نوجوان علماء کونسل

نوجوان علماء کونسل Contact information, map and directions, contact form, opening hours, services, ratings, photos, videos and announcements from نوجوان علماء کونسل, Religious organisation, Balakot.
(3)

درسِ حدیث ﷺ کے ساتھ آج کا کیلینڈرمنجانب:- نوجوان علماء کونسل تحصیل بالاکوٹ
02/02/2026

درسِ حدیث ﷺ کے ساتھ آج کا کیلینڈر
منجانب:- نوجوان علماء کونسل تحصیل بالاکوٹ



01/02/2026
30/01/2026

درسِ قرآن کریم
حقانیتِ قرآن پر عقلی دلیل
قُلۡ لَّوۡ شَآءَ اللّٰہُ مَا تَلَوۡتُہٗ عَلَیۡکُمۡ وَ لَاۤ اَدۡرٰٮکُمۡ بِہٖ ۫ۖ فَقَدۡ لَبِثۡتُ فِیۡکُمۡ عُمُرًا مِّنۡ قَبۡلِہٖ ؕ اَفَلَا تَعۡقِلُوۡنَ
(یونس16)
ترجمہ: کہہ دو کہ :“ اگر اللہ چاہتا تو میں اس قرآن کو تمہارے سامنے نہ پڑھتا، اور نہ اللہ تمہیں اس سے واقف کراتا آخر اس سے پہلے بھی تو میں ایک عمر تمہارے درمیان بسر کرچکا ہوں۔ کیا پھر بھی تم عقل سے کام نہیں لیتے ۔
تفسیر: یعنی یہ قرآن میرا بنایا ہوا نہیں ہے، بلکہ اللہ تعالیٰ کا بھیجا ہوا ہے۔ اگر وہ نہ چاہتا تو نہ میں تمہارے سامنے پڑھ سکتا تھا، نہ تمہیں اس کا علم ہوسکتا تھا۔ یہ تو اللہ تعالیٰ نے مجھ پر نازل فرما کر مجھے حکم دیا کہ تمہیں سناؤں، اس لیے سنا رہا ہوں۔ لہذا اس میں کسی قسم کی تبدیلی کا سوال ہی پیدا نہیں ہوتا یعنی تمہارا یہ مطالبہ کہ میں اس قرآن کو بدل دوں۔ دراصل میری نبوت کا انکار اور مجھ پر معاذ اللہ جھوٹ کا الزام ہے، حالانکہ میں نے عمر کا بڑا حصہ تمہارے درمیان گزارا ہے، اور میری ساری زندگی ایک کھلی کتاب کی طرح تمہارے سامنے رہی ہے۔ قرآن کریم کے نازل ہونے سے پہلے تم سب مجھے سچا اور امانت دار کہتے رہے، اور چالیس سال کے طویل عرصے میں کبھی کسی ایک شخص نے بھی مجھ پر جھوٹ کا الزام نہیں لگایا۔ اب نبوت جیسے معاملے میں مجھ پر یہ الزام لگانا بےعقلی نہیں تو اور کیا ہے
پیشکش: نوجوان علماء کونسل تحصیل بالاکوٹ

28/01/2026

درسِ قرآن کریم
دنیا دارالامتحان
ثُمَّ جَعَلۡنٰکُمۡ خَلٰٓئِفَ فِی الۡاَرۡضِ مِنۡۢ بَعۡدِہِمۡ لِنَنۡظُرَ کَیۡفَ تَعۡمَلُوۡنَ
(یونس14)
ترجمہ: پھر ہم نے ان کے بعد زمین میں تم کو جانشین بنایا ہے تاکہ یہ دیکھیں کہ تم کیسے عمل کرتے ہو
پیشکش نوجوان علماء کونسل (وقف) تحصیل بالاکوٹ

27/01/2026

بسم اللہ الرحمٰن الرحیم
تحریر✍️مولانا میاں عبد اللطیف جبی بٹنگیاں حال مقیم رائے ونڈ ضلع لاہور۔
ممبر نوجوان علماء کونسل تحصیل بالاکوٹ
بالاکوٹ کے آسمانِ علم و روحانیت کے تابندہ ستارے، مرکزی جامع مسجد کے خطیب اور خانوادۂ قضا کے چشم و چراغ، قاضی محمد یونس صاحب رحمہ اللہ کے گھر 1945ء میں ایک چراغ روشن ہوا۔ جس کا نام ,,خلیل احمد،، رکھا گیا۔ اس ولادت کی خوشی شہر کی گلیوں، بازاروں، حتیٰ کہ اردگرد کے دیہات و قصبات میں گونجتی سنائی دی۔ یہ خوشی محض ایک خاندان کی نہیں، ایک روایت کی تجدید تھی۔

