Islam is peaceful religion

Islam is peaceful religion My motive Complete world till Of Islam talk To save

14/06/2025
15/06/2024

we sale and purchase mobile phone

30/12/2020

روضہ رسول ﷺ پر ایک عرب دیہاتی حاضر ہو کر رب سے کچھ یوں دعا کرتا ہے
اس کے مانگنے کا انداز دیکھیئے
الفاظ پر غور کیجیئے
یقین جانیئے رب سے مانگنے کا بھی ایک خاص فن انداز اور ڈھنگ ہوتا ہے جو کہ اس گاؤں کے رہنے والے عربی سے سیکھنا چاہیئے
اے الله
یہ آپ کے حبیب ہیں
میں آپ کا غلام ہوں اور شیطان آپ کا دشمن ہے
خدایا اگر تو مجھے بخش دے گا تو تیرا حبیب خوش ہوگا
تیرا بندہ کامیاب ہو گا اور تیرا دشمن غمگین ہو گا
مولا اگر تو نے میری بخشش نہیں کی تو تیرا حبیب غمگین ہو گا
تیرا غلام ناکام ہو گا اور تیرا دشمن خوش ہو گا
الہی تیری شان اس سے بڑی ھے کہ تو اپنے حبیب کو غمگین کر دے
اپنے بندے کو ناکام اور اپنے دشمن کو خوش کر دے

میرے پروردگار !

ہم عرب ہیں ہمارے یہاں جب کوئی سردار فوت ہو جائے تو اس کی قبر پر غلاموں کو آزاد کیا جاتا ہےیہ تو تمام جہانوں کے سردار محمد الرسول الله ﷺ کی قبر ہے، پس یہاں مجھ غلام کو جھنم کی آگ سے آزاد فرما دے
آمین

میں نے یہ دعا سُنی تو دنگ رہ گیا
پھر ان سے بات کی. میں نے اپنی عمر بتائی اور ان کی عمر پوچھی تو معلوم ہوا وہ ۹۵ برس کے تھے اور ان کی والدہ کا انتقال ۱۰۵ برس کی عمر میں ہوا تھا
میں نے ذرا ہچکچاہٹ سے پوچھا کہ اچھی صحت کا راز تو بتائیں
کہنے لگے بس بیمار نہ پڑو.
میں نے کہا یہ تو ہمارے بس کی بات نہیں
ہنستے ہوئے کہنے لگے بس کی بات ہے
میں نے کہا آپ بتائیں میں ضرور عمل کرونگا.
میرے قریب آکر آہستہ سے کہنے لگے منہ میں کبھی کوئی چیز بسم الله کے بغیر نہ ڈالنا چاہے پانی کا قطرہ ہو یا چنے کا دانہ
میں خاموش سا ہوگیا
پھرکہنے لگے الله تعالیٰ نے کوئی چیز بے مقصد اور بلاوجہ نہیں بنائی ہرچیز میں ایک حکمت ہے اور اس میں فائدے اور نقصان دونوں پوشیدہ ہیں جب ہم کوئی بھی چیز بسم الله پڑھ کر منہ میں ڈالتے ہیں، تو الله اس میں سے نقصان نکال دیتا ہے
ہمیشہ بسم الله پڑھ کر کھاؤ پیو. اور دل میں بار بار خالق کا شکر ادا کرتے رہو اور جب ختم کر لو تو بھی ہاتھ اٹھا کر شکر ادا کرو .کبھی بیمار نہ پڑوگے ان شاءالله
میری آنکھیں تر ہوچکی تھیں کہ یہ شخص ہماری مسجدوں کے مُلا اور عالموں سے کتنا بڑا عالم تھا
خیر دیر ہورہی تھی میں سلام کرکے اٹھنے لگا تو میرا ہاتھ پکڑ کر کہنے لگے
کھانے کے حوالے سے آخری بات بھی سنتے جاؤ
میں جی کہہ کر پھر بیٹھ گیا
کہنے لگے اگر کسی کے ساتھ بیٹھ کر کھا رہے ہو تو کبھی بھول کے بھی پہل نا کیا کرو چاہے کتنی ہی بھوک لگی ہو پہلے سامنے والی کی پلیٹ میں ڈالو اور وہ جب تک لقمہ اپنے منہ میں نہ رکھ لے تم نہ شروع کیا کرو
میری ہمت نہیں پڑ رہی تھی کہ اسکا فائدہ پوچھوں
لیکن وہ خود ہی کہنے لگے یہ تمہارے کھانے کا صدقہ ادا ہوگیا اور ساتھ ہی الله بھی راضی ہوا کہ تم نے پہلے اس کے بندے کا خیال کیا یاد رکھو غذا جسم کی اور بسم الله روح کی غذا ہے
اب بتاؤ کیا تم ایسے کھانے سے بیمار پڑ سکتے ہو
میں شرمندگی میں ڈوبا ہوا بے ساختہ ان کے چہرے پر اپنے دونوں ہاتھ رکھ کر جانے کی اجازت لے کر تیزی سے جانے کے لئے مڑ گیا کہ دین کی چھوٹی چھوٹی باتوں سے ہم اور ہماری اولادیں کتنی محروم ہیں
تبھی تو ہمارا معاشرہ ہر برائی میں ڈوبا ہوا ہے
الله پاک ہمیں دل و جان سے شاکر بنائے اور دین کا صحیح علم اور اچھی سمجھ عطا فرمائے
آمین ثمہ آمین

