Islam Is The Only Solution

Islam Is The Only Solution This page is designed for Posts about Islam.

میں نے بار ہا اس موضوع پر غور کیا کہ“موت“ کیا ہے؟اس سے زندگی کا کیا رشتہ ہے؟ایک دفعہ میں نے ایک سمندری جہاز دیکھا، جب وہ...
02/06/2025

میں نے بار ہا اس موضوع پر غور کیا کہ
“موت“ کیا ہے؟
اس سے زندگی کا کیا رشتہ ہے؟
ایک دفعہ میں نے ایک سمندری جہاز دیکھا، جب وہ ساحل سے دور ہوا اور نظروں سے اوجھل ہو گیا تو لوگوں نے کہا کہ “چلا گیا“.
میں نے سوچا دور ایک بندر گاہ ہو گی، وہاں یہی جہاز دیکھ کر لوگ کہہ رہے ہوں گے کہ “آ گیا“
شاید اسی کا نام موت ہے، ایک پرانی زندگی کا خاتمہ اور نئی زندگی کی ابتداء۔۔۔
خلیل جبران

4 جولائی 1187 وہ تاریخی دن تھا جب معرکہ حطین میں مسلمانوں نے سلطان صلاح الدین ایوبی کی قیادت میں صلیبی لشکر کو شکست دے ک...
03/03/2025

4 جولائی 1187 وہ تاریخی دن تھا جب معرکہ حطین میں مسلمانوں نے سلطان صلاح الدین ایوبی کی قیادت میں صلیبی لشکر کو شکست دے کر بیت المقدس کی فتح کے لیے راہ ہموار کی.
اس معرکے میں فتح کی اصل وجہ میدان جنگ میں تلواروں کے ٹکرانے سے زیادہ صلاح الدین ایوبی کی بہترین strategy تھی، انہوں نے صلیبی لشکر کو ایک ایسے تھکا دینے والے راستے کی طرف دکھیلا جس پر جولائی کی گرمی میں صلیبیوں کے لئے گذرنا ممکن نہیں تھا اور پھر کچھ ایسے اعمال کئے جس سے صلیبیوں کی جنگ لڑنے کی ہمت ہی باقی نہ رہی.

صلاح الدین نے پانی کے بڑے ذخائر سے صلیبیوں کو محروم رکھا جبکہ ان کے اپنے لشکر میں اس کی فراوانی تھی. مؤرخین لکھتے ہیں کہ جب صلیبی لشکر گرمی میں پیاس کی شدت سے نڈھال ہو کر چلنے سے بھی قاصر تھے اس وقت سلطان کے لشکر میں پانی اس حد تک موجود تھا کہ نہ صرف پی رہے تھے بلکہ اس کو سروں پر اچال رہے تھے.

حالات کو صلیبیوں کے لئے مزید خراب کرنے کے لئے صلاح الدین ایوبی نے خشک گھاس اور جھاڑیوں میں آگ لگا دی تھی جس کا دھواں صلیبیوں کے لئے عذاب سے کم نہ تھا. جولائی کی گرمی، صلیبیوں کے آہنی لباس، پتھریلا راستہ، پیاس کی شدت اور پھر آگ سے اٹھنا والا دھواں، یہ وہ چیز تھی جس نے تلواریں ٹکرانے سے قبل ہی صلیبی فوج کو یہ احساس دلا دیا تھا کہ ان کو شکست تو جنگ سے قبل ہی مل چکی.

اور یہ سب صلاح الدین ایوبی نے اپنے نام کے لئے نہیں بلکہ اسلام کے لئے کیا تھا، یہی وجہ ہے کی وہ اپنے لشکر سے مخاطب ہو کر فرماتے ہیں کہ 'میری خاطر نہیں صرف اللہ کے لئے جہاد کرو❤

اسی لئے جب لشکر آخر میں ٹکرائے تو صلیبی جنگ ہی نہ کرسکے اور ان کو ایسی شکست ہوئی کہ پورے خطے میں ان کو بچانے والا کوئی نہ تھا. اس معرکے میں صلیبی فوجی قیادت قتل ہوئی اور قیدی اتنے تھے کہ ان کو دمشق میں جوتے کے جوڑوں کے بدلے بیچا گیا.

