23/07/2026
جناب سید نثار علی ترمذی شہید مولانا عبد الکریم مشتاق رحمتہ اللہ علیہ کے بارے میں لکھتے ہیں کہ
ایک دن کا زکر ہے کہ تحریک جعفریہ کے دفتر ۲- دیو سماج میں معمول کے کام نمٹا رہا تھا کہ ایک قدرے بھاری، درمیانہ قد کے شخص نے آکر سلام کیا اور کہا کہ میرا نام عبدالکریم مشتاق ہے. میں نے حیران ہوکر پوچھا وہ جنہوں نے " سو سنار کی اور ایک لوہار کی" جیسی کتب لکھی ہیں. انہوں نے کہا ہاں وہی ہوں.
میں تو احترام میں اٹھ کھڑا ہوا, ان سے گلے ملا اور انہیں بیٹھنے کو کہا. میں سمجھا کہ شاید وہ تحریک کے حوالے سے آئیں ہوں گئے. مگر انہوں نے بتایا کہ وہ کراچی میں رہتے تھے وہاں ان پر قاتلانہ حملہ ہوا تھا جس میں اللہ نے ان کی جان بچائی. یہ کہ کر انہوں نے کرتا اٹھایا اور زخم دکھایا. اب وہ مزید علمی کام و عملی کام کےلیے فیملی سمیت لاہور شفٹ ہوگئے تھے. انہیں ملازمت چاہیے تھی.
مزید کہا کہ وہ اکاؤنٹس کا کام کرسکتے ہیں. میں کبھی ان کو دیکھتا کبھی ان کی ڈیمانڈ کو. میں انہیں جتنی تشفی دے سکتا تھا دی اور کہا ہم آپ کے بھائی ہیں. پریشان نہ ہوں. اسی وقت انجینئر علی رضا بھائی کو فون کیا وہ" قیام پبلیکیشنز" اور شفاف پرنٹنگ پریس چلا رہے تھے. انہوں نے کہا کہ فورا انہیں بھیج دیں. رضا بھائی نے انہیں اپنے پریس پر جگہ دے دی.
شہید نے بعد میں بھی رابطہ رکھا. ہمارے ایک تنظیمی پروگرام میں آپ نے چالیس صفحات پر مشتمل حدیث کساء پر ایک مقالہ پڑھا تھا جو میں نے اس قبل نہ سنا تھا نہ پڑھا بعد میں بھی ایسی تحریر نہیں ہڑھی۔ میرا خیال ہے کہ یہ مقالہ چھپا ہے۔
ایک دن اپنی بیٹی کی شادی کا دعوت نامہ دیا اور آنے کی تاکید کی۔ میں وقت مقررہ سے ایک گھنٹہ تاخیر سے پہنچا تو شادی ہال میں اکیلے بیٹھے تھے۔ بڑے تپاک سے ملے اور باربار شکریہ ادا کیا۔
بارات بہت تاخیر سے آئی تھی.بہت اخلاق کے مالک ، علمی شخصیت سادہ طبیعت اور ملنسار تھے. 6, اگست1996ء کو کمشنر سرگودہا سید تجمل عباس کے جنازے میں یہ خبر ملی کہ گھر کے قریب ہی مولانا عبدالکریم مشتاق کو دھشت گردوں نے گولی مار کر شہید کردیا ہے.جب میں پہنچا تو ابھی تک جائے شہادت پر ان کا تازہ خون زمین پر بکھرا پڑا تھا. شام تک ان کے گھر رہا۔ معمولی سا فرنیچر اور عام سا گھر تھا۔ لاہور کی مٹی ان کے نصیب میں لکھی ہوئی تھی. اللہ ان کی مغفرت فرمائے الہی آمین
سید نثار علی ترمذی