Deen-e-Islaam

Deen-e-Islaam 4 Cheezon ko Hamesha Sambhal K Rakhooo...
1◆ Namaz ma dil ko,
2◆ Tanhai ma soch ko,
3◆ Mehfil ma Zuban ko,
4◆ Rasty ma nigah ko,
Zindagi khud Sambhal Jay gi

عبدالغفور ہماری لاہور کی مل میں ملازم تھا‘ وہ بلا کا کام چور‘ سست اور دھوکے باز تھا‘ وہ مل کی گندم اور آٹا چوری کر کے بھ...
02/08/2025

عبدالغفور ہماری لاہور کی مل میں ملازم تھا‘ وہ بلا کا کام چور‘ سست اور دھوکے باز تھا‘ وہ مل کی گندم اور آٹا چوری کر کے بھی بیچ دیتا تھا‘ کام میں بھی سستی کرتا تھا اور وہ جی بھر کر نکھٹو بھی تھا‘ ہم نے کئی بار اسے نکالنے کا فیصلہ کیا لیکن پھر میں اپنے والد کی وجہ سے رک جاتا تھا‘ میرے والد نے نصیحت کی تھی‘ میرے بعد کسی ملازم کو نوکری سے نہیں نکالنا‘ عبدالغفور مجھے والد کی طرف سے ورثے میں ملا تھا چنانچہ میں اسے برداشت کرنے پر مجبور تھا۔
عبدالغفور کو زندگی میں کسی نے کبھی نماز پڑھتے دیکھا تھا اور نہ ہی کوئی نیکی کا کام کرتے‘ وہ دبا کر سگریٹ بھی پیتا تھا اور چرس بھی‘ وہ پوری زندگی مقروض بھی رہا تھا‘ ہم ہر سال اپنے ایک ملازم کو حج پر بھجواتے تھے‘ ہم اس ملازم کے تعین کے لیے قرعہ اندازی کرتے تھے‘ ہم نے ایک سال قرعہ اندازی کی‘ عبدالغفور کا نام نکل آیا‘ ہم نے اسے حج کی پیشکش کی لیکن اس نے انکار کر دیا‘ لوگوں نے اسے بہت سمجھایا لیکن وہ نہیں مانا چنانچہ ہم نے دوسرے ملازم کو بھجوا دیا‘ اگلے سال پھر اس کا نام نکل آیا‘ عبدالغفور نے اس سال بھی انکار کر دیا‘ ہم نے دوبارہ قرعہ اندازی کی‘ دوسری بار پھر اس کا نام آ گیا‘ ہم نے تیسری قرعہ اندازی کی پھر عبدالغفور کا نام آ گیا‘ ہم نے تجربے کے لیے مرتبان میں چوتھی مرتبہ عبدالغفور کی پرچی نہ ڈالی اور اس کی جگہ خالی پرچی ڈال دی۔
چوتھی مرتبہ پرچی نکالی تو وہ خالی نکلی گویا اللہ تعالیٰ ہر صورت عبدالغفور کو حج کرانا چاہتا تھا لیکن وہ نہیں مان رہا تھا‘ ہم نے اس پر بہت زور دیا مگر اس کا کہنا تھا مجھے تو نماز بھی نہیں آتی‘ میں حج کر کے کیا کروں گا‘ میں نے آخر میں اس کے ساتھ سودا کیا‘ میں نے اس سے کہا تم حج پر چلے جاؤ‘ میں تمہیں پورے سال کی تنخواہیں اضافی دے دیتا ہوں‘ وہ لالچ میں آ گیا‘ میں نے مولوی صاحب کا بندوبست کیا‘ مولوی صاحب نے اسے نماز اور حج کا طریقہ سکھایا‘ دعائیں اور آیتیں یاد کرائیں اور ہم نے اسے حج پر روانہ کر دیا‘ عبدالغفور حج پر گیا‘ حج کیا‘ طواف الوداع کیا‘ عشاء کی آخری نماز پڑھی‘ سجدے میں گیا اور سجدے ہی میں انتقال کر گیا۔
