01/01/2025
شروع اللّٰہ تعالیٰ کے نام سے جو بڑا مہربان اور نہایت رحم والا ہے
السلام و علیکم ،
بے حیائی کیسے پھیلتی ہے؟؟
بےحیائی کو روکنے کا سب سے بہترین طریقہ اس کے بارے میں خاموشی اختیار کرنا ہے۔ سوشل میڈیا کے جس طوفان سے اسوقت مسلمان لڑ رہے ہیں یہاں انکو یہ بات سمجھنا بہت ضروری ہے کہ وہ ایسی باتوں اور چیزوں کو اہمیت نہ دیں۔ جن وڈیوز کا تعلق بے حیائی پھیلانے سے ہوتا ہے وہ معاشرتی لحاظ سے اپنے آپ ہی گراوٹ کا شکار ہوتی ہیں۔ اورجو بھی لوگ چاہے وہ کسی بھی مقطبہ ءفکر سے تعلق رکھتے ہوں وہ اسکو اگنور کرنے پر اکتفا کریں۔ جب بھی ایسی ویڈیوز سوشل میڈیا پر وائرل ہوں آپ ہرگز ان میں اپنا حصہ نہ ڈالیں مثال کے طور آپ کس طرح ان کا حصہ بن رہے ہیں ؟؟
نمبر1 : جب آپ یہ ویڈیو بناتے ہیں یا ان وڈیوز کو سپورٹ کرتے ہیں۔
نمبر2: جب آپ اس طرح کی وڈیوز بنانے والے کو دیکھتے ہیں یا like share subscribe کرتے ہیں۔
نمبر3 جب آپ ان وڈیوز کو اپنا topic بنا کر اصلاحی وڈیو بناتے ہیں۔
نمبر4: جب آپ صرف اتنا کہتے ہیں کہ مجھے یہ وڈیو اچھی نہیں لگی تو اس سے مراد یہ ہے کہ آپ نے وہ وڈیو دیکھی ہے۔ اسی لئے آپ کہہ رہے ہیں کہ آپ کو وڈیو اچھی نہیں لگی لیکن اگر اسکے بجائے آپ وڈیو سے لاتعلقی کا اظہار کریں گے تو یہ زیادہ بہتر ہو گا۔ وجہ؟ کیونکہ یہ برائی دیکھنے کے بعد سے ہی آپ کسی نہ کسی شکل میں اسکا حصہ بن گئے(توبہ کرنا لازم ہے). لیکن اگر آپ نے یہ کہا کہ میں نے دیکھی ہے تو آپ نے اسکو پھیلایا بھی۔ حیا اور خوف خدا کا تقاضہ یہ ہے کہ گناہ پر بات نہ کی جائے کیونکہ اس پر بات کی جائے تو یہ پھیلتا ہےاور پھیلانا زیادہ بڑا گناہ ہے۔ جس طرح آپ سے کوئی گناہ ہو جائے تو حدیث پاک کی روشنی میں آپ اسکو بیان کرنے سے گریز کریں بالکل ایسے ہی آپ نے یہاں بھی یہ والا عمل دہرانا ہے۔ یہ دونوں ایک ہی عمل ہیں تو انکو ایک جیسا نمٹا جائیگا۔
حدیث پاک! اسی لئے رسول اکرم ﷺ نے ایک موقع پر ارشاد فرمایا ’’میری امت کے ہر فرد کو معاف کردیا جائے گا سوائے ان لوگوں کے جو اپنے عیوب اور گناہوں کو ظاہر کرتے ہیں، بلاشبہ یہ بات بڑی جسارت کی ہے کہ کوئی شخص رات میں کوئی برا کام کرے اور جب وہ صبح ہو تو جس کو اللہ نے چھپا لیا تھا اس کو وہ لوگوں سے کہتا پھرے کہ اے لوگو! میں نے گزشتہ رات ایسا ایسابرا کام کیا ہے حالاں کہ اس کے پروردگار نے تو رات میں اس کے گناہ کی پردہ پوشی کی تھی اور اس نے صبح ہوتے ہی اللہ کے پردے کو چاق کردیا۔‘‘ (صحیح بخاری) ۔