Makhdoomiyah Foundation مخدومیہ فاوٗنڈیشن

Makhdoomiyah Foundation مخدومیہ فاوٗنڈیشن An Organization of Makhdoom Tribe of Syed Jalal-ul-deen Hussain Makhdoom Jahania Jhan Gasht (Sadaat-e-Makhdoom Bukhari) Belong to chain of مخدوم بخاری سادات

20/01/2026

جب یزید پلید کی ولی عہدی کی بیعت لی گئی تو سادات اہل حجاز بلکہ سادات اہل اسلام نواسۂ رسول امام حسین، عبدالرحمن بن ابو بکر ،عبد اللہ بن عمر اور نواسۂ ابو بکر صدیق عبداللہ بن زبیر رضی اللہ عنھم نے اس بیعت سے انکار کر دیا تھا۔ جب وہ بدکردار مسند حکومت پر فائز ہو گیا تو مذکورہ بالا صحابہ میں سے زندہ حضرات اس کی بیعت سے انکار پر قائم رہے۔ کوفہ میں مقیم صحابہ وتابعین کی ایک جماعت نے بھی یزید پلید کی بیعت سے انکار کر دیا تھا۔ وہ لوگ جلیل القدر صحابی اور صحاح ستہ کے راوی سلیمان بن صرد الخزاعی رضی اللہ عنہ کے گھر پر اکٹھے ہوئے اور حضرت امام حسین رضی اللہ عنہ کو کوفہ آنے کے لیے خطوط لکھے۔ لیکن بعد میں پیش آمدہ واقعات میں یہ لوگ حضرت امام حسین رضی اللہ عنہ کے ساتھ نظر نہیں آتے کیونکہ ابن زیاد نے کوفہ میں پکڑ دھکڑ اور قتل و غارت کا بازار گرم کر رکھا تھا اور کوفہ کے داخلی و خارجی راستوں پر اپنے فوجی مقرر کر دیے تھے کہ نہ کسی کو کوفہ سے نکلنے کی اجازت تھی نہ ہی داخل ہونے کی مجال تھی ۔ اس ماحول میں ان مخلصین کو صحیح واقعات کا بر وقت علم نہ ہو سکا اور نہ ہی کوئی مسلمان یہ سوچ سکتا تھا کہ وہ بد بخت حضرت امام حسین رضی اللہ عنہ کو مظلومانہ شہید کر دیں گے۔ جیسے اہل مدینہ کو یہ اندازہ نہیں تھا کہ حضرت عثمان رضی اللہ عنہ کوشہید کر دیا جاۓ گا۔ بعد میں ان خطوط لکھنے والے حضرات اور ان کے ساتھیوں کو جب موقع میسر آیا تو وہ نصرت حضرت امام حسین رضی اللہ عنہ سے محرومی پر سخت نادم ہوئے اور مشہور صحابى سلیمان بن صرد الخزاعی رضی اللہ عنہ کی سرکردگی میں جماعت توابین کے نام سے منظم ہو کر سامنے آۓ اور ابن ز یاد وغیرہ اشقیاء عصر اور فراعنۂ زمانہ کو جنگ میں قتل کیا۔ سلیمان بن صرد رضی اللہ عنہ بھی اسی جنگ میں لڑتے ہوئے بعمر ۹۳ سال شہید ہوئے ۔
خدا رحمت کند ایں عاشقان پاک طینت را

12/01/2026

محکمہ موسمیات کی وارننگ
12 جنوری سے پندرہ جنوری کی راتیں پاکستان کی 100 سالہ تاریخ کی سرد ترین راتیں اور دن ھو سکتے۔
15 اور 16 جنوری کو لاھور کا درجہ حرارت صفر ہو سکتا ھے اور دن کا 9 سے 10،،،،
اس دوران سعودی عرب کی طرح دن یا رات کو برفباری بھی ھو سکتی ھے۔
جن علاقوں میں برفباری ھو سکتی ھے وہ وسطی پنجاب کے مندرجہ ذیل اضلاع ہیں۔
گجرات، جھنگ، ٹوبہ ٹیک سنگھ، ملتان، خانیوال، بہاولپور، قصور ، وہاڑی، اوکاڑہ، ساہیوال، حافظ آباد، چکوال، جہلم، میانوالی، بھکر، لیہ، چنیوٹ، سرگودھا، خوشاب، ڈیرہ غازیخان، راجن پور، اور رحیم یار خان شامل ہیں۔
یہ پاکستان بھر میں خصوصا" پنجاب میں تاریخ کی سردی کی شدید ترین لہر ھو گی۔
عوام کو آگاہ کیا جاتا ھے کہ اس دوران غیر ضروری طور پر گھروں سے باہر نہ نکلیں، شمالی علاقوں کا سفر نہ کریں، پانی زیادہ سے زیادہ پیئیں۔ قہوہ کا زیادہ استعمال کریں۔ موٹا اونی لباس پہنیں۔ اپنے ارد گرد کے لوگوں کی، ہمسایوں اور نادار لوگوں کی خبر رکھیں،
اللہ سب کو اپنے حفظ و امان میں رکھے آمین

11/01/2026

صوفی ازم نیامذہب نہیں اور نہ اسلام کاکوئی فرقہ ہے بلکہ صوفی ازم روحِ شریعت ہے۔ وحی عرب کی سرزمین پر اتری تھی اور صوفیاء نےاسے عرب وعجم،شرق وغرب، جنوب وشمال تک پہنچایا،صوفیاءنے اسلام کو معنی دیے اور شخص کواس کی نفسیات،جبلت،عقل اور معاشرت کی مطابقت کےلحاظ سے دین دار بنادیا۔صوفی ذہن نے اسلام کو فقہ کےساتھ حکمت بنایا۔ زہد کو تصوف کیا، قانون کو اخلاق سے جوڑا اور خدا کو خوفناک رہنے کی بجائے محبوب میں بدل دیا۔

رومی، ہجویری،اجمیری، مہرعلی ،سرہندی،شاہ ولی اللہ حافظ، سعدی، عطار، سنائی یہ محض شاعر نہیں اسلام کے باطنی مترجم تھے۔

اگر یونان نے مسیحیت کو عقل دی تو صوفی ازم نے اسلام کو روح دی۔ عرب نے اسلام کو شریعت دی تو صوفی نے اسے وجدان دیا

06/01/2026

جب بچہ پیدا ہوتا ہے تو ہم اسے ایسے سینے سے لگاتے ہیں جیسے یہ خدا کی امانت نہیں ہماری ملکیت ہو۔ رات کی نیند، دن کا سکون، پیسہ، وقت سب قربان۔ بچے کی ایک سسکی پر ڈاکٹر، ایک چھینک پر گوگل، ایک بخار پر پورا خاندان الرٹ۔ہم چاہتے ہیں بچہ ہمیں سب کچھ بتائے۔ اسکول میں کیا ہوا، کیوں رویا، کیوں گرا، کس نے ڈانٹا، کس نے دھکا دیا۔پھر اچانک، دس بارہ برس کی عمر آتے ہی ہماری محبت کو عقل آ جاتی ہے۔ہم طے کر لیتے ہیں کہ اب یہ بچہ خود کفیل ہے۔ جسمانی بھی، ذہنی بھی، اخلاقی بھی، جنسی بھی۔اب سوال پوچھنا مداخلت ہے، بات کرنا بے حیائی، اور سننا فضول۔