وہ مرنے کے بعد دیر تک سجدے میں پڑا رہا‘ ساتھیوں میں سے کسی نے ہلایا تو پتہ چلا عبدالغفور انتقال کر چکا ہے‘ آپ اللہ کے فیصلے دیکھئے‘ اس رات امام کعبہ کا انتقال بھی ہو گیا‘ اگلی صبح امام کعبہ کا جنازہ تھا‘ عبدالغفور کی میت بھی امام کعبہ کے ساتھ حجرے اسود کے سامنے رکھ دی گئی اور لاکھوں حاجیوں نے اس کا جنازہ پڑھا‘ ہمیں اطلاع دی گئی‘ ہم سے نعش کے بارے میں پوچھا گیا‘ ہم نے اس کی بیگم سے پوچھا‘ بیگم کا کہنا تھا‘ اللہ تعالیٰ نے اگر اسے خانہ کعبہ بلایا ہے تو پھر اس کی تدفین بھی مکہ میں کر دی جائے‘ ہم نے اس کی تدفین کی اجازت دے دی اور یوں وہ مکہ مکرمہ میں دفن کر دیا گیا‘ میں اس کے نصیب پر حیران رہ گیا۔
میں اس کی بیگم کے پاس گیا اور اس سے عبدالغفور کی خوش بختی کی وجہ پوچھی‘ بیگم نے ایک عجیب بات بتائی‘ اس کا کہنا تھا’’ میرے خاوند میں کوئی خوبی نہیں تھی‘ اس نے زندگی میں کبھی کوئی نیکی نہیں کی ‘ میں خود حیران تھی اللہ تعالیٰ نے اسے کس نیکی کا صلہ دیا‘ میں کئی دن سوچتی رہی‘ پھر مجھے اچانک اس کی ایک اچھی عادت یاد آئی‘ ہمارے محلے میں ایک خوبصورت بیوہ ہے‘ یہ جوانی میں بیوہ ہو گئی تھی‘ محلے کے تمام لوفر اس پر بری نظر ڈالتے تھے‘ اس کی دو چھوٹی بیٹیاں تھیں‘ مکان اس کو اس کا مرحوم خاوند دے گیا تھا‘ گھر کے اخراجات اس کے دیور نے اٹھا لیے تھے لیکن مہنگائی میں اس کا گزارہ نہیں ہوتا تھا‘ وہ اپنی بیٹیوں کو پڑھانا چاہتی تھی‘ وہ اس کے لیے دوسروں کے گھروں میں کام کرنے جاتی تھی لیکن وہ جہاں جاتی تھی لوگ وہاں اس کی عزت پر ہاتھ ڈال دیتے تھے چنانچہ وہ کام چھوڑنے پر مجبور ہو جاتی تھی‘ میرے خاوند کو پتہ چلا تو وہ اس کی ڈھال بن گیا۔
اس نے اسے اپنی بہن بنا لیا‘ اس نے اپنی منہ بولی بہن کو گھر بٹھایا اور اس کی دونوں بیٹیوں کو اسکول داخل کرا دیا‘ وہ لوگوں سے قرض لے کر‘ آپ کی فیکٹری سے چوری کر کے ان بچیوں کو تعلیم دلاتا تھا‘ وہ ہفتے دس دن بعد اپنی منہ بولی بہن کے گھر راشن بھی دے کر آتا تھا لیکن اس نے راشن دیتے وقت یا بچیوں کی یونیفارم‘ کتابیں اور فیس دیتے ہوئے کبھی اس کے گھر