائے وہاں لوگوں کے چہرے کھل جاتے ہیں اور ان کے دل دوستی و محبت کے جذبات سے بھر جاتے ہیں۔ یونس ایمرے سے محبت ایک ایسا رشتہ ہے جس نے ہم سبھوں کو ایک دوسرے سے سختی سے جکڑ رکھا ہے، یہ دراصل ایک قیمتی سرمایہ ہے۔ اس پر ہم جتنا بھی فخر کریں کم ہے۔ اس لحاظ سے یونس کا ہم پر بڑا احسان ہے۔
‎آذر بائیجان کے عظیم شاعر وہاب زادہ نے لوگوں کے اس استجاب پر کہ یونس تو مرے صرف ایک جگہ پر لیکن ان کی قبریں اور مزارات ہزاروں جگہوں پر ہیں، کیا خوب کہا ہے:
‎روزانہ بارہا لوگوں کے دلوں میں کھودا جاتا ہے اس کا مزار
‎سبزہ و چمن زاروں میں، پھولوں میں، گلوں میں اس کا مزار

‎افسانہ ہے یا حقیقت ہے یہ انسان، یہ عظیم انسان
‎یہ ہے اصل میں ترکوں کے ساز سے نکلی ہوئی صدائے وجود
‎جی ہاں! یونس ایمرے ‘صدائے وجود و ہستی ہیں‘۔ وہ وحدت الوجود کے قائل تھے۔ اس بنا پر وہ سبزوں میں اور سبزہ زاروں میں ہیں، پھولوں اور چمن زاروں میں ہیں اور انسانوں کے دلوں میں ہیں۔ وجود‘ موجودگی اور موجودات عالم کی حیثیت‘ عالم وجود میں انسان کا بلند و ارفع مقام اور اس مقام و مرتبے کا صحیح احساس و ادراک یونس کے کلام اور فکر و فن کی بنیادیں ہیں۔ یعنی وہ ایک اسلامی صوفی ہیں، ‘درویش یونس‘ ہیں۔

🌤️ نمازِ عصر کی یاددہانی 🌤️رسول اللہ ﷺ نے فرمایا:"جس شخص کی نمازِ عصر فوت ہو گئی، گویا اس کے اہل و مال سب چھین لیے گئے۔"...
25/07/2026

🌤️ نمازِ عصر کی یاددہانی 🌤️

رسول اللہ ﷺ نے فرمایا:
"جس شخص کی نمازِ عصر فوت ہو گئی، گویا اس کے اہل و مال سب چھین لیے گئے۔"
(صحیح بخاری: 552، صحیح مسلم: 626)
🕌 آئیے! نمازِ عصر کی حفاظت کریں اور اسے بروقت ادا کریں۔
🤲 یا اللہ! ہمیں تمام نمازوں، خصوصاً نمازِ عصر کی حفاظت کرنے والوں میں شامل فرما۔ آمین۔ 🌹

شیعوں کا جنازہ پڑھنے سے ۔۔۔ نکاح ٹوٹنے والی روایت لگتا ہے سعودیوں نے نہیں پڑھی 🔴پاکستانی فرقہ باز مولویوں کو چاہیے اصلی ...
07/07/2026

شیعوں کا جنازہ پڑھنے سے ۔۔۔ نکاح ٹوٹنے والی روایت لگتا ہے سعودیوں نے نہیں پڑھی 🔴

پاکستانی فرقہ باز مولویوں کو چاہیے اصلی والا دین افغانی ط۔۔۔۔۔ سعودی شیخوں اور مصر کے مفتیوں کو بھی پڑھائیں

یا یہ صرف غریب پاکستانیوں کو ایک دوسرے سے لڑانے کے لیے ہی رکھا ہوا ہے ۔۔۔

مجھے لگتا ہے یہ کمزور اور کچا پکا نکاح پاکستانیوں کا ہی ہے ورنہ ۔۔۔ سنا نہیں کہ

افغانی اور سعودی وفد نے واپس جا کر دوبارہ نکاح پڑھے ہوں ۔۔۔ یا میری معلومات کم ہیں

