20/01/2026
جب یزید پلید کی ولی عہدی کی بیعت لی گئی تو سادات اہل حجاز بلکہ سادات اہل اسلام نواسۂ رسول امام حسین، عبدالرحمن بن ابو بکر ،عبد اللہ بن عمر اور نواسۂ ابو بکر صدیق عبداللہ بن زبیر رضی اللہ عنھم نے اس بیعت سے انکار کر دیا تھا۔ جب وہ بدکردار مسند حکومت پر فائز ہو گیا تو مذکورہ بالا صحابہ میں سے زندہ حضرات اس کی بیعت سے انکار پر قائم رہے۔ کوفہ میں مقیم صحابہ وتابعین کی ایک جماعت نے بھی یزید پلید کی بیعت سے انکار کر دیا تھا۔ وہ لوگ جلیل القدر صحابی اور صحاح ستہ کے راوی سلیمان بن صرد الخزاعی رضی اللہ عنہ کے گھر پر اکٹھے ہوئے اور حضرت امام حسین رضی اللہ عنہ کو کوفہ آنے کے لیے خطوط لکھے۔ لیکن بعد میں پیش آمدہ واقعات میں یہ لوگ حضرت امام حسین رضی اللہ عنہ کے ساتھ نظر نہیں آتے کیونکہ ابن زیاد نے کوفہ میں پکڑ دھکڑ اور قتل و غارت کا بازار گرم کر رکھا تھا اور کوفہ کے داخلی و خارجی راستوں پر اپنے فوجی مقرر کر دیے تھے کہ نہ کسی کو کوفہ سے نکلنے کی اجازت تھی نہ ہی داخل ہونے کی مجال تھی ۔ اس ماحول میں ان مخلصین کو صحیح واقعات کا بر وقت علم نہ ہو سکا اور نہ ہی کوئی مسلمان یہ سوچ سکتا تھا کہ وہ بد بخت حضرت امام حسین رضی اللہ عنہ کو مظلومانہ شہید کر دیں گے۔ جیسے اہل مدینہ کو یہ اندازہ نہیں تھا کہ حضرت عثمان رضی اللہ عنہ کوشہید کر دیا جاۓ گا۔ بعد میں ان خطوط لکھنے والے حضرات اور ان کے ساتھیوں کو جب موقع میسر آیا تو وہ نصرت حضرت امام حسین رضی اللہ عنہ سے محرومی پر سخت نادم ہوئے اور مشہور صحابى سلیمان بن صرد الخزاعی رضی اللہ عنہ کی سرکردگی میں جماعت توابین کے نام سے منظم ہو کر سامنے آۓ اور ابن ز یاد وغیرہ اشقیاء عصر اور فراعنۂ زمانہ کو جنگ میں قتل کیا۔ سلیمان بن صرد رضی اللہ عنہ بھی اسی جنگ میں لڑتے ہوئے بعمر ۹۳ سال شہید ہوئے ۔
خدا رحمت کند ایں عاشقان پاک طینت را