Words of Eternal Life

Words of Eternal Life Join us in advancing the Gospel around the world.

This page is focused on Christ-centered preaching, reaching the unreached, and strengthening the believers by standing on God’s Word (KJV)—so that others may hear, believe, and be saved.

31/08/2026


Peter’s Baptism in Acts 2 and the Command of Jesus in Matthew 28:19When we study baptism in the book of Acts, we must fi...
12/08/2026

Peter’s Baptism in Acts 2 and the Command of Jesus in Matthew 28:19

When we study baptism in the book of Acts, we must first understand to whom Peter was speaking and the context of his message.

Peter’s first sermon in Acts 2 was preached primarily to Jews and Jewish proselytes. These people already knew the God of Israel—the Father. They were not rejecting the Father as God. At Pentecost, they had also witnessed the supernatural manifestation of the Holy Ghost.

Their great problem was Jesus Christ.

They had rejected Jesus as the Messiah and had participated in His crucifixion. Therefore, Peter's message repeatedly emphasized Jesus Christ as Lord and Messiah.

Acts 2:36 KJV “Therefore let all the house of Israel know assuredly, that God hath made that same Jesus, whom ye have crucified, both Lord and Christ.”

Then Peter says:

Acts 2:38 KJV “Repent, and be baptized every one of you in the name of Jesus Christ for the remission of sins, and ye shall receive the gift of the Holy Ghost.”

Peter was emphasizing the very Person they had rejected: Jesus Christ, the Messiah and Lord.

This is consistent with what happened during Jesus' earthly ministry. When Jesus identified God as His Father, the Jews understood the significance of His statement.

John 5:18 KJV “Therefore the Jews sought the more to kill him, because he not only had broken the sabbath, but said also that God was his Father, making himself equal with God.”

So the central issue Peter was addressing was not whether they believed in the Father. They needed to understand who Jesus was. The One they had crucified was actually God's Christ and Lord.

But there is an important question:

Could Peter Teach Something Jesus Christ Had Not Taught Him?

Peter personally received the Lord's command concerning baptism.

Matthew 28:16–20 KJV “Then the eleven disciples went away into Galilee, into a mountain where Jesus had appointed them.

And when they saw him, they worshipped him: but some doubted.

And Jesus came and spake unto them, saying, All power is given unto me in heaven and in earth.

Go ye therefore, and teach all nations, baptizing them in the name of the Father, and of the Son, and of the Holy Ghost:

Teaching them to observe all things whatsoever I have commanded you: and, lo, I am with you alway, even unto the end of the world. Amen.”

Peter could not contradict the command of Christ and establish his own baptismal doctrine.

Therefore, if we interpret Acts 2:38 as meaning that Peter replaced Matthew 28:19 with a different baptismal command, we create a serious problem: Peter would be contradicting the very Christ whom he was preaching.

But Acts does not say that Peter rejected Matthew 28:19.

Rather, Acts repeatedly emphasizes that baptism was associated with the name of Jesus Christ:

Acts 2:38 — “in the name of Jesus Christ”
Acts 8:16 — “in the name of the Lord Jesus”
Acts 10:48 — “in the name of the Lord”
Acts 19:5 — “in the name of the Lord Jesus”

The phrase “in the name of Jesus Christ” can therefore emphasize the authority, identity, Lordship, and Messiahship of Jesus, especially in the context of Acts where the central issue was the Jews' rejection of Jesus.

Therefore, Ask the Question Correctly

“Peter baptized only in Jesus' name, therefore Matthew 28:19 was not followed.”

“If Peter was using Acts 2:38 as a replacement baptismal formula, does that mean Peter was contradicting the command of Jesus Christ in Matthew 28:19—a command Peter himself personally received?”

“Or is Peter emphasizing the name and authority of Jesus Christ because the Jews already knew the Father but specifically needed to recognize that the Jesus whom they had rejected and crucified was actually the Christ and Lord?”