یہاں سے فراغت پا کر صلاح الدین ایوبی نے لشکر کو مختلف قلعوں اور علاقوں کی طرف روانہ کیا اور مختصر عرصے میں درجنوں علاقے صلیبی قبضے سے آزاد ہوئے جیسے کہ طبریہ، عکا، صدا، بیروت، عسقلان وغیرہ. پھر یہی وہ فوج تھی جو سفر کرتے ہوئے 20 ستمبر کو القدس کے باہر پہنچی جہاں صلیبیوں کا ایک محدود لشکر موجود تھا جس نے مختصر مدت لڑنے کے بعد شکست قبول کرنے کو غنیمت جانا اور شہر مسلمانوں کے حوالے کیا. اور یوں مسجد اقصٰی میں کئی سالوں بعد پھر نعرہ تکبیر بلند ہوئی اور مسلمان سجدہ ریز ہوئے❤

‏لوگوں کا خیال ہے کہ مجاھد کا دل پتھر کی طرح سخت ہوتا ہےوہ نہیں جانتے کہ مجاھد کا دل تمام انسانوں کے دلوں کے مقابلہ میں ...
25/01/2025

‏لوگوں کا خیال ہے کہ مجاھد کا دل پتھر کی طرح سخت ہوتا ہے
وہ نہیں جانتے کہ مجاھد کا دل تمام انسانوں کے دلوں کے مقابلہ میں نرم ہوتا ہے
جبھی تو وہ امت مسلمہ کا غم سمجھ لیتا ہے اور باقی لوگ باتیں کرتے رہ جاتے ہیں.

بے مثال شفقتمعاشرتی زندگی میں رویہ بہت اہمِیت کا حامل ہے۔ عموما ماں باپ، بھائی بہن، مالک ملازم، اپنے پرائے، دوست دشمن غر...
15/09/2024

بے مثال شفقت

معاشرتی زندگی میں رویہ بہت اہمِیت کا حامل ہے۔ عموما ماں باپ، بھائی بہن، مالک ملازم، اپنے پرائے، دوست دشمن غرض ہر ایک سے مختلف طرح کا رویہ رکھا جاتا ہے۔ بہترین رویہ وہ ہے جو شفقت، مہربانی، عاجِزی، نرمی اور ہمدردی جیسی اچھی صِفات سے بھرا ہو۔

اسلام نے ہر ایک سے بہترین برتاؤ کرنے اور اچھا رویہ رکھنے کی تعلیم دی ہے۔ نبی کریم ﷺ بچوں کے ساتھ انتہائی پیار اور شفقت سے پیش آتے تھے۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم کا فرمان ہے! جو چھوٹوں پر رحم نہ کرے اور بڑوں کی تعظیم نہ کرے وہ ہم میں سے نہیں (سنن ابی داؤد 4943)

آپ ﷺ انتہائی نرم طبیعت کے مالک تھے آپ ﷺ کا فرمان ہے! جو نرمی سے محروم ہے وہ تمام خیر سے محروم ہے (مسلم 2592) حتی کے غلاموں کے ساتھ بھی انتہائی شفیق و نرم رویہ اپناتے تھے۔ اور سیدنا انس رضی اللہ تعالی عنہ خود فرماتے ہیں کہ میں نے دس سال نبی کریم ﷺ کی خدمت کی آپ نے کبھی مجھے اف تک نہ کہا اور نہ ہی مجھے یہ فرمایا کہ یہ کام کیوں کیا اور یہ کام کیوں نہیں کیا (جامع ترمذي 2015)

اللہ سبحانہ و تعالی ہمیں نبی کریم ﷺ کے اخلاق اپنا کر ایک مثالی معاشرہ تشکیل کرنے کی توفیق عطا فرمائے۔ آمین

وصلی الله على سيدنا محمد خاتم النبيين والنبأ العظيم وعلى آله وصحبه وازواجه وسلم اجمعين ❤️❤️❤️

*اپنی کم تنخواہ پر غم نا کریں ہوسکتا ہے آپکو رزق کے بدلے کچھ اور دے دیدیا گیا ہو*ایک بڑے محدث فقیہ اور امام وقت فرماتے ہ...
14/09/2024

*اپنی کم تنخواہ پر غم نا کریں ہوسکتا ہے آپکو رزق کے بدلے کچھ اور دے دیدیا گیا ہو*

ایک بڑے محدث فقیہ اور امام وقت فرماتے ہیں کہ

○ *ليس شرطا أن يكون الرزق مالا*
*قد يكون الرزق خلقا أو جمالا*

رزق کے لئے مال کا ہونا شرط نہیں
یہ بھی تو ہو سکتا ہے کسی کو رزق کی صورت اچھا اخلاق یا پھر حسن و جمال دے دیا گیا ہو

○ *قد يكون الرزق عقلا راجحا*
*زاده الحلم جمالا وكمالاً*

یہ بھی تو ہو سکتا ہے کسی کو رزق کی صورت میں عقل و دانش دے دی گئی ہو اور وہ فہم اس کو نرم مزاجی
اور تحمل و حلیمی عطا دے

○ *قد يكون الرزق زوجا صالحا*
*أو قرابات كراما وعيالا*

یہ بھی تو ہو سکتا ہے
کہ کسی کو رزق کی صورت میں بہترین شخصیت کا حامل شوہر یا بہترین خصائل و اخلاق والی بیوی مل جاے
مہربان کریم دوست اچھے رشتہ دار یا نیک و صحت مند اولاد مل جاے