24/12/2020

*جنگ یمامہ*
*مسیلمہ کذاب کے دعویٰ نبوت کے نتیجے میں لڑی گئی جس میں 1200 صحابہ کرام شہید ہوئے اور اس فتنے کو مکمل مٹا ڈالا*۔
*خلیفہ اول سیدنا ابوبکر صدیقؓ خطبہ دے رہے تھے:*
*لوگو! مدینہ میں کوئی مرد نہ رہے،اہل بدر ہوں یا اہل احد سب یمامہ کا رخ کرو"*
*بھیگتی آنکھوں سے وہ دوبارہ بولے:*
*مدینہ میں کوئی نہ رہے حتی کہ جنگل کے درندے آئیں اور ابوبکر کو گھسیٹ کر لے جائیں"*
*صحابہ کرام کہتے ہیں کہ اگر علی المرتضی سیدنا صدیق اکبر کو نہ روکتے تو وہ خود تلوار اٹھا کر یمامہ کا رخ کرتے۔*
*13 ہزار کے مقابل بنوحنفیہ کے 70000 جنگجو اسلحہ سے لیس کھڑے تھے۔*
*جنگ یمامہ وہ جنگ تھی جس کےمتعلق اہل مدینہ کہتے تھے*: *بخدا ہم نے ایسی جنگ نہ پہلے کبھی لڑی نہ بعد میں لڑی*
*اس سے پہلے جتنی جنگیں ہوئیں بدر احد خندق خیبر موتہ وغیرہ صرف 259 صحابہ کرام شہید ہوئے۔ ختم نبوت ﷺ کے دفاع میں 1200صحابہ کٹے جسموں کے ساتھ مقتل میں پڑے تھے۔*
*اے مسلمانو! تمہیں پھر بھی ختم_نبوتﷺ کی اہمیت معلوم نہ ہوئی*۔
*انصار کا وہ سردار ثابت بن قیس جس کی بہادری کے قصے عرب و عجم میں مشہور تھے اس کی زبان سے جملہ ادا ہوا:*
*اےالله! جس کی یہ عبادت کرتے ہیں میں اس سے برأت کا اظہار کرتا ہوں "چشم فلک نے وہ منظر بھی دیکھا جب وہ اکیلا ہزاروں کے لشکر میں گھس گیا اور اس وقت تک لڑتا رہا جب تک اس کے جسم پر کوئی ایسی جگہ نہ بچی جہاں شمشیر و سناں کا زخم نہ لگا ہو۔*
*عمربن خطاب رضی اللہ عنہ کے بھائی زید بن خطاب جو اسلام لانے میں صف اول میں شامل تھا اس نے مسلمانوں میں آخری خطبہ دیا:*
*والله! میں آج کے دن اس وقت تک کسی سے بات نہ کروں گا جب تک کہ انہیں شکست نہ دے دوں یا شہید نہ ہو جاؤں"*
*اے مسلمانو! تمہیں پھر بھی ختم نبوتﷺ کی اہمیت معلوم نہ ہوئی* ۔
*بنو حنفیہ کا باغ "حدیقۃ الرحمان میں اتنا خون بہا کہ اسے حدیقۃ الموت کہا جانے لگا، اس باغ کی دیواریں مثل قلعہ کے تھیں*
*کیا عقل یہ سوچ سکتی ہے کہ ہزاروں کا لشکر ہو اور براء بن مالک کہے:*
*"اے مسلمانو! اب ایک ہی راستہ ہے تم مجھے اٹھا کر اس قلعے میں پھینک دو میں تمہارے لئے دروازہ کھولوں گا"*
*اس نے قلعہ کی دیوار پر کھڑے ہو کر منکرین ختم نبوت کے اس لشکر جرار کو دیکھا اور پھر تن تنہا اس قلعے میں چھلانگ لگ دی*
*قیامت تک جو بھی بہادری کا دعوی کرے گا یہاں وہ بھی سر پکڑ لے گا !!!*
*ایک اکیلا شخص ہزاروں سے لڑ رہا تھا ہاں اس نے دروازہ بھی کھول دیا اور پھر مسلمانوں نے منکرین ختم نبوت کو کاٹ کر رکھ دیا*
*اے مسلمانوں! کاش کہ تم جان لیتے کہ تمہارے اسلاف نے اپنی جانیں دے کر رسول الله صلی الله علیہ وآلہ وسلم کی ختم نبوت کا دفاع کیا ہے*۔۔۔۔
*کاش تمہیں رسول الله صلی الله علیہ وآلہ وسلم کے ان صحابہ کے جذبوں کا علم ہوتا جو ایک مٹھی بھر جماعت کے ساتھ حد نگاہ تک پھیلے لشکر سے ٹکرا گئے۔۔*
*قادیانیت ایک بہت بڑے فتنے کی صورت میں نمودار ہے، پس ہر صاحب ایمان کے ذمے ہے کہ وہ اس کے سدباب کی کوششوں میں شریک ہو. اے مسلمانو، تحفظ ختم نبوت کے جہاد میں اپنا اپنا کردار ادا کرو تا کہ قیامت کے دن خاتم النبیین صلى الله عليه وسلم کی شفاعت نصیب ہو*-
*آخر میں آپ سے التماس ہے کہ صحابہ کرام رضوان اللہ علیہم اجمعین کی اس داستان عشق وقربانی کو تمام مسلمانوں کے سامنے رکھنے کی غرض سے اس تحریر کو آگے منتقل کرنے کےلئے اپنا کردار ادا کریں۔*