حالانکہ یہی وہ عمر ہے جہاں بچہ سب سے زیادہ الجھا ہوا ہوتا ہے۔جسم بغاوت کر رہا ہوتا ہے، ذہن سوالات سے بھرا ہوتا ہے، اور ہارمونز میں تبدیلیوں کے سبب جذبات بے قابو۔مگر عین اسی وقت والدین “حیا” کی چادر تان کر چپ ہو جاتے ہیں اور پھر حیران ہوتے ہیں کہ خلا کیسے بھر گیا؟

خلا خالی نہیں رہتے۔وہاں “تیسرا” ضرور آتا ہے۔یہ تیسرا کبھی موبائل کی اسکرین ہوتا ہے، کبھی ہم جماعت، کبھی یوٹیوب کا “دانشور”، کبھی فحش کلپ، کبھی بالغانہ لطائف، کبھی قریبی رشتہ دار، کبھی استاد، کبھی قاری صاحب، کبھی ڈرائیور، کبھی خانساماں، کبھی وہی کزن جس پر “اندھا اعتماد” تھا۔

بچہ سیکھتا بھی ہے، ڈرتا بھی ہے، اپنے آپ سے اُلجھتا بھی ہے مگر آپ سے نہیں کہتا۔ کیوں کہ آپ نے بات کرنا جرم بنا دیا تھا۔

جب والدین کو کہا جائے کہ بچوں سے مسلسل رابطہ رکھنا ان کی نفیساتی و جسمانج حفاظت کی بنیادی شرط ہے تو فوراً تہذیب جاگ اٹھتی ہے۔دلائل کی پوری فیکٹری چل پڑتی ہے۔

۔یہ باتیں مشرقی نہیں
۔ہمیں کسی نے نہیں بتایا، ہم خود سمجھ گئے
۔میڈیا سب سکھا دیتا ہے
۔ ہماری تربیت اچھی ہے
۔ ہمارے ہاں ایسا نہیں ہوتا
۔ یہ سب مغرب کی بیماریاں ہیں
۔ دینی اداروں میں یہ نہیں ہوتا
۔ بدنامی پھیلتی ہے
۔ چند کو لٹکا دیں تو سب ٹھیک ہو جائے گا

الغرض ہر حل قبول ہے سوائے بات کرنے کے۔اور پھر جب المیہ ہو جاتا ہے تو ہم درد میں ڈوبے خود سے پوچھتے ہیں “یہ ہمارے بچے کے ساتھ کیسے ہو گیا؟”

کیسے ہو گیا؟۔ کیونکہ جب اسے بولنا تھا، ہم سننا نہیں چاہتے تھے۔جب اسے سننا تھا، ہم نے شرم کو ڈھال بنا لیا۔جب اسے اعتماد چاہیے تھا، ہم نے ٹوک دیا تھا۔بچوں کے ڈپریشن اور جنسی استحصال جیسی خبریں جب کانوں سے ٹکراتی ہیں ہم خود کو تسلی دیتے ہیں “یہ بدقسمت تھا، ہمارا بچہ محفوظ ہے۔”۔ یہ وہی منطق ہے جیسے آگ لگنے کے بعد کہنا کہ ہمارا گھر تو کنکریٹ کا ہے۔

اصل مسئلہ قوانین کا نہیں، ریاست کا نہیں، مغرب کا نہیں۔اصل مسئلہ یہ ہے کہ ہم نے اپنے بچوں کے لیے خود کو غیر دستیاب بنا دیا ہے۔آپ بات نہیں کرنا چاہتے؟ ٹھیک ہے۔مت کیجیے بات مگر کچھ ایسا کیجیے کہ اس کے بارے میں پہلی اطلاع آپ کو اپنے بچے ہی سے ملے نہ کہ آخری اطلاع دنیا سے ملے۔

ہم کج ادا چراغ کہ جب بھی ہَوا چلی
طاقوں کو چھوڑ کر سرِ دیوار آ گئے

05/01/2026

ایک لمحے کے لیے بُھول جائیں کہ بنو ہاشم اور بنی ابی طالب رسول کریم صلی اللٰہ علیہ و آلہ وسلم کا خاندان تھے۔ پھر سیرت طیبہ اور ابتدائی اسلامی تاریخ کو پڑھیں۔ آپ کو ہر قبیلے اور خاندان سے صحابہ قربانیاں پیش کرتے نظر آئیں گے، سابقون الاولون اور انصار کی خدمات تو ایسی ہیں کہ تا قیامت یہ اُمت دین کے لیے جو محنت کرے گی، ان کے قریب قریب نہ پہنچ سکے گی۔۔۔ لیکن ان تابناک نمونوں کے درمیان بھی آپ کو بنی ہاشم عمومی طور پر جبکہ ابو طالب اور علی بن ابی طالب کے گھرانے خصوصی طور پر سب سے نمایاں نظر آتے ہیں۔

وحی آنے سے بھی پہلے ابو طالب کا کردار دیکھ لیں۔ کئی واقعات ہیں لیکن مجھے وہ واقعہ بہت پیارا لگتا ہے کہ جب حبیب اللٰہ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے زید بن حارثہ کو آزاد کرکے منہ بولا بیٹا قرار دیا تو قریشی سرداروں نے ناک بھوں چڑھائی کہ ہمارے غلاموں کا بھی دماغ خراب کر رہے ہیں، لیکن ابو طالب نے آگے بڑھ کر کہا کہ جب محمد نے زید کو بیٹا بنا لیا تو اب زید ہم میں سے ہی ہیں۔

سب کچھ چھوڑ دیں، صرف شعبِ ابی طالب میں دیکھ لیں۔ کیا ایسی استقامت، ایسی قربانی، ایسی حمایت کا جواب ہو سکتا ہے ؟ جو لوگ یہ کہہ کر اس قربانی کی دینی اہمیت کو اپنی دانست میں کم کرنے کی کوشش کرتے ہیں کہ یہ تو بنی ہاشم کی خاندانی عصبیت اور عرب رسم و رواج کی بدولت تھا، وہ ابولہب اور ابوسفیان بن حارث بارے کیا کہیں گے؟ یہ دونوں عرب کے روایتی تصورات کے کسی ہاشمی سے بڑھ کر پابند تھے، عرب کے کلچر کے نام پر ہی اسلام کے مخالف ہوئے تھے، پھر یہ دونوں شعبِ ابی طالب میں ابو طالب کے ساتھ کیوں نہیں تھے؟

حبشہ کے دربار میں دین کی دعوت پیش کرتے جعفر کیا اسلام کے پہلے بین الاقوامی داعی نہیں تھے؟ ہمارے آقا ع کی سب سے بڑی صاحب زادی زینب بنت محمد نے جو کچھ سہا، سیرت کے طالب علم جانتے ہیں۔ بدر اور احد میں حمزہ کو دیکھیں۔ خندق اور خیبر میں علی کو۔ عبیدہ بن حارث کی شجاعت اور شہادت کیا بُھول سکتے ہیں ؟ بی بی صفیہ کی بہادری کس مرد صحابی سے کم تر تھی ؟ موتہ میں جعفر کی شہادت، اللٰہ اللٰہ۔ کیا حنین میں تیروں کی بوچھاڑ کے درمیان جب مومنین کے قدم اکھڑے تو اللٰہ کے نبی یہ کہتے ہوئے، اپنے چچا زاد بھائیوں کے جلو میں آگے نہیں بڑھ رہے تھے کہ بے شک میں اللٰہ کا نبی ہوں اور بے شک میں عبدالمطلب کا بیٹا بھی ہوں؟ کیا مالِ غنیمت اور عہدوں کی تقسیم میں اللٰہ کے نبی نے ہمیشہ سب سے پہلے اپنے خاندان کو پیچھے نہیں کر دیا اور کیا بنی ہاشم نے کبھی اس پر کوئی شکوہ کیا؟ پھر سیّدنا صدیق اکبر کے دور میں بنی ہاشم اپنے سب گِلے شکوے بُھول کر اُمت کے اتحاد اور بقاء کی خاطر آگے بڑھتے نظر نہیں آتے؟