Acts does not explicitly record the exact words spoken over the person during each baptism. Therefore, we should not claim more than Scripture actually says. What Scripture clearly shows is that Jesus commanded baptism in Matthew 28:19, while Acts repeatedly emphasizes baptism in the name of Jesus Christ/Lord Jesus.

 ؟ایک بائبلی و تحقیقی مطالعہکلامِ مقدس میں نبوت (Prophecy) اور پاسبانی یا بزرگی (Pastor/Elder) دو الگ الگ خدمتیں اور ذمہ...
29/07/2026

؟
ایک بائبلی و تحقیقی مطالعہ

کلامِ مقدس میں نبوت (Prophecy) اور پاسبانی یا بزرگی (Pastor/Elder) دو الگ الگ خدمتیں اور ذمہ داریاں ہیں۔ ان دونوں کو ایک ہی منصب سمجھنا بائبلی تعلیم کے مطابق درست نہیں۔ اعمال 2 :17 میں، جو یوایل 2 :28 کی تکمیل ہے، خدا فرماتا ہے: "تمہارے بیٹے اور تمہاری بیٹیاں نبوت کریں گی۔"
(اعمال 2 :17)۔
یہ آیت اس حقیقت کو واضح کرتی ہے کہ خدا اپنی روح کے وسیلہ سے مردوں اور عورتوں دونوں کو نبوت کی نعمت عطا کر تا تھا۔ تاہم، اس آیت میں کہیں بھی عورت کو کلیسیا کا پاسبان، بزرگ یا نگہبان مقرر کرنے کا ذکر نہیں ملتا۔

جب کلیسیا میں تعلیم، روحانی اختیار اور قیادت کی بات آتی ہے تو رسولوں نے نہایت واضح ہدایات دی ہیں: "میں عورت کو اجازت نہیں دیتا کہ وہ تعلیم دے یا مرد پر اختیار چلائے بلکہ خاموش رہے۔"(1-تیمتھیس 2 :12)

اسی طرح 1-تیمتھیس 3 :1-7 اور ططس 1 :5-9 میں پاسبان اور بزرگ کے لیے جو شرائط بیان کی گئی ہیں، وہ کلیسیائی قیادت کے منصب کی وضاحت کرتی ہیں۔
اس سے معلوم ہوتا ہے کہ اعمال 2 :17 روحانی نعمت نبوت کی بابت بات کی گئی ہے، جبکہ 1-تیمتھیس اور ططس کلیسیائی منصب اور روحانی قیادت کی بابت تعلیم دیتے ہیں۔ اس لیے نبوت اور پاسبانی خدمت کو ایک ہی منصب قرار دینا کتاب مقدس کے مطابق درست تفسیر نہیں۔

، اعمال 2 :17 میں شادی شدہ یا غیر شادی شدہ عورتوں کے درمیان کوئی امتیاز نہیں کیا گیا۔ آیت صرف یہ بیان کرتی ہے کہ "بیٹے اور بیٹیاں نبوت کریں گے۔" اس سے بڑھ کر کوئی نتیجہ اخذ کرنا بائبل مقدس کےاصولِ تفسیر کے خلاف ہے۔


خدا نے ابتدا ہی سے مرد اور عورت دونوں کو اپنی صورت پر پیدا کیا (پیدایش 1 :27) اور دونوں کو یکساں انسانی قدر و منزلت عطا کی۔ تاہم، اُس نے اپنی کامل حکمت کے مطابق دونوں کو الگ الگ مقاصد، خصوصیات، ذمہ داریاں اور خدمت کے دائرے بھی عطا کیے ہیں۔