○ *قد يكون الرزق علما نافعا*
*قد يكون الرزق أعمارا طوالا*

یہ بھی تو ہو سکتا ہے کسی کو رزق کی صورت علم نافع دے دیا گیا ہو اور
یہ بھی ہو سکتا ہے
کہ اُسے رزق کی صورت لمبی عمر دے دی گئی ہو

○ *قد يكون الرزق قلبا صافيا*
*يمنح الناس ودادا ونَوالا*

یہ بھی تو ہو سکتا ہے کسی کو رزق کی صورت ایسا پاکیزہ دل دے دیا گیا ہو جس سے وہ لوگوں میں محبت اور خوشیاں بانٹتا پھر رہا ہو

○ *قد يكون الرزق بالا هادئا إنما المرزوق* *من يهدأ بالا*

یہ بھی تو ہو سکتا ہے کسی کو رزق کی صورت ذہنی سکون دے دیا گیا وہ شخص بھی تو خوش نصیب ہی ہے جس کو ذہنی سکون عطا کیا گیا ہو

○ *قد يكون الرزق طبعا خيّرا*
*يبذل الخير يمينا وشمالا*

یہ بھی تو ہو سکتا ہے کسی کو رزق کی صورت نیک و سلیم طبع عطاکی گئی ہو
وہ شخص اپنی نیک طبیعت کی وجہ سے اپنے ارد گرد خیر بانٹتا
پھر ے

○ *قد يكون الرزق ثوبا من تقى*
*فهو يكسو المرء عزا وجلالا*

یہ بھی تو ہو سکتا ہے کسی کو رزق کی صورت تقوٰی کا لباس پہنا دیا گیا ہو اور اس شخص کو اس لباس نے عزت اور مرتبہ والی حیثیت بخش دی ہو

○ *قد يكون الرزق عِرضَاً سالماً*
*ومبيتاً آمن السِرْبِ حلالاً*

یہ بھی تو ہو سکتا ہے کسی کو رزق کی صورت ایسا عزت اور شرف والا مقام مل جاے
جو اس کے لئے حلال کمائ اور امن والی جائے پناہ بن جائے

○ *ليس شرطا أن يكون الرزق مالا*
*كن قنوعاً و احمد الله تعالى*

○ پس
رزق کے لئے مال کا ہونا شرط نہیں
پس
جو کچھ عطا ہوا
اس پر مطمئن رہو
اور اللہ تعالٰی کا شکر ادا کرتے رہو

الہی بہترین ایمان اور نفس مطمئنہ کی سعادت عطا فرما *❤️آمین ثم آمین یا رب العالمین*

جب سرحدیں ہماری راہ میں حائل نہیں ہوتی تھیں :جب عمر بن الخطاب مدینہ منورہ میں رہتے ہوئے موجودہ دور کی 22 ریاستوں پر حکوم...
08/09/2024

جب سرحدیں ہماری راہ میں حائل نہیں ہوتی تھیں :
جب عمر بن الخطاب مدینہ منورہ میں رہتے ہوئے موجودہ دور کی 22 ریاستوں پر حکومت کرتے تھے !
جب ولید بن مروان کی افواج مشرق میں دیوار چین سے مغرب میں فرانس تک سیاہ و سفید کی مالک تھیں!
جب ہارون الرشید تین چوتھائی ایشیاء کو اپنی مٹھی میں رکھ کر بادلوں سے بات چیت کیا کر تے تھے!
جب معتصم با للہ عموریہ کو تہ وبالا کرنے کے بعد بلغاریا کی سرحدوں کو پامال کر رہا تھا !
جب صلاح الدین صلیبیوں کی کمر توڑ کر بیت المقدس کو آزاد کر نے بعد مسکرایا کرتا تھا !
جب قطز نے تاتاریوں کا قصہ تمام کر کے دنیا کو ان کی شر سے بچا کر سب کو حیران کر دیا !
جب عثمانیوں نے صلیبیوں کی سب سے بڑی سلطنت بیزنطینی امپائر کو دنیا کے نقشے سے مٹا کر آدھے یورپ کو اپنے ماتحت کیا !
جب سرحدیں ہماری راہ میں حائل نہیں ہوتی تھیں تو ہم دنیا پر حکمرانی کرتے تھے. ایک مسلمان قرطبہ سے بغداد اور مراکش سے مکہ سفر کرتا کوئی اس سے ویزہ اور پاسپورٹ کے بارے میں نہیں پوچھتا!
پھر جب ہمیں سرحدوں میں بند کردیا گیا، ہمیں قومی ریاست، قومی پرچم، قومی ترانہ، قومی زبان اور قومی حکومتیں دی گئیں، تو ہم تو ان سرحدوں کے اندر ایسے ہو گئےجیسے کوئی جانور پنجرے میں بند ہو جاتا ہے. ہم جب ان سرحدوں سے باہر جھانکنے کی کوشش کرتے ہیں تو ہمیں کہا جاتا ہے کہ یہ دراندازی ہے. ہم نے ساری دنیا کا ٹھیکہ نہیں لے رکھا ہے. لیکن جب دشمن انہیں سرحدوں کو پامال کرکے ہمیں اپنے ڈروں اور بموں سے مارتا ہے تو اس کے ایجنٹ اس کو عالمی برادری سے تعاون قرار دیتے ہیں. پھر یہ کہتے ہیں کہ دنیا ایک گلوبل ولیج ہے، ہم دنیا سے تعاون کیے بغیر نہیں رہ سکتے. جب یہ بات ان کو سمجھائی جاتی ہے کہ دنیا تو ایک گلوبل ولیج ہے سارے مسلمانوں کو اکھٹا ہونا چاہیے تو وہ اس کو انتہا پسندی قرار دیتے ہیں. خود ہزاروں کلو میٹر دور دشمن کے ساتھ اتحاد قائم کرتے ہیں، اس کی جنگ کو اپنی جنگ کہہ کر لڑتے ہیں مگر اپنے بازو میں مسلمانوں مارتے بھی ہیں اور مرواتے بھی ہیں. کیا یہ کہنا مناسب نہیں کہ دنیا گوبل ولیج بن چکی ہے اس لیے مسلمانوں کو بھی اب ایک ہونا چاہیے!!