امریکی و اسرائیلی ایجنسیوں کی لگائی ہوئی ۔۔۔ فرقہ واریت کی آگ ۔۔۔۔ رہبر نے اپنے خون سے سرد کر دی ہے

اگر ہم چاہتے ہیں کہ رہبر کا خون رائیگاں نہ جائے تو ۔۔۔ ہمیں اپنے اپنے مسلک میں چھپے دوسروں کے لیے غلیظ زبان کا استعمال کرنے اور فرقوں کی آگ میں تیل ڈالنے والوں کا راستہ روکنا ہوگا ۔۔۔ 🚩

‎نفس کی سات اقسام ہیں جنکے نام درج ذیل ہیں :‎١۔ نفس امارہ‎٢۔ نفس لوامہ‎٣۔ نفس ملھمہ‎۴۔ نفس مطمئنہ‎۵۔ نفس راضیہ‎۶۔ نفس مر...
06/07/2026

‎نفس کی سات اقسام ہیں جنکے نام درج ذیل ہیں :
‎١۔ نفس امارہ
‎٢۔ نفس لوامہ
‎٣۔ نفس ملھمہ
‎۴۔ نفس مطمئنہ
‎۵۔ نفس راضیہ
‎۶۔ نفس مرضیہ
‎٧۔ نفس کاملہ
‎▪نفس امارہ پہلا نفس ہے، یہ سب سے زیادہ گناہوں کی طرف مائل کرنے والا اور دنیاوی رغبتوں کی جانب کھینچ لے جانے والا ہے۔ ریاضت اور مجاہدہ سے اس کی برائی کے غلبہ کو کم کر کے جب انسان نفس امارہ کے دائرہ سے نکل آتا ہے تو لوامہ کے مقام پر فائز ہو جاتا ہے۔ اس مقام پر دل میں نور پیدا ہو جاتا ہے۔ جو باطنی طور پر ہدایت کا باعث بنتا ہے ۔
‎▪جب نفس لوامہ کا حامل انسان کسی گناہ یا زیادتی کا ارتکاب کر بیٹھتا ہے تو اس کا نفس اسے فوری طور پر سخت ملامت کرنے لگتا ہے اسی وجہ سے اسے لوامہ یعنی سخت ملامت کرنے والا کہتے ہیں۔
‎اللہ تعالیٰ نے قرآن مجید میں اس نفس کی قسم کھائی ہے :
‎" وَلَا اُقْسِمُ بِالنَّفْسِ اللَّوَّامَةِ° "
‎’’اور میں نفس لوامہ کی قسم کھاتا ہوں۔‘‘
‎﴿سورة الْقِیٰمَة : ٢﴾
‎▪تیسرا نفس، نفس ملہمہ ہے۔ جب بندہ ملہمہ کے مقام پر فائز ہوتا ہے تو اس کے داخلی نور کے فیض سے دل اور طبعیت میں نیکی اور تقوی کی رغبت پیدا ہو جاتی ہے۔
‎▪چوتھا نفس مطمئنہ ہے جو بری خصلتوں سے بالکل پاک اور صاف ہو جاتا ہے اور حالت سکون و اطمینان میں آجاتا ہے۔
‎یہ نفس بارگاہ الوہیت میں اسقدر محبوب ہے کہ حکم ہوتا ہے :
‎يَا أَيَّتُهَا النَّفْسُ الْمُطْمَئِنَّةُ ﴿۲۷﴾ ارۡجِعِیۡۤ اِلٰی رَبِّکِ ﴿۲۸﴾
‎’’اے نفس مطمئنہ اپنے رب کی طرف لوٹ آ۔‘‘
‎{سورة الْفَجْر : ۲۷ تا ٢٨}
‎یہ نفس مطمئنہ اولیاء اللہ کا نفس ہے یہی ولایت صغریٰ کا مقام ہے۔
‎▪اس کے بعد نفس راضیہ، مرضیہ اور کاملہ یہ سب ہی نفس مطمئنہ کی اعلیٰ حالتیں اور صفتیں ہیں اس مقام پر بندہ ہر حال میں اپنے رب سے راضی رہتا ہے اس کا ذکر ان الفاظ میں کیا گیا ہے۔
‎" ارْجِعِي إِلَى رَبِّكِ رَاضِيَةً مَّرْضِيَّةً° ﴿۲۸﴾
‎" تو اپنے رب کی طرف اس حال میں لوٹ آکہ تو اس کی رضا کا طالب بھی ہو اور اس کی رضا کا مطلوب بھی (گویا اس کی رضا تیری مطلوب ہو اور تیری رضا اس کی مطلوب) .{سورة الْفَجْر : ۲٨}
‎" فَادْخُلِي فِي عِبَادِي° " ﴿۲٩﴾
‎" پس تو میرے (کامل) بندوں میں شامل ہو جا" {سورة الْفَجْر : ۲٩}
‎" وَادْخُلِي جَنَّتِي° " ﴿٣٠﴾
‎"اور میری جنتِ (قربت و دیدار) میں داخل ہو جا" {سورة الْفَجْر : ٣٠}
‎🌿 نفس کی اصلاح ہی کامیابی کا راستہ ہے۔