لہٰذا ہمارے لیے نہایت ضروری ہے کہ ہم دنیا کے بدلتے ہوئے نظریات اور معاشرتی رجحانات کی پیروی کرنے کے بجائے، خدا کے خوف میں رہتے ہوئے اُس ذمہ داری کو وفاداری سے ادا کریں جو اُس نے ہمیں سونپی ہے۔
کلامِ مقدس یہ بھی سکھاتی ہے کہ مرد اور عورت دونوں "زندگی کے فضل کے شریک وارث" ہیں (1-پطرس 3 :7)۔ اس لیے خدا کی نظر میں دونوں کی قدر، عزت اور نجات یکساں ہے۔ فرق کسی کے مقام یا فضیلت میں نہیں بلکہ ذمہ داری اور خدمت کے دائرۂ کار میں ہے۔
اگر خدا نے کلیسیا میں پاسبانی، بزرگی اور روحانی قیادت کی ذمہ داری کے اہل مردوں کے سپرد کی ہے، تو اسی خدا نے عورت کو خاندان کی تعمیر، گھر کی نگہداشت، بچوں کی تربیت اور اپنے دیگر روحانی عطیات کے ذریعے کلیسیا اور معاشرے کی خدمت کی عظیم ذمہ داری بھی عطا کی ہے (امثال 31؛ ططس 2 :3-5)۔

اس کا ہرگز یہ مطلب نہیں کہ عورت خدا یا کلیسیا کی نظر میں کسی اعتبار سے کم تر ہے، بلکہ یہ صرف ذمہ داریوں کے فرق کو ظاہر کرتا ہے۔ جس طرح جسم کے مختلف اعضا الگ الگ ذمہ داریاں ادا کرتے ہیں مگر سب یکساں اہم ہیں (1-کرنتھیوں 12 :12-27)، اسی طرح خدا نے مرد اور عورت دونوں کو اپنے الٰہی منصوبے میں منفرد اور اہم کردار عطا کیے ہیں۔

پس ہمیں چاہیے کہ ہم اپنے اپنے خدا داد کردار کو خوش دلی، فروتنی اور وفاداری کے ساتھ قبول کریں، تاکہ ہم کلامِ مقدس کی تعلیمات کے مطابق زندگی بسر کرتے ہوئے خدا کے اچھے، دیانت دار اور وفادار خادم ثابت ہوسکیں اور ہر بات میں اُس کے نام کو جلال دیں۔ اس کو بہتر طور پر سمجھنے کے لیے چند سوال رقم کرنا چاہونگا تاکہ آپ کی مزید راہنمائی ہوسکے۔



1۔ بائبل میں کتنی عورتیں کاہن (Priest) تھیں؟

ایک بھی نہیں۔ عہدِ قدیم میں کہانت صرف ہارون کی نسل کے مردوں کے لیے مخصوص تھی، اور عہدِ جدید میں بھی کسی عورت کو کاہن یا کلیسیائی بزرگ مقرر کیے جانے کا کوئی ثبوت موجود نہیں۔

2۔ بائبل میں خدا کی مقرر کردہ کتنی عورتیں بادشاہ تھیں؟
ایک بھی نہیں۔ عتلیاہ (2-سلاطین 11) نے تخت پر ناجائز قبضہ کیا تھا؛ وہ خدا کی مقرر کردہ بادشاہ نہیں تھی۔

3۔ کتنی نبیاؤں نے بائبل کی کوئی کتاب لکھی؟
ایک بھی نہیں۔ اگرچہ مریم، دبورہ، خلدہ، حنّہ اور فلپس کی چار بیٹیاں نبیہ کہلاتی ہیں، لیکن بائبل کی کسی کتاب کی مصنفہ کوئی نبیہ نہیں۔
4۔ بارہ رسولوں میں کتنی عورتیں شامل تھیں؟
ایک بھی نہیں۔ خداوند یسوع مسیح نے اپنے بارہ رسول صرف مردوں میں سے منتخب کیے (متی 10 :1-4)۔