"""""""گھوڑا کچھ پوچھ رہا ھے"""""""یہ گھوڑا...اندلس کے الحمرا محل کو دیکھ رہا ہے مگر اسے خود پر سوار ہونے والا کوئی مرد ...
11/08/2024

"""""""گھوڑا کچھ پوچھ رہا ھے"""""""

یہ گھوڑا...
اندلس کے الحمرا محل کو دیکھ رہا ہے مگر اسے خود پر سوار ہونے والا کوئی مرد نہیں مل رہا

یہ وہی گھوڑا ھے جو بیت المقدس کی طرف دیکھ رہا ھے اور پوچھ رہا ھے کہ صلاح الدین کہاں ہے؟

اور یہ وہی گھوڑا ہے جو شام کے تباہ شدہ احوال طرف دیکھ رہا ھے اور پوچھ رہا کہ عمر بن عبد العزیز کہاں ہیں؟

وہی ہے جو بغداد کی طرف دیکھتا اور پوچھتا ہے کہ ہارون الرشید کہاں ہے؟

یہی گھوڑا ہے جو اناطولیہ کے جنگلوں میں عثمان غازی کو ڈھونڈ رہا ھے

یہ وہی گھوڑا تو ہے جو غزنی کے پہاڑوں کو دیکھ کر پوچھ رہا ہے محمود کہاں چلا گیا ہے

اور یہ وہی گھوڑا ہے جس نے سیوٹا اور میلیلا کو دیکھا اور کہا کہ موسیٰ بن ناصر کہاں ہیں؟

اور وہ جس نے غرناطہ اور میڈرڈ کی طرف دیکھا اور کہا کہ طارق بن زیاد کہاں ہے؟

اسی نے فرانس کے جنوب میں پوچھا کہ عبدالرحمن الغفیقی کہاں ہے؟

اور اس نے مراکش میں پوچھا، یوسف بن تاشفین کہاں ہے؟

قاہرہ میں قطوز اور بے بار کہاں ہیں؟

اور تیونس میں عقبہ بن نافع کہاں ہے؟

اور لیبیا میں حسن بن النعمان اور زہیر بن قیس البلاوی کہاں ہیں؟

اور الجزائر میں کہا کہ شہیدوں کے پوتے کہاں ہیں جنہوں نے اپنے خون سے مٹی کو سیراب کیا؟

پھر اس گھوڑے نے ہماری طرف دیکھا اور کہا کہ مسلمان کہاں ہیں؟ 💔
خدا کے سوا کوئی غالب نہیں
اے سائس اٹھ گھوڑوں کو ذبح کر دو گھوڑوں کا کیا کام ہے جبکہ شہسوار ہی چلے گئے ہیں۔

کبھی کبھار اتنے عظیم آباء کی اولاد ہونے پر ہمیں شرم آتی ہے کہ وہ کیا تھے ھم کیا ہیں
روز محشر ہم ان کا سامنا کیسے کریں گے

زمیں پوچھتی ہے وہ غازی کہاں ہیں؟؟؟

شیخ حمزہ یوسف ایک خطبے میںاپنے مخصوص انداز میں مسکراتے ہوئے فرماتے ہیں۔"عرب کے لیے معجزہ قرآن کریم تھا۔مگر عجم کے لیے مع...
11/08/2024