خلیل احمد نے ابتدائی تعلیم اپنے والدین کی شفقتوں اور دعاؤں کے سائے میں بالاکوٹ ہی سے حاصل کی۔ اعلیٰ تعلیم کے لیے لاہور کا رخ کیا، اور جامعہ اشرفیہ جیسے دینی مرکز سے وابستہ ہو کر علومِ نبوت کی پیاس بجھائی۔ ابھی علم کی پیاس بجھ ہی رہی تھی کہ وقت نے ایک سخت امتحان لے لیا۔ 1963ء میں ان کے والد محترم حضرت اقدس مولانا قاضی محمد یونس رحمہ اللہ کا سایہ سر سے اٹھ گیا۔ جامع مسجد کا منبر و محراب خالی ہو گیا۔ فضا سوگوار، آنکھیں نم اور دلوں میں سوالات کی گونج تھی۔

ایسے نازک وقت میں سیف الاسلام حضرت اقدس مولانا حاجی میاں محمد ابراہیم رحمہ اللہ خطیب جامع مسجد تلواروالی نئی انار کلی لاہور نے وہ جرات مندانہ فیصلہ کیا جو تاریخ میں سنہری حرفوں سے لکھا جائے گا۔ فرمایا:
"آج سے قاضی خلیل احمد صاحب ہی اس مرکز کے خطیب و سرپرست ہوں گے۔"
یہ فیصلہ محض انتظامی نہیں، روحانی بصیرت کا آئینہ دار تھا۔

اس فیصلے کی تائید حضرت اقدس مولانا میاں محمد ادریس (المعروف بٹنگیاں والے مولوی صاحب)رحمہ اللہ جیسے بزرگ نے کی، جنہوں نے فرمایا:
"میں قاضی صاحب کو تاحیات مرکزی جامع مسجد سید احمد شہید بالاکوٹ کے ممبر و محراب کا وارث دیکھ رہا ہوں۔"
گویا اس نوجوان کی تقدیر پر اکابر کی دعاؤں اور اعتماد کی مہریں ثبت ہو گئیں۔

علم و فضل کے اس وارث کی صداقت پر وقت نے بارہا مہرِ تصدیق ثبت کی۔ ایک مجلس میں مولانا غلام غوث ہزاروی رحمہ اللہ سے سوال کیا گیا کہ "کیا آپ نے کوئی جانشین تیار کیا ہے؟"
تو فرمایا:
"بالاکوٹ میں قاضی خلیل احمد موجود ہے۔ جب تک وہ ہے، فکر کی کوئی ضرورت نہیں۔"

قاضی صاحب کی شخصیت صرف ایک خطیب کی نہیں تھی، وہ ایک تحریک تھے۔ ان کے خطبے صرف الفاظ نہیں، دلوں کی دھڑکن ہوتے۔ ان کی آواز صرف مسجد کے منبر تک محدود نہ تھی، بلکہ پورے ہزارہ کی بیداری اور اصلاح کا پیغام لیے ہوئے گونجتی تھی۔ وہ باطل نظریات کے خلاف سیسہ پلائی دیوار بن کر کھڑے رہے۔ جہاں کہیں قادیانیت یا گمراہی کا شائبہ ہوتا، وہ بلا خوف و خطر اعلان فرماتے:
"ہماری صفوں سے قادیانی نکل جائے، یا سٹیج سے اعلان کرے کہ مرزا کافر ہے، مرتد ہے، اور میں مرزائیت پر لعنت بھیجتا ہوں۔"
یہ جرأت، یہ غیرتِ ایمانی، قاضی صاحب کا خاصہ تھی۔

ان کا چھ دہائیوں پر مشتمل دورِ قیادت، یعنی 1963ء سے 2024ء تک کا عرصہ، نہ صرف ایک مسلسل خدمت کا باب ہے بلکہ استقامت، فہم و فراست، اور ایثار کی روشن مثال بھی ہے۔
جب 1992ء میں وادیٔ کاغان کا سیلاب مسجد کو بہا لے گیا، تو قاضی صاحب نے دوبارہ مسجد تعمیر کی۔
پھر 2005ء کے زلزلے نے نہ صرف مسجد کو شہید کیا بلکہ ان کا جواں سال بیٹاقاضی اویس خلیل رحمہ اللہ، جو ان کا علمی و روحانی وارث تھا، بھی شہید ہو گیا۔ یہ وہ زخم تھا جو کسی دل پر لگے تو عمر بھر نہ بھرے۔
لیکن وہ ٹوٹے نہیں۔ صبر کی تصویر بنے رہے۔ اس کے بعد ہر محفل، ہر ملاقات میں وہ اپنے پوتے قاضی ابراہیم خلیل سلمہ اللہ کے لیے دعائیں مانگنے کی درخواست کرتے۔ اللہ نے ان کی یہ دعا قبول فرمائی۔
ان کی زندگی میں ہی قاضی ابراہیم خلیل منبر و محراب کا وارث بنا، اور قاضی صاحب کی آنکھوں میں ٹھنڈک اتر گئی۔الحمدللہ
اللہ تعالیٰ انکے مرکز اور جانشین کو سلامت رکھے آمین ثم آمین