5۔ خداوند یسوع نے کتنی عورتوں کو رسول یا پاسبان کی حیثیت سے منادی کے لیے بھیجا؟
ایک بھی نہیں۔ اگرچہ عورتوں نے خوشخبری کی گواہی دی اور مسیح کی وفادار خادمائیں رہیں، لیکن یسوع نے کسی عورت کو رسول یا پاسبان کے منصب پر مقرر نہیں کیا۔

6۔ ابتدائی کلیسیا نے کتنی عورتوں کو پاسبان (Pastor) مقرر کیا؟
ایک بھی نہیں۔ نئے عہدنامہ میں کسی عورت کی پاسبان یا بزرگ کے طور پر تقرری کا کوئی ثبوت موجود نہیں۔

7۔ کیا آپ نئے عہدنامہ کے کلیسیائی نظام کو مانتے ہیں؟
یہ سوال اپنی ذت میں تلاش کریں کہ آپ کا کیا مواقف ہے یاد رکھیں کہ ایمان، عبادت، کلیسیائی نظم و ضبط اور روحانی قیادت کے لیے نئے عہدنامہ کی کلیسیا ہی ہمارا بائبلی معیار ہے۔

8۔ کیا رسولوں نے کہیں عورت کو پاسبان مقرر کرنے کی تعلیم دی ہے؟
ہرگز نہیں۔ رسولوں کی تعلیم کے مطابق پاسبان، بزرگ یا نگہبان کا منصب اہل مردوں کے لیے مقرر کیا گیا ہے (1-تیمتھیس 2 :12؛ 3 :1-7؛ ططس 1 :5-9)۔

9۔ لفظ "پاسبان" (Pastor) کا مؤنث صیغہ کیا ہے؟
بائبل میں ایسا کوئی مؤنث لقب موجود نہیں۔ نئے عہدنامہ میں کلیسیا کے اس منصب کے لیے کسی الگ مؤنث عنوان یا عہدے کا ذکر نہیں ملتا۔

#نتیجہ
کلامِ مقدس عورتوں کے مقام، عزت اور خدمت کی بھرپور قدر کرتا ہے۔ خواتین دعا، گواہی، شاگردی، خواتین اور بچوں کی تعلیم، مہمان نوازی، رحم دلی اور نبوت جیسے روحانی نعمتوں کے ذریعے خدا کی خدمت میں اہم کردار ادا کرتی ہیں۔
تاہم، جب کلیسیا میں پاسبانی، بزرگی اور روحانی اختیار کے منصب کی بات آتی ہے تو رسولوں کی تعلیم واضح طور پر اس ذمہ داری کو اہل مردوں کے لیے مخصوص قرار دیتی ہے۔

لہٰذا ہمارا عقیدہ اور عمل جذبات، معاشرتی رجحانات یا ثقافتی تبدیلیوں پر نہیں بلکہ کلامِ مقدس کی مکمل اور متوازن تعلیم پر قائم ہونا چاہیے، کیونکہ ایمان اور کلیسیائی نظام کا آخری اور اعلیٰ اختیار صرف خدا کا الہامی کلام ہے۔
خدا نے مرد اور عورت دونوں کو اپنی صورت پر پیدا کیا اور دونوں کو یکساں قدر و منزلت بخشی، لیکن اپنی کامل حکمت کے مطابق اُن کے لیے الگ الگ ذمہ داریاں اور خدمت کے دائرے بھی مقرر کیے۔ اس لیے ہمارا فرض ہے کہ ہم دنیا کے بدلتے ہوئے نظریات یا معاشرتی دباؤ کے بجائے خدا کے مقرر کردہ نظم کو قبول کریں اور اُس کے خوف میں رہتے ہوئے اپنی اپنی ذمہ داریاں وفاداری سے نبھائیں۔