شیخ حمزہ یوسف ایک خطبے میں
اپنے مخصوص انداز میں مسکراتے ہوئے فرماتے ہیں
۔
"عرب کے لیے معجزہ قرآن کریم تھا۔
مگر عجم کے لیے معجزہ نبی کریم ﷺ ہیں۔
اور یہی وجہ ہے کہ عجم آپ ﷺ کے لیے ایسی شدید محبت رکھتا ہے۔
۔
عجم کے درمیاں آپ کہیں بھی چلے جائیں۔ آپ کو ایسی بے انتہا محبت نظر آئے گی۔ اور یہ وہ چیز ہے جسے سمجھنے میں بعض اوقات بعض عربوں کو مشکل پیش آتی ہے۔ مثلا یہ کہ آخر پاکستانی کیوں نبی کریم ﷺ کے لیے بالکل دیوانے ہو جاتے ہیں۔
۔
یہ اس لیے ہے کہ اس حق تک ان کی رسائی نبی کریم ﷺ کے ذریعے ہی ہے۔ وہ قرآن کو اس طریقے سے نہیں سمجھتے مگر وہ نبی کریم ﷺ کو جانتے ہیں۔ یہ ان کی وابستگی ہے۔ اور یہی عجم کے لیے سب سے عظیم تحفہ ہے ۔ نبی کریم ﷺ "
صلی اللہ علیہ وسلم

💖آج صبح میں جوگنگ کررہا تھا، میں نے ایک شخص کو دیکھا جو مجھ سے آدھا کلومیٹر دور تھا۔ میں نے اندازہ لگایا کہ وہ مجھ سے تھ...
21/07/2024

💖
آج صبح میں جوگنگ کررہا تھا، میں نے ایک شخص کو دیکھا جو مجھ سے آدھا کلومیٹر دور تھا۔ میں نے اندازہ لگایا کہ وہ مجھ سے تھوڑا آہستہ دوڑ رہا ہے، مجھے بڑی خوشی محسوس ہوئی، میں نے سوچا اسے ہرانا چاہئے۔ تقریبا ایک کلو میٹر بعد مجھے اپنے گھر کی جانب ایک موڑ پر مڑنا تھا۔ میں نے تیز دوڑنا شروع کر دیا۔ کچھ ہی منٹوں میں، میں دھیرے دھیرے اس کے قریب ہوتا چلا گیا۔جب میں اس سے 100 فٹ دور رہ گیا تو مجھے بہت خوشی ہوئی جوش اور ولولے کے ساتھ میں نے تیزی سے اسے پیچھے کردیا۔

میں نے اپنے آپ سے کہا کہ "یس!! میں نے اسے ہرادیا"

حالانکہ اسے معلوم ہی نہیں تھا کہ ریس لگی ہوئی ہے۔

اچانک مجھے احساس ہوا کہ اسے پیچھے کرنے کی دھن میں میں اپنے گھر کے موڑ سے کافی دور آگیا ہوں۔ پھر مجھے احساس ہواکہ میں نے اپنے اندرونی سکون کو غارت کردیا ہے، راستے کی ہریالی اور اس پر پڑنے والی سورج کی نرم شعاعوں کا مزہ بھی نہیں لے سکا۔ چڑیوں کی خوبصورت آوازوں کو سننے سے محروم رہ گیا۔میری سانس پھول رہی تھی، اعضاء میں درد ہونے لگا، میرا فوکس میرے گھر کا راستہ تھا اب میں اس سے بہت دور آگیا تھا۔

تب مجھے یہ بات سمجھ میں آئی کہ ہماری زندگی میں بھی ہم خوامخواہ Competition کرتے ہیں، اپنے co workers کے ساتھ، پڑوسیوں، دوستوں، رشتے داروں کے ساتھ، ہم انہیں یہ بتانا چاہتے ہیں کہ ہم ان سے بہت بھاری ہیں ، زیادہ کامیاب ہیں، یا زیادہ اہم ہیں، اور اسی چکر میں ہم اپنا سکون، اپنے اطراف کی خوبصورتی، اور خوشیوں سے لطف اندوز نہیں ہوسکتے```

اس بیکار کے Competition کا سب سے بڑا پرابلم یہ ہے کہ یہ کبھی ختم نہ ہونے والا چکر ہے۔_

ہر جگہ کوئی نا کوئی آپ سے آگے ہوگا، کسی کو آپ سے اچھی جاب ملی ہوگی، کسی کو اچھی بیوی، اچھی کار، آپ سے زیادہ تعلیم، آپ سے ہینڈسم شوہر، فرمانبردار اولاد، اچھا ماحول، یا اچھا گھر وغیرہ

یہ ایک حقیقت ہےکہ آپ خود اپنے آپ میں بہت زبردست ہیں، لیکن اس کا احساس تب تک نہیں ہوتا جب تک کہ آپ اپنے آپ کو دوسروں سے compare کرنا چھوڑ دیں۔

بعض لوگ دوسروں پر بہت توجہ دینے کی وجہ سے بہت nervous اور insecure محسوس کرتے ہیں، اللہ نے جو نعمتیں دی ہیں ان پر focus کیجئے، اپنی height، weight ، personality، جو کچھ بھی حاصل ہے اسی سے لطف اٹھائیں۔اس حقیقت کو قبول کیجئے کہ اللہ نے آپ کو بھی بہت کچھ دیا ہے۔۔۔
مقابلہ بازی یا تقابل ہمیشہ زندگی کے لطف پر ڈاکہ ڈالتے ہیں۔ یہ آپ کی زندگی کے مزے کو کرکرا کر دیتے ہیں۔

تقدیر سے کوئی مقابلہ نہیں، سب کی اپنی اپنی تقدیر ہوتی ہے، تو صرف اپنے مقدر پر فوکس کیجئے۔

دوڑیئے ضرور! مگر اپنی اندرونی خوشی اور سکون کیلئے نہ کہ دوسروں کو اپنے سے چھوٹا ثابت کرنے کے لیے، نیچا دکھانے کے لیے یا پیچھے چھوڑنے کے لئے۔۔!!