08/12/2020

اسلام علیکم!
حضرت شاہ عبدالعزیز دہلوی رحمت اللہ علیہ کے زمانے میں ایک ہندو پنڈت نے ایک اعلان کیا کہ ہندو مذہب سچا مذہب ہے اور اسلام جھوٹا مذہب ہے اور دلیل اس نے یہ پیش کی کہ ہمارا فلاں مندر جو دو ہزار سال سے بنا ہوا ہے آج تک بالکل صحیح سالم ہے اسکی دیواریں کھڑکیاں دروازے غرض سب کچھ ویسے کا ویسے آج تک اپنی اصلی حالت میں موجود ہیں جبکہ مسلمانوں کی مساجد ایک سال بھی نہیں گزرتا کہ رنگ روغن درودیوار دروازے کھڑکیاں سب کچھ خراب ہونا شروع ہو جاتے ہیں لہذا یہ اس بات کی دلیل ہے کہ اسلام مٹنے والا ہے اور ہندو مت باقی رہنے والا ہے۔
مسلمانوں کی اکثریت اس پروپیگنڈا کا جواب دینے میں ناکام رہی اور اسکی وجہ سے لوگ بہت شش و پنج میں مبتلا ہو گئے کہ اس پروپیگنڈا کا روک تھام کیسے کیا جاۓ
ایسے میں حضرت شاہ عبدالعزیز دہلوی آگے آۓ اور اس نے اعلان کیا کہ اس کا جواب میں دوں گا
پنڈت نے کہا کیا جواب ہے حضرت نے کہا کہ ایسے نہیں اسی مندر کے دروازے پر جواب دوں گا
مقررہ وقت پر مسلمان اور ہندو سب جمع ہو گئے کہ دیکھئے کیا جواب دیتے ہیں
حضرت صاحب مندر کے دروازے پر کھڑے ہو گئے اور قرآن کی آیت
لو انزلنا ھذا القران علی جبل لرآئتہ حاشعۃ . . .
ترجمہ
اگر اللہ تعالی اس قرآن کو پہاڑ پر بھی نازل کر دیتے تو وہ پہاڑ بھی اللہ تعالی کے جلال سے ڈر کر ٹکڑے ٹکڑے ھو جاتا
آپ آیت پڑھتے جاتے اور مندر کے درودیوار دروازوں کے طرف انگلی سے اشارہ کرتے جاتے ایسے میں اللہ تعالی نے آپ کے ہاتھ پر اپنے دین کی حقانیت کی کرامت ظاہر کر دی اور مندر کی دیواریں گرنا شروع ھو گئی دروازے ٹوٹنے لگے
مسلمانوں نے اللہ اکبر کا نعرہ لگایا پنڈت جلدی حضرت کے قدموں میں گر گئے اور کہا بس کریں بہت ہو گیا لیکن اسکی حقیقت تو بتا دیں کہ یہ کیا ہوا
آپ نے فرمایا اللہ تعالی قرآن میں فرماتا ہے کہ قرآن اگر پہاڑ پر نازل کر دیتے تو وہ بھی اپنی جگہ نہیں ٹہر سکتا پھر اس مندر کی کیا مجال ہے کہ یہ اپنی جگہ پر کھڑا رہتا
یہ تو مسجد کی عظمت ہے کہ اس میں روزانہ قرآن پڑھا جاتا ہے پھر بھی اپنی جگہ پر کھڑا رہتا ہے..
کتاب۔جواھر عزیزی۔
اردو ترجمہ۔تفسیر عزیزی
صفحہ نمبر۔179 متلقہ کالم۔

Please read it...*سال 2020 یعنی آج:**سال 2120 یعنی کل.*اب سے صرف سو سال بعد اس تحریر کو پڑھنے والا ہر شخص زیر زمین مدفون...
24/11/2020

Please read it...
*سال 2020 یعنی آج:*
*سال 2120 یعنی کل.*

اب سے صرف سو سال بعد اس تحریر کو پڑھنے والا ہر شخص زیر زمین مدفون ہوگا.

