ایمن رضا قرآن ٹیچر

ایمن رضا قرآن ٹیچر This is a great opportunity for you and your family members to learn Quran and Sunna مجھے اپنی اور ساری دنیا کے لوگوں کی اصلاح کی کوشش کرنی ہے انشاءاللہ

10/12/2025

شہدبیری_جنگلات

06/12/2025

🍯✨ چھوٹی مکھی بیری شہد | بڑی مکھی بیری شہد |. خالص دیسی گھی ✨🧈
قدرت کا اصل ذائقہ ایک ہی جگہ!

🐝 چھوٹی مکھی (Small Bee) بیری شہد
✔ زیادہ خالص اور خوشبودار
✔ پتلا مگر طاقتور اور فائدہ مند
✔ دواؤں جیسی تاثیر

🐝 بڑی مکھی (Large Bee) بیری شہد
✔ گاڑھا، میٹھا اور بھرپور ذائقہ
✔ روزانہ استعمال کے لیے بہترین
✔ قدرتی مٹھاس کے ساتھ اعلیٰ کوالٹی

🧈 خالص دیسی گھی
✔ دیسی دودھ سے تیار
✔ خوشبو، ذائقہ اور خالصتاً گاؤں والا معیار
✔ کھانے اور صحت دونوں کے لیے بہترین

📦 تمام پراڈکٹس چھوٹی اور بڑی پیکنگ میں دستیاب ہیں
💯 100% اصلی – بغیر ملاوٹ
🚚 ہوم ڈیلیوری بھی موجود

جو لوگ کوالٹی پسند کرتے ہیں… وہ ایک بار ضرور آزمائیں!
رابطہ کریں آرڈر کے لیے 📩✨
03052671456
03132426292

مفتی احمد یار خان نعیمی کی تڑپ😭حضرت مفتی احمد یار خان نعیمی رحمۃ اللہ علیہ فرماتے ہیں:حضور انور صلی ﷲ علیہ وآلہ وسلم کا ...
07/08/2025

مفتی احمد یار خان نعیمی کی تڑپ😭

حضرت مفتی احمد یار خان نعیمی رحمۃ اللہ علیہ فرماتے ہیں:
حضور انور صلی ﷲ علیہ وآلہ وسلم کا سپاہی بننا ملائکہ کے لئے فخر ہے ،جنگ بدر میں پانچ ہزار فرشتے اترے یہ سب حضور صلی ﷲ علیہ وآلہ وسلم کے سپاہی تھے، الله کے لیے مجھے تو حضور صلی ﷲ علیہ وآلہ وسلم اپنے در کا جھاڑو والا بنا کر رکھ لیں۔
(مرآة المناجيح 283/5)

06/05/2025

*‏آج کےدور میں چار رشتےدار* ایک ساتھ تبھی چلتے ہیں جب پانچواں کندھےپر ہوتا ہے!

*ہائےغافل وہ کیا جگہ ہےجہاں*
*پانچ جاتے ہیں چار پھرتےہیں*

30/01/2025

لِلّٰهِ مُلْكُ السَّمٰوٰتِ وَ الْاَرْضِؕ-یَخْلُقُ مَا یَشَآءُؕ-یَهَبُ لِمَنْ یَّشَآءُ اِنَاثًا وَّ یَهَبُ لِمَنْ یَّشَآءُ الذُّكُوْرَ(49)اَوْ یُزَوِّجُهُمْ ذُكْرَانًا وَّ اِنَاثًاۚ-وَ یَجْعَلُ مَنْ یَّشَآءُ عَقِیْمًاؕ-اِنَّهٗ عَلِیْمٌ قَدِیْرٌ(50)
ترجمہ: کنزالایمان
اللہ ہی کے لیے ہے آسمانوں اور زمین کی سلطنت پیدا کرتا ہے جو چاہے جسے چاہے بیٹیاں عطا فرمائے اور جسے چاہے بیٹے دے یا دونوں ملا دے بیٹے اور بیٹیاں اور جسے چاہے بانجھ کردے بےشک وہ علم و قدرت والا ہے

تفسیر: ‎صراط الجنان
{لِلّٰهِ مُلْكُ السَّمٰوٰتِ وَ الْاَرْضِ: آسمانوں اور زمین کی سلطنت اللہ ہی کے لیے ہے۔} یعنی آسمانوں اور زمین کاحقیقی مالک اللہ تعالیٰ ہی ہے،وہ ان میں جیسا چاہتاہے تَصَرُّف فرماتا ہے اوراس میں کوئی دخل دینے اور اِعتراض کرنے کی مجال نہیں رکھتا۔( روح البیان، الشوری، تحت الآیۃ: ۴۹، ۸ / ۳۴۲، خازن، الشوری، تحت الآیۃ: ۴۹، ۴ / ۱۰۰، ملتقطاً)

