27/04/2026
اختلافِ رائے کے آداب
اختلافِ رائے انسانی فکر کا فطری نتیجہ ہے۔ جہاں عقل و شعور متحرک ہوں، وہاں آراء کا تنوع ناگزیر ہے۔ اسلام نے اس تنوع کو تسلیم کیا اور اسے علمی ارتقاء کا ذریعہ قرار دیا، بشرطیکہ اس کے ساتھ آداب و اخلاق کی پاسداری کی جائے۔ یہی وجہ ہے کہ ہمارے اسلاف نے اختلاف کو وسعتِ نظر اور دلیل کی جستجو کا عنوان بنایا۔
قرآنِ مجید میں بھی یہی ارشاد ہے کہ بحث و مکالمہ بہترین انداز میں ہو۔ اختلاف کا اظہار سختی، تحقیر اور تذلیل کے بجائے شائستگی، وقار اور حسنِ استدلال کے ساتھ ہونا چاہیے۔ سیرتِ نبوی ﷺ میں ہمیں بے شمار مثالیں ملتی ہیں جہاں آپ ﷺ نے مخالفین کے ساتھ بھی نہایت حلم، بردباری اور احترام کا مظاہرہ فرمایا۔
اختلافِ رائے کے آداب میں سب سے پہلی چیز نیت کی اصلاح ہے۔ اگر اختلاف کا مقصد حق کی تلاش ہو تو لہجہ خود بخود نرم اور انداز مہذب ہو جاتا ہے۔ لیکن اگر اس میں انا، ضد یا برتری کا جذبہ شامل ہو جائے تو وہی اختلاف فساد کا پیش خیمہ بن جاتا ہے۔ اس لیے ضروری ہے کہ انسان اپنے موقف کو حرفِ آخر نہ سمجھے بلکہ دوسرے کی بات کو سننے اور سمجھنے کا حوصلہ بھی رکھے۔
دوسرا اہم ادب یہ ہے کہ اختلاف کو ذاتیات کا رنگ نہ دیا جائے۔ ایک رائے سے اختلاف کا مطلب یہ نہیں کہ صاحبِ رائے کی تحقیر کی جائے۔ ہمارے اکابرین—ائمۂ اربعہ سمیت—نے علمی اختلاف کے باوجود ایک دوسرے کے مقام و مرتبہ کا ہمیشہ اعتراف کیا۔ جیسا کہ امام شافعی رحمہ اللہ کی طرف منسوب ہے کہ انہوں نے فرمایا کہ میری رائے درست ہے مگر اس میں خطا کا احتمال ہے، اور دوسرے کی رائے غلط ہے مگر اس میں درست ہونے کا امکان موجود ہے۔
تیسرا ادب دلیل اور علم کی بنیاد پر گفتگو کرنا ہے۔ بے بنیاد الزامات، جذباتی نعروں اور سنی سنائی باتوں پر مبنی اختلاف علمی معیار کو گراتا ہے اور معاشرے میں انتشار بھی پیدا کرتا ہے۔
چوتھا ادب یہ ہے کہ اختلاف کے باوجود باہمی تعلقات اور اخوت کو برقرار رکھا جائے۔ اسلام نے "اختلافِ اُمت میں رحمت ہے" کا تصور اسی لیے دیا کہ مختلف آراء کے باوجود امت کی وحدت متاثر نہ ہو۔ اگر اختلاف دلوں میں دوری، نفرت یا عداوت پیدا کر دے تو یہ اس کے مقصد کے برعکس ہے۔
ان آداب کے تناظر میں آپ کے لیے فیصلہ آسان ہے کہ کچھ دونوں سے مسلسل جس طرح ایک بزرگ عالم دین کی توہین اور تذلیل کی کوشش کی گئی ، کیا یہ شرعی تعلیم ہے ؟ شریعت ہمیں اس بات کی اجازت دیتی ہے کہ ایک ایسے شخص کے متعلق ایسی زبان استعمال کریں، جس نے ساری زندگی قرآن و حدیث کی خدمت کی ہو اور بالخصوص ہمیں اپنے احسانات کا مرکز بنایا ہو؟
سو، گزارش ہے کہ اس سلسلہ کو یہاں اس بات پر ختم کرنا مناسب ہے کہ شیخ ادریس صاحب نے جو کہا، وہ ان کی ذاتی رائے ہے جس کے ساتھ اختلاف آپ کا حق ہے لیکن اس اختلاف کو اس طریقہ سے ظاہر کرنا شرعاً و اخلاقاً ہر اعتبار سے ناجائز اور غلط ہے۔