اگر یہ پوسٹ اچھی لگے تو زیادہ سے زیادہ لائک ❤️، شیئر 🔄 کریں تاکہ مزید لوگ بھی فائدہ حاصل کر سکیں۔

01/07/2026

شمس تبریز رح

جب حضرت بی بی زینب سلام اللہ علیہا کو یزید کے دربار میں لایا گیا تو یزید نے یہ آیت پڑھی:"وتُعِزُّ مَن تَشَاءُ وَتُذِلُّ ...
30/06/2026

جب حضرت بی بی زینب سلام اللہ علیہا کو یزید کے دربار میں لایا گیا تو یزید نے یہ آیت پڑھی:

"وتُعِزُّ مَن تَشَاءُ وَتُذِلُّ مَن تَشَاءُ "

اور کہا: "دیکھ لو! آج اللہ نے مجھے عزت دی ہے اور تم اس حال میں ہو۔ اللہ نے مجھے اختیار اور حکومت عطا کی ہے جبکہ تم بے بس اور قیدی ہو۔"

حضرت بی بی زینب سلام اللہ علیہا نے فرمایا:
"ہوا کا شور بہت ہے، تمہاری آواز ٹھیک طرح سنائی نہیں دے رہی، اگر تم صاحبِ اختیار ہو تو اس ہوا کو روک دو۔"

یزید نے کہا: "یہ میرے اختیار میں نہیں۔"

آپؑ نے فرمایا:
"یہ گھوڑے زمین پر ٹاپیں مار رہے ہیں، ان کو روک دو۔"

یزید نے جواب دیا:
"یہ بھی میرے اختیار میں نہیں۔"

پھر فرمایا:
"اونٹوں کے گلے کی گھنٹیاں بج رہی ہیں، اس شور میں بات سمجھ نہیں آ رہی، انہیں خاموش کرو۔"

یزید نے کہا:
"یہ بھی میرے بس میں نہیں۔"

تب حضرت بی بی زینب سلام اللہ علیہا نے ہاتھ اٹھائے اور فرمایا:
"خاموش ہو جاؤ!"