جمل اور صفین کی جنگیں صرف جدل کے اعتبار سے ہی ہولناک نہیں تھیں۔ یہ جنگیں مولا علی کے لیے جذباتی اعتبار سے بہت بھاری تھیں۔ امّاں عائشہ سلام اللٰہ علیہا کے ساتھ رشتے اور احترام کی نوعیت دیکھیں۔ زبیر رضی اللٰہ عنہ کہنے کو مولا علی ع کے پھپھی زاد بھائی تھے لیکن ساری زندگی ان کے ساتھ سگے بھائیوں سے بڑھ کر پیار رہا۔ جب یہ لوگ سامنے کھڑے ہوں تو جنگ کرنا بڑا مشکل ہو جاتا ہے لیکن مولا علی کو دین کی خاطر یہ بھی کرنا پڑا۔ مہا بھارت میں دیکھیں، ارجن جانتا ہے کہ وہ حق پر ہے لیکن کزنز کو سامنے دیکھ کر سوچتا ہے کہ لڑائی نہیں کروں گا۔ زری کرشن کو اسے پوری گیتا سما کر بتانا پڑتا ہے کہ حق کے لیے لڑنا ہو تو رشتے نہیں دیکھے جاتے۔ جمل، صفین اور نہروان میں تاویلِ قرآن پر جنگ ہوئی تا مولا علی گویا خود ہی ارجُن تھے اور خود ہی کرشن۔

پھر صلحِ حسن کی قربانی۔

پھر کربلا ۔۔۔ !

یہ سب بتانے کا مقصد یہ جتنا ہرگز نہیں کہ ان خدمات اور قربانیوں کے سبب بنی ہاشم خلافت کے سب سے زیادہ حق دار تھے۔ جب سیّدنا عمر نے وظائف مقرر کے اور سب سے زیادہ وظائف سب سے زیادہ قربانیاں دینے والوں کے مقرر کیے اور پہلے نمبر پر بنی ہاشم کو رکھا تو مولا علی نے اس فیصلے سے اختلاف کیا اور کہا کہ جو قربانیاں لوگوں نے اللٰہ کی راہ میں دیں، ان کا صلہ وہ اللٰہ سے پائیں گے، آپ سب مسلمانوں کو برابر رکھیں یا ان کی ضرورت کے مطابق ترجیح دیں۔ تسنن میں خلافت کی اساس شوریٰ اور موزونیت ہے جبکہ تشیع میں خدا کی نص۔

یہ سب یاد کروانے کا مقصد صرف اس غلط فہمی کی بیخ کنی ہے کہ بنی ہاشم اور خانوادہِ علی کا جو اکرام کیا جاتا ہے، جو محبت ان سے کی جاتی ہے وہ صرف موروثیت کی بنا پر ہے اور چونکہ اسلام کی روح موروثیت سے میل نہیں کھاتی اس لیے کسی نہ کسی حد تک غیر اسلامی ہے۔۔۔ ! بد قسمتی سے یہ باطل خیال جدید تعلیم یافتہ مسلمانوں اور اسلامی روایت سے نا بلد مسلمانوں کے ایک طبقے میں پروان چڑھ چکا ہے۔

04/01/2026

ذکر، دعا، ورد اور وظیفہ میں فرق 🤲🌹

ذکر، دعا، ورد اور وظیفہ—یہ چاروں اصطلاحات ہمارے دینی اور روحانی مزاج میں کثرت سے استعمال ہوتی ہیں، مگر عموماً یہ استعمال عرفی اور غیر امتیازی ہوتا ہے، جس کے نتیجے میں فکری ابہام پیدا ہو جاتا ہے۔ علمی اعتبار سے اگر ان الفاظ کو ان کے اصل مفہوم، دائرۂ کار اور باہمی نسبت کے ساتھ سمجھا جائے تو عبادت کا تصور زیادہ متوازن، قرآنی اور نتیجہ خیز ہو جاتا ہے۔
اسلامی فکر میں ذکر سب سے جامع اور بنیادی اصطلاح ہے۔ ذکر کا مفہوم محض زبان سے چند کلمات دہرانا نہیں، بلکہ اللہ تعالیٰ کو دل، زبان اور عمل کے ساتھ یاد رکھنا ہے۔ قرآن مجید میں ذکر کو قلبی اطمینان، شعور کی بیداری اور انسانی زندگی کی سمت درست کرنے کا ذریعہ قرار دیا گیا ہے۔قرآن میں ہے
رجال لا تلھیھم تجارۃ ولا بیع عن ذکر اللہ
بلاشبہ اس سے مراد یہ ہے کہ بزنس کی ہنگامہ آرائی میں بھی احکام خداوندی کو یاد رکھنا. نہ کہ تسبیح کرتے رہنا. اس اعتبار سے نماز، تلاوتِ قرآن، اطاعت، تقویٰ اور حتیٰ کہ حلال و حرام کی پابندی بھی ذکر ہی کی صورتیں ہیں۔ گویا ذکر ایک ہمہ گیر روحانی کیفیت کا نام ہے، نہ کہ کسی محدود عمل کا۔
اس کے مقابلے میں دعا ذکر کی ایک خاص اور نہایت لطیف صورت ہے۔ دعا میں بندہ اللہ تعالیٰ کے سامنے اپنی محتاجی، کمزوری اور حاجت کا اظہار کرتا ہے۔ ذکر میں اللہ کی عظمت نمایاں ہوتی ہے، جبکہ دعا میں بندے کی فقر و نیاز۔ اسی لیے حدیث میں دعا کو عین عبادت قرار دیا گیا ہے، کیونکہ دعا بندگی کے اس مقام کی نمائندگی کرتی ہے جہاں انسان اپنے اختیار، تدبیر اور طاقت سے دست بردار ہو کر براہِ راست اپنے رب سے مخاطب ہوتا ہے۔ علمی لحاظ سے ہر دعا ذکر ہے، مگر ہر ذکر دعا نہیں، کیونکہ ذکر میں سوال کا ہونا شرط نہیں۔
ورد دراصل ذکر یا دعا ہی کی ایک تنظیمی اور عملی صورت ہے۔ جب کوئی مخصوص دعا یا ذکر پابندی کے ساتھ، متعین وقت یا تعداد میں اختیار کر لیا جائے تو وہ ورد کہلاتا ہے۔ ورد کی بنیاد استمرار (continuity) پر ہے، نہ کہ اس کے الفاظ کی کسی خاص تاثیرِ خفی پر۔ صوفیانہ روایت میں ورد کا مقصد نفس کی تربیت، دل کی یکسوئی اور ذکر کی عادت پیدا کرنا رہا ہے۔ اس تناظر میں ورد ایک تربیتی ذریعہ ہے، مستقل بالذات عبادت نہیں۔
اس کے برعکس وظیفہ ایک ایسی اصطلاح ہے جو بنیادی طور پر قرآن و حدیث کی فنی زبان سے نہیں آئی، بلکہ بعد کے عرفی اور عوامی دینی ماحول میں رائج ہوئی۔ عام طور پر وظیفہ اس ذکر یا دعا کو کہا جاتا ہے جو کسی خاص دنیوی یا اخروی مقصد—مثلاً رزق، شفا، مشکل کے حل—کے لیے مقرر کر لی جائے۔ یہاں اصل خطرہ یہ پیدا ہوتا ہے کہ عبادت کو مقصد برآری کا محض ایک نسخہ سمجھ لیا جائے۔ جب وظیفہ شعور، معنی اور توکل سے خالی ہو کر محض عدد، ترکیب اور فوری نتیجے کی توقع بن جائے تو وہ دعا کی روح کے بجائے عاملانہ ذہنیت کو جنم دیتا ہے۔
علمی نکتہ یہ ہے کہ اسلام میں اصل حیثیت ذکر اور دعا کو حاصل ہے، کیونکہ یہ براہِ راست بندے اور رب کے تعلق کو مضبوط کرتے ہیں۔ ورد ایک جائز طریقۂ تربیت ہے، بشرطیکہ اسے شریعت کا متبادل یا لازمی سانچہ نہ بنا لیا جائے۔ جبکہ وظیفہ ایک عرفی عنوان ہے، جو اگر قرآنی نصوص، سنتِ نبوی اور توحیدی تصور کے تابع رہے تو قابلِ قبول ہے، اور اگر ان سے ہٹ کر خود ساختہ تاثیرات اور عدد پرستی میں بدل جائے تو دینی انحراف کا سبب بن جاتا ہے۔
دور حاضر میں اگر وظائف کی حقیقت، دائرہ کار، اس کے مزعومہ اثرات اور اس کے ذریعے شیطانی تدابیر کی کارفرمائی کا مطالعہ کرنا چاہیں تو لاہور سے شائع ہونے والے رسالہ عبقری یا ہر بک شاپ پر کتب وظائف یا یو ٹیوب پر عاملین کے تلبیسی دعاوی کو دیکھ لیں ۔ اسلامی فکر کا توازن اسی وقت برقرار رہتا ہے جب توجہ الفاظ کی تعداد سے زیادہ معنی کی حضوری اور دل کی نسبت پر مرکوز رہے، کیونکہ اللہ تعالیٰ اعمال کی کثرت نہیں، بلکہ دلوں کی کیفیت کو دیکھتا ہے۔
طفیل ہاشمی