کی دہلیز پار نہیں کی تھی‘ وہ یہ تمام چیزیں ایک بڑی سی ٹوکری میں رکھتا تھا‘ وہ ٹوکری بیوہ کی دہلیز پر رکھتا تھا‘ دروازے پر دستک دیتا تھا اور کہتا تھا مریم بہن میں نے سامان باہر رکھ دیا ہے‘ آپ اٹھا لیں اور مریم وہ سامان اٹھاتے وقت ہمیشہ کہتی تھی ’’جا میرے بھائی اللہ تعالیٰ تمہارا خاتمہ ایمان پر کرے‘‘ ہمیں یہ دعا عجیب لگتی تھی لیکن ہم چپ رہتے تھے‘ آپ نے اسے پچھلے سال بھی حج پر بھجوانے کی کوشش کی لیکن اس نے یہ سوچ کر انکار کر دیا وہ اگر سعودی عرب چلا گیا تو مریم بہن خود کو بے آسرا محسوس کرے گی۔
وہ اس بار بھی نہیں جانا چاہتا تھا لیکن آپ نے اسے پورے سال کی اضافی تنخواہ دے دی‘ عبدالغفور نے وہ ساری رقم مریم بہن کو دے دی‘ وہ حج پر چلا گیا‘ اس کا وقت پورا ہو چکا تھا چنانچہ اللہ تعالیٰ نے اسے زبردستی مکہ بلوایا‘ مریم بہن کی دعا قبول ہوئی اور میرا خاوند ایمان کی عظیم حالت میں اللہ تعالیٰ کے پاس چلا گیا‘ آپ حیران ہوں گے مریم بہن نے جب یہ خبر سنی تواس کے منہ سے بے اختیار شکر الحمد للہ نکل گیا‘‘ وہ رکے‘ چند لمبے سانس لیے اور پھر گویا ہوئے’’میں یہ داستان سن کر سکتے میں آگیا۔
میں اس کے بعد مریم بہن کے گھر گیا اور میں نے عبدالغفور کی طرح اس خاندان کی ذمے داری اٹھا لی‘ میں اس دن سے مریم بہن‘ عبدالغفور کی بیگم اور اپنے تمام دوستوں سے درخواست کر رہا ہوں آپ میرے لیے دعا کریں اللہ مجھے عبدالغفور کی موت نصیب کر دے‘ میں خود بھی دن میں سیکڑوں مرتبہ ایمان پر خاتمے کی دعا کرتا ہوں‘ میں نے زندگی میں کبھی حج نہیں کیا‘ میں پندرہ سال عبدالغفور کی طرح بلاوے کا انتظار کرتا رہا‘ اللہ تعالیٰ نے بالآخر میری بھی سن لی چنانچہ مجھے بھی عبدالغفور کی طرح زبردستی طلب کیا جا رہا ہے‘ میں جا رہا ہوں‘ مجھے یقین ہے اللہ مجھے عبدالغفور جیسی موت دے گا‘‘ وہ رکے‘ خوشی کے آنسو پونچھے‘ مجھے سینے سے لگایا اور اپنے بیڈروم میں چلے گئے ‘ میں دیر تک ان کے ڈرائنگ روم میں حیران پریشان بیٹھا رہا۔
وہ چند دن بعد حج پر تشریف لے گئے‘ حج کیا‘ مدینہ منورہ تشریف لے گئے‘ عشاء کی نماز کے لیے مسجد نبوی گئے‘ سجدے میں گئے اور اللہ تعالیٰ نے انھیں بلا لیا ‘وہ جنت البقیع میں صحابہ اکرامؓ کی قربت میں دفن ہوئے‘ اللہ تعالیٰ نے انھیں عبدالغفور کی موت نصیب کر دی۔
منقول
Deen-e-Islam