سوشل میڈیا، فتنہ الحاد، اور ہماری نئی نسل--------------------------------------------ایک مسلمان کیلئے اولاد صرف ایک دنیو...
14/07/2024

سوشل میڈیا، فتنہ الحاد، اور ہماری نئی نسل
--------------------------------------------

ایک مسلمان کیلئے اولاد صرف ایک دنیوی نعمت ہی نہیں بلکہ آخرت کا سرمایہ اور بہترین صدقہ جاریہ ہے۔

بشرطیکہ کہ وہ صاحبِ ایمان ہو۔

سوشل میڈیا کے اس دور میں ایمان کے ڈاکو کس طرح خاموشی سے ہماری آئندہ نسلوں کو الحاد یا Athiesm (خدا کے وجود سے انکار) کی طرف دھکیل رہے ہیں، اس کی تفصیل اس تحریر میں پیش کی جائیگی۔

بظاہر پڑھائی اور اینٹرٹینمنٹ کیلئے اپنی ناسمجھ اولادوں کو اسمارٹ فون اور انٹرنیٹ تک غیر محدود رسائی دینے والے والدین بالخصوص اس تحریر کو پڑھیں

ممکن ہے کہ خدا ناخواستہ آپکی اولاد اس فتنے کی زد میں آکر ایمان سے ہاتھ دھونے کے قریب ہو اور آپ بالکل لاعلم ہوں۔

کراچی، لاہور، اسلام آباد اور پاکستان کے دیگر شہروں میں اس وقت ملحدین (خدا کے وجود سے انکاری) کی تعداد سوشل میڈیا کے ذریعے تیزی سے بڑھ رہی ہے

اور اسکا شکار عام مسلمان گھرانوں کے 15-20 سال کے بچے بچیاں ہو رہے ہیں.

اسکی ایک دو نہیں سینکڑوں مثالیں ہیں اور علماء کرام دن رات اس کا مشاہدہ کر رہے ہیں

معاملہ یہ ہے کہ۔۔۔۔۔

سوشل میڈیا، بالخصوص فیس بک، انسٹاگرام، اور ٹویٹر پر ایسے سینکڑوں اکاؤنٹس ہیں جنکا کام دن رات سائنسی بنیادوں پر خدا کے وجود سے انکار، دین اسلام کے مختلف احکام کا مذاق اڑانا، حضور اقدسﷺ کی حیات طیبہ کے مختلف پہلوؤں پر اعتراض، اور علماء کی تضحیک ہے۔

ان میں سے اکثر کا تعلق یورپ اور امریکہ میں قائم مختلف این جی اوز سے ہے جنکا مقصد ہی یہ ہے۔

عام طور سے انکے نام اس انداز کے ہوتے ہیں

Ex-Muslims Together
Atheist Muslims
Muslims Liberated
Muslim Awakening
Islam Exposed

ان کے کارکنان اور انکی تعلیمات سے اتفاق رکھنے والے سینکڑوں لڑکے اور لڑکیاں (جو انہی ممالک میں مقیم اور جن میں سے اکثر دین سے مکمل ناآشنا اور مغربی تعلیمی نظام کی پیداوار ہیں) پاکستان، بنگلہ دیش، متحدہ عرب امارات، سعودی عرب اور دیگر مسلمان ممالک کے نوجوانوں راغب کرنے میں مصروف رہتے ہیں

یہ بظاہر مسلمانوں کے نام سے اکاؤنٹس رکھتے ہیں مگر فکری طور پر ملحدین ہوتے ہیں

طریقہ واردات کچھ یوں ہوتا ہے کہ۔۔۔۔

- ابتداء اسلام پر کوئی اعتراض نہیں کیا جاتا بلکہ مختلف اسلامی احکام کو سائنس اور لاجک کی کسوٹی پر پرکھا جاتا ہے۔ جان بوجھ کر ایسے دینی موضوعات پر بات کی جاتی ہے جو سائنس سے بھی ثابت شدہ ہیں.