اپنی مِلکِیَّت میں موجود چیزوں پر غرور نہ کیا جائے:

امام فخر الدین رازی رَحْمَۃُاللہ تَعَالٰی عَلَیْہِ فرماتے ہیں :یہ بیان فرمانے سے مقصود یہ ہے کہ کوئی انسان اپنی مِلکِیَّت میں موجود مال اور عزت و شہرت کی وجہ سے مغرور نہ ہو ،کیونکہ جب اسے اس بات کا یقین ہو گا کہ ہر چیز کا مالک اللہ تعالیٰ ہی ہے اور جو کچھ اس کے ہاتھ میں ہے یہ اس پر اللہ تعالیٰ کا انعام ہے تو اس صورت میں وہ مزید اللہ تعالیٰ کی عبادت اور اس کی فرمانبرداری کی طرف مائل ہو گا اور جب ا س کا اعتقاد یہ ہو گا کہ ا س کے پاس جو نعمتیں ہیں وہ اس کی عقلمندی اور کوشش کی وجہ سے حاصل ہوئی ہیں تو وہ اپنے نفس پر غرورکرے گا اور اللہ تعالیٰ کی اطاعت سے دور ہوجائے گا۔(تفسیرکبیر، الشوری، تحت الآیۃ: ۴۹، ۹ / ۶۰۹)

{یَهَبُ لِمَنْ یَّشَآءُ اِنَاثًا: جسے چاہے بیٹیاں عطا فرمائے۔} آیت کے اس حصے اور ا س کے بعد والی آیت میں اللہ تعالیٰ نے عالَم میں اپنے تَصَرُّف اور اپنی نعمت کو تقسیم کرنے کی صورتیں بیان فرمائی ہیں ،چنانچہ ارشاد فرمایا کہ وہ جسے چاہے صرف بیٹیاں عطا فرمائے اور بیٹانہ دے اور جسے چاہے صرف بیٹے دے اور بیٹیاں نہ دے اور جسے چاہے بیٹے اور بیٹیاں دونوں ملا کردے اور جسے چاہے بانجھ کردے کہ اس کے ہاں اولاد ہی نہ ہو۔ وہ مالک ہے، اپنی نعمت کو جس طرح چاہے تقسیم کرے اورجسے جو چاہے دے۔ انبیاء ِکرام عَلَیْہِمُ الصَّلٰوۃُ وَالسَّلَام میں بھی کئی صورتیں پائی جاتی ہیں ، جیسا کہ حضرت لوط اور حضرت شعیب عَلَیْہِمَا الصَّلٰوۃُ وَالسَّلَام کے ہاں صرف بیٹیاں تھیں ،کوئی بیٹا نہ تھا جبکہ حضرت ابراہیم عَلَیْہِ الصَّلٰوۃُ وَالسَّلَام کے ہاں صرف بیٹے تھے ،کوئی بیٹی نہیں تھی اور انبیاء کے سردار، حبیب ِخدا،محمد مصطفٰی صَلَّی اللہ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمَ کو اللہ تعالیٰ نے چار (یا تین)فرزند عطا فرمائے اور چار صاحب زادیاں عطا فرمائیں ۔

بیٹے اور بیٹیاں دینے یا نہ دینے کا اختیار اللہ تعالیٰ کے پاس ہے:

ان آیات سے معلوم ہوا کہ کسی کے ہاں صرف بیٹے پیدا کرنے،کسی کے ہاں صرف بیٹیاں پیدا کرنے اور کسی کے ہاں بیٹے اور بیٹیاں دونوں پیدا کرنے کا اختیار اور قدرت صرف اللہ تعالیٰ کے پاس ہے،کسی عورت کے بس میں یہ بات نہیں کہ وہ اپنے ہاں بیٹا یا بیٹی جو چاہے پیدا کر لے، اور جب یہ بات روشن دن سے بھی زیادہ واضح ہے تو بیٹی پیدا ہونے پر عورت کو مَشقِ سِتم بنانا،اسے طرح طرح کی اَذِیَّتیں دینا،بات بات پہ طعنوں کے نشتر چبھونا ،آئے دن ذلیل کرتے رہنا،صرف بیٹیاں پیدا ہونے پر اسے منحوس سمجھنا اورطلاق دے دینا،قتل کی دھمکیاں دینا بلکہ بعض اوقات قتل ہی کر ڈالنا ،یہ ا س مجبور اور بے بس کے ساتھ کہاں کا انصاف ہے،افسوس!ہمارے آج کے معاشرے میں مسلمانوں نے اُس طرزِ عمل کو اپنایا ہوا ہے جو دراصل کفار کا طریقہ تھا،جیسا کہ اللہ تعالیٰ ارشاد فرماتا ہے:

’’وَ اِذَا بُشِّرَ اَحَدُهُمْ بِالْاُنْثٰى ظَلَّ وَجْهُهٗ مُسْوَدًّا وَّ هُوَ كَظِیْمٌۚ(۵۸) یَتَوَارٰى مِنَ الْقَوْمِ مِنْ سُوْٓءِ مَا بُشِّرَ بِهٖؕ-اَیُمْسِكُهٗ عَلٰى هُوْنٍ اَمْ یَدُسُّهٗ فِی التُّرَابِؕ-اَلَا سَآءَ مَا یَحْكُمُوْنَ‘‘(سورۃ النحل:۵۸،۵۹)

ترجمۂکنزُالعِرفان: اور جب ان میں کسی کو بیٹی ہونے کی خوشخبری دی جاتی ہے تو دن بھر اس کا منہ کالا رہتا ہے اور وہ غصے سے بھراہوتا ہے۔ اس بشارت کی برائی کے سبب لوگوں سے چھپا پھرتا ہے۔ کیا اسے ذلت کے ساتھ رکھے گا یا اسے مٹی میں دبادے گا؟ خبردار! یہ کتنا برا فیصلہ کررہے ہیں ۔

افسوس! اسلام نے عورت کو جس آگ سے نکالا آج کے لوگ اسے پھر سے اسی میں جھونک رہے ہیں ۔ اسلام نے کفار کے چھینے ہوئے جو حق عورت کو واپس دلائے آج کے مسلمان وہی حق چھیننے میں لگے ہوئے ہیں ۔اسلام نے عورت کو ذلت و رسوائی کی چکی سے نکال کر معاشرے میں جو عزت اور مقام عطا کیا ،آج کے مسلمان دوبارہ اسے اسی چکی میں پسنے کے لئے دھکیل رہے ہیں اور شاید انہی بد عملیوں کا نتیجہ ہے کہ آج اسلام کے دشمن عورت کے حقوق کی آڑ میں مسلمانوں کے اسی کردار کو دنیا کے سامنے پیش کر کے دینِ اسلام جیسے امن کے عَلَمْبردار مذہب کو ہی دہشت گرد مذہب ثابت کرنے پر تُلے ہوئے ہیں ۔اللہ تعالیٰ مسلمانوں کو ہدایت عطا فرمائے،اٰمین۔.
ُرشد

13/12/2024

شہد اعلیٰ کوالٹی میں اور دیسی گھی گاے بھینس کا دستیاب ہے

13/12/2024

السلام عليكم ورحمتہ اللہ و برکاتہ.
جمعہ مبارک ہو

29/09/2024

اللہ پاک نے کس طرح رسولِ اکرم صلَّی اللہ علیہ واٰلہٖ وسلَّم کے اندازِ خیر خواہی کو بیان فرمایا ہے؟ چنانچہ ارشاد ہوتا ہے:
(حَرِیْصٌ عَلَیْكُمْ)
ترجمہ: تمہاری بھلائی کے نہایت چاہنے والے۔

امام فخرُالدّین رازی رحمۃُ اللہِ علیہ آیت کے اِس حصّے کی یوں وضاحت فرماتے ہیں: یعنی وہ دنیا و آخرت میں تمہیں بھلائیاں پہنچانے پر حریص ہیں۔

حکیمُ الامّت مفتی احمدیارخان نعیمی رحمۃُ اللہِ علیہ لکھتے ہیں: (حَرِیْصٌ عَلَیْكُمْ )کامعنیٰ یہ ہیں کہ کوئی تو اولاد کے آرام کا حریص ہوتا ہے کوئی مال کا، کوئی عزت کا،کوئی پیسے کا، کوئی کسی اور چیز کا مگر محبوب علیہ السّلام نہ اولاد کے، نہ اپنے آرام کے، (بلکہ)تمہارے حریص ہیں اسی لئے ولادتِ پاک کے موقع پر ہم کو یاد کیا، معراج میں ہماری فکر رکھی،بروقتِ وفات ہم کو یاد فرمایا، قبر میں جب رکھا گیا تو عبد اللہ بن عباس نے دیکھا کہ لب ِ پاک ہل رہے ہیں غور سے سنا تو امّت کی شفاعت ہورہی ہے،رات رات بھر جاگ کر اُمت کے لئے رو رو کر دعائیں کرتے ہیں کہ خدایا!اگر تو اُن کو عذاب دے تو یہ تیرے بندے ہیں اور اگر ان کو بخش دے تَو تُوعزیز اور حکیم ہے۔ قیامت میں سب کو اپنی اپنی جان کی فکر ہوگی مگر محبوب علیہ السّلام کو جہان کی۔ سب نبی نفسی نفسی فرمائیں گے اور محبوب علیہ السّلام امّتی امّتی۔