09/07/2025


     آمین ثمہ آمین
16/10/2024



آمین ثمہ آمین

07/05/2024

وہ غلافِ کعبہ کا حُسن ، وہ زم زم کا پانی ، وہ مدینہ کی گلیاں ، وہ کعبہ کی ٹھنڈی ہوائیں ۔اللّٰہ ہم سب کو نصیب کرے. آمین 🤲
16/10/2023

وہ غلافِ کعبہ کا حُسن ، وہ زم زم کا پانی ، وہ مدینہ کی گلیاں ، وہ کعبہ کی ٹھنڈی ہوائیں ۔
اللّٰہ ہم سب کو نصیب کرے. آمین 🤲

09/10/2023
بہاولپور یونیورسٹی پر بہت سی دانشوروں کے قلم سے بہت سی باتیں پڑھنے کو ملیں ۔کوئی کہتا ہے کہ بچیوں کو یونیورسٹی بھیجنا چا...
31/07/2023

بہاولپور یونیورسٹی پر بہت سی دانشوروں کے قلم سے بہت سی باتیں پڑھنے کو ملیں ۔کوئی کہتا ہے کہ بچیوں کو یونیورسٹی بھیجنا چاہئیے کوئی کہتا ہے کہ نہیں بھیجنا چاہئیے۔
لیکن بات اصل میں یہ ہے کہ۔۔۔
حضرت جنید بغدادی رحمتہ اللہ علیہ سے کسی نے سوال پوچھا کہ کیا ایک مرد کسی عورت کو پڑھا سکتا ہے؟
فرمایا اگر پڑھانے والا بایزید بسطامی رحمتہ اللہ علیہ ہو اور پڑھنے والی رابعہ بصری رحمتہ اللہ علیہ ہو اور جس جگہ پڑھایا جائے وہ خانہ کعبہ ہو اور جو پڑھایا جائے وہ کلام اللہ کا (قرآن پاک ) ہو تب بھی یہ جائز نہیں ہے۔۔
یہ الگ بات ہے کہ ہم ان باتوں کو ماننے کیلیے تیار نہیں ہیں_______!!!

🥀خوبصورت تحریر ضرور پڑھیے 🥀ایک صحابی آئے یا رسول اللہ میرا پڑوسی ہے اس کی کھجور ٹیڑھی ہو کر میرے گھر میں چند اس کی شاخیں...
24/07/2023