*الا ما شاء اللہ.*

ہماری ہڈیاں ریزہ ریزہ ہوکر رزق خاک ہوچکی ہوں گی.

*تب تک ہماری جنت یا جہنم کا فیصلہ بھی معلوم ہوچکا ہوگا.*

جبکہ اس دوران سطح زمین کے اوپر ہمارے چھوڑے ہوئے گھر کسی اور کے ہوچکے ہوں گے.

ہمارے کپڑے کوئی اور پہن رہا ہوگا اور ہماری محنت اور محبت سے حاصل شدہ گاڑیاں کوئی اور چلارہا ہوگا۔

*اس وقت ہم کسی کے خیال میں بھی نہ ہوں گے.*

بھلا آپ اپنے پڑ دادا یا پڑ دادی کے بارے میں کبھی سوچتے ہیں کیا....؟

*تو کوئی ہمارے بارے میں کیوں سوچنے لگا؟؟*

آج زمین کے اوپر ہمارا وجود, ہمارا ہر وقت کا شور و شغب,

ہٹو بچو کی صدائیں اور ان گھروں کو آباد کرنے کے لیے ہماری محنت ومشقت,

یہ سب کچھ ہم سے پہلے کسی اور کا تھا اور ہمارے بعد یقینی طور پر کسی اور کا ہونے والا ہے.

*کوئی ایسا ہونے سے روک سکتا ہے تو روک لے.*

اس دنیا سے گزرنے والی ہر نسل بمشکل اس پر غور کرتی ہے

خواہشات کی تکمیل کا موقع بھلا کسی کو اس دار الفناء میں کہاں مل سکتا ہے؟

*ہماری زندگی درحقیقت ہمارے تصورات و خواہشات کے مقابلے میں بہت ہی مختصر ہے.*

سال *2120* میں ہم سب پر اپنی اپنی قبر میں اس دنیا اور اپنی خواہشات کی حقیقت آشکار ہوچکی ہوگی۔۔۔

*ہائے افسوس!!!*

اس دھوکے کے گھر میں کیسی احمقانہ خواہشات اور کیسے جاہلانہ منصوبے ہم نے بنا رکھے تھے؟؟

تب ہم پر یہ حقیقت بھی عیاں ہوجائے گی کہ

*اے کاش!*

ہم نے اپنی ترجیحات میں
*اللہ اور اس کے رسول*
کی وفاداری کو سب سے پہلے و مقدم رکھا ہوتا تو

آج سب کچھ دنیا میں چھوڑ کر آنے کے بجائے قبر کا زاد راہ اور اعمال صالحہ کی شکل میں صدقہ جاریہ بھی ساتھ لاسکتے.

تب ہمیں یہ بھی معلوم ہوچکا ہوگا کہ دنیا اس لائق ہرگز نہ تھی کہ

اس کے لیے اتنا سب کچھ جان, مال, وقت اور تمام صلاحیتیں اور جذبات داؤ پہ لگادی جاتیں۔۔۔۔

*آج یہ مضمون پڑھنے والے بہت سے لوگ 2120 میں یہ تمنا کر رہے ہوں گے

*"رَبِّ ارْجِعُونِ لَعَلِّي أَعْمَلُ صَالِحًا فِيمَا تَرَكْتُ ۚ "*

اے میرے پروردگار!
مجھے واپس دنیا میں بھیج دے تاکہ میں جو کچھ وہاں چھوڑ آیا ہوں اس میں واپس جاکر نیک اعمال کرسکوں. "

*لیکن اس درخواست کا جواب بہت سخت ملے گا:*

*"كَلَّا ۚ إِنَّهَا كَلِمَةٌ هُوَ قَائِلُهَا ۖ وَمِن وَرَائِهِم بَرْزَخٌ إِلَىٰ يَوْمِ يُبْعَثُونَ0"*

(المؤمنون:99-100)

"ہرگز نہیں!
یہ تو صرف ایک بات ہے جو یہ کہہ رہا ہے
(قابل عمل نہیں ہے).
اب تو قیامت تک ان کے پیچھے باڑ لگادی گئی ہے. "

*2120 میں قبر میں وہ یہ تمنا بھی کرے گا:*

*"يَا لَيْتَنِي قَدَّمْتُ لِحَيَاتِي" (الفجر:24)*

ہائے میری ہلاکت وبربادی! میں اپنی زندگی کے لئے کچھ آگے بھیج دیتا. "

موت کا فرشتہ میرے اور آپ کے نیک ہونے کے انتظار میں نہیں ہے.

*آئیے!*

موت کے فرشتہ کے انتظار کے بجائے موت کی تیاری کریں اور اعمال صالحہ والی زندگی اختیار کرلیں۔۔۔

*اس پیغام کو دوسروں تک پہنچائیے تاکہ اللہ کسی کی زندگی کو آپ کے ذریعے بدل دے......*
*سال 2020 یعنی آج:*
*سال 2120 یعنی کل.*

اب سے صرف سو سال بعد اس تحریر کو پڑھنے والا ہر شخص زیر زمین مدفون ہوگا.