04/01/2026

اللہ کے رسولوں نے اپنی قوموں کو اپنا بھائی کہہ کہہ کر سمجھایا۔ کبھی خود سے نہیں ڈرایا کہ میں اپنی ایک دعا، معجزے یا تلوار سے تمہارے ساتھ یہ اور یہ کرسکتا ہوں، ہمیشہ اللہ سے ہی خبردار کیا کیونکہ وہ اللہ کے ہی رسول تھے۔ دعوت دھمکی نہیں ہے، خیر خواہی ہے۔ یہ ایسا ہی ہے کہ آپ کو کسی سیلاب کے ظہور کا علم ہوچکا ہے اور آپ دوسروں کی خیر خواہی میں ان کو بچانے نکلے ہیں۔ یہی دعوت کی روح و اساس ہے اور اس میں ذاتی رنجشوں، دشمنیوں اور انسان کے متشددانہ جذبات کی کوئی جگہ نہیں ہے۔
#احسان

📌 گھر میں پانچ مقامات جہاں شیاطین رہتے ہیں، ان سے محتاط رہیں!1️⃣ غیر استعمال شدہ بستراگر آپ کا کوئی بستر طویل مدت تک بچھ...
04/01/2026

📌 گھر میں پانچ مقامات جہاں شیاطین رہتے ہیں، ان سے محتاط رہیں!

1️⃣ غیر استعمال شدہ بستر

اگر آپ کا کوئی بستر طویل مدت تک بچھا رہتا ہے اور اس پر کوئی نہیں سوتا، تو یہ شیطان کے ٹھہرنے کی جگہ بن سکتا ہے۔
✦ حدیثِ نبوی ﷺ:
"فِراشٌ للرجلِ، وَ فراش لِأهلِه، وَ الثالِث لِلضيْفِ، وَ الرابِعُ لِلشيْطَانِ"
(مسلم)
📌 احتیاط:
✅ بستر کو ہمیشہ لپیٹ کر رکھیں۔
✅ ہر دو تین دن بعد اس پر قرآن پڑھا ہوا پانی یا عطر چھڑکیں-

2️⃣ غسل خانہ / باتھ روم

یہ جگہ شیاطین کے رہنے کا سب سے بڑا مرکز ہے، اور یہاں موجود شیطان انتہائی ناپاک اور خطرناک ہوتے ہیں۔
✦ حدیثِ نبوی ﷺ:
"إن هذه الحشوش محتضرة، فإذا أتاها أحدكم فليقل: أعوذ بالله من الخبث والخبائث"
(ابو داؤد)
📌 احتیاط:
✅ باتھ روم میں داخل ہونے سے پہلے "أعوذ بالله من الخبث والخبائث" پڑھیں۔
✅ اندر بات نہ کریں، زیادہ وقت نہ گزاریں، اور ہمیشہ دروازہ بند رکھیں۔
3️⃣ لمبے عرصے سے لٹکے ہوئے کپڑے

اگر کوئی کپڑے لمبے عرصے تک الماری میں لٹکے رہیں یا انہیں صاف نہ کیا جائے تو شیطان ان میں ٹھکانہ بنا سکتا ہے۔
✦ حدیثِ نبوی ﷺ:
"أُطووا ثيابكم فإن الشيطان يسكن كل ثياب منشورة"
📌 احتیاط:
✅ کپڑوں کو مناسب طریقے سے تہہ کر کے رکھیں۔
✅ ہر کچھ دن بعد الماری کھول کر سورۃ الفاتحہ اور آیت الکرسی پڑھیں۔
✅ کپڑوں پر قرآنی دم کیا ہوا پانی یا خوشبو چھڑکیں۔

4️⃣ انسانی یا حیوانی شکل کے مجسمے / تصویریں
یہ اشیاء ملائکہ کے داخلے میں رکاوٹ بنتی ہیں اور شیاطین کے لیے ٹھکانہ فراہم کرتی ہیں۔
✦ حدیثِ نبوی ﷺ:
"لا تَدخلُ الملائِكَةُ بَيْتًا فِيهِ كَلْبٌ وَ لا تماثيل"
(مسلم)
📌 احتیاط:
✅ گھر میں انسانی یا حیوانی شکل کے مجسمے اور تصاویر رکھنے سے گریز کریں۔
✅ اگر ضروری ہوں، تو انہیں کسی کپڑے سے ڈھانپ دیں یا چہرے کے خدوخال مٹا دیں۔

5️⃣ آگ جلانے کی جگہ (چولہا / انگیٹھی)
چونکہ شیاطین آگ سے پیدا کیے گئے ہیں، اس لیے وہ آگ جلنے والی جگہوں کو پسند کرتے ہیں۔
📌 احتیاط:
✅ چولہا جلاتے یا بجھاتے وقت "بِسْمِ اللَّهِ" کہیں۔
✅ چولہے یا آگ جلانے کی جگہ کو صاف رکھیں اور اس پر قرآن پڑھا ہوا پانی چھڑکیں۔

📢 اللہ ہمیں اور آپ کو شیاطین کے شر سے
محفوظ رکھے۔ آمین!

01/01/2026

نوجوان بچیوں کے والد پلّے سے باندھ لیں کہ رشتہ طے کرنے سے نکاح تک کی ترتیب کیا ہو؟

The Complete Ideal Road Map For Marriage.

