29/12/2025
حرمین شریفین کے سنگِ مرمر کی ٹھنڈک کا راز
ایک عظیم معمار کی ایمان افروز داستان
کیا آپ جانتے ہیں کہ مسجد الحرام اور مسجدِ نبوی ﷺ کے صحن میں استعمال ہونے والا سنگِ مرمر شدید دھوپ کے باوجود قدرتی طور پر ٹھنڈا کیوں رہتا ہے؟
جونہی زائرین حرم کے مطاف میں قدم رکھتے ہیں، وہ سورج کی تپش کے باوجود فرش کی غیر معمولی ٹھنڈک محسوس کرتے ہیں۔ اکثر لوگوں کے ذہن میں یہ سوالات آتے ہیں:
کیا یہ سنگِ مرمر کی قدرتی خاصیت ہے؟
کیا اس کے پیچھے کوئی خاص ٹیکنالوجی ہے؟
کیا فرش کے نیچے کولنگ سسٹم یا ٹھنڈے پانی کی پائپ لائنز ہیں؟
آئیے جانتے ہیں اس راز کے پیچھے موجود عظیم معمار ڈاکٹر محمد کمال اسماعیل کی ایمان افروز کہانی۔
معمارِ حرمین: ڈاکٹر محمد کمال اسماعیل
ڈاکٹر محمد کمال اسماعیل 15 ستمبر 1908ء کو مِت غمر، دقہلیہ (مصر) میں پیدا ہوئے۔ وہ غیر معمولی صلاحیتوں کے حامل معمار تھے اور:
مسجد الحرام اور مسجدِ نبوی ﷺ کی توسیع کے منصوبوں کے نگران و معمار رہے
حرمین شریفین کے صحنوں کی منصوبہ بندی اور تعمیر انہی کی نگرانی میں ہوئی
🪨 سنگِ مرمر کا راز — تھاسوس (Thassos)
ڈاکٹر اسماعیل چاہتے تھے کہ حرم کے صحن کو ایسے سنگِ مرمر سے پختہ کیا جائے جو:
شدید گرمی میں بھی ٹھنڈا رہے
زائرین کے لیے راحت کا سبب بنے
انہوں نے یونان کے جزیرہ تھاسوس سے حاصل ہونے والا خاص سنگِ مرمر منتخب کیا، جسے Greek Thassos Marble کہا جاتا ہے۔
اس سنگِ مرمر کی خصوصیات:
انتہائی سفید رنگ
منفرد کرسٹل ساخت
بلند Albedo Effect
(یعنی سورج کی روشنی اور حرارت کو بہت زیادہ مقدار میں واپس منعکس کرنا)
گرمی کو جلد جذب نہیں کرتا
اسی لیے دن کے شدید ترین اوقات میں بھی قدرتی طور پر ٹھنڈا رہتا ہے
مزید یہ کہ
سنگِ مرمر کے تختے 5 سینٹی میٹر موٹے لگائے گئے تاکہ حرارت سے مزاحمت بڑھے
اس مشہور افواہ میں کوئی صداقت نہیں کہ صحن کے نیچے ٹھنڈے پانی کی پائپ لائنز ہیں
یونان کا سفر اور حرم کا سنگِ مرمر
ڈاکٹر محمد کمال اسماعیل یونان گئے اور وہاں موجود ایک چھوٹے سے پہاڑ سے
حرم کے لیے مطلوبہ سنگِ مرمر خریدا
یہ مقدار اس پہاڑ میں موجود کل سنگِ مرمر کا بالکل نصف تھی
یوں مسجد الحرام کا صحن مکمل ہوا۔
پندرہ سال بعد… ایک آزمائش
کچھ عرصے بعد سعودی حکومت نے ڈاکٹر اسماعیل سے درخواست کی کہ:
مسجدِ نبوی ﷺ میں بھی وہی سنگِ مرمر استعمال کیا جائے
ڈاکٹر اسماعیل بیان کرتے ہیں
“جب مجھے یہ ذمہ داری دی گئی تو میں سخت گھبرا گیا۔ یہ سنگِ مرمر دنیا میں صرف اسی ایک جگہ پایا جاتا تھا، اور میں اس کا نصف پہلے ہی خرید چکا تھا۔”
وہ دوبارہ یونان گئے اور کمپنی کے چیئرمین سے پوچھا:
کیا مزید سنگِ مرمر دستیاب ہے؟
جواب ملا
“باقی سارا سنگِ مرمر آپ کے پہلے معاہدے کے فوراً بعد فروخت ہو چکا تھا۔”
ڈاکٹر اسماعیل کہتے ہیں:
“میں ایسی اداسی میں مبتلا ہوا جو میں نے کبھی محسوس نہیں کی۔ کافی کا کپ تک پورا نہ کیا اور اگلے دن کی فلائٹ بک کروا لی۔”
حیرت انگیز موڑ
واپسی سے قبل انہوں نے سیکرٹری سے پوچھا:
“وہ سنگِ مرمر کس نے خریدا تھا؟”
سیکرٹری نے کہا:
“کافی وقت گزر چکا ہے، تلاش مشکل ہوگی۔”
ڈاکٹر اسماعیل نے عاجزی سے درخواست کی:
“میرے پاس یونان میں ایک دن ہے، براہِ کرم کوشش کریں۔ یہ میرا ہوٹل نمبر ہے۔”
اگلے دن، روانگی سے چند گھنٹے قبل فون آیا:
“ہم نے خریدار کا پتا تلاش کر لیا ہے۔”
جب ڈاکٹر اسماعیل نے پتا دیکھا تو:
ان کا دل زور سے دھڑکنے لگا
وہ خریدار ایک سعودی کمپنی تھی
اللہ کی تدبیر
وہ فوراً سعودی عرب پہنچے اور سیدھا اس کمپنی گئے۔ چیئرمین سے پوچھا:
“آپ نے یونان سے خریدا ہوا سفید سنگِ مرمر کہاں استعمال کیا؟”
جواب ملا:
“مجھے یاد نہیں۔”
گودام سے پوچھا گیا تو جواب آیا:
“سارا سنگِ مرمر اب تک گودام میں ویسے ہی رکھا ہے، استعمال نہیں ہوا۔”
ڈاکٹر اسماعیل کہتے ہیں:
“میں بچوں کی طرح رو پڑا۔”
جب کمپنی کے مالک نے وجہ پوچھی تو:
انہوں نے پوری کہانی سنائی
اور ایک خالی چیک میز پر رکھ کر کہا:
“جو رقم چاہیں لکھ دیں۔”
مالک نے اللہ کی قسم کھا کر کہا:
“جب مجھے معلوم ہوا کہ یہ سنگِ مرمر مسجدِ نبوی ﷺ کے لیے ہے، میں نے عہد کیا کہ اس کا ایک درہم بھی نہیں لوں گا۔
اللہ نے ہی مجھے یہ سنگِ مرمر گودام میں بھلا دیا تھا تاکہ یہ اسی مقصد کے لیے محفوظ رہے۔”
پاک ہے وہ اللہ
جس نے وہ پہاڑ پیدا کیا
اور اس سنگِ مرمر کو
اپنے گھر اور اپنے محبوب ﷺ کی مسجد کے لیے محفوظ رکھا۔
اللہ تعالیٰ:
عظیم معمار ڈاکٹر محمد کمال اسماعیل پر رحم فرمائے
اور انہیں جنت الفردوس میں اعلیٰ مقام عطا فرمائے
آمین