*الا ما شاء اللہ.*

ہماری ہڈیاں ریزہ ریزہ ہوکر رزق خاک ہوچکی ہوں گی.

*تب تک ہماری جنت یا جہنم کا فیصلہ بھی معلوم ہوچکا ہوگا.*

جبکہ اس دوران سطح زمین کے اوپر ہمارے چھوڑے ہوئے گھر کسی اور کے ہوچکے ہوں گے.

ہمارے کپڑے کوئی اور پہن رہا ہوگا اور ہماری محنت اور محبت سے حاصل شدہ گاڑیاں کوئی اور چلارہا ہوگا۔

*اس وقت ہم کسی کے خیال میں بھی نہ ہوں گے.*

بھلا آپ اپنے پڑ دادا یا پڑ دادی کے بارے میں کبھی سوچتے ہیں کیا....؟

*تو کوئی ہمارے بارے میں کیوں سوچنے لگا؟؟*

آج زمین کے اوپر ہمارا وجود, ہمارا ہر وقت کا شور و شغب,

ہٹو بچو کی صدائیں اور ان گھروں کو آباد کرنے کے لیے ہماری محنت ومشقت,

یہ سب کچھ ہم سے پہلے کسی اور کا تھا اور ہمارے بعد یقینی طور پر کسی اور کا ہونے والا ہے.

*کوئی ایسا ہونے سے روک سکتا ہے تو روک لے.*

اس دنیا سے گزرنے والی ہر نسل بمشکل اس پر غور کرتی ہے

خواہشات کی تکمیل کا موقع بھلا کسی کو اس دار الفناء میں کہاں مل سکتا ہے؟

*ہماری زندگی درحقیقت ہمارے تصورات و خواہشات کے مقابلے میں بہت ہی مختصر ہے.*

سال *2120* میں ہم سب پر اپنی اپنی قبر میں اس دنیا اور اپنی خواہشات کی حقیقت آشکار ہوچکی ہوگی۔۔۔

*ہائے افسوس!!!*

اس دھوکے کے گھر میں کیسی احمقانہ خواہشات اور کیسے جاہلانہ منصوبے ہم نے بنا رکھے تھے؟؟

تب ہم پر یہ حقیقت بھی عیاں ہوجائے گی کہ

*اے کاش!*

ہم نے اپنی ترجیحات میں
*اللہ اور اس کے رسول*
کی وفاداری کو سب سے پہلے و مقدم رکھا ہوتا تو

آج سب کچھ دنیا میں چھوڑ کر آنے کے بجائے قبر کا زاد راہ اور اعمال صالحہ کی شکل میں صدقہ جاریہ بھی ساتھ لاسکتے.

تب ہمیں یہ بھی معلوم ہوچکا ہوگا کہ دنیا اس لائق ہرگز نہ تھی کہ

اس کے لیے اتنا سب کچھ جان, مال, وقت اور تمام صلاحیتیں اور جذبات داؤ پہ لگادی جاتیں۔۔۔۔

*آج یہ مضمون پڑھنے والے بہت سے لوگ 2120 میں یہ تمنا کر رہے ہوں گے

*"رَبِّ ارْجِعُونِ لَعَلِّي أَعْمَلُ صَالِحًا فِيمَا تَرَكْتُ ۚ "*

اے میرے پروردگار!
مجھے واپس دنیا میں بھیج دے تاکہ میں جو کچھ وہاں چھوڑ آیا ہوں اس میں واپس جاکر نیک اعمال کرسکوں. "

*لیکن اس درخواست کا جواب بہت سخت ملے گا:*

*"كَلَّا ۚ إِنَّهَا كَلِمَةٌ هُوَ قَائِلُهَا ۖ وَمِن وَرَائِهِم بَرْزَخٌ إِلَىٰ يَوْمِ يُبْعَثُونَ0"*

(المؤمنون:99-100)

"ہرگز نہیں!
یہ تو صرف ایک بات ہے جو یہ کہہ رہا ہے
(قابل عمل نہیں ہے).
اب تو قیامت تک ان کے پیچھے باڑ لگادی گئی ہے. "

*2120 میں قبر میں وہ یہ تمنا بھی کرے گا:*

*"يَا لَيْتَنِي قَدَّمْتُ لِحَيَاتِي" (الفجر:24)*

ہائے میری ہلاکت وبربادی! میں اپنی زندگی کے لئے کچھ آگے بھیج دیتا. "

موت کا فرشتہ میرے اور آپ کے نیک ہونے کے انتظار میں نہیں ہے.