آپ کے گھر میں بیٹی ہے؟ اور اگر آپ اس کے ولی ہیں تو آئندہ سے اُن کے رشتوں کے حوالے سے طریقہِ کار سمجھ لیں۔۔ اگر وہ کسی کو پسند کرتی ہے تو ظاہر ہے آپ ہی نے اتنی ہمت دے رکھی ہو گی کہ بالغ ہونے پر اسے کوئی پسند آجائے۔ یہ مقام ناراض ہونے کا، ڈانٹ ڈپٹ کرنے کا، اب اچانک سختی کرنے کا یا فوری کہیں اور رشتہ ڈھونڈ کر اس کی زبردستی شادی کرنے کا ہرگز نہیں ہے کہ عزت بچ جائے۔۔ اللہ کے بندے عزت بچی ہوئی ہے تب ہی گھر تک بات پہنچی ہے! اپنی تربیت پر اور اللہ رب العزت کی ذات پر بھروسہ رکھیں۔۔ لڑکے سے مل لیں۔۔ یہ نہیں کہ پورا ٹبّر گھر بلا لیں کہ وہ براہِ راست رشتہ لے آئیں۔۔ خیر رہی تو یہ اگلا اسٹیپ ہوگا۔

فی الوقت one on one ملاقات رکھیں اُس شادی کے خواہاں مرد سے جس نے آپ کی بیٹی کا ہاتھ آپ سے مانگنا ہے۔۔ اگر لڑکے میں اتنا اعتماد نہیں کہ وہ آپ سے اکیلا مل پائے تو اسے وقت دیجیے کہ وہ لڑکے کے خ*ل سے نکل کر مرد بن سکے۔ یا پھر بیٹی کو سمجھائیں کہ بیٹا وہ تو مجھے ہی فیس کرنے کو تیار نہیں ہے، تمہیں لے کر کل کو کیا کرے گا؟ سمجھائیں کہ آپ ولی ہیں اور شرعی طور پر آپ اُن کا بھلا چاہتے ہیں نیز یہ ذمہ داری اللہ نے آپ پر عائد کی ہے کہ جسے بیٹی دیں اس کا دین ایمان کم از کم سمجھ لیں کہ نسلیں برباد نہ ہو جائیں۔۔ اب جب وہ لڑکا ملے تو آپ نے عزت کے ساتھ باوقار طریقے سے ملنا ہے، نہ اتنا غرور کہ پہلے ہی ذہن بنا ہو کہ اس کی اوقات ہی کیا ہے، یہ تو محض انکار سے پہلے والی فارمیلیٹی ہے۔۔ نا ہی اتنا بِچھے اور جُھکے چلے جانا کہ بھئی اچھا لڑکا ہے تو ہر ریڈ فلیگ ہی اگنور کر دینا۔۔

دوسری ممکنہ صورت یہ ہو سکتی ہے گھر میں بیٹی تو ہے، لیکن اسے کوئی پسند نہیں اور اب ساری ذمہ داری آپ پر عائد ہوگئی ہے کیونکہ وہ آپ کے انتخاب اور اللہ کی رضا میں راضی ہے ارینج میرج کے لیے۔۔
یہاں آنے والے رشتوں پر بیٹیوں پر اول تو پریشر نہیں ڈالنا، پیشگی ہی ایسی تربیت کریں کہ انہیں صحیح غلط کا امتیاز ہو اور اولین فوقیت شریعت و کردار کو دیتی ہوں، پھر احساسِ ذمہ داری کو، پھر حسب نسب کو اور پھر مال و دولت یا کاروبار کو۔۔

دوسرا اور لازمی قدم یہ اٹھانا ہے کہ بیٹیوں کا تماشہ نہیں لگانا، نمائش نہیں کرنی، کیٹ واک یا ماڈلنگ نہیں کروانی۔۔ کہ چل کر دکھائیں، دانت چیک کروائیں، گا کر سنائیں وغیرہ۔۔ کیا کوئی منڈی کا جانور بک رہا ہے؟ پورا قبیلہ بھر کر آجاتا ہے رشتے لانے کے نام پر دعوتیں اڑانے، خاندان کی عورتیں نقص نکالتی ہیں، نا محرم رشتے دار آنکھیں سیکتے ہیں۔ کہاں سے ملا آپ کو یہ ؟ یہ ہندوانہ رواج ہے، اسلامی نہیں! مردوں کو الگ بٹھائیں اور عورتوں کو الگ۔۔ لڑکی سے عورتیں مل لیں اور جس نے شادی کرنی ہو وہ دونوں ضرور ایک دوسرے کو دیکھ لیں۔۔ اگر آپ کی موجودگی میں ان دونوں کو ایک دوسرے سے کوئی بات سوالات کرنے ہیں تو کرنے دیجیے۔۔ تین لوگوں کی مرضی شرط ہے، لڑکی کی، لڑکے کی اور لڑکی کے باپ کی باپ نہ ہو تو اگلے ولی کی۔۔ بقیہ سب کی رضامندی ہو تو اچھی بات ہے پر خاندان کے ہر فرد کو کو پسند آجانا ہر ایک کے لیے ضروری نہیں۔۔

پچھلے پیرا میں بیان کیے گئے پورے سیناریو سے پہلے ایک کام کیجیے۔۔ لڑکی کا باپ لڑکے سے اکیلے میں کہیں باہر یا گھر بلا کر ملاقات کرلے۔
یہاں سے ایک ہی طریقہ ہے خواہ رشتہ لڑکی کی پسند سے ہو یا مکمل ارینج میرج۔ اب مرحلہ ہے گفتگو کا۔۔ دو ہم پلّہ لوگ جیسے ملتے اور بات کرتے ہیں بلکل ویسے ہی دو ٹوک اور سیدھے مدعے کی بات کریں۔

انسان کی پیدائش کا مقاصد کیا ہیں؟
شادی کا مقصد کیا ہے؟
ترجیحات و اہداف کیا ہیں؟
اسلام کے بارے میں کس قدر سنجیدہ ہے، عبادت میں ہی نہیں، معاملات میں بھی!!!
شریعت کا روز مرہ کی زندگی میں کس قدر عمل دخل ہے؟
کماتا کیا ہے؟ حرام حلال کا امتیاز ہے یا نہیں؟
شادی کیسی کرنا چاہتا ہے؟ جہیز کا امیدوار تو نہیں؟
کس قدر ذمہ دار شخص ہے؟
فہم کا مصدر کیا ہے؟
اولاد کی تعلیم و تربیت میں مرد کا کیا کردار ہے نیز اس حوالے سے ارادے یا منصوبے کیا ہیں؟
چھوٹوں، بڑوں، خود سے رتبے میں کم اور زیادہ والوں سے کیسے پیش آتا ہے؟
فیصلے کرنے میں جھکاؤ عدل کی طرف ہے یا مخصوص رشتوں کی طرف؟
لڑکے سے اس کی ایک سب سے بڑی خوبی، طاقت، خامی اور کمزوری پوچھیں۔
اس سے اس کے تین بڑے خواب پوچھیں جنہیں وہ دنیا میں مکمل کرنا چاہتے ہیں۔
اس سے پوچھیں کہ جو کام کر رہا ہے وہ ختم ہوگیا تو کیا کرے گا؟
غصے اور اختلاف میں کیسا رد عمل دیتا ہے؟
ایک سے زائد شادی پر کیا رجحان ہے؟
ذہنی، جسمانی اور ایمانی صحت کیسی ہے؟
قوام کی تعریف پر پورا اترتا ہے یا نہیں؟
آوارہ گردی یا نشے تماشوں میں تو ملوث نہیں؟
آپ کی بیٹی کو شادی کے بعد کہاں رکھے گا؟ کیا اس کے پردے اور پرائیویسی کا خیال رکھا جائے گا کہ نہیں؟ ذاتی کمرہ، باتھ روم اور کچن ملے گا؟ یا الگ رکھے گا یا جوائنٹ یا کنیکٹڈ؟
نان نفقے، وقت اور رہائش کی ذمہ داری کا کس قدر احساس ہے؟
کتنا حق مہر دینے کی اہلیت رکھتا ہے؟
نکاح کے وقت کوئی اضافی شرائط تو نہیں چاہتا؟ ہاں تو کون سی؟

