Islamic Insights by molana Ameer Afsar

Islamic Insights by molana Ameer Afsar تعلیمات اسلام کی آگاہی کے عزم کے ساتھ اللہ تعالیٰ سے عمل کی توفیق کی دعا لیے اسلامک ان سائٹس،الحمدللہ

06/06/2026

جن کاموں کے لیے چندہ کیا جائےتو وہ رقم ان ہی کاموں میں صرف کی جائے ،دوسرے کاموں میں چندہ دہندہ گان کی اجازت کے بغیرخرچ کرنا درست نہیں ۔ #مسائل #نیکی

05/06/2026

رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: "اچھی اور میٹھی بات بھی صدقہ ہے۔" اس حدیث سے معلوم ہوتا ہے کہ اسلام صرف مالی صدقات ہی کی تعلیم نہیں دیتا بلکہ خوش اخلاقی، نرم گفتگو اور دوسروں کے دل کو خوش کرنا بھی عظیم نیکی ہے۔ ایک مسلمان کو چاہیے کہ وہ اپنی زبان کو پاکیزہ رکھے، دوسروں سے محبت اور خیر خواہی کے ساتھ بات کرے، کیونکہ اچھی بات دلوں کو جوڑتی اور اللہ تعالیٰ کی رضا کا سبب بنتی ہے۔
#اخلاقیات #نیکی

04/06/2026

سچا مؤمن اپنی زبان کی حفاظت کرتا ہے۔ وہ کسی پر طعن و تشنیع نہیں کرتا، لعنت نہیں بھیجتا، فحش اور بے ہودہ گفتگو سے بچتا ہے اور گالی گلوچ کو اپنی عادت نہیں بناتا۔ اسلام حسنِ اخلاق، نرم گفتگو اور پاکیزہ زبان کی تعلیم دیتا ہے۔











03/06/2026

گویا آپ ﷺ نے ان یہودیوں کی ایسی سخت گستاخی کے جواب میں بھی سختی کو پسند نہیں فرمایا، اور نرمی ہی کو اختیار کرنے کی ہدایت فرمائی۔
اصل حدیث کے مراجع:
صحیح بخاری: 6256، 6030
صحیح مسلم: 2165
خلاصہ:
یہ حدیث ہمیں سکھاتی ہے کہ مخالفین کی بدزبانی اور گستاخی کے جواب میں بھی مسلمان کو اپنی زبان اور اخلاق کا دامن نہیں چھوڑنا چاہیے۔ نرمی، حلم اور خوش اخلاقی رسول اللہ ﷺ کی نمایاں سنت ہے۔




#رفق
#نرمی





02/06/2026

اس حدیث میں تین اہم اوصاف کی فضیلت بیان کی گئی ہے:
حسنِ سیرت (السمت الحسن): اچھا اخلاق، پاکیزہ کردار اور شائستہ طرزِ زندگی۔
تؤدہ (وقار و اطمینان): جلد بازی سے بچنا، سوچ سمجھ کر اور سکون کے ساتھ کام کرنا۔
اقتصاد (میانہ روی): ہر معاملے میں اعتدال اختیار کرنا اور افراط و تفریط سے بچنا۔
نبی کریم ﷺ نے عبادات، خرچ کرنے، کھانے پینے اور زندگی کے تمام معاملات میں اعتدال کی تعلیم دی ہے۔ جو شخص ان اوصاف کو اپناتا ہے وہ انبیائے کرام علیہم السلام کے طریقے اور اخلاق سے حصہ پاتا ہے۔
#اخلاق #حلم #اعتدال #سیرت

01/06/2026

#مسائل #نمازفجر #سنت #جماعت

01/06/2026

#اخلاق #حلم #اطمینان #ترمذی

30/05/2026

قبیلہ عبدالقیس کا ایک وفد آنحضرت ﷺ کی زیارت کے لئے مدینہ طیبہ آیا، اس وفد کے سارے لوگ اپنی سواریوں سے کود کود کر جلدی سے حضور ﷺ کی خدمت میں پہنچ گئے، لیکن رئیس وفد جن کا نام منذر اور عرف اشج تھا، انہوں نے یہ جلد بازی نہیں کی، بلکہ اتر کے پہلے سارے سامان کو یکجا اور محفوظ کیا، پھر غسل کیا اور کپڑے تبدیل کئے، اور اس کے بعد متانت اور وقار کے ساتھ خدمت نبوی ﷺ میں حاضر ہوئے، رسول اللہ ﷺ نے ان کے اس رویہ کو پسند فرمایا، اور اسی موقع پر ان سے یہ ارشاد فرمایاکہ تم میں یہ دو خصلتیں ہیں جو اللہ تعالیٰ کو بہت پیاری اور محبوب ہیں، ایک حلم (بردباری) یعنی غصہ سے مغلوب نہ ہونا، اور غصہ کے وقت اعتدال پر قائم رہنا، اور دوسری اناۃ یعنی کاموں میں جلد بازی اور بے صبری نہ کرنا، بلکہ ہر کام کو متانت اور وقار کے ساتھ اطمینان سے انجام دینا۔ #اخلاق #حلم

28/05/2026

#قربانی

Address

Attock

Website

Alerts

Be the first to know and let us send you an email when Islamic Insights by molana Ameer Afsar posts news and promotions. Your email address will not be used for any other purpose, and you can unsubscribe at any time.

Share