پھر وہ شام بھی آئی، **27 جنوری** کی شام، جب بالاکوٹ کا آسمان ایک درخشاں ستارے سے محروم ہو گیا۔
وہ جو سید احمد شہیدؒ کی مسجد کے خطیب تھے،
مدرسہ محمدیہ شہیدیہ کے روح رواں،
جمعیت علمائے اسلام کے سینئر رہنما،
اور ہزارہ کی پہچان تھے،
وہ اپنے رب کے حضور حاضر ہو گئے۔
**انا للہ و انا الیہ راجعون**

**28 جنوری 2025ء** کو دریائے کنہار کے کنارے " پودینہ بیلہ "کا میدان ہزاروں عشاقِ علم و دین سے تنگ دکھائی دیا۔
قاضی صاحب کا جنازہ بالاکوٹ کی تاریخ کا سب سے بڑا اجتماع بن گیا۔
جیسے امام احمد بن حنبلؒ نے فرمایا تھا:
**" ہماراجنازہ ہمارے حق وباطل کا فیصلہ کرے گا۔"**

قاضی صاحب کا جنازہ اس قول کی عملی تفسیر بن گیا۔

ہزاروں دلوں نے آہوں، سسکیوں اور اشکوں سے اپنے محبوب رہنما کو رخصت کیا۔
دعاؤں، ندامتوں اور عہدِ وفا کے ساتھ انہیں سپردِ خاک کیا گیا۔
اللہ تعالیٰ ان کی مغفرت فرمائے، ان کے درجات بلند فرمائے، اور ہمیں ان کے نقشِ قدم پر چلنے کی توفیق عطا فرمائے۔
آمین یا رب العالمین
پیشکش 🎁نوجوان علماء کونسل (وقف) تحصیل بالاکوٹ

27/01/2026

درسِ قرآن کریم
نافرمانی اور ظلم کا انجام
وَ لَقَدۡ اَہۡلَکۡنَا الۡقُرُوۡنَ مِنۡ قَبۡلِکُمۡ لَمَّا ظَلَمُوۡا ۙ وَ جَآءَتۡہُمۡ رُسُلُہُمۡ بِالۡبَیِّنٰتِ وَ مَا کَانُوۡا لِیُؤۡمِنُوۡا ؕ کَذٰلِکَ نَجۡزِی الۡقَوۡمَ الۡمُجۡرِمِیۡنَ(یونس13)
ترجمہ: اور ہم نے تم سے پہلے کئی قوموں کو اس موقع پر ہلاک کیا جب انہوں نے ظلم کا ارتکاب کیا تھا، اور ان کے پیغمبر ان کے پاس روشن دلائل لے کر آئے تھے، اور وہ ایسے نہ تھے کہ ایمان لاتے، ایسے مجرم لوگوں کو ہم ایسا ہی بدلہ دیتے ہیں۔
پیشکش: نوجوان علماء کونسل (وقف) تحصیل بالاکوٹ

26/01/2026

درسِ قرآن کریم
مصیبت میں دعا راحت میں غفلت
وَ اِذَا مَسَّ الۡاِنۡسَانَ الضُّرُّ دَعَانَا لِجَنۡۢبِہٖۤ اَوۡ قَاعِدًا اَوۡ قَآئِمًا ۚ فَلَمَّا کَشَفۡنَا عَنۡہُ ضُرَّہٗ مَرَّ کَاَنۡ لَّمۡ یَدۡعُنَاۤ اِلٰی ضُرٍّ مَّسَّہٗ ؕ کَذٰلِکَ زُیِّنَ لِلۡمُسۡرِفِیۡنَ مَا کَانُوۡا یَعۡمَلُوۡنَ
(یونس12)
ترجمہ: اور جب انسان کو کوئی تکلیف پہنچتی ہے تو وہ لیٹے بیٹھے اور کھڑے ہوئے ہرحالت میں ہمیں پکارتے ہیں۔ پھر جب ہم اس کی تکلیف دور کردیتے ہیں تو اس طرح چل کھڑا ہوتا ہے جیسے کبھی اپنے آپ کو پہنچنے والی کسی تکلیف میں ہمیں پکارا ہی نہ تھا۔ جو لوگ حد سے گزر جاتے ہیں، انہیں اپنے کرتوت اسی طرح خوشنما معلوم ہوتے ہیں۔
پیشکش:نوجوان علماء کونسل (وقف) تحصیل بالاکوٹ

Address

Balakot

Website

Alerts

Be the first to know and let us send you an email when نوجوان علماء کونسل posts news and promotions. Your email address will not be used for any other purpose, and you can unsubscribe at any time.

Share