یہاں لکھا ہر سوال اپنی ذات میں ایک باب ہے جس کی گہرائی یا وجوہات سمجھانا یہاں مزید طوالت اختیار کرلے گا۔۔ امید ہے آپ خود ہی سمجھتے ہیں گے کہ کوئی بھی سوال کیوں غیر ضروری نہیں اور ہر جواب بہت کچھ واضح کردیتا ہے۔۔
ضروری نہیں سامنے سے ہر سوال کا سچا جواب ملے، یہاں ولی کو بہت سی چیزیں بھانپنے کے قابل ہونا چاہیے مثلاً اخلاق، آداب و انداز میں کس قدر مادہ پرستی غالب ہے نیز کس قدر فکرِ آخرت؟ کتنا میچیور ہے؟ ڈیسیژن میکنگ، پرابلم سولونگ، باڈی لینگویج، ریڈ فلیگز، ایموشنل انٹیلیجنس، ڈبل اسٹینڈرڈ، فیس اینڈ ایکسپریشن ریڈنگ، معاملہ فہمی، بندہ شناسی وغیرہ جیسے باریک عناصر پرکھنے کے لیے ولی کا تجربہ کار، جہاں دیدہ، پُر اعتماد اور زیرک ہونا بہت ضروری ہے ورنہ اس کی کہی ہر بات ہی سچ یا جھوٹ لگتی رہے گی اور حقیقت کھلے گی شادی کے بعد۔۔ پھر ہوگا پچھتاوا۔۔ ابھی وقت ہے اچھے سے چھان پھٹک کر لیجیے آپ کا حق ہے۔ اس سب کے لیے اگر ولی خود کو اہل نہیں سمجھتا تو اپنے ساتھ کسی قابلِ بھروسہ مخلص و فہیم دوست یا رشتے دار کو بھی بٹھا سکتا ہے جس سے ملاقات کے بعد میں مشورہ کرلے۔۔ اور ابھی سے کوشش کرے کہ یہ تمام اسکلز ہر کوئی سیکھ لے۔۔
لڑکے سے بھی کہا جائے کہ وہ کھل کر جو سوال کرنا چاہے ضرور کرے۔۔

اب ملاقات کے بعد اگر دل کو اطمینان ہے تو لڑکے کو اتنا جان لینے کے بعد استخارہ کرے، جہاں سے تصدیقِ قلب کے بعد ہی بیٹی کو لڑکے کے سامنے لایا جائے۔
آپ کی موجودگی میں اسے بھی اختیار دیجیے کہ وہ خود لڑکی سے اپنی ترجیحات کے مطابق اس قسم کے سوال کرنے کا حق رکھتا ہو جس میں آپ صرف تب مداخلت کریں جب لڑکی شرم و حیا کے باعث خود جواب دینے پر راضی نہ ہو اور آپ کو اختیار دے کہ آپ اس کی طرف سے بتائیں۔۔ لیکن جو بیٹی اپنی آنے والی زندگی کے بارے میں اعتماد سے جواب دے سکتی ہو اور سنجیدہ ہو تو اسے بات کرنے دیجیے۔ یہ اس کی زندگی کا سب سے اہم فیصلہ ہے، یہاں اسے حق نہ دینا ظلم اور نا انصافی ہے۔۔

پسند نا پسند کا معیار چند اہم ترین باتوں پر منحصر ہے۔۔
دو طرفہ: دین (اپنی تمام تر رعنائیوں سمیت)، شکل و صورت، اخلاق و کردار، ہم کفو اور احساسِ ذمہ داری۔ خیال رہے کسی اور قسم کی چکا چوند سے اس میزان کا توازن بگڑنے نہ پائے۔۔
کوئی ایک بھی فیکٹر موجود نہ ہو یا مثبت کے بجائے منفی ہو تو یہیں بریک لگا لیں، بیٹی بھاگ نہیں رہی۔۔ اچھے سے تسلی کرلیں۔۔

نوٹ: ذات پات، برادری، خاندان، زبان و نسل وغیرہ کو لازم سمجھنا اور اسے بنیاد بناکر کسی کو مجبور کرنا یا انکار کرنا شریعت کے منافی ہے۔۔ ایسے غیر شرعی اقدامات سے اجتناب کریں۔۔

ضدی اور ہٹ دھرم بچوں کے حوالے سے ہم الگ تحریر لگا دیں گے کسی وقت۔۔ یہ تحریر ان لوگوں کے لیے ہے جن کی زندگی کا مرکز اللہ تعالیٰ اور اس کی تعلیمات ہوں۔۔

یہ مرحلہ گزر جائے اور سب مطمئین ہوں تب اور صرف تب ہی گھر والوں کو چاہیے آپس میں ملیں، آپ نے لڑکے کے گھر جاکر ان کے مردوں سے ملنا ہے، وہ جگہ دیکھنی ہے جہاں آپ کی بیٹی کو رکھا جائے گا۔ عورتوں کو سمجھا دیں کہ وہ عورتوں سے کیسے ملیں اور کیا بات کریں کیا نہیں۔
پھر انہیں اپنے گھر بلا لیں، اور اس وقت تک اگر مین پارٹی یعنی آپ، بیٹی اور ہونے والا داماد راضی ہے تو کسی ایرے غیرے رشتہ دار کو حق نہیں پہنچتا کہ آکر آپ کی بچی کے کردار اور چال چلن کا آپریشن کرے۔۔ یہ ملاقات محض وہ فارمیلیٹی ہے جس میں دیکھا جائے گا کہ دو خاندانوں کی آپس میں کیمسٹری کتنی اچھی ہے، تاکہ مستقبل میں ایڈجسٹ کرنے میں آسانی ہو جب پیشگی معلوم ہوگا کہ دونوں فریق کس قسم کے بیک گراؤنڈ سے تعلق رکھتے ہیں۔۔
سلیکشن یا ریجکیشن کا مرحلہ پہلے ہی طے ہو چکا ہوگا۔۔ نا ہی لڑکی کی شخصیت کی دھجیاں اڑائی جائیں گی اور نا ہی اس کے اعتماد کو ٹھیس پہنچے گی۔
ہاں لڑکے لڑکی دونوں کے والدین احتیاطاً ایک دوسرے سے لازمی مل لیں اور انتظامی امور پر بات کرلیں، ان کی پسند نا پسند بھی پوچھ لیں۔۔ اس سے بہت سی پوشیدہ چیزیں بھی سامنے آ جائیں گی جو فیصلہ کرنے میں رہنمائی فراہم کر سکتی ہیں۔۔

اب اگر کوئی شرعی عذر سامنے نہیں آتا تو تو نکاح میں تاخیر نہ کریں۔۔ سادگی سے نکاح پڑھوا کر دعاؤں کے ساتھ رخصت کریں اور نئی زندگی شروع کرنے والے دونوں سے چند باتیں کھل کر کہیں کہ کہاں بیٹی کو اپنے شوہر کی اطاعت و فرمانبرداری لازمی کرنی ہے۔۔ کہاں ہرگز نہیں کرنی۔۔ لڑکے کو بھی صاف کہیں کہ بیٹی ہے آپ کی، لاوارث نہیں ہے۔۔ ذرا اونچ نیچ ہوئی اور بات آپ تک پہنچی تو معاملے کو شریعت کے مطابق پرکھا جائے گا۔ اس لیے کوئی قطعاً نہ سوچے کہ حدود اللہ کراس کرکے وہ کسی کو جواب دہ نہ ہوگا۔۔