🥀خوبصورت تحریر ضرور پڑھیے 🥀

ایک صحابی آئے یا رسول اللہ میرا پڑوسی ہے اس کی کھجور ٹیڑھی ہو کر میرے گھر میں چند اس کی شاخیں ہیں۔ اس پر جب پھل لگتا ہے اور ٹوٹ کر گرتا ہے تو میرے بچے اٹھا لیتے ہیں ہم غریب ہیں تو وہ بھاگتا ہوا آتا ہے اور آکر میرے بچوں کے منہ میں سے کھجور کو نکال لیتا ہے۔ یا رسول اللہ آپ اس کو کہیں کہ میرے چھوٹے چھوٹے بچوں پر اتنی زیادتی نہ کرے۔ آپ نے اسے بلایا وہ منافق تھا۔ آپ نے فرمایا بھئی ایک سودا کرتے ہو؟ اس نے پوچھا کون سا سودا؟ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا یہ کھجور کا درخت مجھے دے دو اور اس کے بدلے میں تمہیں جنت میں کھجور کا درخت لے کر دونگا۔ وہ کہنے لگا یارسول اللہ یہ اصل میں میرے بچوں کو بہت پسند ہے اگر کوئی اور کھجور ہوتی تو میں دے دیتا تو یہ میری معزرت ہے یا رسول اللہ اور چلا گیا۔
ایک صحابی بیٹھے تھے ابو دحداح وہ کہنے لگے یا رسول اللہ اگر میں وہ کھجور کا درخت لے دوں تو مجھے جنت میں کھجور کا درخت لیں دیں گے آپ؟ آپ نے فرمایا ہاں تو مجھے لے دے اس کے بدلے میں تمہیں جنت میں کھجور کا درخت لے دوں گا۔ وہ صحابی اٹھ کر اس منافق کے پیچھے چلے گئے اور بلایا اے بھائی بات سنو، کھجور کا درخت کتنے کا بیچو گے؟ اس نے کہا میں نے اللہ کے نبی کو نہیں دیا تمہیں کیسے دے دوں۔ انہوں نے کہا اچھا بھائی منہ سے بول کتنے پیسے لو گے۔ تو اس نے جان چھڑانے کے لیے کہا کہ اپنا سارا باغ مجھے دے دے اور یہ ایک کھجور کا درخت لے لے اور باغ میں 600 کھجور کے درخت اور یہ کھجور کا درخت کسی اور کو دینا ہے وہ کہنے لگے پکے ہو؟ سودے سے پھرو گے تو نہیں؟ کہا میں پاگل ہوں کہ میں مکر جاؤں گا مجھے 600 کھجور کے درخت مل رہے ہیں۔ انہوں نے کہا مجھے منظور ہے کھجور کا درخت میرا اور سارا باغ تیرا۔
ابودحداح گئے اور باغ کے باہر کھڑے ہوگئے اندر بھی داخل نہ ہوئے اور جیب میں جو پیسے تھے وہ بھی زمین کے اندر ڈال دیے کہ یہ بھی باغ کی کمائی ہے اور باغ کا جنت کے بدلے سودا کر دیا ہے اللہ کے نبی سے اور اپنی بیوی کو آواز دی باہر آؤ یہ باغ اب ہمارا نہیں ہے، اس باغ کا اللہ کے نبی کے ساتھ سودا کر آیا ہوں بیوی نے جب اللہ کے نبی کا نام سنا تو وہ بھی بچوں کو لے کر باغ سے باہر آگئی اور کہا تم نے بہت خوبصورت سودا کیا۔
حضرت ابو دحداح اللہ کے نبی کے پاس گئے یارسول اللہ میں نے سودا کر لیا ہے۔ فرمایا ابو دحداح کیسے کیا سودا ؟ کہا یارسول اللہ سارا باغ دے دیا اور وہ کھجور کا درخت لے لیا۔ اللہ کے نبی نے فرمایا پھر میرا سودا بھی بدل گیا اور فرمایا میرے ساتھی میں اپنی آنکھوں کے سامنے دیکھ رہا ہوں اللہ نے تیرے لیے جنت میں ایک محل نہیں سینکڑوں محل بنا دیے ہیں اور ایک باغ نہیں ہزاروں باغ تیرے لیے تیار کر دیے ہیں۔ اور جب حضرت ابودحداح فوت ہوئے تو اللہ کے نبی نے فرمایا میں اپنی آنکھوں سے دیکھ رہا ہوں ایک لاکھ جنت کے کھجور کے درخت ابو دحداح کے جنازے کے اوپر جھکے ہوئے ہیں۔
Reference:۔
مسند عبد بن حمید: 1334
ابن حبان: 71
الطبرانی: 763
الحاکم: 2/20
شعب الایمان: 3451

19/07/2023

آپ کو نیا اسلامی سال یکم محرم الحرام 🌙1445 ہجری مبارک ھو، رب العالمین سب کو ہر قسم کی ناگہانی آفات و بلیات، بیماریوں، ظلم و شر و فساد سے محفوظ فرمائے

ہماری تاریخ میں بہت بڑا خوبصورت نام عبداﷲ بن زید رحمۃ ﷲ علیہ کا ہے۔ آپ نے ساری زندگی نکاح نہیں کیا، جوانی گزر گئی بڑھاپا...
01/07/2023