اس طرح یہ ذہن سازی کی جاتی ہے کہ احکام دین سب کے سب سائنس سے مطابقت رکھتے ہیں اور جس چیز کی تصدیق سائنس کردے وہ یقیناً حق ہے

- اسکے بعد ایسے موضوعات کو کریدا جاتا ہے جو سائنس سے بالاتر ہیں، مثلآ وجود خدا، وحی کا علم، واقعہ معراج، وغیرہ جنکا تعلق خالصتاً ایمان بالغیب سے ہے، جو یقیناً حق ہیں مگر سائنس کی دسترس سے باہر ہیں

مگر چونکہ ذہن سازی یہ کی گئی ہے کہ معیار حق سائنس ہے، چنانچہ ان کلیدی عقائد کو مشکوک کیا جاتا ہے

- اسکے بعد معاملہ آگے بڑھتا ہے۔۔۔۔
-
اور بات حضور اقدسﷺ کی ذاتی زندگی پر آتی ہے

ان معاملات کو غلط انداز میں پیش کیا جاتا ہے جنکی وضاحت عام ذہنی سطح سے نسبتاً بلند ہو

مثلاً، غلامی کا فلسفہ، مرد عورت میں مساوات، حضور اقدسﷺ کی شادیاں اور باندیاں، تعدد ازدواج، سیدہ عائشہ صدیقہ رض کی بوقت نکاح عمر وغیرہ

ایک راسخ العقیدہ مسلمان کیلئے یہ معاملات واضح ہیں لیکن کچے ذہن کے مسلمان بچے بچیاں جو دین سے لاعلم اور مغربی طرز زندگی سے مرعوب ہیں انکے لئے یہ باتیں نہایت پریشان کن اور ناقابل فہم ہیں

اور چونکہ دین اور علمائے دین سے تعلق ہے نہیں اسلئے قابل تشفی جواب کا کوئی راستہ نہیں

نتیجتاً وہ گوگل اور انٹرنیٹ سے رہنمائی حاصل کرتے ہیں جہاں انہی ملحدین کی مختلف ویب سائٹس انکے شکوک کو یقین میں بدل دیتی ہیں

اس کے بعد ایمان تیزی سے رخصت ہوتا ہے

حج اور قربانی سے لیکر نکاح اور وراثت کے احکام تک اسلام کے ہر ہر حکم کو مغرب کی کسوٹی پر پرکھا جاتا ہے اور بالآخر اسے ایک من گھڑت مذہب قرار دیکر خاموشی سے ترک کردیا جاتا ہے (العیاذ باللہ)

- کھلم کھلا اسلام کا مذاق اڑانا، حضورِ اقدسﷺ کی شان میں گستاخی اور خدا کے وجود سے انکار کا مرحلہ اسکے بعد آتا ہے

پھر یہ بچے بچیاں بھی خاموشی سے ایسی تنظیموں کے آلائے کار بن جاتے ہیں اور اپنے دوست احباب کو دین سے متنفر کرتے ہیں

یہ سب کچھ خاموشی سے ہمارے گرد بیٹھے 15-25 سال کے نوجوان Twitter، فیس بک وغیرہ پر کررہے ہیں

لیکن ہم بے خبر ہیں

سوال یہ ہے کہ اپنی اولاد کو اس سے کیسے بچایا جائے

اس سلسلے میں مندرجہ زیل امور کا خیال رکھیں

- اللہ تعالیٰ سے اپنے اور اپنی اولاد کیلئے سلامتی ایمان اور استقامت کی دعا کا اہتمام کریں

- خود بھی اور اولاد کو بھی وقتاً فوقتاً علماء کرام کی مجالس اور بزرگانِ دین کی صحبت میں لے جاتے رہیں تاکہ وہ ان سے مانوس ہوں اور اپنے معاملات میں ان سے رہنمائی حاصل کریں

- اولاد کو خود سے قریب کریں ،پیار دیں، انکے مسائل کو سنیں، سمجھیں اور حل کریں۔ ان سے اپنے معاملات میں مشورہ کریں، انکو اپنا رازدار بنائیں

اگر آپ انہیں دور رکھیں گے تو گمراہکن گروہ ان کو آسانی سے اپنے قریب کرلیں گے

- اپنے دین کو آہستہ آہستہ سیکھیں اور گھر میں اسکا تذکرہ رکھیں

- اگر بچے چھوٹے ہیں تو دنیوی تعلیم کے ساتھ انکی دینی تعلیم و تربیت کی بھی فکر کریں

- بغیر ضرورت شدیدہ بچوں کو اسمارٹ فون نہ دیں اور نہ خود رکھیں

- اگر دینا پڑے، تو شرائط کے ساتھ دیں، بے وقت استعمال پر پابندی رکھیں، رات کو تمام گھر کے فون اپنے کمرے میں جمع کوائیں، انکو اسکے صحیح استعمال کا طریقہ بتائیں

- بے وجہ سوشل میڈیا پر وقت گزارنے خود بھی بچیں اور اولاد کو بھی بچائیں

- بچوں کے سامنے ہر وقت فون استعمال کرنے سے گریز کریں

- کسی بھی شک یا وضاحت طلب معاملے میں انٹرنیٹ کی بجائے مستند علماء دین سے رہنمائی حاصل کریں