الحمدللہ اگر آپ نے یہ سب کر لیا تو ان شاء اللہ سب خیر رہے گی۔۔ پھر بھی کہیں خدا نخواستہ کوئی ایسی بات بعد میں سامنے آتی ہے جس کی اجازت شریعت نہیں دیتی تو اصول پر قائم رہیں۔۔ کوشش کریں کہ منفیت کا سد باب ممکن ہو تو ضرور کریں۔۔ البتہ اتمام حجت ہو جائے تو احسن انداز میں بنا لڑائی جھگڑے کے اسے رب کی طرف سے آزمائش سمجھ کر قبول کریں لیکن بیٹیوں کو تنہا نہ چھوڑیں۔۔ جان کا یا اس سے بڑھ کر ایمان کا خطرہ ہو تو طلاق احسن لے لیں۔۔ یہ آخری حل ہے اس سے پہلے کہ بیٹی کی لاش واپس آئے۔۔ جہاں رشتہ جوڑتے ہوئے شریعت کو مد نظر رکھا تھا وہیں رشتہ ختم کرتے ہوئے بھی اللہ پر بھروسہ رکھیں کہ وہ بڑا کارساز ہے اور جو ہو رہا ہے یہ اسی کے ماسٹر پلان کا حصہ ہے۔۔ اپنی بیٹی کی حفاظت کرنا شرم یا بے عزتی کی بات نہیں ہے۔۔ مگر اس میں اُس کی رضا ہونا شرط ہے۔۔ اگر وہ نبھانا چاہے تو آپ کو کوئی حق نہیں گھر توڑنے کا۔۔ عین ممکن ہے کہ اسے وہ آگ نہ دکھائی دے رہی ہو تو ایسی صورت میں اسے سمجھائیں، مشورہ دیں، استخارے کا کہیں البتہ اپنی مرضی تھوپیں نہیں۔۔

پچھلے پیراگراف سے گھبرانا نہیں ہے، کیونکہ جس قدر احتیاط سے آپ نے ابتدا سے سب کچھ کیا ہے، ش*ذ ہی ہو کہ بات اس نہج تک پہنچے، قدر اللہ بھی تو کوئی چیز ہے۔۔ اس کا تحریر کرنا بہرحال ضروری تھا تاکہ ذہن میں یہ بات پہنچ ضرور جائے۔۔ بس ہر حال میں شکر ادا کریں کہ اللہ نے آپ کو دین کی نعمت اور فہم سے نوازا کہ ہر فیصلہ اس کے مطابق کرنے کے بعد آپ کے دل کو کس قدر اطمینان نصیب ہوتا ہے۔۔

یہ کیفیات صرف وہی دیدہ ور جان سکتا ہے جس نے بہت سے مقامات پر توکل کو آزمایا ہو۔۔ جس کی برکت سے غیب سے اُس کی ہر موڑ پر مدد ہوتی ہو۔۔ البتہ جو معاشرتی و خاندانی معاملات میں اللہ کے دین سے دور ہو اس کے لیے یہ تمام باتیں اجنبی ہی ہوں گی۔۔ وہ دین بیزار طبقات یہاں ہمارے مخاطب نہیں ہیں۔۔
اگر آپ صاحبِ اولاد نہیں بھی ہیں یا تمام بچے شادی شدہ ہیں تب بھی معاشرے کی بہتری کے لیے جہاں ممکن ہو اس سوچ کو آگے پھیلائیں تاکہ اور کچھ نہ سہی پر ہم شعور اجاگر کرکے اپنا حصہ تو شامل کر سکیں۔۔
اللہ ہم سب کو ہدایت دے اور ہر پڑھنے والے، عمل کرنے والے اور آگے پہنچانے والے سے راضی ہو۔۔آمین

