11/05/2024
وہ دار الامان
کے دروازے پہ کھڑی تھی
پاس سے درویش گزرا پوچھا بیٹا کیوں کھڑی ھو ؟ بابا پناہ لینے آئی ھوں شوھر نے دو بچوں کو رکھ کر مجھے اپنے گھر سے نکال دیا ھے کہتا ھے میرے گھر سے نکلو - میں بھی جھگڑا کر کے نکل آی ہوں-
باپ خود بیٹوں کی روٹیوں پر ھے وہ کہتا ھے اگر تم ادھر آ گئیں تو بہوئیں مجھے بھی نکال باھر کریں گی بھائیوں کے پاس عید پہ بھی چلی جاؤں تو تنگ ھوتے ھیں پناہ دینے والی ھستی " ماں " مر گئ ھے
کہیں اشتہار میں پڑھا تھا کہ دار الامان میں اچھی کیئر کرتے ھیں تو سوچا وھیں چلی جاتی ھوں- لہذا ادھر آگی ہوں کچھ دن رہوں گی تو شوہر کی عقل ٹھکانے آے گی-
ناں پُتر یہ غلطی مت کرنا اس گھر میں بندہ داخل تو اپنی مرضی سے ھوتا ھے مگر پھر قیدی بن جاتا ھے نہ مرضی سے سو سکتا ھے اور نہ اپنی مرضی سے کہیں آ جا سکتا ھے اور بیٹا تیرے جیسی خوبصورت بچیوں کی تلاش میں تو اشتہار دیئے جاتے ھیں دار الامان کے نام پہ قحبہ خانے بنا رکھے ھیں لوگوں نے پیسہ بناتے ھیں رات کو یہ خالی ھو جاتے ھیں لڑکیاں پیسہ بنانے کے لئے بھیج دی جاتی ھیں بیٹا کیئر اسی کی ھوتی ھے جو ان کو کما کر دیتی ھے تو پلٹ جا اب بھی تیرے لئے واپسی کا رستہ کھلا ھے پھر ھر دروازہ بند ھو جائے گا تیرا گھر وھی ھے جہاں تو نے دو بچوں کو جنم دیا ھے ان کے پاس چلی جا اللہ کا حکم موجود ھے ، لا تخرجوھن من بیوتھن ، عورتوں کو عورتوں کے گھر سے مت نکالو ، )ولا یخرجن ( اور نہ وہ عورتیں خود اپنے گھر سے نکلیں ، وہ تیرا گھر ھے اور اتنا ھی تیرا ھے جتنا تیرے شوھر کا ھے ،اپنے گھر کے پاس کی مسجد کے امام کے پاس جا کر اسے بول کہ میرے شوھر کو بلا کر اللہ کا حکم سنا ، اللہ کے گھر اسی لئے ھیں کہ وہ اللہ کے حکم سے محلے کو آگاہ رکھیں.
درویش نے کہا اور چلتا بنا-
لیکن ایک ذندگی بچا گیا