ایمان کو سلامتی کے ساتھ قبر میں لے جانا ایک مسلمان کی سب سے بڑی کامیابی ہے

اپنی اولاد کو ایمان کے ڈاکوؤں سے بچائیں تاکہ ہماری آئیندہ نسلوں میں بھی دین باقی رہے

اللہ تعالیٰ حفاظت فرمائے، آمین

گولڈن ہورڈ کا عظیم منگول سلطان برکہ خان اگر ۱۲۶۲ میں بخارا کے سادات سے سوالات نہ کرتا اور نتیجے میں مسلمان نا ہوتا۔۔ ۔۔ ...
04/06/2024

گولڈن ہورڈ کا عظیم منگول سلطان برکہ خان اگر ۱۲۶۲ میں بخارا کے سادات سے سوالات نہ کرتا اور نتیجے میں مسلمان نا ہوتا۔۔ ۔۔ اور اپنے چچا زاد ہلاکو خان کے مدمقابل نہ آتا،،،،،،،، تو بغداد کی سلطنت عباسیہ کو تہس نہس کرنے کے بعد منگولولوں کا اگلا ٹارگٹ مکہ اور مدینہ تھے۔ مصری سلطان رکن الدین اور ارطغرل غازی بر کہ خان کے بغیر منگولی فتنے کا مقابلہ نہیں کرسکتے تھے۔ پورے عرب اور عالم اسلام میں برکہ خان کیلئے دعائیں کی گئیں. اقبال ؒ نے کہا تھا

؎ ہے عیاں یورش تاتار کے افسانے سے۔۔۔۔
پاسباں مل گئے کعبے کو صنم خانے سے

مسلمانوں نے جبل طارق پر 711 میں قدم رکھا اور اس دن سے 1924 تک کسی نا کسی صورت یورپ میں اسلام اور مسلمان بطور افراد نہیں ...
21/04/2024

مسلمانوں نے جبل طارق پر 711 میں قدم رکھا اور اس دن سے 1924 تک کسی نا کسی صورت یورپ میں اسلام اور مسلمان بطور افراد نہیں بلکہ بطور ایک ریاست، قوم، نظریہ اور معاشرہ موجود رہے. یعنی 1213 سال خلافت یورپ میں موجود رہی، اگر مسلمانوں کو اندلس کی طرف سے پسپائی بھی ہوئی تو دوسری طرف اناطولیہ سے قسطنطنیہ اور پھر یورپ کی طرف موجودگی پھیلتی رہی.

افسوس غرناطہ کے بعد iberia میں اسلامی نظام کا خاتمہ مکمل ہوا تو دوسری طرف خلافت عثمانیہ کی کمزوری کے وقت بلقان اور گرد و نواح میں لاکھوں مسلمانوں کا قتل اور لاکھوں کو نقل مکانی پر مجبور کر کے انہدام خلافت عثمانیہ کے بعد اسلامی نظام قصہ پارینہ بن گیا. اس سب کے باوجود آج بھی ترکی، البانیہ، kosovo میں مسلمان اکثریت میں ہیں جبکہ بوسنیا میں سب سے بڑا گرو ہیں. گو آج اسلامی ریاست تو موجود نہیں لیکن مسلمان آج بھی موجود ہیں، 711 سے 2020 آگئی، مسلسل 1309 سالوں سے مغرب کی وادیوں میں ہماری اذانیں گونج رہی ہیں اور اس کا اصل کریڈٹ اسلامی خلافت کے ان لاکھوں بےنام سپاہیوں کو جاتا ہے جنہوں نے اپنے خون سے اسلام کے لیے راہ ہموار کی. ان کی ترجمانی اقبال کے یہ اشعار بڑی خوبصورتی سے کرتے ہیں:

تھے ہمیں ایک ترے معرکہ آراؤں میں
خشکیوں میں کبھی لڑتے، کبھی دریاؤں میں
دِیں اذانیں کبھی یورپ کے کلیساؤں میں
کبھی افریقہ کے تپتے ہوئے صحراؤں میں
شان آنکھوں میں نہ جچتی تھی جہاںداروں کی
کلِمہ پڑھتے تھے ہم چھاؤں میں تلواروں کی
ہم جو جیتے تھے تو جنگوں کی مصیبت کے لیے
اور مرتے تھے ترے نام کی عظمت کے لیے
تھی نہ کچھ تیغ‌زنی اپنی حکومت کے لیے
سربکف پھرتے تھے کیا دہر میں دولت کے لیے؟
قوم اپنی جو زر و مالِ جہاں پر مرتی
بُت فروشی کے عَوض بُت شکَنی کیوں کرتی

Address

Qilla Chapper, Kote Jamel
Bhimber
10010

Website

Alerts

Be the first to know and let us send you an email when Islam Is The Only Solution posts news and promotions. Your email address will not be used for any other purpose, and you can unsubscribe at any time.

Share