01/01/2026

پاکستان میں بے نمازی کیوں زیادہ ہیں؟ بے نمازیوں کو نماز کی طرف راغب کیسے کر سکتے ہیں؟
اگر آپ خدانخواستہ پابندی سے نماز نہیں پڑھتے تو ایک بار یہ پوسٹ ضرور پڑھیں۔
۔۔۔۔۔۔۔۔
برصغیر کے علاوہ آپ کہیں بھی چلے جائیں ایک واضح فرق یہ دیکھنے کو ملتا ہے کہ وہاں مسلمان تعداد میں کم ہونے کے باوجود بھی مساجد بھری ہوئی ملتی ہیں۔ جبکہ یہاں پاکستان میں حال یہ ہے کہ جمعہ کی نماز پر کسی بھی مسجد میں جگہ نہیں ملتی جب کہ کسی بھی دوسری نماز پر ایک بھی صف پوری نہیں ہوتی۔ اس کی وجوہات اور ان کے حل پر لکھنے کی ضرورت ہے تاکہ ہم زیادہ لوگوں کو نماز کی طرف راغب کر سکیں۔
اس کی وجوہات جو مجھے سمجھ آتی ہیں ان میں یہ تین بہت اہم ہیں۔
1۔ نماز کی قدرو منزلت واہمیت۔۔۔ نہ پڑھنے کی وعید
کسی بھی کام کے کرنے کے لیے ضروری ہے کہ بندے کو اس کی قدرو منزلت واہمیت کا ادراک ہو۔ وہ کام دین سے متعلق ہو تو اس کے کرنے کی صورت میں اجروثواب اور نہ کرنے کا گناہ وعذاب کے بارے معلوم ہو۔ نہایت افسوس کے ساتھ کہنا پڑ رہا ہے کہ ہمارے معاشرے میں اب بہت کم لوگ دین سیکھنے کی کوشش کرتے ہیں۔ لوگوں کے دین سیکھنے کا واحد ذریعہ یا تو عصری کتب میں موجود چند ایک اسلامی مضامین ہیں یا جمعہ کہ خطبات۔ عصری تعلیم میں چند ایک واجبی سی باتوں کے علاوہ کچھ بھی ایسا نہیں ہے جو دین کی صحیح تعلیم دے سکے۔ جمعہ کے خطبات میں مولویوں کو مسلکی لڑائیوں سے ہی فرصت ہی نہیں ہے۔ قرآن مجید ہی کوئی نہیں کھولتا تو احادیث کی کتب کا مطالعہ کون کرے گا۔ کسی کو معلوم ہی نہیں ہوتا کہ قرآن پاک اور سنت میں سب سے زیادہ تاکید اور حکم نماز کے بارے ہی ہے اور اس کو کسی بھی حالت میں نہیں چھوڑ سکتے۔ یہاں تک کہ بیمار ، معذور، لاغر حتیٰ کہ موت کے منہ میں پہنچے ہوئے کو بھی نماز معاف نہیں ہے۔ سب سے پہلے اسی کے بارے ہی سوال ہونا ہے۔ خدانخواستہ ہم پہلے ہی سوال میں فیل ہو گئے تو پھر کیسے کامیابی ملے گی؟
2۔ فرض نماز کتنی ہے؟فرض نماز پر کتنا وقت لگتا ہے؟ کوئی سنت نماز نہ پڑھے تو گناہ ہو گا؟
دوسری اہم وجہ یہ ہے کہ لوگوں کو فرض، سنت ، نفل کا فرق معلوم نہیں ہے اور اکثریت کے نزدیک عشاء کی سترہ اور ظہر کی بارہ رکعت پڑھنی لازم ہیں۔ فرانس میں عربیوں کا دیکھتا تھا کہ سخت سردی میں بھی جماعت کے لیے لازمی مسجد آتے تھے لیکن فرض پڑھتے ہی نکل کر کام میں لگ جاتے تھے۔ تب بڑا غصہ آتا تھا کہ سنت پڑھتے ہی نہیں۔ شروع میں مساجد سے آئمہ کرام سے اس بابت پوچھا تو جواب ملا کہ سنت چھوڑنے پر گناہ ہو گا۔ جب خود مطالعہ کیا تو پتہ چلا کہ سنت نماز دراصل نوافل ہیں ، کچھ وہ (سنت مؤکدہ )جو نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم لازمی پڑھتے تھے اور کچھ وہ جو کبھی پڑھ لیتے تھے کبھی نہیں۔ ان سب کی تاکید تو کی ہے اور بہت زیادہ ثواب بھی بتایا ہے لیکن حکم نہیں ہے۔ یعنی پڑھیں تو بہت ہی زیادہ اجروثواب ہے لیکن کوئی نہ پڑھے تو گناہ نہیں ہے۔ بعد میں علماء کرام سے پوچھا تو دیوبندی اور اہل حدیث علماء کرام نے اس کی تصدیق کی کہ کوئی سنت مؤکدہ بغیر کسی وجہ کے بھی نہ پڑھے تو گناہ نہیں ہوگا۔ اور نوافل تو پتہ نہیں کس نے شامل کر دیے ہیں جن کی کوئی اصل نہیں ہے۔ اکثر دیکھتا ہوں کہ یہ فرق معلوم نہ ہونے کی وجہ سے اکثر لوگ جلدی جلدی پڑھنے لگے ہوتے ہیں حالانکہ وقت کی کمی ہے تو صرف فرض پڑھ لیں لیکن سکون سے پڑھیں۔ گھر میں اکثر خواتین کو خشوع وخضوع کی بجائے بس جلدی جلدی ختم کرتے دیکھتا ہوں۔
بے نمازیوں کو اگر یہ بتا دیا جائے کہ صرف پانچوں فرض نمازوں کی سترہ فرض کی رکعتیں ہیں جن کی باز پرس ہونی ہے اور وہ لازمی پڑھنی ہیں اور باقی پڑھو یا نہ پڑھو تو ان کی اکثریت جماعت کے ساتھ نماز کا اہتمام کر لے گی۔ سنت ونوافل کی اہمیت بہت ہے اور اس کا اہتمام کرنا چاہیے تاکہ جو کمی کوتاہی ہماری نماز میں رہ گئی ہو اس کے لیے ہمارے سنت ونوافل کام آجائیں لیکن کبھی وقت کی کمی ہو یا جلدی ہو تو صرف فرض پڑھ لیں۔ اور بے نمازی لوگ پہلے صرف فرضوں کا اہتمام کر لیں پھر جب نماز کی عادت پختہ ہو جائے تو سنت ونوافل کے اہتمام کی کوشش کر لیں۔ یاد رہے کہ فرض نماز کا جہاں بھی قرآن وسنت میں تذکرہ ملے گا تو واضح طور پر بتایا گیا ہے کہ پڑھنے پر کیا اجروثواب ہے اور نہ پڑھنے پر کیا عذاب و وعید۔ لیکن سنت ونوافل کی بات جہاں بھی کی گئی ہے صرف اور صرف اجروثواب کا ذکرہے، کہیں بھی اشارے کنایوں میں بھی گناہ یا وعید کا تذکرہ بھی نہیں ہے۔
3۔شفاعت کا غلط تصور
برصغیر کے لوگوں کا اپنا من پسند اسلام ہے۔اکثریت کی سوچ یہ ہے کہ ہم کچھ بھی کرتے رہیں، چاہے دین کے کسی بھی حکم پر عمل نہ کریں پھر بھی ہمیں نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی شفاعت نصیب ہو جائے گی اور ہمیں تو جنت سب سے پہلے ملنی ہے۔ پھر اس پر مستہزاد یہ کہ پیروں فقیروں سے امیدیں کہ وہ بخشش کروا دیں گے۔ اس کے لیے یہ بھی نہیں سوچتے کہ جس رب کی وہ دن میں پانچ بار نافرمانی کررہے ہیں اور حکم عدولی کر رہے ہیں اس رب کے سامنے کوئی ان کی شفاعت کیونکر کر سکے گا؟
شفاعت اس کی تو ہو سکتی ہے جس سےجانے انجانے یا بشری کمزوریوں کی وجہ سےگناہ ہو گئے ہوں لیکن ایک عادی نافرمان اور جانتے بوجھنے حکم عدولی کرنے والا خود کو اس کا مستحق کیسے سمجھ سکتا ہے۔
۔۔۔۔۔۔۔۔
اگر خدانخواستہ آپ نماز کی پابندی نہیں کرتے تو آج سے ہی اس کا اہتمام کیجیے۔ ابھی صرف فرض اور وترنماز پڑھنا شروع کردیں۔ پھر سنتوں کا اہتمام کی توفیق بھی اللہ تعالیٰ ضرور دے گا انشاءاللہ۔
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
ڈاکٹرعدنان نیازی

31/12/2025

*لاہور میں افغانی جوتا فروش کی گرفتاری کے بعد دکان پر لوٹ مار — یہ صرف چوری نہیں، پنجابی قوم کااخلاقی دیوالیہ پن ہے*

لاہور سے سامنے آنے والا یہ ویڈیو محض ایک دکان کی چوری نہیں، بلکہ ہماری اجتماعی اخلاقی زوال کی افسوسناک مثال ہے۔

*واقعہ کیا ہے؟*
پولیس نے ایک افغانی جوتا فروش کو *غیرقانونی قیام* یا *وطن واپسی پالیسی* کے تحت دکان سے گرفتار کیا۔ لیکن جیسے ہی دکاندار کو لے گئے ، وہاں موجود شہریوں نے دکان کو لوٹنے میں ذرا دیر نہ لگائی۔
جوتے، اور دیگر سامان ایسے لے جائے گئے گویا کسی دشمن کی ملکیت ہو۔
نہ کوئی شرم، نہ قانون کا خوف، اور نہ ہی اللہ کا۔
کسی نے نہ روکنے کی کوشش کی، نہ آواز اٹھائی — سب خاموش تماشائی یا شریکِ جرم بنے رہے۔

*ہماری منافقت:*
- یہی لوگ حکمرانوں کو دن رات "چور، ڈاکو" کہتے ہیں۔
- یہی قوم "اسلامی ریاست" کے دعوے اور خلافت کے خواب دیکھتی ہے۔
- یہی لوگ کشمیر، فلسطین اور حرم کی آزادی کے نعرے لگاتے ہیں۔

*سوالیہ نشان:*
کیا وہ قوم جو ایک بےبس دکاندار کی غیر موجودگی کو لوٹ مار کا موقع سمجھے، کبھی عدل، جہاد یا قربانی کے بڑے دعوے سچ کر سکتی ہے؟
کیا جس معاشرے میں اخلاقی غیرت مر چکی ہو، وہ کرپشن یا ظلم

Address

Achra

Website

Alerts

Be the first to know and let us send you an email when Makhdoomiyah Foundation مخدومیہ فاوٗنڈیشن posts news and promotions. Your email address will not be used for any other purpose, and you can unsubscribe at any time.

Share