روایت کے مطابق ہوا کا شور تھم گیا، گھوڑے ساکت ہو گئے اور اونٹ بھی ٹھہر گئے۔

آپؑ نے فرمایا:
"یہ ہوتا ہے اختیار! تم آج بھی بے اختیار اور بے بس ہو۔ تم ہماری آزمائش کو اپنی عزت سمجھ بیٹھے ہو۔"

سلام ہو اے دخترِ علیؑ!
سلام ہو اے نواسیِ رسول ﷺ!
آپ کی جرأت، استقامت اور عظمت کو سلام۔

‎جب حضرت نوح ؑ کشتی بنا رہے تھے تو ایک مومنہ بوڑھی عورت روز اللہ کے نبی کے پاس اپنی گٹھڑی لے کر آتی اور کہتی ”اے اللہ کے...
30/06/2026

‎جب حضرت نوح ؑ کشتی بنا رہے تھے تو ایک مومنہ بوڑھی عورت روز اللہ کے نبی کے پاس اپنی گٹھڑی لے کر آتی اور کہتی ”اے اللہ کے نبی، کب کشتی روانہ ہوگی؟“ حضرت نوح ؑ فرماتے ”ابھی دیر ہے۔“ وہ عورت شام تک بیٹھی رہتی اور پھر اٹھ کر چلی جاتی-
‎ایک دن حضرت نوح ؑ نے فرمایا کہ اے عورت، جب جانا ہوا تو تمہیں بتا دیا جائے گا۔ یہ عورت واپس چلی گئی اور انتظار کرنے لگی کہ کب نوح بلائیں گے۔ اس دوران عذاب آگیا اور کشتی روانہ ہو گئی لیکن حضرت نوح علیہ السلام نے اس عورت کو نہ بلایا(ظاہری طور پر نوح ؑ کو اس کو بلانا بھلا دیا گیا)-
‎جب طوفان تھما توایک دن حضرت نوح ؑ کے دل میں محبت اٹھی کہ شہر کو دیکھوں جہاں سے چلا تھا۔ وہاں آئے اور قریب جا کر دیکھا تو ایک جھونپڑی میں دیا جل رہا تھا۔ حضرت نوح ع یہ دیکھ کر چونک گئے کہ روئے زمین پر کوئی ایسا! گھر بھی ہے کہ اتنے عظیم طوفان کے بعد بھی جس میں چراغ جل رہا ہے۔ انہوں نے وہاں تکبیر بلند کی تو وہ عورت سامان لے کر آگئی اور کہنے لگی ”یا نبی اللہ، کیا کشتی تیار ہے چلیں؟“ حضرت نوح ؑ نے حیرت سے اسکو دیکھا اور کہا ” رکو بوڑھیا- کیا تمہیں کچھ بھی پتا نہیں چلا“- وہ کہنے لگی ”یا نبی اللہ، کیا نہیں پتا چلا؟“ کہا: ”اتنا بڑا سیلاب آیا، بارش آئی، تمہیں کچھ بھی پتا نہیں چلا“- بڑھیا کہنے لگی ” یا نبی اللہ، بس ایک دن بادل گرجے تھے اور کچھ ہلکی سی پھوہار پڑی تھی“- حضرت نوح ؑ حیران ہو کر آسمان کی طرف دیکھنے لگے اور کہا ” میرے اللہ، یہ کیا ماجرا ہے؟“ اللہ تعالیٰ نے حضرت نوح ؑ پر وحی بھیجی کہ اے میرے پیارے نبی، اس عورت کے دل میں چونکہ تمھاری محبت تھی اور تم نے اسے پابند کر دیا تھا اور چونکہ تمہارا اس سے وعدہ بھی تھا کہ نجات کی کشتی میں اسے لے جاؤ گے، تب جبکہ تم نے اپنا وہ وعدہ پورا نہیں کیا- لیکن اے نوح ؑ، میں تو تمہارے وعدے کا ذمے دار تھا، اس لیے میں نے اس بڑھیا تک عذاب پہنچنے ہی نہیں دیا۔۔۔۔

Address

Burewala
UNKNOWN

Telephone

+923096631289

Website

Alerts

Be the first to know and let us send you an email when صوفی شاعر طفیل باقر قلندری posts news and promotions. Your email address will not be used for any other purpose, and you can unsubscribe at any time.

Contact The Place Of Worship

Send a message to صوفی شاعر طفیل باقر قلندری:

Shortcuts

Share