ہماری تاریخ میں بہت بڑا خوبصورت نام عبداﷲ بن زید رحمۃ ﷲ علیہ کا ہے۔ آپ نے ساری زندگی نکاح نہیں کیا، جوانی گزر گئی بڑھاپا آیا ایک دن بیٹھے حدیث مبارکہ پڑھ رہے تھے تو اس میں نبی کریم صلی اﷲ علیہ وآلہ وسلم کا فرمان پڑھا جس کا مفہوم یہ تھا کہ:*''جنت میں کوئی اکیلا نہیں ہو گا جو نکاح کی عمر میں نہیں پہنچا یا پہنچا بھی تو کسی وجہ سے نہیں ہوا اور وہ مسلمان ہی مرا تو ﷲ مسلمان مردوں اور عورتوں کا جنت میں آپس میں نکاح کر دے گا''۔*
جب یہ حدیث پاک پڑھی تو دل میں خیال آیا کہ یہاں تو نکاح نہیں کیا تو جنت میں ہونا ہی ہونا ہے تو جنت میں میری بیوی کون ہو گی دعا کی کہ یا ﷲ مجھے دکِھا تو سہی جنت میں میری بیوی کون ہو گی؟
پہلی رات دعا قبول نہیں ہوئی دوسری رات بھی دعا قبول نہیں ہوئی تیسری رات دعا قبول ہو گئی، خواب میں کیا دیکھتے ہیں کالے رنگ کی عورت ہے حضرت بلال حبشی کے دیس کی رہنے والی حبشہ کے دیس کی اور وہ کیا کہتی ہے کہ:''میں میمونہ ولید ہوں اور میں بصریٰ میں رہتی ہوں''۔پتہ مل گیا آنکھ کھلی حضرت کی تہجد کا وقت تھا نوافل پڑھے نماز فجر باجماعت ادا کی اور سواری لے کر حضرت عبداﷲ بن زید بصریٰ گئے وہاں لوگوں نے بڑا استقبال کیا حضرت کا نام ہی بہت بڑا تھا بیٹھا کر پوچھا حضرت بتائے بغیر کیسے آنا ہوا خیر تو ہے آپ نے پوچھا یار یہ تو بتاؤ یہاں کوئی میمونہ ولید رہتی ہے لوگوں نے حیران ہو کر پوچھا حضرت آپ اتنے دٗور سے چل کر میمونہ ولید سے ملنے آئے ہیں آپ نے فرمایا کیوں اُس سے کوئی نہیں مل سکتا نہیں حضور وہ تو دیوانی ہے لوگ اُسے پتھر مارتے ہیں، حضور نے پوچھا کیوں مارتے ہیں حضور کام ہی ایسے کرتی ہے کوئی رو رہا ہو تو اسے دیکھ کر ہنسنے لگتی ہے اور کوئی ہنس رہا ہو تو رونا شروع کر دیتی ہے اور وہ اجرت پر پیسے لیکر لوگوں کی بکریاں چرہاتی ہے آج بھی وہ ہماری بکریاں لیکر جنگل میں گئی ہے آپ آرام فرمائیں عصر کے بعد آ جائے گی آپ مل لیجیے گا۔
حصْرت نے فرمایا عصر کس نے دیکھی کہا وہ کس سمت گئی ہے لوگوں نے کہا حضور جنگل نہ جائیں بہت خوفناک جنگل ہے آپ نے فرمایا بتاؤ کس طرف گئی ہے لوگوں نے بتایا آپ فرماتے ہیں کہ میں نکل گیا آپ فرماتے ہیں کہ جب میں جنگل گیا واقع ہی خوفناک جنگل تھا جنگلی جانوروں کی بھرمار تھی قدم قدم پر کوئی نہ کوئی چیز کھڑی ہے آپ فرماتے ہیں کہ قربان جاؤں اس عورت کی مردانگی پر وہ اس جنگل میں کس طرح بکریاں چرا رہی ہے شیروں نے اس کی بکریوں کو ابھی تک کھایا نہیں اتنے درندے ہیں سارے مل کر حملہ کر دیں تو کیا کرے یہ اکیلی عورت کس کس کو روکے گی؟ خیر آپ فرماتے ہیں کہ وہ جگہ جہاں لوگوں نے مجھے بتائی تھی میں وہاں پہنچ گیا جب میں وہاں پہنچا تو منظر دیکھ کر میں حیران رہ گیا دو حیران کر دینے والے منظر تھے۔