ماہنامہ فیضان مدینہ
ربیع الاول 1446 ھ | ستمبر 2024 ء

*میری زندگی کا مقصد ہو اے کاش عشقِ احمدﷺ 💙*مُجھے موت بھی جو آئے اِسی جُستُجو میں آئے*صلى اللہ علیہ وآلہ وسلم💙*
17/08/2024

*میری زندگی کا مقصد ہو اے کاش عشقِ احمدﷺ 💙*
مُجھے موت بھی جو آئے اِسی جُستُجو میں آئے

*صلى اللہ علیہ وآلہ وسلم💙*

05/07/2024

غسلِ جمعہ کی ابتداء کیسے ہوئی؟
حضرت سیدنا عکرمہ رضی اللّٰہ تعالٰی عنہ سے روایت ہے کہ کچھ عراقی لوگ آئے اور بولے : اے ابن عباس! کیا آپ جمعہ کے دن کا غُسْل واجب سمجھتے ہیں؟ فرمایا : نہیں،لیکن یہ بہت پاکی ہے اورغسل کرنے والے کے لئے اچھا ہے اور جوغسل نہ کرے اس پر ضروری نہیں،میں تمہیں بتاتا ہوں کہ غسل شروع کیسے ہوا!لوگ مشقت میں تھے کہ اُون پہنتے اور اپنی پیٹھ پرمزدوریاں کرتے تھے ان کی مسجد تنگ تھی جس کی چھت نیچے تھی جو صرف چھپر(خس پوش)تھی ،حضورِ انورصلی اللّٰہ علیہ وسلم ایک گرم دن میں تشریف لائے اور لوگ اسی اُون میں پسینہ پسینہ تھے کہ ان سے بُو پھیل گئی جس کی
وجہ سے بعض نے بعض سے تکلیف پائی تو جب رسول ُاللّٰہ صلَّی اللّٰہ تعالٰی علیہ واٰلہٖ وسلَّم نے یہ بو پائی تو فرمایا ا:ے لوگو !جب یہ دن ہوا کرے تونہالیاکرو،اور چاہئے کہ ہرایک اپنا بہترین تیل و خوشبو مل لیا کرے۔حضرت سیدنا عبداللّٰہ بن عباس رضی اللّٰہ تعالٰی عنہمانے فرمایا : پھراللّٰہ پاک نے مال عطا فرمایااورلوگوں نے اُون کے علاوہ دیگر اچھے لباس پہنے اور کام کاج سے چھوٹ گئے ،ان کی مسجد فراخ ہوگئی اور پسینہ سے جو بعض کو بعض سے تکلیف پہنچتی تھی وہ جاتی رہی۔
(ابوداؤد،کتاب الطہارۃ،باب فی الرخصۃ ۔۔۔الخ، ۱/۱۶۰،حدیث:۳۵۳)
مُفَسِّرِشَہِیرحکیمُ الْاُمَّت حضر ت ِ مفتی احمد یار خان علیہ رحمۃُ الحنّان اِس حدیثِ پاک کے حصے’’ ہرایک اپنا بہترین تیل و خوشبو مل لیا کرے ‘‘ کے تحت لکھتے ہیں : تیل سروجسم میں اورخوشبوکپڑوں میں۔اس سے معلوم ہوا کہ مسلمانوں کے مجمعوں میں اچھے کپڑے پہن کر جانا چاہئے،شادی،عُرس،تبلیغ کے جلسے سب میں اس بات کا خیال رکھا جائے۔مجلسوں میں ہار پھول ڈالنے کی اصل یہ حدیث ہے۔
(مراٰۃ المناجیح،۱/۳۴۸)

Address

Bahawalpur

Telephone

+923052671456

Website

Alerts

Be the first to know and let us send you an email when ایمن رضا قرآن ٹیچر posts news and promotions. Your email address will not be used for any other purpose, and you can unsubscribe at any time.

Contact The Place Of Worship

Send a message to ایمن رضا قرآن ٹیچر:

Share