کلامِ مقدس واضح کرتا ہے کہ مرد اور عورت دونوں "زندگی کے فضل کے شریک وارث" ہیں (1-پطرس 3 :7)۔ اس لیے خدا اور کلیسیا کی نظر میں کسی کی قدر یا مقام کم یا زیادہ نہیں، بلکہ فرق صرف ذمہ داریوں کا ہے۔ اگر خدا نے اہل مردوں کو کلیسیا میں پاسبانی اور روحانی قیادت کی ذمہ داری سونپی ہے، تو عورت کو گھر کی نگہداشت، خاندان کی تعمیر، بچوں کی تربیت اور دیگر اہم روحانی خدمات کی ذمہ داری عطا کی ہے۔ یہ تقسیمِ ذمہ داری کسی برتری یا کم تری کی علامت نہیں بلکہ خدا کے حکیمانہ منصوبے کا حصہ ہے۔

پس آئیے ہم کلامِ مقدس کی تعلیمات کے تابع رہتے ہوئے اپنے اپنے خدا داد کردار کو دیانت داری، فروتنی اور وفاداری کے ساتھ ادا کریں، تاکہ ہم خدا کے حضور اچھے اور وفادار خادم ٹھہریں اور اپنی زندگیوں سے اُس کے عظیم نام کو جلال دیں اور اس گناہ بھری دنیا میں رہتے ہوئے اسکی مرضی پوری کرسکیں۔ شکریہ!

𝐀𝐧𝐬𝐰𝐞𝐫𝐢𝐧𝐠 𝐦𝐲 𝐦𝐮𝐬𝐥𝐢𝐦𝐬 𝐟𝐫𝐢𝐞𝐧𝐝𝐬𝐈𝐟 𝐉𝐞𝐬𝐮𝐬 𝐂𝐡𝐫𝐢𝐬𝐭 𝐰𝐚𝐬 𝐆𝐨𝐝, 𝐰𝐡𝐨 𝐬𝐮𝐬𝐭𝐚𝐢𝐧𝐞𝐝 𝐭𝐡𝐞 𝐮𝐧𝐢𝐯𝐞𝐫𝐬𝐞 𝐰𝐡𝐢𝐥𝐞 𝐉𝐞𝐬𝐮𝐬 𝐰𝐚𝐬 𝐢𝐧 𝐭𝐡𝐞 𝐭𝐨𝐦𝐛?
19/07/2026

𝐀𝐧𝐬𝐰𝐞𝐫𝐢𝐧𝐠 𝐦𝐲 𝐦𝐮𝐬𝐥𝐢𝐦𝐬 𝐟𝐫𝐢𝐞𝐧𝐝𝐬
𝐈𝐟 𝐉𝐞𝐬𝐮𝐬 𝐂𝐡𝐫𝐢𝐬𝐭 𝐰𝐚𝐬 𝐆𝐨𝐝, 𝐰𝐡𝐨 𝐬𝐮𝐬𝐭𝐚𝐢𝐧𝐞𝐝 𝐭𝐡𝐞 𝐮𝐧𝐢𝐯𝐞𝐫𝐬𝐞 𝐰𝐡𝐢𝐥𝐞 𝐉𝐞𝐬𝐮𝐬 𝐰𝐚𝐬 𝐢𝐧 𝐭𝐡𝐞 𝐭𝐨𝐦𝐛?

03/07/2026
“Christ is either Lord of all, or He is not Lord at all. Every part of our lives must be yielded to Him.”Hudson Taylor
24/03/2026

“Christ is either Lord of all, or He is not Lord at all. Every part of our lives must be yielded to Him.”
Hudson Taylor

Philippians 2:11 (KJV)“And that every tongue should confess that Jesus Christ is Lord, to the glory of God the Father.”
24/03/2026

Philippians 2:11 (KJV)
“And that every tongue should confess that Jesus Christ is Lord, to the glory of God the Father.”

Address

Imus Cavite
Imus
4103

Website

Alerts

Be the first to know and let us send you an email when Words of Eternal Life posts news and promotions. Your email address will not be used for any other purpose, and you can unsubscribe at any time.

Shortcuts

Share