پہلا یہ کہ میمونہ ولید ؒ بکریاں نہیں چرا رہی تھی بلکہ اُس جنگل میں جائے نماز بچھا کر نوافل پڑھ رہی تھی پر بکریاں چرانا تو بہانہ تھا یہ تو بہانہ تھا کنارہ کشی کا، لوگ یہی سمجھتے تھے میمونہ سارا دن بکریاں چراتی ہے لیکن میمونہ بکریاں نہیں چرا رہی تھی۔
دوسرا کیا دیکھا کہ میمونہ تو نماز پڑھ رہی ہیں پھر بکریاں کون چرا رہا ہے بکریاں تو ایک جگہ نہیں رکتیں کہیں اِدھر جاتی ہیں کہیں اُدھر آپ فرماتے ہیں کہ میمونہ نماز پڑھ رہی تھی اور شیر بکریاں چرا رہے ہیں بکریاں چر رہی ہیں شیر انکے اردگرد گھوم رہے ہیں اگر کوئی بکری بھاگتی ہے اس کی فطرت ہے شرارت کرنا تو شیر اُسے پکڑ کر واپس لے آتا ہے لیکن کہتا کچھ نہیں۔
آپ فرماتے ہیں میں حیران و پریشاں کھڑا تھا کہ یہ کیسے ہو گیا ہے یہ فطرت کیسے بدل گئی لوگ کہتے ہیں فطرت نہیں بدلتی یہ شیروں اور بکریوں میں یاری کیسے ہو گئی آپ فرماتے ہیں میں دنگ حیران و پریشان کھڑا ہوں مجھے نہیں پتہ کہ کب میمونہ ولید نے نماز ختم کر دی اور مجھے مخاطب کر کے کہتی ہیں کہ:*''اے عبدﷲ ملنے کا وعدہ تو جنت میں تھا آپ یہاں آ گئے''۔*
آپ فرماتے ہیں میں حیران رہ گیا اس سے پہلے تو ملاقات بھی نہیں ہوئی تو حضرت میمونہ ولید کو میرا نام کیسے پتہ چل گیا
تو آپ فرماتے ہیں کہ میں نے حضرت میمونہ ولیدؒ سے سوال کیا اِس سے پہلے ہم ملے نہیں ملاقات نہیں ہوئی ہماری تو میرا نام کیسے پتہ چلا آپ کو تو جواب کیا ملا حضرت میمونہ ولیدؒ فرماتی ہیں عبدﷲ جس ﷲ نے رات کو تجھے میرے بارے میں بتایا ہے اُسی ﷲ نے مجھے آپکے بارے میں بتایا ہے
آپ فرماتے ہیں کہ جس چیز نے مجھے سب سے زیادہ حیران کیا وہ یہ تھا کہ یہ فطرت کیسے بدلی میں نے حضرت میمونہ ولید ؒ سے پوچھا آپ یہ تو بتاؤ یہ شیروں نے بکریوں کے ساتھ یاری کیسے کر لی یہ تو غذا ہے انکی اگر شیر بکریوں کے ساتھ یاری لگائے گا تو کھائے گا کیا یہ کیسے معاملہ ہو گیا تو حضرت میمونہ ولید ؒ فرماتی ہیں جب سے میں نے رب سے صلح کر لی ہے اُس دن سے اِن شیروں نے بھی میری بکریوں کے ساتھ صلح کر لی ہے۔

کوئی کرکٹ کا بادشاہ بابر اعظم ہو یا دنیا کا کوئی اور بادشاہ، حج میں سب خدا کے عاجز بندے بنے یہاں وہاں فقیرانہ پڑے نظر آت...
28/06/2023

کوئی کرکٹ کا بادشاہ بابر اعظم ہو یا دنیا کا کوئی اور بادشاہ، حج میں سب خدا کے عاجز بندے بنے یہاں وہاں فقیرانہ پڑے نظر آتے ہیں۔
ویسے دنیا سوچتی تو ہوگی کہ ہر آسائش چھوڑ کے اور بہت پیسہ لگا کے مسلمان یہاں ایسی فقیری پانے کیلئے تڑپتے اور ترستے کیوں رہتے ہیں!

Address

Abbottabad

Website

Alerts

Be the first to know and let us send you an email when Deen-e-Islaam posts news and promotions. Your email address will not be used for any other purpose, and you can unsubscribe at any time.

Share