23/01/2026
وَعَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ قَالَ: «كُنْتُ مَعَ النَّبِيِّ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - وَعِنْدَهُ عَلِيٌّ، فَقَالَ النَّبِيُّ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ -: "" يَا عَلِيُّ، سَيَكُونُ فِي أُمَّتِي قَوْمٌ يَنْتَحِلُونَ حُبَّ أَهْلِ الْبَيْتِ، لَهُمْ نَبَزٌ يُسَمَّوْنَ الرَّافِضَةَ، قَاتِلُوهُمْ فَإِنَّهُمْ مُشْرِكُونَ ""».
رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ، وَإِسْنَادُهُ حَسَنٌ.حضرت عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما بیان کرتے ہیں : میں نبی اکرم ﷺ کے پاس موجود تھا ، حضرت علی رضی اللہ عنہ بھی آپ کے پاس موجود تھے ، نبی اکرم ﷺ نے ارشاد فرمایا :
’’ اے علی ! عنقریب میری امت میں ایسے لوگ آئیں گے ، جو اہل بیت کے ساتھ محبت کا دعویٰ کریں گے ، اُن کا مخصوص نام ہو گا ، انہیں رافضہ کہا جائے گا ، تم اُن کے ساتھ لڑائی کرنا ، کیونکہ وہ لوگ مشرک ہوں گے ۔‘‘
یہ روایت امام طبرانی نے نقل کی ہے اور اس کی سند حسن ہے ۔
الزوائد16434