*آئیے!*

موت کے فرشتہ کے انتظار کے بجائے موت کی تیاری کریں اور اعمال صالحہ والی زندگی اختیار کرلیں۔۔۔

*اس پیغام کو دوسروں تک پہنچائیے تاکہ اللہ کسی کی زندگی کو آپ کے ذریعے بدل دے......*

12/11/2020

*وہ اُٹھ کر اندر گئے‘ چیک بک لے کر آئے‘ ساٹھ ستر لاکھ روپے کا چیک کاٹا‘ یہ چیک صاحبزادے کے حوالے کیا

اور

آنکھیں نیچے کر کے بولے‘ آپ یہ رقم لو اور مجھے اس کے بعد کبھی اپنی شکل نہ دکھانا‘

اس نے وہ چیک جیب میں ڈالا اور نعیم بخاری کے ساتھ واپس چلا گیا۔

وہ فلمساز 1983ء میں انتقال کر گئے۔ انتقال کے وقت ان کا کوئی اپنا وہاں موجودنہیں تھا‘

نعیم بخاری صاحب کے بقول ’’یہ منظر دیکھنے کے بعد میرے دل میں پوری زندگی کے لیے دولت کی خواہش ختم ہو گئی‘‘۔*

*ہم سے زندگی میں صرف دس چیزیں بے وفائی کرتی ہیں‘ ہم اگر ان دس بیوفاؤں کی فہرست بنائیں تو

عہدہ دولت اور اولاد پہلے تین نمبر پر آئیں گی‘

ہم عہدے کے لیے ایمان‘ عزت‘ سیلف ریسپیکٹ‘ اخلاقیات‘ صحت اور خاندان تک قربان کر دیتے ہیں

لیکن

یہ عہدہ سب سے زیادہ بے وفا نکلتا ہے ‘ میں نے کرسی پر بیٹھے لوگوں کو فرعون اور نمرود بنتے بھی دیکھا

اور ’’نسلیں ختم کردو‘‘ جیسے احکامات جاری کرتے بھی لیکن پھر جب عہدے نے بے وفائی کی تو میں نے اپنی آنکھوں سے محترمہ بے نظیر بھٹو اور میاں نواز شریف جیسے با اختیار لوگوں کو بھی عدالتوں کے باہر گندی اینٹوں اور قلعوں کی حبس زدہ کوٹھڑیوں میں محبوس دیکھا‘

میں نے بے شمار ارب اور کھرب پتی لوگوں کو پیسے پیسے کا محتاج ہوتے بھی دیکھا‘؟*

*دولت مند غریب ہو گئے‘ مالک ملازم بن گئے اور نمبردار وقت کے سیاہ صفحوں میں جذب ہو گئے چنانچہ پھر دولت سے بڑی بے وفا چیز کیا ہوگی

اور رہ گئی اولاد! میں نے بے شمار لوگوں کو اپنی اولاد سے محبت کرتے دیکھا‘ یہ لوگ پوری زندگی اپنی اولاد کے سکھ کے لیے دکھوں کے بیلنے سے گزرتے رہے لیکن پھر کیا ہؤا؟

وہ اولاد زمین جائیداد کے لیے اپنے والدین کے انتقال کا انتظار کرنے لگی‘ میں نے اپنے منہ سے بچوں کو یہ کہتے سنا ’’ اباجی بہت بیمار ہیں‘ دعا کریں اَلله تعالیٰ ان کی مشکل آسان کر دے‘‘

اور یہ وہ باپ تھا جو بچوں کے نوالوں کے لیے اپنا ضمیر تک بیچ آتا تھا۔*
* میں نے ایسے مناظر بھی دیکھے‘ باباجی کے سارے بچے ملک سے باہر چلے گئے۔ بابا جی نے تنہائی کی چادر بُن بُن کر زندگی کے آخری دن گزارے‘

انتقال ہوا تو بچوں کو وقت پر سیٹ نہ مل سکی‘ چنانچہ تدفین کی ذمے داری ایدھی فاؤنڈیشن نے نبھائی یا پھر محلے داروں نے!‘*

*یہ ہے کُل زندگی! اولاد‘ دولت اور عہدے کی بے وفائی ان بے وفائیوں کے داغ اور آخر میں قبر کا اندھیرا ۔ یہ وہ حقیقت ہے جس سے ہر شخص واقف ہے لیکن اس کے باوجود انسان کا کمال ہے‘

یہ دیکھتا ہے لیکن اسے نظر نہیں آتا‘ یہ سنتا ہے لیکن اسے سنائی نہیں دیتا اور یہ سمجھتا ہے لیکن اسے سمجھایا نہیں جا سکتا‘

ہر روز لوگوں کو تباہ ہوتا، مرتا، ذلیل ہوتا دیکھتا ہے مگر یہ ہر بار خود کو یقین دلاتا ہے ’’ یہ میرے ساتھ نہیں ہوگا‘‘ کیوں؟ کیونکہ ’’

میں دوسروں سے مختلف ہوں‘‘۔. *

*موت کے بعد انسان کی ۹ آرزوئیں جن کا تذکرہ ﻗﺮﺁﻥ ﻣﺠﯿﺪ ﻣﯿﮟ ﮨؤﺍ ﮨﮯ:*
ــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــ

*1۔ يَا لَيْتَنِي كُنْتُ تُرَابًا*
*ﺍﮮ ﮐﺎﺵ ! ﻣﯿﮟ ﻣﭩﯽ ﮨﻮﺗﺎ ‏(ﺳﻮﺭة النبأ‏ 40 #)*
ـــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــ

*2- يَا لَيْتَنِي قَدَّمْتُ لِحَيَاتِي *
*ﺍﮮ ﮐﺎﺵ ! ﻣﯿﮟ ﻧﮯ ﺍﭘﻨﯽ ‏( ﺍﺧﺮﯼ ‏) ﺯﻧﺪﮔﯽ ﮐﮯ ﻟﯿﮯ ﮐﭽﮫ ﮐﯿﺎ ﮨﻮﺗﺎ ( ﺳﻮﺭﺓ ﺍﻟﻔﺠﺮ #24 ‏)*
ــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــ

*3- يَا لَيْتَنِي لَمْ أُوتَ كِتَابِيَهْ*
*ﺍﮮ ﮐﺎﺵ ! ﻣﺠﮭﮯ ﻣﯿﺮﺍ ﻧﺎﻣﮧ ﺍﻋﻤﺎﻝ ﻧﮧ ﺩﯾﺎ ﺟﺎﺗﺎ ‏(ﺳﻮﺭﺓ ﺍﻟﺤﺎﻗﺔ #25)*
ــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــ

*4۔ يَا وَيْلَتَىٰ لَيْتَنِي لَمْ أَتَّخِذْ فُلَانًا خَلِيلًا*
*ﺍﮮ ﮐﺎﺵ ! ﻣﯿﮟ ﻓﻼﮞ ﮐﻮ ﺩﻭﺳﺖ ﻧﮧ ﺑﻨﺎﺗﺎ ‏(ﺳﻮﺭﺓ ﺍﻟﻔﺮﻗﺎﻥ #28 )*
ــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــ

*5۔ يَا لَيْتَنَا أَطَعْنَا اللَّهَ وَأَطَعْنَا الرَّسُولَا*
*ﺍﮮ ﮐﺎﺵ ! ﮨﻢ ﻧﮯ ﺍلله ﺍﻭﺭ اس کے ﺭﺳﻮﻝ ﮐﯽ ﻓﺮﻣﺎﻧﺒﺮﺩﺍﺭﯼ ﮐﯽ ﮨﻮﺗﯽ ‏(ﺳﻮﺭﺓ ﺍﻷﺣﺰﺍﺏ #66)*
ــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــ

*6۔ يَا لَيْتَنِي اتَّخَذْتُ مَعَ الرَّسُولِ سَبِيلًا*
* ﺍﮮ ﮐﺎﺵ ! ﻣﯿﮟ ﺭﺳﻮﻝ ﮐﺎ ﺭﺍﺳﺘﮧ ﺍﭘﻨﺎ ﻟﯿﺘﺎ ‏(ﺳﻮﺭﺓ ﺍﻟﻔﺮﻗﺎﻥ #27)*
ــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــ

*7۔ يَا لَيْتَنِي كُنتُ مَعَهُمْ فَأَفُوزَ فَوْزًا عَظِيمًا*
*ﺍﮮ ﮐﺎﺵ ! ﻣﯿﮟ ﺑﮭﯽ ﺍﻧﮑﮯ ﺳﺎﺗﮫ ﮨﻮﺗﺎ ﺗﻮ ﺑﮩﺖ ﺑﮍﯼ ﮐﺎﻣﯿﺎﺑﯽ ﺣﺎﺻﻞ ﮐﺮ ﻟﯿﺘﺎ ‏(ﺳﻮﺭﺓ ﺍﻟﻨﺴﺎﺀ #73‏)*
ــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــ

*8۔ يَا لَيْتَنِي لَمْ أُشْرِكْ بِرَبِّي أَحَدًا*
*ﺍﮮ ﮐﺎﺵ ! ﻣﯿﮟ ﻧﮯ ﺍﭘﻨﮯ ﺭﺏ ﮐﮯ ﺳﺎﺗﮫ ﮐﺴﯽ ﮐﻮ ﺷﺮﯾﮏ ﻧﮧ ﭨﮭﯿﺮﺍﯾﺎ ﮨﻮﺗﺎ ‏(ﺳﻮﺭﺓ ﺍﻟﻜﻬﻒ #42)*
ــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــ

*9۔ يَا لَيْتَنَا نُرَدُّ وَلَا نُكَذِّبَ بِآيَاتِ رَبِّنَا وَنَكُونَ مِنَ الْمُؤْمِنِين*
*ﺍﮮ ﮐﺎﺵ ! ﮐﻮﺋﯽ ﺻﻮﺭﺕ ﺍﯾﺴﯽ ﮨﻮ ﮐﮧ ﮨﻢ ﺩﻧﯿﺎ ﻣﯿﮟ ﭘﮭﺮ ﻭﺍﭘﺲ ﺑﮭﯿﺠﮯ ﺟﺎﺋﯿﮟ ﺍﻭﺭ ﺍﭘﻨﮯ ﺭﺏ ﮐﯽ ﻧﺸﺎﻧﯿﻮﮞ ﮐﻮ ﻧﮧ ﺟﮭﭩﻼﺋﯿﮟ ﺍﻭﺭ ﺍﯾﻤﺎﻥ ﻻﻧﮯ ﻭﺍﻟﻮﮞ ﻣﯿﮟ ﺷﺎﻣﻞ ﮨﻮﮞ۔ ‏(ﺳﻮﺭﺓ ﺍﻷﻧﻌﺎﻡ #27)*
ــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــ

*👈🏻 ﯾﮧ ﮨﯿﮟ ﻭﮦ ﺁﺭﺯﻭﺋﯿﮟ جن کا ﻣﻮﺕ ﮐﮯ ﺑﻌﺪ ﺣﺎﺻﻞ ﮨﻮﻧﺎ ﻧﺎﻣﻤﮑﻦ ﮨﮯ۔*

*ﺍلله ﺗﻌﺎﻟﯽ ہمیں ﺳﻤﺠﮭﻨﮯ ﺍﻭﺭ ﻋﻤﻞ ﮐﺮﻧﮯ ﮐﯽ ﺗﻮﻓﯿﻖ ﻋﻄﺎﺀ ﻓﺮﻣﺎئے۔*
*آﻣِﻴﻦ ﻳَﺎ ﺭَﺏَّ ﺍﻟْﻌَﺎﻟَﻤِﻴْﻦ*

07/11/2020

لفظ : حسد
تشریح : رب تعالیٰ کی تقسیم سے اختلاف

01/11/2020

میں اگر لو بسکٹس چھوڑ دوں تو کیا فرانس کنگال ہو جائے گا؟
ٹوٹل سے ایک لیٹر پیٹرول تو ڈلواتے ہیں اس سے کیا فرق پڑے گا۔۔
گارنیر کی کاسمیٹکس میں سے چند ایک ہی تو لیتے ہیں وہ بھی مہینے بعد۔۔۔
یاد رکھیں۔۔
کوئی عمل معمولی نہیں ہوتا۔۔
اگر یہی بات وہ چڑیا سوچ لیتی
جو حضرت ابراہیم علیہ السلام پر آگ بجھانے کے کے لیے اپنی چونچ میں پانی بھر کر
لے کے جا رہی تھی۔
اسے بھی اچھی طرح پتہ تھا
ایک قطرہ پانی سے اس آگ کو کچھ نہیں ہوگا
مگر اسے یہ باتیں اچھی طرح پتہ تھی
کہ اللہ تعالی کی بارگاہ میں اس کا نام آگ لگانے والوں میں نہیں بلکہ آگ بجھانے والوں میں لکھا جائے گا
ہم جو کر سکتے ہیں وہ کریں گے۔

ایمازون 1994 میں ایک چھوٹے سے گیراج سے اسٹارٹ ہوا تھا... آج دنیا کا سب سے بڑا ای-کامرس پلیٹ فارم ہے اور اس کا بانی دنیا ...
13/10/2020

ایمازون 1994 میں ایک چھوٹے سے گیراج سے اسٹارٹ ہوا تھا... آج دنیا کا سب سے بڑا ای-کامرس پلیٹ فارم ہے اور اس کا بانی دنیا کا سب سے امیر انسان ہے.
آپ نے بھی جو بڑا کام کرنا ہے اس کا آغاز ایک چھوٹے پیمانے سے آج ہی کر دیں اور اگر آپ ہمت، ایمانداری اور لگا تار محنت کے ساتھ اپنے کام کو جاری رکھیں گےاور ہار نہ مانیں تو آپ کو بڑی کامیابی ضرور ملے گی..
انشآللہ کہہ کر شئیر کریں اور اپنے کاروباری دوست احباب کو اس گروپ میں شامل کریں. تاکہ وہ بھی ہمارے اور آپکے ساتھ ملکر اس کاروباری آئیڈیاز کے پلیٹ فارم سے لوگوں کی رہنمائی اور معاونت کریں.

Address

Bahawalpur
63100

Opening Hours

Monday 09:00 - 17:00
Tuesday 09:00 - 17:00
Wednesday 09:00 - 17:00
Thursday 09:00 - 17:00
Friday 09:00 - 17:00
Saturday 09:00 - 17:00
Sunday 09:00 - 17:00

Telephone

+923009683197

Website

Alerts

Be the first to know and let us send you an email when Islam is peaceful religion posts news and promotions. Your email address will not be used for any other purpose, and you can unsubscribe at any time.

Contact The Place Of Worship

Send a message to Islam is peaceful religion:

Share